Baaghi TV

Category: اسلام

  • جانوروں کی زبان کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    جانوروں کی زبان کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    جانوروں کی اپنی زبان ہوتی ہے۔

    انسان نے کچھ پرندوں کی زبانیں ڈی کوڈ(سمجھنے کی کوشش) کی ہیں۔

    Reference: Popular Science, How to decode the secret language of birds, 2018
    صدیوں سے مقامی امریکیوں کا لوگوں اور دوسرے جانوروں کا ٹھکانہ معلوم کرنے کیلئے اس نام نہاد “پرندوں کی زبان” پر انحصار کرتے ہیں جو بصورت دیگر انسانی آنکھوں کیلئے پوشیدہ رہ جایا کرتے ہیں۔
    کوئیر نیچر کی شریک بانی(کو فاونڈر) مس پینار جو پرندوں کی زبان پہ کورسز پڑھاتی ہیں، کہتی ہیں کہ
    “مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد بڑے شکاریوں کو جاننے کیلئے پرندوں کی زبان کا استعمال کرتے رہے ہیں، یہ سمجھانے کے قابل ہوتے ہیں اور جنگل میں ایک دوسرے کو خبردار کرتے ہیں۔”

    اس تحقیق کے مطابق آج ہم جانتے ہیں کہ پرندوں کی اپنی زبان ہوتی ہے۔
    مگر 1400 سال پہلے قرآن نے کہہ دیا تھا کہ پرندوں کی اپنی زبان ہوتی ہے۔

    Quran 27:16
    وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُوْدَ ۖ وَقَالَ يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْـرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَىْءٍ ۖ اِنَّ هٰذَا لَـهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ (النمل 16)
    “اور سلیمان داؤد کا وارث ہوا، اور کہا اے لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر قسم کے ساز و سامان دیے گئے ہیں، بے شک یہ صریح فضیلت ہے۔”

    سلیمان نے پرندوں کی بولی(زبان) سیکھ لی۔

    قرآن تو یہ بھی کہتا ہے کہ تمام جانور اللہ کی تسبیح و تعریف کرتے ہیں مگر ہم لوگ انکی یہ تعریف نہیں سمجھ سکتے۔

    Quran 17:44
    تُسَبِّـحُ لَـهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْـهِنَّ ۚ وَاِنْ مِّنْ شَىْءٍ اِلَّا يُسَبِّـحُ بِحَـمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُـمْ ۗ اِنَّهٝ كَانَ حَلِيْمًا غَفُوْرًا (الاسراء 44)

    ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں، اور ایسی کوئی چیز نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے، بے شک وہ بردبار بخشنے والا ہے۔

    1400 سال پہلے رہنے والا ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ جانوروں کی بھی اپنی کوئی زبان موجود ہے؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • وفات کے امور میں رہنمائی کے لئے مسنون جنازہ موبائل ایپلیکیشن متعارف

    وفات کے امور میں رہنمائی کے لئے مسنون جنازہ موبائل ایپلیکیشن متعارف

    وفات کے موقع پر بعض امور میں ہر فرد رہنمائی اور مدد کا طلب گار ہو تا ہے اس سلسلے میں تعلیم ، آگاہی اور مدد کی فراہمی کے لئے مسنون جنازہ موبائل ایپلیکیشن متعارف کرائی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : بے شک ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ، وفات کے بعض امور میں ہر فرد رہنمائی اور مدد کا طلب گار ہو تا ہے اس سلسلے میں تعلیم ، آگاہی اور مدد کی فراہمی کے لئے مسنون جنازہ موبائل ایپلیکیشن متعارف کروائی گئی ہے جو بیماری وفات ،نماز جنازہ ،کفن تدفین ،قبرستان اور تعزیت کے احکام اور مسائل کے سلسلے میں رہنمائی کرتی ہے-
    https://twitter.com/Ayesha701900053/status/1286986284876144640?s=19
    مسنون جنازہ موبائل ایپلیکیشن سے نہ صرف ان تمام امور کے سلسلے میں رہنمائی کو تحریری بلکہ آڈیو اور ویڈیو سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے اور میت کے کفن دفن کا طریقہ سیکھا جا سکتا ہے علاوہ ازیں اس میں روابط کی کیٹگری بھی شامل ہے جس میں ایمبولیس ، میت بس ، فری کفن کا حصول ،میت کے غسل لئے غسال ،سرد خانوں اور مختلف علاقوں میں قبرستانوں کے محل وقع اور رابطہ نمبر بھی دستایب ہیں –

    مزید اس ایپ میں سوالوں جوابوں کی کیٹگری بھی شامل کی گئی جس میں کسی بھی مسئلے پر سوالات کے جوابات علامء اکرام سے حاصل کئے جا سکتے ہیں –

    یہ ایپ گوگل پلے سٹور پر دستیاب ہے اس سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے اسے گوگل پلے سٹور سے ڈاؤن لوڈ کریں-

    مسنون جنازہ ایپ

  • قربانی کی اہمیت و فضیلت   تحریر:عبیر عطاء الرحمٰن علوی

    قربانی کی اہمیت و فضیلت تحریر:عبیر عطاء الرحمٰن علوی

    عبیر عطاء الرحمٰن علوی
    قربانی کی اہمیت و فضیلت:
    ⦁ قربانی رسول کریمﷺ کا دائمی عمل، سنت مؤکدہ اور سنت ابراہیمی بھی ہے ۔ لہٰذا ہر صاحب استطاعت کو اس سنت کی پیروی کرنی چاہیے۔
    (بخاری:5553، الصافات : 99 تا 108)
    ⦁ ایک آدمی ایک سے زائد قربانیاں کر سکتا ہے (بخاری: 5553)
    ⦁ ایک جانور پورے گھر والوں کی طرف سے کفایت کر جائے گا۔(بخاری:7210)
    ⦁ کسی کو قربانی کے لیے جانور عطیہ کرنا جائز ہے ۔ (بخاری:5547)
    ⦁ جس شخص کو قرضہ ادا کرنے کی امید ہو وہ قرضہ لے کر بھی قربانی کر سکتا ہے اسی طرح استطاعت ہونے پر مقروض کے قربانی کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔
    (مجموع الفتاویٰ : 26/305)
    ⦁ قربانی کے لیے آدمی کا صاحب نصابِ زکوۃ ہونا ضروری نہیں کیوں کہ اس قید کی کوئی شرعی دلیل نہیں۔
    ⦁ میت کی طرف سے قربانی: یہ مسئلہ اہل علم میں اختلافی ہے اور دلائل کے لحاظ سے قوی بات یہ ہےکہ میت کی طرف سے الگ جانور کی قربانی کے متعلق کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں۔ البتہ اپنی قربانی میں فوت شدگان کو اور دیگر قربانی نہ کرنے والوں کو دعا میں شامل کرنا ثابت ہے۔بعض لوگ رسول اللہﷺ کی طرف سے قربانی کرتے ہیں جب کہ یہ عمل کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔
    قربانی کرنے والوں کے اوصاف:
    ⦁ قربانی کرنے والا عقیدہ توحید پر پختہ ہو، جس کے عقیدے میں شرک ہو اس کے اعمال مردود ہیں۔
    ⦁ خلوص سے قربانی کی جائے ، رضائے الٰہی مقصود ہو ، ریاء کاری سے اعمال برباد ہوتے ہیں ۔
    ⦁ رزق حلال ہو ۔
    ⦁ سنت پر کاربند ہو۔
    قربانی کے جانور اور ان کے اوصاف:
    ⦁ قربانی کے جانور ’’بھیمۃ الانعام ‘‘ یعنی بھیڑ ، بکری، گائے، اونٹ (مذکر و مؤنث ) شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر حلال جانوروں کی قربانی درست نہیں کیوں کہ وہ ثابت نہیں۔
    ⦁ بھینس کی قربانی میں علماء کا اختلاف ہے لہٰذا احتیاط اسی میں ہے کہ اس کی قربانی سے بچا جائے اور جو نبی کریمﷺ کے دور میں جانور ذبح ہوئے وہ میسر ہیں تو انہی کی قربانی کی جائے۔
    ⦁ قربانی کے لیے صحت مند ، خوب صورت، موٹے تازے جانوروں کا انتخاب کیا جائے۔(بخاری: 5565، ابوداؤد:2796) بخاری قبل حدیث :5553
    ⦁ سینگوں اور بغیر سینگوں ولے ، خصی ، غیر خصی جانوروں کی قربانی جائز ہے ۔ (ابوداؤد :2796، 2792، بخاری :5564)
    ⦁ حاملہ جانور کی قربانی جائز ہے ، اس صورت میں بچہ زندہ نکل آئے تو اسے الگ ذبح کیا جائے گا، اگر مر چکا ہو تو ماں کا ذبح ہی اس کے لیے کافی ہے ، کسی کا دل چاہے تو وہ حلال ہے کھایا جا سکتا ہے۔(ابوداؤد :2827)
    ⦁ گائے میں 7 اور اونٹ میں 10 حصوں کی گنجائش ہے ایک شخص ایک سے زائد حصوں میں بھی شریک ہو سکتا ہے۔ (ترمذی :1511)
    ⦁ بعض لوگ گائے یا اونٹ میں کچھ حصے عقیقے کے ڈالتے ہیں جب کہ عقیقے میں گائے یا اونٹ ذبح نہیں کیے جا سکتے ۔ (بیہقی : 19280) اور جو لوگ اس کے متعلق روایات پیش کرتے ہیں وہ ضعیف ہونے کی وجہ سے مردود اور ناقابلِ حجت ہیں۔
    ⦁ قربانی کا جانور کم از کم دو دانتا ہو اس سے کم عمر کی قربانی جائز نہیں ، مجبوری کی صورت میں ایک سالہ بھیڑ کا بچہ ذبح کیا جا سکتا ہے۔ (مسلم :1963)
    ⦁ قربانی کا جانور عیوب سے پاک ہو، واضح لنگڑا ، واضح کانا، واضح کمزوری و نقاہت والا، کان کٹا (چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو) کان میں سوراخ ہونا سب عیوب ہیں۔ ان کی قربانی درست نہیں۔ (ابوداؤد:2803، نسائی :4381)
    قربانی کے ایام و اوقات:
    ⦁ قربانی کے تین دن اتفاقی ہیں چوتھے دن کی قربانی کے لیے دیکھیں صحیح الجامع الصغیر :4537۔
    ⦁ 10 ذوالحجہ کا دن قربانی کا افضل دن ہے۔ نبی ﷺ کا معمول بھی 10 ذوالحجہ کو قربانی کرنے کا تھا ۔ (بخاری :9690)
    ⦁ رات کے وقت بھی قربانی جائز ہے۔ (نیل الأوطار : 5/133)
    ⦁ قربانی کا وقت عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے اگر کسی نے پہلے قربانی کر دی تو وہ قربانی نہیں ہو گی اسے اگر استطاعت ہو تو دوسرا جانور قربانی کے طور پر ذبح کرنا چاہیے۔(بخاری : 5563-5561)
    ⦁ بعض مقامات پر نمازِ عید کے وقت میں فرق ہوتا ہے لہٰذا جب قربانی کے جانور میں حصہ ڈالنے والے سب کے سب لوگ نماز سے فارغ ہو جائیں تو پھر جانور ذبح کرنا چاہیے اور جس حصے دار نے ابھی نماز نہ پڑھی ہو اور اس کا جانور ذبح ہو گیا ہو تو اس کی قربانی نہیں ہو گی۔
    ذبح کے مسائل:
    ⦁ صاحب قربانی کا خود جانور ذبح کرنا افضل ہے ، البتہ ذبح کرتے ہوئے کسی دوسرے سے تعاون لینا جائز ہے۔ (بخاری:5565، مسند احمد:5/373)
    ⦁ صاحبِ قربانی کا موقع پر ہونا ضروری نہیں۔ (بخاری: 5559، 5548، مسلم:1218)
    ⦁ عورت بھی جانور ذبح کر سکتی ہے۔ (بخاری تعلیقا ً قبل حدیث :5559)
    ⦁ ذبح کرتے وقت جانور کا منہ قبل رخ کیا جائے (ابوداؤد :2795)
    ⦁ جانوروں کو ایک دوسرے کے سامنے ذبح کرنا جائز ہے ۔ (ابوداؤد :1765)
    ⦁ جانوروں کو اچھے طریقے سے ذبح کیا جائے اور انھیں تکلیف سے بچایا جائے۔ (مسلم :1955)
    ⦁ جانور کو قبل رخ لٹا کر یہ دعا پڑھیں ’’ انِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ عَلٰی مِلَّۃِ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا مُسْلِماً وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰـلَمِیْنَ۔ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ۔ اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ ۔‘‘ ’’میں نے اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف پھیر لیا ہے جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ، یک سو اور فرماں بردار ہوتے ہوئے اور میں شرک کرنے والے لوگوں میں سے نہیں ہوں۔ بے شک میری نماز اور میری قربانی ، میری زندگی اور میری موت رب العالمین ہی کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، اور مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے اسلام لانے والا ہوں۔ اللہ کے نام کے ساتھ ذبح کرتا ہوں اور اللہ سب سےبڑا ہے۔ اے اللہ یہ قربانی تیری ہر طرف سے ہے اور تیرے ہی لیے ہے۔‘‘ (ابوداؤد : 2795، مسند احمد : 3/375) اس کے بعد کہے ’’ اللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّی ‘‘ اے اللہ ! تو میری طرف سے اور میرے اہل خانہ کی طرف سے قبول فرما۔ (بخاری: 7399، مسلم :1967)
    قربانی کا گوشت:
    ⦁ قربانی کا گوشت خود کھائیں، فقراء و مساکین ، ہمسائیوں اور رشتے داروں کو کھلائیں۔ (الحج :27) چاہے زیادہ خود کھالے یا دوسروں کو کھلا دے ، ضرورت کے تحت اس کی صوابدید پر ہے۔
    ⦁ کسی کافر کو ، عیسائی کو تالیف قلب کے لیے قربانی کا گوشت دیا جا سکتا ہے ۔ (فتاوی اسلامیہ : 2/427)
    ⦁ قربانی کا گوشت فروخت کرنا یا قصاب کو بطورِ اجرت دینا جائز نہیں۔ (مسلم: 1317)
    قربانی کی کھالیں:
    ⦁ کھالوں کا بھی وہی مصرف ہے جو گوشت کا ہے۔ لہٰذا قربانی کی کھالیں ذاتی استعمال میں لانا، صدقہ کرنا یا ہدیہ کرنا جائز ہے۔ (مسلم :1971)
    ⦁ قربانی کرنے والے کا کھال فروخت کرنا جائز نہیں بلکہ وہ صدقہ کرے گا اور جس کو صدقے کے طور پر دی گئی ہے وہ فروخت کرسکتا ہے۔ (مسلم:1971)
    ⦁ قصاب کو کھال اجرت میں دینا جائز نہیں۔(مسلم:1971)
    صاحب قربانی پر پابندی:
    ⦁ قربانی کرنے والا ذوالحجہ کا چاند طلوع ہونے کے بعد جس کے کسی حصے کے بال نہیں کٹوائے گا اور نہ ہی ناخن کٹوائے گا حتی کہ قربانی کر لے۔ (مسلم:1977)
    ⦁ کنگھی کرنے سے غیر ارادی طور پر بال گر جائیں تو کوئی حرج نہیں۔
    ⦁ جو شخص قربانی کا ارادہ نہ رکھتا ہو اس پر بال کاٹنے کی کوئی پابندی نہیں البتہ وہ اگر عید کے دن اپنے بال کاٹ لے ، ناخن تراش لے، مونچھیں کاٹ لے، زیر ناف بال مونڈ لے تو اسے بھی مکمل قربانی کا ثواب مل جائے گا۔(ابوداؤد :2789)

  • محبت کا شرعی تصور تحریر: عمر یوسف

    محبت کا شرعی تصور تحریر: عمر یوسف

    محبت کا شرعی تصور
    عمر یوسف

    احادیث کے مطالعہ سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین و تبع تابعین عظام رح نے عورتوں کو پیغام نکاح بھیجا ۔۔۔ بعض کا پیغام نکاح قبول کرلیا گیا اور بعض کا رد کردیا گیا ۔۔۔

    یہاں دو صورتیں ہیں پہلی صورت یہ کہ اگر آپ کو کوئی عورت اچھی لگتی ہے پر کشش ہے مال کے اعتبار سے حسن و خوبصورتی کے اعتبار سے منصب و مقام کے اعتبار سے تو بجائے اس کے بارے میں برے خیال پالنے کے یا اس کے ساتھ بھاگ کر شادی کرنے کے منصوبے بنانے کے آپ کسی بڑے کے ہاتھوں نکاح کا پیغام بھجوا دیں ۔۔۔

    ان کو مناسب لگے گا تو وہ ہاں کردیں گے اور مناسب نہ لگے گا تو وہ نہ کردیں گے ۔۔

    اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ جن بزرگوں کا پیغام نکاح رد کردیا گیا اور شادی کی پیشکش ٹھکردی گئی ان کے بارے میں ذخیرہ حدیث میں کہیں نہیں ہے کہ وہ پاگل و مجنون بن گئے یا خود پر عاشق ہونے کا لیبل لگا گلی گلی کی چھان چھاننے لگے ۔
    بلکہ انہوں نے صبر کا دامن پکڑا اور کسی اور سے شادی کرلی ۔۔۔

    ہمارے معاشرے میں اس حوالے سے بہت ہی غلط تصورات رائج ہیں ۔۔
    پہلی بات تو یہ ہے کہ لڑکا اور لڑکی کے تصور محبت کو ہی گناہ عظیم گردانا جاتا ہے اور اور اس طرح کے معاملے پر دونوں پر تشدد کیا جاتا ہے ۔۔
    یہ بات سمجھنے کے قابل ہے انسانی فطرت کے ہاتھوں اگر کوئی مجبور کسی کو پسند کر بیٹھے تو فرعون نہیں ہے اس کا مطلب وہ بھی ایک سادہ انسان ہے جو جذبات رکھتا ہے اگر کوئی اس کے دل کو بھا رہا ہے تو یہ عین فطرتی عمل ہے ۔۔۔

    موجودہ معاشرے میں اگر کوئی پیغام نکاح بھیج دے تو اگر اس پیشکش کو ٹھکرا دیا جائے تو پھر ایک منفی رد عمل سامنے آتا ہے لڑکی خود کشی کرنے کی کوشش کرتی ہے لڑکا بھی نس کاٹ لیتا ہے یا منشیات کا عادی ہوجاتا ہے ۔۔۔
    جو بالکل جاہلانہ رد عمل ہے یہاں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صبر کے علاوہ کوئی چارا نہیں۔۔
    چاہیے تو یہ کہ بندہ کوئی دوسری لڑکی ڈھونڈ لے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمان کو بھی سمجھے جو اس صورت حال میں رہنمائی کرتا ہے کہ جب تمہیں کوئی خوبصورت لڑکی نظر آئے اور تمہارا نفس تم کو تنگ کرنا شروع کردے تو فورا اپنی بیوی کے پاس آجایا کرو کیونکہ جو کچھ اس خوبصورت لڑکی پاس ہے وہی کچھ تمہاری بیوی کے پاس ہے ۔۔۔۔
    اب اگر کوئی خوبصورت لڑکی پیغام نکاح رد کررہی ہے تو دوسری عورت جو بکاح کا پیغام قبول کرے گی اس کے پاس بھی وہی کچھ ہے جو اس خوبصورت عورت کے پاس ہے ۔۔۔
    اور انسان کی نیت یہ بھی ہونی چاییے کہ اگر میں فساد و برائی سے بچتے ہوئے کسی خوبصورت لڑکی کو چھوڑ رہا ہوں تو اللہ اس پر عظیم اجر دینے پر قادر ہے دنیا میں ایسی بیوی دے دے جو وفا شعار ہو اور آخرت میں ایسی حوریں جو بے مثال ہو ۔۔۔

    برائی و فحاشی پر مبنی محبت ، محبت نہیں ہوتی یہ محض شیطانی بہکاوے ہیں جو انسان کی جوانی کو برباد کرنے اور اسے نکما و نکھٹو بنانے کے لیے ہوتے ہیں۔۔

    اللہ ہمیں پرفتن دور میں رشتہ ازدواج کو اپنانے سمجھنے اور عمل کی توفیق دے ۔

  • سمت کی نشاندہی کرنے والے کمپس کا قرآن مجید میں بیان، بقلم سلطان سکندر

    سمت کی نشاندہی کرنے والے کمپس کا قرآن مجید میں بیان، بقلم سلطان سکندر

    تاریخی اعتبار سے نقشوں پر سمتوں کو متعین کرنے کیلئے کئی طریقوں کا استعمال کیا جاتا رہا۔ مختلف طریقے مختلف سمتوں کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ درج ذیل تصویر ایک پرانے کمپس اور پرانے نقشے کی ہے۔

    آخر کار تمام پرانے طریقے بےرنگ ہوگئے سوائے ایک کے۔ آج تمام نقشے ایک ہی طریقہ استعمال کرتے ہیں،

    اوپر شمال، دائیں جانب مشرق، بائیں جانب مغرب اور نیچے جنوب ہے۔ اسکا مطلب ہے کہ اگر آپ ایسے کھڑے ہیں کہ سورج آپکے دائیں جانب سے طلوع ہوتا ہے اور بائیں جانب غروب ہوتا ہے، تو آپ کا چہرہ شمال کی جانب ہے اور آپکی کمر جنوب کی طرف ہے۔

    جبکہ چودہ سو سال پہلے یہ بات قرآن میں درج تھی،

    Quran 18:17


    (الکھف 17)

    “اور تو سورج کو دیکھے گا جب وہ نکلتا ہے ان کے غار کے دائیں طرف سے ہٹا ہوا رہتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان کی بائیں طرف سے کتراتا ہوا گزر جاتا ہے اور وہ اس کے میدان میں ہیں، یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے، اور جسے وہ گمراہ کر دے پھر اس کے لیے تمہیں کوئی بھی کارساز راہ پر لانے والا نہیں ملے گا۔”

    یعنی غار کا منہ شمال کی جانب تھا جسکی وجہ سے سورج دائیں(مشرق) جانب سے طلوع ہوتا اور بائیں(مغرب) جانب غروب ہوتا تھا۔

    یعنی اگر سورج آپکے دائیں جانب سے طلوع ہوتا ہے اور بائیں جانب غروب ہوتا ہے تو یقینا آپ شمال کے سامنے اور جنوب آپکے پیچھے ہے۔ بلکل یہی طریقہ آج ہر نقشے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔
    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب صرف یہی طریقہ ہی تمام پرانے طریقوں پر سمت جاننے کیلئے غالب آئے گا؟؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • عبادت میں سودے بازی؟ استغفر اللہ   از قلم: مسز ناصر ہاشمی ، بنت ربانی

    عبادت میں سودے بازی؟ استغفر اللہ از قلم: مسز ناصر ہاشمی ، بنت ربانی

    عبادت میں سودے بازی؟….استغفر اللہ

    از قلم: مسز ناصر ہاشمی (بنت ربانی)

    چھن چھن چھن۔۔۔گلے کی گھنٹیوں کے ساتھ پاؤں میں پڑے گھنگھرو کی آواز نے گاوں کے لڑکوں بالوں کو ہی نہیں بلکہ بڑے ،بوڑھوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کر لیا۔چھوکریاں اور ساتھ میں ان کی نانیاں دادیاں بھی بالکونیوں کے پردے ہٹا ہٹا کر نیچے جھانکنے لگیں۔
    ” شیرو” نامی بھاری بھرکم بیل تھا ہی اتنا خوبصورت۔
    ساہیوال کی اعلی نسل کا یہ بیل چھیدا پہلوان نے عید کے موقع پر قربان کرنے کے لیے خریدا تھا۔کتنے کا ہتھایا ہے بھائی؟ کسی نے پوچھنے کی جرات کی۔بس۔۔۔۔۔15 لاکھ کا چھیدا مونجھروں کو تاو دیتے ہوئے بولا۔جھوم جھوم کر لایا گیا بیل اس نے اپنی حویلی میں موجود باڑے میں باندھ دیا۔اور حویلی کا مین گیٹ کھول دیا تا کہ آنے والے اس کا اچھے طرح نظارہ بلکہ معائنہ کر سکیں۔گاوں کے وڈے وڈیرے اسے حسد سے دیکھ رہے تھے اور کمی کمین مزارع حسرت سے۔
    اس طرح کا نظارہ اس وقت بھی دیکھنے کو ملا تھا جب چھیدا پہلوان اپنے خاندان کے ہمراہ ساتواں حج کر کے لوٹا تھا۔ڈھول کی تھاپ پر رقص اور اس کی اکڑی ہوئی گردن میں پھولوں کے ہار دیکھ کر بہت سے لوگ جل رہے تھے اور چھیدا ان کی دلی کیفیت کو محسوس کر کے خوشی سے دیوانہ ہو رہا تھا۔
    گاوں کی آدھی زمین پر قبضہ کرنے،غریب مزارعوں کو اپنا غلام اور ان کی لڑکیوں کو مال مفت سمجھنے کے بعد 9 حج اور 5 عمرے کر چکا تھا۔بیت اللہ سے زیارت کرنے کے بعد وہ ہر سال قربانی بھی کرتا اور نمازیں بھی پڑھنے لگا تھا۔مگر اس شعر کے مصداق
    مسجد تو بنالی شب بھر میں ایمان کی حرارت والوں نے
    من اپنا پرانا پاپی تھا برسوں سے نمازی بن نہ سکا
    نماز میں بھی آن بان قائم تھی۔بوسکی کا قیمتی لباس پہنے سر پہ رنگ برنگی دستار،ہاتھ میں قیمتی موتیوں کی تسبیح پہلی صف میں نماز پڑھنے کے بعد جب وہ باہر نکلا تو مسجد کے دروازے پر میلے کچیلے کپڑوں، پراگندہ بالوں،پریشان حال غریب مزارع نے صدا لگائی،سائیں سرکار!!بابا کو فالج ہو گیا ہے۔۔۔۔دو بہنوں کی شادی۔۔۔۔۔گھر میں فاقے۔۔۔۔چھیدا پہلوان نے اسے گھوری ڈالی اور پرے دھکیلنے ہوئے بولا میں نے تمہارا ذمہ نہیں لے رکھا۔
    چند دنوں بعد ایک خبر نے سب لوگوں کو حیران کر دیا۔اچانک دل کے دورے سے چھیدا پہلوان انتقال کر گیا۔کوئی آنکھ اس کے لیے دل سے اشکبار نہ تھی۔جنازے میں شامل لوگ وڈے وڈیرے جاگیر، لمبی لمبی مونچھوں کو تاو دیتے ایسے ساتھ چل رہے تھے جیسے کسی مصیبت کو گلے سے اتارنے جا رہے ہوں اور جنہیں شاید سورہ فاتحہ تک نہ آتی تھی۔لاکھوں کا مال یتھیانے والا انسان اکیلا دنیا سے جا رہا تھا۔اور پھر قبر اور بعد میں دوزخ کے فرشتے اسے بیڑیاں پہنائے گرز مار مار کر جہنم کی طرف دھکیل رہے تھے اور ساتھ میں پوچھ رہے تھے کیا تمہاری طرف” ہادی” کی یہ آواز نہیں پہنچی؟
    "اللہ تعالی کو ان (جانوروں) کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ اسے تو اس (شخص) کا تقوی پہنچتا ہے۔”
    کیا تمہیں معلوم نہیں تھا کہ:
    ” حج کے لیے زادراہ لے لو اور بہترین زادراہ تقوی ہے”
    اور یہ بھی نہیں سنا تم نے:
    ” بےشک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے”
    کیا تم حقوق اللہ اور حقوق العباد سے نابلد تھے؟؟
    لیکن۔۔۔۔۔چھیدے پہلوان کے پاس ان باتوں کا کوئی جواب نہ تھا۔
    عبادت میں سودے بازی سے اسے مہنگی پڑ چکی تھی۔۔۔

  • قربانیوں کی طویل داستاں اور آزادی کی فریاد  تحریر:مریم وفا

    قربانیوں کی طویل داستاں اور آزادی کی فریاد تحریر:مریم وفا

    میں پاکستان ہوں…!!!
    [تحریر:مریم وفا]۔
    14 اگست کی روشن صبح اور ایک گہری یاد…
    قربانیوں کی طویل داستاں اور آزادی کی فریاد…
    وطن عزیز پاکستان کے قیام
    کے پیچھے قربانیوں کی ایک انمٹ داستان پوشیدہ ہے….جوانوں نے اپنی جوانیاں لٹائیں،ماوں نے اپنے جگر گوشے قربان کئے….معصوم پھول انیوں میں پروئے گئے….عفت مآب آبگینے کرچی کرچی ہوئے….گھر بار قربان ہوئے….مال ودولت سے ہاتھ دھونے پڑے….ہجرت کی صعوبتیں سہنا پڑیں….غرضیکہ ہر دکھ درد کے راستے سے گزر کر یہ ملک خداداد پاکستان ہمارا مقدر بنا…
    وطن عزیز کے قیام کے پیچھے ایک لمحے، دن، ہفتوں یا پھرمہینوں کی جدوجہد پوشیدہ نہیں بلکہ عشروں کی جہدمسلسل کے بعد یہ آذاد وطن معرض وجود میں آیا….لیکن دو قومی نظریے کی بنیاد پر حاصل کی گئی یہ ارض وطن اپنے قیام سے لےکر آج تک ایک ایسے المیے سے دوچار رہی کہ جس کے رد کے لیے ہمارے آباواجداد نے قربانیاں دیں….اور آج بھی اسی غلط سوچ کی تشہیر بڑے شدومد سے کی جاتی ہےاور یہ بات ازبر کروانے کی ایک سعی لاحاصل کی جاتی ہے کہ الگ قیام کے بغیر بھی پڑوسی ملک کے ساتھ رہا جا سکتا تھااور وہی غیر اسلامی وغیراخلاقی رسومات بڑےپیمانےپر پروان چڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے جن سے نجات کے لئے خون کی ندیاں عبور کی گئیں….دشمنان وطن،وطن عزیز کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے لیےقیام پاکستان سے لےکر آج تک ہر میدان میں سرگرداں ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس اسلامی قلعے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر کے اپنے عزائم کی تکمیل کی جائے….اب یہ اہلیان وطن کی ذمہ داری ہے کہ وہ دشمن کے ہر وار کاشدومد سے ہی مقابلہ کریں وہ وار چاہے اسلامی اقدار پر ہو،رنگ ونسل کی بنیاد پر کیا جائے یاصوبائیت کی آگ بھڑکا کر کیا جائے،ہمیں ہر حال میں اس دھرتی کی حفاظت کا عزم لے کر آگے بڑھنا ہے کہ یہ پاک وطن ہے تو سب کچھ ہے ورنہ ہماری سب پہچان نا مکمل ہے…..یہ وطن قربانیوں کی بدولت ملا اب اسے سنبھالنے کے لیے بھی قربانیاں ہی درکار ہیں….یہ قربانیاں چاہے اغیار کی رسومات کے بائیکاٹ کی صورت دینا پڑیں….چاہے یہ مالی ہوں یا جانی….ہمیں ہر صورت اپنی ملی ومذہبی اقدار کوسینے سے لگا کر آگے بڑھنا ہے چہ جائیکہ اپنے اور اسلام کے دشمنوں کی اندھی تقلید میں اندھے ہو کر اپنی پیاری روایات کو پس پشت ڈالا جائے…. وطن عزیز کی یہی صدا ہے…!!!
    میں پاکستان ہوں!
    اپنوں کا مان ہوں
    غیروں کی آنکھ میں
    کٹکھتا تھان ہوں
    میں بنا شہیدوں کے خوں سے
    میں بڑھا شہیدوں کے خوں پہ
    میں قربانیوں کی اک
    عظیم داستان ہوں
    میں پاکستان ہوں
    میں پاکستان ہوں
    میرے محسن مجھ پہ واری ہیں
    میرے دشمن مجھ سے عاری ہیں
    میں اپنوں کی چاہت کی اک
    روشن پہچان ہوں
    میں پاکستان ہوں
    میں پاکستان ہوں!!!
    ====_====_====__====

  • تنقید ہو یا تعریف ملے، فیض کا سلسلہ منقطع نہ ہو  تحریر:عمر یوسف

    تنقید ہو یا تعریف ملے، فیض کا سلسلہ منقطع نہ ہو تحریر:عمر یوسف

    تنقید ہو یا تعریف ملے، فیض کا سلسلہ منقطع نہ ہو

    تحریر :عمر یوسف

    گھنی چھاوں والے درخت کا کام مسلسل آکسیجن اور چھاوں فراہم کرنا ہے ۔۔
    اب یہ لوگوں کی مرضی ہے کہ وہ چھاوں سے فائدہ حاصل کریں یا نہ کریں۔۔۔
    اور یہ لوگوں کا ظرف ہے کہ وہ اس چھاوں کی تعریف کریں یا نہ کریں ۔۔

    بہتے ہوئے سمندر دریا نہروں کا کام تو بہتے ہی جانا ہے اب یہ لوگوں کی مرضی ہے کہ وہ بہتے پانی کو قابل استعمال بنائیں یا نہ بنائیں اور پانی جو عظیم نعمت ہے اس پر مشکور ہوں یا نہ ہوں ۔۔۔

    مضبوط پہاڑوں نے زمین کو ہلنے سے روکنا ہے اور زمین پر توازن و بیلنس قائم کرنا ہی ہے لوگ اس کو برا کہیں یا بھلا کہیں ۔۔

    سورج کی تمازت نے سردیوں میں لوگوں کو گرمائش فراہم کرنی ہی ہے اور گرمیوں میں لوگوں کی فصلوں پکانا ہی ہے چاہے لوگ تعریف کریں یا نہ کریں ۔۔۔

    چلتی ہواوں نے انسانیت کو آکسیجن فراہم کرنی ہی ہے وہ ہوائیں لوگوں کو اچھی لگیں یا نہ لگیں ۔۔۔

    یہ سب مخلوقات اللہ کی فوجیں ہیں جو صرف انسانیت کو فائدہ پہنچانے میں محو ہیں ۔۔۔
    انہیں تعریف وتنقید سے کوئی سروکار نہیں ۔۔۔

    تم بھی اگر کوئی اچھا کام کررہے ہو تو نیت کو خالص کرو اخلاص پیدا کرکے لوگوں کو فائدہ پہنچاتے رہو اور خدائی فوجوں میں شامل ہوجاو ۔۔۔

    تنقید تمہارے حوصلے پست نہ کرے ۔۔
    تعریف تمہارے اندر گھمنڈ پیدا نہ کرے ۔۔۔
    حوصلہ افزائی کا نہ ملنا تمہیں بددل نہ کرے ۔۔

    لوگ برا کہہ رہے ہیں یا لوگ تعریف نہیں کررہے ہیں ۔۔۔
    یہ سب سوچیں آپ کو اچھے کام سے روکتی ہیں ۔۔

    خدا کی نشانیوں کو دیکھتے ہوئے یہ عزم مسلسل کر لو کہ جیسے یہ چیزیں انسانیت کو فائدہ پہنچاتی ہیں تمہارے فیض کا سلسلہ بھی منقطع نہ ہو

  • غلط راستوں پر بھٹکتے مسافر  بقلم :عمر یوسف

    غلط راستوں پر بھٹکتے مسافر بقلم :عمر یوسف

    غلط راستوں پر بھٹکتے مسافر

    عمر یوسف

    انسان عزت چاہتا ہے اس لیے تکبر کو اپناتا ہے تاکہ لوگ میری عزت کریں
    حالانکہ عزت غرور میں ہے ہی نہیں بلکہ عزت تو عجز و انکساری اور تواضع میں ہے ۔۔۔۔۔۔

    انسان چاہتا ہے کہ میرا مال محفوظ و سلامت رہے اور بڑھتا ہی جائے اس لیے وہ پیسہ سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے اور خرچ نہیں کرتا مال کا حق ادا نہیں کرتا ۔
    حالانکہ مال کا محفوظ ہونا اور اس کے بڑھنا کا راز صدقہ کرنے میں ہے ۔۔۔۔۔۔

    انسان چاہتا ہے کہ میرے سارے کام حل ہوجائیں میرے پاس فراغت ہو اور ایک وقت میں زیادہ کام نمٹا لوں اس لیے وہ اپنے رب کی یاد اور عبادت سے غفلت و سستی برتتا ہے۔۔
    حالانکہ کاموں کا احسن طریقے سے انجام پانا اور فراغت ملنا یہ اللہ کی عبادت میں ہے اللہ وعدہ کرتے ہیں کہ۔جو بندہ کام چھوڑ کر عبادت کی طرف مشغول ہو اس کے سارے کام حل کردیے جاتے ہیں اور اسے کے دل کو غنی اور بے پرواہ کردیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔

    انسان چاہتا ہے کہ روحانی سکون حاصل ہو دماغ پرسکون رہے اس لیے وہ موسیقی سنتا ہے۔۔۔۔

    حالانکہ روح کو سکون پہنچانے کا حقیقی راز تو ذکر خدا اور تلاوت قرآن میں ہے موسیقی تو ایسے ہی ہے جیسے شراب ہے وقتی نشہ دیتی ہے لیکن بعد میں شراب جگر کو کسی قابل نہیں چھوڑتی اسی طرح موسیقی بھی دل پر ایسی مہریں لگاتی ہے کہ بعد میں انسان غور و فکر اور تدبر سے محروم کردیا جاتا ہے ۔۔۔۔

    بدقسمتی سے میرے معاشرے میں ان جائز چیزوں کے حصول کا غلط راستہ اپنایا جاتا ہے منزل تو ملتی نہیں الٹا انسان ذہنی و روحانی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے

  • آئیے!دلوں کو زندہ کریں  بقلم : مریم وفا

    آئیے!دلوں کو زندہ کریں بقلم : مریم وفا

    آئیے!دلوں کو زندہ کریں…!!!
    (بقلم : مریم وفا)
    دل،انسانی جسم کا بادشاہ…یہ شاداں و فرحاں ہو تو پورا جسم خوش باش،اور اگر یہ ملول وغمزدہ تو سارا جسم پریشاں حال…!!!
    لیکن آج ہم میں سے اکثر کا یہی شکوہ ناں کہ کیا کریں کہ اللہ کا دیا بہت کچھ لیکن نہ جانے کیوں دل بہت پریشان،
    کسی چیزکی کمی نہیں لیکن دل کو قرار نہیں ،اور یہی حقیقت بھی ہے کہ آج ہمارےگھروں میں کسی چیز کی کمی نہیں…مال ودولت کی فراوانی،آرائش و زیبائش کی کثرت،الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کی بھرمار،سوشل میڈیاکا چسکا اور نہ جانے کیا کچھ کہ سب نعمتیں اور لذتیں بیان سے باہر…لیکن ذہنی سکون اور دلی قرار سے ہم پھر بھی تہی دست…مگر کیا ہم نے کبھی سوچا کہ یہ سب کچھ کیوں ہے کہ اتنا کچھ ملنے کے باوجود بھی ہم بے قرار…؟؟؟
    ذہنی آسودگی ہم سے دور بھاگتی ہے…دل کی آلائشیں برھتی ہی جارہیں…لیکن ہم پھر بھی دنیاوی لذات میں سکون ڈھونڈنے کے متلاشی…
    حقیقت سے پھر بھی منہ موڑے ہوئے ہیں کہ قلب کی آسودگی اور ذہنی اطمینان کا علاج آخر کوئی تو ہو گا…نعمتوں کی بارش کرنے والا رب ہمیں یہ بھی تو یاد کروا رہا ہے ناں کہ نعمتوں کی کثرت کے باوجود بھی دل کی زمین پر بہار لانے کے لئےایک نسخہ لاجواب ہے،کہ میری یاد سے ہی تمہارے خزاں رسیدہ دلوں پر بہار آئے گی…تمہاری زندگیوں میں سکون در آئے گا…میری نعمتیں تمہارے لیے باعث صد سکون ثابت ہوں گی…بس میری یاد کی شمع اپنی زندگی میں روشن کرو, تمہاری زندگی کی اندھیر نگری چمک اٹھے گی…خزاں زدہ دلوں پر بہاریں لوٹ آئیں گی…کہ یہی توایک نسخہ!شافی ہے,بے سکون زندگیوں میں سکون و قرار کی روح پھونکنے کا…کرب واضطراب سے مضمحل دلوں میں راحت ونشاط کے گل کھلانے کا…!!!
    یہ مال و دولت کے انبار،یہ سونے چاندی کے ڈھیر مانا کہ دنیاوی نعمتوں میں عظیم سہی لیکن قلبی سکون و اطمینان کے لیے ہمیں نعمتوں کے عطاکرنے والے رب کی یاد سے دلوں کو بسانا ہے کہ یہی ایک صورت ہے ہماری زندگیوں میں سکون و اطمینان لانے کی،ورنہ دنیاوی لذات کی کثرت ہمارے لئے کبھی بھی قلبی سکون کا موجب نہیں بن سکتی جب تک کہ ہم اپنے دلوں کو اپنے رب کی یاد سے نہ بسالیں….!!!