Baaghi TV

Category: اسلام

  • کولیسٹرول کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    کولیسٹرول کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    کولیسٹرول
    دل کی شریانوں میں رکاوٹ

    1400 سال پہلے لوگ لوہے کا استعمال کرتے تھے جو ہمیشہ زنگ آلود ہوجایا کرتا تھا۔ زنگ لوہے کا آکسیجن اور پانی ملا مرکب کا عمل ہے(آکسیڈیشن) مگر اسوقت کوئی شخص بھی نہیں جانتا تھا کہ یہ زنگ آلود عمل دل پہ بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔
    آج ہم جانتے ہیں کہ کولیسٹرول دو طرح کے ہیں،
    ایک قسم صحت کیلئے اچھی ہے اور دوسری بری ہے۔

    مگر برا کولیسٹرول درحقیقت آکسیڈائیزڈ ہے۔ اور اسے دوسرا نام آکسیڈائزڈ کولیسٹرول دیا گیا ہے۔

    Reference: Health, The Danger of Oxidized Cholesterol and Tips for prevention, 2020
    “آکسیڈائیزڈ کولیسٹرول کیا ہے؟
    وہ کولیسٹرول جو دل کی شریانوں میں خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے یعنی جمع ہوجاتا ہے، آکسیڈائزڈ کہلاتا ہے۔ آکسیڈیشن کا عمل کولیسٹرول کے خولیوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ عام طور پر آکسیڈیشن ایک نارمل جسم کا ایک عمل ہے مگر جب یہ کسی وجہ سے آکسیڈائزڈ(برے) کولیسٹرول کی زیادتی کا سبب بنتا ہے تو یہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ آپکا قوت مدافعت کا نظام بیکٹیریا کیلئے آکسیڈائزڈ کولیسٹرول بنانے کی غلطی کر سکتا ہے۔ پھر یہ قوت مدافعت کا نظام اس برے کولیسٹرول کو کم کرنے کیلئے لڑتا ہے، جو شریان کی دیوار میں سوجن کا باعث بنتا ہے اور یہ عمل دل کی بیماری ہارٹ اٹیک اور ایتھروسیکلیروسز(شریانوں کے تنگ ہونے والی بیماری کا نام) کا باعث بنتا ہے۔”

    آکسیڈائیزڈ کولیسٹرول شریانوں میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے اور دل کی بیماری کا باعث بنتا ہے۔ یہ بات حال ہی میں معلوم کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے قرآن میں بیان کردیا گیا تھا،

    Quran 83:14

    “ہرگز نہیں، بلکہ ان کے (برے) کاموں کی وجہ
    سے ان کے دل زنگ آلود(آکسیڈائیزڈ) ہوچکے ہیں۔”(14)

    “Ran ران” کا مطلب ہے زنگ۔ آج ہم جانتے ہیں کہ زنگ آکسیجن اور پانی کا مرکب(آکسیڈائیزڈ) ہے اسی طرح جیسے برا کولیسٹرول آکسیڈائزڈ کولیسٹرول کہلاتا ہے۔

    Quran 47:24

    پھر کیوں قرآن پر غور نہیں کرتے کیا ان کے دلوں میں قفل پڑے ہوئے ہیں۔(24)

    “دلوں میں قفل پڑے ہوئے ہیں” کا مطلب ہے کسی چیز سے انکے دلوں میں رکاوٹ ہو رہی ہے،
    اس زمانے میں لوگ لوہے کے بنے تالے استعمال کرتے تھے جو زنگ آلود ہوجایا کرتے تھے(آکسیڈائزڈ لوہا)۔
    آج ہم جانتے ہیں کہ آکسیڈائزڈ کولیسٹرول شریانوں میں رکاوٹ کا سبب بنتا ہے۔

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ کیا چیز دلوں میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے؟
    جیسے لوہا آکسیڈائزڈ ہوجاتا اسی طرح دل بھی آکسیڈائزڈ(دل کی بیماری کا نام) ہوجاتا ہے۔

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • جھوٹ ہمارے معاشرے کا ناسور    تحریر:جویریہ بتول

    جھوٹ ہمارے معاشرے کا ناسور تحریر:جویریہ بتول

    جھوٹ ہمارے معاشرے کا ناسور…!!!
    تحریر:جویریہ بتول

    ایک بہت ہی گھٹیا اور اخلاقی برائی جو ہماری نجی زندگیوں سے لے کر سماجی رویوّں میں اس حد سرایت کر چکی ہے کہ ہمیں اس کے مضر اور انتہائی منفی اثرات کا احساس تک نہیں ہوتا…!!!
    بحیثیت مسلمان ہمیں تو اور ہی زیادہ اس برائی سے بچنے کی تعلیم ملی ہے:
    اللّٰہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ:
    "بے شک اللّٰہ ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا،جو جھوٹا اور منکر حق ہے…”(الزمر)۔
    کبھی فرمایا:
    "اور چاہیئے کہ جھوٹی بات سے پرہیز کرو…”(الحج)۔
    کبھی فرمایا:
    "اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ…”(التوبہ)۔
    احادیث میں جھوٹ کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔
    شرک،عقوقِ والدین کے بعد بڑا کبیرہ گناہ کہا گیا ہے۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بار بار جھوٹ سے بچنے کی تاکید کی…
    ایک مجلس میں بار بار یہ بات دہراتے جاتے کہ جھوٹ سے بچو اور جھوٹی گواہی…
    صحابہ حیران ہوئے کہ شاید آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یہی بات دہراتے رہیں گے(صحیح بخاری)۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جھوٹ کو نفاق کی ایک خصلت قرار دیا کہ منافق کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے…(صحیح بخاری)۔
    سنی سنائی باتیں آگے پھیلانے والوں،تحقیق سے دامن بچانے والوں کو بھی جھوٹے شمار کیا گیا ہے…
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کر دے…”(صحیح مسلم)۔
    لیکن آج ہم جس طبقہ کا بھی جائزہ لے لیں،جھوٹ عام ہے…
    وہ سیاسی ہو یا کاروباری…
    مذہبی ہو یا معاشرتی…
    انفرادی ہو یا اجتماعی…
    ہم جھوٹ کی آمیزش سے ہر معاملہ کو آلودہ کر دیتے ہیں…
    تاجر جھوٹ کی بنیاد پر جھوٹی قسمیں کھا کھا کر کاروبار کرتا ہے…
    سیاست کے میدان میں جھوٹے وعدے کر کے ان سے مکر جایا جاتا ہے…
    عدالتوں میں جھوٹی گواہی کے لیئے لوگ تیار ہو جاتے ہیں…
    جھوٹ کی بنیاد پر مخالفین کو پھنساتے اور مقدمات بنا دیتے ہیں…
    ذاتی زندگی کے حوالے سے جھوٹ کی بنیادوں پر ہوائی قلعے اور جھوٹے سٹیٹس بناتے ہیں…
    جو آہستہ آہستہ رازوں سے پردہ اٹھا کر شرمندگی کا باعث بنتے ہیں…!!!
    کیوں نہ خود کو سیدھے اور صاف طریقے سے متعارف کروا کر تمام اُلجھنوں کو سلجھا دیا جائے…
    جو ہوں بس اس پر فخر کرنے کی عادت رہے…دنیاوی مال و متاع کم ہو یا زیادہ یہ بڑائی کا کہیں بھی معیار نہیں بتایا گیا…
    ہاں دنیا کی زینت ضرور ہے…اور اسے بھی اپنے لیئے صدقہ جاریہ بنانا چاہیئے…
    اپنے بارے میں جھوٹ پر مبنی مصنوعی اونچائی والا تعارف نہیں دینا چاہیئے…
    اس طرح کہیں رشتہ مانگنے چلے جائیں تو درست اور سچی معلومات دینے سے گریز کیا جاتا ہے…
    کہیں کسی سے کوئی رہنمائی چاہی جائے تو ملاوٹ دکھائی دے گی،اخلاص اور سچ کی بنیاد پر کوئی بات کرنے پر تیار نہیں ہو گا…
    کسی سے جھوٹی باتیں منسوب کر دینا عام ہے…
    بدگمانی اور حسد کی بنیاد پر تہمتیں لگانا…
    اور بدگمانی کو سب سے بڑا جھوٹ کہا گیا ہے…!!!
    اولاد والدین کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں اور درِ پردہ بہت کچھ منفی جا رہا ہوتا ہے…
    بلکہ بعض اوقات میاں بیوی جیسا قربت والا رشتہ بھی جھوٹ اور دھوکے پر مبنی دکھائی دیتا ہے اور اپنا اپنا مفاد بس…
    سچ ہمیشہ سکوں،راحت اور دل کا اطمینان دیتا ہے اسی لیئے حدیث میں سچ کو اطمینان کہا گیا اور جھوٹ کو شک کا سبب…
    سچ بول کر انسان ہواؤں کے سنگ آزادی سے اُڑ سکتا ہے…
    جبکہ جھوٹ پر ضمیر ملامت کرتا رہتا ہے…
    سچی بات میں اگر وقتی نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑ جائے لیکن اس کے روشن اثرات بدیر سہی اثر انداز ضرور ہوتے ہیں…
    ہم صرف جھوٹی انا کے قیدی بن جاتے ہیں اور سچ کا اعتراف و اقرار گراں محسوس ہوتا ہے…
    حالانکہ سچ آدمی کو نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق کا مرتبہ حاصل کر لیتا ہے…(صحیح بخاری_کتاب الادب)۔
    سچ ایک بار بولنا پڑتا ہے اور اس کی تصدیق کی راہیں اللّٰہ تعالٰی خود ہی ہموار اور آسان کر دیتا ہے جبکہ جھوٹ بار بار بولنا پڑتا ہے…
    یہ ہر موڑ پر ہر انداز میں وضاحتیں مانگتا ہے اور دامن میں سوائے شرمندگی کے کچھ نہیں بچتا…
    پچھلے دنوں بہت سی بہنوں کے ساتھ لکھنے کے حوالے سے واقعات پیش آتے رہے جو انہوں نے دلچسپی کے لیئے شیئر بھی کیئے کہ ان کی تحاریر کو دوسرے لوگوں نے من و عن کاپی کر کے اپنے نام سے شائع کیا،جب وضاحت مانگی گئی تو دھڑلے سے کہتے کہ نہیں یہ چیز ہماری ہے…
    مذید سمجھایا گیا تو مان گئے مگر جھوٹی وضاحتیں دے دے کر تھکے اور شہرت کا طعنہ دیتے ہوئے بھڑاس نکالی…
    حالانکہ شہرت کے رسیا تو وہ لوگ ہیں جو کسی کی محنت اور کاوشوں کو محض ایک کلک سے اپنے نام کر لیتے ہیں اور جھوٹی داد کے حقدار بنتے ہیں…
    یقیناً اس پر اُن کا ضمیر انہیں ملامت بھی کرتا ہو گا…؟
    اگر کسی کی چیز ہمیں بہت ہی پسند آئے تو ہمیں چاہیئے کہ ہم خیانت سے بچتے ہوئے…دل ذرا بڑا کر کے اس چیز کو اس کے لکھنے والے کے نام سے ہی آگے کر دیں،تب ثواب کے مستحق بھی رہیں گے اور خیانت کے ارتکاب سے بھی بچ جائیں گے…
    اور حقیقی محنت کار کے لیئے کسی پریشانی کا باعث بھی نہیں بنیں گے… ورنہ تو نیکی برباد گناہ لازم والی صورت حال ہی ہو گی ناں…
    آج کل سوشل میڈیا نے اس بات کو اور ہی آسان بنا دیا ہے اور آگے کا پیچھے،پیچھے کا آگے اور رد و بدل کا کام سیکنڈز میں کر لیا جاتا ہے…
    ایک انتہائی بہترین قلم کار بہن بتا رہی تھیں کہ میں نے ایک دفعہ شاعری کے مقابلے میں اپنی شاعری بھیج دی تو آگے سے جواب آیا یہ تو کاپی ہے…
    یعنی ان کی شاعری پہلے ہی چوری ہو کر مقابلے کی زینت بن چکی تھی…!!!
    اُن کے بقول جب اپنے پاس موجود پوسٹرز تصدیق اور ثبوت کے لیئے بھیجے تو تب بات ان کی سمجھ میں آئی کہ معاملہ کیا ہوا؟
    ایک اور دلچسپ واقعہ نے تو آنکھیں ہی کھول دیں کہ ایک محترم نے ایک صاحب کا کالم اٹھا کر آٹھ دس اخبارات میں بڑے فخر سے اپنے نام کے ساتھ چھپوا لیا…اور داد وصول کی…
    یہ بہت بڑی ادبی خیانت ہے جس کا ادراک کرنے کی ہمیں ضرورت ہے…!!!
    ہمیں چاہیئے کہ ہم ترقی کے جس زینے تک بھی پہنچ جائیں سچ اور امانت ہمارا زادِ سفر رہیں تبھی ہم ایک مطمئن زندگی گزار سکتے ہیں اور وقار و مرتبہ بھی بنا سکتے ہیں…!!!
    اس معاشرے میں اصلاح کے بیج کو بار آور ہوتا دیکھ سکتے اور رہبری کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں.
    ہم جتنی دیر میں بے چینی کا سودا کرتے ہیں،اس سے ذرا زیادہ دیر سہی اطمینان اور حقیقی خوشی کی تجارت بھی کر سکتے ہیں…
    فریب کی ملمع کاری اور جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہمارے اندر کے ایمان کو کھوکھلا کر دیتی ہے…
    پھر ہم جھوٹ پر اُٹھتی عمارت سے کچھ وقت کے لیئے مستفید ہو بھی جائیں تو ایک بھاری جوابدہی کا بوجھ کندھوں پر ضرور لاد لیتے ہیں…!!!!!
    ہمیں اپنی اور اپنی نسلوں کی اور اس معاشرے کی سچ اور انصاف کے اصولوں پر تربیت اور رہ نمائی کرنی ہے تاکہ معاشرہ میں مثبت سوچ، حقیقی تبدیلی،محنت اور شفافیت کے پھول کھِلیں…
    ایسی امیں فضائیں چلیں کہ جہاں سانس لے کر دل گہرے سکوں کی وادی میں اُتر جائے اور اپنی معاشرتی سوچ پر بجا طور پر فخر محسوس کرنے لگے…آمین…!!!!!

  • کیا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا….؟؟؟  تحریر: نادیہ بٹ

    کیا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا….؟؟؟ تحریر: نادیہ بٹ

    کیا اسلام تلوار کے زور سے پھیلا….؟؟؟

    نادیہ بٹ

    سچ کہہ دوں اے برہمن اگر برا نہ مانے
    تیرے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے.

    القرآن:
    کنتم خیر امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکرو وتومنون بالله
    ترجمہ
    "تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرض ادا کرتے ہو اور تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو”
    اسلام سراسر خیر اور معروف ہے معروف ہر وہ اچھائی ہے جس کو فطرت سلیمہ اچھائی مانتی ہے اور منکر ہر وہ برائی ہے جس کا فطرت سلیمہ انکار کر دے۔
    اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام کی صرف دعوت تو دی جائے گی لیکن امر’آرڈر یا دباؤ نہیں ڈالا جائے گا. کسی غیر مسلم کو اسلام لانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا, لیکن اگر وہ امن و امان میں خلل ڈالے تو امر کی قوت کو ضرور حرکت میں لایا جائے گا۔
    لا تفعلوہ تکن فتنة فی الارض و فساد کبیر (سورة توبہ ٧٣پ ١٠)
    ترجمہ "یعنی اگر تم نے یہ نہ کیا تو زمیں میں فتنہ فساد پھیل جائے گا”

    دشمنانِ اسلام کہتے چلے آئے ہیں کہ "اسلام تلوار کے زور سے پھیلا” ان کو اعتماد ہے اپنے زبردست پراپیگنڈا اور تحریری قوت پر وہ جانتے ہیں کہ جھوٹی بات بھی اگر بار بار دھرائی جائے اور مسلسل کہی جائے تو سننے والوں کے دل میں شک پیدا کر ہی دیتی ہے اس لیے کتنے مسلمان نوجوان ہیں تفصیلات سے بے خبر اور نا واقف ہونے کے باعث ان کے پراپیگنڈے سے کم و بیش متاثر ہو جاتے ہیں
    مگر حق یہ ہے کہ دشمنوں میں سے کوئی بھی آج تک اس دعوے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔

    ایک غلط فہمی اور اس کا ازالہ …….عہد رسالت میں جو لڑائیاں پیش آئیں ان کے بیان کے بارے میں ہمارے مورخین نے بڑی بے احتیاطی کی ہے جس کی وجہ سے مخالفین کو بات کا بتنگڑ بنانے کا موقع مل جاتا ہے اور نا واقف لوگ ان کے جال میں پھنس جاتے ہیں آنحضور ﷺ کے سامنے جتنے معرکے پیش آئے وہ دو قسم کے ہیں
    (١) جس میں آپ ﷺ نے شرکت فرمائی وہ غزوہ ہے۔
    (١١)جس میں آپ خود شریک نہ تھے وہ سریہ کہلاتا ہے۔

    اکثر جماعتیں جو لڑنے کے علاؤہ کسی دوسرے کام کے لیے بھیجی گئیں ان کو بھی مورخین نے سریات کے ذیل میں شامل کر لیا ہے حالانکہ اصل لڑائیوں کی تعداد کم ہے ان کو بھی سریہ میں شامل کر لیا جو صرف دو تین افراد پر مشتمل تھیں یا ان کے بھیجنے کے مقاصد کچھ اور تھے.
    تمام غزوات میں مخالفین کے کل قیدی 6564 اور کل مقتول 759تھے اور مسلمانوں میں سے کل 259 شہید اور صرف ایک بزرگ قید ہوئے
    6348 قیدیوں کو آنحضور ﷺ نے بغیر کسی شرط کے غزوہ حنین کے بعد آزاد فرما دیا ستر قیدی بدر کے تھے جن کو فدیہ ادا کرنے پر رہا کر دیا

    اب ان اعداد کے مقابلے میں دنیا کی دوسری مذہبی و سیاسی لڑائیوں کے قیدیوں اور مقتولین کی تعداد دیکھی جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے صرف مدافعت کے لیے مجبور ہو کر تلوار ہاتھ میں اٹھائی تھی کسی اور مقصد کے لیے نہیں لڑے تھے
    غیر مسلم کے مقتولین کے خوفناک اعداد و شمار کا جائزہ لیں۔۔
    جنگ عظیم اول جو کہ چار سال تک جاری رہی ان اعداد و شمار میں قیدی اور زخمی سپاہیوں کا شمار داخل نہیں مقتولین کی تعداد قریباً چار کروڑ بنتی ہے ۔

    مدعی نبوت ﷺ گو بظاہر بشریت میں تھے لیکن اپنی معنوی زندگی،اپنے معجزانہ اخلاق،اپنے علم و معرفت اپنے ربانی کرشموں کی بناء پر اخلاق کے بہت بلند مرتبہ پر فائز تھے…
    حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب عرب میں آپ ﷺ کی نبوت چرچا سنا تو اپنے بھائی انیس کو تحقیق کے لیے بھیجا انہوں نے واپس آ کر پیکر نبوت کا نقشہ ان الفاظ میں کھنیچا "میں ایک ایسے شخص کو دیکھ کر آیا ہوں جو بھلائیوں کا حکم دیتا اور برائیوں سے روکتا ہے (بخاری)
    اسلام کے سب سے اول اعلان دعوت کے موقع پر دشمن قریش نے خود گواہی "محمد ﷺ ! تیری بات ہم نے آج تک جھوٹ نہ پائی

    ہجرت کے آٹھ سال بعد ہرقل قیصر روم کے دربار میں ابو سفیان کی نبی کریم ﷺ کی صداقت پر گواہی (صحیح بخاری) فتح مکہ پر صفوان بن امیہ کا اسلام لانے کا واقعہ ۔۔۔۔ (صحیحح مسلم)
    ہندہ رضی اللہ عنھا قبل از اسلام خاندان نبوت کی قدیم ترین دشمن فتح مکہ پر بھیس بدل کر گستاخی سے باز نہیں آئی لیکن دربار رسالت میں پہنچ کر
    آپ ﷺ کے حسن خلق سے متاثر ہوئے بے اختیار بول اٹھی یا رسول اللہ ﷺ سطح زمین پر آپ کے گھرانے سے زیادہ کوئی گھرانہ مجھے مبعوض نہ تھا لیکن آج آپ کے گھرانے سے زیادہ کوئی گھرانہ مجھے محبوب نہیں ہے آپ نے فرمایا۔ خدا کی قسم ہمارا بھی یہی خیال ہے۔
    یہودی عالم جو قرض کی معافی پر مسلمان ہوا اور اپنا نصف مال صدقہ کر دیا (مشکوۃ)
    ثمامہ بن آثال یمامہ کا رئیس اسلام کا مجرم تھا گرفتار ہو کر آیا تو مسجد نبوی کے ستون کے ساتھ باندھ دیا گیا تین دن بعد آنحضرت ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے اس کی بند گرہ کھول دی اور رہا کر دیا اس واقعہ سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔(بخاری شریف)
    یہودی عالم عبداللہ بن سلام آپ ﷺ کا فرمان۔۔۔۔ سلام کو عام کرو، کھانا کھلایا کرو۔۔۔۔۔سن کر مسلمان ہو گئے. (بخاری شریف)
    ضماد زمانہ جاہلیت میں آپکے دوستانہ تعلقات رہ چکے تھے وہ جنون کا علاج کرتے، آپ ﷺ نے ایک تقریر کی ان الفاظ سے شروع کیا
    الحمدللہ نحمدہ و نستعینه من یھدہ اللہ فلا مضل له ومن یضلله فلا ھادی له واشھدان الا اله اللہ وحدہ لا شریک له واشھدان محمدا عبدہ ورسوله
    اس پر ان فقروں کا یہ اثر ہوا وہ بار بار سننے کا مشتاق ہوا اور کہا ہاتھ لائیں میں بیعت کرتا ہوں (صحیح مسلم)
    ایسے لا تعداد واقعات سے اسلام کی عظمت کا ثبوت ملتا ہے۔
    آج امریکہ اور یورپی ممالک میں اسلام سب سے زیادہ پھیلنے والا دین ہے دیکھا جا رہا ہے اُن کو کون تلوار کے زور پر اسلام قبول کروا رہا ہے؟
    یہ تو اللہ سبحان و تعالیٰ کا وعدہ ہے:
    هوالذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله

  • آئیں پہلے اپنی اصلاح کریں  بقلم: اخــتِ طلحـہ بــٹ

    آئیں پہلے اپنی اصلاح کریں بقلم: اخــتِ طلحـہ بــٹ

    آئیں پہلے اپنی اصلاح کریں

    اخــتِ طلحـہ بــٹ

    فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
    کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

    ہمارے معاشرے میں فکری انتشار نے جنم لیا ہے اور یہی فکری انتشار ہمارے اسلامی معاشرہ کو کمزور کر رہے ہیں۔مسلمان ایک دوسرے سے تنگ نظری کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں اس کے نتیجے میں اتحاد و یکجہتی اور وحدت اور فکر و عمل غائب ہوتے جا رہے ہیں
    اور اختلافات’چپقلش’کدورتیں اور تنازعات ظاہر ہوتے جا رہے ہیں۔فکری انتشار اور باہمی جھگڑے معاشرہ کی بنیاد ہلا کر رکھ دیتے ہیں اسی وجہ سے اللہ تعالی نے مسلمانوں کے مابین اتحاد’اتفاق’وحدتِ فکرو عمل اور صلح و مفاہمت قائم رکھنے کا حکم دیا ہے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

    "اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔” (الانفال:46)

    تفرقہ بازی کا آغاز اور مقصد……
    اللہ تعالیٰ نے فرقہ بندی یا انتشار فکری کے آغاز کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا

    "لوگوں میں جو تفرقہ رونما ہوا وہ اس کے بعد ہوا کہ ان کے پاس علم آ چکا تھا’اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے” (الشوری:14)

    یہ تفرقہ بازی اللہ کی طرف سے علم آ جانے کے بعد شروع ہوا۔اس لیے اللہ اس کا ذمہ دار نہیں ہے بلکہ لوگ خود اس کہ ذمہ دار ہیں جنہوں نے دین کے صاف صاف اصول اور شریعت کے واضح احکام سے ہٹ کر نئے نئے مذاہب و مسالک بنائے۔

    اس تفرقہ بازی کا محرک کوئی نیک جذبہ نہ تھا’بلکہ یہ ایک الگ فکر پھیلانے اور ایک دوسرے کو زک دینے کی کوشش اور مال و جاہ کی طلب کا نتیجہ تھی۔

    قرآنِ کریم میں اللہ تعالی نے تفرقہ بازی کو ظلم قرار دیا گیا اور تفرقہ برپا کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب کی خبر دی ہے۔ارشادِ ربانی ہے:

    "لہذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب بھی ہے تمہارا رب بھی۔اسی کی عبادت کرو’یہی سیدھا راستہ ہے مگر اس (صاف تعلیم کے باوجود)گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا’پس تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب سے” (الزحرف63_65)

    تفرقہ بازی سے بچاؤ کا حکم…….
    اللہ تعالی نے فرمایا۔
    "(اے محمد ﷺ) اب آپ ﷺ
    کی طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے،اور جس کی ہدایت ہم ابراھیم اور موسیٰ علیہ السلام کو دے چکے ہیں’اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہو جاؤ”۔ (الشوریٰ:13)

    فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
    موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

    "انتشار فکری یعنی تفرقہ بندی سے بچنے اور اتحاد امت کے فروغ کے لیے اللہ تعالٰی نے ایک اور جگہ پر حکم فرمایا کہ:

    اور تم سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔” (آل عمران: 103)

    اللہ کی رسی سے مراد اس کا دین ہے اور اس کو رسی سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ یہی وہ رشتہ ہے جو ایک طرف اہل ایمان کا تعلق اللہ سے قائم کرتا ہے اور دوسری طرف تمام ایمان والوں کو باہم مل کر ایک جماعت بناتا ہے ۔
    اس رسی کو مضبوط پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی نگاہ میں اصل اہمیت دین کی ہو،اسی سے ان کو دلچسپی ہو،اسی کی اقامت میں وہ کوشاں رہیں اور اسی کی خدمت کے لیے آپس میں تعاون کرتے رہیں۔
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ
    "کتــاب الــلــه حبــل الـلــه المـمدود من السـماء الـی الارض” (ابن کثیر)

    "اللہ کی کتاب ہی وہ رسی (حبل اللہ)ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے۔”

    مرکز اتحاد کے بارے میں دنیا کی اقوام کی راہیں مخلتف ہیں۔کہیں نسل اور نسب کے رشتوں کو مرکز وحدت سمجھا گیا،کہیں رنگ کا تفاوت وحدت کا مرکز بن گیا اور کہیں زبان مرکز وحدت قرار پائی۔
    قرآن مجید نے مومنوں کو ایک قوم بنا کر حبل اللہ (اللہ کی رسی)سے وابستہ کیا۔
    لہذا ملت اسلامیہ کا مرکز نظریہ اور عقیدہ جو ان کے پاس قرآن کریم اور دین اسلام کی شکل میں ہے۔اس مرکز سے وابستہ رہنے ہوئے مسلمانوں کو انتشار اور فرقہ بندی سے روکا گیا ہے

    عطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہے
    شکوہ ترکمانی’ذہن ہندی’نطق اعرابی

    آخری گزارش

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جائے جس میں نیکی و خیر کی جدو جہد کی جاتی ہو
    اور منکرات و مفاسد اور بدعات کی رسموں کو ختم کیا جائے،تبھی ہمارے معاشرے میں اللہ تعالی کی طرف سے فیوض و برکات نازل ہو گی۔
    معاشرے کو اچھے حکمران عطا ہونگے ،وباو بیماریوں کو خاتمہ ہو گا
    پھر ایسا معاشرہ کامیاب و مستحکم ہو گا ،اس کی بنیاد مضبوط ہو گی
    اس معاشرے کے افراد کتاب اللہ اور رسول ﷺ کی اتباع و تقلید کا جذبہ پیدا ہو گا۔
    اس سبب سے یہ معاشرہ ناقابلِ تسخیر بن جائے گا۔

    اختکم اختِ طلحہ بٹ

  • حسد اور غرور کیا ہے؟      از قلم مشی حیات

    حسد اور غرور کیا ہے؟ از قلم مشی حیات

    حسد اور غرور کیا ہے_؟

    از قلم__مشی حیات

    ہمارے معاشرے کے تقریبا ہر فرد میں یہ دونوں برائیاں انتہائی حد تک موجود ہیں۔۔۔۔
    لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ کوئی بھی خود کا محاسبہ نہیں کرتا۔۔۔۔
    قارئین۔۔۔۔۔!!
    ہم دیکھتے ہیں کہ حسد کیا ہے اور کیا ہم حاسد تو نہیں۔۔؟
    امام راغب اصفہانی حسد کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں، "جس شخص کے پاس نعمت ہو اس سے نعمت کے زوال کی تمنا کو حسد کہتے ہیں”

    یعنی کہ کسی دوسرے کی خوشحالی پر جلنا اور تمنا کرنا کہ اس کی نعمت اور خوشحالی دور ہو کر اسے مل جائے۔۔۔۔!!
    اب سوچیں۔۔۔!!
    کیا یہ برائی آپ کے اندر ہے۔۔۔؟
    کیا آپ بھی ایسا سوچتے ہیں کہ کسی کی نعمت اس کی بجائے آپ کے پاس ہو یا اس کی خوشحالی پر خوش ہوتے ہیں۔۔۔۔!!
    حسد کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کیا فرمایا۔۔۔۔۔!!

    حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ .

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو، بلکہ اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ ایک بھائی کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ سلام کلام چھوڑ کر رہے۔“۔۔۔۔۔!!

    دوسرے موقع پر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا۔۔۔۔!!

    حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَلَى غَيْرِ مَا حَدَّثَنَاهُ الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ ، رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسُلِّطَ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْحِكْمَةَ فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا .

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ حسد صرف دو باتوں میں جائز ہے۔ ایک تو اس شخص کے بارے میں جسے اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اس دولت کو راہ حق میں خرچ کرنے پر بھی قدرت رکھتا ہو اور ایک اس شخص کے بارے میں جسے اللہ نے حکمت ( کی دولت ) سے نوازا ہو اور وہ اس کے ذریعہ سے فیصلہ کرتا ہو اور ( لوگوں کو ) اس حکمت کی تعلیم دیتا ہو۔
    البخاری__حدیث نمبر 73

    یعنی کہ حسد صرف دو باتوں میں جائز ہے۔۔۔۔
    ایک یہ کہ اللہ نے اپنے بندے کو دولت دی تاکہ وہ اسے استعمال میں لائے مگر اس نے اس دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی بجائے اپنی قدرت رکھ لینا کہ یہ مال میرا ہے جب میرا جی چاہے میں استعمال میں لاوں ورنہ نہیں۔۔۔۔
    اب سوچیں۔۔۔۔!!
    کیا یہ دونوں باتیں آپ کے اندر موجود ہیں۔۔۔۔؟
    اللہ نے آپ کو مال دیا اور آپ نے اس میں کہیں حسد کو تو شمار نہیں کیا کہ وہ مال صرف آپ کے پاس رہے کسی اور پاس نہ جائے۔۔۔۔۔؟

    تیسری جگہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا فرمان ہے کہ۔۔۔۔۔!!

    حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ ، وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا .

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بدگمانی سے بچتے رہو کیونکہ بدگمانی کی باتیں اکثر جھوٹی ہوتی ہیں، لوگوں کے عیوب تلاش کرنے کے پیچھے نہ پڑو، آپس میں حسد نہ کرو، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو، بغض نہ رکھو، بلکہ سب اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔“
    البخاری حدیث نمبر 6064

    قارئین۔۔۔۔!!
    بار بار تلقین کی گئی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ حسد نہ کرو۔۔۔کسی مسلمان کلمہ پڑھنے والے کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے بھائی کے پاس موجود نعمت پر شکر اور خوش ہونے کی بجائے حسد کا شکار ہو۔۔۔۔۔!!
    حسد زندگی تباہ کر دیتا ہے۔۔۔۔!!
    *نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا۔۔۔!!
    قیامت کے نزدیک ایک ایسی قوم ہو گی جس میں حسد بہت پایا جائے گا۔۔۔۔۔!!

    قارئین۔۔۔۔!!
    اب ہمیں خود سے محاسبہ کرنا ہے کہ کیا ہم حاسد ہیں۔۔۔؟
    ہمارے اندر حاسد کی علامات ہیں۔۔۔؟
    اگر موجود ہیں تو ان کا محاسبہ کریں۔۔۔۔!!
    اس پہلے کہ اجل کا فرشتہ آئے اور ہمیں ان برائیوں کے ساتھ اچک لے۔۔۔۔!!

    حسد کے ساتھ بہت بڑی دوسری برائی غرور ہے۔۔۔۔۔!!

    غرور کیا ہے۔۔۔؟

    ایک ایسی انسانی کیفیت اور حالت کہ جس میں انسان اپنے آپ کو دوسرے انسانوں سے زیادہ فضیلت اور فوقیت دیتا ہے ۔۔۔۔۔!!

    غرور دکھاوے کو بھی کہتے ہیں۔۔۔۔اور تکبر کے معنی میں بھی آتا ہے۔۔۔!!

    غرور کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں ۔۔۔۔!!

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنا کپڑا ( پاجامہ یا تہبند وغیرہ ) تکبر اور غرور کی وجہ سے زمین پر گھسیٹتا چلے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا بھی نہیں، اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے کپڑے کا ایک حصہ لٹک جایا کرتا ہے۔ البتہ اگر میں پوری طرح خیال رکھوں تو وہ نہیں لٹک سکے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ تو ایسا تکبر کے خیال سے نہیں کرتے ( اس لیے آپ اس حکم میں داخل نہیں ہیں ) موسیٰ نے کہا کہ میں نے سالم سے پوچھا، کیا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس حدیث میں یہ فرمایا تھا کہ جو اپنی ازار کو گھسیٹتے ہوئے چلے، تو انہوں نے کہا کہ میں نے تو ان سے یہی سنا کہ جو کوئی اپنا کپڑا لٹکائے۔
    البخاری حدیث نمبر 3665
    اس حدیث سے بات بلکل واضح ہو چکی ہے۔۔۔۔!!
    اگر ایک انسان کوئی لباس پہنتا ہے اور اسے لوگوں کے درمیان دکھاوا کرتا ہے۔۔ اکڑ اکڑ کر چلتا ہے۔۔۔تاکہ لوگوں کی نگاہیں اس پر جم جائیں تو اللہ رب العزت اس شخص کی طرف رحمت سے دیکھے گا بھی نہیں۔۔۔۔!!
    ہمارے ہاں اکثریت ہوچکی ہے شلوار ٹخنوں کے اوپر رکھنے کا حکم تھا مگر یہاں زمین پر گھسیٹ رہے ہیں۔۔۔!!
    کیا ایسی حالت میں اللہ ہماری طرف دیکھے گا جب ہم نے اس کا حکم ہی نہ مانا۔۔۔۔۔!!

    مزید اللہ تعالی نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے کیا فرمایا۔۔۔۔۔!!

    {‏ قل من حرم زينة الله التي أخرج لعباده‏}
    وقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏””‏ كلوا واشربوا والبسوا وتصدقوا ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ في غير إسراف ولا مخيلة ‏””‏‏.‏ وقال ابن عباس كل ما شئت والبس ما شئت ،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ما أخطأتك اثنتان سرف أو مخيلة‏

    حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ يخبرونه ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ .

    ” اے رسول ! کہہ دو کہ کس نے وہ زیب وزینت کی چیزیں حرام کیں ہیں جو اس نے بندوں کے لیے ( زمین سے ) پیدا کی ہیں ( یعنی عمدہ عمدہ لباس ) “
    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھاؤ اور پیو اور پہنو اور خیرات کرو لیکن اسراف نہ کرو اور نہ تکبر کرو اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا جو تیرا جی چاہے ( بشرطیکہ حلال ہو ) کھاؤ اور جو تیرا جی چاہے ( مباح کپڑوں میں سے ) پہن مگر دو باتوں سے ضرور بچو اسراف اور تکبر سے ۔

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ اس کی طرف قیامت کے دن نظر رحمت نہیں کرے گا جو اپنا کپڑا تکبر و غرور سے زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے۔“
    صحیح بخاری 5783

    اللہ تعالی نے بار بار تلقین کی کہ اپنی امت سے کہہ دیجئیے۔۔۔۔۔اا
    کھاؤ پیو اور پہنو ساتھ خیرات بھی کرو مگر اسراف اور تکبرنہ کرو۔۔۔۔۔۔!!
    جس شخص کے اندر غرور یعنی تکبر کی علامت آ گئی کپڑے پہنیں اور اسے زمین پر گھسیٹ کر چلا اللہ رب العزت ایسے شخص کی طرف رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا۔۔۔۔۔۔!!

    قارئین۔۔۔۔۔۔!!
    آئیں سوچیں۔۔۔۔!!
    کیا ہمارے اندر حسد کے ساتھ ساتھ غرور بھی موجود ہے۔۔۔۔؟؟
    کیا ہم بھی دکھاوے کے لیے کپڑے پہنتے ہیں۔۔۔۔؟
    جب ہم بازار نکلتے ہیں تو ہمارے زیب تن کیےکپڑے تکبر کی وجہ سے زمین پر تو نہیں لٹک رہے۔۔۔۔۔!!
    اگر واقعی ایسا ہے تو خدارا ہمیں خود کو بدلنا ہو گا۔۔۔۔!!
    ہم رب کی رحمت کے بنا کچھ بھی نہیں۔۔۔۔!!
    اگر ہم پر رب کی رحمت نہ ہوئی تو ہم کیا جہنم برداشت کر سکے گے۔۔۔۔!!؟

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخر زمانہ میں کچھ ایسے لوگ نکلیں گے جو دین کے ساتھ دنیا کے بھی طلب گار ہوں گے، وہ لوگوں کو اپنی سادگی اور نرمی دکھانے کے لیے بھیڑ کی کھال پہنیں گے، ان کی زبانیں شکر سے بھی زیادہ میٹھی ہوں گی جب کہ ان کے دل بھیڑیوں کے دل کی طرح ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا یہ لوگ مجھ پر غرور کرتے ہیں یا مجھ پر جرات کرتے ہیں میں اپنی ذات کی قسم کھاتا ہوں کہ ضرور میں ان پر ایسا فتنہ نازل کروں گا جس سے ان میں کا عقلمند آدمی بھی حیران رہ جائے گا“۔
    امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
    الترمذی 2404

    ہم اپنی ذاتی زندگی کا محاسبہ خود ہی کرسکتے ہیں۔۔۔۔!!
    اللہ ہمیں موقع دیتا ہے فتنوں کو دور کرنے مگر ہم صم بکم والے رویے پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔!!
    ابھی بھی وقت ہے اگر سانس چل رہی ہے تو خود کو بدلیں اور اپنی آخرت بہتر کریں۔۔۔۔۔!!
    اللہ رب العزت ہم سب پر اپنی رحمت کا سایہ تا قیامت رکھے۔۔۔!!
    اور ہمیں ہر برائی سے سرخرو کرے۔۔۔۔!!
    دعاوں کی طالب ۔۔۔۔۔۔
    مشی حیات
    وما علینا الا البلاغ المبین

  • زمین کے گھومنے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    زمین کے گھومنے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    زمین

    زمین کروی(سفیریکل) شکل میں گردش کر رہی ہے
    قرآن کہتا ہے کہ جب دن اور رات ایک دوسرے کے اوپر آکر ایک دوسرے کو ڈھانپتے ہیں تو یہ ایک گیند(سفیئر) بناتے ہیں،

    Quran 39:5

    "اس نے آسمانوں اور زمین کو حکمت سے پیدا کیا، وہ رات کو دن پر لپیٹ دیتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹ دیتا ہے، اور اُس نے سورج اور چاند کو تابع کر دیا ہے، ہر ایک وقت مقرر تک چل رہے ہیں، خبردار! وہی غالب بخشنے والا
    ہے۔”

    عربی لفظ “Kura كرة” کا مطلب ہے گیند،
    اور قرآن نے اسکا فعل “Yukawer يُكَوِّرُ” استعمال کیا ہے جسکا مطلب ہے گیند بنانا ہے۔
    قرآن کہتا ہے کہ جن رات اور دن ایک دوسرے کو ڈھانپتے ہیں تو ایک گیند(سفئیر) بناتے ہیں۔
    پھر قرآن کہتا ہے کہ
    “سب چل رہے ہیں(Kullon Yajree كل يجري)”
    یہاں قرآن اس بات کی طرف کہ “سب چل رہے ہیں” اشارہ کر رہا ہے کہ صرف چاند اور سورج ہی نہیں چل رہے بلکہ زمین بھی چل رہی ہے۔
    عربی زبان میں سنگولر(ایک)، بائنری(دو)، اور پلورل(تین یا اس سے زیادہ) ان تینوں میں فرق ہے۔ اگر یہاں پہ بائنری(یعنی صرف دو چیزیں چاند اور سورج کے گھومنے) کی بات ہو رہی ہوتی تو یہاں “Kulahuma Yajreean كلاهما يجريان” کے الفاظ استعمال ہوتے جبکہ یہاں قرآن نے کہا “Kullon yajree كل يجري” یعنی پلورل(تین یا تین سے زیادہ) کی بات کر رہا ہے۔
    جیسا کہ چاند اور سورج دو چیزیں ہیں لیکن قرآن تین یا تین سے زیادہ کی بات کر رہا ہے اور وہ تین چاند، سوج اور زمین ہیں۔
    چودہ سو سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ زمین، سورج اور چاند یہ سب حرکت میں ہیں؟؟
    قرآن کہتا ہے کہ زمین کا ڈائیا میٹر(قطر) ہے
    (ڈائیا میٹر(قطر) ریڈیئس سے دوگنا ہوتا ہے)

    Quran 55:33

    اے جنوں اور انسانوں کے گروہ! اگر تم آسمانوں اور زمین کے اقطاروں سے باہر نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ، تم بغیر زور کے نہ نکل سکو گے (اور وہ تم میں ہے نہیں)۔

    ڈائیامیٹر کو عربی میں قطر کہتے ہیں، اور اسکا پلورل(تین یا تین سے زیادہ) اقطار ہے، ریڈیئس(radius) اور ڈائیامیٹر(Diameter) سرکلز(circles) یا سفئیرز(spheres) کی پراپرٹیز ہیں، یہ پچھلی آیت سے واضح ہوگیا کہ یہ رات اور دن کیسے زمین کو گیند(سفئیر) بناتے ہیں ایک دوسرے کو ڈھانپتے ہوئے۔[Yukawer يُكَوِّرُ]

    چودہ سو سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ زمین کا ڈائیامیٹر(قطر) موجود ہے؟؟؟؟؟

    "Sateh سطح” کو عربی میں سرفیس(سطح) کہتے ہیں جیسا کہ اس سطح کی کوئی بھی شیپ(شکل) ہو سکتی ہے۔ چاند کی سطح کا مطلب “Sateh Al-Kamar سطح القمر ” ہوتا ہے اور یہ سفئیر(کرہ) کی شیپ(شکل) میں ہے۔ یہ کاٹھی کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے۔

    Reference:- Wikipedia,سطح سرجی، 2019

    السطح السرجي (بالإنجليزية: Saddle surface) هو سطح أملس يحتوي على نقطة مقعرة أو أكثر.أتت التسمية من شبهه بسرج الفرس والذي ينحني صعودا وهبوطا.

    “کاٹھی کی سطح ایک ہموار سطح ہے جس میں ایک یا ایک سے زیادہ مقاطعہ(کنکیو) پوائنٹس ہوتے ہیں، اسکی مثال گھوڑے کی کاٹھی سے ملتی ہے جو اوپر اور نیچے جھکتی ہے۔”

    یہ کاٹھی کی شیپ “Sateh سطح” کی ایک قسم ہے۔ یہ کوئی بھی شکل ہوسکتی ہے لیکن بدقسمتی سے “Sateh سطح” کا مطلب کسی بھی صورت میں فلیٹ(ہموار) نہیں ہے۔ کیونکہ عربی میں ہموار سطح کو “musattah مسطح” کہتے ہیں جو کہ یہ پورے قرآن میں لفظ نہیں ہے۔

    Quran 50:7

    اور ہم نے زمین کو بچھا دیا اور اس میں مضبوط پہاڑ ڈال دیے اور اس میں ہر قسم کی خوشنما چیزیں اگائیں۔

    قرآن کہتا ہے کہ خدا نے زمین پھیلا دی، یعنی سطح کے رقبے میں اضافہ کیا۔ ہمارا نظام شمسی 4.57 بلین سال پرانا ہے۔ ہماری زمین سورج اور باقی ہمسائے سیاروں کے ساتھ فوری طور پر درست ہونا شروع ہوگئی جو کہ 4.57 بلین سال پہلے ایسا ہوا ہے۔ جیسا کہ درستگی کے عمل کے دوران زمین کا ریڈیئس بے ساختہ 6400 کلومیٹرز نہیں تھا بلکہ کچھ کلومیٹرز زیادہ سے آغاز ہوا اور آہستہ آہستہ ریڈئیس بڑھتا گیا۔
    مگر سطح کے رقبے کا فنکشن ریڈیئس ہے( surface area = 4πR2), یعنی جیسے جیسے ریڈیئس بڑھتا ہے تو ساتھ سطح کا رقبہ بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ تو قرآن نے سطح کے حصے میں اضافے کو صحیح طریقے سے بیان کیا ہے۔(اور یہ بائبل کے برخلاف ہے جہاں زمین کی تخلیق بےساختہ تھی)

    چودہ سو سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ زمین سفئیر شکل میں گھومتی ہے؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سكندر!!!

  • باد صباء کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    باد صباء کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    (سمندر کی باد صباء یعنی ٹھنڈی ہوا جو سمندر سے زمین کی طرف چلتی ہے اور اسی وقت گرم ہوا جو زمین سے سمندر کی طرف چل رہی ہوتی ہے)
    یعنی
    ہوا کی سمت کا تبدیل(ریورس) ہونا,

    سورج زمین اور سمندر کے درمیان ہوا کے الٹنے یا تبدیل ہونے یا ریورس کرنے کا سبب بنتا ہے.

    Reference:- Wikipedia, Sea Breeze, 2019 👇🏻
    "ایک سی بریز(جو دن کے وقت ٹھنڈی ہوا سمندر سے زمین کی طرف اور گرم ہوا زمین سے سمندر کی طرف) یا سمندر کے کنارے کی ہوا وہ ہوا ہوتی ہے جو پانی کی بڑی مقدار پہ زمین کی طرف چلتی ہے, یہ پانی اور زمین کی مختلف حرارت کی صلاحتیوں کے ذریعے پیدا ہونے والی ہوا کے دباو میں تبدیلی کے نتیجے میں بنتی ہے, اسی طرح سمندری ہواوں کو باقی مروجہ ہواوں کی بہ نسبت زیادہ مقامی قرار دیا گیا ہے. کیونکہ زمین پانی سے کہی زیادہ اور جلدی سورج کی شعاعیں جذب کرتی ہے, سورج طلوع ہونے کے بعد ساحلوں پہ ایک سمندری ہوا کا چلنا عام سی بات ہے. اس کے برعکس لینڈ بریز (جو رات کے وقت ٹھنڈی ہوا زمین سے سمندر کی طرف چلتی ہے اور گرم ہوا سمندر سے زمین کی طرف چلتی ہے) کے اثرات الٹ ہیں, ایک خشک زمین سمندر سے بھی بہت پہلے ٹھنڈی ہوجاتی ہے یعنی سمندر سے پہلے گرم بھی زمین ہوتی اور ٹھنڈی بھی, سورج غروب ہونے کے بعد سمندر کی ہوا(Sea Breeze) ختم ہوجاتی ہے اور اسکے بجائے زمین کی ٹھنڈی ہوا (Land Breeze) زمین سے سمندر کی طرف چلتی ہے.”

    سورج ہوا کو الٹ(ریورس) کرنے کا سبب بنتا ہے

    اصل میں بات یہ ہے کہ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو گرم ہوائیں اوپر اونچائی پر چلی جاتی ہیں اور ویکیوم بننے کے باعث نیچے والی جگہ پُر کرنے کیلئے ٹھنڈی ہوائیں نیچے کو آجاتی ہیں جنہیں ہم محسوس کرتے ہیں(جیسا کہ درج ذیل دی گئی وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے)
    یہی معاملہ رات کے وقت کا ہے اور آندھی کا بھی.

    یعنی سورج طلوع ہو تو سی بریز (ٹھنڈی ہوا سمندر سے زمین کی طرف چلتی ہے اور گرم ہوا زمین سے سمندر کی طرف چل رہی ہوتی ہے)
    اور سورج غروب ہو تو لینڈ بریز (ٹھنڈی ہوا زمین سے سمندر کی طرف چلتی ہے اور گرم ہوا سمندر سے زمین کی طرف چل رہی ہوتی ہے)
    یہ سارا عمل صبح اور رات کے سانس لینے کی طرف اشارہ کرتا ہے.
    یہ بات حال ہی میں دریافت کی گئی جبکہ 1400 سال پہلے قرآن میں درج تھا کہ
    Quran 81:18

    اور قسم ہے صبح(سورج نکلنے) کی جب وہ سانس لیتی ہے۔( ہوائیں بدل بدل کر)
    (التکویر 18#)

    لفظ وَالصُّبْحِ کا مطلب صبح سورج کی روشنی ہے, جب ہم سانس لیتے ہیں تو ہوا کی سمت پلٹ جاتی ہے(یعنی سانس کھینچنے سے ہوا اندر جاتی اور سانس چھوڑنے سے ہوا باہر جاتی), اسی طرح صبح کی روشنی(یعنی سورج) کا طلوع ہونا ہوا کی سمت پلٹنے کا سبب بنتی ہے.(یعنی صبح کو ٹھنڈی ہوا زمین کی طرف آتی ہے اور رات کو ٹھنڈی ہوا زمین سے سمندر کی طرف جاتی ہے)

    اور آج ہم یہی جانتے ہیں کہ سورج زمین اور سمندر کے درمیان ہوا کی سمت بدلنے کا سبب بنتا ہے.

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے سمندری ہواوں( سی بریز جو صبح کے وقت چلتی ہیں) کے بارے میں جان سکتا ہے؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • صبر کا فلسفہ کیا ہے ؟  تحریر : عمر یوسف

    صبر کا فلسفہ کیا ہے ؟ تحریر : عمر یوسف

    صبر، استعانت خداوندی کا ذریعہ
    تحریر : عمر یوسف

    صبر کا فلسفہ کیا ہے ؟
    صبر کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان نے یہ مان لیا ہے کہ میں بے بس ہوں لاچار ہوں معاملات میرے کنٹرول میں نہیں حالات کو میں نہیں سنبھال سکتا ۔۔۔۔۔ اب مجھے آہ و فغاں کی بجائے چیخ و پکار کی بجائے خود کو سنبھالنا ہے ۔۔۔ کیونکہ چیخ وپکار اور جزاں فزاں کا کوئی فائدہ ۔۔۔۔ ایک ذات ہے جو سب کچھ سنبھالتی ہے سارے اختیارات اس کے ہاتھ میں ہیں میرے معاملات بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں اور میرے ساتھ جو بھی معاملہ پیش آیا ہے نقصان کی صورت میں یا مصیبت کی صورت میں یا کسی ناپسندیدہ حالت کی صورت میں وہ سب کچھ اللہ کی مرضی سے آیا ہے کیونکہ اللہ کی مرضی کے بغیر تو پتہ بھی نہیں ہل سکتا ۔۔۔۔

    انسان جب اللہ کی رضا میں راضی ہوجاتا ہے اور خود کو محکوم اللہ کو حاکم سمجھتا ہے خود کو کمزور اور اللہ کو طاقتور سمجھتا ہے خود کو بے اختیار اور اللہ کو مختار کل سمجھتا ہے ۔۔۔۔۔

    تو اللہ کو اپنے بندے کی بے بسی بے کسی لاچارگی و بے چارگی دیکھ کر فورا غیرت آجاتی ہے اور وہ خود اپنے بندے کی ڈھارس بندھانے حوصلہ بڑھانے آجاتا ہے اور بندے کو سب سے بڑا اعزاز معیت خداوندی کا حاصل ہوتا ۔۔۔ یعنی اللہ صبر کی تمام حالت اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہے ۔۔۔۔

    یہ اعزاز اتنا بڑا ہے کہ اسے حاصل کرنے کے لیے لوگ سخاوتیں کرتے ہیں جہاد کرتے ہیں نمازیں پڑھتے ہیں نوافل ادا کرتے ہیں اور بہت سے دیگر نیک امور انجام دیتے ہیں پھر جا کر ان کے اخلاص کو دیکھ کر اللہ ان کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور ان کو اپنی معیت کا اعزاز بخشتا ہے ۔۔۔

    لیکن صبر کرنے والا صرف اپنے نفس کو کنٹرول کرتا ہے اللہ پر راضی ہوتا ہے اور اس عمل کی بدولت اللہ ان کو اپنے ساتھ ہونے کی گارنٹی دیتا ہے ۔۔۔۔

    جب حکم خداوندی آجائے کوئی مسئلہ پیش ہوجائے تو فورا اللہ کو کہہ دیا کرو کہ اللہ میں بے بس اور بے کس ہوں میرے ہاتھ میں کچھ نہیں رہا اب تو ہی مجھے سنبھال اور میرے معاملات آسان فرما ۔۔۔۔ اللہ تمہارے اعتراف کا فورا رسپانس دے گا اور تمہارے ساتھ ہوجائے گا ۔۔۔۔ کیونکہ وہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ صبر کرنے والوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا ۔۔۔۔۔

  • جنس کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    جنس کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    نر یعنی باپ بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے۔

    مادہ XX (ڈبل ایکس) کروموسومز رکھتی ہے، اس لیے وہ بس ایک X کروموسوم ہی فراہم کر سکتی ہے، جبکہ نر XY (ایکس، وائے) کروموسومز رکھتا ہے اور وہ X یا Y دونوں میں سے کوئی ایک کروموسوم فراہم کر سکتا ہے۔
    اسکا مطلب یہ ہوا کہ یہ نر ہوتا ہے جو بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے (X کروموسوم دینے سے یا Y کروموسوم دینے سے، اگر نر X فراہم کرے گا تو مادہ جنس پیدا ہوگی اور Y فراہم کرے گا تو نر پیدا ہوگا)

    اسے سمجھنے کیلئے مندرجہ ذیل تصویر دیکھیے۔

    جبکہ قرآن میں اسکا بیان اس تحقیق سے 1400 سال پہلے کردیا گیا تھا۔

    Quran 53:45-46

    اور یہ کہ اسی نے جوڑا نر اور مادہ کو پیدا کیا ہے۔(النجم 45)
    اسی ایک بوند سے جب وہ(نر سے مادہ میں) ٹپکائی جاتی ہے۔(النجم 46)

    قرآن کہتا ہے کہ یہ وہ ایک بوند ہے جو نر یا مادہ بچے کا تعین کرتا ہے جبکہ وہ بوند نر کی طرف سے مادہ میں منتقل ہوتی ہے تو اسکا مطلب نر ہی پیدا ہونے والے اس بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے کہ یہ بچہ نر ہوگا یا مادہ۔

    لیکن
    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہےکہ نر ہی پیدا ہونے والے بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے؟؟؟؟؟؟

    اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس آیات کا نمبر بھی 46 ہے جس میں نر کے تعین کے بارے میں بتایا گیا ہے اور انسان کے کروموسومز کی کل تعداد بھی 46 ہی ہے۔❤
    کروموسومز کے 23 جوڑے ہوتے ہیں جو کل ملا کے 46 بنتے ہیں۔

    جبکہ آج سائنسدانوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ جاندار اپنے والدین سے رنگوں اور دھاریاں(جو جاندار کے جسم پہ ہوتی ہیں) وراثت میں لیتے ہیں۔(ڈی این اے کے ذریعے)، بائیبل Genesis 30: 37-42 میں بھی کچھ ایسا ہی ملتا جلتا بیان ہے۔
    بائبل وضاحت کرتی ہے کہ بکری کا بچہ کیسے دھاریوں اور رنگوں کو حاصل کرتا ہے،
    "اگر اسکے والدین سیدھی حالت میں ملن کریں تو بکری کا بچہ دھاریاں حاصل کر سکے گا لیکن اگر اسکے والدین کا ملن سیدھی حالت میں نہ ہو تو بکری کا بچہ دھاریاں حاصل نہیں کر سکے گا”

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • جن سے اللہ راضی ہوا     تحریر: غلام زادہ نعمان صابری

    جن سے اللہ راضی ہوا تحریر: غلام زادہ نعمان صابری

    جن سے اللہ راضی ہوا
    غلام زادہ نعمان صابری

    خلیفہ اوّل امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں امارت کے لحاظ سے ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ آپ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سب سے امیر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نہایت سخی اور نرم دل شخصیت کے مالک تھے کسی کو محتاجی اور پریشانی میں نہیں دیکھ سکتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ جب کسی صحابی رضی اللہ عنہ کو مشکل حالات میں دیکھتے تو فوراً اس کی مالی مدد فرماتے اور یوں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی حاصل کرتے اور ایمان کو تازگی بخشتے۔
    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم آپ رضی اللہ عنہ سے بہت پیار اور محبت فرماتے یہ پیار اور محبت دنیا میں بھی قائم و دائم رہا اور دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی قائم و دائم ہے۔اس بات کا واضح ثبوت یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یار غار ہونے کے ساتھ ساتھ یار مزار بھی ہیں۔
    مجاہدین اسلام کو جب بھی مالی مشکلات کا سامنا ہوا آپ رضی اللہ عنہ نے سب کچھ لا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے مبارک قدموں میں ڈھیر کر دیا یہاں تک کہ مال و اسباب سے اپناگھر خالی کردیا۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے ایک موقع آپ رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ آپ گھر میں بھی کچھ چھوڑ کر آئے ہیں یا کہ نہیں۔
    آپ رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں دست بستہ عرض کی کہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم مبارک چھوڑ کر آیا ہوں۔
    شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے اس موقع پر آپ رضی اللہ عنہ کو شاندار خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا۔
    پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس
    صدیق کے لئے ہے خدا اور خدا کا رسول بس
    ابودجانہ رضى اللہ عنہ كى ہر روز كوشش ہوتى كہ وہ نماز فجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كے پيچھے ادا كريں، ليكن نماز كے فورى بعد يا نماز كے ختم ہونے سے پہلے ہى مسجد سے نكل جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كى نظريں ابودجانہ رضی اللہ عنہ كا پيچھا كرتيں ، جب ابودجانہ رضی اللہ عنہ كا يہى معمول رہا تو ايک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابودجانہ رضی اللہ عنہ كو روک كر پوچھا :

    ’’ابودجانہ! كيا تمہيں اللہ سے كوئى حاجت نہيں ہے؟
    ابودجانہ رضی اللہ عنہ گويا ہوئے: كيوں نہيں اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ميں تو لمحہ بھر بھى اللہ سے مستغنى نہيں ہوسكتا۔۔۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے، تب پھر آپ ہمارے ساتھ نماز ختم ہونے كا انتظار كيوں نہيں كرتے، اور اللہ سے اپنى حاجات كے لئے دعا كيوں نہيں كرتے۔۔۔

    ابودجانہ كہنے لگے اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم! در اصل اس كا سبب يہ ہے كہ ميرے پڑوس میں ايک يہودى رہتا ہے، جس كے كھجور كے درخت كى شاخيں ميرے گھر كے صحن ميں لٹكتى ہيں، اور جب رات كو ہوا چلتى ہے تو اس كى كھجوريں ہمارے گھر ميں گرتى ہيں، ميں مسجد سے اس لئے جلدى نكلتا ہوں تا كہ ان گرى ہوئى كھجوروں كو اپنے خالى پيٹ بچوں كے جاگنے سے پہلے پہلے چُن كر اس يہودى كو لوٹا دوں، مبادا وہ بچے بھوک كى شدت كى وجہ سے ان كھجوروں كو كھا نہ ليں۔۔۔

    پھر ابودجانہ رضی اللہ عنہ قسم اٹھا كر كہنے لگے اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم! ايک دن ميں نے اپنے بيٹے كو ديكھا جو اس گرى ہوئى كجھور كو چبا رہا تھا، اس سے پہلے كہ وہ اسے نگل پاتا ميں نے اپنى انگلى اس كے حلق ميں ڈال كر كھجور باہر نكال دى۔ ۔۔
    اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم! جب ميرا بيٹا رونے لگا تو ميں نے كہا اے ميرے بچے مجھے حياء آتى ہے كہ كل قيامت كے دن ميں اللہ كے سامنے بطور چور كھڑا ہوں۔۔۔

    سيدنا ابوبكر صدیق رضى اللہ عنہ پاس كھڑے يہ سارا ماجرا سن رہے تھے، جذبہ ايمانى اور اخوت اسلامى نے جوش مارا تو سيدھے اس يہودى كے پاس گئے اور اس سے كھجور كا پورا درخت خريد كر ابو دجانہ رضی اللہ عنہ اور ان كے بچوں كو ہديہ كر ديا۔۔۔
    پھر كيوں نہ اللہ سبحانہ وتعالىٰ ان مقدس ہستيوں كے بارے يہ سند جارى كرے:
    ﴿رَّضِىَ اللّـٰهُ عَنْـهُـمْ وَرَضُوْا عَنْهُ﴾
    "اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے-”

    چند دنوں بعد جب يہودى كو اس سارے ماجرے كا پتہ چلا تو اس نے اپنے تمام اہل خانہ كو جمع كيا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كے پاس جا كر مسلمان ہونے كا اعلان كر ديا۔