Baaghi TV

Category: اسلام

  • ریپٹرز پرندوں کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    ریپٹرز پرندوں کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    ریپٹرز(گوشت کھانے والے پرندے)

    "شکار کرنے والے پرندے، ریپٹرز، پرندوں کی ان انواع (سپیشیز) میں شامل ہیں جو کشیرے (ریڑھ دار) جانوروں کا شکار کرتے اور ان کا گوشت کھاتے ہیں جو شکاری کی بہ نسبت بڑے ہوتے ہیں۔
    مزید براں، انکی نظر اتنی تیز ہوتی ہے جو انہیں اڑان کے دوران ہی یا کچھ فاصلے پر ہی اپنے شکاری کی طرف متوجہ(فوکس) کر دیتی ہے، انکے پاوں پنجوں کے ساتھ اتنے مضبوط ہوتے ہیں جو شکاری کو پکڑنے یا مارنے کیلئے کافی ہوتے ہیں، اور مڑی ہوئی چونچ جو شکاری کے جسم کو پھاڑنے کیلئے کافی ہوتی ہے۔”
    Reference:- Wikipedia, bird of prey, 2019.

    ریپٹرز اپنے پنجوں کے ذریعے شکار کو پکڑتے ہیں۔ جبکہ اکثر پرندے اپنی چونچ کے ذریعے اپنے شکار کو پکڑتے ہیں جیسا کہ ہاکنگ(Hawking)

    "ہاکنگ (Hawking) پرندوں میں شکار کو پکڑنے کی ایک ایسی حکمت عملی ہے، جس میں ہوا میں اڑنے والے کیڑوں کو پکڑنا شامل ہے، ہاکنگ کی اصطلاح اس طرز عمل سے مماثلت رکھتی ہے جس میں ہاک (Hawk) یعنی شکار کو ہوا میں پکڑنا شامل ہے، جہاں ریپٹرز اپنے پنجوں کے ذریعے شکار کو پکڑ سکتے ہیں اسی طرح ہاکنگ کا بھی اپنے شکار کو چونچ کے ذریعے پکڑنے کا ایک طرز عمل ہے۔

    Reference:- Wikipedia, Hawking, 2019

    دوسرے پرندوں سے مختلف، ریپٹرز اپنے شکار کو اپنے پاوں(پنجوں) کے ذریعے شکار کرتے ہیں۔

    تو ثابت ہوا کہ ریپٹرز اپنے شکار کو اپنے پنجوں کے ذریعے پکڑتے ہیں، چونچ کے ذریعے نہیں۔
    ایسی ہی بات 1400 سال پہلے قرآن میں لکھی ہوئی پائی گئی،

    Quran 22:31

    ( الحج 31#)

    خاص اللہ کے ہو کر رہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔

    "پرندے اچک لیتے ہیں” جیسا کہ یہ پرندے اس انسان پہ حملہ کرکے اسے اچک لیتے ہیں تو مطلب یہ ریپٹرز (گوشت کھانے والے) پرندے ہوتے ہیں۔

    جیسا کہ قرآن کہتا ہے کہ وہ لوگ اچک لیے جاتے ہیں، کھائے نہیں جاتے، اگر وہ پرندے انسانوں کو ہوا میں ہی اچک لے جاتے ہیں، کھائے نہیں جاتے تو اسکا مطلب وہ پرندے اپنے پاوں کا استعمال کرتے ہیں، آج ہیں، چونچ کے ذریعے نہیں۔

    سوال یہ بنتا ہے کہ ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے ہی کیسے جان سکتا ہے کہ اکثر باقی پرندوں سے مختلف ریپٹرز اپنے پاوں کے ذریعے شکار کرتے ہیں؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • پومپائی کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    پومپائی کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    آثار قدیمہ کے ماہرین نے اٹلی میں ایک پرانے شہر کی باقیات کو دریافت کیا جو سن عیسوی 79 کے ایک آتش فشاں کی وجہ سے تباہ و برباد ہوگیا تھا. اس گرم آتش فشاں اور ملبے نے جلد ہی لوگوں کے جسموں کو سخت ترین کر دیا تھا, وہ منجمد ہوگئے تھے اور ان کے آخری عمل(ڈی کمپوزیشن) کو ختم کردیا.

    مگر 1400 سال پہلے ہی قرآن میں یہ درج تھا کہ اللہ جہنم میں کافروں کی حرکت بند کردے گا، وہ حرکت نہیں کر سکیں گے، گلے سڑیں گے نہیں، منجمد ہوجائیں گے

    Quran 36:67

    (یس)
    اور اگر ہم چاہیں تو ان کی صورتیں ان جگہوں پر مسخ/منجمد کر دیں پس نہ وہ آگے چل سکیں اور نہ ہی واپس لوٹ سکیں۔

    خدا کافروں کو جہنم میں منجمد کر سکتا ہے، انکی حرکت کو ختم کر سکتا ہے. آج ہم جانتے ہیں کہ پومپئی کے لوگ آتش فشاں کی وجہ سے اپنے آخری عمل میں منجمد ہوگئے تھے(جیسا کے اوپر تصاویر میں دکھایا گیا ہے)
    یہ سارا عمل اسی طرح ہے جو قرآن میں جہنم میں ہونے کی صورت میں پیش کیا گیا ہے.
    سوال تو یہ بنتا ہے کہ
    1400 سال پہلے رہنے والا ایک غیر معمولی شخص کس طرح جان سکتا ہے کہ لوگوں کو ان کے آخری عمل میں منجمد کیا جا سکتا ہے؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • آنکھ کی پتلی کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    آنکھ کی پتلی کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    انسان جب جھوٹ بولتا ہے تو وہ اپنی آنکھ کی پُتلی(جسے پیوپلز کہتے ہیں) کے سائز کو کنٹرول نہیں کر سکتا، یہ ایک غیر اختیاری/ارادی عمل ہے:
    خودمختاری اعصابی نظام (اے این ایس) جسمانی افعال کو منظم کرتا ہے جو بغیر کسی کنٹرول (غیر ارادی عمل) کے وقوع پذیر ہوتا ہے.
    اس سسٹم کی دو برانچیں ہیں۔
    i: The sympathetic nervous system
    ii: Parasympathetic nervous system
    دونوں برانچوں کو مختصر سی سٹیٹمنٹس میں بیان کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ
    The sympathetic system
    اڑنے یا لڑنے والے حالات میں کام کرتا ہے جبکہ
    Parasympathetic nervous system
    آرام کرنے اور کھانا ہضم کرنے کے عمل میں کام کرتا ہے
    عام لفظوں میں
    The sympathetic nervous system
    آپکی حفاظت کیلئے اور خطرات سے بچنے کیلئے آپکے جسم کو ہدایت دیتا ہے جبکہ
    The Parasympathetic nervous system
    آپکی انرجی کو محفوظ کرنے اور آرام کرنے کی ہدایات آپکے جسم کو دیتا ہے جیسا کہ بہترین ہاضمہ اور بہترین اور پرسکون نیند سونا۔
    عام طور پر آپکی پریشانیوں اور کشیدگیوں میں کہیں نہ کہیں جھوٹ بھی شامل ہوتا ہے(یہاں تک کہ آپ بہترین جھوٹ بولنے والے انسان بن جاتے ہیں)، کیونکہ آپ ڈر رہے ہوتے ہیں کہ کہیں آپکے جھوٹ کا پول نہ کھل جائے۔
    اور یہی ڈر آپکے "sympathetic nervous system” کو چلاتا ہے جسکی وجہ سے آپکے جسم میں کچھ اثرات پیدا ہوتے ہیں
    Sympathetic nervous system
    کا آنکھ میں متحرک ہونے کی وجہ سے آئرس میں ایک مسل جسکا نام "پیوپلری ڈائلیٹر مسل” ھے وہ حرکت میں آتا ہے اور پیوپل کے سائز کو چوڑائی کی شکل میں بڑھا دیتا ہے جیسا کہ ہم حیرانگی کی صورت میں آنکھیں ضرورت سے زیادہ کھول لیتے ہیں,
    اسکے نتیجے میں ایک بیماری "Mydriasis” لاحق ہوجاتی ہے جسکا مطلب ہے آنکھ کی پُتلی کا غیر معمولی پھیلاؤ۔
    جبکہ دوسری صورت میں جب Parasympathetic system چالو ہوتا ہے تو اسکے نتیجے میں آنکھ کی پُتلی میں سکڑاو آجاتا ہے۔
    مختصراً جہاں پریشانی لاحق ہوتی ہے وہاں جھوٹ بھی شامل ہوتا ہے اور یہی پریشانی sympathetic system کو چلانے کی وجہ بنتی ہے،
    مختصراً جب انسان جھوٹ بولتا ہے تو پیوپل کمزور ہوجاتا ہے۔
    لہذا جھوٹ والے لوگ منہ سے تو جھوٹ بول لیتے ہیں لیکن وہ اپنے پیوپل(آنکھ کی پُتلی) کو کنٹرول نہیں کر سکتے( جیسا کہ اکثر ہم چہرے سے پہچان لیے جاتے ہیں کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں)
    جیسا کہ 1400 سال پہلے ہی قرآن میں بیان کر دیا گیا:


    (40:19 غافر)
    "وہ آنکھوں کے دھوکے اور دل کے بھید جانتا ہے”
    ۔
    اور ہم جانتے ہیں کہ پیوپل(آنکھ کی پُتلی) جھوٹوں کو دھوکا دیتی ہے کیونکہ جھوٹے لوگ جھوٹ بولتے وقت آنکھ کی پُتلی کی حرکت کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔
    لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ👇🏻
    1400 سال قبل رہنے والے ایک غیر معمولی شخص(محمد) کس طرح جان سکتے ہیں کہ اپکے پیوپل آپکو دھوکہ دیتے ہیں جب آپ جھوٹ بولتے ہیں؟؟؟؟؟؟
    یہ رب العالمین کے ہونے کی ایک بڑی نشانی ہے

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • پلسار نیوٹران ستارے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    پلسار نیوٹران ستارے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    پلسار ایسے نیوٹران ستارے ہیں جو. محو گردش ہیں.
    بہت سے نیوٹران ستارے جتنے بھی آج تک دریافت ہوسکے ہیں سب ریڈیو پلسار (ستارے کی قسم) ہی ہیں.. وہ ریڈیو پلسار اس لئے کہلائے جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اندر سے شعاعیں نکالتے ہیں. ہم بآسانی ریڈیو ٹیلی سکوپ کو ایک سپیکر سے کنیکٹ کر کہ پلسار کی آواز سن سکتے ہیں. پلسار ستارے کی آواز ایسی ہوتی ہے جیسے کوئی مسلسل کھٹکھٹا رہا ہو….
    قرآن اسے اس طرح بیان کرتا ہے ” وہ جو دستک دیتا ہے”
    Quran 86:1-3

    (1) آسمان کی قسم ہے اور دستک دینے والے کی۔

    (2) اور آپ کو کیا معلوم کہ دستک دینے والی چیز کیا ہے۔
     
    (3) وہ سوراخ کرنے والا ستارہ ہے۔

    عربی لفظ "ثقب” کا مطلب ہے ایک سوراخ، اور”ثاقب” کا مطلب ہے سوراخ کرنے والا،
    قرآن دستک دینے والے ستارے کے متعلق بیان کر رہا ہے جو سوراخ کرتا ہے،

    پلسارز ایسے نیوٹرانز ستارے ہیں جو گردش کرتے ہیں۔ جیسے جیسے مادہ نیوٹران سٹار میں گرتا جاتا ہے ویسے ویسے ہی اسکا ماس بڑھتا جاتا ہے اور یہ ماس اسکی گریویٹی کو بھی بڑھاتا جاتا ہے۔ لیکن درحقیقت گریویٹی خلاء کی گولائی میں ہے۔ ایک نیوٹران سٹار اس خلاء(گولائی) کو مسخ کر دیتا ہے۔ جیسے جیسے مادہ نیوٹران(اس گولائی) میں گرتا جاتا ہے ستارے کی شکل بگڑتی جاتی ہے۔
    پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ بگاڑ کافی حد تک گہرا ہو جاتا ہے جو اس خلاء میں ایک سوراخ بنا دیتا ہے۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 1400 سال پہلے آنے والا ایک امی شخص(محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کیسے جان سکتا ہے کہ پلسارز(نیوڑران ستارے) اس خلاء میں سوراخ کرتے ہیں؟؟؟؟
    یہ رب العالمین کے ہونے کی ایک بڑی دلیل ہے۔

    ہمارا سورج ایک بہت چھوٹا ستارہ ہے۔ اصل میں ہمارا شمسی نظام(جن میں وہ ایٹمز بھی شامل ہیں جو ہم نے بنائے) ایک ٹوٹا ہوا ستارے سے بنا ہے جو کہ 100 گناہ ہمارے سورج سے بڑا ہے۔
    کچھ ستارے ہمارے اتنے بڑے سورج سے بھی کہی زیادہ بڑے ہیں، لہذا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ستارے کتنے بڑے ہیں۔
    تاہم بائبل کے مطابق یہ ستارے اتنے چھوٹے ہیں کہ یہ زمین پر گر جائیں گے(30-24 :13)
    یسوع مسیح نے کہا کہ ستارے ہماری دوسری نسل کے آنے سے پہلے زمین پر گر جائیں گے۔
    جیسا کہ اس نسل کو گزرے کافی عرصہ ہوچکا ہے اور نہ ہی کوئی ستارہ زمین پر گرا ہے اور نہ گرے گا، آپ جانتے ہیں کیوں؟؟
    کیونکہ زمین کسی ستارے سے ٹکرانے سے پہلے ہی ختم ہوجائے گی۔

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • کامیاب زندگی کا حصول مگر کیسے؟؟؟  تحریر:- محمد عبدالله اکبر

    کامیاب زندگی کا حصول مگر کیسے؟؟؟ تحریر:- محمد عبدالله اکبر

    کامیاب زندگی کا حصول مگر کیسے؟؟؟
    تحریر:- محمد عبدالله اکبر

    اس دنیائے ہست و بود میں کامیاب انسان وہی سمجھا جاتا ھے جو کسی کام کے آغاز کے بعد اس پر دوام حاصل کرتا ھے، اور دنیا بھی ایسے ہی لوگوں کو فالو کرتی ھے۔ جبکہ کام کو پایہ تکمیل تک پہنچائے بغیر کسی کام کو ادھورا چھوڑ دینے والے کو یہ دنیا بہت پیچھے چھوڑ جاتی ھے۔ لہٰذا کسی بھی شخص کو اس دنیا میں اپنا لوہا منوانے کے لئے، خود کو کامیاب ترین شخص کہلوانے کے لئے مستقل مزاجی کی عادت کو اپنانا ھوتا ھے۔۔۔!!
    یہ دنیا جو فانی ہے اس میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اتنا سخت اصول اپنانا ھوتا ھے تو ھم کیسے یہ تصور کر سکتے ھیں کہ جہاں ہمیشگی کی زندگی ھوگی اس کی تیاری میں ھم بغیر مستقل مزاجی اختیار کیے ہی کامیاب ھو جائیں گے۔
    لا شک کہ ھدایت جیسی عظیم نعمت جس کے حصے میں آ جائے اس جیسی خوش نصیبی اور کہاں حاصل ھو لیکن صرف ہدایت کا مل جانا ہی کافی نہیں ھے بلکہ شریعت اسلامی میں اصلاً مقصود ھدایت پر استقامت ھے۔۔
    ھدایت بہت سوں کو مل جاتی ھے لیکن ھدایت پر استقامت ہر ایک کے حصے میں نہیں آتی۔
    ھدایت حاصل ھوئی اور اس پر سختی سے ڈٹ جانا، شریعت اس چیز کی متقاضی ھے۔
    جیسا کہ الله سبحانه و تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
    ((فاستقم کما امرت و من تاب معک))
    ” اپ ثابت قدم رہیے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ھے اور وہ بھی جس نے آپکی معیت میں رجوع الی الله کو اختیار کیا”

    اسی طرح بار ہا رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بھی تاکید فرمایا کرتے تھے جیسا کہ شداد بن اوس رضی الله عنه کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ سونا و چاندی کو ذخیرہ کررہے ھوں تو تم ان کو کلمات کو ذخیرہ کرنا ((اللھم انی اسئلک الثبات فی الامر والعزیمۃ علی الرشد))
    "یا الله میں تجھ سے سوال کرتا ھوں دین پر ثابت قدمی کا اور بھلائی پر پختگی کا۔”
    اسی طرح ایک دوسری حدیث میں آتا ھے کہ سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کے استفسار پر جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ و سلّم نے انہیں ایک اللہ پر ایمان لانے اور اس پر ڈٹ جانے کا حکم دیا۔
    آیات اور احادیث سے یہ بات مترشح ھوتی ھے کہ دین پر سختی سے ڈٹ جانا ہی اصل کامیابی کا ذریعہ ھے۔ جب دین پر استقامت اختیار کرنے کا ارادہ کرلیا تو پھر اس چیز کی قطعاً گنجائش نہیں کہ دن میں ایک آدھی نماز پڑھ لی یا آئے روز کوئی نا کوئی نماز چھوڑ دی جائے اور دلیل میں یہ پیش کیا جائے کہ الله بڑا معاف کرنے والا ھے، بڑا غفور رحیم ھے۔

    ھمارے ایمان ہی اتنے پختہ ھیں کہ برادری کو وجہ بنا کے ھم دین پر قائم نہیں رہ سکتے، ھمارے ذہنوں میں ایک بات رچ بس گئی ھے، بہت معذرت کے ساتھ ھم نے اسی بات کو خدا بنا لیا ھے کہ لوگ کیا کہیں گے؟
    ھم دین کے اصولوں کو اپنی عملی زندگی پر لاگو کرنا چاہتے ھیں لیکن برادری، معاشرہ ھماری راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ھے۔
    ایک طرف ھمارا ایمان ھے اور ایک طرف ان لوگوں کا ایمان ھے کہ جن کے بارے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:-
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے پہلے لوگوں کا حال یہ تھا کہ ایک آدمی کو پکڑا جاتا، زمین میں گاڑا جاتا، آرا چلایا جاتا اور اس کے سر پر رکھ کر چیر دیا جاتا، لوھے کی کنگھیوں سے اس کے گوشت اور ہڈیوں کو نوچا جاتا۔ لیکن یہ چیزیں بھی ان کے ایمان کو ڈگمگا نا سکیں۔
    اسلام ایسی ہی استقامت کا تقاضا کرتا ھے کہ کسی بھی تنگی، مصیبت کو دیکھ کر دین اسلام سے پیچھے نا ہٹا جائے بلکہ دوام اختیار کیا جائے۔
    استقامت حاصل کرنے میں اگرچہ بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ھے، یہ کوئی آسان فعل نہیں ھے اور یہ رب تعالیٰ کی اعانت و نصرت کے بغیر ممکن نہیں ھے لیکن ان میں ھمیں خود بھی آہستہ آہستہ کوشش کرنی چاہیے۔
    نفس امارہ کو نفس مطمئنہ میں بدلنے کے لئے بہت لمبا سفر کرنا پڑتا ھے، بہت محنتیں درکار ھوتی ھیں لیکن ھمیں گھبرانا نہیں ھے بلکہ جس چیز کو ایک دفعہ اختیار کر لیا اس پر ڈٹ جانا ھے اور پھر اللہ کریم ھمارے لئے رستے کھولتا جائے گا اور پھر نعیم سرمدی میں ان شاءاللہ کامیابی ھمارا مقدر ھوگی اور انعام میں ھمیں جنت الفردوس عطا کی جائے گی اور اس کامیابی کا اصل انعام دیدارِ الٰہی کی صورت میں دیا جائے گا۔ ان شاءالله

  • پورے چاند کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    پورے چاند کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر


    پورا چاند جو صرف رات کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    بائبل میں یہ اصرار کیا جاتا ہے کہ عیسی علیہ السلام ایک بلند جگہ سے پوری زمین(دنیا) کو دیکھ سکتے ہیں (میتھیو 4:8)
    لیکن ایسا تبھی ممکن ہونا تھا اگر دنیا فلیٹ(چٹیل میدان) ہوتی۔ اور اگر دنیا چٹیل میدان ہوتی تو ہر شخص ایک ہی وقت میں پورے چاند کو دیکھ سکتا تھا۔
    مگر آج ہم جانتے ہیں کہ یہ غلط ہے کیونکہ ہم پورے چاند کو صرف رات میں ہی دیکھ سکتے ہیں، دن کی روشنی میں نہیں۔

    پورا چاند دیکھنے کیلئے سورج، زمین اور چاند کا ایک ہی سیدھی لائن میں آنا ضروری ہے، جیسا کہ سب سے اوپر وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے۔

    پورا چاند دیکھنے کیلئے آپکو زمین کی رات والے حصے کی طرف ہونا ہوگا جو چاند کے سامنے ہوگی، زمین کے رات والے حصے کی طرف ہی پورا چاند دکھائی دے سکتا ہے کیونکہ زمین کی دوسری طرف والا حصہ سورج کے سامنے ہوتا ہے اس لیے سورج کی روشنی میں پورا چاند دیکھنا ناممکن ہے اس لیے ان لوگوں کو زمین کو روٹیٹ(گردش) ہونے تک انتظار کرنا پڑے گا جب تک زمین چاند کے سامنے نہیں آجاتی، اور زمین کے روٹیٹ ہونے کے بعد دن والا حصہ رات میں تبدیل ہوجائے گا، اس لیے پورا چاند رات میں ہی دیکھا جا سکتا ہے، دن کی روشنی میں نہیں۔

    Reference:- Time and Date, Why is the Full moon in the Daytime?, 2019

    “دن کے وقت چاند پورا کیوں دکھائی دیتا ہے؟
    پورا چاند عین اس وقت دکھائی دیتا ہے جب سورج، اور چاند زمین کی مخالف سمت میں سیدھ(ایک ہی سمت یعنی لائن) میں ہوتے ہیں، جیسا کہ اوپر میں دیکھا جا سکتا ہے،
    آپ time and date کی ویب سائٹ پہ جا کر اپنی لوکیشن پہ ظاہر ہونے والے چاند کی حالت معلوم کر سکتے ہیں کہ پورا چاند کب آپکی طرف دکھائی دے گا۔

    اس سیدھ میں آئے ہوئے چاند کی یہ حالت ٹیکنیکلی طور پہ SYZYGY کہلاتی ہے، اس ٹرم کا مطلب ہے کہ چاند یا کسی دوسرے سیارے کا سورج کے ساتھ ہی برج میں جمع ہونا ہےُ(یعنی ایک ہی لائن میں سیدھا)
    پورا چاند دکھائی دینے کے عین وقت، چاند زمین کے صرف رات والے حصے کی طرف کچھ مستثنیات کے ساتھ دکھائی دیتا ہے،

    شام میں پورا چاند دکھائی دینا
    جبکہ اب بھی آپ کے علاقے میں شام کے وقت جب چاند ظاہر ہونا شروع ہوتا ہے تو وہ پورا دکھائی دیتا ہے۔
    پورے چاند کے مرحلے کے آس پاس، چاند آسمان میں سورج کے طلوع سے غروب تک دیکھا جاتا ہے،
    بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آپ پورے چاند اور سورج دونوں کو ایک ہی وقت میں مخالف سمت میں طلوع و غروب ہوتا دیکھ سکیں۔”

    جیسا کہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پورا چاند صرف سورج کے طلوع سے لے کر غروب تک دیکھا جا سکتا ہے۔ کیونکہ زمین سفیریکل یعنی انڈے(شتر مرغ کے) کی شکل میں ہے اس لیے دن کی روشنی میں پورا چاند دیکھنا ناممکن ہے، اسکے لیے لوگوں کو زمین کی گردش مکمل ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا یہاں تک کہ وہ چاند کے سامنے نہ آجائے،(اگر زمین چٹیل میدان ہوتی تو ہر کوئی ایک ہی وقت میں پورا چاند دیکھ سکتا تھا)۔
    یہ تحقیق حال ہی میں مکمل کی گئی ہے جبکہ یہ بات 1400 سال پہلے قرآن میں درج تھی،

    Quran 84: 16-18

    (‎ (16پس شام کی سرخی کی قسم ہے۔
    (17) ‎اور رات کی اور جو کچھ اس نے سمیٹا۔
    (18‎) اور چاند کی جب کہ وہ پورا ہوجائے۔

    یہاں پہ پورے چاند کا ذکر رات کے ساتھ کیا گیا ہے اور اسکا یہی مطلب ہے کہ پورا چاند شام سے لے کر رات گئے تک دیکھا جا سکتا ہے مگر دن میں نہیں۔
    آج ہم جانتے ہیں کہ یہ بات سہی ہے کیونکہ زمین سفیریکل شیپ میں ہے، چٹیل میدان(فلیٹ) نہیں ہے۔ قرآن میں کوئی غلطی نہیں۔

    ایک غیر معمولی شخص چودہ سو سال پہلے کیسے جان سکتا ہے کہ پورا چاند صرف رات میں نظر آ سکتا ہے، دن میں نہیں؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • خود پر صدقہ کریں ،اپنے شرسے دوسروں کو بچائیں تحریر:جویریہ بتول

    خود پر صدقہ کریں ،اپنے شرسے دوسروں کو بچائیں تحریر:جویریہ بتول

    خود پر صدقہ کریں…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    کسی کا بھلا نہ چاہ سکیں تو کم از کم برا بھی تو نہیں چاہنا چاہیئے ناں…؟
    کسی کو اچھا مشورہ دے دینا…
    اخلاص بھرا مشورہ جو اس کے لیئے فائدے کی راہیں ہموار کرنے کا باعث بن جائے…
    ایسا مشورہ جو آپ کے ذاتی مفاد یا بدلہ بازی کے گرد نہ گھُومتا ہے…
    کسی سے مسکرا دینا…
    کسی سے اللّٰہ کے لیئے ملاقات کرلینا…
    کسی کی کوئی ضرورت پوری کر دینا…
    کسی کے پاس بیٹھ کر دُکھ سُکھ شیئر کر لینا…
    کسی کو دوسروں کی نظروں میں حقیقت کے آئینہ میں پیش کرنا…
    کسی کی غیبت،برائی اور بدخواہی نہ کرنا…
    کسی کے بے غرض تعلق رکھنا…
    کسی کے خلاف سازش نہ بُننا…
    کسی کو تعلیمی،کاروباری،معاشی و معاشرتی طور پر کامیاب دیکھتے ہوئے رنجیدہ نہ ہونا…
    کسی کے بارے میں کوئی جاننا چاہے تو مثبت پہلوؤں پر روشنی ڈالنا…
    خامیوں پر اگر حد سے بڑھی ہوئی نہ ہوں تو پردہ ڈالنا…
    ہر چھوٹی چھوٹی بات چھُپانا کہ کوئی برابر کے لیول پر نہ آ جائے،چاہے وہ سوٹ یا جوتا ہی کیوں نہ ہو…یہ دل کی گھٹن کا باعث ہے،ایسی باتوں سے دل تنگ ہو جاتے ہیں،ظرف وسعت کی بجائے سکڑنے لگتے ہیں…
    کہیں پروفیشنل جیلسی کا شکار ہو جانا،کسی کو آگے بڑھتا دیکھ کڑھنا…
    کسی سے کُچھ سیکھ کر اسی کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرنا…
    یہ سب چیزیں خیر پھیلانے اور پہنچانے میں رکاوٹ بنتی ہیں…
    تب ہم من پسند کی کیٹیگری کے ساتھ چلتے ہیں…
    ہم نا پسند لوگوں تک خیر پہنچانے سے ہی رُک جاتے ہیں…
    جبکہ تعلیم کیا ملی تھی؟
    جو برے ہیں ان سے بھی بھلائی کرنی ہے…
    تلخی کو نرمی سے ٹالنا ہے…
    نفرتوں کو محبتوں سے مٹانا ہے…
    تب کیا صورتحال سامنے آتی ہے؟
    فاذالذی بینک و بینہ عداوۃٌ کَاَنَّہ ولی حمیم¤
    تبدیلی تب آتی ہے…
    معاشرے تب بدلتے ہیں…
    جب انا اور میں کی قربانی دے کر اخلاقیات اور برداشت کا پرچار کیا جائے…!!!
    جب بھلائیوں کے بانٹنے میں منہ ملاحظہ نہ کیا جائے…
    جب ججمنٹ کا اختیار اپنے ہاتھ میں نہ لیا جائے…!!!
    بے لوث ہو کر…
    بے غرض بن کر…
    خیر خواہی کے جذبے سے…
    نیکی کی اُمنگ کے ساتھ…
    اپنی خیر کا لوگوں کو مستحق بنا کر…
    اپنے نفس کے شر سے لوگوں کو بچا کر…
    ہم ذہنی اور قلبی اطمینان پا سکتے ہیں…
    جب آپ کسی کا بُرا نہیں چاہیں گے…
    کسی کی رہ میں روڑے نہیں ڈالیں گے…
    تو کوئی لاکھ آپ کی راہ میں رکاوٹیں بنے…
    خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گا…
    احسان و بھلائی کا بدلہ مل کر رہتا ہے،
    چاہے کُچھ دیر بعد سہی…خیر لَوٹ کر ضرور آتی ہے…!!!
    ناشتہ کے وقت ایک چڑیا روزانہ روٹی چگنے آتی ہے،
    ابھی میرا پراٹھا تیار نہیں تھا،تھوڑی دیر ادھر اُدھر پھدکنے کے بعد چڑیا نے ایک نظر مُجھ پر ڈالی…
    میں نے اُٹھ کر اندر سے دوسرے پراٹھے سے نوالہ توڑ کر اسے دینا ہی چاہا مگر وہ اُڑ گئی…
    غصہ بھی آیا،لیکن خاموشی سے وہیں بیٹھ گئی…
    دو منٹ بعد چڑیا پھر میرے پاس تھی اور وہی روٹی میں نے اُس کے سامنے ڈال دی…
    یہ بالکل چھوٹی سی بات یہ سمجھانے کے لیئے کافی تھی کہ چند لمحات کا صبر اپنے پیچھے وہ چیز لیئے ہوتا ہے جو ہمیں نظر نہیں آ رہی ہوتی اور اس کی رہ گزر صرف صبر سے گزرتی ہے…!!!
    ہم بسا اوقات صرف بے صبری سے اپنی خیر سے دوسروں کو محروم کر دیتے اور نیکی کی راہیں معدوم کر دیتے ہیں…
    ہم وہ وقت چیخ و واویلا سے بھی گزار سکتے ہیں…
    اور صبر و استقامت سے بھی…
    ہاں سچ ہے کہ خیر کا بدلہ مل کر رہتا ہے…
    دنیا میں بھی اور آخرت کی جزا تو محفوظ ہی ہے ناں ان شآ ءَ اللّٰہ…
    لیکن آغاز ہی بدلہ کی اُمید پر نہ کیجیئے…
    جو کیجیئے بس اپنا فرض سمجھتے ہوئے ادا کرتے جایئے…
    خود سے ممکن حد تک بھلائیوں کو تقسیم کیجیئے…
    اور اگر کسی کا بھلا نہ کر سکیں تو کم از کم برا بھی تو نہیں چاہنا چاہیئے ناں؟؟؟
    پیارے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صحابی رضی اللّٰہ عنہ کو افضل اعمال کی وضاحت کے بعد فرمایا اگر یہ نہ کر سکے تو:
    "لوگوں کو اپنی برائی سے بچا،تو بے شک یہ صدقہ ہے جو تو اپنے نفس پر کرتا ہے…!!!”
    (صحیح بخاری)۔
    آیئے !!!
    اپنے شر سے دوسروں کو بچائیں۔
    چھوٹی چھوٹی سہی مگر بھلائیوں کو ہی پھیلائیں…
    کسی کے لیئے اذیت اور وبال نہیں بلکہ امن و محبّت ،اُمید و حوصلہ اور اخلاص و خیر خواہی کی ایک کِرن بننے کی کوشش کریں…!!!
    یہی اپنے پر صدقہ کے ساتھ دوسروں کا بھی بھلا ہے…!!!
    ==============================
    {جویریات ادبیات}۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • اہل دل نے اُسے ڈھونڈا اُسے محسوس کیا،  سوچتے ہی رہے کُچھ لوگ،خدا ہےکہ نہیں   تحریر: ساجدہ بٹ

    اہل دل نے اُسے ڈھونڈا اُسے محسوس کیا، سوچتے ہی رہے کُچھ لوگ،خدا ہےکہ نہیں تحریر: ساجدہ بٹ

    اہل دل نے اُسے ڈھونڈا،اُسے محسوس کیا

    سوچتے ہی رہے کُچھ لوگ،خدا ہے،کہ نہیں

    تحریر: ساجدہ بٹ

    حال ہی میں ہمارے ساتھ کیا ہو گیا شاید ہمیں اندازہ ہی نہیں،دیکھتے ہی دیکھتے علمی سرمایہ ہمارے علماء اکرام کی صورت میں ہم سے اٹھنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کرونا،ٹڈی دل اور دیگر سزاؤں کے بعد اور بڑی سزا ہمیں ملنے لگی کہ ہم سے علم کے تارے جدا ہونے لگے یعنی ہم گناہگاروں کو جو تھوڑا بہت علم دین سے جوڑنے کی تلقین کرتے تھے ہمیں اسلامی تعلیمات سے وقتاً فوقتاً آگاہ رکھتے تھے وہ لوگ حال ہی میں ہم سے جُدا ہو گئے۔۔۔
    جب یہ علماء اکرام آئے روزہم سے بچھڑنے لگے تو میرے ذہن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ حدیث پاک آئی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”بے شک (یہ باتیں) قیامت کی علامات میں سے ہیں کہ علم اٹھ جائے اور جہالت باقی رہ اور شراب نوشی کثرت سے ہونے لگے اور علانیہ زنا ہونے لگے(صحیح بخاری)۔

    اس حدیث پاک سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قیامت کے نزدیک علم اٹھ جائے گا میرے عزیزقارئین کرام ۔۔۔۔۔۔۔۔
    علم اٹھ جانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہماری کتابیں ختم ہو جائیں گی یا اُن کے صفحے سفید ہو جائیں گے بلکہ اس کا مطلب ہے علم دین پھیلانے والے علماء اکرام اللہ کو پیارے ہو جائیں گے۔۔۔۔
    اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کو بخش دیں کہ اب یہ ہو رہا ہے ہمارے بزرگ دین ہم سے جُدا ہوئے۔۔۔
    ذرا سوچیے قارئین کرام جب ایک گھر کا بزرگ اس دارے فانی سے کوچ کر جاتا ہے تو ہمارے گھر کا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سگے بھائیوں بہنوں میں سلوک و اتفاق کی جڑیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں جائیداد کے ٹکڑے کو حاصل کرنے کے لیے نفرتوں کے بیج بونے لگتے ہیں۔۔۔
    لالچ و حرص میں مبتلا ہو جاتے ہیں سب کو اپنی اپنی پڑی ہوتی ہے ،جبکہ یہ ہی جب والدین کے زیرِے سایہ تھے تو اُلفت محبت کا پیکر تھے ایک دوسرے کا احساس کرتے تھے ۔۔۔۔
    یہ ہی حال اس دنیا کا ہے ہم مسلمانوں کو آپس میں جوڑے رکھنے والے چاند کی مانند چمکنے والے ہمارے دلوں میں ر
    روشنیاں بکھیرنے والے ہم سے جُدا ہو گئے اب یہ ڈر لگنے لگا ہے کہ ہم بھی ایک گھر کے بچوں کی طرح بکھر نہ جائیں کہیں ہم میں بھی نفرت پیدا نہ ہو جائے ۔
    دین سے دوری پیدا نہ ہو ،،،،،ہم لوگ تو ایسے ہیں کہ کئی فرقوں میں بٹے ہیں دین اسلام سے کم اور اپنے فرقے سے زیادہ لگاؤ رکھتے ہیں حالانکہ اللہ تک پہنچنے کا راستہ تو بہت آسان اور واضح ہے بس بات تو وہی ہے نہ کہ جس نے اللہ تعالیٰ سے لو لگا لی ہو تو اُسے محسوس بھی جلد کر لیتا ہے اُس تک پہنچنے کے راستے بھی نکال لیتا ہے اور گناہ گار تو یہ ہی سوچتا رہا کہ خدا ہے کہ نہیں۔۔۔۔۔۔؟

  • جھوٹے دماغی حصے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    جھوٹے دماغی حصے کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    دماغ کا اگلا یعنی ابتدائی حصہ جھوٹ کو سنبھالتا ہے.

    کئی صدیوں سے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ انسانی دماغ کا اگلا حصہ آنکھوں کی نظر کو سنبھالتا ہے ,(کیونکہ عام طور پر یہ حصہ ہماری آنکھوں کے قریب ہوتا ہے اس لیے).
    لیکن آج ہم جانتے ہیں کہ یہ تھیوری غلط ہے. تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ انسانی دماغ کا جو حصہ آنکھوں کی نظر کو کنٹرول کرتا ہے وہ حصہ پیچھے کی جانب ہے. دماغ کا اگلا حصہ جو جھوٹ بولنے کا سبب بنتا ہے, پری فرنٹل کارٹیکس کہلاتا ہے.

    Reference:- Localisation of increased prefrontal white matter in pathological liars. Yang Y, Raine A, Narr KL, Lencz T, LaCasse L, Colletti P, Toga AW.  Br J Psychiatry. 2007 Feb;190:174-5. PubMed PMID: 17267937.

    پیتھالوجیکل جھوٹے( وہ اشخاص جو بغیر وجہ کے مسلسل جھوٹ بولتے ہیں, انہیں پیتھالوجیکل جھوٹا کہتے ہیں) میں سفید فام معاملہ (یعنی اگلا دماغی حصہ جسکا نام پری فرنٹل کارٹیکس ہے, جو جھوٹ بولنے کا سبب بنتا ہے) زیادہ ہوتا ہے.
    "جھوٹ بولنے والے افراد کے دماغ کے درمیانی اور کم تر(انفیرئیر) حصے کی نسبتاً اگلے دماغی حصے میں وسیع پیمانے پہ (23 سے 36 فیصد) سفید فام ظاہر کیا گیا ہے, لیکن سپیریئر نامی حصے میں نہیں. اس سفید فام معاملے میں اضافے کی وجہ سے کچھ لوگ پیتھالوجیکل لائر (جو مسلسل جھوٹ بولتے ہیں) کا شکار ہوسکتے ہیں.”

    یعنی پیتھالوجیکل لائر لوگوں کے اگلے دماغی حصے پری فرنٹل کارٹیکس میں یہ سفید فام بہت زیادہ حد تک پایا جاتا ہے. جو جھوٹ بولنے کا سبب بنتا ہے.
    مگر 1400 سال پہلے قرآن میں یہ پیشین گوئی کردی گئی تھی کہ نافرمان لوگ اپنی جھوٹی پیشانی(اگلے حصے) سے گھسیٹے جائیں گے.

    Quran 96:15, 16

    ہرگز ایسا نہیں، اگر وہ باز نہ آیا تو ہم پیشانی کے بال پکڑ کر اسے گھسیٹیں گے۔(العلق 15)

    (وہ)پیشانی(یعنی اگلا دماغی حصہ) جو جھوٹی (اور)خطا کار(ہے)۔(العلق 16)

    1400 سال پہلے غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ پیشانی میں جو اگلا دماغی حصہ ہے وہ جھوٹ بولنے کا سبب بنتا ہے؟؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • کرونا اور توبہ النصوح    بقلم:مسز ناصر ہاشمی بنت ربانی

    کرونا اور توبہ النصوح بقلم:مسز ناصر ہاشمی بنت ربانی

    کرونا اور توبہ النصوح
    (مسز ناصر ہاشمی )بنت ربانی

    کرونا۔۔۔۔۔۔۔کرونا۔۔۔۔۔۔کرونا یہ بھیانک لفظ لا کھوں بلکہ کروڑوں لوگوں کے دل و دماغ پر خو فناک انداز میں چھا چکاہے ۔ اس بیماری نے بچوں، جوانوں اوربوڑھوں ہر ایک کے حواس پر قابوپا لیا ہے۔ کرونا ۔۔۔۔۔۔۔۔جو2019 کےاواخر میں آیا۔ جسے19 covid کا نام دیا گیا۔چائنہ سے شروع ہونے والی یہ تکلیف دہ بیماری چند ماہ کے اندر اندر انٹر نیشنل لیول تک جا پنہچی اور اس نے ہر ملک میں پنجے گاڑ کر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اب۔۔۔۔۔۔۔کوئی اسےیہودی ایجنڈے کی سازش کہ رہا ہے۔کوئ اسے انسانی وائرس بتا رہا ہے۔کوئ اسے اللہ کا عذاب سمجھ رہا ہے۔ جو کچھ بھی ہے۔۔۔۔ہے تو ہمارے لیےوبال جان۔ جس نے عا لمی سطح پر معیشت کو ڈگمگا دیا۔ جو بنی نوع انسان کی سیاسی ، سماجی، معا شی اور ماحو لیاتی سرگر میوں پر نہ صرف حاوی ہوا بلکہ گلوبل ورلڈ کو تبد یل کر کے رکھ دیا۔ نہیں ۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔ انسان ابھی یہاں تک نہیں پہنچا۔ وہ ا یک قوم کو تباہ کر ے گا۔ ایک ملک یا ایک قوم پر اپنی جا رحیت قائم کرے گا مگر پوری دنیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پوری دنیا کا حاکم، آقا،مالک و خالق وہی رب السموات والارض ہے۔۔۔۔جو آج کائنات میں اپنا لوہا منوا رہا ہے۔ جس نےدورحاضر کی جاہلیت اور گناہوں سے لتھری ہوئ انسانیت کو بتادیا کہ”الملک للہ والحکم للہ” جس نے سپر پاور طاغوتی طاقتوں اور فرعونیت سےلبریز دماغوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
    "جس نے میرا جسم میری مرضی ” کہنے والوں کو دن میں تارے دکھا دیے لا شک فی ذالک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ان بطش ربک لشدید واللہ عزیز ذو انتقام”(القران) ابھی بھی وقت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سنبھل جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔خدارا۔۔۔۔سنبھل جائیں سچے اور کھرے مسلمان ہونے کا ثبوت دیں۔شرک وبدعت چھوڑ کرایک الہ کی طرف مائل ہو جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو رب العالمین ہے ۔ جو رب العرش والعظیم ہے ہمیں اسی کو منانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسی کے آکے گڑ گڑانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔توبت النصوح کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔توبہ النصوح ۔۔۔۔۔۔۔۔ایسی سچی اور کھری توبہ۔۔۔جس کے بعد انسان گناہ نہ کرنے کا عزم کرلے24گھنٹوں میں ایک وقت اپنا محا سبہ کیجیئے کہ آج میں نے اللہ کو راضی کرنے والے کتنے کام کیےاور اس کے غضب کو دعوت دینے والے کونسے اعمال ہم سے سرزد ہوے ۔ یاد رکھئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب ہم عملی اقدام اٹھائیں گے۔اپنے برے رویوں کو تبد یل کریں گے۔حقو ق اللہ اور حقو ق العباد دونوں کا خیال رکھیں گےتو۔۔۔۔۔پھر۔۔۔۔ا للہ ہماری مدد کرے گا۔ ہمارے ہمارے لیے دنیا وآخرت میں آسانیاں پیدا کرے گا۔ بصورت دیگر۔۔کرونا۔۔۔ کے خوف سے پڑھنے والی نمازیں اور تسبیحات ہمیں کچھ فائدہ نہ دیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انداز بیاں اگرچہ میرا شوخ نہیں ہے——————شاید کہ اتر جاے تیرے دل میں میری بات