Baaghi TV

Category: اسلام

  • اہل کشمیر پر ظلم و ستم اور عالمی خاموشی  ازقلم :- محمد عبداللہ گِل

    اہل کشمیر پر ظلم و ستم اور عالمی خاموشی ازقلم :- محمد عبداللہ گِل

    اہل کشمیر پر ظلم و ستم اور عالمی خاموشی
    ازقلم :- محمد عبداللہ گِل

    مقبوضہ کشمیر میں انڈین آرمی نے اپنا غاصبانہ جما رکھا ھے۔دن بدن ان درندوں کا ظلم بڑھتا جا رہا ھے۔1947ء سے لے کر اب تک ہزاروں بے قصور عام شہریوں کو انڈین آرمی نے اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا ھے۔لیکن آج کے دن جس شہری کو نشانہ بنایا گیا اس کی حالت مختلف تھی۔وہ اپنے بیٹے کے ساتھ شہر سے دودھ لینے گیا اور اس کو بلاوجہ قتل کر دیا گیا۔وہ بے سپہ و اسلحہ تھا۔اس میں اس عام شہری کے بنیادی حقوق جو کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی بنیاد پر دئیے گئے ہیں اسے وہ پامال کیے گئے.اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے مطابق جو بنیادی حقوق ہے وہ یہ "بنیادی حقوق مشترکہ اقدار جیسے وقار ، انصاف پسندی ، مساوات ، احترام اور آزادی پر مبنی ہیں۔ یہ اقدار اقوام متحدہ کے قانون کے ذریعہ بیان اور محفوظ ہیں”
    پہلی بات تو یہ ہے کہ انڈین آرمی کا کشمیر پر قبضہ اقوام متحدہ کی 1947ء کی قرار دادوں کے بلکل خلاف ہے۔لیکن 73 برس بیت گئے کشمیریوں کو انصاف نہیں ملا۔لیکن امریکہ میں ایک سیاہ فام شخص کا قتل ہوا تو سارے عالمی قوانین بیدار ہو گئے۔ان کشمیریوں کا قصور صرف اتنا ہی ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور یہ نعرہ لگاتے ہیں
    "پاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ”
    بھارتی حکومت نے کشمیر میں انڈین آرمی کی تعداد میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور انڈین حکومتی اداروں نے کشمیر میں کرفیو نافذ کر کے نہتے ،مجبور و مظلوم کشمیریوں پہ ظلم و ستم کی انتہاء کر دی ہے۔یہ کرفیو دوسو روز سے جاری ہے۔ انڈین آرمی بلا اجازت گھروں میں داخل ہو کر جسے چاہتی ہے اٹھا لیتی ہے۔خاص طور پر جوان بچوں کو حریت پسند کہہ کر اپنے ساتھ لے جاتی ہے اور پھر چند دن کے بعد ان کی تشدد شدہ لاشیں کسی اور علاقے سے ملتی ہیں ،اسی طرح مسلم عورتوں کو بھی گھروں سے اٹھا لیا جاتا ہے اور عصمت دری کے بعد یا تو مار دیا جاتا ہے یا پھر انتہائی بری حالت میں یہ مجبور خواتین کسی علاقے میں پھینک دی جاتی ہیں۔ یہی نہیں کسی بھی گھر کو آگ لگانا گھر سے سامان لے جانا اور توڑ پھوڑ کرنا تو روز کا معمول بن گیا ہے ۔۔۔ستم بالائے ستم کہ بین الاقوامی میڈیا کو کشمیر سے اول تودور رکھا جا رہا ہے یا اگر اجازت دی بھی جا رہی ہے تو چند مخصوص علاقوں تک ہی میڈیا کی رسائی ہے ، ان علاقوں تک جانے ہی نہیں دیا جا رہا جہاں یہ سفاک گورنمنٹ اپنی فوج کے ساتھ آگ و خون کا کھیل کھیل رہی ہے ۔ اس وقت ان مظلوم کشمیریوں کی داد رسی کرنے والا یا مددگار کوئی نہیں سوائے خدا کی ذات کے۔ ہزاروں گھرانے بے یارو مدد گار ایک اللہ اور پاکستانیوں کی مدد کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔لیکن ہمارے ہاں کیا ھے اگر کوئی 2 سے 3 ماہ بعد بیان بھی دیا جاتا ہے تو یہ کہ دیا جاتا ہے
    "ہم کشمیریوں کی اخلاقی،سیاسی مدد کے لیے تیار ہیں۔”
    اگر یہ سب ظلم و جبر کشمیریوں پر اس لئے کیا جاتا ہے کہ وہ حقِ خود ارادیت مانگتے ہیں تو اقوامِ متحدہ ان مظالم پر کیوں خاموش ہے؟ انسانی حقوق کے دعویدار کہاں ہیں؟

    سوال یہ پیدا ہوجاتا ہے کہ کیا کشمیر سے باہر کے مسلمانوں کو کشمیری مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر خاموش رہنا چاہئے؟ یا ان کا بھی کوئی وظیفہ بنتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ کشمیری مسلمان دوسری مسلم قوموں سے ہرگز جدا نہیں۔ سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ آج شام، فلسطین اور کشمیر میں دشمن انسانیت کے ظلم وستم کی بھڑکائی ہوئی آگ میں گویا سارے جہاں کے مسلمان جل رہے ہیں۔ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمانوں کے بہت سارے فرائض اور حقوق ہیں۔ ایک دوسرے کی حفاظت کرنا، ایک دوسرے کے دکه سکه میں شریک ہونا اہم فرائض میں سے ہیں۔ پیغمبرؑ گرامی اسلام کا یہ صریح ارشاد ہے کہ جو کوئی مسلمانوں کے امور کے بارے میں اہتمام کئے بغیر صبح کرے وہ مسلمان نہیں۔ نیز آپؑ نے فرمایا کہ اگر کوئی مظلوم کسی مسلمان کو مدد کے لئے پکارے اور وہ اس کی مدد نہ کرے تو وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ نیز فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کا ساتهہ چھوڑتا ہے اور نہ اسے حوادث کے حوالے کرتا ہے۔

    اس کے بعد کچھ قصور اپنوں کا بھی ھے۔کشمیر میں مسلمان ہی بستے ہیں نہ لیکن ہمارا یہ حال ہے کہ ہم اس طرح ان کے حق میں آواز بلند نہیں کر رہے۔موجودہ حکومت نے جب ریاست مدینہ کی بات کی تو بہت خوشی ہے کہ اب مظلوم کو انصاف ملے گا۔لیکن سب امیدیں بے سود۔پاکستان سے ہی کشمیریوں کی امیدیں وابستہ ہیں اور ہم ان کی امیدوں پر پورا نہیں اتر ریے۔
    اسلامی تعاون تنظیم (OIC) جو کہ مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ہے۔اس کا تو یہ حال ہے کہ ظلم و بربریت کے خلاف اجلاس منعقد ہونے میں ہی تین سے چار ماہ لگ جاتے ہیں۔اس ظلم و ستم کے خلاف فوری طور پر اجلاس منعقد ہونا چاہیے اور تمام
    مسلم ممالک کو بھارت کے ظلم کا جواب دینا چاہیے۔

  • تیرے (حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) وجود پہ ہے فہرستِ انبیاء تمام   تحریر:عاشق علی بخاری

    تیرے (حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) وجود پہ ہے فہرستِ انبیاء تمام تحریر:عاشق علی بخاری

    ترے وجود پہ ہے فہرستِ انبیاء تمام
    (حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت خاتم الانبیاء پر بلاگ )
    عاشق علی بخاری

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مثال نبیوں میں ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک بہت اچھا گھر بنایا لیکن اس نے ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی جہاں کچھ نہ رکھا لوگ اسے چارو طرف سے دیکھتے ہیں اور اس کی بناوٹ سے خوش ہوتے ہیں لیکن کہتے ہیں کاش اس ایک اینٹ کی جگہ بھی پُر کردی جاتی تو کیا ہی اچھا ہوتا پس وہ اینٹ میں ہوں. الحدیث
    عقیدہ ختم نبوت قرآن مجید میں 100 بار اور احادیث میں 200 بار بیان کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اب اس نبوت کی عمارت میں کسی طرح کی بھی کوئی گنجائش باقی نہیں کہ اسے کسی اور نبی کے ذریعے پورا کیا جاسکے. عقیدہ ختم نبوت اس قدر اہم ہے کہ اللہ رب العالمین نے وہ تمام دروازے بند کردیئے جو کسی طرح بھی نبوت کے لئے کھلے رہ سکتے تھے. جب اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت رب العالمین بیان کی تو ساتھ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت رحمۃ اللعاملين رکھی. صحابہ کرام نے بھی نبوت کی اس عمارت کو مکمل سمجھنے کے ساتھ ساتھ اپنا خون بھی پیش کیا، عہدِ صدیقی میں جنگِ یمامہ جو نبوت کے جھوٹے دعویدار مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی اس میں تقریبا بارہ سو صحابہ و تابعین نے جام شہادت نوش کیا. حضرت خبیب رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے جسم کے ٹکڑے کروانا برداشت کیا اور یہ برداشت نہ کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں جھوٹے مسیلمہ کو نبی تسلیم کروں.عقیدہ ختم نبوت کو اللہ تعالی نے خاص اور عام دونوں طریقے سے مکمل اور کامل کر دیا ہے. اور ہر دور میں صرف علماء ہی نہیں بلکہ ان لوگوں نے بھی ختم نبوت کے دفاع کے لیے کام کیا جو صرف عام لوگ ہی تھے بلکہ نبوت کے دفاع میں اپنی جان بھی پیش کردی.
    امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ جھوٹے مرزا قادیانی کے متعلق فرماتے ہیں. اگر مرزے میں کوئی کمزوری نہ ہوتی وہ مجسمہ حسن و جمال ہوتا، بہادر، مرد میداں ہوتا، کریکٹر کا آفتاب اور خاندان کا ماہتاب ہوتا، شاعر ہوتا، فردوسی وقت ہوتا، ابوالفضل اس کا پانی بھرتا، خیام اس کی چاکری کرتا، غالب اس کا وظیفہ خوار ہوتا، انگریزی کا شیکسپیئر اور اردو کا ابوالکلام ہوتا کیا ہم اسے نبی مان لیتے؟ اگر ابوبکر و عمر عثمان و علی رضوان اللہ علیہم اجمعین جنہیں نبی نے خود جنت کی بشارتیں شہادت کے پروانے سنائے وہ بھی نبوت کا دعوی کرتے تو ہم کبھی بھی قبول نہ کرتے.ختم نبوت کی اہمیت اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس سے اور آپ کا دین و ایمان محفوظ رہتا ہے، اس عقیدے کے بغیر اس دنیا سے جانے کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ وسلم کی سفارش سے ہاتھ دھونا پڑیں.

    شاعر نے کیا خوب کہا
    ترے وجود پہ فہرستِ انبیاء ہے تمام
    تجھی پہ ختم ہے روح الامیں کی نامہ بری
    پاکستان کے آئین و قانون کے لحاظ سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننا اور اس کی مخالفت کی صورت میں شریعت اور قانون دونو اعتبار سے ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوگا، جیسا کہ 1974 میں قادیانیوں کو غیر مسلم ڈکلییئر کیا گیا. اسی طرح حالیہ دنوں میں ختم نبوت کے حوالے سے قرارداد پاس ہونا بھی انتہائی خوشی کی بات ہے. جس کی رو سے تحریری و تقریری دونوں حالتوں میں لفظِ خاتم النبیین لکھا اور بولا جائے نیز نصابی کتب میں بھی اس کا اضافہ کیا جائے گا.
    یقیناً یہ ان عالمی استعماری طاقتوں کے منہ پہ زور دار تھپڑ سے کم نہیں جو بلاوجہ انسانی حقوق کے نام پر ہمارے دینی و ملکی قوانین میں چھیڑ چھاڑ اور ترمیم کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں. ان عالمی گماشتوں کو مظلوم مسلمان بچے، عورتیں، بوڑھے کیوں نظر نہیں آتے؟ انڈیا و اسرائیل اور یورپی ممالک کی اسلامی شعائر پر پابندیاں کیوں اس اندھے، بہرے، گونگے اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کو نظر نہیں آتی؟
    ہم ایسی کسی بھی سازش کی ہرگز قبول نہیں کریں گے جو اسلام اور ملک پاکستان کے خلاف ہوگی اور ہم حکومت وقت سے بھی یہی مطالبہ کریں گے تمام مقدس شخصیات کی ذات میں توہین آمیز رویہ اپنانے والوں کو سخت سے سخت سزاؤں کے قانون پاس کیے جائیں.

  • چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو حقیر مت سمجھیئے…!!! تحریر:جویریہ بتول

    چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو حقیر مت سمجھیئے…!!! تحریر:جویریہ بتول

    چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو حقیر مت سمجھیئے…!!!
    (تحریر:جویریہ بتول)۔
    بارش کے چھوٹے چھوٹے قطرے جب مل کر برستے ہیں تو تُند و تیز لہروں میں بدل جاتے ہیں…
    ریت اور مٹی کے چھوٹے چھوٹے ذرات سے مل کر ہی ہموار اور زرخیز زمین تشکیل پاتی ہے…
    زینہ زینہ چڑھ کر ہی بلندیوں پر پہنچا جاتا ہے ناں؟
    قدم قدم اُٹھا کر ہی منزل سے ہمکنار ہوا جاتا ہے…
    سو ہمیشہ اپنی قدر کیجیئے،یہ نہ سمجھیئے کہ میں کر بھی کیا سکتی ہوں/سکتا ہوں؟
    مجھ میں بھلا کیا صلاحیتیں ہیں،جنہیں استعمال میں لاؤں؟
    میرے پاس بڑے بڑے منصوبے اور مال ہو گا شاید تب ہی دنیا کو مجھ سے کوئی فائدہ ہو سکے گا؟
    تب تک مجھے مایوسی میں ہی رہنا ہے…
    سوچتے ہی چلے جانا ہے…
    اپنے آپ کو کوستے ہوئے افسوس ہی کرتے رہنا ہے…!!!
    نہیں بلکہ آپ نے اپنی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچانے کا تہیہ کر لینا ہے…
    سب سے اوّلین مستحق ہمارے گھر کے افراد ہوتے ہیں… الاوّل فالاوّل…
    ہمارے والدین،اولاد،رشتہ دار،پھر وہ جگہیں جہاں ہم کام کرتے ہیں،ہمارا معاشرہ،قوم،اور اُمت یہ سبھی کیٹیگریز ہمارے کردار کی مستحق ہیں…
    ہم اس دین کے ماننے والے ہیں ناں جہاں اپنے بھائی کو مسکرا کر دیکھنا بھی صدقہ ہے…
    جہاں مریض کی عیادت کرنے والا جنت کے باغوں میں گھومتا ہے…
    جہاں للہ کسی کی زیارت کرنے والے کو فرشتہ ندا دیتا ہے تُجھے مبارک ہو،تیرا چلنا خوشگوار ہو اور جنت میں تُجھے ٹھکانہ نصیب ہو…
    جہاں رستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا،کسی بھولے اور اندھے کو رستہ دکھا دینا صدقہ ہے…
    کسی کو نیکی کی طرف رہ نمائی کر دینا نیکی کرنے کی مثل ہے…
    بس اپنی سوچ مثبت رکھیئے،
    منفی سوچ،بدگمانیوں اور نفرت و حسد کے جذبات دل کے دریچوں سے نکال باہر پھینکیں…
    کسی کے راز کی حفاظت…
    کسی کے عیوب کی پردہ پوشی…
    کسی کی مصیبت کی گھڑی میں ہمدردی کے چند بول…
    خیر خواہی پر مبنی مشورہ دے دینا…
    کسی کو معاف کر دینا…
    زیادتی پر درگزر کر جانا…
    یقین جانیئے یہ بڑے عزم اور درجہ والے کام ہیں…
    ہم اکثر بڑی بڑی نیکیاں کر کے ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی پرواہ نہ کر کے بڑی نیکیوں کو بھی ضائع کر دیتے ہیں…
    اپنے والدین کا ہاتھ پکڑ کر چلنا…
    ماؤں کے کاموں میں ہاتھ بٹا دیجیئے…یہ نہیں کہ ہم سوشل بنے پھرتے ہوں اور ماں دھوپ میں تڑپتی اور کام سنبھالتی رہے…
    ماں کا دور تھکاوٹ سے چُور گزر چکا ہے اب ہماری جوانی کے عمل کا دور ہے…
    اسے موبائل کی غیر ضروری مصروفیات کی نذر ہر گز نہ ہونے دیجیئے…
    مانا کہ ہمارے للہ ہی سہی،محبتوں کے حصار بہت وسیع ہوں،لیکن ماں باپ جیسے رشتے سے بڑھ کر ہر گز نہیں ہو سکتے…
    ہماری عبادات،رب کے ذکر اور تعلیم و تعلم سے بڑھ کر نہیں ہو سکتے…
    اپنا حق بھی پہچانیں…!!!
    اپنی لائف کو مینیج کیجیئے اور اس کے مطابق تمام معاملات ڈیل کرنے کی کوشش کیجیئے…
    اہم چاہے چھوٹا کام ہی کیوں نہ ہو،اسے اولیت دیجیئے…
    غیر اہم بڑا ہی سہی،ثانویت کے درجہ پر رکھیں…
    فراغت کے لمحات میسر ہوں تو انہیں بھی ضائع نہ جانے دیں،اپنے دوست احباب سے، رشتہ داروں سے حال احوال بانٹ لیجیئے…
    کُچھ وقت اُن کے ساتھ بِتایئے…
    انہیں اپنا ہونے کا احساس دلایئے…!!!
    اپنے چھوٹے چھوٹے اعمال سے زندگی کی تصویر میں رنگ بھرنے کی مشق جاری رکھیئے…
    روزانہ قرآن کی ایک آیت ہی خود یا کسی سے سمجھنے کی کوشش کریں…
    ایک حدیث کا مطالعہ کر لیں،زندگی گزارنے کے بہت سے اصولوں سے شناسائی ملے گی…
    تاریخ کا ایک ورق ہی پلٹ کر دیکھ لیں…
    پانچ،سات منٹ نکال کر حالاتِ امت سے آگہی حاصل کریں…
    استغفراللہ،الحمدللہ،سبحان اللّٰہ و بحمدہ سبحان اللّٰہِ العظیم یہ وہ کلمات ہیں جن کے بارے میں پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    کہ یہ زبان پر بہت ہلکے لیکن میزان میں بہت بھاری ہیں…کی حاضر دل سے تسبیح پڑھ لیں…
    غرض چراغِ رہ بنیں…
    اُمیدِ سحر بنیں…
    خیر کی قربت…
    شر سے دوری بنیں…!!!
    مسافر ہیں تو زادِ سفر سمیٹیں…
    سب تو تو،میں میں کا کھیل ختم ہو جانے والا ہے اور کام آنے والی چیز فقط بھلائیاں ہیں…!!!
    چھوٹے کاموں کو حقیر نہ سمجھیں…:
    سب سارا دن پانی بہا بہا کر ضائع کر دیتے تھے…
    ایک دن میں نے سوچا کہ جتنا پانی بہہ جاتا ہے اگر کسی پودے کی کیاری میں ہاتھ دھو لیئے جائیں تو ایک تو پودے کی زمین نرم رہے گی،دوسرا کیچڑ سے بھی بچت…
    اب بات مانتے مانتے تو دیر لگتی…
    میں نے یہ ذمہ داری خود اُٹھا لی ،اور صرف ایک دن میں مجھے چودہ مرتبہ صرف ہاتھ دھونے کے لیئے لوٹا بھر بھر کر کیاری کے پاس رکھنا پڑا…
    لیکن فائدہ یہ ہوا کہ سب کی ایک عادت سی بن گئی کہ اب ہاتھ باری باری کیاریوں میں ہی دھونے ہیں…!!!
    زندگی کی خوشیوں سے ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو کبھی دیس نکالا نہ دیں،ورنہ یہ زندگی بے رنگ،بے ذائقہ اور پھیکی پھیکی رہ جاتی ہے…
    یاد ہے ناں پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اپنے پیارے صحابی کو نصیحت:
    لَا تَحقِرَنَّ مِنَ المَعرُوفِ شَیئًا…
    ہاں بس اسے یاد رکھیئے،زندگی کا اصول بنا لیجیئے…!!!!!
    ===============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • مظلوم مسجد   تحریر: عبدالسلام فیصل

    مظلوم مسجد تحریر: عبدالسلام فیصل

    ” مظلوم مسجد ”
    مسجد توحید اہلحدیث ماڈل ٹاؤن 1988 میں تعمیر ہوئی۔۔ابھی مکمل ہی نہ ہوئی تھی کہ لوگوں نے صرف ایک دن میں شیعہ کی عبادت گاہ کہہ کر شہید کر دیا۔
    اسکے بعد 1997 میں اس مسجد کی تعمیر کی گئی ۔ مسجد تقریبا 20 سال سے قائم و دائم تھی ۔ اسکے بعد اسکی تعمیر رکوا دی گئی ۔۔
    جگہ چونکہ شام لاٹ تھی ۔ اس لئے موجودہ گورنر پنجاب چوہدری سرور صاحب کے ذریعے بار بار کوشش کی گئی کہ مسجد کو اتھارٹی لیٹر جاری ہو جائے ۔۔لیکن انہوں نے بھی بعد میں ہاتھ اٹھا دیئے ۔۔
    اس مسجد پر تعمیراتی لاگت تقریباً 3 کروڑ سے زائد ہے ۔
    دوسری بات یہ مسجد ” محکمہ اوقاف ” میں رجسٹرڈ ہے۔
    تیسری بات ماڈل ٹاؤن اسلام آباد کی تمام کی تمام مساجد کے پاس سی ڈی اے سے متعلقہ کوئی بھی ڈاکومینٹیشن مکمل نہیں ۔۔۔
    بغیر کسی نوٹس دیئے ۔۔۔ ایک ہی روز میں اچانک آ کر اس مسجد کو شہید کرنا ۔ ظلم عظیم ہے ۔۔۔
    سوال یہ ہے ! اس حکومت سے سرکاری سطح پر 80 ایکڑر کی جگہ خرید کر 40 ارب کی خطیر رقم خرچ کر کے گردوارہ بنایا ۔۔ اسی حکومت نے 4 کنال جگہ ہندوؤں کو دیکر اس پر مندر کے لئے سرکاری بجٹ منظور کیا ۔۔۔
    کیا وجہ ہے کہ پانی کے نالے کے قریب کی فضول جگہ جس پر اللہ کا گھر بنا کر اسکو قیمتی بنایا گیا چند مرلوں کے حصول کے لئے اس مسجد کو شہید کیا جا رہا ہے ؟؟؟
    کیا حکومت وقت اتنی غریب ہو چکی ہے کہ ریاست مدینہ میں اللہ کے گھر کے لئے چند مرلے برداشت نہیں کر سکتی ؟؟؟
    خان صاحب !!! مدینے والے کے رب کا سامنا کیسے کرو گے ؟
    علمائے کرام سے مشاورت کئے بغیر شرک کے اڈے تعمیر کئے جا رہے ہیں اور توحید کے باغات کو اجاڑا جا رہا ہے۔۔
    اللہ سے ڈر جاؤ ۔۔۔
    اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے ۔۔۔
    ازقلم : عبدالسلام فیصل

  • محبت کس سے کریں؟   تحریر: سعدیہ بنت  خورشید

    محبت کس سے کریں؟ تحریر: سعدیہ بنت خورشید

    محبت کس سے کریں؟؟؟
    (جب ھم دنیا میں کسی سے محبت کرتے ھیں تو سب سے پہلے اس کو جانتے ھیں پہچانتے ھیں پھر مانتے ھیں پھر اسکی محبت کے حصار میں جکڑ جاتے ھیں)
    تحریر:- سعدیہ بنت خورشید

    جب ھم دنیا میں کسی سے محبت کرتے ھیں تو سب سے پہلے اس کو جانتے ھیں پہچانتے ھیں پھر مانتے ھیں پھر اسکی محبت کے حصار میں جکڑ جاتے ھیں جس کے بعد ھم اس کی ہر بات پہ بلا چون و چراں عمل بھی کرنے لگ جاتے ھیں اور پھر وہ وقت بھی آتا ھے جب ھمیں اس کے بغیر ایک لمحہ گزارنا بھی مثل ِ عذاب لگ رہا ھوتا ھے۔۔
    دنیا جہاں چار دن کی ذندگی ھے اور فانی دنیا میں فانی لوگوں کی اپس میں ایسی محبت ھو سکتی ھے تو وہ جو "الحی” ھے اس کے ساتھ محبت کے کیا تقاضے ھوں گے۔۔۔۔؟؟؟

    "اللہ سے محبت” یہ سنتے ہی دل میں ایک بہترین احساس جاگزیں ھوتا ھے۔
    اللہ سے محبت کے لئے سب سے پہلے اللہ کے بارے معرفت ضروری ھے کہ اللہ کون ھے؟

    الله، وہ ذات جس کے اسم الجلالہ میں سے الف حذف کیا جائے تو "لله” بچتا ھے، لله سے لام حذف کیا جائے تو له بچتا ھے، له سے لام کو حذف کیا جائے تو اسم ضمیر "ھو” وجود میں آتا ھے۔۔ "ھو”(( وہ ذات))۔ جو ھمیشہ سے ھے ھمیشہ رہے گی۔
    اس اسم گرامی کی وسعت اتنی ہے کہ ہر حرف اسکی ذات کی تعریف کا مؤجب بنتا ھے۔

    ((ھو علَمُ لذات الواجب الوجود

    المستجمع لجمیع صفات الکمال ))

    غرضیکہ ہر قسم کی صفات کی حامل ھے و ذات ۔۔۔۔!!

    محبت، حب سے ھے۔ مح کا معنیٰ خالص اور بت کا معنیٰ توشہ، محبت یعنی خالص توشہ ۔۔۔!!
    محبت ایک انتہائی عظیم اور پاکیزہ رشتہ ھے جس میں چاھنے اور چاھے جانی کی خواہش ھوتی ھے، جس میں ایک طرف کے تعلق کی بجائے طرفین کا مابین بہت گہرا تعلق ھوتا ھے، محبت مانندِ نور ھے.

    الله سے محبت کے تقاضے کیا ھیں؟
    محبت اطاعت مانگتی ھے جس میں نفی و شریک کی قطعاً گنجائش نہیں ھوتی۔
    الله تبارک و تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:-
    ((قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی، یحببکم الله))
    الله نے اپنے سے محبت کیے جانے کا قاعدہ بھی خود ہی مقرر فرما دیا اور حکم صادر فرمادیا۔ کہ "اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپ کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ھو تو میری پیروی کرو بدلے میں اللہ بھی تم سے محبت کرے گا”
    کتنا خوبصورت انعام ھے۔۔۔!!! یعنی یہ صرف یکطرفہ محبت نہیں ھے، بلکہ اس کے لئے اصول و ضوابط مقرر فرما دئیے کہ اگر میرے بندے ان ان اصولوں پر پورا اتریں گے تو بدلے میں اس عظیم ہستی کی محبت ملے گی جو آسمانوں اور زمینوں کا نور ھے۔
    اسی طرح حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:- من اطاعنی فقد اطاع الله
    "جس نے میری اطاعت کی اس نے الله کی اطاعت کی۔”
    یعنی کامیابی حاصل کرنی ھے تو اطیعو اللہ و اطیعو الرسول دونوں کو خود پر لازم پڑے گا کیونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلّم کے درمیان ایک گہری نسبت ھے جن میں سے کسی ایک کو چھوڑ کے انسان کامیابی و کامرانی کی راہ ہموار نہیں کر سکتا لہٰذا اللہ کی محبت کے حصول کے لئے لئے قرآن اور حدیث کو اپنی عملی زندگی پر لاگو کرنا ھوگا

    کیونکہ صرف زبانی کلامی باتوں سے محبت حاصل نہیں ھوجاتی۔ جب محبت کی جاتی ھے تو محب پر لازم ھوجاتا ھے کہ اپنے محبوب کی باتوں کے سامنے سر تسلیم خم کرے اور اس کے بعد اس میں کسی قیل و قال کی گنجائش نا بچتی ھے
    (( لو کان حبک صادقا لاطعته
    ان المحب لمن یحب یطیع))
    اگر تو سچی محبت کرتا ھے تو اسکی اطاعت کر کیونکہ محبت تو یہی ھے کہ جس سے محبت کی جائے اس کی اطاعت کی جائے۔ اصل محبت ہی یہ ھے کہ فاعل، مفعول به کے احکام کو (سَمِعتُ و اطعتُ)) کہتے ھوئے بجا لائے اور اس میں کسی چون و چرا کی گنجائش نا ھو۔ جن میں برادری، معاشرہ، اور ایسے ہی دیگر عوامل اثر انداز نا ھونے پائیں۔ ایسی محبت جس کے بارے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا مفہوم یہ ھے کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ھو سکتا جب تک میں اس کے اہل و عیال سے زیادہ اسکو عزیز نا ھو جاؤں۔ خالصتاً طریقے سے چاھے جانا، محبت اس چیز کی متقاضی ھے کیونکہ محبت اپنے ساتھ شریک برداشت نہیں کر سکتی۔

    اس سب کو جان لینے کے بعد محبت قربانیاں مانگتی ھے اور محبت میں ایک مقام وہ بھی آتا ھے جب یہ محبت ابراہیم علیه السلام کو آگ میں چھلانگ لگوا دیتی ھے، اسماعیل اور ہاجرہ علیہما السلام کو جنگل بیابان میں تنہا چھڑوا دیتی ھے، بلال رضی الله عنه کو تپتی ریت پر لٹا دیتی ھے،۔
    جب محبوب کی محبت پر بے انتہا یقین کا یہ مقام آتا ھے (ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا)) کا مصداق بنا دیتی ھے۔
    "یجعل اللہ مخرجا” کو صرف کہنے کی حد تک نہیں رکھا بلکہ اسکو عملی جامہ پہنا کر آنے والی انسانیت کے لئے اسکو بطور نمونہ پیش کردیا

    اور پھر وہ رب ابراہیم کو آگ میں چھلانگ لگوا کے اگ کو ٹھنڈی کردیتا ھے، اسماعیل علیہ السلام کی گردن پہ چُھری کو چلنے نہیں دیتا اور اس کی جگہ جانور کو لٹا دیتا ھے، حبشی بلال کی قدموں کی چاپ کو جنت میں سنا دیتا ھے۔
    اللہ سے محبت کتنی عظیم محبت ھے جس میں کسی قسم کا کوئی خسارہ نہیں۔ لیکن سب سے بنیادی اصول جو ھیں ، محبت یقین مانگتی ھے، قربانی مانگتی ھے کہ جب رات کو دوسرے لوگ آرام سے نرم و گرم بستر پر لیٹ کر مزے کی نیند سوئے ھوں تو یہ ( تتجافی جنوبھم عن المضاجع) کا عملی نمونہ بن جائے۔ مؤذن ابھی یہ صدا بلند کررہا ھو حی الفلاح اور یہ کاروبار، گاہک سب کچھ چھوڑ کے کامیابی کو ڈھونڈنے اس مالک کے گھر ( مسجد میں ) چل نکلے۔

    من ذاق حب الله ارتویٰ
    "جس نے اللہ کی محبت کا ذائقہ چکھ لیا وہ سیر ھوگیا۔”

    جو اس محبت کا مزہ چکھ لیتا ھے اس پر دنیا کے سامنے دنیا کے مصائب، تکالیف، تنگیاں کوئی وقعت نہین رکھتیں وہ صرف اس باری تعالیٰ کا ھو کے رہ جاتا ھے جس کی محبت کے سامنے یہ دنیاوی زیبائش بے معنیٰ ھو کر رہ جاتی ھے۔ اور پھر اسی طرح یہ محب اپنے محبوب کو ایک نظر دیکھنے کے لئے ہر وقت کسی نا کسی طریقے سے اس کو یاد کرنے میں مگن رہتا ھے اور آخر تک اس کی اپنے محبوب کے دیدار کی تڑپ کم ھونے کی بجائے بڑھتی چلی جاتی ھے جس وجہ سے اس کو یہ دنیا قید خانہ لگنے لگتا ھے اور وہ اس قید سے رہائی کے انتظار میں برسوں گزار کر آخر کو اپنے اپنے رب کے ساتھ ملاقات کی سعادت حاصل کرنے میں کامیاب ھو جاتا ھے۔
    اللہ اپنے سے محبت کرنے والے کو خالی ہاتھ نہیں لٹاتا بلکہ اس کو دونوں جہانوں میں عزتوں، کامرانیوں سے نوازتا ھے۔
    الله تعالیٰ ھمیں بھی ان مؤمنین کی صفوں میں شامل کردے جو اللہ سے محبت کرتے ھیں اور ھمارا شمار ان لوگوں میں بھی ھو جن سے اللہ بھی محبت کرتا ھے۔امین

  • ٹرمینل ویلاسٹی کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    ٹرمینل ویلاسٹی کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    فری فال کی تیز ترین رفتار

    فری فالنگ کے دوران، گرنے کے کچھ ہی سیکنڈز بعد ٹرمینل ویلاسٹی شروع ہوجاتی ہے۔

    "ٹرمینل ویلاسٹی ہوا کی مزاحمت پہ منحصر ہوتی ہے, مثال کے طور پر ایک سکائی ڈائیور جو پیٹ کے بل فری فالنگ کرتا ہے یعنی اسکا منہ زمین کی طرف ہوتا ہے، اسکی ٹرمینل سپیڈ 195 km/h ہوتی ہے۔ یہ رفتار آخری حد کے قریب ترین ہوتی ہے، جیسے جیسے ٹرمینل ویلاسٹی بڑھتی جاتی ہے جسم پہ کام کرنے والی قوتیں جسم کے توازن کو برقرار رکھتی ہیں۔
    مثال کے طور پر، فری فالنگ کے 3 سیکنڈر بعد ہی ٹرمینل ویلاسٹی 50 فیصد تک پہنچ جاتی ہے، 8 سیکنڈز بعد ٹرمینل ویلاسٹی 90 فیصد تک پہنچ جاتی ہے اور 15 سیکنڈز بعد یہ 99 فیصد تک پہنچ جاتی ہے اور اسی طرح بڑھتی جاتی ہے۔”
    Reference:- Wikipedia, Terminal Velocity, 2019.

    سکائی ڈائیور بہت ہی تیز ٹرمینل ویلاسٹی کے ساتھ فری فالنگ کرتا ہے جبکہ کچھ پرندے آسانی سے کسی بھی سکائی ڈائیور سے تیز ٹرمینل ویلاسٹی سے اڑتے ہیں۔ کیونکہ دنیا میں سب سے تیز پرندہ "پیریگن فیلکن” ہے جسکی رفتار 390 km/h ہے جبکہ ایک سکائی ڈائیور کی زیادہ سے زیادہ رفتار 195 km/h ہوتی ہے۔
    دنیا کے تیز ترین پرندوں کے نام اور انکی رفتار درج ذیل ہے۔

    پیریگن فیلکن 390 km/h کی ٹرمینل ویلاسٹی سے پرواز کرتا ہے جبکہ دوسرا پرندہ جسکا نام گولڈن ایگل ہے وہ 240 سے 320 km/h کی ٹرمینل ویلاسٹی سے پرواز کرتا ہے۔ اسی طرح یہ دو پرندے آسانی سے کسی بھی سکائی ڈائیور کو فری فالنگ کے دوران جا پکڑ سکتے ہیں۔ اور تو اور یہ پرندے ریپٹرز بھی ہیں، (ریپٹرز ان پرندوں کو کہا جاتا ہے جو گوشت والی جنس کا شکار کرتے اور انکا گوشت کھاتے ہیں)۔ یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ 1400 سال پہلے قرآن میں اسے اس طرح بیان کیا گیا ہے،
    Quran 22:31

    (الحج 31)

    "خاص اللہ کے ہو کر رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔”

    "پرندے اس انسان کو اچک(پکڑ) لیتے ہیں” یہ پرندے انسانوں پہ حملہ کر سکتے ہیں یعنی یہ گوشت کھانے والے ریپٹرز ہیں، لیکن انسان کو ہوا میں ہی پکڑنے کیلئے انہیں ایک سکائی ڈائیور سے تیز اڑان بھرنی پڑے گی اور آج ہم جانتے ہیں کہ ریپٹرز پرندے ایک سکائی ڈائیور سے تیز ہوا میں اڑان رکھتے ہیں۔

    لیکن 1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ ریپٹرز (گوشت کھانے والے پرندے) ایک سکائی ڈائیور سے اتنی تیز اڑان رکھتے ہیں کہ وہ انسان کو ہوا میں ہی پکڑ کر شکار کر سکتے ہیں۔؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • انسانی فطرت کے دو عکس…!!! تحریر:جویریہ بتول

    انسانی فطرت کے دو عکس…!!! تحریر:جویریہ بتول

    انسانی فطرت کے دو عکس…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    انسان بڑا جلد باز،گھبرا جانے والا،تھڑدلا اور ناشکرا ہے۔
    قرآن حکیم میں انسانی فطرت کے بارے میں یہ مثالیں جابجا بیان کی گئی ہیں۔
    نعمتیں ملنے پر عطا کرنے والے کو بھول جانے والا ہے،
    فخر و تکبر کی ردا اوڑھ کر پھولا نہ سمانےوالا ہے…
    میں حسبِ معمول قرآنی آیات کا مطالعہ کر رہی تھی کہ سورۂ یونس کی آیات نے مجھے انسانی فطرت کے دو عکس دکھائے…
    اللّٰہ تعالٰی نے اس فطرت کی ایک مثال ان الفاظ میں بیان کی ہے:
    وَ اِذَا اََذقنَا النَّاسَ رَحمَۃً مِّن بَعدِ ضَرَّآءَ مَسَّتھُم اِذَا لَھُم مَکرٌ فِی اٰیَاتِنَا قُلِ اللّٰہُ اَسرَعُ مَکرًا،اِنَّ رُسُلَنَا یَکتُبُونَ مَا تَمکُرُون¤
    "اور جب ہم لوگوں کو اس امر کے بعد کہ ان پر کوئی مصیبت پڑ چکی ہوتی ہے،کسی نعمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ فوراً ہی ہماری آیتوں کے بارے میں چال چلنے لگتے ہیں،آپ کہہ دیجیئے کہ اللّٰہ چال چلنے میں تم سے زیادہ تیز ہے،بالیقین ہمارے فرشتے تمہاری سب چالوں کو لکھ رہے ہیں.”(سورۂ یونس)۔
    یعنی انسان نعمت ملنے پر ناشکری کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے اور جب اللّٰہ تعالٰی کی گرفت میں آئے تو فوراً اس کی رگِ فطرت پھڑک اُٹھتی ہے۔
    جس کی مثال اللّٰہ تعالٰی نے ما بعد کی آیت میں دی ہے:
    کہ اللّٰہ تعالٰی نے تمہیں چلنے کے لیئے پاؤں عطا کیئے،سواریاں مہیا کی ہیں،
    جن پر دور دراز کے سفر کرتے ہو،
    پھر عقل کا استعمال کرتے ہوئے کشتیاں اور جہاز بنا لیئے،اور سمندر کی لہروں پر محوِ سفر ہوتے ہو…!!!
    لیکن کیسی بے بسی کا عالم ہوتا ہے جب اُحیط بھم
    یعنی جب سخت ہواؤں کے تھپیڑوں اور تلاطم خیز موجوں میں گھِر جاتے ہیں اور موت سامنے نظر آتی ہے تو کیا کرتے ہیں؟
    دعو اللّٰہ مخلصین لہ الدین…
    اس وقت خالص اعتقاد کے ساتھ اللّٰہ کو پکارتے ہیں کہ اگر تو ہم کو اس سے بچا لے تو ہم ضرور شکر گزار بن جائیں گے۔
    یعنی انسان جب شدائد میں گھِر جاتا ہے تو تب سارے فلسفے بھول کر اللّٰہ تعالٰی کو یاد کرتا ہے،اسی کو پکارتا ہے،کیونکہ انسانی فطرت میں اللّٰہ تعالٰی کی طرف رجوع کا جذبہ ودیعت کیا گیا۔
    انسان ماحول اور تربیت سے متاثر ہو کر اس جذبۂ فطرت کو دبا دیتا ہے لیکن کسی ناگہانی آفت اور مصیبت میں یہ جذبہ پھر عود کر آتا ہے۔
    رب کی توحید انسانی فطرت کی آواز ہے،جس سے انحراف کر کے انسان فطرت سے انحراف کرتا ہے۔
    لیکن جب انسان کو اللّٰہ تعالٰی ان تمام مصائب سے بچا لے آئے تو چاہیئے تو یہ ہے کہ شکر کا مفہوم اقوال و اعمال سے بیان ہوتا نظر آئے لیکن انسانوں کی اکثریت نجات پا جانے کے بعد تکبر میں مبتلا ہو جاتی ہے…
    شکر کے مفہوم و انداز سے نابلد رہ جاتی ہے۔
    عکرمہ بن ابی جہل کا واقعہ کہ جب وہ فتح مکہ کے موقع پر فرار ہو کر ایک کشتی میں سوار ہوئے تو کشتی طوفانی ہواؤں کی زد میں آ گئی،ملاح نے مسافروں کو مشورہ دیا کہ اللّٰہ واحد کو پکارا، تب ہی نجات مل سکے گی…
    یہ بات عکرمہ کے دل پہ لگی کہ اگر سمندر کی تُند ہواؤں میں نجات دینے والا اللّٰہ ہے تو خشکی کی مشکلات حل کرنے والا بھی وہی ہے…
    اور یہی بات تو محمد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بھی کہتے ہیں،چنانچہ مکہ واپس آ کر خدمتِ نبوی میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گئے تھے۔(رضی اللّٰہ عنہ)۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے مومن کی مثال بڑے خوب صورت انداز میں بیان فرمائی ہے کہ:
    "مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے،بے شک اس کے ہر معاملے میں اس کے لیئے خیر ہےاور یہ صرف مومن ہی کے لیئے ہے،اگر اسے خوشی پہنچے تو شکر اَدا کرتا ہے،جو اس کے لیئے خیر ہے اور اگر اُسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے،جو اس کے لیئے خیر ہے…”
    (صحیح مسلم)۔
    ہر حال میں اللّٰہ تعالٰی سے اُمید مومن کی صفت ہے،
    نعمتیں ملنے پر شکر…
    مصائب آنے پر صبر…
    لیکن کہیں بھی نا امیدی،اس کے ساتھ شرک اور شکوؤں کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی…
    اللّٰہ تعالٰی ہمیں بھی مومنین کی صفات سے متصف فرمائے آمین ثم آمین…!!!
    ہر راحت میں تو…
    گھبراہٹ میں تو…
    نہیں کوئی میرا…
    بس تیرے سوا…
    میں جاؤں کہاں۔…؟
    اے حقیقی الٰہ…!!!
    جب جب بھی پکارا…
    تو نے ہر کام سنوارا…
    ملی فطرت کو تسکین…
    اور جھکی یہ جبین…
    جھکی رہے یہ سدا…
    جب آئے بُلاوا ترا…
    تو راضی ہو مُجھ سے…
    مجھےمعرفت ہو تُجھ سے…!!!
    یہی تو ہے مقصدِ ایماں…
    یہی ہے بندگی کا ساماں…!!!
    ==============================

  • "مائیکروبرسٹ جو انسانوں کیلئے خطرناک ہے” کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    "مائیکروبرسٹ جو انسانوں کیلئے خطرناک ہے” کا قرآن مجید میں بیان: بقلم سلطان سکندر

    مائیکروبرسٹ جو ہوائی جہازوں کیلئے خطرناک ہے اور انسانوں کیلئے بھی۔

    آسمانی کتاب بائبل "four winds” کے بارے میں بیان کرتی ہے، جس کا مطلب ہے زمین کے چاروں کونوں سے ہوا کا چلنا ہے، یعنی ایک ہوا جب ساوتھ، ایسٹ، ویسٹ، نارتھ زمین کے چاروں کونوں سے چلتی ہے تو اسے فار ونڈز کہتے ہیں، اگرچہ یہ غلط ثابت ہوا لیکن بائبل دراصل زمینی سطح کی ہوا کے متعلق بات کر رہی ہے۔
    زمینی سطح کی ہوائیں زمین کی طرف پیرالل یعنی متوازن(برابر) حرکت کرتی ہیں۔ اس وقت کوئی بھی اس ہوا کے متوازن ٹکراو کو نہیں جانتا تھا جو زمین کو آ کر ٹکراتی ہیں۔ تاہم آج اس موسم کے مظاہر(ہوا، بادل، بارش، فوگ، مٹی کا طوفان وغیرہ) نے ہوابازی کی صنعت(جہاز بنانے والی انڈسٹریوں) کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔


    "مائیکروبرسٹ کا مطلب چھوٹے پیمانے پر ہوا کی رو کا نیچے کی طرف چلنا ہے جو مٹی کے طوفان یا مسلسل تیز بارش کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ مائیکرو برسٹ دو طرح کے ہوتے ہیں
    1:- ویٹ(گیلا) مائکروبرسٹ (بارش میں ہوا کی رو کا نیچے کی طرف آنا)
    2:- ڈرائی(خشک) مائیکروبرسٹ(مٹی کے طوفان میں ہوا کی رو کا نیچے کی طرف چلنا)
    یہ اپنے چکر میں تین حالتوں سے گزرتے ہیں، ڈاون برسٹ (ہوا کا نیچے کی طرف شدید جھکاو)، آوٹ برسٹ (پھاڑ دینے والا طوفان)، جھٹکے دار طوفان یعنی جس میں ہوا کے اچانک تیز جھونکے رونما ہوتے ہوں۔
    یہ مائیکروبرسٹ (ہوائی طوفان) خاص طور پر ہوائی جہاز کیلئے بہت خطرناک ہوتے ہیں، خاص طور پر جہاز کی لینڈنگ کے وقت جب ہوا کا جھونکا سامنے سے جہاز کو ٹکراتا ہے تو یہ اسکے لیے بہت مشکل اور خطرناک مرحلہ ہوتا ہے۔
    پچھلی کچھ دہائیوں سے ہوائی جہازوں کے کئی تاریخی حادثات موسم کے مظاہر کی وجہ سے ہی رونما ہوئے ہیں، جہاز کے عملے کی بڑے پیمانے پہ تربیت اسی بات پہ ہوتی ہے کہ موسم کے ان مظاہر یعنی مائیکروبرسٹ اور مشکلات میں ہوائی جہاز کو کیسے بہتر طریقے سے نکالا جا سکتا ہے۔

    مائیکروبرسٹ عام طور پر بہت ہی تیز اور شدید ہواؤں پہ مشتمل ہوتا ہے جو بڑے بڑے اونچے درختوں کو زمین پہ گرا دیتا ہے۔

    یہ عمل عام طور پر کچھ سیکنڈز سے کچھ منٹس تک جاری رہتا ہے۔”

    Reference:- Wikipedia, Microburst, 2018

    یہ شدید ڈاون کرافٹ(ہوا کی رو کا نیچے کی طرف آنا اور زمین کو ٹکرا کر پھیل جانا) زمین کو ٹکراتا ہے اور درختوں کو گرا دیتا ہے، یہ متعدد انسانی اموات کے ساتھ ہوا بازی(ہوائی جہازوں) کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ قرآن میں 1400 سال پہلے ہی یہ درج تھا،
    Quran 22:31

     (الحج 31)

    "خاص اللہ کے ہو کر رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں یا اسے ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے۔”

    "ہوا اڑا کر کسی دور جگہ پھینک دیتی ہے” یہاں پہ ہوا کی رو کا نیچے کی طرف آنے اور زمین سے ٹکرانے کی بات ہو رہی ہے یعنی ڈاون ڈرافٹ۔

    قرآن کے مطابق یہ ڈاون ڈرافٹ ہوا میں انسانوں کیلئے خطرہ ہے(ہوائی جہازوں کے کریش ہونے کی صورت میں)۔ اور آج ہم جانتے ہیں کہ مائیکروبرسٹ انسانوں کیلئے ہوا میں خطرے کا باعث ہے۔

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے یہ کیسے جان سکتا ہے کہ ایک ڈاون ڈرافٹ(ہوا کا دباو) بھی ہوتا ہے جو زمین سے ٹکراتا ہے اور تو اور ہوا میں بھی انسانوں کے خطرے کا باعث بنتا ہے جبکہ 1400 سال پہلے جہاز موجود ہی نہیں تھے؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • دنیا فانی ہے …!!!* *بقلم:جویریہ بتول

    دنیا فانی ہے …!!!* *بقلم:جویریہ بتول

    *دنیا کی ہر اک شئے…!!!*
    *[بقلم✍🏻:جویریہ بتول]۔*
    ہے باقی جو ذات وہ ہے بس اک الٰہ…
    دنیا کی ہر اک شئے کو ہے فنا …
    عروج والے، زوال والے …
    حقیقتوں کہ خیال والے …
    آ رہے ہیں کئی،اور کئی جا رہے …
    یہ شہرت و نام سب جو کما رہے…
    محبتوں کے سمندر میں ہیں جو…
    سدا جوش و ولولہ ہی پھیلاتے…
    اور نفرتوں کے اسیر ہیں جو…
    انسانیت کی ہیں دھجیاں اڑاتے…
    دائم رہے گا نہ یاں کوئی باقی…
    سمجھنے کو ہر روز یہ نقطہ ہے کافی…
    اک قافلہ خامشی سے ہے رواں…
    کوئی بہانہ ہے چلتا نہ آہ و فغاں…
    چپکے سے مٹی تلے ہیں جو سوئے…
    کیسے تھے گوہر،ہم نے جو کھوئے؟
    وہ چشمِ نم میں آنسو جھلملانے والے…
    وہ دل کی دُنیا میں اُتر جانے والے…
    وہ یادوں کا جو رہ جاتے ہیں خزینہ…
    وہ دعاؤں کی لڑی کا جو دُر ثمینہ…
    اس جہاں میں آنے کا مقصد ہے سمجھنا…
    کتابِ زندگی پہ وہ عمل ہے لکھنا…
    کہ آنے کا مقصد ہو نظر آتا حل…
    اب چل تو جب کہے آ کر اجل …
    واں ملیں اعزاز جب تو ہیں شاد کام …
    جہاں رہنا سدا، اور دائم ہے قیام…!!!
    ==============================

  • کشمیری نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ، فیصل اقبال کے نام تعظیمانہ پیغام   تحریر:عاقب شاہین میر

    کشمیری نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ، فیصل اقبال کے نام تعظیمانہ پیغام تحریر:عاقب شاہین میر

    کشمیری نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ، فیصل اقبال کے نام
    عاقب شاہین میر

    وادی کی مشہور و معروف شخصیت ، سابق ناظمِ اعلی اسلامی جمعیت طلبہ جموں و کشمیر کے فیصل اقبال کے نام عاقب شاہین کا تعظیمانہ پیغام۔۔۔۔۔۔

    یکم اپریل 1977 میں پیدا ہونے والی اس مایہ ناز ہستی کی تعلیمی قابلیت قابلِ فخر ہے ، انہوں نے بی ایڈ ، پی جی انگلش ، ایم فل ٹوریزم کے ساتھ ساتھ ہوٹل مینجمنٹ میں ڈپلومہ بھی کیا ۔۔۔ سید مودودی رحمہ اللہ کے مکاتبِ فکر سے گہری وابستگی رکھنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے دوسری جماعتوں کے مکاتبِ فکر سے بھی استفادہ کیا ۔۔۔۔ 2003 میں اُمیدوارِ اسلامی جمعیت طلبہ جموں و کشمیر رہے پھر 2004 سے 2005 تک رُکنِ اسلامی جمعیت طلبہ جموں و کشمیر منتخب ہو گئے ۔۔۔ 2007 میں ناظمِ تحصیل ترال کی حیثیت سے اپنا فریضہ سر انجام دیتے رہے پھر ناظمِ ضلع کے طور پر کام کیا اور آخر میں ناظمِ اعلی اسلامی جمعیت طلبہ جموں و کشمیر بن گئے ۔۔۔۔ اللہ رب العزت اِن کی حفاظت فرمائے ، اِن کی مسلسل کاوشوں کو قبول و منظور فرمائے اور انہیں دین کا زیادہ سے زیادہ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔۔ آمین یا رب

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    قلم اُٹھایا ، سوچا تھا لکھوں گا آپ کا اقبال فیصل
    میں احاطہ نہ کرسکا، آپ کی صفات تھیں لازوال فیصل

    آپ کی گفتگو نے ، اثر کر دیا ہے ہر دِل پر
    گُفتار دیکھا جو لاجواب، آپ کا کردار بھی ہے باکمال فیصل

    آپ کے ساتھ نے کیا خُوب فریضہ نبھایا رہبری کا
    مجھے سمجھ آ گئی سب دُنیا کی چال ڈھال فیصل

    دِل میں درد تھا ،آپ نے سبق سکھایا انسانیت کا
    صدق ووفا، خلوص کا پیکر آپ کا رہا ہر خدوخال فیصل

    لازم ہے ہم پر آپ کی تکریم، اے میرے اُستادِ عظیم
    آپ کا انداز ہے بے ریا ، آپ کی ہر ادا بے مثال فیصل

    آپ راضی رب سے ، رب راضی ہوا آپ سے
    نہیں کوئی اور مگر دیتے ہیں گواہی آپ کے اعمال فیصل