Baaghi TV

Category: اسلام

  • بقیتہ السلف شیخ الحدیث استاذ العلماء مصنف کتب کثیرہ۔حضرت مولانا رحمت اللہ ربانی   راقم : رانا محمد عثمان حقانی بن قاری احسان الحق حقانی رحمۃ اللہ علیہ

    بقیتہ السلف شیخ الحدیث استاذ العلماء مصنف کتب کثیرہ۔حضرت مولانا رحمت اللہ ربانی راقم : رانا محمد عثمان حقانی بن قاری احسان الحق حقانی رحمۃ اللہ علیہ

    بقیتہ السلف شیخ الحدیث استاذ العلماء مصنف کتب کثیرہ۔حضرت مولانا رحمت اللہ ربانی
    راقم : رانا محمد عثمان حقانی بن قاری احسان الحق حقانی رحمۃ اللہ علیہ

    دل بھر جاتا ہے آنکھیں نم ہو جاتی ہیں جب ان کے نام کے آگے رحمتہ اللہ علیہ لکھنا پڑتا ہے۔
    جب میری شادی ہوئی تو وہ ہمارے گھر تشریف فرما تھے کھانا کھانے کے بعد انہوں نے قمیص کے سامنے کا بٹن کھولا اندر ہاتھ داخل کیا اور کچھ پیسے نکال کر مجھے تھما دئیے میں ضبط نہ کر پایا اور آنکھوں سے اشک رواں ہو گئے میرے والد بزرگوار محترم قاری احسان الحق حقانی رحمۃ اللہ علیہ بھی پاس ہی موجود تھے ان سے آہستہ سے پوچھنے لگے یہ کیوں روتا ہے انہیں بات کا علم تھا فرمانے لگے اس کی بڑی خواہش تھی کہ میں اپنی بارات کے ساتھ اپنے دادا محترم عنایت اللہ خادم رحمۃ اللہ علیہ کو لے کر جاؤں گا آج وہ اس دنیا میں موجود نہیں یہ آپ کو اپنے دادا کے متبادل کے طور پر دیکھتا ہے ۔اس لئے رو دیا ۔
    پوری بات سن کر مولانا اٹھے مجھے تھپکی دی اور نم آنکھوں اور کانپتی آواز کے ساتھ فرمانے لگے
    پتر میں تیرا دادا ہی آں تے تیرا دادا تیری بارات نال صبح جائے گا۔ان شاءاللہ۔
    وقت گزرتا گیا اور پھر وہ کھڑی آن پہنچی جب ہمارے والد بزرگوار بھی اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے تب بہت سارے شفیق ہاتھوں کے درمیان وہ ہاتھ بھی میرے سر پر سایہ فگن ہوا جس ہاتھ کی شفقت سے ہم آج محروم ہو گئے ہیں۔جب بھی ملاقات کرتے بڑا حوصلہ بڑھاتے لمبی دعائیں دیا کرتے ۔ حال احوال پوچھتے نصیحتیں کرتے اور آخر میں اپنے لئے دعا کی درخواست ضرور کیا کرتے کم و بیش 12 سال مسلسل کمر کی تکلیف میں مبتلا رہے لیکن دعوت دین کا کام ہمیشہ اپنی زمہ داری سمجھتے تھے کوئی مسئلہ پوچھنے آتا تو جب تک اس کی تسلی نہ ہو جاتی اس کو حق بات سمجھاتے کبھی اکتاہٹ کا اظہار نہیں کرتے تھے ۔
    جمعہ کے دن میری خصوصی ڈیوٹی لگائی کہ جمعہ کی آذان تم نے کہنی ہے کبھی لیٹ ہوتا اور کوئی دوسرا جمعہ کی آذان کہ دیتا تو جمعہ کے بعد بلا کر کہا کرتے
    2منٹ پہلے آ جایا کر پتر ۔
    جب آنکھیں بند کرکے کوئی مسئلہ شروع کرتے منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بیٹھے ہوئے تو یوں محسوس ہوتا کہ ان کے اندر علم کا ٹھاٹھیں مارتا کوئی سمندر ہے جو ابلنے کو بے قرار ہے پھر وہ دنیا وما فیہا سے بے پرواہ ہو کر اس مسئلہ پر بڑی ضخیم علمی گفتگو فرمایا کرتے اور عالم یہ ہوتا تھا کہ میرے بزرگوار چچا محترم مشتاق احمد شیرانی حفظہ اللہ تعالیٰ مجھے اشارہ کرتے کہ جمعہ کا ٹائم اوپر ہو گیا ہے مولانا کو بتاؤ پھر میں بڑی ہمت جمع کرتے ہوئے جب ان کے پاؤں کو ہاتھ لگاتا تو وہ جیسے چونک کر کھڑی کی طرف دیکھتے اور سمجھ جاتے کہ ٹائم زیادہ ہو گیا ہے ۔اور نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے اندر ابلنے والے علم کے بحر بے قراں کو قابو کرتے ہوئے اپنی بات کا اختتام کر دیتے ۔
    ان کی زندگی جہد مسلسل تھی دین کیلئے ان کی کوششیں کاوشیں بے مثال تھیں ان کے زندگی کے جس بھی پہلو پر لکھنا شروع کروں تو اپنے آپ میں پوری کتاب ثابت ہو
    میں کسی کام سے لاہور سے باہر تھا جب چھوٹے بھائی حافظ ذیشان کا فون آیا
    مولانا رحمت اللہ ربانی
    فی ذمۃ اللہ۔
    سننے کے بعد میں بہت دکھی ہوا ۔
    جمعہ والے دن جمعہ سے پہلے ان کا جنازہ جب اٹھا تو ہر آنکھ اشک بار تھی ۔
    الشیخ مولانا امیر حمزہ حفظ اللہ نے انکا جنازہ پڑھایا میں نے ان کے ساتھ کھڑے ہو کر جنازہ پڑھا(جگہ کی کم یابی کی بنا پر)عجیب منظر تھا جنازگاہ باوجود لاک ڈاؤن کے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی اور دوران جنازہ مولانا امیر حمزہ صاحب سمیت سب کی ہچکی بندھی ہوئی تھی اشک رواں تھے اس عظیم انسان کے لیے رب تعالیٰ کی طرف ہاتھ باندھے دعائیں مانگتے جا رہے تھے اور روتے جا رہے تھے ۔
    انکو لحد میں انکے بڑے صاحبزادے اور میرے پھوپھا محترم طاہر ربانی صاحب ۔
    چھوٹے صاحبزادے مولانا طیب مسعود ربانی اور راقم نے خود اتارا ۔
    میں نے تب جی بھر کر اپنے بزرگ مولانا رحمت اللہ ربانی رحمۃ اللہ علیہ۔
    کی طرف دیکھا کہ یہ چہرہ اب دوبارہ نظر نہیں آئے گا اور ان کی لحد کو بند کر دیا ۔
    اللہ پاک مولانا رحمت اللہ ربانی کی مغفرت فرمائے ۔
    انکے درجات بلند فرمائے۔
    انکی قبر کو تاحد نگاہ وسیع فرمائے۔ انکی قبر کو جنت کے باغوں میں سے باغ بنائے۔
    انکی نیکیوں کو قبول فرمائے اور اس اضافہ فرمائے۔
    انکی غلطیوں کوتاہیوں کو درگزر فرمائے اور انہیں نیکیوں میں تبدیل فرمائے ۔
    انہیں اعلی علیین میں انبیاء اتقیاء شہداء صلحاء اولیاء کے درمیان جگہ عطاء فرمائے۔
    سارا دن وہ جنت سے اپنا رزق کھائیں اور رات کو عرش الٰہی تلے لٹکتی قندیلوں میں آرام کریں۔

    پیارے بابا جان، "شیخ الحدیث مولانا رحمت اللہ ربانی” کی حیات کے چند پہلو از قلم:مسز ناصر ہاشمی (بنت ربانی )

  • قرآن مجید میں زلزلے کا بیان   بقلم سلطان سکندر

    قرآن مجید میں زلزلے کا بیان بقلم سلطان سکندر

    قرآن مجید میں زلزلے کا بیان

    زمین کا اپنی موجودہ جگہ سے اچانک ہِل جانا، زلزلہ کہلاتا ہے۔

    زلزلے زمین کی تھرتھراہٹ کو کہتے ہیں جو زمین کی اپنی جگہ سے اچانک ہلنے کے سبب آتے ہیں. یہ بات حال ہی میں معلوم ہوئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے قرآن میں کہا گیا,

    Quran 67:16
    اَاَمِنْتُـمْ مَّنْ فِى السَّمَآءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِىَ تَمُوْرُ (الملک 16#)

    "کیا تم اس سے ڈرتے نہیں جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے پس جب اچانک وہ تھرتھراہنے لگے۔”

    یَخْسِفَ کا عربی مطلب زمین میں دھنسا دینا اور زمین کو اسکی اپنی جگہ یا مقام سے اچانک ہِلا دینا, جبکہ تَمُوْر کا مطلب تھرتھراہٹ ہے, یہاں پہ زمین کا اپنی جگہ سے اچانک ہلنا تھرتھراہٹ کا سبب بنتا ہے.

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ زمین کا اپنی جگہ سے اچانک ہِلنا تھرتھراہٹ کا سبب بنتا ہے؟؟؟

    اصل میں زلزلے دو قسم کے ہوتے ہیں,
    1:- مین شاک
    2:- آفٹر شاک

    مین شاک وہ پہلا زلزلہ ہوتا ہے جو اپنی پوری طاقت سے آتا ہے اور سب کچھ تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا ہے, زلزلے کی زیادہ تر انرجی اسی مین شاک میں ضائع ہو جاتی ہے,
    اور باقی ماندہ انرجی آفٹر شاکس کی صورت میں ضائع ہوتی ہے جنہیں ہم زلزلے کے جھٹکے بھی کہتے ہیں.
    قرآن نے ان دونوں کی وضاحت کی ہے.

    Quran 79: 6-7

    يَوْمَ تَـرْجُفُ الرَّاجِفَةُ (6)

    جس دن تھرتھراہنے والی(زمین) تھرتھراہے گی۔

    تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ (7)

    اس کے پیچھے آنے والی(تھرتھراہٹ جھٹکوں کی صورت میں) پیچھے آئے گی۔

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ آفٹر شاکس مین شاکس کے پیچھے پیچھے آتے ہیں؟؟؟؟


    بقلم سلطان سکندر!!!

  • قرآن مجید میں موتیے کی بیماری کا بیان  بقلم سلطان سکندر!!!

    قرآن مجید میں موتیے کی بیماری کا بیان بقلم سلطان سکندر!!!

    قرآن مجید میں موتیے کی بیماری کا بیان۔

    Cataracts(موتیے کی بیماری)
    دماغی تناو سے مماثلت رکھتی ہے.

    کیٹاریکٹس(موتیےبند کی بیماری) کا مطلب آنکھوں کا دھندلاپن ہے.

    Reference:- Wikipedia, Cataract, 2019
    "کیٹاریکٹ آنکھ کے ڈیلے کا دھندلا جانا ہے جو نظر میں کمی کا باعث بنتا ہے. کیٹاریکٹ کی بیماری آہستگی سے بڑھتی ہے اور ایک یا دونوں آنکھوں پہ اثرانداز ہوسکتی ہے. اس بیماری کی نشانیوں میں دھندلا رنگ, دھندلاپن (بلَر) یا ڈبل وِژن(یعنی ایک چیز کا دو دو دفع نظر آنا), روشنی کے اردگرد ہالوز کا نظر آنا(جیسا کہ کمنٹ میں گاڑی کی ہیڈ لائٹس کو دیکھا جا سکتا ہے), تیز لائیٹ دیکھنے میں دقت ہونا اور رات کو دیکھنے میں دقت ہونا شامل ہے. اس میں ڈرائیونگ کرنے میں, کتاب پڑھنے میں اور چہرے پہچاننے میں بھی دقت ہونا شامل ہے. کیٹاریکٹ کی وجہ سے نظر میں کمی گرنے کے رجحان اور تناو کے رجحان کے بڑھنے کا بھی سبب بن سکتی ہے.”

    بڑی عمر کے بالغ یعنی بزرگوں میں کیٹاریکٹ کی بیماری تناو کے ساتھ بھی مماثلت رکھتی ہے.

    Reference:- Vesan Health, Cataracts In Older Adults Linked To Depression, 2017
    "نئ سائنسی تعلیم کے مطابق جو آپٹومیٹری اینڈ وِژن سائنس کی طرف سے ایک جریدے میں شائع ہوئی ہے کہ
    بڑی عمر کے بالغ یعنی بزرگوں میں کیٹاریکٹس کی بیماری تناو کی بیماری کی نشانیوں سے مماثلت رکھتی ہے. پوری دنیا میں, کیٹاریکٹ(موتیے) کی بیماری نظر کم کرنے میں پہلے نمبر پہ ہے. مایو کلینِک کے مطابق, تقریباً آدھے امریکیوں کو ساٹھ سال کی عمر میں جا کر کچھ ڈگری کا موتیابند(کیٹاریکٹس) ہوجاتا ہے. تناو, جس سے ہر عمر کے لوگوں کا واسطہ پڑتا ہے, عموماً بڑی عمر کے بالغ لوگوں میں یہ کچھ زیادہ ہی پایا جانے لگا ہے.”

    یعنی بڑی عمر کے لوگوں یعنی بزرگوں میں موتیےبند کی بیماری تناو کی بیماری سے بھی مماثلت رکھتی ہے.
    لیکن اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے قرآن میں یہ بات کہہ دی گئی تھی,
    یوسف علیہ کے واقعے میں, انکے والد کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں جبکہ وہ تناو کا شکار تھے.

    Quran: 12:84
    وَتَوَلّـٰى عَنْـهُـمْ وَقَالَ يَآ اَسَفٰى عَلٰى يُوْسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْـمٌ (یوسف 84#)

    اور اس نے ان سے منہ پھیر لیا اور کہا ہائے یوسف! اور غم سے اس کی آنکھیں سفید ہوگئیں(موتیےبند کا شکار ہوگئیں, نظر چلی گئی) جب وہ سخت غمگین(تناو کا شکار) ہوا۔

    جب انکی آنکھیں موتیےبند کا شکار ہوئی تھیں تو وہ تب کافی بوڑھے تھے.
    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے کیسے جان سکتا ہے کہ بڑھاپے میں موتیےپن(کیٹاریکٹس) کی بیماری کا تعلق تناو کی بیماری سے بھی ہے؟؟؟؟؟؟

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • تحفظ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پنجاب اسمبلی کا تاریخی کردار  تحریر:پیر فاروق بہاوالحق شاہ

    تحفظ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پنجاب اسمبلی کا تاریخی کردار تحریر:پیر فاروق بہاوالحق شاہ

    تحفظ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پنجاب اسمبلی کا تاریخی کردار۔
    تحریر۔پیر فاروق بہاوالحق شاہ۔
    عقیدہ ختم نبوت ایک ایسا متفق علیہ قانون اور عقیدہ ہے جس پر امت مسلمہ کے تمام مکاتب فکر کا کامل اتفاق ہے۔مرزا قادیانی کے جھوٹے دعویٰ نبوت کے بعد امت مسلمہ نے جس طرح اس کی گرفت کی اور علماء نے جس طرح اس کا تعاقب کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ مرزا قادیانی انگریز کا خود کاشتہ پودا تھا جو اس نے مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنے کے لیے لگایا تھا۔لیکن اس کا یہ وار اس لیے ناکام گیا کہ بلاتفریق مسلک علمائے کرام ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے اور انہوں نے ہر محاذ پر اس کو شکست فاش دی 1953 کی تحریک ختم نبوت میں حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی اور مولانا مودودی کو سزائے موت سنائی گئی۔کئ دیگر علمائے کرام بھی پابند سلاسل رہے۔1974 کی تحریک ختم نبوت میں علماء اور عوام نے مل کر ایسا کردار ادا کیا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔۔1974 کی تحریک ختم نبوت میں شیخ الاسلام خواجہ قمر الدین سیالوی ،مفتی محمود احمد رضوی،ضیاء الامت حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری،مولانا منظور احمد چنیوٹی،مولانا اللہ وسایا،شورش کاشمیری ،چوہدری ظہور الٰہی جیسے اکابر علماء صف اول میں شامل تھے۔ختم نبوت کے تحفظ کے لیے لیے علماء و مشائخ اور عوام نے اپنے جان و مال کی قربانی پیش کی۔ایوانوں سے باہر پاکستان کے گلی کوچوں میں ختم نبوت کے شیدائیوں نے اپنے خون سے وطن عزیز کی گلیوں کو رنگ دیا۔۔عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے صرف علما ہی میدان میں نہیں تھے بلکہ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ اور ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد نے اپنے اپنے طور پر اپنا کردار ادا کیا۔ جس طبقے کو جو کردار سونپا گیا تھا وہ انہوں نے بخوبی سرانجام دیا۔ملک کے اہل قلم نے قلم کے ذریعے اس کا تعاقب کیا۔شعراء نے نظمیں کہیں،۔لکھاریوں نے کتب لکھیں۔عوام نے اپنا جان مال مال اور وقت سب کچھ قربان کیا اسی طرح ملک کے سیاست دانوں نے بھی اس نے میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔۔بلکہ اگر یہ کہا جائے تو تاریخی طور پر غلط نہ ہوگا کہ قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ملک کے سیاستدانوں نے ہی ٹھونکی اور پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر ان کو کافر قرار دے کر تاریخ میں اپنا نام محفوظ کروا دیا۔یوں تو ان خوش بخت سیاستدانوں کی فہرست بہت طویل ہے لیکن اس وقت قومی اسمبلی میں جن لوگوں نے اس مسئلہ میں را ہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا ان میں مولانا شاہ احمد نورانی،مولانا مفتی محمود،خان عبدالولی خان،چوہدری ظہور الہی،پروفیسر غفور احمد،نمایاں تھےجبکہ ذوالفقار علی بھٹو کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ انہوں نے اپنے دستخط سے اس ترمیم کو دستور پاکستان کا حصہ بنایا۔
    ایں سعادت بزور بازو نیست
    قادیانی لابی کے اثر کو محسوس کرتے ہوے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ میں نے اپنی موت کے پروانے پر دستخط کیے ہیں۔۔پاکستان کی قومی اسمبلی کی طرف سے قادیانیوں کو کافر قرار دینے کے بعد قادیانیوں کی سرگرمیوں پر قانونی طور پر پابندی عائد کی گئی۔انہوں نے پاکستان کی مختلف عدالتوں میں جا کر اپنا موقف بیان کیا۔جس طرح قومی اسمبلی میں قادیانیوں کا موقف بڑے تحمل کے ساتھ سنا گیا تھا اور قادیانیوں نے کئ دن تک مسلسل اپنے عقائد بیان کیے تھے اسی طرح پاکستان کی ہر سطح کی عدالتوں میں ان کے وکلا نے بڑی شرح و بسط کے ساتھ اپنا موقف بیان کیا۔پاکستان ہر عدالت نے ان کے موقف کو غلط قرار دیتے ہوئے قومی اسمبلی میں بنائے گئے قانون کی توثیق کی اور جو پابندیاں ان پر لاگو کی گئی تھیں ان کو بحال رکھا۔
    پاکستان سے مایوس ہونے کے بعد قادیانیوں نے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کوبدنام کرنے کی کوشش شروع کی۔ان کی اس کوشش کو ناکام بنانے کا سہرا بھی ہمارے بزرگوں کے سر رہا۔جنیوا میں ہونے والے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں ضیاء الامت حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری جو اس وقت سپریم کورٹ کے جج بھی تھے وہ جنیوا شریف لے گئے اور اس بین الاقوامی فورم پر قادیانیوں کے جھوٹ کا پول کھولا۔ان کے موقف کو جھوٹا ثابت کیا۔ان کو غیر مسلم قرار دینے کی منتطقی وجوہات پیش کیں اور پاکستان کے موقف کو فتح سے ہمکنار کیا۔ ویسے۔سارے عمل کی تفصیل قبل ازیں ہم الگ کالم میں بیان کر چکے ہیں جو روزنامہ نوائے وقت میں ہی شائع ہوا تھا۔مختلف ادوار میں قادیانیوں نے اپنی تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا لیکن عوامی سطح پر ان کو کبھی پذیرائی نہیں ملی۔ہمیں اس حقیقت کا اعتراف کرنا ہوگا کہ ملک کے کئی کلیدی عہدوں پر ان کے حمایت یافتہ افراد پہنچے اور قادیانیوں کے مفادات کا تحفظ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بھی قادیانیوں کو تحفظ دینے کی کوشش کی گئی تو مسلمانان پاکستان نے جذبہ ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی ہر کوشش کو ناکام بنایا۔
    2018 کہ انتخابات کے بعد پاکستان میں قادیانیوں کی سرگرمیوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو گیا۔۔یہ تاثر پایا جانے لگا فیصلہ ساز اداروں میں ان کا اثر نفوذ بڑھ رہا ہے۔اور اہم عہدوں پر قادیانیوں کی تعیناتی کی جارہی ہے۔وفاقی حکومت کی طرف سے کوئی واضح موقف نہ آنے کے باعث شبہات کی فضا مزید گہری ہو گئی۔ان حالات میں اقلیتی کمیشن کا معاملہ اٹھا۔اور بڑی چابکدستی سے قادیانیوں کو اس کمیشن کا رکن بنانے کی کوشش کی گئی۔خبروں کے بروقت لیگ ہوجانے کے باعث بے پناہ عوامی رد عمل سامنے آیا اس کی وجہ سے اس لابی کی یہ کوشش ناکام ہوگئی۔لیکن شکوک و شبہات کی فضا قائم رہی۔وفاقی وزیر مذہبی امور کی باربار وضاحت کے بعد ایک گونہ اطمینان نصیب ہوا۔وزیر اعظم پاکستان نے بھی اپنے ایک پیغام میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ختم نبوت پر کامل یقین رکھتے ہیں اور کسی ایسی سرگرمی کی پشت پناہی نہیں کی جائے گی جو قادیانیت کی تقویت دینے کا باعث بنے ۔
    موجودہ حکومت کی سیاسی ہیئت ترکیبی میں مسلم لیگ ق کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔پنجاب میں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سب سے تجربہ کار سیاستدان چوہدری پرویز الہٰی بطور سپیکر پنجاب اسمبلی کام کر رہے ہیں۔قانون ختم نبوت کے ساتھ ساتھ چوھدری ظہورالہی فیملی کا ایک خاص تعلق بھی ہے۔چنانچہ ایک مرتبہ پھر پاکستان کے تمام سیاستدانوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا کرتے ہوئے چوہدری پرویز الہی نے ایک اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔یقینا اس فیصلے میں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی مکمل رضامندی اور تائید شامل تھی۔مئ 2020 میں ہونے والے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پنجاب کی حکومت کے وزیر اور چوہدری برادران کے قریبی ساتھی حافظ عمار یاسر نے یہ سعادت حاصل کی اور انہوں نے حضور خاتم النبیین کی عظمت و شان کے تحفظ کے لیے پنجاب اسمبلی میں قرارداد پیش کی۔قرارداد پیش کرنے سے پہلے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر ہماری جان بھی قربان ہے۔جب تک قادیانی اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم نہیں کرتے تب تک ان کو اقلیت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔پنجاب کے وزیر معدنیات کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے،اے مسلمانو،حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی مرد کے باپ نہیں مگر وہ اللہ کے رسول ہیں۔اور خاتم النبیین ہیں۔قرآن میں واضح طور پر بیان ہوگیا کہ نبوت کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہے۔اب کسی اور نبوت کے اجراء کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد میں جامع ترمذی اور سنن ابی داود میں حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ایک اور روایت بھی بیان کی گئی جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امت میں سے 30 افراد ایسے اٹھیں گے جو کذاب یعنی جھوٹے ہوں گے ان میں سے ہر شخص اپنے بارے میں یہ گمان کرتا ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔قرار داد میں مزید کہا گیا گیا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور فضیلت کا پہلو اس اعتبار سے کہ نبوت آپ پر کامل ہو گئی ہے رسالت کی آپ پر تکمیل ہوگئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم قرآن و حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ضمن میں خاص طور پر تکمیل اکمل جیسے الفاظ بکثرت استعمال ہوئے۔قرارداد میں وفاقی کابینہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ ایوان وفاقی کابینہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جنہوں نے قادیانیوں کو اس بنا پر اقلیتی کمیشن میں شامل نہیں کیا ۔قادیانی نہ آئین پاکستان کو مانتے ہیں نہ اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرتے ہیں۔یہ ایوان اعادہ کرتا ہے کہ آئے روز ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا کردیا جاتا ہے۔کبھی حج فارم میں تبدیلی کر دی جاتی ہے کبھی کتب میں سے خاتم النبیین کا لفظ نکال دیا جاتا ہے لیکن آج تک ان سازشیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔پاکستان ایک اسلامی ملک ہے لیکن ہمیں تحفظ ناموس رسالت کی بھیک مانگنی پڑتی ہے۔یہ ہم سب کے لیے شرم کا مقام ہے۔یہ ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔
    قرار داد میں مزید کہا گیا کہ جو لوگ ان سازشوں میں ملوث ہیں ان کو بے نقاب کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے۔۔اقلیتی کمیشن میں ہندو سکھ اور مسیحی بیٹھے ہیں ، ہم نے کبھی ان پر اعتراض نہیں کیا کیونکہ وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے ۔ ہم اقلیتوں کو آئین میں دیئے گئے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ اگر قادیانیوں کا سربراہ یہ لکھ کر بھیج دے کہ وہ آئین پاکستان کو مانتے ہیں اور اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کرتے ہیں تو ہمیں ان کے کمشن میں بیٹھنے پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔قرارداد کے متن میں مزید کہا گیا کہ ختم نبوت کا معاملہ ہمارے لیے ریڈ لائن ہے۔تحفظ ختم نبوت،تحفظ ناموس رسالت،تحفظ ناموس اصحاب رسول،تحفظ ناموس اہل بیت اطہار،اور تحفظ ناموس امہات المومنین رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بڑھ کر ہمارے لئے کوئی چیز نہیں۔اس پر کسی کو ابہام نہیں ہونا چاہیے۔۔
    یہ قرارداد موجودہ پنجاب حکومت اور پنجاب اسمبلی کے ماتھے کا جھومر ہے۔اس کی منظوری پر پنجاب اسمبلی میں قائد ایوان عثمان بزدار اور اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف مبارکباد کے مستحق ہیں۔یہ وہ سعادت ہے جو ان کے لیے دنیا اور آخرت کی کامرانی کا باعث بنے گی۔۔اس سارے عمل کے پس منظر میں میرے دوست ، چوہدری راسخ الہی کا بھر پور کردار رہا۔جن کا دل محبت رسول کے جزبے سے معمور ہے۔انکے خاموش لیکن موثر کردار نے اس قرارداد کی تیاری اور منظوری میں بنیادی کردار ادا کیا۔عثمان بزدار کی حکومت بجا طور پر اس کارنامہ پر فخر کر سکے گی۔سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے اپنے طرز عمل سے ثابت کیا کہ وہ نہ صرف ایک پرعزم،جہاندیدہ سیاستدان ہیں بلکہ وہ اپنے سینے میں محبت رسول سے بھرپور ایک دل بھی رکھتے ہیں۔ان دنوں ان کے بیانات اور تقاریر ان کے درد دل کی نشاندہی کرتے ہیں۔گستاخانہ مواد پر مبنی کتب کی پابندی بھی چوہدری پرویز الہی اور پنجاب حکومت کا اہم کارنامہ ہے.پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیرمین راے منظور ناصر راسخ العقیدہ مسلمان اور درد دل رکھنے والے انسان ہیں۔انکی موجودگی بھی موجودہ نظام کیلیے خوش آئند ہے۔بے یقینی،مایوسی،نالائقی،بے حکمتی کہ اس ماحول میں صوبہ پنجاب کی طرف سے یہ اقدامات ٹھندی ہوا کی مانند ہیں۔پنجاب حکومت اور پنجاب اسمبلی کے یہ اقدامات تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ایسے ہی اقدامات مرکز میں بھی ہونے چاہیں۔اسی نوعیت کی قرارداد سندھ اسمبلی سے بھی منظور ہوی ہے جو کہ خوش آئند ہے۔یہ اقدامات عوام کے جذبات کی حقیقی ترجمانی کرتے ہیں۔۔-

  • حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا دور بنو امیہ کا بہترین اور اسلام کا سنہری دور   تحریر:عاشق علی بخاری

    حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا دور بنو امیہ کا بہترین اور اسلام کا سنہری دور تحریر:عاشق علی بخاری

    میں نانا جیسا بنوں گا!!!
    تحریر:
    عاشق علی بخاری

    تاریخ میں جسے بھی بڑا کردار ادا کرنا ہو اس کی تعلیم و تربیت بھی اسی قدر سخت ہوتی ہے اللہ تعالی کو ہی معلوم ہوتا ہے کہ کب کس نے اور کس وقت تاریخ کے رخ کو تبدیل کرے گا اور وہی یہ سارا انتظام کرتا ہے. جب عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے والد مصر کے گورنر مقرر ہوئے تو انہوں نے اپنی بیوی کو خط لکھا کہ بیٹے کو لے کر مصر آجاؤ. عمر رحمہ اللہ کی والدہ ام عاصم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں تاکہ ان سے مشورہ کریں. انہوں نے کہا بالکل تمہیں جانا چاہیے وہ تمہارا شوہر ہے لیکن عمر کو یہیں چھوڑ جاؤ یہ تم میں ہم سب سے زیادہ مشابہ ہے. تاکہ مدینہ جو علم کا گھر ہے یہاں رہ کر تمہارے بچے کی بہتر تربیت ہو سکے گی لہذا اسے ہمارے پاس چھوڑ جاؤ. خود ابن عمر رضی اللہ عنہ خود وقت کے محدث اور صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں. بچپن میں جب عمر رحمہ اللہ پڑھ کر آتے تو اپنی والدہ سے کہتے "میں نانا جیسا بنوں گا” والدہ بھی ان سے مذاق کرتی اور حیران ہوتیں. تقدیر انسان کو ہمیشہ اس راستے پر چلاتی رہتی ہے جہاں اس کی منزل ہوتی ہے، آپ اپنے نانا جیسا بننا چاہتے تھے لیکن اللہ رب العالمین نے آپ کو اپنے پڑنانا عمر بن خطاب رحمہ اللہ جیسا بنا دیا یہی وجہ آج آپ کو لوگ عمر ثانی کے نام سے یاد کرتے ہیں.
    جن اساتذہ سے علم حاصل کیا ان میں سے ہر ایک علم کا سمندر ہے، انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ، ابو بکر بن عبد الرحمن بن ابو بکر، آپ کے استاذ خاص صالح بن کیسان اور عبید اللہ بن عتبۃ بن مسعود رحمہ اللہ ہیں. آپ کے والد عبدالعزیز بن مروان بھی اپنے پیارے بیٹے کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ رہتی تھی. صالح بن کیسان رحمہ اللہ سے خط و کتابت اور جب کبھی مدینہ آتے یا راستے سے گزر رہے ہوتے ان سے اپنے بیٹے کی تعلیم کے متعلق سوال و جواب کرتے، جہاں کمی نظر آتی وہاں سختی کا حکم دیتے. آپ کے اساتذہ بھی آپ پر خاص توجہ دیتے سعید بن مسیب رحمہ اللہ خلیفہ وقت کے لئے بھی کھڑے نہ ہوتے لیکن جب اپنے شاگرد کا بلاوا آتا تو ضرور جاتے. اللہ تعالی نے آپ کو یہ شرف بخشا کہ آپ نے بچپن میں ہی قرآن مجید حفظ کیا، اس کے ساتھ ساتھ عربی ادب، شعر و شاعری پر بھی عبور حاصل کیا. احادیث کا بھی علم حاصل کیا اگرچہ آپ نے احادیث صحابہ کرام اور تابعین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے حاصل کی لیکن زیادہ تر فقیہ و مفتی مدینہ عبید اللہ بن عتبۃ بن مسعود رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں. آپ کی تعلیم اور اساتذہ کی تربیت کا خاص نتیجہ تھا کہ لڑکپن میں ہی قرآن پڑھ کر زار و قطار روتے. اپنے اساتذہ کا ادب اور ان جیسے اخلاق اپنانے کی کوشش کرتے اور اپنے ساتھیوں میں انہیں یاد کرتے اور کہتے استاد محترم عبیداللہ کی مجلس میں بیٹھنا 1000 درہم سے بہتر ہے. گورنر مدینہ بننے کے بعد بھی اپنے اساتذہ کی مجلس میں آتے. حتی کہ جب آپ خلیفہ بن گئے اس وقت بھی اپنے اساتذہ کو نہیں بھولے اور جب کبھی کوئی مشکل پیش آتی تو اپنے اساتذہ کو یاد کرتے کہ اگر آج میرے استاد و مربی عبیداللہ رحمہ اللہ زندہ ہوتے تو میں ان کی رائے کو مقدم رکھتا. یہی وجہ ہے کہ ان مختصر ترین دور بھی بنی امیہ کا بہترین اور اسلام کا سنہرا دور کہلاتا ہے.
    ہم اگر چاہتے ہیں کہ ہماری دنیا و آخرت بہتر ہو. اپنے بچوں دین کی تعلیم ضرور دیں اس لیے کہ یہ علم دنیا و آخرت میں رب کی رضا کا باعث ہے.

  • پیارے بابا جان، "شیخ الحدیث مولانا رحمت اللہ ربانی” کی حیات کے چند پہلو  از قلم:مسز ناصر ہاشمی (بنت ربانی )

    پیارے بابا جان، "شیخ الحدیث مولانا رحمت اللہ ربانی” کی حیات کے چند پہلو از قلم:مسز ناصر ہاشمی (بنت ربانی )

    پیارے بابا جان، "شیخ الحدیث مولانا رحمت اللہ ربانی”
    از قلم:مسز ناصر ہاشمی (بنت ربانی )

    کون جانتا تھا؟؟؟
    انڈیا کے گاؤں انبالہ سے اپنی بیوہ ماں کی انگلی پکڑ کر آنے والا یتیم بچہ اگلے وقتوں میں دعوت دین کا داعی بنے گا۔اور ہر جا توحید وسنت کا پرچار کرے گا۔
    میری نظریں اس نیک صفت انسان کو ڈھونڈتی ہیں جس کے بارے میں ابا جان کہتے تھے کہ اس رحم دل انسان نے مجھے لاوارث اور بے سہارا سمجھ کر ایک مدرسہ میں داخل کروا دیا اور یوں سات سال کی عمر میں ہی آپ ایک اعلی مشن پر گامزن ہو گئے ۔اور پھر "ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات” کے مصداق بچپن سے ہی اپنے خاندان سے کہیں مختلف ،جاہلانہ خرافات سے بہت دور عالمانہ ذہنیت کے حامل بن گئے ۔
    پھر۔۔۔۔۔۔۔چل سو چل علم کا سلسلہ شروع ہوا۔ بہت سے علماء بلخصوص احسان الہی ظہیر شہید اور پروفیسر حافظ سعید آپ کے ہم جماعت اور ہم عصر رہے ۔
    میرے بابا جان کے پاس ایک درجن سے زائد علم و ادب کی اسناد موجود تھیں۔ حرمین شریفین میں بھی معلم رہے۔ مزید یہ کی مختلف مساجد میں امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دیئے۔گورنمنٹ سکول میں عربی کے استاد رہے۔ اپنی زندگی میں دو مساجد تعمیر کیں اور ان کی تعمیر میں بھرپور حصہ لیا بلکہ دن رات ایک کر دیا۔
    آپ ایک مثالی باپ،دعوت حق کے داعی، با عمل عالم ،مفتی شفیق استاد ،ادیب اور شاعر بھی تھے۔آپ نے بہت سی نظمیں اور کم وبیش پندرو کتابیں تصنیف کیں۔
    میرے سسر محمد بشیر ھاشمی اللہ پاک ان کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے 1983 میں فوج سے ریٹائر ہو کر مسجد بلال کے پاس گھر لے لیا اور مولانا ربانی صاحب سے قرآن کی تعلیم حاصل کرنے لگے تو پھر دنیا چھوڑ کر ان کے ہی ہو گئے۔مجھے اکثر کہتے تمھارے والد نے مجھے بتایا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے۔انہوں نے میری اصلاح کی۔
    ایک مثال تو میرے گھر میں موجود تھی اور اس طرح کی سینکڑوں مثالیں ملک بھر میں پھیلی ہوئ ہیں۔ایسے لوگ دنیا میں بھت کم پیدا ہوتے ہیں۔
    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
    اللہ ایسے بندوں کو ضائع نہیں کرتا جو اس کا نام بلند کرنے کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دیتے ہیں۔ وہ انہیں لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھتا ہے۔اسی لئے تو۔۔۔۔۔
    جب میرے عظیم بابا۔۔۔۔۔
    4 جون 2020 کو ہم سے جدا ہو کر سفر آخرت پر روانہ ہوئے
    تو۔۔۔۔آگے آگے مسافر کی بارات تھی
    پیچھے پیچھے زمانہ تھا روتا
    چلا
    اک شورش ہی گھر سے اکیلا
    چلا
    شہر کا شہر جیسے روانہ ہوا
    میرے پیارے بابا جان!!!
    ہم آپ کو روک نہیں سکے کیونکہ جو دنیا میں آیا اس نے اس دارفانی سے جانا ہی ہے۔
    لیکن یہ سوچ کر دل غم سے بھر جاتا ہے کہ اب وہ ہاتھ کبھی نظر نہیں آئیں گے جو حق بات کو ثابت کرنے کے لئے سٹیج پر لہراتے تھے ۔
    ان قدموں کی چاپ کبھی سنائ نہ دے گی جو دعوت دین پھیلانے کے لئے اٹھا کرتے تھے۔
    وہ آواز کبھی سنائ نہ دے گی جس میں اطعیواللہ و اطعیو الرسول کی گونج سنائ دیتی تھی
    وہ آنکھیں کہاں گم ہو گئیں جو اپنی پیاری بیٹی کی راہ تکتی تھیں
    وہ آہیں وہ سسکیاں وہ ہاتھ جو وقت تہجد ہمارے لیے اٹھا کرتے تھے……سب ختم ہو گیا
    خاک مرقد پر میں لے کر
    تیری یہ فریاد آؤں گی
    دعاء نیم شب میں میں کس
    کو یاد آؤں گی
    توحید وسنت کا یہ باب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا۔لیکن ہمارے لیے دین اسلام کی بہت سی راہیں ہموار کر گیا۔
    اللہ تعالی میرے والد کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے۔ان کے صغیرہ و کبیرہ گناہوں کو معاف کرے اور ان کی اولاد اور ان کے تلامزہ کو ان کے لئے صدقہ جاریہ بنائے( آمین )
    آسمان تیری لحد پہ شبنم
    افشانی کرے
    سبزہ نور ستہ اس گھر کی
    نگھبانی کرے

  • "جان ہے تو جہان ہے”   تحریر: اسد اللہ ، فیصل آباد

    "جان ہے تو جہان ہے” تحریر: اسد اللہ ، فیصل آباد

    "جان ہے تو جہان ہے”
    اسد اللہ ، فیصل آباد

    یہ ضرب المثل ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں لیکن اس کا حقیقی معنی صرف وہ جانتا تھا جسے کسی بیماری کا سامنا کرنا پڑتا اور وہ گزرے ہوئے وقت کو یاد کرکے سوچتا کہ وہ بھی کیا وقت تھا جب مجھ میں توانائیاں تھیں میں جوان تھا اور آج میرا توانا جسم بے جان پڑا ہے اور آج مجھے دنیا و مافیہا سے کیا لینا دینا۔ پہلے زمانے میں اس کہاوت سے بہت تھوڑے لوگ واقف تھے لیکن جیسے ہی دنیا نے کیلنڈر کا صفحہ سنہ دو ہزار بیس کیلئے پلٹا تو پوری دنیا کو ہی اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔ چائنا سے سر اٹھانے والے کرونا وائرس نے دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دنیا بھر کے ملکوں نے اپنی سرحدیں بند کردیں اور ہر طرح کی کاروباری و سفارتی سرگرمیاں دنیا بھر میں جمود کا شکار ہو گئیں۔ دنیا کے بیش تر ممالک نے انتہائی اقدام اٹھاتے ہوئے اپنے شہریوں کو گھروں تک محدود کرنے کیلئے لاک ڈاؤن حتیٰ کہ کرفیو تک لگا دیا۔ اس صورتحال میں پاکستانی حکام نے بھی ملک بھر میں لاک ڈاون لگایا جو کہ باقی دنیا کے برعکس ایک انوکھا لاک ڈاون تھا۔ باقی دنیا میں لاک ڈاون کے دوران ہر طرح کی تجارتی و معاشرتی سرگرمیوں پر سختی سے پابندی تھی لیکن پاکستان میں لاک ڈاؤن کے دوران چھپ چھپا کے کاروبار جاری رہا اور لوگ حسب معمول بے دھڑک سڑکوں پر گھومتے پھرتے رہے۔ اس دوران پولیس اور دکانداروں کے درمیان بلی چوہے کا کھیل بھی جاری رہا جس کا فائدہ پولیس کو ہوا کہ لاک ڈاؤن کے دوران دکانداروں کو کام کی اجازت کے عوض انہیں کافی کچھ ملتا رہا۔ لاک ڈاون تقریباً دو ماہ تک جاری رہا لیکن ملکی سطح پر شدید عوامی ردعمل کی وجہ سے حکومت کو لاک ڈاؤن کھولنا پڑا۔ حکومت کی جانب سے عید سے قبل کھولے گئے لاک ڈاؤن کے حولناک نتائج اب سب کے سامنے آچکے ہیں ہر روز ہزاروں لوگوں میں کرونا کی تشخیص ہو رہی ہے اور بہت سے علاقوں میں روزانہ اموات کی خبریں بھی زبان زد عام ہیں۔
    اس طرح کے بہت سے واقعات بھی دیکھنے کو آئے ہیں کہ لواحقین کرونا ٹیسٹ کروانا ہی نہیں چاہتے۔ ان کے مریض نزلہ، بخار اور سانس میں دشواری جیسی پیچیدگیوں کے باوجود بھی گھروں میں پڑے رہتے ہیں اور اس طرح ایسے لاپرواہ لوگ چند دن میں ہی اپنے پیاروں کو کھو بیٹھتے ہیں۔ سوچئے کہ یہ کس قسم کا بخار ہے جس کے ساتھ مریض دو چار دن میں ہی فوت ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ محض بخار ہی ہوتا ہے یا ان مریضوں کی موت میں کرونا کا بھی عمل دخل بھی ہے۔
    حال ہی میں ایک واقعہ میرے علم میں آیا کہ ایک مریض کو انجیکشن لگا کر مار دیا گیا ہے۔ ایسے واقعات پہلے بھی نظر سے گزرے تھے لیکن جب یہ واقعہ میرے خود کے حلقہ احباب میں ہوا تو اس کی تہہ تک جانے کی ٹھانی۔ تھوڑی تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ ایکٹمرا نامی انجیکشن فی الوقت سب سے اچھا علاج مانا جاتا ہے جو اس وقت کرونا کے مریضوں کے علاج کیلئے امید کی آخری کرن بن چکا ہے۔ یہ انجیکشن جس کی قیمت کافی زیادہ ہے سرکاری ہسپتالوں میں مفت بھی لگایا جاتا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں یہ انجیکشن مفت ملتا ہے لیکن پرائیویٹ ہسپتالوں میں جب کوئی کرونا کا مریض آتا ہے تو اسے عالمی تجاویز کے مطابق یہی انجیکشن تجویز کر دیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اس انجیکشن کی فی الوقت قیمت ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہے۔ آجکل ہماری عوام اپنے مریضوں کو سرکاری ہسپتال لے جانے سے ڈرتے ہیں اور جب وہ اپنا مریض پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کرواتے ہیں تو ڈاکٹروں کی جانب سے باقی ادویہ کے ساتھ انجیکشن بھی منگوائے جاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بلڈ پلازمہ لگانے کی تجویز بھی دی جاتی ہے۔ یہ انجیکشن اس وقت پاکستان میں بری طرح کمیاب ہوچکا ہے اس لئے اس کی تلاش میں مریض کے ورثاء پہلے خود جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں، سوشل میڈیا پر لوگوں سے، شہر بھر کی فارمیسی والوں سے اور آخر میں ہول سیل کی بلیک مارکیٹ مافیا والوں سے منتیں کرتے ہیں کہ یہ انجیکشن ہمیں ہر صورت چاہیے۔ زیادہ تر کو وہ مارکیٹ سے نہیں ملتا کیونکہ یہ انجیکشن صرف کرونا کیلئے مختص ہسپتالوں کو دیا جا رہا ہے مریض کے لواحقین کو جب یہ انجیکشن نہیں ملتا تو ہسپتال انتظامیہ خود سے اس انجیکشن کا انتظام کرکے مریض کو لگا دیتی ہے۔ جب سے ٹیکہ لگا کر مارنے کا معاملہ زور پکڑنے لگا ہے تب سے اکثر پرائیویٹ ہسپتال کے ڈاکٹر یہ انجیکشن لگانے سے پہلے ورثا سے اجازت نامے پر دستخط بھی لینے لگے ہیں تاکہ ورثاء کو علم ہو کہ دراصل ان کے مریضوں کو لگائے جارہے انجیکشن اور ادویہ کونسی ہیں اور یہ ادویہ انکے مریض کی بہتری کیلئے لکھی جاتی ہیں ناکہ اس میں ڈاکٹرز کا کوئی ذاتی فائدہ و لالچ ہے۔
    ایسے لوگ جو اپنے مریضوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں میں لے جاتے ہیں انہیں یہ ہرگز نہیں بھولنا چاہیئے کہ ہر پرائیویٹ ہسپتال کا یومیہ بل پانچ سے دس ہزار تک ہوسکتا ہے جو کہ عام فہم و معمول کی بات ہے اور جب یہی مریض انتہائی نگہداشت میں منتقل کیا جاتا ہے تو ہر دن کا بل دوگنا سے بھی کہیں بڑھ جاتا ہے۔ اس صورتحال میں ہوتا یہ ہے کہ قریب المرگ مریض جوکہ مقامی طور پر تمام ٹوٹکے اور تمام حربے آزما کر ہسپتال میں لایا گیا ہوتا ہے وہ چار پانچ دن انتہائی نگہداشت میں رہنے کے بعد اپنی سانسوں کی روانی کھو دیتا ہے۔ جیسے ہی مریض مرتا ہے، زہر کے ٹیکے کا اصل کھیل شروع ہو جاتا ہے۔
    مریض کے مرنے کے فوراً بعد پرائیویٹ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے ڈیڑھ دو لاکھ کے ایکٹمرا انجیکشن اور آئی سی یو چارجز کے ساتھ چار پانچ لاکھ کا بل ورثاء کو تھمایا جاتا یے اور اس بل کو دیکھتے ہی ورثاء واویلہ شروع کر دیتے ہیں کہ ڈاکٹروں نے ٹیکہ لگا کر ہمارا مریض مار دیا اور اب یہ ڈاکٹر ہم سے میت کے پانچ لاکھ مانگتے ہیں۔ سستی شہرت کے متلاشی سوشل میڈیائی ہیرو جو آجکل ہر جگہ وافر موجود ہیں وہ اپنا موبائل کیمرہ لے کر میدان میں آ ٹپکتے ہیں اور رپورٹنگ کر کے عوام کو گمراہ کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ دیکھئے اس مریض کے ورثاء سے میت کے پانچ لاکھ مانگے جارہے ہیں یہ لوگ اچھا بھلا مریض لے کر آئے تھے اور ڈاکٹروں نے ہمارے مریض کو زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیا ہے۔ ہماری بھولی بھالی عوام اس متوفی کے غم میں یہ بات بھول ہی جاتی ہے کہ اگر یہ اچھا بھلا بندہ تھا تو ہسپتال لایا ہی کیوں گیا اور اگر مریض کے ورثاء مہنگے علاج کی سکت نہ رکھتے تھے تو مہنگے ہسپتال میں لے کر ہی کیوں گئے؟
    میں یہ نہیں کہتا کہ پرائیویٹ ہسپتال والے دودھ کے دھلے ہیں لیکن یہ بات تو ہر کسی کو پتہ ہے کہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج سستا نہیں ہے۔ سرکاری ہسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کا مفت علاج اور مفت کرونا ٹیسٹ کیا جاتا ہے لیکن ڈر کے مارے لوگ اپنے مریضوں کو سرکاری ہسپتال لے جانا ہی نہیں چاہتے
    اور جب پرائیویٹ ہسپتال میں مریض مرجاتا ہے تو لواحقین پرائیویٹ ہسپتال کے اس بل سے جان خلاسی کروانا چاہتے ہیں۔
    اب تک سوشل میڈیا پر ایسی جتنی بھی ویڈیوز دیکھنے میں آئیں جن میں مبینہ طور پر میت کے بدلے پانچ لاکھ کا تقاضہ یا ذہر کا ٹیکہ لگانے کی جذباتی رپورٹنگ کی گئی اس کا کوئی سر پیر نہیں ملتا اور ان رپورٹروں کا بھی کوئی اتہ پتہ نہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے نام والے لوگو کے ساتھ وائرل ہوئی ویڈیو کے بابت جب اس چینل سے رابطہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ وہ شخص نہ تو انکا نمائندہ ہے اور نہ ہی انکا ادارہ اسے جانتا ہے۔
    یہ وقت غلط خبریں پھیلانے کا نہیں ہے کیونکہ کرونا کا مرض اس وقت ملک پاکستان میں اس قدر پھیل چکا ہے کہ اب ہر خاص و عام اس کی لپیٹ میں ہے لیکن عوامی غفلت اپنے عروج پر ہے۔ لوگ ڈر کے مارے اپنے مریضوں کا ٹیسٹ نہیں کرواتے بلکہ کرونا کی تمام تر علامات ظاہر ہونے کے باوجود مریض کو گھر پر ہی رکھے رکھتے ہیں اور جب صورتحال قابو سے باہر ہو جاتی ہے تو ہسپتال کا رخ کرتے ہیں اور جب انکا مریض جان سے جاتا ہے تو اپنی لاپرواہی و غفلت کی خفت مٹانے کیلئے کہنے لگتے ہیں کہ ہمارے مریض کی رپورٹ تو نیگیٹو تھی۔
    شروع شروع میں کرونا کے وجود سے انکاری عوام کو اب سمجھ آجانی چاہیے کہ اس وقت ملک میں ہر روز کرونا کیسز کا ریکارڈ پر ریکارڈ بن رہا ہے۔ صرف گزشتہ 24گھنٹوں میں 6ہزار 825 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اس طرح ملک بھر میں کورونا کیسز کی تعداد ایک لاکھ 39ہزار 230 ہوچکی ہے جبکہ اس موذی وائرس سے اب تک 2632 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کرونا کے نئے کیسز کے لحاظ سے پاکستان دنیا بھر میں چھٹے نمبر پر آ چکا ہے اور ایکٹیو کیسز کے لحاظ سے بھی پاکستان چھٹے نمبر پر ہے۔
    یاد رہے کہ دسیوں پاکستانی ڈاکٹرز اب تک اس مرض سے لڑتے لڑتے اپنی جان دے چکے ہیں اور سیکڑوں ڈاکٹر اس وائرس کا شکار ہیں۔ اس وقت ڈاکٹر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ہمارے مریضوں کا علاج کرنے میں لگے ہیں لیکن ہماری ذہنی پستی کا یہ عالم ہے کہ ہم انہی ڈاکٹروں پر ڈالر لینے اور ٹیکہ لگا کر مارنے جیسے بے تکے الزامات لگاتے ہیں۔ ہم میں سے ہر کسی کے حلقہ احباب میں کئی ڈاکٹر ہوں گے زرا آنکھیں بند کر کے دل پر ہاتھ رکھ کر ان ڈاکٹروں کے متعلق سوچئے کہ ان میں سے کون ایسا ہے جو کسی دکھی شخص کی جان اپنے ہاتھوں سے لینے کی ہمت رکھتا ہو؟ کون اتنا سنگدل و ظالم ہے جو کسی کو ذہر کا ٹیکہ لگا سکتا ہو؟
    پانچ لاکھ کا شور تو سنتے ہیں لیکن پانچ لاکھ دے کر میت لانے والا کوئی شخص ملے تو ہمیں بھی بتائیے یا کوئی شخص مجھے اس بات کا ثبوت ہی لا دے کہ ان ڈاکٹروں کو کسی کی جان لینے پر ڈالرز کہاں سے ملتے ہیں تاکہ اپنی جیب سے ماسک اور حفاظتی لباس خریدنے والے تمام ڈاکٹروں کو ان ڈالروں کا پتہ چل سکے۔
    خدارا کوشش کیجئے کہ مایوسیوں اور افراتفری کے اس دور میں آپکی پھیلائی ہوئی کسی خبر کی وجہ سے کسی کا نقصان نہ ہو جائے۔ کوئی بھی خبر ہو اس کی جانچ کیجیے، اس کو ہر طرح سے پرکھئے اور یہی قرآن کا اسلوب ہے کہ:
    اے مسلمانو! اگر تمہیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو ایذا پہنچا دو پھر اپنے کیے پر پشیمانی اٹھاؤ۔
    (سورہ الحجرات آية : 6)

  • رواں سال تاریخی سورج گرہن کب ہوگا اور پاکستان میں کن کن شہروں میں دیکھا جائے گا  از:ظفر مسعود انصاری

    رواں سال تاریخی سورج گرہن کب ہوگا اور پاکستان میں کن کن شہروں میں دیکھا جائے گا از:ظفر مسعود انصاری

    HISTORICAL SOLAR ECLIPSE IN PAKISTAN:
    #تاریخی سورج گرہن #دن میں رات کاسماء:
    🔴 آج سے ٹھیک 11 دن بعد 21 جون کو صبح 9 بجے سے دوپہر 1 بجے کے درمیان پاکستان میں تاریخی سورج گرہن متوقع ہے۔ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں دن میں مغرب جیسا سماء ہو جائے گا۔ اس بار سورج گرہن 26 دسمبر 2019 والے کے مقابلے زیادہ گہرا ہوگا۔

    ◾سب سے زیادہ سورج گرہن بلوچستان کے ساحلی علاقوں، شمالی سندھ اور جنوبی پنجاب میں دیکھا جا سکے گا جہاں 95-100 فیصد تک سورج کا حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا اور مغرب/رات جیسا سماء ہوگا۔ پاکستان کے باقی تمام علاقوں میں اس دوران سورج 75-90 فیصد چاند کے پیچھے ڈھک جائے گا اور 1999 والے گہن کے بعد یہ سب سے تگڑا سورج گہن ہوگا۔

    #کراچی میں سورج_گرہن:
    🔴 کراچی میں سورج گرہن کی شروعات 21 جون کی صبح 9:29AM سے ہوگی جبکہ سب سے زیادہ گہن صبح 10:59AM پر لگے گا جب سورج کا %92 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا اور دن میں مغرب جیسا سماء بندھ جائے گا۔ اس والے سورج گرہن میں کراچی میں اندھیرا 26 دسمبر 2019 والے گہن کے مقابلے کافی زیادہ ہوگا۔ سورج گرہن کا کراچی میں اختتام دوپہر 12:36PM پر ہوگا۔

    #لاہورمیں سورج_گرہن:
    🔴 لاہور میں سورج گرہن کی ابتداء صبح 9:48AM پر ہوگی جبکہ صبح 11:26AM پر سب سے زیادہ گہن لگے گا، اس دوران سورج کا %91 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا۔ سورج گرہن کا اختتام دوپہر 1:10PM پر ہوگا۔

    #پاکستان کےباقی شہروں کی_تفصیلات:
    ♦️ پاکستان کے باقی بڑے شہروں میں کتنے فیصد سورج گرہن ہوگا اور کس وقت سب سے زیادہ گہن ہوگا اسکی تفصیلات کچھ یوں ہیں۔

    🔷 Gawadar: 98.5% (Peak Time 10:48AM)
    🔷 Larkana: 98.7% (Peak Time 11:05AM)
    🔷 Sukkur: 98.7% (Peak Time 11:07AM)
    🔷 Bahawalpur: 96.6% (Peak Time 11:17AM)
    🔷 Rahimyarkhan: 98.6% (Peak Time 11:12AM)
    🔷 Khuzdar: 96.0% (Peak Time 11:02AM)
    🔷 Nawabshah: 94.5% (Peak Time 11:04AM)
    🔷 Multan: 93.4% (Peak Time 11:17AM)
    🔷 Hyderabad: 91.4% (Peak Time 11:03AM)
    🔷 Faisalabad: 90.6% (Peak Time 11:22AM)
    🔷 Quetta: 87.9% (Peak Time 11:06AM)
    🔷 Sialkot: 87.9% (Peak Time 11:27AM)
    🔷 DI Khan: 86.6% (Peak Time 11:17AM)
    🔷 Islamabad: 82% (Peak Time 11:25AM)
    🔷 Muzzafarabad: 79.9% ( Peak Time 11:26AM)
    🔷 Peshawar: 79.4% (Peak Time 11:21AM)
    🔷 Gilgit: 74.8% (Peak Time 11:32AM)

    #ضروری_احکامات:
    ◾مکمل سورج گرہن یا 70 فیصد سے اوپر سورج گرہن کی وجہ سے درجہِ حرارت ایک دم کم ہو جاتا ہے۔

    ◾سورج گرہن کے دوران سورج کی طرف بغیر کسی فلٹر والے چشمے کے بغیر دیکھنے سے انسان ہمیشہ کے لئے اندھا ہو سکتا ہے۔ اسلئے اس دوران سورج کی طرف نہ دیکھیں۔

    ◾عام سن گلاسز/Sun Glasses کا استمعال سورج گرہن کے دوران سورج سے نکلنے والی ریڈی ایشن/تابکاری/Radiation سے آپکی آنکھوں کو محفوظ نہیں رکھے گا! غلطی سے بھی ایسا نہیں کریئے گا کہ سن گلاسز پہن کر سورج گرہن دیکھنے لگ جائیں۔

    ◾سنت اور قرآن کے مطابق مسلمان سورج گرہن کے دوران اللہ پاک سے گناہوں کی توبہ کریں اور "نماز کسوف” ادا کریں، یہ وہ نماز ہوتی ہے جو ہمارے پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہِ وسلم سورج گرہن کے وقت پڑھتے تھے۔

    نماز کسوف پڑھنے کا طریقہ:
    سورج گہن کی نماز سنت موکدہ ہے-دو رکعت نماز باجماعت پڑھنا مستحب ہے بشرطیکہ وقت مکروہ نہ ہو-الگ الگ بھی نماز پڑھ سکتے ہیں-بہرحال قرات آہستہ ہو گی-حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سےمروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں آفتاب میں گہن لگا تو آپ نے نما زپڑھی جس میں سورۃ بقرہ جتنا لمبا قیام کیااور اسی طرح رکوع و سجود لمبا کیاپھر فرمایا سورج یا چاند گہن کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا لہذا جب تم ایسا دیکھو تو خدا کا ذکر کرو اوع دعا و استغفا ر میں مشغول ہو جاؤ-
    منقول
    والسلام ظفر مسعود انصاری

  • کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تُو نے  از قلم: عاقب شاہین

    کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تُو نے از قلم: عاقب شاہین

    کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تُو نے

    از قلم: عاقب شاہین

    نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ تصور کیے جاتے ہیں کیونکہ وہ دماغی و جسمانی لحاظ سے باقی عمر کے لوگوں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں ، ہمت اور جذبہ اُن میں کُوٹ کُوٹ کر بھرا ہوتا ہے ، وہ ہر مشکل کا سامنا کرنے کےلیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ۔۔ نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہی قوم کے عروج اور زوال کی ڈور ہوتی ہے ۔۔۔ قوم کی ترقی کی ضمانت باحیا ،، با کردار اور با عمل شاہین صفت نوجوانوں میں ہی مضمر ہے ۔۔۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بھی اِسی عمر کو غنیمت سمجھنے کی تلقین فرمائی ہے ، کیونکہ بڑے بڑے معرکے اور کارنامے اسی عمر میں انجام دیے جا سکتے ہیں ۔۔۔۔ حضرت عمر بن میمون رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :

    پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو : جوانی کو بڑھاپے سے پہلے ، صحت کو بیماری سے پہلے ، خوش حالی کو ناداری سے پہلے ،فراغت کو مشغولیت سے پہلے ، زندگی کو موت سے پہلے ۔۔۔ ( ترمذی)
    اگر ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ نوجوان کسی قوم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔۔۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نوجوانی میں ہی بُت توڑ کر اپنے آباؤاجداد کی غلط روایات کو ختم کیا ، حضرت یوسف علیہ السلام نے نوجوانی میں ہی گناہ کی دعوت کو ٹھکرا کر ایمان کے راستے کو ترجیح دی ، صلاح الدین ایوبی ،طارق بن زیاد ، محمد بن قاسم ، شہاب الدین غوری یہ سب نوجوان ہی تھے جنھوں نے قرآن وسنت کی بالادستی اور معاشرے کی بقاء کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔۔
    قائداعظم محمد علی جناح نے تحریکِ پاکستان کے دوران نوجوانوں سے ہی خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ :
    میں آپ کی طرح جوان نہیں ہوں لیکن آپ کے جوش و جذبے نے مجھے بھی جوان کر رکھا ہے ، آپ کے ساتھ نے مجھے مضبوط بنا دیا ہے۔۔۔

    کسی بھی قوم کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کروانے میں بھی انہی شاہین صفت نوجوانوں کا ہاتھ ہے۔۔۔ یہ نوجوان جب اپنا تازہ اور گرم لہو پیش کرتے ہیں تو ملت کے مقدر کا ستارہ جاگ اُٹھتا ہے اور آزادیاں اُن کا مقدر بن جاتی ہیں ۔۔۔

    اگر جواں ہوں میری قوم کے جسور و غیور

    قلندری میری کچھ کم ، سکندری سے نہیں

    اِس کے برعکس اگر یہی نوجوان اپنے فرض سے بےخبر ، کاہل ، سست ، غدار اور بدکردار ہوں گے تو قومیں خود بخود بربادی کی طرف رواں دواں ہو جائیں گی ۔۔۔ واضح ہوا کسی بھی قوم میں نوجوان اہم کردار ادا کرتے ہیں چنانچہ اِن کی تربیت بھی اِس قدر ہی ضروری ہے ، اقوام کی تقدیر نوجوان نسل کی تربیت پر ہی منحصر ہے ۔۔ اگر قوم اپنے قیمتی سرمائے کی تربیت سے ذرا برابر بھی غفلت برتے گی تو یہی سرمایہ اُس کےلیے ناسور کی صورت اختیار کر جائے گا ، قوم تباہی کے دہانے پر جا کھڑی ہو گی ۔۔۔ تاریخ شاہد ہے کہ جس قوم سے اپنے قیمتی سرمایہ کی تربیت اور حفاظت نہ ہو سکی، اُس کی نوجوان نسلیں لہوولعب ، کھیل کود اور منفی رجحان کی نذر ہو گئیں اور وہی قومیں پستیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گریں۔۔۔ اِس کے برعکس جن قوموں نے اپنے قیمتی سرمایہ کی حفاظت کی ، اُن کی تربیت میں کوئی کمی نہ چھوڑی ، اُنہی قوموں کے نوجوان اقوامِ عالم پر شاہین بن کر اُبھرے اور اپنی بلند پروازوں سے دنیائے عالم کو تسخیر کر لیا۔۔۔
    آج ایک بار پھر سے اقوامِ مسلم کو نوجوان شاہینوں کے جوش ، جذبے اور اُن کی صلاحیتوں کی بے حد ضرورت ہے ، اور یہ نوجوان تب ہی قوم کے کام آ سکتے ہیں جب اِن کی تربیت صحیح اسلامی بنیادوں پر کی جائے ، آج کے نوجوان گفتار کے غازی تو بن گئے لیکن کردار کے غازی بننا بھول گئے ۔۔ اُنہیں بتانے کی ضرورت ہے کہ اُن کی جوانی قوم کی امانت ہے ، قوم کی نظریں اُن پر لگی ہوئی ہیں ،اندھیروں میں ڈوبی قوم کےلیے وہی روشنی کی کرن ہیں ، اگر نوجوان اسلام کے راستے پر چلتے ہوئے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو رب کی نصرت بھی آسمان سے اُترے گی اور ظلمتوں کے گھپ اندھیرے چھٹ جائیں گے ، سحر کی روشنیاں نمودار ہوں گی بس ذرا ہمت ، حوصلے اور سچے جذبوں کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔۔۔

    اگر ہم اپنی روش بدل کر راہِ ہدایت پہ ہوں روانہ

    خُدائی نصرت بھی ساتھ ہو گی ،مٹے گا یہ دور جابرانہ

  • ہمسائیگی کے حقوق اور آداب قرآب سنت کی روشنی میں!!! تحریر:جویریہ بتول

    ہمسائیگی کے حقوق اور آداب قرآب سنت کی روشنی میں!!! تحریر:جویریہ بتول

    ہمسائیگی کے حقوق اور آداب__!!!
    (تحریر:جویریہ بتول)
    اچھی ہمسائیگی بہت بڑی نعمت ہے۔۔۔
    اور برے ہمسائے سے ہمیں پناہ مانگنے کی تعلیم ملی۔۔۔
    کسی کا بھی ہمسایہ اس کی خوشی،غمی میں ڈھارس کا ضامن ہوتا ہے،کیونکہ سگے رشتہ دار میلوں،شہروں بلکہ بعض اوقات ملکوں دور بھی ہوتے ہیں__!!!!
    یہی وجہ ہے کہ ہمسائے کی اسی افادیت اور اہمیت کے پیشِ نظر دینِ فطرت اسلام میں پڑوسی کے حقوق پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے،ارشاد ربانی ہے:
    وَالجَارِذِی القربٰی وَالجارِ الجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالجَنبِ۔۔۔۔
    (النسآء:36)۔
    "اور پڑوسی رشتہ دار اور اجنبی ہمسائے اور پہلو کے ساتھی سے(احسان کا معاملہ کرو)۔۔۔”

    یعنی اللّٰہ رب العزت خود مسلمانوں کو پڑوسی سے حسنِ سلوک کا حکم دے رہے ہیں تو کیا اللّٰہ کے حکم کے بعد پڑوسی کا حق کچھ پوشیدہ رہ جاتا ہے۔۔۔؟

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے احادیث مبارکہ میں بہت سے مقامات پر ہمسائے کے حقوق کی اہمیت بتلائی۔۔۔
    کچھ وقت پہلے تک واقعی پڑوس کی افادیت قائم تھی،
    خوشی،غمی کے مواقع مل کر ڈیل کیئے جاتے تھے۔
    جو کچھ میسر ہوتا،کھلے دل سےپیش کر دیا جاتا تھا۔
    دیہات میں تو یہ رواج زیادہ ہی مضبوط تھا۔
    کھلے گھر اور حویلیاں شادی بیاہ کے مواقع پر بہت کام دیتے تھے۔۔۔
    مگر آہستہ آہستہ کھلے گھروں کے مکینوں کے دل بھی تنگ ہونے لگے اور دیہاتیوں نے بھی چار و ناچار میرج ہالز کا رُخ کر لیا اور یوں چند لاکھ کے اخراجات بھاری بھرکم بکنگ کے ساتھ کئی گنا زیادہ اضافے کے ساتھ برداشت کیئے جاتے ہیں۔۔۔ !!!
    اور یہ سب حسنِ معاشرت کی نفی اور نفسا نفسی کے عالم والی بات ہے۔۔۔ !!!!
    پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کا حق یہ ہے کہ اس کے دکھ سکھ میں شریک ہوا جائے۔۔۔
    اس کا حال بانٹا جائے__
    اس کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔۔۔
    اس کے گھر جو کچھ پکے،بخوشی اور حق سمجھ کر بھیجا جائے__!!!!
    آج ہم دن میں کئی کئی ڈشز بناتے ہیں مگر پڑوس میں بسنے والے کا کچھ خیال نہیں آتا۔۔۔
    اب یہ ضروری نہیں ہوتا کہ آپ کا پڑوسی واقعی مستحق ہونا چاہیئے بلکہ یہ اس کا خصوصی حق ہے جو ہمارا دین اُسے دیتا ہے۔۔۔ !!!!
    اور کسی بھی سوسائٹی کے احساس اور مثبت پہلو کی خوب عکاسی بھی۔
    ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "اے مسلمان عورتو!!!!
    کوئی پڑوسن اپنی کسی پڑوسن کے لیئے کسی چیز کو حقیر نہ سمجھے،خواہ بکری کا پایہ ہی کیوں نہ ہو۔۔۔”
    (صحیح بخاری_کتاب الادب)۔
    کوکنگ کا زیادہ تر کام عورتیں ہی کرتی ہیں تو انہی کی یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ اپنی پڑوسن کا خیال رکھنے میں کوتاہی نہ کریں۔۔۔
    بلکہ ثواب کی نیت سے،پڑوسی کا بھی حق ادا کریں۔۔۔ !!!!

    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "وہ شخص مومن نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر کھانا کھائے،اور اس کا ہمسایہ بھوکا ہو۔۔۔”
    {رواہ البخاری فی الادب المفرد}۔

    حضرت عائشہ راویہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    حضرت جبرئیل علیہ السلام مجھے اس طرح بار بار پڑوسی کے حق میں وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید اسے وراثت میں شریک نہ کر دیں۔”
    [صحیح بخاری_کتاب الادب]۔

    حضرت عائشہ رضی اللّٰہُ عنھا کے پوچھنے پر کہ کسے پہلے ہدیہ بھیجوں،آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جس کا دروازہ تم سے قریب ہے__!!!”

    خود بھی پڑوسیوں کے ساتھ اچھے معاملات رکھیں اور اپنے بچوں کی تربیت بھی اسی نہج پر کریں کہ وہ اپنے پڑوسی کے لیئے کسی اذیت کا باعث نہ بنیں۔

    چھوٹے بچوں کے معمولی اور معصوم جھگڑوں کو طول نہ دیں اور طرفین کو پیار سے سمجھائیں۔۔۔
    کیونکہ بچے فوراً دل صاف کر کے اکھٹا کھیلنا کودنا چاہتے ہیں۔۔۔

    چھوٹے چھوٹے مسائل پر پڑوسی سے جھگڑنے سے گریز کریں۔۔۔
    کبھی اس کے حصے کا کام خود کر دیں۔۔۔
    جیسے صفائی کا مسئلہ ہو یا پودوں وغیرہ کو پانی دینا۔۔۔۔
    پڑوسی کی عدم موجودگی میں اس کے گھر کی حفاظت کریں اور اسے کسی نقصان کی پہنچ سے دور رکھنے کا خیال کریں۔
    بچوں کو سمجھائیں کہ پڑوسیوں کی کسی بھی چیز کو نقصان نہیں پہنچانا یا اٹھا کر گھر نہیں لے آنا۔۔۔

    پڑوسی کے حق میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ٹیرس پر گھومتے ہوئے تاکاجھانکی سے بچا جائے۔۔۔
    بلاوجہ بار بار چھتوں پر نہ چڑھا جائے۔۔۔
    اگر ضرورت ہی ہو تو پہلے سے پڑوسی کو اطلاع کی جائے تاکہ خواتینِ خانہ اپنا خیال کر لیں__
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    "وہ شخص جنت میں نہ جائے گا،جس کا ہمسایہ اس کے مکر و فریب سے محفوظ نہ ہو۔”
    {صحیح مسلم)
    شہروں میں مختلف النوع لوگوں کا ساتھ رہتا ہے۔۔۔
    اور زیادہ تر لوگوں کو سالوں تک یہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے پڑوس میں کون بس رہا ہے۔۔۔
    لیکن اس پڑوسی کا حق بھی ادا کرنا چاہیئے ،ہاں اگر کوئی شناسائی یا بول چال رکھنا ہی نہ چاہے تو زبردستی بھی جائز نہیں ہے۔۔۔
    لیکن ہر پڑوسی پر اندھا اعتماد بھی نہیں کر لینا چاہیئے۔۔۔
    بچوں کو ماموں،چاچو اور بھائی بنا کر ساتھ کبھی نہیں بھیجنا چاہیئے__
    اسی طرح عورتیں،پڑوس کے مردوں اور مرد،پڑوس کی عورتوں سے بے تکلفی سے گریز کریں۔۔۔
    کیونکہ یہ کھلم کھلا بات چیت بعض اوقات خطرناک افیئرز پر منتج ہوتی ہے__!!!!
    محرم،غیر محرم کے لیئے ہر میدان اور معاملہ میں کلیہ ایک ہی ہے۔۔۔

    گھر کی چیزیں زور زور سے پھنکنے اور گھسیٹنے سے اجتناب کرنا چاہیئے،کیونکہ پڑوس میں کوئی بزرگ یا بیمار ہماری اس حرکت سے تکلیف محسوس یا پریشان ہو سکتا ہے۔۔۔

    اونچی آواز میں ڈیک چلانے اور فُل آواز میں ٹیلی ویژن آن رکھنے سے بھی گریز کرنا چاہیئے۔۔۔

    چیخنے چلانے اور بچوں کو اونچی آواز میں ڈانٹ پلانا آپ کے پڑوسی کو ڈسٹرب اور ذہن کو منقسم کر سکتا ہے__!!!!

    اسی طرح پڑوس میں چلنے والے کسی مسئلہ یا جھگڑے کی تشہیر کی بجائے خاموشی سے صلح کی کوشش کرنی چاہئیے اور پھر اسے راز میں بھی رکھیں۔۔۔ !!!
    بیمار کی عیادت کریں__دوا کھِلا آئیں،کوئی اس کے پاس نہ ہو تو کچھ دیر دلجوئی کے لیئے اس کے پاس چلے جائیں۔۔۔
    پڑوسی اگر بے راہرو،بے نمازی اور غلط راہوں پر ہے تو اخلاص کے ساتھ نرمی سے نصیحت بھی کرتے رہیں۔۔۔ !!!
    غرض ان حقوق و آداب کا خیال رکھتے ہوئے ہم سب ایک بہتر پڑوسی کا حق ادا کر سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "پڑوسیوں میں بہتر پڑوسی وہ ہے،جو اپنے پڑوسی کے حق میں بہتر ہو۔”(رواہ الترمذی)۔
    اللّٰہ تعالٰی ہمارے احوال کی اصلاح فرما دے ،آمین ثم آمین۔