Baaghi TV

Category: اسلام

  • دلوں کو بوجھ سے آزاد کرنے کا بہترین نسخہ  …!!! تحریر:جویریہ بتول

    دلوں کو بوجھ سے آزاد کرنے کا بہترین نسخہ …!!! تحریر:جویریہ بتول

    صدائے ضمیر:فلاح کی رہ گزر …!!!
    (تحریر:جویریہ بتول)۔
    فلاح کی رہ گزر۔۔۔دلوں کا بوجھ ہلکا کر دینے والی۔۔۔۔خوشی و غمی کے موقع پر صبر و شکر کرنے کا طریقہ۔۔۔۔ !!!
    آزمائش و فتح کی گھڑیاں ہوں۔۔۔۔یا قحط و خشک سالیاں۔۔۔
    سفر ہو یا حضر۔۔۔۔بیماری ہو یا تندرستی۔۔۔جنگ ہو یا امن
    جوانی ہو کہ بڑھاپا۔۔۔
    یہ فرض ہر حال ادا کرنا ہے۔۔۔دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہی جس رکن کی ادائیگی پھر تادمِ آخر فرض ہو جاتی ہے۔۔۔۔
    جو کسی صورت معاف نہیں ہے۔۔۔
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔۔۔گواہی دینا کہ اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللّٰہ کے رسول ہیں،نماز قائم کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(صحیح بخاری_کتاب الایمان)۔
    جسے دین کا ستون کہا گیا کہ اس ستون کی مضبوطی سے عمارت قائم ہے،یہ ستون گرا تو عمارت گئی۔۔۔ !!!!
    پیارے نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    "تمام معاملات کی اصل اسلام ہے،اور اس کا ستون نماز ہے۔”
    (ترمذی_کتاب الایمان)۔
    اللّٰہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ:
    "اپنے ساتھ اپنے اہل و عیال کو بھی نماز کا پابند کیجیئے۔۔۔”(طٰہٰ:132)۔
    پیارے نبی کی خدمت میں جو بھی پہنچ کر اسلام قبول کر لیتا تو اسے سب سے پہلے نماز سکھائی جاتی۔۔۔
    پیارے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سینۂ اطہر پر اترنے والے قرآن کی تعلیم تھی:
    "بے شک نماز مومنوں پر مقررہ وقت پر پڑھنا فرض ہے”۔
    (النسآء:103)۔
    ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے اللہ کے محبوب عمل کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:
    اوّل وقت پر نماز۔
    (رواہ البخاری)۔
    رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کوئی اہم مسئلہ درپیش ہوتا تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فوراً نماز کی طرف رجوع کرتے۔۔۔اس رجوع کا مطلب اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر اپنے راز و نیاز دل کھول کر رکھ دینا ہے۔۔۔
    رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے،جب وہ سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے”۔
    (رواہ مسلم)۔
    مگر آج ہم نام کے مسلمان ہو کر بھی گھرانوں کے گھرانے بے نماز۔۔۔۔بچوں کی تربیت میں یہ چیز شامل ہی نہیں کرتے۔۔۔
    مسائل و پریشانیوں کے گھیروں میں گھِرے،ان سے نکلنے کے فن سے نا آشنا۔۔۔
    وقت پر وقت گزرتے ہیں نماز کے۔۔۔
    مگر ہمیں وقت نہیں ملتا۔۔۔
    وہ اللہ سے مضبوط تعلق قائم رکھنے والی ڈوری۔۔۔اپنے معاملات و مسائل شیئر کرنے اور ان سے نجات کی التجائیں کرنے کے مواقع۔۔۔جن سے ہمارا پروردگار خوش ہوتا اور اپنے بندے کے اس عمل کی قدر فرماتا ہے۔۔۔۔ !!!

    خشوع و خضوع سے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں کھڑے ہو کر جو دعا مانگی جائے،بابِ قبولیت سے ضرور گزرتی ہے۔۔۔
    اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا:
    "یقیناً کامیاب ہو گئے ایمان والے،جو اپنی نمازوں میں عاجزی کرتے ہیں۔۔۔”
    (المؤمنون:1،2)۔
    اللّٰہ تعالٰی نے اپنے پسندیدہ بندوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
    "جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔۔۔”
    (المعارج)۔
    رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
    قیامت والے دن سب سے پہلا سوال نماز کے بارے میں کیا جائے گا۔۔۔۔(ترمذی_کتاب الصلوۃ)۔
    اب سوچیئے کہ اگر پہلے سوال کا ہی جواب نہ دے سکے تو۔۔۔۔؟؟؟
    نماز بے حیائی و فحاشی کے کاموں سے رکاوٹ،چہرے کا نور،روح کا سرور ہے۔۔۔
    اپنے پروردگار کی قربت کی علامت اور محبوب پیغمبر محمد رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت کا سامان ہے۔۔۔
    کہ اپنے صحابی کی جنت میں قربت کی خواہش پر فرمایا:
    کثرتِ سجدہ سے میری مدد کر۔۔۔
    (صحیح مسلم_کتاب الصلوۃ)۔

    واقعی بات گراں ہے۔۔۔۔تھوڑے سے وقفے کے بعد پھر نماز کی تیاری مشکل لگتی ہے مگر اس کی وضاحت بھی اللہ تعالی نے خود فرما دی کہ
    انھا لکبیرۃ الا علی الخشعین¤
    (البقرۃ)۔
    یہ خشیت الٰہی سے سرشار دلوں پر گراں نہیں،بلکہ راحت و آسودگی کا ذریعہ ہے۔۔۔ !!!
    چاہیئے کہ موقع خوشی کا ہو یا غم کا،ہماری اور ہمارے بچوں کی نمازیں ضائع نہ ہوں،
    بلکہ وہ ان مواقع کو خوب صورتی سے ڈیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔۔۔۔
    کیسے نا معقول اور نا قابلِ قبول بہانے ہم بناتے ہیں کہ وقت نہیں ملتا۔۔۔
    ہم کاروبار،روزگار کی جگہوں پر ایک منٹ لیٹ پہنچنا گوارہ نہیں کرتے یا اسے ڈسپلن کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں تو کیا ہمارا رب ہم سے نظم و ضبط اور مقررہ وقت پر نماز ادا کرنے کا مطالبہ کرے تو ہم اپنے رازق و مالک کی بات کی پرواہ نہیں کرتے۔۔۔؟؟؟
    نہیں یہ سب محبتوں کی سوداگری ہے ناں ؟
    جتنی محبّت شدید ہو گی۔۔۔اُتنی ہی فرض کی ادائیگی بھی خوش دلی سے ہو گی۔۔۔ !!!!!
    پتہ ہے ناں۔۔۔جب کڑاکے کی سردی میں نرم و گرم بستر سے نکل کر ٹمٹماتے تاروں سے بھرے اسمان اور روشن چاند پر ہم نگاہ ڈالتے ہیں۔۔۔
    یا گرمی میں اے سی کی ٹھنڈ سے اُٹھ کر عارضی سکوں سے ابدی سکون کا سفر کرتے ہیں…
    تو ہواؤں کے سُر میں تالیاں بجاتے درختوں کے پتے اوقاتِ سحر میں رگوں میں کیسی پیاری ٹھنڈ بھر دیتے ہیں۔۔۔؟
    وہ ٹھنڈ اپنے پروردگار کے حکم پر عمل کرنے کی خوشی کی ٹھنڈک ہوتی ہے ناں۔۔۔؟
    جو دل کے دریچوں میں اُتر کر سرور و انبساط کی دولت سے مالا مال کر رہی ہوتی ہے۔۔۔۔
    اور فرش پر رکھی پیشانی۔۔۔۔
    سجدہ کی حالت میں نکلتی بخشش و فلاح اور رب کی رحمت و رضا کی دعائیں۔۔۔ابدی بہاروں کا سامان پیدا کر رہی ہوتی ہیں۔۔۔۔
    فاذکرونی اذکرکم واشکرولی ولا تکفرون¤
    (البقرۃ:152)۔
    پھر یہ بھلا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے رب کو یاد کر رہے ہوں اور وہ ہمیں یاد نہ کرے۔۔۔۔؟؟؟
    اور بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اسے بھُلا دیں اور وہ اس بات کا حساب نہ رکھتا ہو۔۔۔۔ :
    استحوذ علیھم الشیطنُ فَاَنسٰھم ذکراللّٰہ۔۔۔۔(المجادلہ:19)۔
    "شیطان نے ان پر غلبہ حاصل کر لیا،اور انہیں اللّٰہ کا ذکر بھُلا دیا۔”
    کوشش کیا کیجیئے کہ آپ کی نمازوں میں خلل واقع نہ ہونے پائے۔۔۔اپنے زیرِ نگرانی لوگوں کی تربیت بھی اسی نہج پر کیجیئے۔۔۔
    یہ دنیا متاعِ قلیل ہے۔۔۔اور موت بغیر اطلاع کے آنے والی حقیقت ہے۔۔۔۔
    سب مصروفیات ختم ہو جائیں گی اور پھر۔۔۔۔۔؟؟؟؟
    یاد رکھیئے کہ بہت سے مسائل کا حل صرف پیشانی اور زمین کے درمیان معلق ہوتا ہے…
    اور فلاح کی بہترین رہ گزر یہ نماز ہے،اسے فارغ رہ کر بھی،وقت پاکر بھی غفلت،سستی اور بہانوں کی نذر نہ کیا کیجیئے…
    یہ روح کا سکون اور اطمینان ہے…
    دلوں کو بوجھ سے آزاد کرنے کا بہترین نسخہ ہے کہ جب اپنے غم و پریشانی کا حال کھول کر رکھ دیا جائے…
    ہمیں چاہیئے کہ ہم اس دنیا میں رہتے ہوئے رب کی بندگی کا حق ادا کریں تاکہ روزِ محشر ہمارا شمار ان خوش نصیبوں میں ہو،جن کے بارے میں اعلان ہو۔۔۔
    "اے میرے بندو !!!
    آج تم پر کوئی خوف و ہراس ہے نہ تم غمناک ہو گے۔
    جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے،اور تھے بھی(فرمانبردار)مسلمان۔
    تم اور تمہاری بیویاں،خوشی و راضی جنت میں داخل ہو جاؤ۔۔۔”(الزخرف :68،69،70)۔
    آمین ثم آمین۔
    {جویریات ادبیات}۔
    ==============================

  • اچھائی،برائی کا بھی ہے معیار……!!! بقلم:جویریہ بتول

    اچھائی،برائی کا بھی ہے معیار……!!! بقلم:جویریہ بتول

    اچھائی اور بُرائی…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    اچھائی،برائی کا بھی ہے معیار…
    جس انداز میں بھی ہو اقرار…
    گر کرے نہ کوئی عمل بُرا…
    لیکن برائی کے ساتھ ہو کھڑا…
    تو ہے وہ بھی برائی کرنے جیسا…
    جو سوچ ہو،ہوتا ہے عمل ویسا…
    اچھائی کا جو رہے معاون…
    وہ اچھائی کا ہی رہے گا ضامن…
    اسی سے جاتے ہیں پرکھے کردار…
    اسی پہ بنتے ہیں عملوں کےمینار…
    اسی سے ہوتا ہے کوئی معتبر…
    کوئی ہوتا ہے زیر اور کوئی زبر…
    اصلاح و فساد بھی نہیں ہیں برابر…
    حق و باطل بھی نہیں ہیں برادر…
    علم کی راہوں پہ جلائے جو شمع…
    انسانیت کی بھلائی کی جو رکھے طمع…
    علوم و فنون کی جو رہ دکھائے…
    دنیا والوں کے لیئے دِیا اُمید کا جلائے…
    اٹھائے کانٹے راہوں سے،اور پھول سجائے…
    حُسنِ خلق کی خوشبو سے جہاں کو مہکائے…
    بھٹکائے انسانوں کو اور کرے بے راہ…
    حدوں کا ہو پاس نہ خیالِ حیاء…
    لیا جس نے سدا ہی غلط مفہومِ وفا…
    سیدھی راہ پر بنا جو رکاوٹ رہا…
    سب کا الگ ہے مقام و وقار…
    الگ الگ راہوں کے ہیں یہ سوار…
    ایک نہیں ہیں نا انصافی اور عدل…
    ہو نہیں سکتے ایک دوسرے کا بدل…
    خالق کے احکامات ہیں سب سے برتر…
    دُنیا یہ مانے یا انکار کرے یکسر…
    اسی معیار پہ تُلیں گے اعمال…
    یہی سے بنیں گے عروج و زوال…!!!
    عقائد کی بنیاد پر ہوتا ہے یہ سفر…
    کوئی تو پہنچتے ہیں ابدی منزل تک…
    اور راہوں میں بھٹکے رہ جاتے ہیں اکثر…!!!
    =============================

  • کسی بھی معاملے میں شفافیت اور نیت کے اخلاص کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے……!!! تحریر:جویریہ بتول

    کسی بھی معاملے میں شفافیت اور نیت کے اخلاص کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے……!!! تحریر:جویریہ بتول

    اخلاص و شفافیت…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    کسی بھی معاملے میں شفافیت اور نیت کے اخلاص کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے…
    جہاں دل کی دھرتی زرخیز اور نرم ہو وہاں ایمان کے بیج پر بارش بہت جلد اپنا اثر دکھاتی ہے…
    وہ تھوڑے ہی وقت میں پھول پھل کر خوشنما شجر کا رُوپ دھار لیتا ہے جو باقیوں کے لیئے بھی مثلِ سایہ اور ٹھنڈک کا کام دیتا ہے…
    مگر جو دل بنجر ہو جائیں،
    دھرتی روئیدگی کی صلاحیت سے محروم ہو…
    وہاں موسم بہ موسم کی بارشیں بھی برس جائیں مگر پانی وہاں جذب نہیں ہوتا بلکہ چٹیل میدان پر سے فوراً پھسلتے ہوئے بہہ جاتا ہے…
    نتیجتًا وہاں سبزہ اُگتا ہے نہ نرمی کے آثار دکھائی دیتے ہیں…
    وہاں محض شکوک و شبہات،انکار اور اعتراضات و سوالات کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری رہتا ہے…
    پھر وقت بیت جاتا ہے،وقت رُکا نہیں کرتا…
    چاہے ہم رُکے رہیں…فلاح و اصلاح کی طرف بڑھنے اور متوجہ ہونے سے مگر سوئیوں کی ہڑتال کبھی وقت کو روک نہیں سکتی…!!!
    دلوں میں شفافیت کا حُسن نہ جھلملائے…
    اخلاص کا گُلاب نہ کھلکھلائے…
    نیتوں کے فتور نہ تھمیں…
    عبادات کے رنگ مدھم ہی رہیں…
    معاملات سنورنے کی بجائے بگڑتے ہی رہیں…
    تو یقین جانیئے ہم میں کہیں بھول ہوئی ہے…!!!
    ہم نے ظاہر سے باطن تک کا سفر ابھی طے نہیں کیا…
    ہم ظاہریت کے لبادے کی آرائش میں ہی حیراں وغلطاں کھڑے ہیں…
    ہم قیل و قال کے سمندر میں ہی غوطہ زن رہتے ہیں…
    اور کافی وقت کھو جاتا ہے…
    نفاق اور اخلاص کے درمیان ایک بہت بڑی خلیج حائل ہوتی ہے جسے ایمان کی قوت سے پُر کرنا ہوتا ہے…!!!
    ورنہ ایک چیز اگر کسی کے لیئے شفا ہو تو دوسرے کے لیئے خسارہ بن جایا کرتی ہے…
    جیسے کسی کو توانائی اور صحت کی بحالی کے لیئے بہترین غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے…
    مگر جب معدے میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو وہی غذا وبال اور بگاڑ بن جاتی ہے…
    خرابی کا باعث بن کر رہی سہی طاقت بھی چھین لیتی ہے…
    جیسا کہ اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے:
    "اور ہم اس قرآن کے ذریعے ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں جو مومنین کے تو شفا اور رحمت ہیں،لیکن اللّٰہ تعالٰی ان سے ظالموں کے خسارے میں ہی اضافہ فرماتا ہے.”(بنی اسرائیل)۔

    مخلصین اور منافقین کے گروہ کے کردار کی نقاب کشائی کرتے ہوئے اللّٰہ تعالٰی نے کتنا اچھا نقشہ کھینچا ہے…
    کہ جب کوئی سورت نازل ہوتی تو منافقین استہزا کے طور پر ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ اس سورت نے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے ؟
    اللّٰہ تعالٰی نے مخلصین کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرمایا:
    فَاَمَّاالَّذِینَ اٰمَنُوا فَزَادَتھُم اِیمَانًا وَّ ھُم یَستَبشِرُونَ¤
    سو جو لوگ ایمان والے ہیں اس سورت نے اُن کے ایمان کو زیادہ کیا اور وہ خوش ہو رہے ہیں…!!!
    آیات الہیہ میں غورو تدبر کرتے تو ان کے دل خیر و ہدایت کی طرف پھر جاتے مگر یہ سازشوں اور شرارتوں سے باہر نکلے ہی نہیں…
    نتیجہ کیا نکلا؟
    *فزادتھم رجسًا اِلٰی رجسھِم…
    ان کی گندگی کے ساتھ گندگی اور بڑھ گئی۔
    ہمیں چاہیئے کہ ہم اخلاص اور نکھار پیدا کریں…
    نیتوں میں…
    عملوں میں…
    لفظوں میں…
    رویوّں میں…
    معاملات میں…
    دلوں کا میل دھو ڈالیں…
    اس زندگی کو بندگی کے رنگ میں ڈھال کر مخلصا لہ الدین سے آراستہ ہو کر اس سفر کو طے کرتے جائیں…
    اپنی کوتاہیوں کے ازالہ کے لیئے اس کے حضور توبہ و انابت سے حاضر ہو جانے پر اس کا طریقہ کیا ہے؟
    یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِم حَسَنِتِِ
    وقت بہت کم اور سفر بڑا طویل ہے…
    قبر کی تنہائی کے دَور سے میدانِ حشر تک کیا کیا بیتے گی؟
    ہم یقیناً اس سے غفلتوں میں ہیں…!!!
    زندگی کو خلوص کی چاشنی سے گُوندھ کر گزارنے کا تہیہ کر لیں…
    باہر اور اندر کی دنیا کو ہم آہنگ کر لیں…
    خود کو دھوکہ میں مبتلا کریں،نہ لوگوں کو دھوکہ دیں…
    چراغِ راہ بنیں…
    وفا کا استعارہ بنیں…
    کردار کا چمکتا ہوا ستارہ بنیں…
    راہوں کے روڑے نہیں…
    ہم صدق کے ہمنوا بنیں…
    کذب کے کوڑے نہیں…
    بغیر تحقیق و تصدیق کے افواہوں کا حصہ بنیں نہ کان دھریں…
    دوسروں پر تنقید کی بجائے پہلے اپنا آپ ٹھیک کریں…
    شعور کی طرف چل کر لوگوں میں شعور اُجاگر کریں…
    مختلف النوع مزاجوں کو سمجھنے کی کوشش کریں…!!!
    لغو کو زندگیوں سے نکال دیں…
    کیا ہے یہ لغو؟
    ہر وہ بات اور کام جس میں شرعًا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
    ایسی باتوں اور کاموں کا حصہ بننے کے بجائے خاموشی اور وقار سے گزر جانے کو ترجیح دیں…
    دل کی دھرتی جب زرخیزی دکھائے گی تو لاریب آخرت کی کھیتی بھی لہلہائے گی…!!!
    وَکَانَ اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیمًا¤
    اللّٰہ قدر دان بھی اور خوب جاننے والا بھی…!!!
    بے عیب دل،صاف دل،اور مخلص دل اُس دن مال و زر،ہیرے و جواہرات پر فوقیت لے جائے گا…
    یَومَ لَا یَنفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُونَ¤
    اِلَّا مَن اَتَی اللّٰهَ بِقَلبِِ سَلِیمِِ¤
    "جس دن مال اور اولاد کُچھ کام نہ آئے گی لیکن فائدہ والا وہی ہو گا جو اللّٰہ کے سامنے بے عیب دل لے کر آئے…”
    یہ دل کا معاملہ ہی اخلاص اور نفاق،شفافیت اور ملاوٹ کا فرق پیدا کر دیا کرتا ہے…!!!
    الٰہی ہمیں وہ دل دے جو:
    اللّٰہ کی رضا پر راضی دل…
    سنت مطہرہ پر مطمئن دل…
    دنیا کے مال و زر کی بجائے ایمان کی محبت سے سرشار دل…
    جہالت کی تاریکی سے دُور علم سے منور دل…
    اخلاص و شفافیت کے سفر کے راہی کا روگوں سے عافیت والا دل ہو…!!!
    ===============================
    [جویریات ادبیات]
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • آسمانِ علم کے ستارے…!!!  بقلم:جویریہ بتول

    آسمانِ علم کے ستارے…!!! بقلم:جویریہ بتول

    آسمانِ علم کے ستارے…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    آسمانِ علم کے یہ ستارے…
    کیوں ڈوب رہے ہیں سارے…
    شیوخ کی برکتوں سے خالی…
    کیوں ہو رہے ہیں دامن ہمارے…؟
    اس امت کو ہے بہت ضرورت…
    ابھی تو پھرتے ہیں مارے مارے…
    میری قوم کے نوجواں کو…
    اور بھٹکے ہوئے ہر انساں کو…
    ابھی دینا ہے شعور روشنیوں کا…
    درس انسانیت سے محبتوں کا…
    محبتوں اور روشنیوں کے پیامبر…
    جا رہے ہیں اک ایک کر کے پیارے…
    جہل کے پھیلنےاورعلم کے اُٹھنے کے…
    بہہ رہے ہیں اندر ہی اندر درد کے دھارے…
    انبیاء کے وارثوں کی خدارا قدر کریں ہم…
    علم کے موتی اپنے دامن میں بھریں ہم…
    اس روشنی سےسینے روشن اپنے کریں ہم…
    کہیں کھو نہ جائیں ہم سے وقت کے اشارے…
    علم کی مجلسوں میں پیدا جو ہوئے خلاء…
    بھر دے وہ رحمتوں سے اے ہمارے الٰہ…
    علم کی راہوں کے سفر پہ چلیں ہم…
    شعور اور عمل کے ماہتاب بنیں ہم…
    لحدیں ہوں پُر نور سب کی…
    وہ جو روشنیاں پھیلا گئے…
    توحید اور رسالت کے مفہوم…
    دین،دنیا کے لیئے سمجھا گئے…
    کھُلیں رحمت و مغفرت کے باب…
    سب کا ٹھکانہ ہو خلدِ بریں…
    محشر کے میداں میں ملے…
    سب کو سایۂ عرشِ بریں…!!!
    ==============================

  • رب کی محبّت…!!! بقلم:جویریہ بتول

    رب کی محبّت…!!! بقلم:جویریہ بتول

    رب کی محبّت…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    اُس پر رب کی محبّت حاوی ہے…
    یہ جو کھیل تماشہ دنیاوی ہے…
    یہ نشانی ہے ایمان والوں کی…
    خلوص و وفا کے حوالوں کی…
    یہ صورت نارِ ابراہیم ہے…
    یہ صدائے موسیٰ کلیم ہے…
    گواہ جس کا سرِ طور ہے…
    دریا کی لہروں پر رواں…
    "ان معی ربی” کا سرور ہے…
    یہ اک خواہش ہے دیدار کی…
    جنت کے باغ و بہار کی…
    وہ بلال کی تپتی ریت پر…
    جو لذت ہے پکار کی…
    خباب کے ڈھلتے بدن کی…
    جو تاریخ ہے مہکار کی…
    ہجرت کی راہوں پر جو…
    داستاں ہے محبّت و پیار کی…
    طائف کی گھاٹیوں میں جو…
    صدا لا الہ الا اللہ کے پرچار کی…
    یہ سب محیطِ محبّتِ رب ہے…
    ملے یہ محبّت تو پاس سب ہے…
    دل کا چین،متاعِ حیات بھی…
    دنیا کا سرور،سکونِ ممات بھی…
    گرعملِ صالح سے یہ زندگی گزاری ہے…
    توحید سے محبّت، رہی شرک سے بیزاری ہے…
    رب بھی ایسے بندوں سے چاہتا ملاقات ہے…
    نصیب ہو دیدارِرب،کیا ہی عظمت کی بات ہے…!!!
    ( فمن کان یرجو لقاء ربہ فلیعمل عملا صالحا و لا یشرک بعبادۃ ربہ احدًا¤ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسأَلُکَ حُبَّکَ…🤲🏻)
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • چمکتا ستارہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ   قلمکار: عاشق علی بخاری

    چمکتا ستارہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ قلمکار: عاشق علی بخاری

    چمکتا ستارہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ
    قلمکار: عاشق علی بخاری

    نام عمر کنیت ابو حفص اور لقب خلیفہ راشد، اشج ( زخمی) بنی امیہ اور زاہد ہے. بچپن میں گھوڑے نے آپ کو زخمی کردیا تھا اس لیے آپ بنو امیہ کے زخمی کے لقب سے مشہور ہوگئے، بعض روایات کے مطابق امیر المومنین خلیفہ ثانی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خواب بھی دیکھا تھا کہ کاش میں اپنے بچوں میں سے اس بیٹے کو دیکھ سکتا جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا.
    آپ کی والدہ کا نام لیلی ام عاصم اور والد کا نام عبدالعزيز ہے، آپ مدینہ طیبہ میں 61 ہجری کو پیدا ہوئے. آپ والدین کی طرف سے بڑے بہترین خاندان اور حسن سیرت کے مالک تھے. آپ کی والدہ خلیفہ ثانی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی نواسی ہیں، فاروقی گھرانا آپ کا ننھیال اور ددھیال اموی حکمران ہیں، آپ کے والد عبدالعزیز بن مروان بہت بہادر اور بے حد سخی ہونے ساتھ ساتھ پختہ ارادے کے مالک تھے یعنی جس چیز کا ارادہ کرتے اسے حاصل کیے بغیر نہیں رہتے تھے. جب آپ رحمہ پیدا ہوئے اس وقت آپ کے والد مصر کے گورنر اور چچا خلیفہ تھے، منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والی مثال تو آپ نے سن رکھی ہوگی آج تاریخ کے اوراق سے پڑھ بھی لیں. آپ رحمہ اللہ کے لیے سب سے بڑی خوش نصیبی کی بات یہ ہے کہ آپ کا نسب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ساتویں پشت میں ملتا ہے.
    بات کی جائے اگر آپ کے حلیے کی تو آپ جوانی میں انتہائی خوبصورت اور پرکشش شخصیت کے مالک تھے. جسم بھرا ہوا، داڑھی سے مزین چہرہ جو دیکھے تو دیکھتا ہی رہ جائے. ماتھے پر گھوڑے کی لات سے لگا زخم کا نشان اور سر کے بالوں میں سفید بالوں کی لکیر. جوانی والی رونق آپ کے کم کھانے، کم سونے اور زیادہ وقت آخرت کی فکر کرنے اور ہر وقت اسی سوچ میں گم رہنے کی وجہ سے ختم ہوگئی جس کی جگہ اللہ کا خوف اور تقوے والا رنگ نظر آنے لگا. جسم کمزور اور آنکھیں اندر کو دھنس گئیں. بھلے آپ دیکھنے میں کمزور ہی تھے لیکن اعصاب کے لحاظ سے انتہائی مضبوط تھے.
    آپ کی تین شادیاں تھیں جن سے اللہ تعالیٰ نے بارہ بیٹے اور تین بیٹیاں عطا کی.جس طرح آپ کی والدہ نے آپ کا نام عمر رکھا اسی طرح آپ نے اپنے ایک بیٹے کا نام عمر اور دوسرے کا ابوبکر رکھا جو شیخین خلیفہ اول ابوبکر اور خلیفہ ثانی اپنے پڑنانا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے محبت کی دلیل ہے. اور یہی وجہ ہے کہ جب آپ خلیفہ بنے تو آپ نے خلافت راشدہ کی یاد تازہ کردی اور امت کو پھر سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سخاوت اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی عدالت سے مالا مال کردیا. امت مسلمہ میں پھر سے ایک نئی جان آگئی لیکن وہ لوگ جن کی دکانیں اور جیبیں بند ہوچکی تھیں وہ ہر وقت آپ کی زندگی کا چراغ بجھانے کی کوشش میں لگے رہتے تھے بالآخر آپ کے غلام کے ذریعے آپ کو زہر دی گئی اور اس چراغ کی روشنی ہمیشہ کے لیے بجھادی گئی. حکمرانی جسے آپ بڑی بھاری ذمے داری سمجھتے تھے اس سے بہت جلد شہادت کے ساتھ بری ہوگئے.

  • قبر کی تنہائی کے دَور سے میدانِ حشر تک کیا کیا بیتے گی؟ تحریرجویریہ بتول

    قبر کی تنہائی کے دَور سے میدانِ حشر تک کیا کیا بیتے گی؟ تحریرجویریہ بتول

    اخلاص و شفافیت…!!!
    [تحریرجویریہ بتول]۔
    کسی بھی معاملے میں شفافیت اور نیت کے اخلاص کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے…
    جہاں دل کی دھرتی زرخیز اور نرم ہو وہاں ایمان کے بیج پر بارش بہت جلد اپنا اثر دکھاتی ہے…
    وہ تھوڑے ہی وقت میں پھول پھل کر خوشنما شجر کا رُوپ دھار لیتا ہے جو باقیوں کے لیئے بھی مثلِ سایہ اور ٹھنڈک کا کام دیتا ہے…
    مگر جو دل بنجر ہو جائیں،
    دھرتی روئیدگی کی صلاحیت سے محروم ہو…
    وہاں موسم بہ موسم کی بارشیں بھی برس جائیں مگر پانی وہاں جذب نہیں ہوتا بلکہ چٹیل میدان پر سے فوراً پھسلتے ہوئے بہہ جاتا ہے…
    نتیجتًا وہاں سبزہ اُگتا ہے نہ نرمی کے آثار دکھائی دیتے ہیں…
    وہاں محض شکوک و شبہات،انکار اور اعتراضات و سوالات کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری رہتا ہے…
    پھر وقت بیت جاتا ہے،وقت رُکا نہیں کرتا…
    چاہے ہم رُکے رہیں…فلاح و اصلاح کی طرف بڑھنے اور متوجہ ہونے سے مگر سوئیوں کی ہڑتال کبھی وقت کو روک نہیں سکتی…!!!
    دلوں میں شفافیت کا حُسن نہ جھلملائے…
    اخلاص کا گُلاب نہ کھلکھلائے…
    نیتوں کے فتور نہ تھمیں…
    عبادات کے رنگ مدھم ہی رہیں…
    معاملات سنورنے کی بجائے بگڑتے ہی رہیں…
    تو یقین جانیئے ہم میں کہیں بھول ہوئی ہے…!!!
    ہم نے ظاہر سے باطن تک کا سفر ابھی طے نہیں کیا…
    ہم ظاہریت کے لبادے کی آرائش میں ہی حیراں وغلطاں کھڑے ہیں…
    ہم قیل و قال کے سمندر میں ہی غوطہ زن رہتے ہیں…
    اور کافی وقت کھو جاتا ہے…
    نفاق اور اخلاص کے درمیان ایک بہت بڑی خلیج حائل ہوتی ہے جسے ایمان کی قوت سے پُر کرنا ہوتا ہے…!!!
    ورنہ ایک چیز اگر کسی کے لیئے شفا ہو تو دوسرے کے لیئے خسارہ بن جایا کرتی ہے…
    جیسے کسی کو توانائی اور صحت کی بحالی کے لیئے بہترین غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے…
    مگر جب معدے میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو وہی غذا وبال اور بگاڑ بن جاتی ہے…
    خرابی کا باعث بن کر رہی سہی طاقت بھی چھین لیتی ہے…
    جیسا کہ اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے:
    "اور ہم اس قرآن کے ذریعے ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں جو مومنین کے تو شفا اور رحمت ہیں،لیکن اللّٰہ تعالٰی ان سے ظالموں کے خسارے میں ہی اضافہ فرماتا ہے.”(بنی اسرائیل)۔

    مخلصین اور منافقین کے گروہ کے کردار کی نقاب کشائی کرتے ہوئے اللّٰہ تعالٰی نے کتنا اچھا نقشہ کھینچا ہے…
    کہ جب کوئی سورت نازل ہوتی تو منافقین استہزا کے طور پر ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ اس سورت نے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے ؟
    اللّٰہ تعالٰی نے مخلصین کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرمایا:
    فَاَمَّاالَّذِینَ اٰمَنُوا فَزَادَتھُم اِیمَانًا وَّ ھُم یَستَبشِرُونَ¤
    سو جو لوگ ایمان والے ہیں اس سورت نے اُن کے ایمان کو زیادہ کیا اور وہ خوش ہو رہے ہیں…!!!
    آیات الہیہ میں غورو تدبر کرتے تو ان کے دل خیر و ہدایت کی طرف پھر جاتے مگر یہ سازشوں اور شرارتوں سے باہر نکلے ہی نہیں…
    نتیجہ کیا نکلا؟
    *فزادتھم رجسًا اِلٰی رجسھِم…
    ان کی گندگی کے ساتھ گندگی اور بڑھ گئی۔
    ہمیں چاہیئے کہ ہم اخلاص اور نکھار پیدا کریں…
    نیتوں میں…
    عملوں میں…
    لفظوں میں…
    رویوّں میں…
    معاملات میں…
    دلوں کا میل دھو ڈالیں…
    اس زندگی کو بندگی کے رنگ میں ڈھال کر مخلصا لہ الدین سے آراستہ ہو کر اس سفر کو طے کرتے جائیں…
    اپنی کوتاہیوں کے ازالہ کے لیئے اس کے حضور توبہ و انابت سے حاضر ہو جانے پر اس کا طریقہ کیا ہے؟
    یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِم حَسَنِتِِ
    وقت بہت کم اور سفر بڑا طویل ہے…
    قبر کی تنہائی کے دَور سے میدانِ حشر تک کیا کیا بیتے گی؟
    ہم یقیناً اس سے غفلتوں میں ہیں…!!!
    زندگی کو خلوص کی چاشنی سے گُوندھ کر گزارنے کا تہیہ کر لیں…
    باہر اور اندر کی دنیا کو ہم آہنگ کر لیں…
    خود کو دھوکہ میں مبتلا کریں،نہ لوگوں کو دھوکہ دیں…
    چراغِ راہ بنیں…
    وفا کا استعارہ بنیں…
    کردار کا چمکتا ہوا ستارہ بنیں…
    راہوں کے روڑے نہیں…
    ہم صدق کے ہمنوا بنیں…
    کذب کے کوڑے نہیں…
    بغیر تحقیق و تصدیق کے افواہوں کا حصہ بنیں نہ کان دھریں…
    دوسروں پر تنقید کی بجائے پہلے اپنا آپ ٹھیک کریں…
    شعور کی طرف چل کر لوگوں میں شعور اُجاگر کریں…
    مختلف النوع مزاجوں کو سمجھنے کی کوشش کریں…!!!
    لغو کو زندگیوں سے نکال دیں…
    کیا ہے یہ لغو؟
    ہر وہ بات اور کام جس میں شرعًا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
    ایسی باتوں اور کاموں کا حصہ بننے کے بجائے خاموشی اور وقار سے گزر جانے کو ترجیح دیں…
    دل کی دھرتی جب زرخیزی دکھائے گی تو لاریب آخرت کی کھیتی بھی لہلہائے گی…!!!
    وَکَانَ اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیمًا¤
    اللّٰہ قدر دان بھی اور خوب جاننے والا بھی…!!!
    بے عیب دل،صاف دل،اور مخلص دل اُس دن مال و زر،ہیرے و جواہرات پر فوقیت لے جائے گا…
    یَومَ لَا یَنفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُونَ¤
    اِلَّا مَن اَتَی اللّٰهَ بِقَلبِِ سَلِیمِِ¤
    "جس دن مال اور اولاد کُچھ کام نہ آئے گی لیکن فائدہ والا وہی ہو گا جو اللّٰہ کے سامنے بے عیب دل لے کر آئے…”
    یہ دل کا معاملہ ہی اخلاص اور نفاق،شفافیت اور ملاوٹ کا فرق پیدا کر دیا کرتا ہے…!!!
    الٰہی ہمیں وہ دل دے جو:
    اللّٰہ کی رضا پر راضی دل…
    سنت مطہرہ پر مطمئن دل…
    دنیا کے مال و زر کی بجائے ایمان کی محبت سے سرشار دل…
    جہالت کی تاریکی سے دُور علم سے منور دل…
    اخلاص و شفافیت کے سفر کے راہی کا روگوں سے عافیت والا دل ہو…!!!
    ===============================
    [جویریات ادبیات]
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • راجہ داہر کے پیروکار ۔۔  جنازے کے بغیر تدفین اور زنجیروں میں جکڑی قبر ۔۔۔  تحریر: محمد عاصم حفیظ

    راجہ داہر کے پیروکار ۔۔ جنازے کے بغیر تدفین اور زنجیروں میں جکڑی قبر ۔۔۔ تحریر: محمد عاصم حفیظ

    راجہ داہر کے پیروکار ۔۔ جنازے کے بغیر تدفین اور زنجیروں میں جکڑی قبر ۔۔۔
    (ذرا سی بات ۔۔ محمد عاصم حفیظ)
    سندھ کے کٹر قوم پرست مقامی رہنما عطا بھنبھرو کی وصیت کے مطابق انکی تدفین انوکھے انداز میں کی گئی
    وصیت کے مطابق جنازہ نماز ادا نہیں کی گئی اوندھے منہ دفن کر کے انکی قبر کو زنجیروں سے باندھا گیا
    عطا محمد بھنبھرو نے وصیت میں لکھا تھا کہ وہ اسلام کو ایک فریب سمجھتے ہیں اسلئے انکا جنازہ نہ پڑھا جائے اور جب تک سندھ آزاد نہ ہو انکی قبر کے اطراف زنجیریں باندھکر انہیں قید رکھا جائے اور قبر میں اوندھے منہ لٹایا جائے ۔۔ ان کی تدفین میں ان کے خیالات کے حامی کئی نام نہاد دانشور بھی شریک ہوئے جن میں شاہ عبد الطیف بھٹائی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ساجد سومرو بھی شامل تھے جنہوں نے زنجیریں باندھیں ۔۔
    کچھ عرصہ قبل راجہ داہر کو دھرتی کا بیٹا ثابت کرنے ۔ محمد بن قاسم کو ظالم و جابر قرار دینے اور راجہ داہر کا مجسمہ نصب کرنے کا تماشہ لگایا گیا ۔
    اور اب یوں سرعام شعائر اسلام کی توہین و انحراف ۔ سندھ کو مقبوضہ قرار دینے کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے ۔ اس انوکھے واقعے کی خوب تشہیر بھی کی گئی ۔
    سوال یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کہاں ہے ۔ کیا یوں شعائر اسلام کی توہین کرنا اور ملکی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا آسانی سے قبول کر لیا جائے گا ۔ ایک سرکاری ملازم پروفیسر سندھ کے مقبوضہ ہونے کی اس ساری کارروائی کا روح رواں ہے ۔۔ ہمارے اعلی تعلیمی اداروں کے بڑے عہدے کن ہاتھوں میں ہیں ۔ یہ اپنے طلبہ و طالبات کو کیا سیکھا رہےہیں۔۔ کیسی نسل تیار کی جا رہی ہے۔۔ یہ ایک بڑا سوال ہے ؟؟
    اگر کسی داڑھی والے دیندار نے ایسی حرکت کی ہوتی کہ ایک حصے کو مقبوضہ قرار دیکر علامتی احتجاج کرے تو اب تک ادارے حرکت میں آ چکے ہوتے ۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا چیخ چیخ کر گلے پھاڑ چکا ہوتا ۔۔۔ لیکن چونکہ وہ قوم پرست اور لبرل و سیکولر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے سب جائز ہے اور کوئی ایکشن نہیں ہو گا ۔۔۔

  • کرونا سے احتیاط کے حوالے سے اجماع کے نا ہونے کی بڑی وجہ "سرکاری مفتی” کا نا ہونا اور اس عہدہ کو مذاق اور نیچ بنا دیا جانا ہے

    کرونا سے احتیاط کے حوالے سے اجماع کے نا ہونے کی بڑی وجہ "سرکاری مفتی” کا نا ہونا اور اس عہدہ کو مذاق اور نیچ بنا دیا جانا ہے

    *سرکاری مفتی؟ ***

    موجودہ وبا کے ہنگام،ایک آئینی اسلامی ریاست کے متفقہ اجتماعی نظام رہنمائی (فتوا، شرعی رائے ) کی جس قدر ضرورت محسوس ہو رہی ہے ـــــــ شاید قریب قریب کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی….! ایک ایک مسلک میں ایک سو اسی درجہ کی رائے سامنے آتی رہی اور پورے تیقن کے ساتھ…. مخالف رائے کو قریب قریب ردی قرار دے کر… حتی کہ لوگوں کو منبر سے شرم تک دلائی گئی احتیاط کرنے پہ.. قسمیں کھلائی گئیں احتیاط سے دور رہ کر "پختہ” ایمان کے مظاہرے کی…. یقیناً جید علماء کرام نے اس کے برعکس انتہائی ذمہ داری اور شرعی بصیرت کا مظاہرہ بھی کیا…لیکن وہ کنفیوژن اور عوامی سطح پر میسج اس حلقے سے ہمیں پہنچا، کیا وہ ایک اور حقیقت پسندانہ تھا؟؟

    لیکن مجھے تو جو کمی محسوس ہو رہی ہے ـــــــ وہ اوپر عرض کر دی ہے…. ہم لوگوں نے "سرکاری مفتی” کے لقب اور عہدے کو، جو موجود ہی نہیں ہے کہیں…. خود ہی اس قدر نیچ بنا دیا ہے اپنی نجی گفتگو اور کتب و رسائل میں… کہ کل کو اس کی کوئی گنجائش نہ رہے… پیدا ہو جائے، تو credible نہ ہو…
    خلافت، سیاسی اجتماعیت اور کیا کیا کچھ چاہنے والوں میں سے کتنے ہیں، جنہوں نے اپنے ہاتھوں یہ” خیر” کمائی ہے!

    فرد واحد کی ایسے کسی عہدے پر تعیناتی سے پیدا ہونے والے مسائل سے بچنے کے لیے پانچوں وفاقوں سے علماء کی نمائندگی لے کر سرکاری "مجلسِ کبار علماء” بنانی چاہیے، جو شرعی امور میں متفقہ رائے پیش کرے، جو ریاست کا مؤقف ہو… یوں اسے سلطہ بھی میسر ہو جائے گا اور حالیہ وبا کے دنوں میں مذہبی مواقف میں باہم فاصلے اور کنفیوژن سے بچا جا سکے گا…. اس کے لیے کوشش کرنی چاہیے….

    اسلامی نظریاتی کونسل ہی کی مذکورہ بالا شکل میں تشکیل نو وقت کی اہم ضرورت ہے

  • وہ رکھتا ہے سارے حساب خبیر… بقلم:جویریہ بتول

    وہ رکھتا ہے سارے حساب خبیر… بقلم:جویریہ بتول

    سارے حساب…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    میرا رب ہے وہ محتسب و بصیر…
    جو رکھتا ہے سارے حساب خبیر …
    دلوں میں اُٹھتے ہیں جو سب خیالات…
    ہیں تلاش کرتے ہیں جو اُن کی تعبیر…
    عملِ صالح کی ہر اک اَدا…
    اور ریا کاری کے انداز حقیر…
    مخلصی کے رنگ کی وسعتیں…
    اور جو ہوتے ہیں ظاہریت کے سفیر…
    اس کی یاد سے دھڑکتے ہوں دل…
    یا پھر غفلتوں کے ہوں مارے خمیر…
    وہ رکھتا ہے سارے حساب خبیر…
    جزا کے ضیاع کا ہے نہیں کوئی ڈر…
    سزا سے ہو سکے گا کیسے مفر…؟
    اک یومِ حساب ہے اور وہ محتسب…
    پھر جنت کے سکوں ہوں یا عذابِ سعیر…؟
    وہ رکھتا ہے سارے حساب خبیر…
    جو ظاہر ہیں ہم اور جو ہیں درِ پردہ…!!!
    اک ایک پَل کے عمل ہیں جو کردہ…
    لکھتے ہیں ساتھ ساتھ کِرامًا کاتبین…
    واں ہوں گے جواب دہ کھڑے غریب و امیر…
    آؤ کہ کریں نیتوں کے ہم سیدھے رُخ…
    زندگی کے ایام میں نہ دیں کسی کو دُکھ…
    رب کی رضا کو کریں اپنا ایماں…
    وقت ہے بہت کم،جمع کر لیں ساماں…
    سفر ہے طویل اور یہ زندگی ہے قلیل…
    رہیں حق کے ہی داعی اور حق کے مشیر…
    آتے ہوئے ہر خیال سے، قدم نہ ڈگمگائے یہ…
    اُٹھے سدا وہ قدم،کہ مطمئن رہے پھر اپنا ضمیر…
    میرا رب ہے وہ محتسب و بصیر…
    جو رکھتا ہے سارے حساب خبیر…!!!!!!!
    =============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤