Baaghi TV

Category: کشمیر

  • کشمیریوں کو بولنے دو، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مظالم پر ویڈیو جاری کر دی

    کشمیریوں کو بولنے دو، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مظالم پر ویڈیو جاری کر دی

    انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اپنی ویڈیو رپورٹ میں کشمیریوں‌ پر ہونے والے بھارتی مظالم کو بیان کر کے بھارت سرکار کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے 40 روز مکمل ہونے پر ایک ویڈیو جاری کی ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاری ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے لاک ڈاون کی وجہ سے 80 لاکھ افراد متاثر ہیں جبکہ موبائل فونز، انٹرنیٹ کنکشن تاحال چالیس روز سے بند ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں آدھی رات کو بھارتی فوج کے چھاپوں، ٹارچر کی رپورٹس آئی ہیں،بزدل بھارتی فوج نہتے کشمیریوں پر آنسوگیس، ربڑ کی گولیاں، پیلٹ گنز کا استعمال کررہی ہے۔ پیلٹ گنز سے متعدد نوجوان زخمی بھی ہوئے ہیں، شہریوں کی بڑی تعداد نظربند ہیں

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں ڈاکٹرز، صحافی، سیاسی رہنما اور کارکنان زیرحراست ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ختم کرے اور کشمیریوں کو بولنے کا موقع دے. کشمیری خاندان والے اپنے پیاروں سے بات نہیں کر پا رہے، قابض سرکار نے مکمل طور پر انفارمیشن پر کنٹرول رکھا ہوا ہے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر تشویش کا اظہار

    واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو 41 روز ہو گئے ہیں،بھارتی حکام نے گذشتہ 40 روز میں دس ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جن میں سابق وزرا اعلی سمیت 200 سے زائد سیاستدان شامل ہیں .بھارتی فوج نے 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو سنگ بازی کے الزام میں گرفتار کیا، ڈیڑھ سو سے زائد کشمیریوں کو عسکریت پسندوں سے تعلق کے الزام پر گرفتار کیا گیا ہے.

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایسی بات کر دی کہ مودی سرکار کو ہلا کر رکھ دیا، کیا کہا؟ جانیے تفصیل میں

    لاکھوں لوگوں کو ادویات اور اشیائے خوراک تک رسائی نہیں جب کہ انٹرنیٹ اور موبائل سروسز مسلسل بند ہیں، اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز اور مقامی کشمیریوں کے درمیان جھڑپیں معمول بن چکی ہیں. تعلیمی ادارے تا حال بند ہیں، سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فوج کشمیری خواتین کو بھی تشدد کا نشانہ بناتی ہے، کشمیر میں چھ ہفتے گزر گئے کشمیریوں‌کو نماز جمعہ مسجد میں ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی.

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے رواں برس ماہ جون میں 44 صفحات پر کشمیر کے حوالہ سے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 2012 سے 2018 کے دوران 210 کشمیری قیدیوں کے مقدمات کا جائزہ لیا ، جن میں سے ستر فیصد مقدمات میں کشمیریوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کہا گیا کہ حریت رہنما مسرت عالم جو ابھی تک جیل میں‌ہیں عدالت نے 28 بار ان کی نظربندی ختم کی اور رہا کرنے کا حکم دیا لیکن بھارت سرکار نے مسرت عالم کو رہا نہیں کیا، کشمیر کے مقامی وکلاء نے ایمنسٹی انٹرنیشنل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سرکار کشمیریون کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ہی گرفتار کرتی ہے کیونکہ اس میں عدالت میں زیادہ جواب نہیں دینا پڑتا.

    واضح رہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس رپورٹ سے متعلق سری نگر میں پریس کانفرنس کرنا تھی، مگر ایمنسٹی انٹرنیشنل کو اجازت نہیں دی گئی تھی جس کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میڈیا کو جاری کر دی .

    واضح رہے کہ پبلک سیفٹی ایکٹ بھارت سرکار کا بنایا گیا ایک ایسا قانون ہے جس کے تحت کسی بھی شخص کو کوئی تسلیم شدہ جرم کئے بغیر نظر بند رکھا جاتا ہے. بھارتی سپریم کورٹ نے بھی پبلک سیفٹی ایکٹ کوغیرقانونی قرار دیا ہے لیکن اس کے باوجود بھارت سرکار کشمیر مین یہ قانون استعمال کر رہی ہے

  • مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی نے وزیراعظم عمران خان کا فیصلہ تسلیم کر لیا، اہم خبر

    مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی نے وزیراعظم عمران خان کا فیصلہ تسلیم کر لیا، اہم خبر

    آزادکشمیر کی سیاسی جماعتوں نے وزیر اعظم عمران خان کا فیصلہ تسلیم کر لیا، وزیر اعظم کے اقوام متحدہ سے خطاب تک ایل او سی کی طرف کوئی مارچ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ن لیگ، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے یہ متفقہ فیصلہ کیا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتجاجی تحریک کو حتمی شکل دینے کے لیے وزیراطلاعات کی زیر نگرانی کمیٹی قائم کی گئی ہے، بھارتی مظالم کے خلاف شہر شہر مشترکہ پرامن احتجاج کیا جائے گا ، وزیراعظم آزادکشمیر کی زیر صدارت ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے،

    وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز آیندہ اعلان تک ایل او سی کی جانب مارچ نہ کرنے کی اپیل کی تھی،

  • بنگلہ دیش بھی کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں سے گونج اٹھا ، چٹاگانگ میں ہزاروں بنگالی مسلمانوں کا کشمیریوں کے حق میں مظاہرہ

    بنگلہ دیش بھی کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں سے گونج اٹھا ، چٹاگانگ میں ہزاروں بنگالی مسلمانوں کا کشمیریوں کے حق میں مظاہرہ

    چٹاگانگ : بنگلا دیش کے مسلمان بھی کشمیر اور کشمیری مسلمانوں کے حق میدان میں آگئے ، بنگلہ دیش میں جگہ جگہ کشمیویوں کے حق میں مظاہرے ، جلوس اور جلسے ، بنگلہ دیش کی فضائیں ” کشمیر بنے گا پاکستان ” کے نعروں سے گونج اٹھا


    باغی ٹی وی کو بنگلا دیش سے ملنے والی اطلاعات اور تفصیلات کے مطابق بھارت کے خلاف سب سے بڑا مظاہرہ چٹاگانگ کے میدان میں ہوا جہاں ایک لاکھ سے زائد بنگالی مسلمانوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج کیا اور بھارتی مظالم کی پرزور مذمت کی ،

    چٹاگانگ سے اطلاعات کےمطابق سخت ترین موسلا دھار بارش کے باوجود دسیوں ہزار بنگالی مسلمان چٹاگانگ کے میدان میں گھنٹوں موجود رہے اور کشمیریوں کی آزادی کے لیے بھرپور انداز سے آواز بلند کی، لوگوں نے چٹاگانگ کی فضاوں کو کشمیر کے نعروں سے معطر کردیا ، اطلاعات کے مطابق اس کے علاوہ بھی بنگلہ دیش کے چپے چپے میں بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور بھارتی مظالم کی پروزانداز میں مذمت کی

  • بزدل بھارتی فوج نے سویلین آبادی کو نشانہ بنالیا ، فائرنگ میں ایک خاتون شہید ، 4 خواتین سمیت 6 زخمی

    بزدل بھارتی فوج نے سویلین آبادی کو نشانہ بنالیا ، فائرنگ میں ایک خاتون شہید ، 4 خواتین سمیت 6 زخمی

    راولپنڈی:بزدل بھارتی فوج نے کنٹرول لائن پر عام شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ، اطلاعات کےمطابق بھارتی فوج نے ایک بار پھر لائن آف کنٹرول کے مختلف سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں ایک خاتون شہید اور 4 خواتین سمیت 6 افراد زخمی ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول کے مختلف سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ کی ہے، بھارتی فوج نے نکیال اور جندروٹ سیکٹرز پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فائرنگ سے بالاکوٹ گاؤں کی فاطمہ بی بی شہید ہوگئیں۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کی شہری آبادی پر بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 4 خواتین سمیت 6 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مغربی بارڈر پر 2 مختلف واقعات میں 4 سیکیورٹی اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوا تھا۔افغانستان کے بارڈر پر یہ حملہ پاکستان دشمن پی ٹی ایم نے کیا ہے

  • بھارتی فوج کی ایل او سی پر فائرنگ، خاتون شہید 6 افراد زخمی

    بھارتی فوج کی ایل او سی پر فائرنگ، خاتون شہید 6 افراد زخمی

    بھارتی فوج کی کنٹرول لائن پر فائرنگ سے زخمی 6 افراد کو قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے 6 افراد میں 4 خواتین شامل ہیں، بھارتی فوج کی فائرنگ سے 40 سالہ خاتون فاطمہ بی بی شہید جبکہ 6 افراد زخمی ہوئے ہیں ، آئی ایس پی آر کے مطابق ہندوستانی فوج کی طرف سے سول آبادی پر فائرنگ نکیال اور جنڈروٹ سیکٹر میں کی گئی،

    واضح‌ رہے کہ آج صبح بھی بھارتی فوج نے حاجی پیر سیکٹر میں فائرنگ کر کے پاک فوج کے ایک جوان کو شہید کر دیا تھا،

  • جموں وکشمیر پیپلز کانفرنس نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    جموں وکشمیر پیپلز کانفرنس نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    مقبوضہ کشمیر میں، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس (جے کے پی سی) نے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے صدارتی حکم نامے کو بھارتی سپریم کورٹ چیلنج کر دیا۔

    آرٹیکل 370 ہٹانے پر سپریم کورٹ کا مودی کو نوٹس، آئندہ سماعت کب ہو گی….جانیے

    وکیل اعجاز مقبول کے توسط سے دائر درخواست میں جے کے پی سی نے کہا کہ کشمیر کا ایک علیحدہ آئین ہے اور بھارتی پارلیمنٹ کے پاس اس علاقے کے لئے قانون سازی کرنے کی محدود گنجائش ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ بھارتی صدر کو اختیار نہیں ہے کہ وہ متعلقہ اسمبلی کی منظوری کے بغیر علاقے کی سیاسی شکل اور جوہر کو تبدیل کرسکیں۔

    بھارتی انتظامی افسر بھی آرٹیکل 370 کے خاتمے کے خلاف بول پڑا

    درخواست کے مطابق پورا علاقہ خصوصا وادی ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے کرفیو کی حالت میں ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کی خواہشات کے خلاف آئینی تبدیلی لاگو کی گئی ہے۔

  • امریکی ڈیموکریٹ رکن کانگریس نے مقبوضہ کشمیر حوالے بھارت سے بڑا مطالبہ کر دیا

    امریکی ڈیموکریٹ رکن کانگریس نے مقبوضہ کشمیر حوالے بھارت سے بڑا مطالبہ کر دیا

    امریکہ کی ڈیموکریٹ رکن کانگریس راشدہ طالب نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کرنے کی پرزورمذمت کرتے ہوئے بھارتی حکومت کو وادی میں مواصلاتی بندش ختم کرنے کا کہا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کیلئے 95ارکان کی حمایت کرلی،مسلم رکن کانگریس راشدہ طالب

    ایک بیان میں، راشدہ نے کہا ، ”میں بھارتی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی ، مواصلاتی ناکہ بندی ، جان بچانے والی طبی نگہداشت پر دباو، اور بڑے پیمانے پر تشدد اور انسانی حقوق کی پامالی کی دیگر اطلاعات کی مذمت کرتی ہوں۔“

    ” ان ناقابل قبول حرکتوں سے کشمیریوں کے انسانی وقار کو ختم کیا اور لاکھوں افراد کی زندگی کو خطرہ میں ڈال دیا ، اور ہندوستان اور کشمیر میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا۔ لوگوں کو غیر منصفانہ نظربندی ، عصمت دری یا تشدد سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہ کون ہیں اور وہ کیا مانتے ہیں ۔“ کانگریسی خاتون نے مزید کہا۔

    راشدہ کے مطابق، ”میں نے مشی گن کے باشندوں سے ملاقات کی ہے جو کشمیر میں اپنے اہل خانہ کو کال بھی نہیں کرسکتے کہ وہ اس بات کا یقین کر سکیں کہ وہ محفوظ ہیں، واقعی ایک ناقابل تصور صورتحال ، جیسے تشدد ، عسکریت پسندی اور قبضہ بدستور جاری ہے۔ جموں وکشمیر پہلے ہی زمین پر سب سے بڑا فوجی علاقہ ہے اور بھارت کے حالیہ اقدامات سے عدم استحکام پیدا ہوا اور تشدد تیز ہوا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا ، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے جون 2018 اور جولائی 2019 میں دو رپورٹیں جاری کی تھیں ، جس نے وادی میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

    "جیسا کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے گروپوں نے نوٹ کیا ہے ، آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ (اے ایف ایس پی اے) کے ذریعہ بھارتی فوج کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالیوں کے لئے قانونی کارروائی سے مستقل معافی احتساب کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور وہ طاقت کے غیر متناسب استعمال کو برقرار رکھتی ہے۔ بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے پیلٹ شاٹ گنوں اور آنسو گیس کے استعمال سے متعدد کشمیری زخمی ہوگئے ہیں ، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ مزید برآں ، اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیری عوام کی زندگی بچانے والی طبی نگہداشت تک رسائی میں کمی کردی ہے ، دوائیوں کی قلت پیدا کردی ہے اور ڈاکٹروں اور فارمیسیوں کے سفر کو محدود کردیا ہے۔”

    کانگریسی خاتون نے مزید کہا کہ متعدد اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 3000 سے زائد افراد کو سرکاری تحفظ ایکٹ کے تحت بھارتی حکومت کی جانب سے بغیر کسی الزام کے غیر معینہ مدت کے لئے حراست میں لیا گیا ہے ، ان میں بچے ، وکلا ، ڈاکٹر ، مذہبی رہنما اور حزب اختلاف کے سیاسی رہنما بھی شامل ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا ، "جموں و کشمیر میں کیا ہورہا ہے اس پر روشنی ڈالنے کے لئے مواصلات کی ناکہ بندی اور کرفیو کی تمام پابندیوں کو فوری طور پر ختم کیا جانا چاہئے۔ بھارت اس بات کو یقینی بنائے کہ ہسپتالوں کی زندگی بچانے والی دوائی تک رسائی حاصل ہو۔ امریکی حکومت کو اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ پرامن قرار داد کی حمایت کرنی چاہئے جو خود مختاری کی بحالی اور جموں و کشمیر کے عوام کی خودمختاری کو یقینی بنائے۔ ہم لاکھوں کشمیریوں کو امن اور وقار کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی خواہش سے محروم نہیں رہ سکتے۔ “

  • فلمیں اور ڈرامے بھی کشمیر سے  منسلک کیے جائیں ، ماہرہ خان تو عمران خان  سے زیادہ کشمیر کی سفیر بن گئیں‌

    فلمیں اور ڈرامے بھی کشمیر سے منسلک کیے جائیں ، ماہرہ خان تو عمران خان سے زیادہ کشمیر کی سفیر بن گئیں‌

    کراچی : ہمیں‌اپنی اقدار نہیں چھوڑنی چاہیں ، عاجزی اور انکساری ہی سے کامیابیاں ملتی ہیں، ہم نہ کشمیریوں کے پہلے بھولے ہیں اور نہ آئندہ بھولیں‌ گے ، ہم کشمیری ہیں اور کشمیری پاکستانی ہیں، فلموں اور ڈراموں کو بھی کشمیر سے منسلک کرنے کا اعللان کرتی ہیں، ان خیالات کا اظہار پاکستان کی صف اول کی اداکارہ ماہرہ خان نے اپنے پیغام میں کیا

    ذرائع کے مطابق پاکستان کی صف اول کی اداکارہ ماہرہ خان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں بے شمار کامیابیاں کی بدولت ملنے والی شہرت کے باوجود آج بھی سب سے عاجزی اور انکساری سے ملتی ہوں ۔جونیئرز پر اپنے سٹار ہونے کا رعب جھاڑنے کے بجائے ان کی رہنمائی کرتی ہوں کیونکہ میں بھی کبھی اس مرحلے سے گزر چکی ہوں۔

    ماہرہ خان نے اپنے پیغام میں‌ کہا کہ ہمارے لیے سب سے پہلے کشمیری ہیں ، ہم کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں‌ گے ، ماہرہ خان نے تجویزبھی دی اور خود عمل کرنے کا اعادہ بھی کیاکہ فلموں اور ڈراموں کے ابتدائیہ میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا پیغام دیا جائے

  • 2019 سے پہلے اور بعد کا کشمیر، وعدے اور غداری …. جسٹس منظور گیلانی

    2019 سے پہلے اور بعد کا کشمیر، وعدے اور غداری …. جسٹس منظور گیلانی

    5 اگست ، اکتوبر 1947 میں ریاست کے حکمرانوں کو ڈرا دھمکا کر بھارت کی طرف سے ریاست جموں و کشمیر کے خفیہ الحاق کی مبینہ قانونی دستاویز سے ملتا جلتا ہے۔اس نے بھارت کے ساتھ ریاست کے آئینی تعلقات کو منسوخ کرتے ہوئے بڑی ڈھٹائی سے ریاست کو مرکزی سرزمین میں ضم کر دیا ، جس کی بھارتی آزادی ایکٹ 1947 کے سیکشن 7 کے تحت بھارت کے گورنر جنرل کی جانب سے الحاق کی شرائط کے مطابق خود ریاست کے عوام نے رائے شماری کے ذریعہ توثیق کرنا تھی ۔ ہندوستان اب ریاست میں ایک قابض فوج ہے جس نے اپنی فوج کے زور پر زمین اور لوگوں پر قبضہ کیا ہوا ہے۔

    پاکستان کو کشمیر پر فوری ردعمل دینا چاہیے تھا، سابق وزیر خارجہ حسین ہارون

    بھارتی دعویکہ یہ کارروائی داخلی معاملہ ہے، سراسر دھوکہ دہی ہے۔ جب مبینہ اندرونی معاملہ بارڈرزکے آرپار لوگوں پر اثر ڈالتا ہے ،جب اس سے خطے اور دنیا کے امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو یہ بین الاقوامی معاملہ ہے۔ مزید برآں جب اس کو ابتدا سے ہی اقوام متحدہ کے قراردادوں کے ذریعے ترتیب دیا گیا ہو اور سیکورٹی کونسل کی30مارچ 1951اور 24جنوری1957کی قراردوں کے مطابق ریاست کی تقسیم صرف رائے شماری کے ذریعے ممکن ہے۔

    بھارت اپنے آئین کے آرٹیکل 253 کا پابند ہے کہ ان قراردادوں کو اکٹھا کرے اور پارلیمانی قانون کے ذریعے ان پر عمل درآمد کرے یا اپنے آئین کے آرٹیکل 51کے تحت مذاکرات سے حل کرنے یا بین الاقوامی ثالثی کے لیے دیانتداری کے ساتھ آگے آئے۔

    عمل کے نتائج
    شملہ ، لاہور اور اسلام آباد کے اعلامیہ سمیت بھارت اور پاکستان کے مابین مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے تمام دوطرفہ معاہدے، سوائے اس کے کہ ان پر عمل کیا جائے ، بھارت کی طرف سے یکطرفہ منسوخ کئے گئے۔ شملہ معاہدے کے تحت تسلیم کی گئی لائن آف کنٹرول سیز فائر لائن میں تبدیل ہو گئی جس طرح 1949 کے سیز فائر معاہدے کے ذریعہ تصور کی گئی۔ ریاست میں بھارتی پوزیشن واپس26 اکتوبر 1947 والی ہو گئی۔

    کیا کریں؟
    حکومت پاکستان کوبھارت کے ساتھ ایسے تمام باہمی معاہدوں سے دستبردار ہونے کا اعلان کرناچاہیے جو بین الاقوامی سطح پر اس کے قیام میں رکاوٹ ہیں اور اسی کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کو آگاہ کرنا چاہیے۔

    اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو ، اس کو 12/8/47 کو ریاست کے حکمران کے ذریعہ پیش کردہ معاہدے اور 15 اگست 1947 کو حکومت پاکستان نے قبول کیا اور ، 19 جولائی 1947 کو ریاست کی واحد نمائندہ سیاسی و پارلیمانی پارٹی آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے ذریعہ ریاست پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد کو اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ریفرنڈم سے مشروط کرتے ہوئے، اپنے آئین کے آرٹیکل 1 کے تحت پوری ریاست کو اپنی سرزمین کے طور پر شامل کرنا چاہئے۔

    پاکستان کی پارلیمنٹ کو حکومت پاکستان سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ وہ ریاست کے بھارتی قبضے سے آزادی کے لئے مناسب اقدامات اٹھائے جس طرح ہندوستانی پارلیمنٹ نے 1994 میں منظور کیا تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ 1975 میں مشرقی تیمور کارروائی کی طرح ریاست میں امن قائم رکھنے والی فورسز کوبھیجنے کے لئے مناسب اقدامات اٹھائے ، تاکہ بھارتی فورسز کے کرفیو اور محاصرے میں لوگوں کی جان ، عزت اور آزادی کو بچایا جاسکے۔ اسے ڈاکٹر ، دوائی ، کھانا ، پانی بھیجنا چاہئے اور ریاست میں اپنا مواصلاتی نیٹ ورک قائم کرنا چاہئے۔

    حکمرانو! سن لو اگر کشمیر پر دھماکہ دار پالیسی نہ اپنائی تو قوم تمہارا دھماکہ کردے گی،کوتاہی برداشت نہیں، عبداللہ گل

    حکومت پاکستان کو سابق قابل کشمیریوں اور پاکستانیوں کے ذریعہ دنیا کے بین الاقوامی اور علاقائی سیاسی و معاشی اتحاد کے مراکز میں سخت اور پرجوش سفارت کاری کا سہارا لینا چاہئے۔

    آو ہم سب کشمیر کے سفیر بن جائیں ! از رضی طاہر

    ویٹیکن کے پاپ فرانسس سے مداخلت اور عیسائی دنیا پر بھارت پر دباﺅ ڈالنے کے لیے خصوصی طور پر رجوع کیا جانا چاہئے۔
    وہ تمام افراد جو رضاکارانہ یا سرکاری طور پر کام کرتے ہیں، انہیں کشمیریوں سے مسئلہ کشمیر کی نزاکتوں، پاکستانی اور ہندوستانی نقطہ نظر اور زمینی حقائق کو سمجھنا چاہئے۔

    اگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو پاکستان کو ریاست کے آٹھ ملین افراد کو بچانے کے لئے امریکہ کے افغانستان اور اب مشرق وسطی میں کردار کے مطابق کام کرنا چاہئے۔ اگر یہ بھی قابل قبول نہیں ہے تو ، پاکستان کو آزاد جموں وکشمیر کو اپنی دفاعی چھتری کے تحت ریاست کے عوام کی نمائندہ حکومت کے طور پر اعلان کرنا چاہئے ، اور محصور حصے کی آزادی کے لئے بین الاقوامی مہم شروع کرنے میں مدد فراہم کرنا چاہئے۔

    عالمی رائے عامہ، دعویداروں سے زیادہ ، بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے متاثرین کی سنتا اور حمایت کرتااور مدد کرتا ہے ، جیسا کہ اب ہوا ہے جیسا کہ اس نے پچھلے ستر سالوں میں نہیں کیا۔

    پاکستان کو یہ یقین ہونا چاہئے کہ تمام کشمیری بھارت کے خلاف (گھروں سے) باہر ہیں۔ پاکستان سے الحاق اور ریاست کی آزادی کے دعویدار، کے بارے میں پاکستان آئین کے آرٹیکل 257 کا مطلب ہونا چاہئے کہ اس میں ”الحاق اورآزادی “کے الفاظ”ریاست کی عوام کی خواہشات کے مطابق“ شامل ہونے چاہئیں۔ ہندوستانی قبضے کے خاتمے کے بعد ایک بار جب ریاست کے لوگ جمع ہو جاتے ہیں تو وہ حتمی ثالث ہیں۔ پہلے اس پر ہاتھ جوڑیں ، اور باقی سب کو چھوڑ دیں۔

    ابھی دیر ہو رہی ہے ،اسے کیجئے ،اس سے پہلے کشمیریوں کو بھارتی وحشی طاقت کے ذریعے نیست و نابودکردیں۔

    کالم نگار ایک ریٹائرڈ جج ہیں۔
    (بشکریہ ڈیلی ٹائمز)

  • حکمرانو! سن لو اگر کشمیر پر دھماکہ دار پالیسی نہ اپنائی تو قوم تمہارا دھماکہ کردے گی،کوتاہی برداشت نہیں، عبداللہ گل

    حکمرانو! سن لو اگر کشمیر پر دھماکہ دار پالیسی نہ اپنائی تو قوم تمہارا دھماکہ کردے گی،کوتاہی برداشت نہیں، عبداللہ گل

    اسلام آباد: حکمرانوں اگر کشمیر پر دھماکہ دار پالیسی عوام کی امنگوں کے مطابق نہ اپنائی گئی تو قوم پالیسی سازوں اور آپکا دھماکہ کر دیگی۔ان عوامی خیالات کااظہار تحریک جوانان پاکستان وکشمیرکے سربراہ ، سابق سربراہ آئی ایس آئی جنرل حمید گل کے صاحبزادے عبداللہ گل نے وزیراعظم عمران خان اور دوسرے ذمہ دار پالیسی سازوں کے نام اپنے پیغام میں کیا

    عبداللہ گل نے اسلام آباد والوں کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم اور جبر کے نئے سلسلے کو 41 روز ہوگئے ، قوم پوچھتی ہے کہ بیان بازی کےعلاوہ کیا کچھ کیا ، قوم پوچھتی ہے کہ کیا بھارت کا فضائی راستہ بند کیا ، بھارت سے تجارتی لین دین منقطع کیے ، کیا پاکستان کے راستے سے بھارت جو اربوں ڈالرز کی تجارت کررہا ہے کیا اس کو بند کیا

    عبداللہ گل نے حکمرانوں‌ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیا ہورہا ہے کہ ایک طرف بھارت کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہاہے اور ہمارے حکمران صرف بیان دے کر سمجھتے ہیں‌کہ ان کا فرض ادا ہوگیا ہے ، کیوں بھارتی سفارتخانہ بند نہیں‌ کیا گیا،پاکستان میں بھارتی مصنوعات کی بھرمار ہے اس پر پابندی کیوں نہ لگائی گئی ، پاکستانی قوم پوچھتی ہے کہ بھارتی فوج پاکستانی سرحدوں کی طرف بڑھ رہی ہے اسلام اباد والوں نے کیا حکمت عملی اپنائی ہے ،

    جنرل حمید گل کے فرزند ارجمند عبداللہ گل نے حکمراںوں اور پالیسی ساز اداروں کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ تمہیں کیا ہوگیا کہ ایک طرف کشمیر پر پاکستان سفارتی جنگ کے دعوے کررہا ہے تو پھر کیوں نہ افغان ثالثی کو کشمیر سے مشروط کیا گیا ، کیا پاکستان کے پاس یہ بہترین موقع نہیں‌ہے کہ وہ افغان مسئلے پر کشمیر کاز کا بھرپور استعمال کرے

    عبداللہ گل نے عمران خان سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ وہ بتائیں کہ کیا اگر اسلام آباد پر بھارت نے قبضہ کیا ہوتا تو تب بھی یہی صاحب اقتدار کا رویہ ہوتا؟کیوں قوم کو دھوکے میں رکھا جارہاہے، قوم نتیجہ مانگتی ہے یہ بیان بازی اور کشمیر پر دوغلی پالیسی کو پسند نہیں‌کرتی

    تحریک جوانان پاکستان وکشمیر کے سربراہ عبداللہ گل نے اپنے پیغام میں کہا کہ عجیب معاملہ ہے کہ خان صاحب کے دورہ امریکہ کے بعدکشمیر دولخت ہوا ، اور دوسری طرف یہ حالات پیدا کیے جارہے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہونے لگی ہیں،دینی لوگوں پر پابندیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ، کیا یہ ہے ہماری خارجہ پالیسی کہ ہم ایک طرف بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں‌تو دوسری طرف اپنے ہی دعوں کے برعکس کام بھی کرتے ہیں

    عبداللہ گل نے عمران خان کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جناب آپ قوم کو کیا سمجھتے ہیں ، بتائیں کہ وہ کونسا ورلڈ کپ ہے جس کی جیت سے قوم ناواقف ہے اور کیوں؟عبداللہ گل نے کہا کہ اب وقت سستی اور کاہلی کا نہیں ، اب سیاسی بیان بازی نہیں‌ہونی چاہیے ، اب کشمیر کو حقیقی طور پر بھارت کی غلامی سے نجات دلانی چاہیے ، جس کے لیے قوم تو تیار ہے مگر آپ فی الحال تیار نظر نہیں آتے ، خدارا کشمیریوں پر رحم کرو