Baaghi TV

Category: کشمیر

  • پاکستان اگر جنگ سے بچنا چاہتا ہے تو آزاد کشمیر حوالے کر دے…. ایک اور بھارتی وزیر کی گیڈر بھھکی

    پاکستان اگر جنگ سے بچنا چاہتا ہے تو آزاد کشمیر حوالے کر دے…. ایک اور بھارتی وزیر کی گیڈر بھھکی

    بھارتی وزیر برائے سماجی انصاف اور ریپبلکن پارٹی آف انڈیا (آر پی آئی) کے سربراہ رام داس اٹھاولے پاکستان کو گیڈر بھبھکی لگاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے مفاد میں ہے کہ وہ آزاد کشمیر کو ہندوستان کے حوالے کر دے کیونکہ کئی خبروں میں یہ سامنے آیا ہے کہ وہاں کے لوگ پاکستان سے ناخوش ہیں اور وہ ہندوستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

    واضح رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی لاکھوں کی تعداد میں فوج کی موجودگی کے باوجود گذشتہ 41دن سے کرفیو نافذ ہے۔ کرفیو کے باوجود کشمیری عوام محاصرہ توڑ کر بھارت کے خلاف مظاہرے کر رہی ہیں۔ بھارت نے مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ، موبائل سروس کے ساتھ ساتھ لینڈ لائن سروس بھی بند کر دی ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتحال سے دنیا واقف نہ ہو جائے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پاکستان کو ایک اور گیڈر بھبھکی لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی اور اسلام آباد کے مابین مذاکرات ہوئے تو یہ صرف آزاد کشمیرپر ہوں گے۔
    راجناتھ سنگھ کی نئی گیڈر بھبھکی، آزاد کشمیر کے متعلق بیان دے دیا
    راجناتھ سنگھ نے ایک اور بیان میں کہا تھا کہ انڈیا نیوکلیئر ہتھیاروں کا پہلے استعمال نہ کرنے سے متعلق اپنی حکمت عملی کوتبدیل بھی کرسکتا ہے۔

  • مودی کو ایواڈ نہ دیا جائے،نوبل انعام یافتہ خواتین رہنماؤں کا مطالبہ

    مودی کو ایواڈ نہ دیا جائے،نوبل انعام یافتہ خواتین رہنماؤں کا مطالبہ

    نوبل انعام یافتہ خواتین رہنماؤں نے گیٹس فاؤنڈیشن سے مودی کوایوارڈ نہ دینے کی اپیل کر دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میریڈ میگوائر،توکل عبدالسلام کرمان اورشیرین عبادی نے گیٹس فاوَنڈیشن کوخط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں،عیسائیوں اوردلتوں سمیت اقلیتوں پرحملے ہورہے ہیں، بھارت میں انسانی حقوق اورجمہوریت کومستقل خطرہ لاحق ہے ،مودی کی قیادت میں بھارت خطرناک اورپرتشددملک بن گیا ہے،گیٹس فاوَنڈیشن کی طرف سے مودی کوایوارڈدینے کے فیصلے پر تشویش ہے،مودی کےحکومت میں آنے کے بعد پرتشدد حملےعروج پرہیں، ہجوم کے بڑھتے حملوں پربھارتی سپریم کورٹ بھی تشویش کا اظہارکرچکی ہے، کشمیرمیں 8 لاکھ بھارتی فورسزنے 8ملین کشمیریوں کوٹیلی فون اورانٹرنیٹ سےمحروم رکھا ہے

    لائن آف کنٹرول کی طرف کب جانا ہے؟ وزیراعظم نے مظفر آباد میں اعلان کر دیا

     

    مودی کیا تم سرینگر میں کشمیریوں سے خطاب کر سکتے ہو؟ وزیرخارجہ کا چیلنج

    دنیا میں کشمیر کا سفیر،مودی تم کشمیریوں کو شکست نہیں دے سکتے، وزیراعظم

    آج چالیسواں روز،پیاروں کی کوئی خبر نہیں، وزیراعظم آزاد کشمیر

     

    کشمیری بھائیوں کے حق میں‌ پاکستان میں بھر پور احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں

     

    مقبوضہ کشمیر میں ، قابض حکام نے مسلسل چھٹے ہفتہ کو سری نگر کی تاریخی جامع مسجد اور دیگر اہم مساجد میں لوگوں کو نماز جمعہ ادا کرنے سے روک دیا۔ قابض حکام نے 5اگست سے جامع مسجد اور علاقے کی دیگر اہم مساجد میں نماز جمعہ کی اجازت نہیں دی ہے۔ 5اگست کو مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کرفیو ، پابندیوں اور انٹرنیٹ، موبائل سروس کی بندش کی وجہ سے ، آج مسلسل 41 ویں دن معمولات زندگی متاثر رہے۔ کشمیری کرفیو اور دیگر پابندیوں کوتوڑتے ہوئے سری نگر ، بارہمولہ ، بانڈی پورہ ، کپواڑہ ، پلوامہ ، شوپیاں ، اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں سڑکوں پر نکل آئے اور مودی حکومت اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف مظاہرے کیے۔ انہوں نے بھارت مخالف اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔

     

  • پاکستان کو کشمیر پر فوری ردعمل دینا چاہیے تھا، سابق وزیر خارجہ حسین ہارون

    پاکستان کو کشمیر پر فوری ردعمل دینا چاہیے تھا، سابق وزیر خارجہ حسین ہارون

    کراچی:پاکستان نے کشمیر کے معاملے پر بہت دیر کر دی ہے پاکستان کو فوری ردعمل دینا چاہیے تھا۔سابق وزیر خارجہ حسین ہارون نے کہا کہ میں تو بہت پہلے سے کہہ رہا تھا پاکستان کو تیار رہنا چاہیے کیونکہ ہندوستان کے ارادے درست نہیں تھے۔ بھارتی انتخابات کے موقع پر عمران خان کے مودی کی حمایت میں بیان ان کی غلط فہمی تھی۔

    ایک نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے حسین ہارون نے کہا کہ وزیر اعظم نے کشمیر کا سفیر بننے کا اعلان کر رکھا ہے لیکن ہمیں اپنی حکمت عمل پر بھی غور کرنا چاہیے کہ وہ کارآمد بھی ہے یا نہیں۔

    بھارتی عزائم کافی عرصے سے نظر آ رہے تھے اور ان کے بیانات سے لگ رہا تھا کہ وہ تیاری کر رہے ہیں لیکن اس حوالے سے پاکستان کی کوئی تیار نظر نہیں آ رہی تھی اور پاکستان اب بھی تیار نظر نہیں آ رہا۔ حکومت پہلے یہ تو طے کر لے کہ اس نے کرنا کیا ہے ؟

    پاکستان کے سابق وزیرخارجہ حسین ہارون کا کہنا تھا کہ ہندوستان کا گلا پھندے میں آیا ہوا ہے اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ معاملے پر سخت اقدامات کرے تاکہ بھارت کے پاس کوئی جواز نہ رہے۔

    حسین ہارون نے کہا کہ دنیا عمران خان کو پہلے سے جانتی ہے اور وہ یورپ اور امریکی میں جانا پہچانا برانڈ ہے . کشمیر کے حوالے پاکستان نے بہت دیر کر دی اور جوں جوں معاملے میں تاخیر ہوتی رہے گی معاملہ آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا

  • آو ہم سب کشمیر کے سفیر بن جائیں !  از  رضی طاہر

    آو ہم سب کشمیر کے سفیر بن جائیں ! از رضی طاہر

    بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے قوم کو واضح ہدایت کی تھی کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، شہ رگ 70 سال سے زخمی تھی اب بھارت میں حالیہ الیکشن میں واضح اکثریت حاصل کرنے والی ہندو انتہاپسند جماعت زخمی شہ رگ کو کاٹنے کا انتظام کررہی ہے، یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ شہ رگ کٹ جائے تو وجود مردہ ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی کے حالیہ خودکش اقدام کے بعد دنیا بھر کی توجہ کشمیر پر مرکوز ہے، عالمی میڈیا ہوں یا عالمی ادارے اس وقت کشمیر کی روز بروز کی بدلتی صورتحال کو دیکھ رہے ہیں۔

    مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ماضی میں کشمیر کا مسئلہ صرف چند مذہبی جماعتوں کا مسئلہ بن کر رہ گیا تھا، ہم بحثیت قوم کشمیر سے غافل ہوگئے تھے، یہاں تک کہ یوٹیلٹی سٹورز پر ہمیں یہ جملے پڑھنے کو ملتے کہ "کشمیر کی آزادی تک ادھار بند ہے” کشمیر کیلئے ترجمان حقیقت چند افراد ہی تھے جن میں حافظ سعید کا نام نہ لیا جائے تو زیادتی ہوگی، جن کی جماعت پابندیوں کا شکار ہے۔ یہ بات مشاہدے میں آتی تھی کہ جب بھی کشمیر میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت ہوتی تھی مذہبی جماعتوں کے کارکنان سڑکوں پر نکلتے، قوم کو صرف سال میں ایک دن کشمیر کی یاد رہتی جب یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا۔

    ماضی میں بحثیت قوم کشمیر کیساتھ ہمارا یہ سوتیلا سلوک انتہائی غیر مناسب تھا، شاید اس کی ذمہ دار سیاسی قیادتیں بھی ہیں جو ہمیشہ قوم کو دوسرے معاملات پر الجھائے رکھتیں اور کشمیر پر توجہ نہ رہتی، بچپن میں ہم صرف پی ٹی وی پر شام 6 بجے کشمیر سیل کی جانب سے 15 منٹ کی اپ ڈیٹس دیکھتے، اس سب کے باوجود کنٹرول لائن کی دوسری طرف بہادر اور حریت پسند کشمیری نوجوان، بزرگ خواتین اور بچے پاکستان کا نام لے کر شہید ہوتے رہے، نابینا ہوتے رہے، جان کی بازی لگاتے رہے۔

    غفلتوں کی اس سیاہی کے باوجود کشمیر کیلئے ضمیر پکارتا رہا اور کہیں نہ کہیں پاکستانی قوم کشمیر کے لئے بے چین رہی، 5 اگست کے بھارتی اقدام کے بعد پاکستان کی حکومت کی کاوشیں کہیں، میڈیا کی کامیابی کہیں یا کشمیر میں جان ہتھیلی پر رکھ کر جدوجہد کرنے والے کشمیریوں کی قربانیوں کا صدقہ کہیں پوری قوم کشمیر کیلئے یک زبان ہے۔ کراچی سے پشاور تک اور گوادر سے وادی نیلم تک ہر پاکستانی کشمیر کے لئے بے چین ہے، حکمران سے لے کر عام عوام تک ہر ذی نفس اپنی آواز اپنی پہنچ کے مطابق بلند کررہا ہے، میں نے اپنے شعور کی عمر میں پہلی دفعہ مسلسل کشمیر کیلئے مظاہرے ہوتے دیکھے ہیں۔

    سکول کے بچے ہوں، یا یونیورسٹی کے طلبہ و اساتذہ، چھابڑی والا ہو یا ہوٹل والا، فیکٹری مالکان ہوں یا ملازمین، یونینز ہوں یا سول سوسائٹیز، یوتھ تنظیمات ہوں یا سیاسی کارکنان، ہر مرد و عورت، بزرگ جواں اور بچے لے کے رہیں گے آزادی کے نعرے بلند کرتے دکھائی دے رہے ہیں، مگر راستہ ابھی مزید صبر آزما ہے، کٹھن ہے اور شاید لمبا بھی، یہ صدائیں خاموش نہیں ہونی چاہییں، ناامیدی سے بچتے ہوئے مسلسل آواز بلند کرنا ہوگی،

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانیوں اور کشمیریوں کیلئے میرا پیغام ہے کہ اب اگر ہم خاموش ہوگئے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی، منزل دور سہی مگر ناممکن نہیں، راستہ کٹھن سہی، مگر طے تو کرنا ہے، اگر 70 سالوں میں اپنی جان، عزت آبرو کی قربانیوں کے باوجود مظلوم کشمیری قابض بھارتی فوج کے سامنے خاموش نہیں بیٹھے اور ناامید نہیں ہوئے تو ہمیں بھی چند دن دھوپ پر پسینہ خشک کرکے، بارش برداشت کرکے، موسم کی سختیاں جھیل کر خاموش نہیں ہونا چاہیے۔

    غیور پاکستانیوں، قومیں امید کے ساتھ زندہ رہتی ہیں اور منزلیں امید کا دامن تھامنے سے ہی ملتی ہیں، آئیے ہر شخص ہم میں سے کشمیر کا سفیر بن جائے اور آزادی کا سورج طلوع ہونے تک آواز اٹھائے۔

    تحریر : رضی طاہر

  • کشمیری سیاستدان شاہ فیصل نے اپنی غیر قانونی نظربندی کے خلاف درخواست واپس لے لی

    کشمیری سیاستدان شاہ فیصل نے اپنی غیر قانونی نظربندی کے خلاف درخواست واپس لے لی

    کشمیری سیاستدان ، شاہ فیصل نے کہا ہے کہ سینکڑوں کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے اور ان کے پاس کوئی قانونی مدد نہیں ہے۔

    شاہ فیصل نے اپنی حراست کو چیلنج کرنے والی درخواست واپس لینے کی اجازت طلب کرتے ہوئے ، ایک حلف نامے کے ذریعے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا کہ وہ اپنی غیر قانونی نظربندی کے خلاف درخواست پر عملدرآمد نہیں چاہتے کیوں کہ بیشتر کشمیری نظربندوں کے پاس قانونی مدد کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ .

    بھارتی حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے ٹشر مہتا نے ، جسٹس منموہن اور سنگیتا دھینگرا سہگل کے بنچ کو بتایا کہ انہوں نے فیصل کی اہلیہ کی جانب سے درخواست واپس لینے کے لئے دائر حلف نامے کے مندرجات کو تسلیم نہیں کیا۔ فیصل کی اہلیہ کے حلف نامہ داخل کرنے کے بعد ہائی کورٹ نے فیصل کو اس کی درخواست واپس لینے کی اجازت دے دی۔

    فیصل کی اہلیہ نے ہائیکورٹ کو بتایا کہ حال ہی میں وہ فیصل سے حراست میں ملیں اور انہیں درخواست واپس لینے کے لئے ہدایات موصول ہوئی جس کے تحت حراست میں رکھے ہوئے کسی فرد کو عدالت کے روبرو لایا جانا ضروری ہے۔

    فیصل کی اہلیہ نے کہا کہ 10 ستمبر کو ، میں (بیوی) نے سری نگر کے حراستی مرکز میں درخواست گزار (فیصل) سے ملاقات کی جہاں اسے نظربند کیا گیا ہے۔ اس ملاقات میں ، مجھے درخواست گزار کی طرف سے موجودہ درخواست واپس لینے کے لئے واضح زبانی ہدایات موصول ہوئی ہیں۔

    اہلیہ کے بقول درخواست گزار نے مجھے بتایا کہ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ سینکڑوں دیگر کشمیریوں کوغیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے اور انہیں ابھی تک رہا نہیں کیا گیا ہے ، اس حقیقت سے بخوبی واقف ہونے کی وجہ سے کہ ان میں سے زیادہ تر حراست میں ہیں اور ان کے پاس کوئی قانونی مدد نہیں۔ وہ اب اپنی غیر قانونی نظربندی کے خلاف قانونی طور پر موجودہ درخواست کی پیروی نہیں کرنا چاہتے۔ لہذا اس عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ درخواست دہندہ کو موجودہ درخواست کو واپس لینے کی اجازت دیں۔

    یاد رہے کہ شاہ فیصل کے پیروکار کی طرف سے اس کی رہائی کے لئے درخواست دائر کی گئی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ سابق بیوروکریٹ کو 14 اگست کو دہلی ہوائی اڈے پر غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا تھا اور انہیں سری نگر واپس لے جایا گیا تھا ، جہاں انہیں نظربند رکھا گیا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر، پی ڈی پی رہنما کے پرسنل سیکورٹی آفیسر کی رائفل چھین لی گی

    مقبوضہ کشمیر، پی ڈی پی رہنما کے پرسنل سیکورٹی آفیسر کی رائفل چھین لی گی

    مقبوضہ کشمیر میں کشتواڑ قصبے میں کچھ نامعلوم افراد نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) رہنما کے ذاتی سیکیورٹی آفیسر کی رائفل چھین لی جس کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔
    مقبوضہ کشمیر میں زوردار جھڑپیں، بھارتی فوج 39 دن بعد بھی صورہ علاقہ میں داخل نہیں ہو سکی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نامعلوم افراد نے پی ڈی پی رہنما شیخ ناصر کی پی ایس او کی رائفل چھین لی۔ بھارتی فوجیوں اور پولیس نے علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا ہے۔

    دریں اثنا ، بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کرفیو ، پابندیوں اور انٹرنیٹ، موبائل سروس کی بندش کی وجہ سے ، آج مسلسل 40 ویں دن معمولات زندگی متاثر رہے۔

  • ہمت ہے تو مودی سری نگر میں کشمیریوں سے خطاب کرکے دکھائے ، شاہ محمود قریشی نے چیلنچ کردیا

    ہمت ہے تو مودی سری نگر میں کشمیریوں سے خطاب کرکے دکھائے ، شاہ محمود قریشی نے چیلنچ کردیا

    مظفر آباد: ہمت ہے تو مودی سرینگر میں کشمیریوں سے خطاب کر کے دکھائے۔مظفر آباد میں کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئےشاہ محمود قریشی نے کہا کہ مودی تم نے کشمیریوں کو پابند سلاسل کر دیا ہے جبکہ آزاد کشمیرمیں کوئی سیاسی قیدی نہیں ہے۔

    مظفر آباد میں کشمیریوں سے اظہار ہمدردی کے جلسے کے دوران شاہ محمود قریشی نے نریندر مودی سے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو پابند سلاسل کیا ہے ؟ دنیا یہ سوال کرتی ہے کہ کشمیریوں کو کیوں اپنا مؤقف پیش کرنے نہیں دیا جا رہا۔

    شاہ محمود قریشی نے مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مودی یاد رکھ آزاد کشمیر میں ٹی وی چل رہے ہیں لیکن مقبوضہ کشمیر میں نہیں۔ آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس چل رہی ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں کیوں بند ہے ؟ آزاد کشمیر کے لوگ آزادی سے نقل و حرکت کر رہے ہیں لیکن مقبوضہ کشمیر میں آزاد سلب ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر، مسلسل چھٹے ہفتے نمازجمعہ ادا نہ ہو سکی

    مقبوضہ کشمیر، مسلسل چھٹے ہفتے نمازجمعہ ادا نہ ہو سکی

    مقبوضہ کشمیر میں ، قابض حکام نے آج مسلسل چھٹے ہفتہ کو سری نگر کی تاریخی جامع مسجد اور دیگر اہم مساجد میں لوگوں کو نماز جمعہ ادا کرنے سے روک دیا۔

    واضح رہے کہ قابض حکام نے 5اگست سے جامع مسجد اور علاقے کی دیگر اہم مساجد میں نماز جمعہ کی اجازت نہیں دی ہے۔ 5اگست کو مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔
    دریں اثنا ، بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کرفیو ، پابندیوں اور انٹرنیٹ، موبائل سروس کی بندش کی وجہ سے ، آج مسلسل 40 ویں دن معمولات زندگی متاثر رہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیری کرفیو اور دیگر پابندیوں کوتوڑتے ہوئے سری نگر ، بارہمولہ ، بانڈی پورہ ، کپواڑہ ، پلوامہ ، شوپیاں ، اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں سڑکوں پر نکل آئے اور مودی حکومت اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف مظاہرے کیے۔ انہوں نے بھارت مخالف اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔

  • پاکستان بھر میں خواتین یکجہتی  کشمیر کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں

    پاکستان بھر میں خواتین یکجہتی کشمیر کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں

    پاکستنان کے بڑے شہروں میں خواتین کے کشمیریوں کے حق میں مظاہرے ہورہے ہیں..لاہرر ،کراچی ، فیصل آباد ، گوجرانوالہ اور دیگر شہریوں میں ماؤں ،بہنوں ، بیٹیوں نے گرمی اور موسم کی شدت کے باوجود احتجاج کیا اور کشمیری بھائیوں‌کےحق میں مظاہرے کیے.
    یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں آج پاکستان بھر میں تیسرا جمعہ کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے سلسلے میں منا یا جارہا ہے.. اس سلسلے میں پورے ملک میں جگہ جگہ .شہر شہر ، نگر نگر ، چوکو ں چوراہوں میں‌ پاکستانی بچے جوان ، خواتین ور بوڑھے شریک ہوئے ہیں.اس موقع میں شرکاء نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہمقبوضہ کشمیر میں40روز سے کرفیو نافذ ہے, کشمیری عوام 72 سالوں سے اپنی آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں, آزادکشمیر کے عوام مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں,مقبوضہ کشمیر میں لوگ فاقہ کشی کا شکار ہیں,عوام کو خوراک اور ادویات فراہم کی جائے, اقوام متحدہ کشمیر میں ہو رہے بھارتی مظالم پر نوٹس لیں۔ بھارت نے جموں کشمیر میں انسانیت کیخلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔

  • کشمیر کی جیلیں بھر گئیں بھارت کشمیریوں کو دوسری ریاستوں میں منتقل کرنے لگا۔پبلک سیفٹی کا متنازعہ قانون اقوام عالم کا منہ چڑانے لگا۔

    کشمیر کی جیلیں بھر گئیں بھارت کشمیریوں کو دوسری ریاستوں میں منتقل کرنے لگا۔پبلک سیفٹی کا متنازعہ قانون اقوام عالم کا منہ چڑانے لگا۔

    لاہور شہباز اکمل جندران

    کشمیر کی جیلیں بھر گئیں بھارت کشمیریوں کو دوسری ریاستوں میں منتقل کرنے لگا۔پبلک سیفٹی کا متنازعہ قانون اقوام عالم کا منہ چڑانے لگا۔


    مودی حکومت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے جہاں ایک طرف مقبوضہ کشمیر پر غیر اعلانیہ کرفیو نافذ ہے اور اس کا پوری دنیا سے انٹرنیٹ اور فون کے ذریعے رابطہ منقطع ہے۔وہیں اب تک سینکڑوں کشمیریوں کو شہید اور زخمی کردیا گیا ہے جبکہ قید اور حراست میں لیے جانے والے افراد کی تعداد اس قدر زیادہ ہوگئی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی جیلیں بھر گئی ہیں اور مودی حکومت نے گرفتار افراد کو دوسری ریاستوں کی جیلوں میں منتقل کرنا شروع کردیا ہے۔

    ایک طرف آئین کے آرٹیکل370 کے خاتمے کے بعدکشمیر میں قابض بھارتی فوج کی طرف سے مجموعی طورپر کتنے افراد حراست میں لیے گئے ہیں ان کی حتمی تعداد سامنے نہیں لائی جارہی تودوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں نافذالعمل پبلک سیفٹی ایکٹ یو این او سمیت اقوام عالم کا منہ چڑانے لگا ہے۔بی بی سی اور فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس متنازع قانون کے تحت حکام کسی بھی شخص کو کم از کم دو سال تک مقدمہ چلائے بغیر حراست میں رکھ سکتے ہیں۔

    مقبوضہ وادی میں مسلسل کرفیو کی وجہ سے بڑا انسانی المیہ جنم لینے کا خدشہ ہے۔وادی سے خوراک اور ادویات ختم ہونے کو ہیں۔لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت ہے نہ ہی مریضوں کو ہسپتال لیجایا جاسکتا ہے۔تاہم تمام تر خراب صورتحال، مظالم اور کرفیو کے باوجود کشمیر یوں کے حوصلے بلند ہیں اور کسی صورت بھی بھارتی ہٹ دھرمی اور جبر کے سامنے سرنگوں ہونے کو تیار نہیں ہیں۔