Baaghi TV

Category: کشمیر

  • امریکی ڈیموکریٹ رکن کانگریس نے مقبوضہ کشمیر حوالے بھارت سے بڑا مطالبہ کر دیا

    امریکی ڈیموکریٹ رکن کانگریس نے مقبوضہ کشمیر حوالے بھارت سے بڑا مطالبہ کر دیا

    امریکہ کی ڈیموکریٹ رکن کانگریس راشدہ طالب نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کرنے کی پرزورمذمت کرتے ہوئے بھارتی حکومت کو وادی میں مواصلاتی بندش ختم کرنے کا کہا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کیلئے 95ارکان کی حمایت کرلی،مسلم رکن کانگریس راشدہ طالب

    ایک بیان میں، راشدہ نے کہا ، ”میں بھارتی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی ، مواصلاتی ناکہ بندی ، جان بچانے والی طبی نگہداشت پر دباو، اور بڑے پیمانے پر تشدد اور انسانی حقوق کی پامالی کی دیگر اطلاعات کی مذمت کرتی ہوں۔“

    ” ان ناقابل قبول حرکتوں سے کشمیریوں کے انسانی وقار کو ختم کیا اور لاکھوں افراد کی زندگی کو خطرہ میں ڈال دیا ، اور ہندوستان اور کشمیر میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا۔ لوگوں کو غیر منصفانہ نظربندی ، عصمت دری یا تشدد سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہ کون ہیں اور وہ کیا مانتے ہیں ۔“ کانگریسی خاتون نے مزید کہا۔

    راشدہ کے مطابق، ”میں نے مشی گن کے باشندوں سے ملاقات کی ہے جو کشمیر میں اپنے اہل خانہ کو کال بھی نہیں کرسکتے کہ وہ اس بات کا یقین کر سکیں کہ وہ محفوظ ہیں، واقعی ایک ناقابل تصور صورتحال ، جیسے تشدد ، عسکریت پسندی اور قبضہ بدستور جاری ہے۔ جموں وکشمیر پہلے ہی زمین پر سب سے بڑا فوجی علاقہ ہے اور بھارت کے حالیہ اقدامات سے عدم استحکام پیدا ہوا اور تشدد تیز ہوا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا ، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے جون 2018 اور جولائی 2019 میں دو رپورٹیں جاری کی تھیں ، جس نے وادی میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

    "جیسا کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے گروپوں نے نوٹ کیا ہے ، آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ (اے ایف ایس پی اے) کے ذریعہ بھارتی فوج کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالیوں کے لئے قانونی کارروائی سے مستقل معافی احتساب کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور وہ طاقت کے غیر متناسب استعمال کو برقرار رکھتی ہے۔ بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے پیلٹ شاٹ گنوں اور آنسو گیس کے استعمال سے متعدد کشمیری زخمی ہوگئے ہیں ، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ مزید برآں ، اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیری عوام کی زندگی بچانے والی طبی نگہداشت تک رسائی میں کمی کردی ہے ، دوائیوں کی قلت پیدا کردی ہے اور ڈاکٹروں اور فارمیسیوں کے سفر کو محدود کردیا ہے۔”

    کانگریسی خاتون نے مزید کہا کہ متعدد اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 3000 سے زائد افراد کو سرکاری تحفظ ایکٹ کے تحت بھارتی حکومت کی جانب سے بغیر کسی الزام کے غیر معینہ مدت کے لئے حراست میں لیا گیا ہے ، ان میں بچے ، وکلا ، ڈاکٹر ، مذہبی رہنما اور حزب اختلاف کے سیاسی رہنما بھی شامل ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا ، "جموں و کشمیر میں کیا ہورہا ہے اس پر روشنی ڈالنے کے لئے مواصلات کی ناکہ بندی اور کرفیو کی تمام پابندیوں کو فوری طور پر ختم کیا جانا چاہئے۔ بھارت اس بات کو یقینی بنائے کہ ہسپتالوں کی زندگی بچانے والی دوائی تک رسائی حاصل ہو۔ امریکی حکومت کو اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ پرامن قرار داد کی حمایت کرنی چاہئے جو خود مختاری کی بحالی اور جموں و کشمیر کے عوام کی خودمختاری کو یقینی بنائے۔ ہم لاکھوں کشمیریوں کو امن اور وقار کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی خواہش سے محروم نہیں رہ سکتے۔ “

  • فلمیں اور ڈرامے بھی کشمیر سے  منسلک کیے جائیں ، ماہرہ خان تو عمران خان  سے زیادہ کشمیر کی سفیر بن گئیں‌

    فلمیں اور ڈرامے بھی کشمیر سے منسلک کیے جائیں ، ماہرہ خان تو عمران خان سے زیادہ کشمیر کی سفیر بن گئیں‌

    کراچی : ہمیں‌اپنی اقدار نہیں چھوڑنی چاہیں ، عاجزی اور انکساری ہی سے کامیابیاں ملتی ہیں، ہم نہ کشمیریوں کے پہلے بھولے ہیں اور نہ آئندہ بھولیں‌ گے ، ہم کشمیری ہیں اور کشمیری پاکستانی ہیں، فلموں اور ڈراموں کو بھی کشمیر سے منسلک کرنے کا اعللان کرتی ہیں، ان خیالات کا اظہار پاکستان کی صف اول کی اداکارہ ماہرہ خان نے اپنے پیغام میں کیا

    ذرائع کے مطابق پاکستان کی صف اول کی اداکارہ ماہرہ خان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت میں بے شمار کامیابیاں کی بدولت ملنے والی شہرت کے باوجود آج بھی سب سے عاجزی اور انکساری سے ملتی ہوں ۔جونیئرز پر اپنے سٹار ہونے کا رعب جھاڑنے کے بجائے ان کی رہنمائی کرتی ہوں کیونکہ میں بھی کبھی اس مرحلے سے گزر چکی ہوں۔

    ماہرہ خان نے اپنے پیغام میں‌ کہا کہ ہمارے لیے سب سے پہلے کشمیری ہیں ، ہم کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں‌ گے ، ماہرہ خان نے تجویزبھی دی اور خود عمل کرنے کا اعادہ بھی کیاکہ فلموں اور ڈراموں کے ابتدائیہ میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا پیغام دیا جائے

  • 2019 سے پہلے اور بعد کا کشمیر، وعدے اور غداری …. جسٹس منظور گیلانی

    2019 سے پہلے اور بعد کا کشمیر، وعدے اور غداری …. جسٹس منظور گیلانی

    5 اگست ، اکتوبر 1947 میں ریاست کے حکمرانوں کو ڈرا دھمکا کر بھارت کی طرف سے ریاست جموں و کشمیر کے خفیہ الحاق کی مبینہ قانونی دستاویز سے ملتا جلتا ہے۔اس نے بھارت کے ساتھ ریاست کے آئینی تعلقات کو منسوخ کرتے ہوئے بڑی ڈھٹائی سے ریاست کو مرکزی سرزمین میں ضم کر دیا ، جس کی بھارتی آزادی ایکٹ 1947 کے سیکشن 7 کے تحت بھارت کے گورنر جنرل کی جانب سے الحاق کی شرائط کے مطابق خود ریاست کے عوام نے رائے شماری کے ذریعہ توثیق کرنا تھی ۔ ہندوستان اب ریاست میں ایک قابض فوج ہے جس نے اپنی فوج کے زور پر زمین اور لوگوں پر قبضہ کیا ہوا ہے۔

    پاکستان کو کشمیر پر فوری ردعمل دینا چاہیے تھا، سابق وزیر خارجہ حسین ہارون

    بھارتی دعویکہ یہ کارروائی داخلی معاملہ ہے، سراسر دھوکہ دہی ہے۔ جب مبینہ اندرونی معاملہ بارڈرزکے آرپار لوگوں پر اثر ڈالتا ہے ،جب اس سے خطے اور دنیا کے امن و سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو یہ بین الاقوامی معاملہ ہے۔ مزید برآں جب اس کو ابتدا سے ہی اقوام متحدہ کے قراردادوں کے ذریعے ترتیب دیا گیا ہو اور سیکورٹی کونسل کی30مارچ 1951اور 24جنوری1957کی قراردوں کے مطابق ریاست کی تقسیم صرف رائے شماری کے ذریعے ممکن ہے۔

    بھارت اپنے آئین کے آرٹیکل 253 کا پابند ہے کہ ان قراردادوں کو اکٹھا کرے اور پارلیمانی قانون کے ذریعے ان پر عمل درآمد کرے یا اپنے آئین کے آرٹیکل 51کے تحت مذاکرات سے حل کرنے یا بین الاقوامی ثالثی کے لیے دیانتداری کے ساتھ آگے آئے۔

    عمل کے نتائج
    شملہ ، لاہور اور اسلام آباد کے اعلامیہ سمیت بھارت اور پاکستان کے مابین مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے تمام دوطرفہ معاہدے، سوائے اس کے کہ ان پر عمل کیا جائے ، بھارت کی طرف سے یکطرفہ منسوخ کئے گئے۔ شملہ معاہدے کے تحت تسلیم کی گئی لائن آف کنٹرول سیز فائر لائن میں تبدیل ہو گئی جس طرح 1949 کے سیز فائر معاہدے کے ذریعہ تصور کی گئی۔ ریاست میں بھارتی پوزیشن واپس26 اکتوبر 1947 والی ہو گئی۔

    کیا کریں؟
    حکومت پاکستان کوبھارت کے ساتھ ایسے تمام باہمی معاہدوں سے دستبردار ہونے کا اعلان کرناچاہیے جو بین الاقوامی سطح پر اس کے قیام میں رکاوٹ ہیں اور اسی کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کو آگاہ کرنا چاہیے۔

    اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو ، اس کو 12/8/47 کو ریاست کے حکمران کے ذریعہ پیش کردہ معاہدے اور 15 اگست 1947 کو حکومت پاکستان نے قبول کیا اور ، 19 جولائی 1947 کو ریاست کی واحد نمائندہ سیاسی و پارلیمانی پارٹی آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے ذریعہ ریاست پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد کو اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ریفرنڈم سے مشروط کرتے ہوئے، اپنے آئین کے آرٹیکل 1 کے تحت پوری ریاست کو اپنی سرزمین کے طور پر شامل کرنا چاہئے۔

    پاکستان کی پارلیمنٹ کو حکومت پاکستان سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ وہ ریاست کے بھارتی قبضے سے آزادی کے لئے مناسب اقدامات اٹھائے جس طرح ہندوستانی پارلیمنٹ نے 1994 میں منظور کیا تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ 1975 میں مشرقی تیمور کارروائی کی طرح ریاست میں امن قائم رکھنے والی فورسز کوبھیجنے کے لئے مناسب اقدامات اٹھائے ، تاکہ بھارتی فورسز کے کرفیو اور محاصرے میں لوگوں کی جان ، عزت اور آزادی کو بچایا جاسکے۔ اسے ڈاکٹر ، دوائی ، کھانا ، پانی بھیجنا چاہئے اور ریاست میں اپنا مواصلاتی نیٹ ورک قائم کرنا چاہئے۔

    حکمرانو! سن لو اگر کشمیر پر دھماکہ دار پالیسی نہ اپنائی تو قوم تمہارا دھماکہ کردے گی،کوتاہی برداشت نہیں، عبداللہ گل

    حکومت پاکستان کو سابق قابل کشمیریوں اور پاکستانیوں کے ذریعہ دنیا کے بین الاقوامی اور علاقائی سیاسی و معاشی اتحاد کے مراکز میں سخت اور پرجوش سفارت کاری کا سہارا لینا چاہئے۔

    آو ہم سب کشمیر کے سفیر بن جائیں ! از رضی طاہر

    ویٹیکن کے پاپ فرانسس سے مداخلت اور عیسائی دنیا پر بھارت پر دباﺅ ڈالنے کے لیے خصوصی طور پر رجوع کیا جانا چاہئے۔
    وہ تمام افراد جو رضاکارانہ یا سرکاری طور پر کام کرتے ہیں، انہیں کشمیریوں سے مسئلہ کشمیر کی نزاکتوں، پاکستانی اور ہندوستانی نقطہ نظر اور زمینی حقائق کو سمجھنا چاہئے۔

    اگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو پاکستان کو ریاست کے آٹھ ملین افراد کو بچانے کے لئے امریکہ کے افغانستان اور اب مشرق وسطی میں کردار کے مطابق کام کرنا چاہئے۔ اگر یہ بھی قابل قبول نہیں ہے تو ، پاکستان کو آزاد جموں وکشمیر کو اپنی دفاعی چھتری کے تحت ریاست کے عوام کی نمائندہ حکومت کے طور پر اعلان کرنا چاہئے ، اور محصور حصے کی آزادی کے لئے بین الاقوامی مہم شروع کرنے میں مدد فراہم کرنا چاہئے۔

    عالمی رائے عامہ، دعویداروں سے زیادہ ، بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے متاثرین کی سنتا اور حمایت کرتااور مدد کرتا ہے ، جیسا کہ اب ہوا ہے جیسا کہ اس نے پچھلے ستر سالوں میں نہیں کیا۔

    پاکستان کو یہ یقین ہونا چاہئے کہ تمام کشمیری بھارت کے خلاف (گھروں سے) باہر ہیں۔ پاکستان سے الحاق اور ریاست کی آزادی کے دعویدار، کے بارے میں پاکستان آئین کے آرٹیکل 257 کا مطلب ہونا چاہئے کہ اس میں ”الحاق اورآزادی “کے الفاظ”ریاست کی عوام کی خواہشات کے مطابق“ شامل ہونے چاہئیں۔ ہندوستانی قبضے کے خاتمے کے بعد ایک بار جب ریاست کے لوگ جمع ہو جاتے ہیں تو وہ حتمی ثالث ہیں۔ پہلے اس پر ہاتھ جوڑیں ، اور باقی سب کو چھوڑ دیں۔

    ابھی دیر ہو رہی ہے ،اسے کیجئے ،اس سے پہلے کشمیریوں کو بھارتی وحشی طاقت کے ذریعے نیست و نابودکردیں۔

    کالم نگار ایک ریٹائرڈ جج ہیں۔
    (بشکریہ ڈیلی ٹائمز)

  • حکمرانو! سن لو اگر کشمیر پر دھماکہ دار پالیسی نہ اپنائی تو قوم تمہارا دھماکہ کردے گی،کوتاہی برداشت نہیں، عبداللہ گل

    حکمرانو! سن لو اگر کشمیر پر دھماکہ دار پالیسی نہ اپنائی تو قوم تمہارا دھماکہ کردے گی،کوتاہی برداشت نہیں، عبداللہ گل

    اسلام آباد: حکمرانوں اگر کشمیر پر دھماکہ دار پالیسی عوام کی امنگوں کے مطابق نہ اپنائی گئی تو قوم پالیسی سازوں اور آپکا دھماکہ کر دیگی۔ان عوامی خیالات کااظہار تحریک جوانان پاکستان وکشمیرکے سربراہ ، سابق سربراہ آئی ایس آئی جنرل حمید گل کے صاحبزادے عبداللہ گل نے وزیراعظم عمران خان اور دوسرے ذمہ دار پالیسی سازوں کے نام اپنے پیغام میں کیا

    عبداللہ گل نے اسلام آباد والوں کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم اور جبر کے نئے سلسلے کو 41 روز ہوگئے ، قوم پوچھتی ہے کہ بیان بازی کےعلاوہ کیا کچھ کیا ، قوم پوچھتی ہے کہ کیا بھارت کا فضائی راستہ بند کیا ، بھارت سے تجارتی لین دین منقطع کیے ، کیا پاکستان کے راستے سے بھارت جو اربوں ڈالرز کی تجارت کررہا ہے کیا اس کو بند کیا

    عبداللہ گل نے حکمرانوں‌ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیا ہورہا ہے کہ ایک طرف بھارت کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہاہے اور ہمارے حکمران صرف بیان دے کر سمجھتے ہیں‌کہ ان کا فرض ادا ہوگیا ہے ، کیوں بھارتی سفارتخانہ بند نہیں‌ کیا گیا،پاکستان میں بھارتی مصنوعات کی بھرمار ہے اس پر پابندی کیوں نہ لگائی گئی ، پاکستانی قوم پوچھتی ہے کہ بھارتی فوج پاکستانی سرحدوں کی طرف بڑھ رہی ہے اسلام اباد والوں نے کیا حکمت عملی اپنائی ہے ،

    جنرل حمید گل کے فرزند ارجمند عبداللہ گل نے حکمراںوں اور پالیسی ساز اداروں کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ تمہیں کیا ہوگیا کہ ایک طرف کشمیر پر پاکستان سفارتی جنگ کے دعوے کررہا ہے تو پھر کیوں نہ افغان ثالثی کو کشمیر سے مشروط کیا گیا ، کیا پاکستان کے پاس یہ بہترین موقع نہیں‌ہے کہ وہ افغان مسئلے پر کشمیر کاز کا بھرپور استعمال کرے

    عبداللہ گل نے عمران خان سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ وہ بتائیں کہ کیا اگر اسلام آباد پر بھارت نے قبضہ کیا ہوتا تو تب بھی یہی صاحب اقتدار کا رویہ ہوتا؟کیوں قوم کو دھوکے میں رکھا جارہاہے، قوم نتیجہ مانگتی ہے یہ بیان بازی اور کشمیر پر دوغلی پالیسی کو پسند نہیں‌کرتی

    تحریک جوانان پاکستان وکشمیر کے سربراہ عبداللہ گل نے اپنے پیغام میں کہا کہ عجیب معاملہ ہے کہ خان صاحب کے دورہ امریکہ کے بعدکشمیر دولخت ہوا ، اور دوسری طرف یہ حالات پیدا کیے جارہے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہونے لگی ہیں،دینی لوگوں پر پابندیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ، کیا یہ ہے ہماری خارجہ پالیسی کہ ہم ایک طرف بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں‌تو دوسری طرف اپنے ہی دعوں کے برعکس کام بھی کرتے ہیں

    عبداللہ گل نے عمران خان کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جناب آپ قوم کو کیا سمجھتے ہیں ، بتائیں کہ وہ کونسا ورلڈ کپ ہے جس کی جیت سے قوم ناواقف ہے اور کیوں؟عبداللہ گل نے کہا کہ اب وقت سستی اور کاہلی کا نہیں ، اب سیاسی بیان بازی نہیں‌ہونی چاہیے ، اب کشمیر کو حقیقی طور پر بھارت کی غلامی سے نجات دلانی چاہیے ، جس کے لیے قوم تو تیار ہے مگر آپ فی الحال تیار نظر نہیں آتے ، خدارا کشمیریوں پر رحم کرو

  • پاکستان اگر جنگ سے بچنا چاہتا ہے تو آزاد کشمیر حوالے کر دے…. ایک اور بھارتی وزیر کی گیڈر بھھکی

    پاکستان اگر جنگ سے بچنا چاہتا ہے تو آزاد کشمیر حوالے کر دے…. ایک اور بھارتی وزیر کی گیڈر بھھکی

    بھارتی وزیر برائے سماجی انصاف اور ریپبلکن پارٹی آف انڈیا (آر پی آئی) کے سربراہ رام داس اٹھاولے پاکستان کو گیڈر بھبھکی لگاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے مفاد میں ہے کہ وہ آزاد کشمیر کو ہندوستان کے حوالے کر دے کیونکہ کئی خبروں میں یہ سامنے آیا ہے کہ وہاں کے لوگ پاکستان سے ناخوش ہیں اور وہ ہندوستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

    واضح رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی لاکھوں کی تعداد میں فوج کی موجودگی کے باوجود گذشتہ 41دن سے کرفیو نافذ ہے۔ کرفیو کے باوجود کشمیری عوام محاصرہ توڑ کر بھارت کے خلاف مظاہرے کر رہی ہیں۔ بھارت نے مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ، موبائل سروس کے ساتھ ساتھ لینڈ لائن سروس بھی بند کر دی ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتحال سے دنیا واقف نہ ہو جائے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پاکستان کو ایک اور گیڈر بھبھکی لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی اور اسلام آباد کے مابین مذاکرات ہوئے تو یہ صرف آزاد کشمیرپر ہوں گے۔
    راجناتھ سنگھ کی نئی گیڈر بھبھکی، آزاد کشمیر کے متعلق بیان دے دیا
    راجناتھ سنگھ نے ایک اور بیان میں کہا تھا کہ انڈیا نیوکلیئر ہتھیاروں کا پہلے استعمال نہ کرنے سے متعلق اپنی حکمت عملی کوتبدیل بھی کرسکتا ہے۔

  • مودی کو ایواڈ نہ دیا جائے،نوبل انعام یافتہ خواتین رہنماؤں کا مطالبہ

    مودی کو ایواڈ نہ دیا جائے،نوبل انعام یافتہ خواتین رہنماؤں کا مطالبہ

    نوبل انعام یافتہ خواتین رہنماؤں نے گیٹس فاؤنڈیشن سے مودی کوایوارڈ نہ دینے کی اپیل کر دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میریڈ میگوائر،توکل عبدالسلام کرمان اورشیرین عبادی نے گیٹس فاوَنڈیشن کوخط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں،عیسائیوں اوردلتوں سمیت اقلیتوں پرحملے ہورہے ہیں، بھارت میں انسانی حقوق اورجمہوریت کومستقل خطرہ لاحق ہے ،مودی کی قیادت میں بھارت خطرناک اورپرتشددملک بن گیا ہے،گیٹس فاوَنڈیشن کی طرف سے مودی کوایوارڈدینے کے فیصلے پر تشویش ہے،مودی کےحکومت میں آنے کے بعد پرتشدد حملےعروج پرہیں، ہجوم کے بڑھتے حملوں پربھارتی سپریم کورٹ بھی تشویش کا اظہارکرچکی ہے، کشمیرمیں 8 لاکھ بھارتی فورسزنے 8ملین کشمیریوں کوٹیلی فون اورانٹرنیٹ سےمحروم رکھا ہے

    لائن آف کنٹرول کی طرف کب جانا ہے؟ وزیراعظم نے مظفر آباد میں اعلان کر دیا

     

    مودی کیا تم سرینگر میں کشمیریوں سے خطاب کر سکتے ہو؟ وزیرخارجہ کا چیلنج

    دنیا میں کشمیر کا سفیر،مودی تم کشمیریوں کو شکست نہیں دے سکتے، وزیراعظم

    آج چالیسواں روز،پیاروں کی کوئی خبر نہیں، وزیراعظم آزاد کشمیر

     

    کشمیری بھائیوں کے حق میں‌ پاکستان میں بھر پور احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں

     

    مقبوضہ کشمیر میں ، قابض حکام نے مسلسل چھٹے ہفتہ کو سری نگر کی تاریخی جامع مسجد اور دیگر اہم مساجد میں لوگوں کو نماز جمعہ ادا کرنے سے روک دیا۔ قابض حکام نے 5اگست سے جامع مسجد اور علاقے کی دیگر اہم مساجد میں نماز جمعہ کی اجازت نہیں دی ہے۔ 5اگست کو مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کرفیو ، پابندیوں اور انٹرنیٹ، موبائل سروس کی بندش کی وجہ سے ، آج مسلسل 41 ویں دن معمولات زندگی متاثر رہے۔ کشمیری کرفیو اور دیگر پابندیوں کوتوڑتے ہوئے سری نگر ، بارہمولہ ، بانڈی پورہ ، کپواڑہ ، پلوامہ ، شوپیاں ، اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں سڑکوں پر نکل آئے اور مودی حکومت اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کے خلاف مظاہرے کیے۔ انہوں نے بھارت مخالف اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔

     

  • پاکستان کو کشمیر پر فوری ردعمل دینا چاہیے تھا، سابق وزیر خارجہ حسین ہارون

    پاکستان کو کشمیر پر فوری ردعمل دینا چاہیے تھا، سابق وزیر خارجہ حسین ہارون

    کراچی:پاکستان نے کشمیر کے معاملے پر بہت دیر کر دی ہے پاکستان کو فوری ردعمل دینا چاہیے تھا۔سابق وزیر خارجہ حسین ہارون نے کہا کہ میں تو بہت پہلے سے کہہ رہا تھا پاکستان کو تیار رہنا چاہیے کیونکہ ہندوستان کے ارادے درست نہیں تھے۔ بھارتی انتخابات کے موقع پر عمران خان کے مودی کی حمایت میں بیان ان کی غلط فہمی تھی۔

    ایک نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے حسین ہارون نے کہا کہ وزیر اعظم نے کشمیر کا سفیر بننے کا اعلان کر رکھا ہے لیکن ہمیں اپنی حکمت عمل پر بھی غور کرنا چاہیے کہ وہ کارآمد بھی ہے یا نہیں۔

    بھارتی عزائم کافی عرصے سے نظر آ رہے تھے اور ان کے بیانات سے لگ رہا تھا کہ وہ تیاری کر رہے ہیں لیکن اس حوالے سے پاکستان کی کوئی تیار نظر نہیں آ رہی تھی اور پاکستان اب بھی تیار نظر نہیں آ رہا۔ حکومت پہلے یہ تو طے کر لے کہ اس نے کرنا کیا ہے ؟

    پاکستان کے سابق وزیرخارجہ حسین ہارون کا کہنا تھا کہ ہندوستان کا گلا پھندے میں آیا ہوا ہے اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ معاملے پر سخت اقدامات کرے تاکہ بھارت کے پاس کوئی جواز نہ رہے۔

    حسین ہارون نے کہا کہ دنیا عمران خان کو پہلے سے جانتی ہے اور وہ یورپ اور امریکی میں جانا پہچانا برانڈ ہے . کشمیر کے حوالے پاکستان نے بہت دیر کر دی اور جوں جوں معاملے میں تاخیر ہوتی رہے گی معاملہ آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا

  • آو ہم سب کشمیر کے سفیر بن جائیں !  از  رضی طاہر

    آو ہم سب کشمیر کے سفیر بن جائیں ! از رضی طاہر

    بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے قوم کو واضح ہدایت کی تھی کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، شہ رگ 70 سال سے زخمی تھی اب بھارت میں حالیہ الیکشن میں واضح اکثریت حاصل کرنے والی ہندو انتہاپسند جماعت زخمی شہ رگ کو کاٹنے کا انتظام کررہی ہے، یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ شہ رگ کٹ جائے تو وجود مردہ ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی کے حالیہ خودکش اقدام کے بعد دنیا بھر کی توجہ کشمیر پر مرکوز ہے، عالمی میڈیا ہوں یا عالمی ادارے اس وقت کشمیر کی روز بروز کی بدلتی صورتحال کو دیکھ رہے ہیں۔

    مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ماضی میں کشمیر کا مسئلہ صرف چند مذہبی جماعتوں کا مسئلہ بن کر رہ گیا تھا، ہم بحثیت قوم کشمیر سے غافل ہوگئے تھے، یہاں تک کہ یوٹیلٹی سٹورز پر ہمیں یہ جملے پڑھنے کو ملتے کہ "کشمیر کی آزادی تک ادھار بند ہے” کشمیر کیلئے ترجمان حقیقت چند افراد ہی تھے جن میں حافظ سعید کا نام نہ لیا جائے تو زیادتی ہوگی، جن کی جماعت پابندیوں کا شکار ہے۔ یہ بات مشاہدے میں آتی تھی کہ جب بھی کشمیر میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت ہوتی تھی مذہبی جماعتوں کے کارکنان سڑکوں پر نکلتے، قوم کو صرف سال میں ایک دن کشمیر کی یاد رہتی جب یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا۔

    ماضی میں بحثیت قوم کشمیر کیساتھ ہمارا یہ سوتیلا سلوک انتہائی غیر مناسب تھا، شاید اس کی ذمہ دار سیاسی قیادتیں بھی ہیں جو ہمیشہ قوم کو دوسرے معاملات پر الجھائے رکھتیں اور کشمیر پر توجہ نہ رہتی، بچپن میں ہم صرف پی ٹی وی پر شام 6 بجے کشمیر سیل کی جانب سے 15 منٹ کی اپ ڈیٹس دیکھتے، اس سب کے باوجود کنٹرول لائن کی دوسری طرف بہادر اور حریت پسند کشمیری نوجوان، بزرگ خواتین اور بچے پاکستان کا نام لے کر شہید ہوتے رہے، نابینا ہوتے رہے، جان کی بازی لگاتے رہے۔

    غفلتوں کی اس سیاہی کے باوجود کشمیر کیلئے ضمیر پکارتا رہا اور کہیں نہ کہیں پاکستانی قوم کشمیر کے لئے بے چین رہی، 5 اگست کے بھارتی اقدام کے بعد پاکستان کی حکومت کی کاوشیں کہیں، میڈیا کی کامیابی کہیں یا کشمیر میں جان ہتھیلی پر رکھ کر جدوجہد کرنے والے کشمیریوں کی قربانیوں کا صدقہ کہیں پوری قوم کشمیر کیلئے یک زبان ہے۔ کراچی سے پشاور تک اور گوادر سے وادی نیلم تک ہر پاکستانی کشمیر کے لئے بے چین ہے، حکمران سے لے کر عام عوام تک ہر ذی نفس اپنی آواز اپنی پہنچ کے مطابق بلند کررہا ہے، میں نے اپنے شعور کی عمر میں پہلی دفعہ مسلسل کشمیر کیلئے مظاہرے ہوتے دیکھے ہیں۔

    سکول کے بچے ہوں، یا یونیورسٹی کے طلبہ و اساتذہ، چھابڑی والا ہو یا ہوٹل والا، فیکٹری مالکان ہوں یا ملازمین، یونینز ہوں یا سول سوسائٹیز، یوتھ تنظیمات ہوں یا سیاسی کارکنان، ہر مرد و عورت، بزرگ جواں اور بچے لے کے رہیں گے آزادی کے نعرے بلند کرتے دکھائی دے رہے ہیں، مگر راستہ ابھی مزید صبر آزما ہے، کٹھن ہے اور شاید لمبا بھی، یہ صدائیں خاموش نہیں ہونی چاہییں، ناامیدی سے بچتے ہوئے مسلسل آواز بلند کرنا ہوگی،

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانیوں اور کشمیریوں کیلئے میرا پیغام ہے کہ اب اگر ہم خاموش ہوگئے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی، منزل دور سہی مگر ناممکن نہیں، راستہ کٹھن سہی، مگر طے تو کرنا ہے، اگر 70 سالوں میں اپنی جان، عزت آبرو کی قربانیوں کے باوجود مظلوم کشمیری قابض بھارتی فوج کے سامنے خاموش نہیں بیٹھے اور ناامید نہیں ہوئے تو ہمیں بھی چند دن دھوپ پر پسینہ خشک کرکے، بارش برداشت کرکے، موسم کی سختیاں جھیل کر خاموش نہیں ہونا چاہیے۔

    غیور پاکستانیوں، قومیں امید کے ساتھ زندہ رہتی ہیں اور منزلیں امید کا دامن تھامنے سے ہی ملتی ہیں، آئیے ہر شخص ہم میں سے کشمیر کا سفیر بن جائے اور آزادی کا سورج طلوع ہونے تک آواز اٹھائے۔

    تحریر : رضی طاہر

  • کشمیری سیاستدان شاہ فیصل نے اپنی غیر قانونی نظربندی کے خلاف درخواست واپس لے لی

    کشمیری سیاستدان شاہ فیصل نے اپنی غیر قانونی نظربندی کے خلاف درخواست واپس لے لی

    کشمیری سیاستدان ، شاہ فیصل نے کہا ہے کہ سینکڑوں کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے اور ان کے پاس کوئی قانونی مدد نہیں ہے۔

    شاہ فیصل نے اپنی حراست کو چیلنج کرنے والی درخواست واپس لینے کی اجازت طلب کرتے ہوئے ، ایک حلف نامے کے ذریعے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا کہ وہ اپنی غیر قانونی نظربندی کے خلاف درخواست پر عملدرآمد نہیں چاہتے کیوں کہ بیشتر کشمیری نظربندوں کے پاس قانونی مدد کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ .

    بھارتی حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے ٹشر مہتا نے ، جسٹس منموہن اور سنگیتا دھینگرا سہگل کے بنچ کو بتایا کہ انہوں نے فیصل کی اہلیہ کی جانب سے درخواست واپس لینے کے لئے دائر حلف نامے کے مندرجات کو تسلیم نہیں کیا۔ فیصل کی اہلیہ کے حلف نامہ داخل کرنے کے بعد ہائی کورٹ نے فیصل کو اس کی درخواست واپس لینے کی اجازت دے دی۔

    فیصل کی اہلیہ نے ہائیکورٹ کو بتایا کہ حال ہی میں وہ فیصل سے حراست میں ملیں اور انہیں درخواست واپس لینے کے لئے ہدایات موصول ہوئی جس کے تحت حراست میں رکھے ہوئے کسی فرد کو عدالت کے روبرو لایا جانا ضروری ہے۔

    فیصل کی اہلیہ نے کہا کہ 10 ستمبر کو ، میں (بیوی) نے سری نگر کے حراستی مرکز میں درخواست گزار (فیصل) سے ملاقات کی جہاں اسے نظربند کیا گیا ہے۔ اس ملاقات میں ، مجھے درخواست گزار کی طرف سے موجودہ درخواست واپس لینے کے لئے واضح زبانی ہدایات موصول ہوئی ہیں۔

    اہلیہ کے بقول درخواست گزار نے مجھے بتایا کہ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ سینکڑوں دیگر کشمیریوں کوغیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے اور انہیں ابھی تک رہا نہیں کیا گیا ہے ، اس حقیقت سے بخوبی واقف ہونے کی وجہ سے کہ ان میں سے زیادہ تر حراست میں ہیں اور ان کے پاس کوئی قانونی مدد نہیں۔ وہ اب اپنی غیر قانونی نظربندی کے خلاف قانونی طور پر موجودہ درخواست کی پیروی نہیں کرنا چاہتے۔ لہذا اس عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ درخواست دہندہ کو موجودہ درخواست کو واپس لینے کی اجازت دیں۔

    یاد رہے کہ شاہ فیصل کے پیروکار کی طرف سے اس کی رہائی کے لئے درخواست دائر کی گئی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ سابق بیوروکریٹ کو 14 اگست کو دہلی ہوائی اڈے پر غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا تھا اور انہیں سری نگر واپس لے جایا گیا تھا ، جہاں انہیں نظربند رکھا گیا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر، پی ڈی پی رہنما کے پرسنل سیکورٹی آفیسر کی رائفل چھین لی گی

    مقبوضہ کشمیر، پی ڈی پی رہنما کے پرسنل سیکورٹی آفیسر کی رائفل چھین لی گی

    مقبوضہ کشمیر میں کشتواڑ قصبے میں کچھ نامعلوم افراد نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) رہنما کے ذاتی سیکیورٹی آفیسر کی رائفل چھین لی جس کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔
    مقبوضہ کشمیر میں زوردار جھڑپیں، بھارتی فوج 39 دن بعد بھی صورہ علاقہ میں داخل نہیں ہو سکی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نامعلوم افراد نے پی ڈی پی رہنما شیخ ناصر کی پی ایس او کی رائفل چھین لی۔ بھارتی فوجیوں اور پولیس نے علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا ہے۔

    دریں اثنا ، بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کرفیو ، پابندیوں اور انٹرنیٹ، موبائل سروس کی بندش کی وجہ سے ، آج مسلسل 40 ویں دن معمولات زندگی متاثر رہے۔