Baaghi TV

Category: کشمیر

  • ریاست جموں وکشمیر کی تقسیم کب ہو گی، خبر آ گئی

    ریاست جموں وکشمیر کی تقسیم کب ہو گی، خبر آ گئی

    جموں وکشمیر ریاست آئندہ 31اکتوبر کو مرکز کے زیرانتظام ریاستوں جموںکشمیر اور لداخ میں تقسیم ہوجائے گی۔
    وزارت داخلہ نے جموں وکشمیر تشکیل نو ایکٹ 2019کے سلسلہ میں آج نوٹیفکیشن جاری کرکے کہا کہ ریاست کی تقسیم 31اکتوبر کو عمل میں آئے گی۔

    یاد رہے کہ قبل ازیں بھارتی صدر نے ریاست جموں کشمیر سے آرٹیکل 370ہٹائے جانے کے بل پر دستخط کر دیے تھے جس کے بعد یہ بھارتی آئین کا حصہ بن گیا تھا۔ اس بل کے تحت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل پانچویں دن بھی کرفیو لگا رہا۔ کرفیو کی وجہ سے واد ی میں غذائی اشیاءکی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

  • کشمیری رہنماؤں کو کہاں منتقل کیا جارہا ہے؟ بھارتی ظلم کا ایک اور ثبوت سامنے آگیا

    کشمیری رہنماؤں کو کہاں منتقل کیا جارہا ہے؟ بھارتی ظلم کا ایک اور ثبوت سامنے آگیا

    میرپور: جموں و کشمیر کی حکومت نے کشمیر میں آزادی کی جنگ لڑنے والے 25 سے زائد لیڈروں کو بھارت میں نامعلوم جیلوں‌ میں منتقل کردیا ہے.

    تفصیلات کے مطابق جمعرات کو جموں و کشمیر کی حکومت نے میاں قیوم کو بھارت کی نامعلوم جیل میں منتقل کیا ہے. قیوم ایک مشہور وکیل ہے اور وہ بہت سے معاملات کی نمائندگی کرتا رہا ہے۔ انہیں اسی بات کی سزا دی گئی ہے کہ وہ کشمیر میں کھڑے ہوکر بھارت کو للکارتے ہیں اور کشمیر کی آزادی کی بات کرتے ہیں. بھارت کا معصوم کشمیریوں پر ظلم و ستم جاری ہے جبکہ دنیا اس وقت خاموش بیٹھی ہوئی ہے. قیوم پہلے شخص نہیں جنہیں بھارت مین نامعلوم جیل میں قیدی بنایا گیا ہو بلکہ پچھلے کچھ دنوں میں 25 سے زائد ایسے لیڈر ہیں جنہیں بھارت کی نامعلوم جیلوں میں منتقل کردیا گیا ہے.

    واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے آرٹیکل 35 اے اور 370 کی منسوخی کے بعد سے ہی کشمیر میں ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے.

  • سراج الحق پر عمران خان مہربان ، کیوں ہوئے ؟ رپورٹ جانیئے

    سراج الحق پر عمران خان مہربان ، کیوں ہوئے ؟ رپورٹ جانیئے

    اسلام آباد: حکومت کا مقبوضہ کشمیرپر قائم جائزہ کمیٹی میں سراج الحق کو شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے. اطلاعات کے مطابق حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر قائم 7 رکنی جائزہ کمیٹی میں توسیع کا فیصلہ کرلیا۔

    حکومت کی طرف سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ آزادکشمیر کے صدر، وزیراعظم، گلگت بلتستان کے گورنر اور وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔یہ کمیٹی بھارتی حکومت کے حالیہ اقدام کا جائزہ اور سفارشات پیش کرے گی۔

    ابتدائی طور پر کمیٹی میں وزیرخارجہ، اٹارنی جنرل آف پاکستان، سیکریٹری خارجہ، ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز انٹیلی جنس (ڈی جی آئی ایس آئی)، ڈی جی ملٹری آپریشنز، ڈی جی انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) اور وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی احمر بلال صوفی کو شامل کیا گیا تھا۔

  • اگر 20 کروڑ میں سے کسی میں ہمت تھی، تو ان میں تھی

    اگر 20 کروڑ میں سے کسی میں ہمت تھی، تو ان میں تھی

    لاہور: سینئر تجزیہ نگار ایاز امیر نے کہا ہے کہ اگر 20 کروڑ میں سے کسی میں ہمت تھی، تو ان میں تھی جنہیں ہم دہشتگرد قرار دیتے آئے ہیں.

    تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ایاز امیر نے کہا کہ ہم لوگ بےبس ہوگئے ہیں، ہمیں بھارت کا جو جواب دینا چاہئیے تھا وہ ہم نے نہیں دیا اور ہم لوگوں کے پاس اختیار ختم ہوگئے ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ اب ایسا لگتا ہے کہ جو تنظیمیں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑتی رہی ہے اور جنہیں ہم لوگ دہشتگرد قرار دیتے آئے ہیں، وہ ہی لوگ ٹھیک تھے اور پوری 20 کروڑ میں وہ ہی لوگ تھے جن میں ہمت تھی باقی کسی میں ہمت نہیں ہوئی.

    واضح رہے کہ پچھلے 18 سال سے حافظ سعید اور ان کی جماعت "جماعت الدعوۃ” نے کشمیر کے مسلئے کو ریلی، جالوس اور لٹریچر کے ذریعے زندہ رکھا ہے جبکہ دوسری جانب ہماری حکومتوں نے کشمیر کے مسلئے کو حل کرنے کیلئے کوئی کوشش نہیں کی. صرف و صرف حافظ سعید کی جماعت نے یہ کام سر انجام دیا اور بد قسمتی سے کچھ لوگوں نے انہیں دہشتگرد قرار دیدیا. لیکن درحقیقت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں‌ مسلئہ کشمیر زندہ رکھنے والے حافظ سعید اور ان کی جماعت ہے. تاہم اب اس بات کو سینئر تجزیہ نگار ایاز امیر نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ اگر 20 کروڑ میں سے کسی میں ہمت تھی، تو ان میں تھی جنہیں ہم دہشتگرد قرار دیتے آئے ہیں.

  • کشمیری طلبا نے بھارت مخالف مظاہرہ کس یونیورسٹی میں کیا،ہر کوئی حیران رہ گیا

    کشمیری طلبا نے بھارت مخالف مظاہرہ کس یونیورسٹی میں کیا،ہر کوئی حیران رہ گیا

    بنگلہ دیش میں تعلیم حاصل کرنے والے کشمیری طلبانے بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے خلاف ڈھاکہ یونیورسٹی میں بھارت مخالف مظاہرہ کیا۔

    مظاہرے میں متعدد تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے 400 کشمیری طلباءنے ڈھاکہ یونیورسٹی کیمپس میں مظاہرہ کیا اور مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔

    کشمیری طلباء نے ایک ریلی بھی نکالی جس میں بھارت مخالف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ طلباءنے بھارت مخالف اور آزادی کے حق میں نعرے بھی لگائے۔ مظاہرین نے مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ ، لینڈ لائن اور موبائل نیٹ ورک کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔

  • تاجر برادری نے بھارت سے تجارتی جنگ شروع کردی

    تاجر برادری نے بھارت سے تجارتی جنگ شروع کردی

    لاہور : کشمیریوں کے دشمن سے تعلقات رکھنا حماقت ہے. بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور پاکستان کے خلاف بھارتی سازشوں کے خلاف پاکستانی تاجروں نے بھارت سے تجارتی بائیکاٹ کردیا ہے. کشمیر میں جاری بھارتی دہشتگردی کے خلاف تاجر بھی میدان میں آگئے،

    ذرائع کے مطابق قومی تاجر اتحاد، انجمن تاجران اور مختلف تاجر تنظمیوں نے مشترکہ طور پر ایک پریس کانفرنس کی ،اس کانفرنس میں بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ کہتے ہیں اب سے بھارتی اشیاء کی خریدوفروخت مکمل بند رہے گی۔

    تاجر تنظیموں کی مشترکہ پریس کانفرنس میں انجمن تاجران کے مرکزی جنرل سیکرٹری نعیم میر، صدر شاہ عالم ریڈی میڈ گارمنٹس حاجی حنیف، صدر شاہدرہ بورڈ مارکیٹس میاں خلیل عبیر، صدرلٹن روڈحافظ رضوان، وقار احمد میاں، صدر قومی تاجر اتحاد ملک خالد، شیخ عمر حیات، راجہ حسن اختر شریک ہوئے۔

  • وہ وقت جب کشمیر حاصل کرنے کا بہترین موقع تھا——–احمد طارق

    وہ وقت جب کشمیر حاصل کرنے کا بہترین موقع تھا——–احمد طارق

    یہ بات 1965 کی ہے جب پاک بھارت جنگ ہوئی،6 ستمبر 1965 کی صبح 9 بجے لاہور مین افواہ پھیلی کہ بھارت نے پاکستان میں حملہ کردیا ہے لیکن بعد میں پتا چلا کہ یہ افواہ نہیں بلکہ سچی خبر ہے۔

    1965 کی جنگ میں جہاں دراصل کشمیر میں جنگ ہورہی تھی اور ہم لوگ کشمیر میں لڑ رہے تھے، پاکستان اندازہ بھی نہیں لگاسکتا تھا کہ بھارت کشمیر کے علاوہ پنجاب اور بالخصوص لاہور سے حملہ کرسکتا ہے، اس تلخ حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ بھارتی فوج واہگہ کے ذریعے لاہور کے شالامار باغ تک پہنچ گئی اور ہم لوگ اس سے لاعلم تھے کہ بھارتی فوج شالامار باغ تک پہنچ گئی، تاہم جب بھارتی فوج نے دیکھا کہ یہاں تو کوئی پاکستانی فوج نظر نہیں آرہی تو انہیں خیال آیا کہ ہوسکتا یہ کوئی پاکستانی چال ہو کہ ایک دفعہ جب ہم لوگ شہر کے اندر داخل ہوں تو ہمیں چاروں طرف سے گھیر کر ہمیں تباہ کردیا جائے لیکن وہ حقیقت سے ناواقف تھے۔ خیر بھارتی فوج یہ پاکستانی چال سمجھ کر واپس بھارت چلی گئی لیکن اس بات سے انکار نہیں کہ بھارتی شالامار باغ تک ضرور آئے تھے۔

    اب کچھ بات کرلیتے ہیں کشمیر کی، جب ہمارے پاس کشمیر حاصل کرنے کا بہترین موقع تھا اور ہم نے یہ موقع بآسانی گنوا دیا۔1965 کی جنگ میں جہاں ہم نے کئی بھارتی چوکیاں تباہ کیں اور کئی بھارتی فوجیوں کو مار ڈالا۔ یہ ہی نہیں ہم نے بھارتی فوجیوں کو قیدی بھی بنا کر رکھا۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو 1965 کی جنگ میں ہم نے ایک طرح سے بھارتی فوجیوں کو کافی مارا اور قیدی بھی بنا کر رکھا۔ اس طرح یہ وہ موقع تھا جب ہم بھارت سے کشمیر بآسانی حاصل کرسکتے تھے۔ اس کی دو وجوہات ہیں، ایک تو یہ کہ ہماری فوج نے بھارتی فوج کو میدان میں کافی مارا اور دوسری بڑی وجہ بھارتی فوج کی چین کے ہاتھوں 1963 کی جنگ میں شکست ہے۔ 1963 میں بھارتی فوج کو چین سے بہت مار پڑ چکی تھی، یہی وجہ تھی کہ ہمارے بڑے سمجھتے تھے کہ اب کشمیر حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے اس لیے کشمیر پر چڑھائی کردی جائے، ہم لوگ کشمیر میں لڑتے رہے اور وہ شالامار سے ہوکر واپس چلے گے لیکن ہماری فوج نے بھارتی فوج کو 1965 میں خوب مارا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ وہ موقع تھا کہ بس ہم کشمیر چھین لیتے کیونکہ نہ صرف بھارتی فوج کو چین سے شکست ہوئی بلکہ ہماری فوج نے بھی بھارتی فوج کو خوب مزا چکھایا۔ اس طرح اس چھوٹے سے دورانیے میں 2 جنگوں میں شکست کھانے کے بعد بھارتی فوج، بھارتی حکومت اور ان کی عوام کا مورال بالکل ڈاون ہوگیا تھا۔ ہم لوگ چاہتے تو کشمیر بآسانی چھین سکتے تھے۔

    لیکن پھر کچھ یوں ہوا کہ ہمارے بزرگوں نے 10 جنوری 1966ء کو معاہدہ تاشقند پر دستخط کردیے۔ پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے ”معاہدہ تاشقند“ پر دستخط کئے۔ اس معاہدے کیلئے پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان 3 جنوری 1966ءکو اپنے سولہ رکنی وفد کے کیساتھ روس کی جمہوریہ ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند پہنچے‘ انکے وفد میں وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو‘ وزیر اطلاعات و نشریات خواجہ شہاب الدین وزیر قانون منظور قادر اور وزیر تجارت غلام فاروق کے علاوہ اعلیٰ سول اور فوجی حکام شامل تھے۔ اس معاہدے میں ہمارے عظیم بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ کشمیر کا حل مزاکرات سے نکالا جائے گا، اور اس پر ہمارے سابق صدر ایوب خان کے دستخط موجود ہیں۔ پاکستان نے کشمیر کا حل نکالنے کیلئے مذاکرات کا راستہ اس وقت نکالا جب بھارت کو 2 جنگوں میں مار پڑ چکی تھی اور پاکستان کے پاس بھارت کے کئی فوجی قیدی بھی تھے اس طرح پاکستان چاہتا تو بآسانی اپنی ہر کوئی بات منوا سکتا تھا لیکن پاکستان نے مذاکرات کرنے کو ترجیح دی جو آج تک ہورہے ہیں۔

    معاہدہ تاشقند ہی دراصل وہ معاہدہ ہے جس نے ایوب خان کی سیاست کو ہمیشہ کیلئے ختم کردیا۔ یہ ہی وہ معاہدہ ہے جس کی وجہ سے بھٹو نے یہ کہہ کر ایوب خان حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی کہ ایوب خان نے معاہدہ تاشقند پر دستخط کرکے پاکستان کی سلامتی اور سالمیت کا سودا کیا ہے۔ اور دراصل یہ ہی وہ معاہدہ ہے جس کی وجہ سے ہم لوگ اب کشمیر کبھی حاصل نہیں کرسکیں گے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ضرور ہے لیکن اسے تسلیم کرلینا چاہیئے، ایک طرف بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرکے کشمیر کی نہ صرف خود مختاری ختم کی ہے بلکہ اب کشمیر کا سارا کنٹرول براہ راست بھارتی وفاق کے پاس چلا گیا ہے۔ دوسری طرف ہماری معصوم قوم 21ویں صدی میں جنگ کی باتیں کرتے ہیں جو حقیقت سے ناواقف ہیں. معاہدہ تاشقند کسی مغربی ملک کی سازش نہیں بلکہ یہ وہ معاہدہ ہے جس پر ہمارے صدر کے دستخط آج بھی موجود ہیں۔ اس معاہدے کو 53 سال ہوگئے ہیں اور آج 53 سال بعد بھی مذاکرات چل رہے ہیں جو شاید اب چلتے ہی رہیں گے۔

  • جمعہ پربھی پابندی ، مسجدوں میں فوج گھس آئی ، مقبوضہ وادی کا بیرونی دنیا رابطہ منقطع

    جمعہ پربھی پابندی ، مسجدوں میں فوج گھس آئی ، مقبوضہ وادی کا بیرونی دنیا رابطہ منقطع

    سری نگر: تاریخ کا سب سے بڑا ظلم ،جبر اور انسانی حقوق کی پامالی جاری ہے اور مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی سے خائف بھارتی فوج نے آج جمعہ پر بھی پابندی عائد کردی ہے کسی کشمیری کو جمعہ کی نماز نہیں اداکرنے دی گئی

    اطلاعات کے مطابق اس وقت مساجد میں بھارتی فوجی بوٹوں سمیت گھس کے بیٹھے ہوئے ہیں اور کسی بھی کشمیری کو مساجد میں‌ جمعہ کی نماز اداکرنے کی اجازت نہیں دی گی یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیرکی حیثیت تبدیل کرنے کےبعد آج پہلا جمعہ ہے اور بھارت کی ہمدردی دیکھیئے کہ اس نے مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے ہی روک دیا ہے،

    مقبوضہ کشمیر سے اطلاعات کے مطابق اس وقت صرف پانچ دنوں میں 900سےزائد کشمیری رہنما گرفتار اور نظر بند ہیں، وادی میں5روزسےانٹرنیٹ اورموبائل سروس بھی بند ہے۔ قابض بھارتی فوج نے نہتے کشمیریوں پر جبروتشدد کے پہاڑ توڑ رہے ہیں‌، مقبوضہ کشمیر میں ہر پانچ فٹ کے فاصلے پر بھارتی فوجی کھڑا ہے،

    مقبوضہ وادی سے ذرائع کے مطابق نماز جمعہ کے روز بھی کشمیری گھروں میں قید ہیں،جامعہ مسجد سری نگر کے اطراف رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں ہیں، وادی میں انٹرنٹ اور موبائل سروس کو بند ہوئے بھی 5واں روز ہے۔ وادی کا بیرونی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں،کشمیریوں کو اشیائے خورنوش کی قلت کا سامنا ہے اور بیماروں کو ادویات کی فراہمی منقطع ہو چکی ہے،

  • حافظ سعید کی فوری رہائی کے متعلق باغی پول کی اکثریت نے کیا کہہ دیا، جانیے تفصیل میں

    باغی ٹی وی پول کے نتائج آ گئے. پول میں دیے گئے سوال مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت ، کیا حافظ سعید کو فوراً رہا کرنا چاہیے لوگوں نے اپنی رائے دے دی

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق :پول میں دیے گئے سوال مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت ، کیا حافظ سعید کو فوراً رہا کرنا چاہیے ؟ کے جواب میں لوگوں نے اپنی رائے دی ، 97.4فیصد لوگوں نے کہا کہ ہاں حافظ سعید کو رہا کرنا چاہیے خصوصا اس صورت میں جب انڈیا کشمیر پر اپنے غاصبانہ قبضے کو آئینی شکل دے کر مزید پختہ کرنا چاہتا ہے.اس صور ت حال میں کشمیر کے حق میں اگر کوئی مؤثر آواز ہے تو وہ حافظ سعید صاحب ہیں.بھارت جو اب دنیا میں پوری ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتےہوئے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے .اور کشمیر میں کشمیریوں پر ہر طرح کے ظلم و ستم کو روا رکھے ہوئے ہے بھارت کے اس جابرانہ ظلم کے جواب کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ پروفیسر حافظ محمد سعید کو فی الفور رہا کیا جائے اور بھارت کے منہ پر زور دار طمانچہ مارا جائے.. اس اقدام سے بھارت کے ایوانوں اور پاکستان مخلالف کیمپوں میں صف ماتم بچھ جائےگی.سو وقت کا تقاضا یہ ہے کہ حافظ سعید کو رہا کیا جائے. جب کہ 2.6فیصد لوگو ں نے انہیں رہا کرنے کے سلسلے میں نہ کی آپشن اپنائی ہے.
    اس موقع پر چند ٹویٹس یہ ہیں.
    عتیق لکھتے ہیں
    بالکل رہا کرنا چاہیے کیونکہ اس وقت بھارت کو سخت جواب دینے کی ضرورت ہے جو حافظ صاحب کی شکل میں ہی ممکن ہے ۔
    محمد رفیق لکھتے ہیں
    اگر فیک نیوز سے انڈیا کی شلواریں گیلی ہوسکتی ہیں تو سوچو اگر حافظ سعید سچ مچ باہر ہو تو انڈیا پر کیا بیتے گی


    عاصم مجید لکھتے ہیں
    انڈیا کو حافظ محمد سعید صاحب کی زبان بڑی جلدی سمجھ آتی ہے۔
    https://twitter.com/Asim2Wani/status/1159417606547398657?s=20
    ثنا صدیق لکھتی ہیں
    بالکل حافظ صاحب کو رہا کرنا چاہے میرے خیال میں وہ محسن کشمیر ہیں تکمیل پاکستان کے لیے اور مظلوم انسانیت کے لیے جہد کر رہے ہیں

    واضح رہے کہ اس سے پہلے حافظ سعید کی رہائی کے سلسلے میں بھارت میں پہلے ہی کھلبلی مچ چکی ہے اور ٹویٹر پر حافظ سعید صاحب کے متعلق مختلف ہیش ٹیگز سے ٹرینڈز چلے ہیں جو ٹاپ ٹرینڈز میں رہے.

  • روک سکو تو روک لو:کشمیری عورتوں سےزبردستی شادی کی دھمکیاں ، معاملہ شدت اختیار کرگیا

    روک سکو تو روک لو:کشمیری عورتوں سےزبردستی شادی کی دھمکیاں ، معاملہ شدت اختیار کرگیا

    نئی دہلی: بھارت کی طرف کشمیر کی قانونی حیثیت ختم کرنے کے بعد ہندوستانیوں نے اس بات کی خوشی کا اظہار کیا ہے کہ اب انہیں‌کوئی کشمیری عورتوں سے شادی کرنے سے کوئی نہیں روک سکے گا.دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے بھارتی فیصلے کے بعد یہاں کی مقامی خواتین سے شادی سے متعلق متنازع تبصروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔

    ذرائع کے مطابق 5 اگست کو مقبوضہ جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت میں تبدیلی کے فیصلے کے بعد بھارت کے مردوں کی جانب سے کشمیری خواتین سے شادی کرنے سے متعلق نازیبا تبصرے سامنے آنے پر سماجی حقوق کے لیے کام کرنے والوں رضاکاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

    خیال رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز تک مقبوضہ کشمیر کے مقامی افراد، جہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے، کو مختلف اقسام کے خصوصی حقوق حاصل تھے، ان حقوق میں غیر مقامی افراد کا وادی میں جائیداد نہ خریدنا، غیر مقامی افراد کو سرکاری ملازمتوں کی اجازت نہ ہونا اور غیر مقامی افراد کا یہاں کی خواتین سے شادی نہ کرنا شامل تھا۔

    بھارتی صحافی اور رضاکار رتوپارنا چاترجی نے اس اقدام کو انتہائی نامناسب انداز قرار دیا، وہ اپنے ٹوئٹر اکاونٹ کے ذریعے جنسی ہراسانی کی کہانیاں منظر عام پر لاتی ہیں، ان کا مزید کہنا تھا ‘صدیوں سے خواتین کے جسم کا جنسی استحصال کیا جارہا ہے جبکہ کشمیری خواتین سے شادی کے حوالے سے کیے جانے والے تبصرے صرف اس حقیقت کی گواہی ہیں’۔