Baaghi TV

Category: کشمیر

  • بھارت کا کرفیو ؛کشمیریوں کےلیےسنت ابراہیمی کا اہتمام بھی مشکل

    بھارت کا کرفیو ؛کشمیریوں کےلیےسنت ابراہیمی کا اہتمام بھی مشکل

    بھارت کا کرفیو ؛کشمیریوں کےلیےسنت ابراہیمی کے اہتمام کےلیے بھی مشکلات

    باغی ٹی وی رپورٹ کےمطابق کشمیری مسلسل تیسرے روز بھی پابندیوں کی زد میں ، وادی میں کھانے پینے اور اشیا کی قلت ہونےلگی، عیدالاضحٰی کی تیاری کے لیے انتظامات سےمحروم کردیا گیا.کشمیری سنت ابراہیمی ادا کرنے سےبھی قاصر ہو گئے.کشمیر میں بھارتی مظالم کی وجہ سےکشمیریوں کی زندگی پہلے ہی اجیرن تھی جسے اب اور مشکل بنا دیا گیاہے.

  • مقبوضہ کشمیر، آرٹیکل 370کو ختم کرنے کے خلاف احتجاج جاری، 6افراد زخمی

    مقبوضہ کشمیر، آرٹیکل 370کو ختم کرنے کے خلاف احتجاج جاری، 6افراد زخمی

    مقبوضہ کشمیر سے آرٹیکل 370کو ہٹائے جانے کے خلاف احتجاج جاری ہے۔بھارتی فوج کشمیریوں کی آواز دبانے کے لیے ہر ممکن طاقت استعمال کر رہی ہے۔
    وادی کشمیر: مسلسل تیسرے دن کرفیو، موبائل،انٹرنیٹ سروس تاحال بند
    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج کی طرف سے وحشیانہ طاقت کے استعمال کی وجہ سے کم ازکم 6کشمیری زخمی ہو گئے ہیں۔ سری نگر کے ایک اسپتال میں چھ مریضوں کو فائرنگ اور مہلک ہتھیاروں کی وجہ سے زخمی ہونے پر داخل کرایا گیا ہے۔

    وادی کشمیرمیں مسلسل تیسرے دن کرفیو نافذ ہے۔ موبائل، انٹرنیٹ خدمات ابھی تک بحال نہیں ہوئی ہیں۔ شہری علاقوں میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی تعینات ہیں۔ وادی میں تمام تعلیمی ادارے بند ہیں۔

  • آرٹیکل 370کو ختم کرنے والے بل پربھارتی صدر نے دستخط کر دیے

    آرٹیکل 370کو ختم کرنے والے بل پربھارتی صدر نے دستخط کر دیے

    بھارتی صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے آج بدھ کو جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے سے متعلق آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

    بھارتی صدر نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ذریعہ منظور شدہ بلوں پردستخط کردیے ہیں جس کے بعد یہ قانون بن گیا اور جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہوگئی۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر کی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ساتھ بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے بھی مسترد کیا ہے۔ یہ بل پیر کو راجیہ سبھا میں جبکہ منگل کو لوک سبھا میں منظور ہوا۔

  • مودی حکومت نے آئین کی غلط تشریح کر کے جموں و کشمیر کے ٹکڑے کیے، کانگریس ورکنگ کمیٹی

    مودی حکومت نے آئین کی غلط تشریح کر کے جموں و کشمیر کے ٹکڑے کیے، کانگریس ورکنگ کمیٹی

    کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کا جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370ہٹائے جانے کے بعد اجلاس ہوا۔ میٹنگ کے بعد کمیٹی نے کہا کہ مودی
    وادی کشمیر: مسلسل تیسرے دن کرفیو، موبائل،انٹرنیٹ سروس تاحال بند
    حکومت نے غیر جمہوری طریقے سے آئین کی دفعہ 370 ختم کی اور آئین میں موجود ضابطوں کی غلط تشریح کر کے جموں و کشمیر ریاست کے ٹکڑے کرنے کا کام کیا ہے۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے اس کے لیے مودی حکومت کی مذمتی قراردادبھی پاس کی ۔

    میٹنگ کے بعد قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت نے کشمیر کے معاملے میں آئینی قانون، جمہوری عمل، ریاستوں کے اختیارات، پارلیمانی عمل اور جمہوری حکومت کے ہر اصول کی خلاف ورزی کی۔

    قرارداد میں کہا گیا کہ ”آرٹیکل 370 کو پنڈت جواہر لال نہرو، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور بی آر امبیڈکر نے این گوپالاسوامی آینگر اور وی پی مین نے مل کر تیار کیا تھا ۔ اس آرٹیکل نے جموں و کشمیر ریاست اور حکومت ہند کے درمیان پل کا کام کیا تھا۔ سبھی طبقوں کے صلاح و مشورہ اور انھیں اعتماد میں لے کر اس میں ترمیم کی جانی چاہیے تھی۔“

    سی ڈبلیو سی کے مطابق بی جے پی حکومت نے پیر اور منگل کو جو کچھ کیا اس کے پیچھے منفی سوچ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

    اجلاس کی صدارت راہول گاندھی نے کی۔ اجلاس میں سونیا گاندھی، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کمیٹی کے دوسرے ممبران نے شرکت کی۔

  • کینڈا، نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی کاجموں و کشمیر کی تازہ ترین صورتحال کے متعلق تشویش کا اظہار

    کینڈا، نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی کاجموں و کشمیر کی تازہ ترین صورتحال کے متعلق تشویش کا اظہار

    کینیڈا کی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی)نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی حکومت کے کریک ڈاون کی خبروں پر شدید تحفظات ہیں۔ بھارتی اقدام سے خطے میں مزید انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بڑھیں گی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل دیگرسول سوسائٹی گروپ کی طرح ہم بھی بھارتی اقدام سے پریشان ہیں۔

    این ڈی پی نے مزید کہا کہ کشمیری رہنماوں کو گرفتار،ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی ،ٹیلیفون اورانٹرنیٹ کو بند کردیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ ریاست جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370کے ہٹائے جانے کے بعد مسلسل تین دن سے کرفیو نافذ ہے۔ اخبارات بھی شائع نہیں ہو رہے۔ جبکہ پوری وادی میں دفعہ 144کا نفاذ ہے۔

  • وادی کشمیر: مسلسل تیسرے دن کرفیو، موبائل،انٹرنیٹ سروس تاحال بند

    وادی کشمیر: مسلسل تیسرے دن کرفیو، موبائل،انٹرنیٹ سروس تاحال بند

    وادی کشمیرمیں مسلسل تیسرے دن کرفیو نافذ ہے۔ موبائل، انٹرنیٹ سروس تاحال بند ہے۔ حساس علاقوں میں سخت حفاظتی بندوبست ہے۔ شہری علاقوں میں بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز تعینات ہیں۔ وادی میں تمام تعلیمی ادارے بند ہیں۔ سری نگرکے علاوہ تمام علاقوں میں سکیورٹی فورسیس کوتعینات کر دیا گیا ہے۔
    مقبوضہ کشمیر میں دو دن سے اخبارات شائع نہ ہو سکے
    وادی میں حریت رہنماﺅں کو گرفتار یا نظر بند کر دیا گیا ہے۔ بھارت نواز سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کو بھی نظربند کر دیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ جموں کشمیر کے کئی علاقوں میں آج بھی دفعہ 144کا نفاذ ہے۔ وادی میں مواصلاتی نظام پوری طرح بند ہے۔ کل کے مقابلے نسبتاً بڑی تعداد میں افواج تعینات کی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر سے آرٹیکل 370ہٹائے جانے کے بعد مودی حکومت کو بھارت نواز کشمیری سیاسی جماعتوں نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔اگرچہ بھارتی حکام یہ دعوی کر رہے ہیں کہ کشمیر میں صورت حال نارمل ہے تاہم کرفیو اورمواصلاتی نظام کی بندش سے کشمیر کے حوالے سے کوئی خبر بھی نہیں آرہی۔دوسری طرف کشمیر میں اخبارات بھی بند ہیں۔

  • جموں وکشمیر سے آرٹیکل370 کے ہٹائے جانے کے بعد راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر نے کیا کہا

    جموں وکشمیر سے آرٹیکل370 کے ہٹائے جانے کے بعد راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر نے کیا کہا

    راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر منوج جہا نے آرٹیکل 370کے ہٹائے جانے کے بعد مودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
    سابق بھارتی وزیرداخلہ چدمبرم نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر کیا کہا
    منوج نے جموں وکشمیر سے آرٹیکل370ہٹاکر کشمیر کو خطہ زمین پر ایک اور فلسطین بنانے کی تیاری قراردیا۔

    منوج نے کہاکہ آنے والے پانچ سالوں میں یہ بات اسی ایوان میں بات کی جائے گی کہ کوئی تھا جو ایوان میں حکومت کے بدبختی پر مبنی اقدام کے خلاف کھڑے ہوا اور کشمیری عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔

  • ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل کی صدر کے ساتھ ملاقات میں کیا کہا، جانیے تفصیل  میں

    ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل کی صدر کے ساتھ ملاقات میں کیا کہا، جانیے تفصیل میں

    ملیحہ لودھی کی سلامتی کونسل کی صدر سے ملاقات ، کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے پر تشویش سے آگاہ کیا، انہوں نے کہا کہ بھارت خطے کی ہیئت اور جغرافیائی حیثیت تبدیل کر رہا ہے.بھارتی اقدام سے خطے کے امن و امان کو شیدید خطرہ ہے.اقوام متحدہ کو اپنا کردارادا کرنا ہو گا تاکہ کشمیر کا مسئلہ کسی خطرناک صورت حال تک نہ پہنچ جائے جس سے پور ے خطے کا امن تہہ و بالا ہو جائے.
    ملیحہ لودھی نے کہا کہ کشمیرپربھارت کاقبضہ ختم کرانا سلامتی کونسل کی ذمےداری ہے اور اقوام متحدہ نے کشمیری عوام کےحق خود ارادیت کوتسلیم کررکھاہے لیکن بھارت سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہورہا ہے۔

    ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے جوانا رونیکا کو بھارتی اقدامات کے باعث خطےکےامن پر پڑنے والے خطرناک اثرات پرپاکستانی موقف سےآگاہ کرتے ہوئے کہا بھارت طاقت کے زور پراوریکطرفہ قانون سازی سے زمینی حقائق تبدیل نہیں کرسکتا، بھارتی اقدامات سلامتی کونسل کی قراردادوں اورعالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، قراردادوں پرعملدرآمد کرانا سلامتی کونسل اورعالمی برادری کی ذمےداری ہے، پاکستان کشمیرکی سیاسی اورسفارتی حمایت ہمیشہ جاری رکھےگا۔
    واضح رہے کہ بھارت نے آرٹیکل 370 میں ترمیم کر کے کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کر دیا ہے.اس سلسلے میں پورے کشمیر میں صورت حال انتہائی کشیدہ ہے ، وادی میں کرفیو لگا دیا گیا ہے. انٹرنیٹ سروس بند ہے.کشمیری اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے پھر بھی سڑکوں پر نکلتے ہیں اور ان پر تشدد ہو رہا ہے

  • بھارت چین کے سامنے بھی اکڑ گیا ، چین مداخلت سے باز رہے

    بھارت چین کے سامنے بھی اکڑ گیا ، چین مداخلت سے باز رہے

    نئی دہلی :بھارت نے چین کو بھی آنکھیں دکھانا شروع کردیں. اطلاعات کے مطابق بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق چین کے ’تحفظات‘ کو ’داخلی امور میں مداخلت‘ قرار دے کرمسترد کردیا۔وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ بھارت دوسرے ملک کے داخلی امور پر تبصرہ نہیں کرتا اور امید کرتا ہے کہ دوسرے ممالک بھی ایسے ہی رویہ کا مظاہرہ کریں۔

    یا رہےکہ مقبوضہ کشمیر کی تازہ صورت حال پر چین نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی فیصلے پر کہا تھا کہ نئی دہلی چین کی سرحدی خودمختاری پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہا ہے۔دوسری جانب بھارت کا موقف تھا کہ مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا اور یہ بھارت کا داخلی معاملہ ہے۔بھارت نے چین کو خبردار کیا کہ خطے کو دو حصوں میں تقسیم کرنا ان کا داخلی معاملہ ہے۔

    بھارتی حکومت کے حالیہ فیصلے کے بعد چیننے چین کا یہ موقف ہےکہ کہ لداخ میں بدھ مت کے کثیر آبادی والے علاقوں کو انتظامیہ علاقے میں بدل دیا گیا جس پر نئی دہلی کا براہ راست اختیار رہے گا۔واضح رہے کہ مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا بھی فیصلہ کیا، لداخ کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا جائے گا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی۔خیال رہے کہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ چین نے شمالی مغربی حصے کے 15 ہزار مربع میل پر قبضہ کیا ہے دوسری جانب چین بھی دعویدار ہے کہ نئی دہلی نے بھارت کے شمالی مغرب میں واقع ریاست روناچل پردیش کے 90 ہزار مربع کلومیٹر پر قبضہ کیا۔

  • بھارتی سپریم کورٹ اب فیصلہ کرے گی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا ، مودی ڈاکٹرائن چیلنج

    بھارتی سپریم کورٹ اب فیصلہ کرے گی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا ، مودی ڈاکٹرائن چیلنج

    نئی دہلی : مودی ڈاکٹرائن سپریم کورٹ میں چیلنج ، شہری نے سپریم کورٹ سے اپیل کردی کہ مودی حکومت کا یہ فیصلہ کالعدم قرار دے . اطلاعات کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کو بھارت کی سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ایڈووکیٹ ایم ایل شرما کی جانب سے بھارتی سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 367 میں کی گئیں ترامیم غیرآئینی اور غیرقانونی ہیں۔

    ایڈووکیٹ ایم ایل شرما کی جانب سے بھارتی سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ بھارتی حکومت نے آرٹیکل 367 میں ترمیم کر کے اس میں چوتھی شق شامل کر دی ہے جس کے تحت آئین ساز اسمبلی کو قانون ساز اسمبلی سے تبدیل کردیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز بھارت کے صدررام ناتھ کووند نے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بل پر دستخط کیے جس کے بعد مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہوگئی تھی۔خیال رہے کہ خصوصی آرٹیکل ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا، جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

    ذرائع کے مطابق یہی نہیں مودی سرکار نے مقبوضہ وادی کو 2 حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے وادی جموں و کشمیر کو لداخ سے الگ کرنے کا بھی فیصلہ کیا، لداخ کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا جائے گا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہوگی۔یاد رہے کہ بھارتی صدر کی جانب سے آرٹیکل 370 کے بل پر دستخط کے لیے بھارت کے آئین کے آرٹیکل 367 میں ترامیم لازمی درکار تھیں۔