Baaghi TV

Category: کشمیر

  • کشمیری رہنما یاسین ملک کی حالت انتہائی تشویشناک، اہل خانہ کی پریس کانفرنس

    کشمیری رہنما یاسین ملک کی حالت انتہائی تشویشناک، اہل خانہ کی پریس کانفرنس

    جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے محبوس چیئرمین محمد یاسین ملک کی ماں اور بہنوں نے مائسمہ میں اپنے گھر پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یاسین ملک کو تہاڑ جیل کے سیل نمبر سات میں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور انتہائی علیل ہونے کے باوجود انہیں ہسپتال میں داخل نہیں کرایا جارہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یاسین ملک جو مختلف امراض میں مبتلا ہوچکے ہیں کو کسی ہسپتال میں داخل کرایا جائے یا علاج معالجہ کے لئے اہل خانہ کے سپرد کیا جائے۔

    یاسین ملک کی بہن نے کہا کہ ملک کو تہاڑ جیل میں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور کسی کو ان سے ملنے نہ ان کو کسی سے ملنے کی اجازت دی جاتی ہے۔اگر تہاڑ جیل میں سبھی قیدی ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں، ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو اسے تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟
    انہوں نے کہا:”ہمارا ایک ہی بھائی ہے اور وہ جیل میں سڑ رہا ہے۔ میں ہر تین ہفتے بعد اس سے ملنے جاتی ہوں۔ مجھے یقین نہیں ہوتا ہے کہ وہ زندہ ہوں گے یا نہیں۔ اس کے ساتھ اتنی زیادتی کیوں؟
    ملک کی بہن کے مطابق، ”جب میں نے اس کی حالت دیکھی تو میں دلی ہائی کورٹ گئی۔ میں نے وہاں ایک درخواست دائر کی لیکن اس پر سماعت ہی نہیں ہوتی۔ اس کی خاموش موت ہوگی اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ وہ مرگیا ہے۔ اس کا جیل میں کوئی علاج نہیں ہوتا ہے۔ اس کو بالکل اکیلا رکھا گیا ہے۔ چوبیس گھنٹوں میں اسے صرف بیس منٹ کے لئے باہر نکالا جاتا ہے۔ جیل میں اسے مارا جارہا ہے“۔
    انہوں نے مزید کہا”ہم گزشتہ چار مہینوں سے بہت پریشان ہیں۔ آپ اس کو بند رکھنا چاہتے ہیں تو رکھ سکتے ہیں لیکن کم از کم اسے طبی سہولیات فراہم کرو۔ اس کو ہسپتال میں داخل بھی نہیں کرایا جاتا۔ وہ مر جائے گا۔ وہ کتنا بڑا دہشت گرد ہے کہ آپ نے اسے تنہائی میں رکھا ہے؟ جس سیل میں وہ بند ہے وہاں بجلی کا ایک بلب چوبیس گھنٹے چلا رہتا ہے جس کی وجہ سے اس کی آنکھیں خراب ہوگئی ہیں“۔
    یاد رہے کہ یاسین ملک کو 22 فروری کو گرفتار کر کے پولیس تھانہ کوٹھی باغ میں بند کردیا گیاتھا۔ بعد ازاں 7 مارچ کو انہیں کوٹ بلوال جیل جموں اور 9 اپریل کو تہاڑ جیل دلی منتقل کیا گیا۔ بھارتی حکومت نے ان کی جماعت جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ پر پابندی عائد کی ہے۔

  • محبوبہ مفتی کو اچانک نظر بند کردیا گیا، کشمیر کی صورتحال مزید خراب

    محبوبہ مفتی کو اچانک نظر بند کردیا گیا، کشمیر کی صورتحال مزید خراب

    سری نگر: جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریکٹک پارٹی کی صدر محبوہ مفتی کو سری نگر میں نظر بند کردیا گیا.

    تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز بھارتی فوج نے سری نگر میں جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریکٹک پارٹی کی صدر محبوہ مفتی کو نظر بند کردیا. بھارتی فوج کا یہ رویہ انتہائی افسوسناک اور تشویشناک پے. دوسری جانب محبوبہ مفتی نے نظر بند ہونے سے پہلے بھارتی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اپنے ایک ٹویٹ میں کشمیر کی صورتحال بتاتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت سری نگر کی سڑکوں پر انتشار ہے. لوگ پٹرول پمپوں‌ کے باہر لمبی لمبی قطاروں میں موجود ہیں جبکہ اے ٹی ایم کے باہر بھی لوگوں کی لمبی قطاریں موجود ہیں. اس حوالے سے محبوبہ مفتی نے بھارتی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا.

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اورفضائیہ اچانک ہائی الرٹ، ہر طرف افراتفری

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اورفضائیہ اچانک ہائی الرٹ، ہر طرف افراتفری

    سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اورفضائیہ ہائی الرٹ کردی گئی.

    بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مزید فورسز اہلکاروں کی تعیناتی کے بعد فوج اور فضائیہ کوبھی مقبوضہ علاقے میں ہائی الرٹ کر دیاہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں میں کہا گیا کہ بھارتی پیرا ملٹر ی کے مزید28 ہزار اہلکار سرینگر اور مقبوضہ وادی کے دیگر علاقوںمیں تعینات کیے جا رہے ہیں ۔ سرینگر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پربھارتی پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ کنٹرول لائن پر تعینات بھارتی فوج کوبھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ بھارتی ائر فورس کے طیارے جمعرات کی شام سے مقبوضہ کشمیر کی فضاﺅں میں گشت کر رہے ہیں ۔ دریں اثنابھارت اپنی پیرا ملٹری کی مزید 280سے زائد کمپنیاں مقبوضہ وادی میں تعینات کر رہا ہے ۔ قبل ازیں چندروز قبل پیرا ملٹری کے دس ہزار اہلکار وادی میں تعینات کیے گئے تھے اور اب مزید 28ہزار اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں۔

  • بھارتی پولیس نے کشمیری صحافی کو گرفتار کرلیا

    بھارتی پولیس نے کشمیری صحافی کو گرفتار کرلیا

    سرینگر (اے پی پی) بھارتی پولیس نے ممتاز کشمیری صحافی قاضی شبلی کو گرفتار کرلیا

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے اسلام آباد قصبے سے معروف صحافی قاضی شبلی کو گرفتار کرلیا ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق قاضی شبلی جو خبروں کی ایک ویب سائیٹ کے ایڈیٹر ہیں کو بھارتی پولیس نے گرفتار کر کے اسلام آباد قصبے کے شبیر باغ پولیس اسٹیشن میں نظربند کردیا ہے۔ ایک صحافی نے میڈیا کو بتایا کہ انتظامیہ نے قاضی شبلی کو بلا جواز طورپر گرفتار کیا ہے اور انہیں عدالت میںبھی پیش نہیں کیا گیا ۔ قاضی شبلی تنازعہ آزادی صحافت اورمقبوضہ کشمیرمیں ذرائع ابلاغ پر عائد قدغنوں کے خلاف موقف رکھنے اور کشمیر کے بارے میں اپنی غیر جانبدارنہ تحریوں کے باعث مشہور ہیں ۔ ماضی میں بھی ان سے ان کی تحریروں بارے پوچھ گچھ کی جاتی رہی ہے۔ قاضی شبلی آزادی پسند رہنماءقاضی احمد یاسر کے بھائی ہیں۔ قاضی یاسر پہلے ہی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت غیر قانونی طورپر نظربند ہیں۔

  • حریت کانفرنس نے اچانک اب تک کا سب سے بڑا فیصلہ کرلیا

    حریت کانفرنس نے اچانک اب تک کا سب سے بڑا فیصلہ کرلیا

    سرینگر ۔ 02 اگست (اے پی پی) حریت کانفرنس نے اسلامک پولیٹکل پارٹی کی رکنیت ختم کر دی.

    تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس پریس اینڈ پبلی کیشن ڈویژن نے کہاہے کہ حریت کانفرنس کے چند روز قبل منعقدہ ایک غیر معمولی اجلاس میں حریت کانفرنس کی ایک اکائی اسلامک پولیٹکل پارٹی سے متعلق شکایات پر تفصیلی غورو خوص کیاگیا ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق حریت کانفرنس کی طرف سے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ اجلاس میں تمام شواہد، رپورٹوں اور چند حریت اکائیوں کے سربراہوں کی گواہی کی روشنی میں اس پارٹی کو حریت کی بنیادی رُکنیت سے خارج کر دیا گیا۔ اس فیصلے کی اطلاع اسلامک پولیٹکل پارٹی کے سربراہ کو تحریراً دے دی گئی ہے۔

  • شکیل بخشی پر قاتلانہ حملہ، سیدعلی گیلانی نے اہم ترین بیان جاری کردیا، بھارتیوں کی نیندیں حرام

    شکیل بخشی پر قاتلانہ حملہ، سیدعلی گیلانی نے اہم ترین بیان جاری کردیا، بھارتیوں کی نیندیں حرام

    سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے نامعلوم افراد کی طرف سے معروف حریت رہنماءشکیل احمد بخشی پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سیدعلی گیلانی نے سرینگرمیں جاری ایک بیان میں کہاکہ ان واقعات میں ہاتھ چاہے جو بھی استعمال ہوں لیکن ان منصوبہ بند سازشوں کے لئے وہی سوچ کام کر رہی ہے جو کشمیرمیں آزادی پسندوں کو ایک دوسرے کی گردن زنی پر اکسا کر اس لہولہان وادی کشمیر کو مزید لال کرنا چاہتی ہے۔

    انہوں نے کہاکہ ان مذموم کارروائیوں سے دشمن ایک تیر سے کئی شکار کرکے ایک تو تحریک آزادی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہا ہے اور دوسری طرف نامعلوم افراد کی آڑ میں معروف شخصیات کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوافراد نوجوانی سے ہی کارووان حریت میں شامل رہے ہوں جنہوں نے اس پُرخار راہ میں بہت سی مشکلات اور مصائب جھیل کر بھی دامن حق وصداقت تھامے رکھا ہو انہیں اس بزدلی سے نشانہ بنانا ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ سیدعلی گیلانی نے کہاکہ دشمن دو ربیٹھا تماشا دیکھ رہا ہوگا کہ اس تشویش ناک فضا میں بھی یہ قوم ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کے لیے بڑی آسانی سے استعمال ہورہی ہے۔ انہوں نے اپنی مظلوم قوم خاص کر نوجوانوں سے دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس دورِ پُرآشوب میں کندھے سے کندھا ملاکر یکسو اور یکجا ہوکر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح دشمن کا مقابلہ کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اگر ہم آج بھی دشمن کی سازشوں کا شکار ہو کر ٹکڑوں اور ٹولیوں میں بٹ گئے توہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ادھر حریت رہنماءبلال احمد صدیقی نے ایک بیان میں حریت رہنماءشکیل احمد بخشی پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اس حملے سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی بوکھلاہٹ اور مذموم عزائم کی عکاسی ہوتی ہے جو آزادی پسند قوم میں غلط فہمیاں پھیلا کر انہیں تقسیم کرنا چاہتی ہیں۔ واضح رہے کہ نامعلوم افراد نے بدھ کی شب سرینگر کے علاقے بمنہ میں شکیل احمد بخشی کے گھر میں گھس کر ان پر قاتلانہ حملہ کیاتھا تاہم وہ حملے میں محفوظ رہے تھے۔

  • بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی  کچلنے کی نئی حکمت عملی بنالی

    بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی کچلنے کی نئی حکمت عملی بنالی

    بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی کو کچلنے کیلئے نئی حکمت عملی بنالی ہے ، بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق حریت رہنمائوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ایک مرتبہ پھر شروع کردی گئی ہیں،

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے جدوجہد آزادی کو کچلنے کے لیے یہ منصوبہ بنایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندوں بالخصوص نوجوانوں کو وادی سے نکال دیا جائے ، متعدد کشمیری رہنمائوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کردی گئی ہیں اور غیر ملکی سفارتکاروں کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی، کشمیری حلقوں کے علاوہ بعض غیر ملکی سفارتکاروں نے بھی اس خبر کی تصدیق کردی ہے ، واضح رہے کہ ماہ فروری کے دوران ایک خود کش حملے میں بھارت کے چالیس فوجی جوانوں کی ہلاکت کے بعد بھارتی حکومت کھلی بربریت پر اتر آئی ہے ، اس نے پاکستان پر بھی ‘‘علیحدگی پسندوں’’ کو سرمایہ اور اسلحہ فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے ، پاکستان ان بھارتی الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر سختی کے ساتھ مسترد کرچکا ہے ،
    واضح رہے کہ بھارت کشمیرپر اپنے غاصبانہ قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے اس طرح‌کے اوچھے ہٹھکنڈے استعمال کرتا آیا ہے .

  • بھارت کی  روائتی ہٹ دھرمی جاری ، مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی بات کو پھر سے مسترد کردیا

    بھارت کی روائتی ہٹ دھرمی جاری ، مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی بات کو پھر سے مسترد کردیا

    بھارت کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر روایتی ہٹ دھرمی جاری ، امریکہ کی طرف سے ثالثی کی بات پھر سے مسترد کر دی

    تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے پر ثالثی کی بات پر بھارتی حکومت نےپھر سے مسترد کر دیا ہے اس سلسلے میں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ٹویٹ کی کہ ان کی امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے بات چیت ہوئی ہے جس پر انہیں پیغام دے دیا کہ کشمیر کے معاملے پر کوئی بھی بات چیت صرف پاکستان سے ہوگی، یہ دو طرفہ معاملہ ہے، کسی کی ثالثی قبول نہیں۔

    یاد رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر میں ثالثی کی پیش کش کی۔ انہوں نے کہا مسئلہ کشمیر حل کرانے میں ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہوں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا مسئلہ کشمیر کے حل کا انحصار نریندر مودی پر ہے، میری عمران خان سے ایک اچھی ملاقات ہوئی ہے، عمران خان اور نریندر مودی دونوں شاندار شخصیات ہیں، اگر پاکستان بھارت چاہیں تو ثالثی کیلئے تیار ہوں۔

    ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھارتی آئین سے آرٹیکل 35 اے ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اضافی بھارتی اہلکاروں کی تعیناتی کا مقصد وادی میں ممکنہ ردعمل اور مظاہروں کو روکنا ہے۔
    مودی سرکار آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنا چاہتی ہے جس کے تحت غیر ریاستی بھارتی باشندے جموں و کشمیر میں جائیدادیں اور زمینیں خرید سکیں گے جس سے متنازع خطے میں مسلم اکثریت خطرے میں پڑ جائے گی۔

  • کشمیر کی خصوصی حیثیت کے ضامن قانون 35 اے کو کسی صورت چھیڑنے نہیں دیں گے، کشمیری رہنما حکیم یاسین

    کشمیر کی خصوصی حیثیت کے ضامن قانون 35 اے کو کسی صورت چھیڑنے نہیں دیں گے، کشمیری رہنما حکیم یاسین

    پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم یاسین نے کہاہے کہ انکی تنظیم دفعہ 35-اے اور دفعہ 370،کو کسی صورت تبدیل نہیں کرنے دیں گے . اس سے کشمیر کو بھارت کی جھولی میں دینے والی بات ہے.

    چیئرمین حکیم یاسین نے کہا ہے کہ دفعہ35-اے اور دفعہ370 کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑکے بھیانک نتائج برآمد ہونگے جو ملک کے لئے سطح نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ حکیم یاسین نے جموں بار سے وابستہ ان وکلاء اور سول سوسائٹی ممبران کی ستائش کی جنہوں نے متحد ہوکر دفعہ 35-اے کے تحفظ کے حق میں آواز اٹھائی . انھوں نے کہا کہ دفعہ 35-اے ریاست کے تینوں خطوط- کشمیر، جموں اور کشمیر کے لوگوں کے مفادات کی ضامن ہے اور اس دفعہ کے جانے سے ریاست کی انفرادیت اور ساخت کو دھچکا لگے گا۔

    ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھارتی آئین سے آرٹیکل 35 اے ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اضافی بھارتی اہلکاروں کی تعیناتی کا مقصد وادی میں ممکنہ ردعمل اور مظاہروں کو روکنا ہے۔
    مودی سرکار آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنا چاہتی ہے جس کے تحت غیر ریاستی بھارتی باشندے جموں و کشمیر میں جائیدادیں اور زمینیں خرید سکیں گے جس سے متنازع خطے میں مسلم اکثریت خطرے میں پڑ جائے گی۔

  • مقبوضہ کشمیر ، مجاہدین کے حملے، بھارتی فوجی ہلاک و زخمی .گاڑی تباہ

    مقبوضہ کشمیر ، مجاہدین کے حملے، بھارتی فوجی ہلاک و زخمی .گاڑی تباہ

    مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے حملوں سے بھارتی فوجی ہلاک اور زخمی ہو گیا جبکہ ایک دوسرے واقعے میں فوجی گاڑی بارودی سرنگ سے جزوی طور پر تباہ ہو گئی
    مقبوضہ کشمیر جنوبی ضلع شوپیان وقت ایک فوجی اہلکار ہلاک اور دوسرا زخمی ہوگیا جب جنگجوئوں اور فورسز کے مابین شدید معرکہ آرائی ہوئی۔

    یہ معرکہ آرائی رات اُس وقت شروع ہوئی جب فوج ،سی آر پی ایف اور ایس او جی اہلکاروں نے مشترکہ طورپاندوشن نامی گائوں کو محاصرے میں لیکر تلاشی آپریشن کا آغاز کیا۔

    دفاعی ذرائع نے فوجی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے مہلوک فوجی کی شناخت 8جاٹ کے رنبیر کے طور کی جو34آر آر سے وابستہ تھا۔زخمی فوجی کی شناخت دیپک کے طور ہوئی ہے۔

    ادھر دوسری طرف جنوبی ضلع پلوامہ میں جمعہ کی صبح جنگجوئوں نے ایک فوجی گاڑی کو بارودی دھماکے کی زد میں لاکر گاڑی کو نقصان پہنچایا ۔یہ واقع اس وقت پیش آیا جب ایک فوجی گاڑی لیتر علاقے سے گذر رہی تھی اور وہ ایک زیر زمین بارودی سرنگ کی زد میں آگئی۔