Baaghi TV

Category: کشمیر

  • کشمیریوں کا بھارت کے یوم جمہوریہ کویوم سیاہ  منانے کا اعلان

    کشمیریوں کا بھارت کے یوم جمہوریہ کویوم سیاہ منانے کا اعلان

    کشمیریوں کا بھارت کے یوم جمہوریہ کویوم سیاہ منانے کا اعلان

    باغی ٹی وی : مقبوضہ کشمیر میں منگل کو بھارت کے یوم جمہوریہ کویوم سیاہ کے طورپر منایاجائے گا اور مکمل ہڑتال کی جائیگی تاکہ دنیا کو یہ واضح پیغام دیا جاسکے کہ بھارت جس نے کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں کو اپنا یوم جمہوریہ منانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر حریت تنظیموں نے بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طورپر منانے کی اپیل کی ہے۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس اور جموں و کشمیر لبریشن الائنس کی طرف سے سرینگر ، پلوامہ ، ترال ، کولگام ، اسلام آباد ، شوپیاں ، کپواڑہ ، ہندواڑہ ، بانڈی پور اوروادی کشمیر کے دیگر علاقوں میں چسپاں کئے گئے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پوسٹروں میں لوگوں سے بھارتی یوم جمہوریہ کی سرکاری تقریبات کا بائیکاٹ کرنے اور اپنے گھروں ، دکانوں اور دیگر عمارتوں پر احتجاج کے طورپر سیاہ جھنڈے لہرانے کی اپیل کی گئی ہے۔

    ادھرقابض انتظامیہ نے منگل کو بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر سیکیورٹی کے نام پر کرفیو جیسی سخت پابندیاں عائد کردی ہیں۔ جگہ جگہ لوگوںاور گاڑیوں کو روک کر جامہ تلاشیاں لی جارہی ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔

  • کشمیر کی عوام کی منزل پاکستان  ہے اور پاکستان ہی رہے گی، سردار مسعود خان کا عزم

    کشمیر کی عوام کی منزل پاکستان ہے اور پاکستان ہی رہے گی، سردار مسعود خان کا عزم

    اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے آزاد جموں کشمیر کے صدر سردار مسعود خان کی پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی ہے. ملاقات میں چیئر مین پارلیمانی برائے کشمیر شہریار آفریدی بھی موجود ہیں. ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال سمیت باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے.

    سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور پاکستان کبھی اس سے غافل نہیں ہو سکتا ہے، پاکستانی عوام اور حکومت کشمیری عوام اور کشمیر میں ہونے والے ظلم و بربریت کی شدید مذمت کرتے ہیں. انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کا بھارتی مظالم اور بربریت کے سامنے غیر متزلزل جذبہ حق خوداردیت کی دنیا میں مثال نہیں ملتی ہے، دنیا مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور کشمیری عوام کے قتلِ عام کا نوٹس لے. اسد قیصر نے کہا کہ بھارت مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے، مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں امن کا قیام ممکن نہیں ہے.
    انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کیا جائے، پاکستان کا پارلیمان کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت اور جدوجہد آزادی کی مکمل حمایت کرتا ہے.

    اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اُجاگر کرنے کے لیے بھرپور اقدامات اٹھائے گئے ہیں، قائمہ کمیٹیاں برائے انسانی حقوق، خارجہ امور اور کشمیر کمیٹی کو مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اُجاگر کرنے کے لیے ہدایات کی گئیں ہیں.

    صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ آزاد کشمیر کی عوام پوری طرح مقبوضہ وادی کی عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، کشمیر کی عوام کی منزل پاکستان ہے اور پاکستان ہی رہے گی. انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کل بھی پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور آج بھی پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، بھارت اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرے اور وہاں پر جاری نہتے کشمیریوں پر ظلم و بربریت فوری بند کرے.

    سردار مسعود خان نے کہا کہ ملک کی سالمیت اور بقا کے لیے پوری قوم متحد ہے اور ہر جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، موجودہ حکومت نے کشمیر میں بھارتی افواج کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھرپور انداز میں عالمی سطح پر اُجاگر کیا ہے.
    انھوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور مسئلہ کشمیر کے پُر امن حل کے لیے کاوشیں قابلِ ستائش ہیں، مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال پر عالمی پارلیمانوں نے بھرپور انداز میں آواز اُٹھائی ہے.

    صدر آزاد کشمیر نے پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو علاقائی و عالمی سطح پر اُجاگر کرنے پر اسپیکر قومی اسمبلی کو خراج تحسین پیش کیا ہے.

  • بھارت کا اصل چہرہ دنیا کو دکھانا ہوگا، شہزاد ورک

    بھارت کا اصل چہرہ دنیا کو دکھانا ہوگا، شہزاد ورک

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی نمائندہ باغی) بھارت کا اصل چہرہ اب دنیا کو دکھانا ہوگا
    ٹکٹ ہولڈر قومی اسمبلی و چیئرمین کشمیر کمیٹی چوہدری شہزاد علی ورک نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے بھارت اپنے ناجائز مقاصد کے حصول کیلئےکس حد تک جا سکتا ہے، اس کا اندازہ ہم مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم سے لگا سکتے ہیں۔

    ساری دنیا جانتی ہے گزشتہ سات دہائیوں سے بھارتی افواج ریاستی سرپرستی میں نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہی ہے۔اسی طرح بھارت نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کیلئے جو بھیانک کردار اداکیا، وہ ہم کیسے بھول سکتے ہیں۔ 2015 میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے دورہ بنگلہ دیش کے دوران نہایت ڈھٹائی سے اعتراف کیا کہ بھارت نے پاکستان توڑنے میں کردار ادا کیا تھا۔
    بھارت آج بھی بلوچستان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دیتا ہے۔ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ پاکستان میں سی پیک منصوبہ کی بنیاد پڑتے ہی بھارت نے اسے سبوتاژ کرنے کیلئے اربوں کھربوں روپے کا فنڈ مختص کر دیا تھا۔جہاں تک پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کی بات ہے تو ہمیں معلوم ہے کہ کس طرح بھارتی نیوز چینلز پاکستان کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔ کس طرح برسوں سے بھارتی فلموں میں پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف غلیظ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ کس طرح بھارتی ڈراموں کے ذریعے باقاعدہ منصوبہ بندی کیساتھ ثقافتی یلغار کی جاتی ہے۔

    برسوں پہلے بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم نے بھارتی فلموں کے ذریعے بھارتی ثقافت پاکستان کے گھر گھر میں داخل کر رکھی ہے، اب ہمیں اس سے جنگی محاذ پر لڑنے کی ضرورت نہیں۔ ہم بخوبی آگاہ ہیں کہ بھارت ہمارے ساتھ کیا کچھ کرتا رہا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہم خود اپنے ملک کیساتھ کیا کر رہے ہیں؟ بھارتی پروپیگنڈہ کا کیا جواب دے رہے ہیں؟ پاکستان کا کونسا چہرہ دنیا کو دکھا رہے ہیں؟ بھارت سے شکوہ کرنے اور عالمی برادری سے اپیل کرنے کے بجائے ، کیا ہم نے کبھی اپنے دامن پر نگاہ ڈالی ہے؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت دشمنی کا واویلا اپنی جگہ ، ہم کیا کر رہے ہیں؟
    اس میں کوئی شک نہیں کہ اقلیتوں کے حوالے سے پاکستان کا ریکارڈ، بھارت سے بہت بہتر ہے۔ مذہبی آزادی بھی بھارت سے کہیں زیادہ ہے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا سلسلہ تو برسوں سے جاری تھا لیکن اب اس نے مقبوضہ کشمیر کے جداگانہ تشخص کو بھی ختم کر کے اسے ہڑپ کر لیا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی اگر ہم سفارتی سطح پر مضبوط ہوتے تو دنیا میں ہلچل مچا دیتے
    بھارتی نیٹ ورک کا سب سے بڑا ہدف پاکستان ہے۔ چین سمیت وہ ممالک بھی اس شیطانی نیٹ ورک کی کاروائیوں کا نشانہ بنتے ہیں، جن کیساتھ بھارت کا کوئی نہ کوئی تنازعہ جاری ہے۔ اس بھارتی نیٹ ورک کے دو بنیادی مقاصد ہیں۔ پہلا یہ کہ بھارت مخالف ممالک کے خلاف منفی خبریں پھیلائی جائیں۔ انہیں بد نام کیا جائے۔ ان ممالک کے منفی پہلووں کو بڑھا چڑھا کر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔

    دوسرا مقصد اس نیٹ ورک کا یہ ہے کہ بھارت کے چہرے کی کالک کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھا جائے۔بھارت کا روشن اور ماڈریٹ چہرہ اقوام عالم میں اجاگر کیا جائے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے اس بھارتی نیٹ ورک نے بہت سی معروف اور غیر معروف غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) ، تھینک ٹینکوں، اور فیک نیوز پلیٹ فارموں کیساتھ انتہائی مضبوط تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔ان تنظیموں کی مدد سے یورپی پارلیمان اور مختلف یورپی اداروں میں اثر و رسوخ حاصل کیا جاتا ہے تاکہ بھارت دوست اور پاکستان مخالف نقطہ نظر اور بیانیے کی ترویج کی جاسکے ۔پاکستان مخالف جعلی خبریں بنانے اور پھیلانے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔یہ گمراہ کن خبریں تسلسل کیساتھ بھارت کے مقامی میڈیا اورعالمی صحافتی اداروں تک پہنچائی جاتی ہیں۔ اسی طرح دنیا کے مختلف ممالک میں موجود 97 غیر معروف میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعے بھی پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم چلائی جاتی ہے۔ پاکستان مخالف خبروں اور معلومات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے

  • بھارتی فوج میں خودکشیوں کے واقعات میں اضافہ،بھارتی میجر نے کی خودکشی

    بھارتی فوج میں خودکشیوں کے واقعات میں اضافہ،بھارتی میجر نے کی خودکشی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ایک افسر نے خودکشی کر لی ہے

    بھارتی فوج کی جموں وکشمیر رائفلز کے میجر نے ضلع کپواڑ میں اپنی سروس رائفل سے گولی مار کر خودکشی کی۔ ضلع کپواڑہ کے ٹیٹوال سیکٹر میں پیر کی سہ پہر ایک آرمی میجر کی لاش پراسرار حالات میں برآمد کی گئی۔

    کمپنی کے کمانڈر کی حیثیت سے 6 جے اے سی رائفلز کے ساتھ تعینات 29 سالہ آرمی آفیسر کی لاش فرنٹیئر سیکٹر میں جوگی پوسٹ پر ڈیوٹی کے دوران ملی ہے۔ایک فوجی اہلکار کے مطابق لاش برآمد ہونے کے بعد مقامی پولیس کو اطلاع دی گئی جس کے فوری بعد لاش کو چمکوٹ لایا گیا۔

    ہلاک شدہ آرمی میجر کی ٹھوڑی کے نچلے حصے پر چوٹ کے نشان دکھائی دیئے ہیں۔ فوجی میجر کی موت کی وجہ معلوم کرنے کے لیے 174 سی آر پی سی کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیاہے اور مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہے

    جنوری 2007 سے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں خودکشی کرنے والے بھارتی فوجیوں کی تعداد بڑھ کر 489 ہو گئی ہے ۔

    قبل ازیں  ماہ 14 اگست کو مقبوضہ کشمیر میں ایک فوجی اہلکار نے ضلع بڈگام کے رنگریتھ علاقے میں مبینہ طور پر خودکشی کرلی۔ ساوتھ ایشین وائر کو سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اس فوجی کی شناخت لانس نائک اوم پرکاش کے نام سے ہوئی ہے جس نے اولڈ ایر فیلڈ میں اپنی سروس رائفل سے خودکشی کرلی۔انہوں نے بتایا کہ وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کی وجہ کا فوری طور پر پتہ نہیں چل سکا۔

     

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    خواجہ سراؤں نے دوستی کے بہانے نشہ دے کر نوجوان کا عضو خاص کاٹ دیا

    قبل ازیں  ماہ جولائی میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں نیم فوجی دستے سی آر پی ایف کے اہلکار نے گولی مار کر خودکشی کر لی ہے۔

    سی آر پی ایف کے ترجمان پنکج سنگھ کے مطابق ‘ہیڈ کانسٹیبل پنٹو ماڈل نیصبح سرینگر کے رام باغ علاقے میں واقع نیم فوجی دستے کے گروپ سینٹر میں خودکشی کی۔’ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پنکج سنگھ نے کہا کہ ‘منڈل نے اپنی سروس بندوق سے خود کو گولی ماری جس کے بعد ان کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔

  • سینیٹر رحمان ملک نے  بھارت  داعیش اور بلوچستان میں پھیلائی جانے والی بد امنی کے کلاوے جوڑدیئے

    سینیٹر رحمان ملک نے بھارت داعیش اور بلوچستان میں پھیلائی جانے والی بد امنی کے کلاوے جوڑدیئے

    اسلام آباد (حمزہ رحمن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کمیٹی چیئرمین سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ بھارت خود داعش کی پرورش کر رہا ہے اور بھارت میں داعش کے باقاعدہ ٹریننگ کیمپ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ برادری پر ہونے والے حملوں،بلوچستان میں پھیلائی جانے والی بد امنی اور عالمی سطح پر بھارت کے خلاف ملنے والے شواہد عالمی برادری کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ بلوچستان میں داعش ایک عناصر تخریبی کاروائیوں میں ملوث ہیں اور وزارت داخلہ اس سلسلے میں کمیٹی کو تفصیلی رپورٹ پیش کرے اور اب تک جو اقدامات اٹھائے گئے ہیں اُس پر تفصیلی طور پر آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مودی کے مظالم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ہم کشمیریوں کے حقوق کیلئے ہر سطح پر آواز اٹھائیں گے۔
    کرونا وباء سے تحفظ کیلئے ویکسین پر بات کرتے ہوئے سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ اگر چہ ویکسین دنیا کیلئے ای اچھی اور خوش آئند پیش رفت ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی سرکار کے ہاتھوں اس سہولت سے بھی محروم رہے گے اور ہمیں خود مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں اور بہنوں کو یہ سہولت فراہم کرنی ہو گی۔
    انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں زونبی کے نام سے ایک نشہ متعارف کرایا جا رہا ہے جو کہ انتہائی خطرنا ک نشہ ہے جس سے بچے عجیب و غریب حرکا ت شروع کر دیتے ہیں اور اپنا ذہنی توازن برقرار نہیں رکھ پاتے۔ انہوں نے کہا کہ اس گنونے جرم میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کی اشد ضرورت ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہئے کہ اس کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کرے۔

  • سرینگر،ظالم بھارتی فوج نے تین طلبا شہید کر دیئے

    سرینگر،ظالم بھارتی فوج نے تین طلبا شہید کر دیئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے تین طلبا کو شہید کر دیا

    مقبوضہ جموں و کشمیر کے دارالحکومت سرینگر کے مضافاتی علاقہ عمرآباد میں گزشتہ روز شروع ہوئے آپریشن میں تین نوجوان حریت پسند شہید ہوگئے ۔جن کے اہل خانہ نے سرینگر میں احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تین نوجوان، زبیر، اعجاز اور مشتاق طالبعلم تھے جو اپنے فارم جمع کروانے گھر سے نکلے تھے۔

    بھارتی فوج نے دعویٰ کیا کہ عسکریت پسندوں کو شہید کیا تا ہم شہید ہونے والے نوجوانوں کے والدین حقیقت سامنے لے آئے، انہوں نے بتایا کہ ہمارے بیٹے طالب علم تھے جو گھر سے نکلے اور انہیں بھارتی ظالم فوج نے شہید کر دیا

    تینوں نوجوانوں کا تعلق شوپیاں اور پلوامہ سے تھا اور وہ سری نگر میں تعلیم کی غرض سے ٹھہرے ہوئے تھے۔ نوجوانوں کی شہادت کے بعد اہلخانہ نے نے بھارتی فوج کی جارحیت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور جدوجہد آزادی کشمیر کے حق میں نعرے لگائے۔ مظاہرین کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ شہید کیے گئے نوجوانوں کی میتیں ہمارے حوالے کی جائیں۔

    اعجاز مقبول کے اہل خانہ نے بتایا کہ وہ کشمیر یونیورسٹی میں امتحان دینے کے لیے گھر سےگیا تھا جس کے بعدظالم فوج نے اسے شہید کر دیا۔

  • بھارتی فوج کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں شہید کشمیری نوجوانوں کے والدین کی دہائی،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    بھارتی فوج کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں شہید کشمیری نوجوانوں کے والدین کی دہائی،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    بھارتی فوج کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں شہید کشمیری نوجوانوں کے والدین کی دہائی،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں مارے جانے والے کشمیری نوجوانوں کے والدین سڑکوں پر نکل آئے

    سری نگر میں تین کشمیری نوجوانوں کو فیک انکاؤنٹر میں بھارتی فوج نے شہید کیا جو کہ طالب علم تھے اور لاشیں بھی لواحقین کے حوالے نہیں کی جا رہیں، بھارتی فوج اور مودی سرکار کے خلاف کشمیری نوجوانوں کے والدین سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج کیا

    اس موقع پر شدید جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، والدین کا کہنا تھا کہ ایک ہی چراغ تھا جو بجھا دیا، اب کوئی نہیں، ہم کس سے مانگیں ، اس موقع پر خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی جو دھاڑیں مارتے روتے نظر آئیں،

    https://twitter.com/AakashHassan/status/1344216294577426433?s=08

    سرینگر میں احتجاج کے دوران مائیں رو رہی تھیں انہین کوئی دلاسہ دینے والا نہ تھا، بھارتی ظالم فوج نے بے گناہ نہتے کشمیریوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کرنا اپنا وطیرہ بنا لیا ہے، اس پر کشمیری احتجاج ریکارڈ کروائیں تو انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے،

    بھارتی فوج جعلی مقابلوں میں شہید کرنے والوں کی لاشیں بھی واپس نہیں کرتی، سرینگر میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف کشمیری آج سڑکوں پر نکلے اور بھر پور احتجاج ریکارڈ کروایا

    قبل ازیں پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں تین معصوم شہریوں کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ معصوم کشمیریوں کے قتل کی عالمی سطح پر تحقیقات کرائی جائیں۔

    دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ گذشتہ روز جعلی مقابلے میں بھارتی قابض افواج نے تین کشمیری مزدوروں کو شہید کیا، اور واقعے کو مقابلے کا رنگ دینے کی بھونڈی کوشش کرتے ہوئے شہید مزدوروں کے ساتھ اسلحہ رکھ دیا گیا، پاکستان بین الاقوامی سطح پر ان مزدوروں کے قتل کی شفاف طریقےسےتحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتا ہے۔

    ترجمان دفترخارجہ کے مطابق جعلی سرچ آپریشن اور جعلی مقابلوں کےنام پر ان کو شہید کیا گیا، دنیا ان مظالم پربھارت کو جواب دہ بنائے۔دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ کے مطابق کشمیری لوگوں کےخلاف بھارتی جرائم کی طویل فہرست ہے، ایک سال میں تین سو معصوم کشمیری،خواتین اوربچوں کو شہیدکیا جاچکا ہے۔

    بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر مظالم کے حوالہ سے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر جعلی مقابلوں کے خلاف ٹرینڈ بھی چلایا گیا جس میں بڑی تعداد میں صارفین نے حصہ لیا اور بھارتی مظالم کو بے نقاب کیا،

    https://twitter.com/FatiMa_QZi8/status/1344262562423177216

    رواں برس مال جولائی میں بھارتی فوج کی جانب سے تین کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کرنےکی تصدیق ہوگئی ہے۔ بھارتی فوج کے افسرکیپٹن بھوپندرا سنگھ اور اس کے 2 ساتھیوں نے 3کشمیری نوجوانوں جو آپس میں کزنز تھے کے قتل کے بعد موت کو فوجی مقابلہ قراردیا اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے خود ان کی میتوں پراسلحہ رکھا تا کہ بےگناہ نوجوانوں کوخطرناک دہشتگرد قراردیا جاسکے۔

    اتنا ہی نہیں بلکہ بھارتی فوج نے ہمیشہ کی طرح سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو شہید کر کے نامعلوم مقام پرخاموشی سے دفنا دیا تاکہ حقیقت دنیا کےسامنےنہ آسکے تاہم جب دہشتگرد قرار دے کر قتل کیے گئے نوجوانوں کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو مقتولین کے اہل خانہ نے انہیں شناخت کرلیا۔

    اہلخانہ نے بتایا کہ تینوں بے روزگار نوجوان سیبوں کےباغات میں نوکری کی تلاش کے لیے گھروں سے نکلے تھے لیکن کچھ روز سے ان سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

    حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ بھارتی فورسز نے 18جولائی کو مقبوضہ کشمیر ضلع شوپیاں میں تین کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کیا،جعلی مقابلے کا اعتراف بھارتی فوج خود کر رہی ہے۔

    مشعال ملک کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے پچھلے تین مہینے سے نوجوانوں کو حراست میں لے رکھا تھا،نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کرنے کے بعد انکی لاشیں مسخ کی گئی،بھارتی فورسز نے لاشیں بھی ورثا کے حوالے نہیں کی،کشمیر کے ہر گھر میں جعلی انکاونٹر کی داستان موجود ہے۔

    مشعال ملک کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی فورسز نوجوانوں کو اٹھا کر لے جاتی ہیں،اور جعلی مقابلے میں شہید کر دیتی ہیں،اقوام متحدہ بھارتی بربریت کا نوٹس لے۔اقوام متحدہ کشمیر میں جعلی مقابلوں کی آزادانہ انکوائری کروائے،بھارتی فوج جعلی مقابلوں میں کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ثبوت دنیا کے سامنے آ گئے

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ثبوت دنیا کے سامنے آ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ثبوت دنیا کے سامنے آ گئے ہیں،

    قابض بھارتی فوج کا گھناؤنا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا ہے، بھارتی فوج بے گناہ کشمیری نوجوانوں کے جعلی مقابلوں میں شہید کرتی ہے

    رواں برس مال جولائی میں بھارتی فوج کی جانب سے تین کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کرنےکی تصدیق ہوگئی ہے۔ بھارتی فوج کے افسرکیپٹن بھوپندرا سنگھ اور اس کے 2 ساتھیوں نے 3کشمیری نوجوانوں جو آپس میں کزنز تھے کے قتل کے بعد موت کو فوجی مقابلہ قراردیا اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے خود ان کی میتوں پراسلحہ رکھا تا کہ بےگناہ نوجوانوں کوخطرناک دہشتگرد قراردیا جاسکے۔

    اتنا ہی نہیں بلکہ بھارتی فوج نے ہمیشہ کی طرح سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو شہید کر کے نامعلوم مقام پرخاموشی سے دفنا دیا تاکہ حقیقت دنیا کےسامنےنہ آسکے تاہم جب دہشتگرد قرار دے کر قتل کیے گئے نوجوانوں کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو مقتولین کے اہل خانہ نے انہیں شناخت کرلیا۔

    اہلخانہ نے بتایا کہ تینوں بے روزگار نوجوان سیبوں کےباغات میں نوکری کی تلاش کے لیے گھروں سے نکلے تھے لیکن کچھ روز سے ان سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

    شوپیاں انکاؤنٹر، اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کارروائی کی، بھارتی فوج مان گئی

    شوپیاں انکاؤنٹر،شہید نوجوانوں کے والدین کا بھارتی فوجی اہلکاروں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

    قبل ازیں بھارتی فوج نے 18 جولائی کو شوپیان کے علاقے ایمشی پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران تین نوجوانوں کوشہید کرنے کے بعد انہیں عسکریت پسند قرار دیا تھا ۔ تاہم بعد میں شہید ہونے والے نوجوانوں کے اہلخانہ نے ان کی شناخت امتیاز احمد ، ابرار احمد اور محمد ابرار کے نام سے کی تھی جو جموں خطے کے ضلع راجوری سے مزدوری کی غرض سے وادی کشمیر آئے تھے۔

    اہلخانہ نے بھارتی فوج کی طر ف سے جاری کردہ تصویروں کے ذریعے اپنے پیاروں کی شناخت کی تھی۔ قابض بھارتی فوج نے گذشتہ روز اعتراف کیا کہ یہ نوجوان راجوری کے رہائشی تھے۔

    حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ بھارتی فورسز نے 18جولائی کو مقبوضہ کشمیر ضلع شوپیاں میں تین کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کیا،جعلی مقابلے کا اعتراف بھارتی فوج خود کر رہی ہے۔

    مشعال ملک کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے پچھلے تین مہینے سے نوجوانوں کو حراست میں لے رکھا تھا،نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کرنے کے بعد انکی لاشیں مسخ کی گئی،بھارتی فورسز نے لاشیں بھی ورثا کے حوالے نہیں کی،کشمیر کے ہر گھر میں جعلی انکاونٹر کی داستان موجود ہے۔

    مشعال ملک کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی فورسز نوجوانوں کو اٹھا کر لے جاتی ہیں،اور جعلی مقابلے میں شہید کر دیتی ہیں،اقوام متحدہ بھارتی بربریت کا نوٹس لے۔اقوام متحدہ کشمیر میں جعلی مقابلوں کی آزادانہ انکوائری کروائے،بھارتی فوج جعلی مقابلوں میں کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔

  • کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کی وجہ سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بھی لاک ڈاؤن نافذ کر رکھا ہے، کشمیر میں لاک ڈاؤن اگرچہ گزشتہ برس سے جاری ہے تا ہم کرونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں مزید سختی کی گئی ہے

    لاک ڈاؤن کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں گھرون میں بچوں نے پپ جی اور دوسری گیمز کھیلنا شروع کر دی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک جگہ پر مسلسل گھنٹوں بیٹھ کر ‘پب جی’ اوردوسرے گیمز کھیلنے سے بچوں کے ذہنی وجسمانی صحت پر مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور آنکھوں کی بینائی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ ‘

    پب جی ایک آن لائن ملٹی پلیئر بیٹل گیم ہے جو بچوں میں کافی مشہور ہے۔ یہ اس وقت دنیا کے مقبول ترین موبائل فون گیمز میں سے ایک ہے، جسے ایک تخمینے کے مطابق ماہانہ دس کروڑ افراد اپنے موبائل پر کھیلتے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کی وجہ سے جاری لاک ڈاون کے دوران بچے گھروں سے باہر نہیں جا سکتے اس لئے وہ ایسی گیمز کھیلتے ہیں ، جن بچوں کے پاس اینڈرائیڈ موبائل فون نہیں وہ دن بھر ٹی وی پر کارٹون دیکھتے ہیں یا لیپ ٹاپ پر گیمز کھیلتے ہیں

    مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن گزشتہ برس سے جاری ہے جب مودی سرکار نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی تھی اسوقت سے کشمیری گھروں میں محصور ہیں انہیں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں،مساجد کو تالے لگے ہوئے ہیں، تعلیمی ادارے بند ہیں ، ٹرانسپورٹ بھی بند ہیں ،اب موجودہ لاک ڈاؤن میں بھارتی فوج نے کشمیریوں پر کرونا کے حوالہ سے بہانہ بنا کر ظلم و ستم میں مزید اضافہ کر دیا ہے، ایک ماہ کے اندر کم از کم 20 سے زائد کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا جا چکا ہے اور ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں‌ ڈالا گیا ہے.

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پب جی ایک مزیدار گیم ہے لیکن اس کے عادی ہونے والوں کے ذہنی وجسمانی صحت پر مضر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ یہ انتہائی جذباتی قسم کا گیم ہے اس سے کھیلنے والوں میں انتہائی جذباتی اور جارحانہ خیالات پیدا ہوسکتے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر میں یونس محمود نامی ایک لڑکے نے کشمیری میڈیا سے گفتگو ہوئے کہا کہ پب جی انٹرنیٹ کی وساطت سے چار کھلاڑیوں پر مشتمل ایک گروپ کھیلتا ہے لیکن وادی میں چونکہ ٹو جی انٹرنیٹ سروس ہے جس کی وجہ سے یہ گیم کھیلنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    محمد صابر نامی لڑکے کے والد کا کہنا تھا کہ رات میں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار قدرے تیز ہوتے ہی میرے بچے پب جی کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔ میرے بچے رات گئے تک پبجی گیم کھیلتے ہیں کیونکہ رات کے وقت انٹرنیٹ کی رفتار بھی قدرے تیز ہوتی ہے میں ان کی صحت کے حوالے سے بہت پریشان ہوں، رات کے دوران پب جی کھیلنے سے وہ صبح کے وقت دیر سے اٹھتے ہیں اور پڑھائی کی طرف دھیان نہیں دے پا رہے .

    بھارت میں پب جی گیم بہت زیادہ معروف ہوچکی ہے جس پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے، رواں برس چند ماہ قبل بھارتی ریاست گجرات میں یہ گیم کھیلنے کی عادی ایک خاتون نے پب جی کی خاطر خاوند سے طلاق کا مطالبہ کردیا۔ 19 سالہ خاتون نے ویمن ہیلپ لائن پر کال کرکے اپنے شوہر سے علیحدگی میں مدد کا کہا اور بتایا کہ وہ وہ پب جی میں ملنے والے اپنے نئے گیمنگ پارٹنر کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے۔

    ہیلپ لائن ابھیام کے سربراہ بریندراسن گوہل کے مطابق یہ فون کال اپنی نوعیت کی پہلی کال تھی کیونکہ عام طور سے خواتین ہمیں فون کرکے کہتی ہیں کہ ان کے بچے پب جی کے عادی ہیں۔ہیلپ لائن کی جانب سے بھیجی جانے والی مشاورتی ٹیم نے خاتون کے گھر جا کر اہلخانہ سے اس مسئلے پر بات چیت کی تو علم ہوا کہ موبائل فون کو بہت زیادہ وقت دینے کی وجہ سے خاتون کے گھر والوں سے اس کا جھگڑا ہوا۔

    مشاورتی ٹیم نے خاتون کو اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کیلئے سمجھایا اوربحالی کے مرکز میں رہنے کا مشورہ دیا جہاں موبائل فون کے استعمال کی اجازت نہیں ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اسےسوچنے کیلئے کچھ وقت چاہیے، اگر اس نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا تو وہ کال کرکے بتا دے .

    کرونا لاک ڈاؤن، سائیکل پر ہسپتال جانیوالی خاتون نے سڑک کنارے دیا بچے کو جنم

    کوئی بھوکا نہ سوئے مہم ،بھارتی مسلمانوں کا شاندار کام، مسجد سے تقسیم ہوتا ہے کھانا

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا وائرس، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ، رکن اسمبلی کا بیٹا بھی ووہان میں پھنسا ہوا ہے، قومی اسمبلی میں انکشاف

    کرونا وائرس سے کس ملک کے فوج کے جنرل کی ہوئی موت

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    انڈونیشیا کے عالم دین نے پب جی گیم پر فتوی دیتے ہوئے اسے مکمل حرام قرار دیا انڈونیشیا کے مذہبی سکالر کا کہنا ہے کہ قیامت برپا ہونے سے پہلے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ ہو گی جس کا نام الملحة الکبری ہے یہ جنگ اتنی خوفناک ہوگی کہ ننانوے ہارے گے اور صرف ایک جیتے گا۔ اس گیم میں بھی بلکل ایسا دیکھایا گیا ہے

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

  • وادی جنت نظیر مقبوضہ کشمیر کی پہلی خاتون ریپر کی جدو جہد

    وادی جنت نظیر مقبوضہ کشمیر کی پہلی خاتون ریپر کی جدو جہد

    مقبوضہ کشمیر کے شہر سری نگر سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ ‘ریپر’ مہک اشرف وادی کی پہلی خاتون ریپر بن گئیں ہیں۔

    باغی ٹی وی :ڈان آئیکون کی رپورٹ کے مطابق مہک اشرف نے اس وقت ‘ریپر’ گلوکاری کا آغاز کیا جب وہ نویں جماعت کی طالبہ تھیں۔

    19 سالہ مہک اشرف نے امریکی ‘ریپر’ و موسیقار ‘امینم’ کی کہانی اور جدوجہد سے متاثر ہوکر اپنا نام بھی ‘منائم ام’ رکھا ہے۔

    مہک اشرف المعروف منائم ام اس وقت گورنمنٹ ویمن کالج سری نگر سے بیچلر مکمل کرنے کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، تاہم اب تک وہ پوری وادی سمیت پاکستان و بھارت میں اپنی منفرد گلوکاری کی وجہ سے مقبول ہو چکی ہیں-

    منائم ام کو 2016 میں اس وقت توجہ حاصل ہوئی جب قابض بھارتی فوج نے وہاں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان الدین وانی کو شہید کردیا تھا۔

    حزب المجاہدین کے کمانڈر کی شہادت کے بعد وادی میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث وہاں 6 ماہ کے لیےتعلیمی ادارے بند کردیے گئے تھے اور اسی دوران ہی مہک اشرف نے ‘ریپر’ گلوکاری کا آغاز کیا اور جلد ہی لوگوں کی نظروں میں آگئیں۔

    منائم ام کو ابتدائی طور پر مقامی ایف ایم ریڈیو کی خاتون ہوسٹ نے ریڈیو پر متعارف کرایا اور بعد ازاں انہوں نے 2 لڑکوں پر مشتمل ایک میوزیکل بینڈ کے ساتھ بطور گلوکارہ کام کا آغاز کیا اور جلد ہی لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب گئیں۔

    منائم ام کے مطابق لڑکی ہونے کے ناطے ‘ریپر’ گلوکاری میں ان کا آنا معیوب سمجھا گیا اور ابتدائی طور پر ان کے والدین نے بھی ان کی گلوکاری کی مخالفت کی لیکن بعد ازاں والدین ان کے شوق کے آگے ہار گئے اور ان کی سپورٹ کرنا شروع کی۔

    منائم ام کے مطابق ابتدائی طور پر انہیں کہا گیا کہ وہ محض شہرت حاصل کرنے کے لیے گلوکاری کر رہی ہیں اور انہیں بھارتی گلوکارہ ڈھنچک پوجا بھی قرار دیا گیا۔

    حکومت پاکستان نے مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے گردوارا بابا گرو نانک پر فلمائے…

    منائم ام نے بتایا کہ تاہم اب لوگ جان چکے ہیں کہ وہ محض شہرت کے لیے ‘ریپر’ گلوکاری نہیں کر رہی تھیں بلکہ وہ اس کے ذریعے مقام حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

    انہوں نے امریکی گلوکارہ و ریپر نکی مناج، کار ڈی بی، ڈریک اور ففٹی پرسنٹ کو اپنا پسندیدہ ریپر قرار دیا۔

    منائم ام مستقبل میں ماحولیاتی آلودگی اور جانوروں کے تحفظ کے حوالے سے بھی گانے ریلیز کرنا چاہتی ہیں جب کہ وہ اپنی منفرد گلوکاری کے ذریعے وادی کشمیر کے سیاسی و سماجی مسائل کو بھی دنیا کے سامنے لانا چاہتی ہیں۔

    رابی پیر زادہ مصوری میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کریں گی