Baaghi TV

Category: کشمیر

  • محبوبہ مفتی ایک بار پھر نظربند

    محبوبہ مفتی ایک بار پھر نظربند

    مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کو سرینگر میں واقع ان کی رہائش گاہ میں نطربند کیا گیا ہے۔

    پی ڈی پی کی صدر اور سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ انتظامیہ نے انہیں پھر ایک بار اپنے گھر میں گزشتہ دو دن سے نظر بند رکھا ہے۔محبوبہ مفتی نے ٹویٹ میں کہا کہ ‘انہیں پھر سے غیر قانونی طریقے سے گھر میں نطربند کیا گیا ہے۔’انہوں نے کہا کہ وہ پی ڈی پی یوتھ ونگ صدر وحید پرا کے ضلع پلوامہ کے نایرہ گاں میں واقع رہایش گاہ پر ان کے اہل خانہ سے ملنے کے لیے جارہی تھیں لیکن مقبوضہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے انہیں جانے سے روک دیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کے وزرا اور ان کے کارکنان کو ہر مقام پر جانے کی اجازت ہے لیکن سکیورٹی کا بہانہ صرف ان کے لیے بنایا جارہا ہے۔

    پی ڈی پی نوجوان لیڈر وحید پرا کو این آئی اے نے منگل کو دلی طلب کر کے وہاں گرفتار کیا تھا اور ان کو جموں کی این آئی اے عدالت میں پیش کیا جارہا ہے۔این آئی اے نے وحید پرا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دیویندر سنگھ اور حزب المجاہدین کے کمانڈر نوید بابو کے کیس میں ملوث ہے۔ محبوبہ مفتی گزشتہ کئی دنوں سے ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات کی مہم جوئی کے سلسلے میں جنوبی کشمیر کا دورہ کر رہی تھیں۔

    محبوبہ مفتی نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا: ‘وحید پرا کو بے بنیاد الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور مجھے ان کے اہل خانہ کو تسلی دینے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ یہاں تک کہ میری بیٹی التجا کو نظربند کردیا گیا کیوںکہ وہ بھی وحید کے اہل خانہ سے ملنا چاہتی تھی۔’

    انہوں نے لکھا کہ ‘آج تین بجے پریس کانفرنس ہوں گی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ برائے مہربانی میڈیا سے شرکت کی درخواست ہے۔’دلچسپ بات یہ ہے کہ 28 نومبر کو جموں و کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات کا آغاز ہونے والا ہے اور اس سے قبل ہی محبوبہ مفتی کو گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

    سی پیک کے خلاف امریکی سازش کے توڑ کیلئے چین کے پانچ ہزار فوجی بھارت میں گھس گئے

    لداخ میں انڈیا اور چین میں سرحدی کشیدگی، سینئر صحافی مبشر لقمان نے کیا دی تجویز

    ‏یہ وہ لات ہے جو ایک چینی فوجی نے لداخ میں ایک بھارتی فوجی کو تحفہ میں دی

    لداخ میں چین کے ہاتھوں شرمناک شکست پر جنرل بخشی نے ایک سائیڈ کی مونچھیں کٹوا دیں

    "پلیز گو بیک چائنہ” بھارتی فوج کے ترلے، بینر اٹھا لیے

    جنگ کی تیاری کرو، چینی صدر کا فوج کو حکم

    بھارت کی کٹھ پتلی حکومت کا حصہ رہنے والی مقبوضہ جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھارت میں برسر اقتدار مودی سرکار پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارا جھنڈا ہمیں واپس دو۔ انہوں نے کہا ہے کہ بیشک! آج بی جے پی کا دن ہے لیکن کل ہمارا ہو گا اور اس کا حال بھی ٹرمپ والا ہی ہو گا۔

  • مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے

    مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے

    مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی عصمت دری کو جنگی ہتھیار کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے
    مقبوضہ کشمیر میں1989سے اب تک گیارہ ہزار خواتین کی بے حرمتی کی گئی
    آسیہ اندرا بی سمیت متعدد خواتین غیر قانونی طورپر جیلوں میں نظربند ہیں

    25نومبر کو دنیا بھر میں خواتین پرتشدد کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے ۔مقبوضہ کشمیرمیں کشمیر ی خواتین بھارتی فوجیوں اورپولیس اہلکاروںکی طرف سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں ۔

    ساؤتھ ایشین وائر نے اس دن کے حوالے سے جاری کردہ اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میںجنوری 1989ء سے اب تک بھارتی فوجیوں نے 2201خواتین کو شہید کیا ۔بھارتی فوجیوں نے جنوری 2001سے اب تک کم سے کم700خواتین کو شہید کیا۔

    1989 میں علیحدگی پسندجدوجہد شروع ہونے کے بعد سے کشمیر میں خواتین کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی ، تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، معذور اور قتل کیا گیا۔ کشمیری خواتین دنیا میں بدترین جنسی تشدد کا شکار ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 9فیصد کشمیری خواتین جنسی استحصال کا شکار ہوئی ہیں۔

    جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ سعودی عرب کیا تبدیلی لائے گا؟ مبشر لقمان نے بتا دیا

    فیصلہ ہو چکا،جنرل باجوہ محمد بن سلمان سے کیا بات کریں گے؟ جنرل (ر) غلام مصطفیٰ کے اہم انکشافات

    پاکستان اسرائیل کو تسلیم….چیئرمین سینیٹ نے سعودی سفیر سے ملاقات میں بڑا دعویٰ کر دیا

    ٹرمپ بضد، محمد بن سلمان سخت پریشان،سعودی عرب کا بڑا اعلان، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    شاہ محمود قریشی چین کیوں گئے؟ مبشر لقمان نے سب بتا دیا

    چین سے شاندار خبریں،تمام پروٹوکول ٹوٹ گئے،تاریخی معاہدے تیار، اندر کی کہانی، مبشر لقمان کی زبانی

    سرد جنگ کا خوفناک کھیل،پاکستان اہم ،امریکی پریشان ،ایران تگڑا اوراسرائیل میدان میں ، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ 1989ء سے اب تک 22ہزار سے زائد خواتین بیوہ ہوئیں جبکہ بھارتی فوجیوں نے 11,142خواتین کی بے حرمتی کی جن میں کنن پوشپورہ میں اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والے خواتین بھی شامل ہیں۔بھارتی فوج کی چوتھی اجپوتانہ رائفلز کے جوانوں نے 23 فروری 1991 کو جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے ایک گاؤں کنن پوش پورہ میں سرچ آپریشن شروع کیا ۔جس کے بعد 23 خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق خواتین کی تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ شوپیاں میں جنسی زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی دو خواتین بھی اس میں شامل ہیں۔ایک نیوز ویب سائٹ القمر کے مطابق بھارتی پولیس کے اہلکاروں نے گزشتہ سال کٹھوعہ میں آٹھ سالہ بچی آصفہ بانو کو اغواء اور بے حرمتی کرنے کے بعد قتل کردیا تھا ۔

    خواتین مزاحمتی رہنماوں ، آسیہ اندرابی ، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت آدھی درجن سے زیادہ خواتین گذشتہ چار سالوں سے بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں غیر قانونی نظربند ہیں جبکہ انشا طارق جان ، حنا بشیر بیگ ، حسینہ بیگم اور نسیمہ بانو۔ ، ایک شہید توصیف احمد شیخ کی والدہ ، مختلف جیلوں میں بند ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے وبائی مرض کی وجہ سے ان کی فیملی اپنی بیٹیوں کی خیریت سے پریشان ہیں۔گزشتہ سال ڈوڈا میں ، ایک 90 سالہ غلام محمد بٹ گذشتہ سال اس کی بیٹی کے ساتھ دیکھنے کی خواہش کے ساتھ فوت ہوگیا تھا ، جسے فوجیوں نے جون 2000 میں دو خصوصی پولیس افسروں کی مدد سے اغوا کیا تھا۔ ۔

    ساؤتھ ایشین وائر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج خواتین کی عصمت دری کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ پورٹ کے مطابق زیادتی کے بیشتر واقعات محاصرے اور تلاشی کے آپریشنز کے دوران پیش آئے ۔ ایچ آر ڈبلیو کی ایک اوررپورٹ کے مطابق ، کشمیر میں سکیورٹی اہلکاروں نے عصمت دری کو انسداد بغاوت کے حربے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ساؤتھ ایشین وائر کی رپورٹ میں ایک اسکالر انجر سکجلس بائیک کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں عصمت دری کا انداز یہ ہے کہ جب فوجی سویلین رہائش گاہوں میں داخل ہوتے ہیں تو وہ عورتوں سے زیادتی سے قبل مردوں کو مار ڈال دیتے ہیں یا بے دخل کردیتے ہیں۔ ایک اور اسکالر شبھ متھور نے عصمت دری کو "کشمیر میں بھارتی فوجی حکمت عملی کا ایک لازمی عنصر” قرار دیا ہے۔

    کشمیریوں سے یکجہتی، وزیراعظم کی کال پر قوم لبیک کہنے کو تیار

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    یکجہتی کشمیر، قومی اسمبلی میں کشمیر کا پرچم لہرا دیا گیا،علی امین گنڈا پور نے کیا اہم اعلان

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    یوم یکجہتی کشمیر،بھارتی ناجائز تسلط کے خلاف ہو گا دنیا بھر میں احتجاج، سفیرکشمیر جائیں گے مظفر آباد

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    کشمیریوں کے قاتل کے ساتھ میں بیٹھوں ،بالکل ممکن نہیں،شاہ محمود قریشی کا بھارتی ہم منصب کی تقریر کا بائیکاٹ

    کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    ایک استاد اور سکالرسیما قاضی کا کہنا ہے کہ کشمیر میں عصمت دری "جنگ کا ثقافتی ہتھیار” ہے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ عصمت دری کا استعمال کشمیریوں کے خلاف مزاحمت کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے کیا جاتا ہے اور فوجیوں کے اعتراف کے ایسے دستاویزی ثبوت بھی سامنے آئے ہیں جن میںاعتراف کیا گیا ہے کہ انہیں کشمیری خواتین پرزیادتی کا حکم دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے بارے میں 52 ویں اقوام متحدہ کے کمیشن میں ، پروفیسر ولیم بیکر نے گواہی دی کہ کشمیر میں عصمت دری محض غیر طے شدہ فوجیوں پر مشتمل الگ تھلگ واقعات کا معاملہ نہیں ، بلکہ سیکیورٹی فورسز کشمیری آبادی پر عصمت دری کو خوفناک اورسرگرم انداز میں ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔

    فوجیوں کے کچھ انٹرویو زکے دوران اس سوال پرکہ انہوں نے مقامی کشمیری خواتین سے زیادتی کیوں کی ، کچھ نے جواب دیا کہ کشمیری خواتین خوبصورت ہیں۔ دوسروں نے کہا کہ یہ غیر فیملی اسٹیشن ہے۔ ایک سپاہی نے جواب دیا کہ اس نے بدلے میںایک کشمیری خاتون کے ساتھ زیادتی کی ہے کیونکہ "ان کے مردوں نے اس کی برادری کی خواتین کے ساتھ بالکل ایسا ہی سلوک کیا”۔

    ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ 8جولائی 2016کو کشمیری نوجوان برہان وانی کے قتل کے بعد سے سینکڑوں کشمیری نوجوان اور طلبہ اور طالبات بھارتی فورسز کی طرف سے گولیوں اورپیلٹ گنزکے استعمال سے زخمی ہو چکے ہیں ۔ ان زخمیوں میں سے انشاء مشتاق اورافراء شکور سمیت کم سے کم 70بچے اور بچیاں بینائی کھو چکے ہیں جبکہ 18ماہ کی شیر خوار بچی حبہ نثار اور 32سالہ نصرت جان کی بینائی جزوی طورپر متاثر ہوئی ۔ نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کشمیریوں میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ جن کے عزیز اور رشتہ دار لاپتہ ہیں

  • فوج مخالف قوتوں اوربھارت کا بیانیہ ایک،غداروں کولگام نہ دی توپھرمیرجعفراورمیرصادق پیدا ہوتے رہیں گے:جنرل غلام مصطفیٰ

    فوج مخالف قوتوں اوربھارت کا بیانیہ ایک،غداروں کولگام نہ دی توپھرمیرجعفراورمیرصادق پیدا ہوتے رہیں گے:جنرل غلام مصطفیٰ

    لاہور:فوج مالف پاکستانیوں اوربھارت کا بیانیہ ایک ہے،ان غداروں کولگام نہ دی توپھرمیرجعفر اور میرصادق پیدا ہوتے رہیں گے:جنرل غلام مصطفیٰ نے کھری کھری سنادیں ،اطلاعات کے مطابق بھارت کی طرف سے شرارتوں کوبھابپتے ہوئے معروف صحافی مبشرلقمان نے اس سلسلے میں کسی متفقہ حکمت عملی پرپہنچنے کےلیے پاکستان کے دفاعی امورکے ماہرین سے آرااورتجاویزلے کرحکام تک پہنچا دیں ہیں‌

     

     

    https://www.youtube.com/watch?v=3w8SoR4o0CQ

    ذرائع کے مطابق سنیر صحافی سے بات کرتے ہوئے پاک فوج کے اعلیٰ ریٹائرڈ جنرل غلام مصطفیٰ نے کہا کہ پاکستان دفاعی پوزیشن برقراررکھے گا توپھربھارت حارحیت کرتا رہے گا،پاکستان کوسخت جواب دینا چاہیے

    ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف ہائی برڈ وارکا مسلسل ہونا ایک بہت بڑی سازش ہے ، بھارت سرحدوں پرجارحیت کرکے ملک کےاندراپنے ایجنٹوں کوقوت بخش رہا اورپاک فوج کے خلاف بیانیئے کو تقویت دے رہا ہے

    جنرل غلام مصطفیٰ‌نے کہا کہ یہ وقت ہے ان غداروں کا قلع قمع کرنے کاان کولگام اگرآج نہ دی توپھران کی نسل سے میرجعفراورمیرصادق پیدا ہوتے رہیں گے

    پاکستان کواب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس اندازسے بھارت کوجواب دیتا ہے ، مبشرلقمان کے ایک سوال کے جواب میں جنرل غلام مصطفیٰ نے کہاکہ اس معاملے پربھارت کو ساتھ وہ قوتیں بھی شامل ہیں جو پاکستان کوکمزوردیکھنا چاہتے ہیں‌

    انہوں نے کہا کہ جنگ پاکستان کا مقدرہے اوراب اس کا فیصلہ پاکستان نے کرنا ہے کہ کون سا میدان ہم نے انتخاب کرنا ہے

  • بھارتی دھمکیاں،فوج مخالف قوتوں کےلیےکمک،جنگ نہیں کر  سکتااگرہوئی توبھارت میں‌ مزید”پاکستان”بنیں‌ گے:بریگیڈیئرحارث نواز

    بھارتی دھمکیاں،فوج مخالف قوتوں کےلیےکمک،جنگ نہیں کر سکتااگرہوئی توبھارت میں‌ مزید”پاکستان”بنیں‌ گے:بریگیڈیئرحارث نواز

    لاہور:بھارتی دھمکیاں،خاص قوتوں کے لیے کمک ہے،جنگ نہیں کرسکتا،اگرہوئی توپھربھارت میں مزید”پاکستان”بنیں‌ گےانشااللہ:بریگیڈیئرحارث نوازنے مبشرلقمان کوسچ سچ بتا دیا ، اطلاعات کے مطابق بھارت کی طرف سے پاکستانی علاقوں میں فائرنگ اوراس کے نتیجے میں شہادتیں اورزخمیوں کے زخم سہنے کے بعد پاکستان کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آرہا ہے،

    باغی ٹی وی کے مطابق بھارتی شرارتوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پرسنیئر صحافی مبشرلقمان نے اس حوالے سے پاکستان کے دفاعی امورپرنظررکھنے والے ماہرین سے ان کی رائے لی اورپاکستانیوں کے جزبات کی کیفیت معلوم کی

    اس سلسلے میں پاک فوج کے ریٹائرڈ افسربریگیڈیئرحارث نواز نے ایک سوال کے جواب میں‌کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے اورپاکستان نے ہمیشہ ذمہ داری کا ثبوت دیا اوربھارت کواس قسم کےہتھکنڈوں سے بازرہنے کی تلقین کی لیکن بھارت اس پرعمل کرنے کی بجائے شرارتوں پراترآیا ہے

    حارث نواز نے کہا کہ بھارت مکاردشمن ہے وہ پاکستان کے حالات پرنظررکھے ہوئے ہیں اوربھارتی دھمکیاں کسی بڑے خطرے کی طرف اشارہ کررہا ہے

    بریگیڈیئرریٹائرڈ حارث نوازنے مبشرلقمان کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جنگ کی صورت میں بھارت کشمیرسےملحقہ سرحدی علاقوں میں کشمیریوں کوجان بوجھ کرپاکستانی حملوں کے ہدف پررکھیں گے اوردنیا کویہ باورکرانے کی کوشش کریں گے کہ پاکستان توخود کشمیریوں کوماررہا ہے،

    ان کا کہنا تھا کہ بھارت سے خیرکی توقع نہیں کی جاسکتی ،بھارت اس سے پہلے ہی یہ گھنونا کھیل کھیل رہا ہے،ایسے تربیتی کیمپ بنارکھے ہیں‌ جہاں‌ پاکستانی اسلحہ جمع کرکے ان کودہشت گردی کی کاررائیوں کے لیے اپنے ہی ملک میں‌استعمال کرتا ہے اورپھردنیا کویہ باورکراتا ہےکہ یہ دہشت گرد پاکستان سے آئے ہیں اوریوں یہ پراپیگنڈہ کررہا ہے

  • چین یا پاکستان ہجرت کرنے والے کشمیریوں کے خلاف مودی سرکار کا سخت اقدام

    چین یا پاکستان ہجرت کرنے والے کشمیریوں کے خلاف مودی سرکار کا سخت اقدام

    چین یا پاکستان ہجرت کرنے والے کشمیریوں کے خلاف مودی سرکار کا سخت اقدام
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے ماطقب بھارتی حکومت 1965 اور 1971کی پاکستان بھارت جنگوں کے بعد پاکستان اور چین ہجرت کرنے والے کشمیریوں کی ایک لاکھ کروڑ روپے مالیت کی 9400 جائیدادیں فروخت کر دے گی۔

    1965 اور 1971کی پاکستان بھارت جنگوں کے بعد جموں وکشمیر سے ہجرت کرنے والوں کی بھارت کے الگ ا لگ حصوں میں ایسی جائیداد کو اینی پراپرٹی ایکٹ کے تحت لایا گیا تھا جبکہ جموں وکشمیر میں رہائشی مکانوں دوکانوں کی صورت میں جو جائیداد تھی ا س کو کسٹوڈین محکمہ نے کرایہ پردے دیا تھا،فروخت نہیں کیا۔

    2017تک ایسی پراپرٹی کو آزادکشمیر میں رہائش پذیرکنبوں کی ملکیت کہاجاتا تھا ۔ اس جائیداد کو فروخت کرنے کی کوئی اجازت نہیں تھی ۔5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعدری آرگنائزیشن ایکٹ کے تحت جموں وکشمیرکے لئے جتنے بھی قانون نافذ کئے گئے ان کے مطابق جموں وکشمیر میںاس طرح کی جائیداد اب بھی محفوظ ہیں ۔

    پورے جموں وکشمیرکوبھارت کا حصہ قرار دینے کے بعد اس طرح کی جائیداد کو حکومت نے فروخت کرنے پر پابندی عائد کی ہے تا ہم یہ کسٹوڈین محکمہ کی تحویل میں ہی رہے گی۔ پاکستان اور چین میں پناہ لینے والے شہریوں کی جائیداد بھارت کی دوسری ریاستوں ، بھارت کے زیر انتظام علاقوں کی طرح جموں وکشمیرمیں بھی کسٹوڈین کی تحویل سے علیحدہ کی جارہی ہے۔

    خبر رساں ادارے ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہ جائیداد کسی بھی وقت حکومت فروخت کرنے کی حقدارہے۔ وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق آزاد کشمیرمیں رہنے والے کنبوں کی جوجائیداد یہاں موجود ہے وہ محفوظ ہے۔ ایسے افرد جب بھی واپس آئیں گے انہیں عدالت میں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ جائیداد کے وارث ہیں انہیں منتقل کرنے یانہ کرنے کے بارے میں حکومت فیصلہ لے سکتی ہے تا ہم چین یا پاکستان میں پناہ لینے والے کنبوں کی جائیداد فروخت کرنے کی کارروائی بھارت کسی بھی وقت کرسکتا ہے

  • وزیراعظم آزاد کشمیرنے بھارتی جارحیت سے نمٹنے کےلیے وزیراعظم پاکستان سےمطالبہ کردیا

    وزیراعظم آزاد کشمیرنے بھارتی جارحیت سے نمٹنے کےلیے وزیراعظم پاکستان سےمطالبہ کردیا

    مظفرآباد: وزیراعظم آزاد کشمیرنے بھارتی جارحیت سے نمٹنے کےلیے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کردیا،اطلاعات کے مطابق بھارت کی طرف سے مسلسل لائن آف کنٹرول پراورپاکستانی سرحدی علاقوں کے رہائشیوں پرمسلسل فائرنگ کررہا ہے،آج بھی بھارت کی طرف سے فائرنگ میں 4 پاکستانی شہید جبکہ 27 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں

    ادھر بھارتی جارحیت پرآزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے اس پروزیراعظم پاکستان سے بہت بڑا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں دوروزمیں جائیداد کےبڑے نقصان کےعلاوہ، آزادکشمیر کے5 معصوم شہریوں کا شہید اور31 دیگر افراد زخمی ہوگئے ،

     

    راجہ فاروق حیدر کہتے ہیں کہ ان افراد کا زخمی ہونا مجھے وزیراعظم عمران خان سے یہ سوال پوچھنے پر مجبور کر رہا ہے کہ جنگ بندی لائن کے ساتھ آباد میرے لوگوں کی حفاظت کس کی ذمہ داری ہے اور ہم کب تک ایسے بھاری نقصانات اٹھاتے رہیں گے؟

  • دیوالی کے موقعہ پر بھارتی فوج کا بے بنیاد پروپیگنڈا

    دیوالی کے موقعہ پر بھارتی فوج کا بے بنیاد پروپیگنڈا

    بھارتی فوج نے بھارت میں دیوالی کے موقعہ پر اپنے عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے یہ شوشہ چھوڑا ہے کہ پاکستان نے فائربندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی علاقے میں فائرنگ کی جس کے بعد بھارتی فوجوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے گیارہ فوجی شہید کر دئیے۔ بھارتی فوج نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ مضحکہ خیزخبر بھی دی کہ شہید ہونے والوں میں پاکستان آرمی سپیشل سروسز گروپ کے دو سے تین کمانڈوز بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پندرہ سے سولہ پاکستانی فوجی جوان زخمی بھی ہوئے۔ بھارتی فوج نے دعوی کیا کہ پاکستان نے 13 نومبر کو بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر اڑی سے گوریز کے علاقے کے درمیان فائرنگ کی جس کا جواب بھارتی فوج نے دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس مصنوعی اور فرضی واقعہ کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی جس میں بھارتی فوج نی ایک ویران علاقے میں موجود ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا لیکن اس ویڈیو میں جو غلطی کی گئی وہ فوری طور پر ہر خاص و عام نے پکڑ لی۔ مکان تباہ ہونے کی صرف مٹی اور دھول اڑی لیکن وہاں کوئی بھی لاش نظر نہیں آئی۔ اس بھارتی "معرکے”  میں بھارتی فوج نے اسرائیل سے حال ہی میں خریدے گئے جدید ترین سپائیک انٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل استعمال کئے جانے کا دعوی کیا۔ بھارتی عوام کو یہ خوشخبری بھی سنائی گئی کہ اس واقعے میں 4 بھارتی فوجی اور 5 بھارتی شہری ہلاک اور 3 فوج زخمی بھی ہو گئے۔ بھارتی فوج نے یہ بے بنیاد واقعہ کی تشہیر پورے بھارتی میڈیا پر کی لیکن بھارت کے کئی دفاعی ماہرین نے اس پر دھیان نہیں دیا اور اسے بھی ماضی میں بھارتی سرجیکل اسٹرائیک کا ری میک قرار دیا۔ 

  • مقبوضہ کشمیر: 4 جی انٹرنیٹ پر پابندی میں مزید توسیع

    مقبوضہ کشمیر: 4 جی انٹرنیٹ پر پابندی میں مزید توسیع

    سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں 4 جی انٹرنیٹ پر پابندی میں مزید توسیع کردی ہے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق جموں کشمیر میں فی الحال2 جی انٹرنیٹ سروس کو جاری رکھا جائے گا اور26 نومبر تک 4 جی انٹرنیٹ پر عائد پابندی برقرار رکھی جائے گی-

    آج شام ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا جس میں واضح کیا گیا کہ 26 نومبر تک 4 جی انٹرنیٹ پر عائد پابندی برقرار رکھی جائے گی-

     

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق انتظامیہ کی طرف سے 4 جی انٹرنیٹ پر عائد پابندی میں بار بار توسیع کی جارہی ہے ۔کورونا وائرس کے دنیا کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں بھی تیزی سے پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر جاری لاک ڈان کے دوران 4 جی کو بحال کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے-

     

    یاد رہےکہ گذشتہ سال 05 اگست سے بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ معطل ہے ، جبکہ دوسری طرف مودی کی زیرقیادت فاشسٹ ہندوستانی حکومت نے اس علاقے کی خصوصی حیثیت کو کالعدم قرار دے کر فوجی محاصرہ نافذ کردیا۔

    قابض حکام نے ایک آرڈر میں کہا ہے کہ ہدایات 26 نومبر 2020 تک موثر ہوں گی ،

    دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت کے اس کردار کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہےکہ بھارت کشمیریوں کا پاکستان سے رشتہ تو نہ توڑسکا اب یہ گھنونے ہتھکنڈے استعمال کرے ان کی آواز کودبانا چاہتا ہے لیکن بھارت جیسے دبائے کشمیریوں کی آوازویسے ہی بلند ہوتی جائے گی

  • کشمیری مجاہدین کے ساتھ  جھڑپ میں افسران سمیت 4 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے

    کشمیری مجاہدین کے ساتھ جھڑپ میں افسران سمیت 4 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے

    راولپنڈی: مقبوضہ جموں کشمیر میں مجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں چار بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مجاہدین اور بھارتی فوج میں جھڑپ مقبوضہ وادی میں ہوئی، بھارتی فوج کا کپواڑہ میں مجاہدین سے سات اور آٹھ نومبرکی شب سامنا ہوا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بجائے اپنی طرف دیکھنے کے اور مسئلہ حل کرنے کے بھارتی فوج نے 13 نومبر کو لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کردیا۔ بھارتی فوج کو اپنی عوام کے سامنے شدید ہزیمت اٹھانی پڑی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دشمن کی طرف سے بلااشتعال فائرنگ میں توپخانہ اور بھاری ہتھیار استعمال کئے گئے۔ ٹارگٹ ایریاز میں لائن آف کنٹرول کے کئی سیکٹرز شامل ہیں۔ دانستہ بلااشتعال فائرنگ میں بھارتی فوج انسانی حقوق عالمی معاہدوں کو بھی بھول گئی۔ بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے چار سویلین شہید اور بارہ زخمی ہوئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے بھارتی پوسٹوں کو نشانہ بنایا اور انتہائی موثر جواب دیا۔ پاک فوج کی جانب سے جوابی کاروائی میں بھارتی فوج کو جانی مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس نقصان کو بھارتی میڈیا نے خود تسلیم کیا ہے۔ اس بہادرانہ کارروائی میں پاک فوج کا ایک جوان شہید جبکہ پانچ زخمی ہوئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور پاک فوج اسی اصول پر عمل کرتی ہے، اپنے مادروطن اور کشمیری بھائیوں کا خون کے آخری قطرے تک دفاع کرینگے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے تین نوجوانوں کو شہید کر دیا

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے تین نوجوانوں کو شہید کر دیا

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے تین نوجوانوں کو شہید کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جنوبی کشمیر میں شوپیاں کے علاقے کٹ پورہ میں حریت پسندوں اور بھارتی سرکاری فوج کے مابین منگل کی صبح شروع ہونے والے تصادم کے دوران3حریت پسند کشمیری شہید ہوگئے ہیں۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کی تصدیق کرنے والے ایک عہدیدار نے بتایا کہ بھارتی فوج کے 34 راشٹریہ رائفلز ، جموں کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف کے 178 بی این نے مشترکہ طور پر شوپیاں کے علاقے کٹ پورہ میں محاصرہ کیا تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ اس علاقے میں عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کے بارے میں فورسز کی جانب سے اطلاع ملنے کے بعد یہ محاصرہ کیا گیا تھا۔جہاں فائرنگ کے تبادلے کے دوران 3 حریت پسند شہید گئے ، جن کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ شہداء مقامی ہیں ، جنہوں نے سرکاری فوج کی پیشکش کے باوجود ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا۔