Baaghi TV

Category: کشمیر

  • جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ہمارے وجود کا مسئلہ ہے، محبوبہ مفتی

    جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ہمارے وجود کا مسئلہ ہے، محبوبہ مفتی

    سری نگر : جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ہمارے وجود کا مسئلہ ہے،اطلاعات کےمطابق جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ 5 اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا، اپنے حقوق کی جنگ خود مل کر لڑنا ہوگی۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کیا، محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی تک 5 اگست یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ ہماری شناخت اور وجود کا مسئلہ ہے ،یہ ہم سب کی لڑائی ہے جو ہمیں اجتماعی طور پر لڑنا ہوگی۔

    واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آج سخت کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، گزشتہ برس پانچ اگست کو ہی کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرتے ہوئے اسے وفاقی حکومت کے زیر انتظام علاقہ بنا دیا گیا تھا۔

    بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں چار اور پانچ اگست کو سخت ترین کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پیر دو اگست کی شام کو سرینگر کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے اپنے ایک حکم نامے میں کرفیو کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ چار اور پانچ اگست کو مکمل طور پر کرفیو نافذ رہے گا اور اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

    وادی کشمیر کے دیگر اضلاع کی انتظامیہ نے بھی کرفیو کے نفاذ کے سلسلے میں اسی طرح کا نوٹس جاری کیا ہے اور اس طرح وادی کشمیر کے تمام دس اضلاع میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

  • کشمیریوں کی آزادی قریب ہے،عمران خان کاسید علی گیلانی کو نشان پاکستان اعزاز دینے کااعلان

    کشمیریوں کی آزادی قریب ہے،عمران خان کاسید علی گیلانی کو نشان پاکستان اعزاز دینے کااعلان

    مظفرآباد:کشمیریوں کی آزادی قریب ہے،عمران خان کاسید علی گیلانی کو نشان پاکستان اعزاز دینے کااعلان،اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ5 اگست2019 کو مودی نے بہت بڑی غلطی کی،اس اقدام کے بعدکشمیریوں کی آزادی قریب ہے،وزیراعظم عمران خان نے حریت رہنما سید علی گیلانی کو نشان پاکستان دینے کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ سید علی گیلانی کونشان پاکستان اعزاز سے نوازیں گے ۔

    وزیراعظم عمران خان نے آزادجموںو کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ارکان آزادکشمیر اسمبلی کے خطاب سن رہاتھا،یاد رکھیں جوپوٹینشل پاکستان میں ہے شایدہی کسی دوسرے ملک میں ہو،ایک وقت تھا جب دنیا پاکستان کی مثالیں دیا کرتی تھی،اصولوں پر چلنے والی قومیں ترقی کرتی ہیں،قوم جب اصولوں سے ہٹ جاتی تو نیچے آجاتی ہے،خداکہتا ہے نبیﷺ کی سنت پر چلو،مجھے آپ کی باتوں سے مایوسی ہوئی،ایسا لگا جیسے آپ اندر سے تھوڑا ہارے ہوئے ہیں ،ایسے دور سے گزر رہے ہیں جس کااختتام کشمیر کی آزادی ہے۔

    وزیراعظم پاکستان نے کہاکہ مودی کو ہندوتوا کی بنیاد پر پذیرائی ملی جس وجہ سے کشمیر میں قدم اٹھایا،مودی سمجھ رہاتھاکہ 8 لاکھ فوج سے کشمیریوں کو تحریک کو دبالے گا،5 اگست2019 کو مودی نے بہت بڑی غلطی کی،اس اقدام کے بعدکشمیریوں کی آزادی قریب ہے، مودی نے الیکشن جیتنے کیلئے پاکستان کیخلاف مہم چلائی ،پلوامہ کو استعمال کرکے پاکستان کیخلاف نفرتیں پھیلائی گئیں ۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ مودی کو معلوم تھا چین کیخلاف مغرب کو بھارت کی ضرورت ہے ،نریندرمودی کااندازہ غلط ثابت ہوا،بڑی بڑی قومیں تکبر میں غلط فیصلے کرکے تباہ ہوئی ہیں ،ڈونلڈٹرمپ کو بتایا کشمیر فلیش پوائنٹ ہے،پاکستان چپ کرکے نہیں بیٹھادنیا میں گیا، کشمیر کے معاملے پر دنیا کے ٹاپ لیڈر سے بات کی ،ڈونلڈ ٹرمپ کو سمجھایاکشمیر دنیا کیلئے کتناخطرناک ہے ،مودی نے گجرات میں مسلمانوں کاقتل عام کیا،مودی بلیک لسٹ تھامغرب نہیں جاسکتا تھا۔

    آج نریندر مودی دنیا میں بے نقاب ہو چکا ہے،دنیا کی نظراب کشمیر کی طرف ہے ،یورپی پارلیمنٹ میں کشمیر کے معاملے پر بات ہو رہی ہے ،نیویارک میں کبھی اتنے لوگ نہیں نکلے جو اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران نکلے ،جرمن چانسلر جب بھارت گئیں انہوں نے کشمیر کے معاملے پربات کی ،مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے سے بھارت زیادہ ظلم نہیں کرسکا۔

    وزیراعظم پاکستان نے کہاکہ مودی حکومت بندگلی میں پھنس چکی ہے ،کشمیر کبھی بھی بھارت کاعلاقہ نہیں تھا،بھارت نے کشمیر پر غیرقانونی قبضہ کیاتھا،وزیراعظم عمران خان نے حریت رہنما سید علی گیلانی کو نشانہ پاکستان دینے کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ سید علی گیلانی کونشان پاکستان اعزاز سے نوازیں گے ۔

  • انڈیا سے ہندیا ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔ وزیرخارجہ کا سینیٹ میں خطاب

    انڈیا سے ہندیا ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔ وزیرخارجہ کا سینیٹ میں خطاب

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا سینیٹ کے اجلاس سے خطاب۔ انہوں نے کہا کہ خوش آئند بات ہے کہ آج سینیٹ جو وفاق کا نمائندہ ہے اس نے ایک خصوصی اجلاس آج کے دن کے حوالے سے منعقد کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام سیاسی جماعتوں کا شکر گزار ہوں کہ کشمیر کے مسئلے پر سب نے یکجہتی دکھائی۔ آج چیرمین سینٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی نے یوم استحصال 5 اگست کے حوالے سے واک میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ آپ کی وساطت سے پوری پاکستانی قوم کا شکریہ ادا کرتے ہیں جس طرح پوری قوم نے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور جس طرح بھارتی یکطرفہ اقدامات کی مذمت کی گئی وہ قابلِ تحسین ہے۔
    آج تمام صوبوں میں بلکہ چھوٹے چھوٹے شہروں میں لوگوں نے کشمیریوں کے حق میں جلوس نکالے۔ پاکستان کے دنیا بھر میں سفارت خانوں نے 200 کے قریب پروگرام آج کے دن کے حوالے سے منعقد کیے۔ تمام سفراء کو خصوصی ہدایت دی گئی کہ پاکستانی کمیونٹی اور یونیورسٹی کے طلباء کو انگیج کریں اور یہ پیغام ان تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج 5 اگست کے غیر قانونی اقدامات کو ایک سال بیت گیا۔ ہندوستان کی حماقتوں نے مسئلہ کشمیر کو خود بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا۔ بین الاقوامی میڈیا نے اس ایک سال میں جتنے مضامین چھاپے اور بھارت پر جس قدر تنقید کی گئی اس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔ آزاد کشمیر مظفرآباد میں اس وقت وزیر اعظم عمران خان موجود ہیں۔ آج آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں نے جس یکجہتی کا اظہار کیا وہ بھی قابل تعریف ہے۔ پوری کشمیری قوم نے بھارت کے 5اگست کے اقدامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے اندر سے آوازیں آٹھ رہی ہیں۔ انڈیا سے ہندیا ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔ 5 اگست کو ناصرف غاصبانہ قبضہ کیا گیا اس کے ساتھ ساتھ آج مودی بابری مسجد کو شہید کر کے راج مندر کی بنیاد رکھ رہا ہے تمام مذہبی رہنماؤں اور علماء کو اس اقدام کی کھل مذمت کرنی چاہیے۔ مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ہندوستان دلوں اور ذہنوں کی جنگ ہار چکا ہے کشمیری ان کے رویے سے متنفر ہو چکے ہیں کشمیریوں کا بھارت نے بے پناہ معاشی نقصان کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں ان سب اکابرین کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ہماری درخواست پر لبیک کہا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ جے یو آئی ف بھی اس میں شامل ہو جاتی۔ مولانا فضل الرحمن خود کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ میں اس فورم پر ایک مرتبہ پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان، مظلوم کشمیریوں کی معاونت جاری رکھے گا۔ اور کشمیر انشاء اللہ آزاد ہو گا۔

  • مسئلہ کشمیر، جنگی بنیادپر سفارتی محاذ آرائی کی ضرورت ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر

    مسئلہ کشمیر، جنگی بنیادپر سفارتی محاذ آرائی کی ضرورت ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر

    وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سب کیلئے خطرہ ہے۔ مودی کے عزائم سب کے سامنے آچکے ہیں۔حالات کا تدبر کےساتھ مقابلہ کرنا ہے۔ ہمیں مناسب وقت پر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

    آزادکشمیر اسمبلی میں یوم استحصال کشمیر سے متعلق قرارداد منظور

    انہوں نے کہا کہ ہم مودی کی سوچ اور فلسفے کےخلاف ہیں۔بھارت کشمیریوں کی نسل کشی کرنا چاہتا ہے۔ جب تک کشمیری زندہ ہیں اپنا فریضہ ادا کرتے رہیں گے۔ ہم مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    وزیراعظم آزاد کشمیر نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان کشمیر کو درندوں کے آگے نہیں چھوڑے گا۔ راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ نائن الیون کے بعد کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو بڑا نقصان ہوا۔اب جنگی بنیادپر سفارتی محاذ آرائی کی ضرورت ہے۔

    قبل ازیں یوم استحصال کشمیر سے متعلق آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قرارداد منظور کر لی گئی۔ قرارداد وزیراعظم آزاد کشمیر سردار فاروق حیدر نے پیش کی۔

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قانون ساز اسمبلی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت کرتی ہے۔قرارداد میں حریت قیادت کی گرفتاری کی مذمت کی گئی۔ اسی طرح حریت قیادت اورغیرملکی میڈیانمائندوں کی گرفتاری کی مذمت بھی کی گئی۔

    قرارداد میں بھارت کے5اگست کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں محاصرے اور کرفیو کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ : عمران خان کے اس اقدام سے ہمیں بہت تکلیف ہوئی ہے ، بھارت کا ردعمل آگیا

    مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ : عمران خان کے اس اقدام سے ہمیں بہت تکلیف ہوئی ہے ، بھارت کا ردعمل آگیا

    نئی دہلی:مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ : عمران خان کے اس اقدام سے ہمیں بہت تکلیف ہوئی ہے ، بھارت کا ردعمل آگیا،اطلاعات کےمطابق بھارت نے پاکستان کی جانب سے نئے نقشے میں مقبوضہ کشمیر کو شامل کرنے پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی قانونی حیثیت ہے نہ عالمی ساکھ،

    بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر اور گجرات کے کچھ علاقوں کو نئے پاکستانی نقشے میں شامل کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ، ان کے مطابق یہ ایک ”نام نہاد“ سیاسی نقشہ ہے ، اس کی قانونی حیثیت ہے اور نہ ہی عالمی برادری میں اس کی کوئی ساکھ ہے۔

    بھارتی میڈیا کا کہنا ہےکہ وزیراعظم پاکستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیرکوپاکستان کا حصہ دکھانے کے اقدام سے بھارت کوبہت زیادہ تکلیف پہنچی ہے، یہ بھی کہا جارہا ہےکہ بھارتی حکومت وزیراعظم عمران خان کی کشمیرحکمت عملی سے بہت زیادہ خوف زدہ ہے

    دریں اثناءپاکستانی وزارت خارجہ نے پاکستان کی طرف سے جاری کیے گئے سیاسی نقشے پر بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت زبردستی توسیع پسندی اور ریاستی دہشتگردی کے ساتھ ڈھٹائی کا مظاہرہ کرنے والا ملک ہے،

    بھارت ایسے بیانات سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی غیر قانونی اور ناقابل قبول کارروائیوں سے توجہ نہیں ہٹاسکتا ، جس میں 5 اگست 2019 کے بعد کی گئی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان دوسروں کے خلاف الزامات لگانے والا ایک ایسا ملک ہے جو زبردستی توسیع پسندی اور ریاستی دہشتگردی کے ساتھ ڈھٹائی کا مظاہرہ کرنے والا ملک ہے۔

  • آزادکشمیر اسمبلی میں یوم استحصال کشمیر سے متعلق قرارداد منظور

    آزادکشمیر اسمبلی میں یوم استحصال کشمیر سے متعلق قرارداد منظور

    بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے خلاف اور یوم استحصال کشمیر سے متعلق آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قرارداد منظور کر لی گئی۔ قرارداد وزیراعظم آزاد کشمیر سردار فاروق حیدر نے پیش کی۔

    وزیراعظم عمران خان مظفر آباد پہنچ گئے، کشمیریوں کی یاد میں مزاحمتی دیوار کا افتتاح

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قانون ساز اسمبلی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت کرتی ہے۔قرارداد میں حریت قیادت کی گرفتاری کی مذمت کی گئی۔ اسی طرح حریت قیادت اورغیرملکی میڈیانمائندوں کی گرفتاری کی مذمت بھی کی گئی۔

    قرارداد میں بھارت کے5اگست کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں محاصرے اور کرفیو کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیرکی غیر آئینی طور پر حیثیت بدلنے کا ایک سال مکمل ہوگیا، مودی سرکار کے غیر قانونی اقدام کیخلاف پاکستان بھر میں یوم استحصال منایا جا رہا ہے، قوم شہر شہر قریہ قریہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان آزاد کشمیر اسمبلی میں اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔ یوم استحصال کشمیر کے حوالہ سے ریلی میں آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر اسمبلی میں سیا ہ ماسک پہن کر پہنچے۔

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے مظفر آباد میں مزاحمتی دیوار کا افتتاح کیا ، علی امین گنڈا پور اور معید یوسف بھی ان کے ہمراہ ہیں، صدر اور وزیراعظم آزاد کشمیر بھی ان کے ہمراہ ہیں۔

  • اب کشمیر ڈوبتے دیکھو  تحریر:اجمل ملک

    اب کشمیر ڈوبتے دیکھو تحریر:اجمل ملک

    اب کشمیر ڈوبتے دیکھو. . . آج سے ٹھیک ایک سال قبل بھارت نے ایکٹ 370 کو ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ ڈکلیئر کر دیا تھا اور آج ٹھیک ایک سال بعد پانج اگست پر پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کو اپنے نقشے میں شامل کر لیا ھے ۔
    کشمیر دنیا کی ایک خوبصورت ترین وادی ھے جس پر تقسیم ھند کے وقت سے برطانیہ کی نظر ھے وہ عرصہ دراز سے امریکہ کے ساتھ مل کر اس کا اسکرپٹ تیار کر چکا ھے اور معلوم ھوتا ھے کہ اب اس کھیل کو مکمل کرنے کے لیئے اسکرپٹ کے مطابق اداکاروں کا بھی انتخاب کر لیا گیا ھے اور ایک انتہائی مختصر دورانیئے کا ڈرامہ چلا کر کشمیر کے کھیل کو منطقی انجام تک پہنچا دیا جائے گا اس کھیل کو سمجھنے کے لیئے ھمیں تھوڑا سا ماضی میں جھانکناا ھوگا اور تقسیم ھند کے وقت قادیانیوں کے کردار کو یاد کرنا ھوگا تقسیم پنجاب کے وقت قادیانیوں کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود نے گورداسپور کا وہ علاقہ جہاں قادیان واقع ھے اسے بھارت میں شامل رکھنے کے لییئے ریڈ کلف کمیشن میں اپنے آپکو غیر مسلم قرار دیا اور ایسا انہوں نے یقینا برطانیہ کی ایما پر کیا ھوگا کیونکہ اگر قادیان کا علاقہ پاکستان میں شامل ھوتا تو بھارت کو کشمیر کے لیئے راستہ نہ ملتا پھر ایک اور واقعہ ھوا کہ 1957 میں پاکستان نے اقوام متحدہ میں ایک ریزولیشن جمع کروائی کہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر ان دونوں میں اقوام متحدہ کی فوج کی نگرانی میں الیکشن کروائے جائیں اسوقت امریکہ برطانیہ اور آسٹریلیا نے اس ریزولیشن کی حمایت کی تھی اور اس پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیئے اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل کے ایک وفد نے کشمیر کا دورہ بھی کیا تھا اس وفد میں جوزف کاربائل صاحب بھی شامل تھے جنہون نے واپس جاکر کشمیر پر کتاب بھی لکھی اور ان کی بیٹی البرائیٹ میٹرن یوناییٹڈ نیشن کی سیکریٹری آف اسٹیٹ بھی منتخب ھوئیں معلوم ھوتا ھے کہ اقوام متحدہ کی سطع پر اندر ھی اندر اس تجوءذ پر کام ھوتا رھا ھے لہذا 2016 میں دوبارہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی ٹیموں نے کشمیر کا دورہ کیا اور پاکستان کی طرف سے اس وفد میں حامد میر اور کشمیر کمیٹی کے موجودہ چیرمین جناب فخر امام صاحب کو شامل کیا گیا اور فخر امام صاحب نے بالکل واضع الفاظ میں کہا کہ ھم بھی تو یہی چاھتے ھیں جو اقوام متحدہ کی ریزولیشن کہتی ھے کہ کشمیر میں فری اینڈ فیئر الیکشن کروائے جائیں اور آزاد کشمیر کے وزیر اعظم فاروق حیدر صاحب نے کہا ھم بھی یہی چاھتے ھیں اب صورتحال یہ ھے کہ 5اگست 2019 کےبھارت کے اقدام اور 5 اگست 2020 کے پاکستان کے اقدام کے بعد کشمیر قانونی طور پر دوبارہ برطانیہ کی جھولی میں چلا گیا ھے اور ھر ذی شعور شخص یہ جانتا ھے کہ اگر کشمیر میں الیکشن کروائے گئے تو تقریبا %90 کشمیری خود مختار کشمیر کیلیئے ووٹ دینگے کہانی کو تھوڑا اور سمجھنے کے لیئے پچھلے دو سالوں میں دنیا بھر میں کشمیر کے حوالے سے ھونے والے احتجاجوں کا جائزہ لیں تو آپکو کشمیریوں کے ساتھ پاکستانی نہیں بلکہ سکھ ھاتھون میں ھاتھ ڈالے مظاھروں میں شریک دکھائی دینگے یاد رکھیئے کہ سکھ اپنے لیئے ایک علیحدہ وطن چاھتا ھے اور قادیانی ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس جاکر فریادین کرتے ھیں کہ پاکستان میں ھمارے خلاف قتل کے فتوے دییئے جاتے ھیں لہذا ھمارے لیئے کچھ بندوبست کیا جائے یہ بھی کیسا اتفاق ھے کہ کرتار پور اور قادیان دونوں کا راستہ سیدھا کشمیر کو جاتا ھے اور آغا شورش کاشمیری نے 1974 میں چھپنے والی اپنی کتاب میں لکھا ھے کہ انگریز کی یہ سازش ھے کہ انڈیا کا کچھ پنجاب اور پاکستان کا کچھ کشمیر ملا کر قادیانیوں اور سکھوں کو ایک علیحدہ مملکت دی جائے ھو سکتا ھے بھری عدالت میں ایک قادیانی کا قتل بھی اسی سلسلے کی کڑی ھو کیونکہ قاتل خالد خان وڈیو میں پولیس والوں سے کہہ رھا ھے کہ مجھے تم نے ھی تو پستول دے کر کہا تھا کہ اسے قتل کر دو بہرحال اس سارے ڈرامے کے بارے میں ھماری بیوروکریسی کے بہت سے لوگ باخبر ھونگے لیکن وہ خاموش رھینگے جس طرح حامد میر بھی اس سارے کھیل سے واقف ھے لیکن ھماری صحافت کی یہ خوبرو طوائف
    بڑی ” میسڑی” ھے یہ ھمیشہ بعد میں منہ کھولتی ھے جس طرح اس نے اسامہ بن لادن والے معاملے میں برسوں بعد زبان کھولی تھی ۔
    اجمل ملک

  • نقشہ آغاز ہے جب کہ کشمیر کی بھارت سے آزادی اختتام ہو گا۔ ڈاکٹرمعید یوسف

    نقشہ آغاز ہے جب کہ کشمیر کی بھارت سے آزادی اختتام ہو گا۔ ڈاکٹرمعید یوسف

    وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے یوم استحصال پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد میں شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، معید یوسف نے کہا کہ نقشہ آغاز ہے جب کہ کشمیر کی بھارت سے آزادی اختتام ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو احساس ہو گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے۔ دنیا اب خاموش رہنے کی متحمل نہیں۔

  • یوم استحصال کشمیر:وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار اورگورنرچوہدری محمد سرور کی قیادت میں گورنر ہاؤس سے فیصل چوک تک ریلی

    یوم استحصال کشمیر:وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار اورگورنرچوہدری محمد سرور کی قیادت میں گورنر ہاؤس سے فیصل چوک تک ریلی

    یوم استحصال کشمیر:وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اورگورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی قیادت میں گورنر ہاؤس سے فیصل چوک تک ریلی نکالی گئی جس میں بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیرکے عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے سائرن بجائے گئے۔ پاکستان اورآزاد جموں و کشمیر کے ترانے بجائے گئے۔
    وزیراعلیٰ عثمان بزدار،گورنر چوہدری محمد سرور،صوبائی وزراء اراکین اسمبلی اورتحریک انصاف کے عہدیداران نے ہاتھوں کی زنجیر بنا کرکشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
    فضاء”کشمیر بنے گا پاکستان“ کے نعروں سے گونجتی رہی۔ ریلی کے شرکاء نے پاکستان اورکشمیر کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے لاہورسمیت پنجاب کے ہر ڈویژن میں ایک سڑک کو سرینگرکے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم آج یوم استحصال کشمیر بھرپور طریقے سے منا رہی ہے۔عثمان بزدارنے کہا کہ غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی لازوال جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام ہمارے دلوں میں بستے ہیں، انہیں کبھی نہیں بھول سکتے۔ہم کل بھی کشمیریوں کے ساتھ تھے،آج بھی ساتھ ہیں اورکل بھی ساتھ رہیں گے۔عثمان بزدارنے کہا کہ قائداعظمؒ نے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل ہے۔ ہم کشمیر کاز سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ہم کشمیری عوام کی سفارتی،سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔عثمان بزدارنے کہا کہ انشاء اللہ کامیابی کشمیری عوام کا مقدر بنے گی۔اس موقعہ پرگورنر پنجاب چوہدری محمدسرورنے کہا کہ مودی نے 5اگست2019ء کو اقوام متحدہ کے ضابطوں کی دھجیاں اڑا دیں۔بھارت نے غیر قانونی طورپر مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل کر کے انسانی حقوق کو پامال کیا۔گورنر پنجاب نے کہا ہم بھارت کی ہٹ دھرمی اورغیر قانونی اقدام کو ہر سطح پر بے نقاب کرتے رہیں گے۔ پاکستان کشمیر کے بغیرادھورا ہے۔مودی فاشسٹ اورہٹلر کا شاگرد ہے۔گورنر پنجاب نے کہا کہ مودی نے پہلے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا اورپھر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بربریت کا بازار گرم کررکھا ہے۔گورنر پنجاب نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کومکمل مذہبی آزادی حاصل ہے بھارت میں اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ کردیاگیاہے۔گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ 22 کروڑپاکستانی کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
    ریلی میں صوبائی وزراء میاں اسلم اقبال، یاسمین راشد،فیاض الحسن چوہان،اختر ملک، نعمان لنگڑیال،اراکین اسمبلی نذیر چوہان، مسرت جمشید چیمہ،مہندر پال سنگھ، تحریک انصاف پنجاب سینٹرل کے صدر اعجاز چوہدری، پارٹی رہنماؤں و عہدیداران جمشید اقبال چیمہ، دیگر شخصیات اورعوامی نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

  • آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے تمام کشمیریوں کو، باور کروانا چاہتا ہوں کہ آپ تنہا نہیں ہیں. وزیرخارجہ

    آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے تمام کشمیریوں کو، باور کروانا چاہتا ہوں کہ آپ تنہا نہیں ہیں. وزیرخارجہ

    یوم استحصال 5 اگست کے حوالے سے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے خصوصی ویڈیو پیغام میں کہا ہے آج ایک دفعہ پھر آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے تمام کشمیریوں کو، باور کروانا چاہتا ہوں کہ آپ تنہا نہیں ہیں،ہر پاکستانی آپ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے ہمیں آپ کی تکالیف کا احساس ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف خلاف ورزیوں اور نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے دنیا بے خبر نہیں ہے۔ آج دنیا کے سامنے ہندوستان کا اصلی چہرہ ہے نقاب ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان بطور سفیر کشمیریوں کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں آج کشمیریوں سے وعدہ کرتا ہوں کہ جب تک ان کی قیادت پابند سلاسل ہے میں ان کی وکالت کروں گا۔ میں کشمیریوں کی آواز کو ہر ملک کے دارالخلافہ تک لے کر جاؤں گا۔ بطور وزیر خارجہ آپ کی ترجمانی کرنا میرے فرایض میں شامل ہے اور انشاء اللہ فتح آپ کی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ4 ماہ کے لاک ڈاؤن سے، دنیا کی چیخیں نکل گئیں لیکن مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری کرفیو کو آج ایک سال ہو چکا ہے۔ نہتے کشمیری فوجی محاصرے میں دوہرا لاک ڈاؤن جھیلنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غاصبوں کی یہ غلط فہمی ہے کہ وہ جبر کے ذریعے کشمیریوں کے حوصلے پست کر لیں گے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب کوئی قوم کھڑی ہو جاتی ہے تو کوئی غاصبانہ فوج اسے دبا نہیں سکتی اور آج کشمیری کھڑے ہو چکے ہیں اور پاکستانی قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے انشاءاللہ ہم کامیابی سے ہمکنار ہوں گے اور کشمیر جلد اس جبر سے آزاد ہو گا۔