Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مسئلہ کشمیر، جنگی بنیادپر سفارتی محاذ آرائی کی ضرورت ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر

    مسئلہ کشمیر، جنگی بنیادپر سفارتی محاذ آرائی کی ضرورت ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر

    وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سب کیلئے خطرہ ہے۔ مودی کے عزائم سب کے سامنے آچکے ہیں۔حالات کا تدبر کےساتھ مقابلہ کرنا ہے۔ ہمیں مناسب وقت پر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

    آزادکشمیر اسمبلی میں یوم استحصال کشمیر سے متعلق قرارداد منظور

    انہوں نے کہا کہ ہم مودی کی سوچ اور فلسفے کےخلاف ہیں۔بھارت کشمیریوں کی نسل کشی کرنا چاہتا ہے۔ جب تک کشمیری زندہ ہیں اپنا فریضہ ادا کرتے رہیں گے۔ ہم مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    وزیراعظم آزاد کشمیر نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان کشمیر کو درندوں کے آگے نہیں چھوڑے گا۔ راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ نائن الیون کے بعد کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو بڑا نقصان ہوا۔اب جنگی بنیادپر سفارتی محاذ آرائی کی ضرورت ہے۔

    قبل ازیں یوم استحصال کشمیر سے متعلق آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قرارداد منظور کر لی گئی۔ قرارداد وزیراعظم آزاد کشمیر سردار فاروق حیدر نے پیش کی۔

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قانون ساز اسمبلی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت کرتی ہے۔قرارداد میں حریت قیادت کی گرفتاری کی مذمت کی گئی۔ اسی طرح حریت قیادت اورغیرملکی میڈیانمائندوں کی گرفتاری کی مذمت بھی کی گئی۔

    قرارداد میں بھارت کے5اگست کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں محاصرے اور کرفیو کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ : عمران خان کے اس اقدام سے ہمیں بہت تکلیف ہوئی ہے ، بھارت کا ردعمل آگیا

    مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ : عمران خان کے اس اقدام سے ہمیں بہت تکلیف ہوئی ہے ، بھارت کا ردعمل آگیا

    نئی دہلی:مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ : عمران خان کے اس اقدام سے ہمیں بہت تکلیف ہوئی ہے ، بھارت کا ردعمل آگیا،اطلاعات کےمطابق بھارت نے پاکستان کی جانب سے نئے نقشے میں مقبوضہ کشمیر کو شامل کرنے پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی قانونی حیثیت ہے نہ عالمی ساکھ،

    بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر اور گجرات کے کچھ علاقوں کو نئے پاکستانی نقشے میں شامل کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ، ان کے مطابق یہ ایک ”نام نہاد“ سیاسی نقشہ ہے ، اس کی قانونی حیثیت ہے اور نہ ہی عالمی برادری میں اس کی کوئی ساکھ ہے۔

    بھارتی میڈیا کا کہنا ہےکہ وزیراعظم پاکستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیرکوپاکستان کا حصہ دکھانے کے اقدام سے بھارت کوبہت زیادہ تکلیف پہنچی ہے، یہ بھی کہا جارہا ہےکہ بھارتی حکومت وزیراعظم عمران خان کی کشمیرحکمت عملی سے بہت زیادہ خوف زدہ ہے

    دریں اثناءپاکستانی وزارت خارجہ نے پاکستان کی طرف سے جاری کیے گئے سیاسی نقشے پر بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت زبردستی توسیع پسندی اور ریاستی دہشتگردی کے ساتھ ڈھٹائی کا مظاہرہ کرنے والا ملک ہے،

    بھارت ایسے بیانات سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی غیر قانونی اور ناقابل قبول کارروائیوں سے توجہ نہیں ہٹاسکتا ، جس میں 5 اگست 2019 کے بعد کی گئی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان دوسروں کے خلاف الزامات لگانے والا ایک ایسا ملک ہے جو زبردستی توسیع پسندی اور ریاستی دہشتگردی کے ساتھ ڈھٹائی کا مظاہرہ کرنے والا ملک ہے۔

  • آزادکشمیر اسمبلی میں یوم استحصال کشمیر سے متعلق قرارداد منظور

    آزادکشمیر اسمبلی میں یوم استحصال کشمیر سے متعلق قرارداد منظور

    بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے خلاف اور یوم استحصال کشمیر سے متعلق آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قرارداد منظور کر لی گئی۔ قرارداد وزیراعظم آزاد کشمیر سردار فاروق حیدر نے پیش کی۔

    وزیراعظم عمران خان مظفر آباد پہنچ گئے، کشمیریوں کی یاد میں مزاحمتی دیوار کا افتتاح

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قانون ساز اسمبلی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت کرتی ہے۔قرارداد میں حریت قیادت کی گرفتاری کی مذمت کی گئی۔ اسی طرح حریت قیادت اورغیرملکی میڈیانمائندوں کی گرفتاری کی مذمت بھی کی گئی۔

    قرارداد میں بھارت کے5اگست کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں محاصرے اور کرفیو کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیرکی غیر آئینی طور پر حیثیت بدلنے کا ایک سال مکمل ہوگیا، مودی سرکار کے غیر قانونی اقدام کیخلاف پاکستان بھر میں یوم استحصال منایا جا رہا ہے، قوم شہر شہر قریہ قریہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان آزاد کشمیر اسمبلی میں اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔ یوم استحصال کشمیر کے حوالہ سے ریلی میں آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر اسمبلی میں سیا ہ ماسک پہن کر پہنچے۔

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے مظفر آباد میں مزاحمتی دیوار کا افتتاح کیا ، علی امین گنڈا پور اور معید یوسف بھی ان کے ہمراہ ہیں، صدر اور وزیراعظم آزاد کشمیر بھی ان کے ہمراہ ہیں۔

  • اب کشمیر ڈوبتے دیکھو  تحریر:اجمل ملک

    اب کشمیر ڈوبتے دیکھو تحریر:اجمل ملک

    اب کشمیر ڈوبتے دیکھو. . . آج سے ٹھیک ایک سال قبل بھارت نے ایکٹ 370 کو ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ ڈکلیئر کر دیا تھا اور آج ٹھیک ایک سال بعد پانج اگست پر پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کو اپنے نقشے میں شامل کر لیا ھے ۔
    کشمیر دنیا کی ایک خوبصورت ترین وادی ھے جس پر تقسیم ھند کے وقت سے برطانیہ کی نظر ھے وہ عرصہ دراز سے امریکہ کے ساتھ مل کر اس کا اسکرپٹ تیار کر چکا ھے اور معلوم ھوتا ھے کہ اب اس کھیل کو مکمل کرنے کے لیئے اسکرپٹ کے مطابق اداکاروں کا بھی انتخاب کر لیا گیا ھے اور ایک انتہائی مختصر دورانیئے کا ڈرامہ چلا کر کشمیر کے کھیل کو منطقی انجام تک پہنچا دیا جائے گا اس کھیل کو سمجھنے کے لیئے ھمیں تھوڑا سا ماضی میں جھانکناا ھوگا اور تقسیم ھند کے وقت قادیانیوں کے کردار کو یاد کرنا ھوگا تقسیم پنجاب کے وقت قادیانیوں کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود نے گورداسپور کا وہ علاقہ جہاں قادیان واقع ھے اسے بھارت میں شامل رکھنے کے لییئے ریڈ کلف کمیشن میں اپنے آپکو غیر مسلم قرار دیا اور ایسا انہوں نے یقینا برطانیہ کی ایما پر کیا ھوگا کیونکہ اگر قادیان کا علاقہ پاکستان میں شامل ھوتا تو بھارت کو کشمیر کے لیئے راستہ نہ ملتا پھر ایک اور واقعہ ھوا کہ 1957 میں پاکستان نے اقوام متحدہ میں ایک ریزولیشن جمع کروائی کہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر ان دونوں میں اقوام متحدہ کی فوج کی نگرانی میں الیکشن کروائے جائیں اسوقت امریکہ برطانیہ اور آسٹریلیا نے اس ریزولیشن کی حمایت کی تھی اور اس پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیئے اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل کے ایک وفد نے کشمیر کا دورہ بھی کیا تھا اس وفد میں جوزف کاربائل صاحب بھی شامل تھے جنہون نے واپس جاکر کشمیر پر کتاب بھی لکھی اور ان کی بیٹی البرائیٹ میٹرن یوناییٹڈ نیشن کی سیکریٹری آف اسٹیٹ بھی منتخب ھوئیں معلوم ھوتا ھے کہ اقوام متحدہ کی سطع پر اندر ھی اندر اس تجوءذ پر کام ھوتا رھا ھے لہذا 2016 میں دوبارہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی ٹیموں نے کشمیر کا دورہ کیا اور پاکستان کی طرف سے اس وفد میں حامد میر اور کشمیر کمیٹی کے موجودہ چیرمین جناب فخر امام صاحب کو شامل کیا گیا اور فخر امام صاحب نے بالکل واضع الفاظ میں کہا کہ ھم بھی تو یہی چاھتے ھیں جو اقوام متحدہ کی ریزولیشن کہتی ھے کہ کشمیر میں فری اینڈ فیئر الیکشن کروائے جائیں اور آزاد کشمیر کے وزیر اعظم فاروق حیدر صاحب نے کہا ھم بھی یہی چاھتے ھیں اب صورتحال یہ ھے کہ 5اگست 2019 کےبھارت کے اقدام اور 5 اگست 2020 کے پاکستان کے اقدام کے بعد کشمیر قانونی طور پر دوبارہ برطانیہ کی جھولی میں چلا گیا ھے اور ھر ذی شعور شخص یہ جانتا ھے کہ اگر کشمیر میں الیکشن کروائے گئے تو تقریبا %90 کشمیری خود مختار کشمیر کیلیئے ووٹ دینگے کہانی کو تھوڑا اور سمجھنے کے لیئے پچھلے دو سالوں میں دنیا بھر میں کشمیر کے حوالے سے ھونے والے احتجاجوں کا جائزہ لیں تو آپکو کشمیریوں کے ساتھ پاکستانی نہیں بلکہ سکھ ھاتھون میں ھاتھ ڈالے مظاھروں میں شریک دکھائی دینگے یاد رکھیئے کہ سکھ اپنے لیئے ایک علیحدہ وطن چاھتا ھے اور قادیانی ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس جاکر فریادین کرتے ھیں کہ پاکستان میں ھمارے خلاف قتل کے فتوے دییئے جاتے ھیں لہذا ھمارے لیئے کچھ بندوبست کیا جائے یہ بھی کیسا اتفاق ھے کہ کرتار پور اور قادیان دونوں کا راستہ سیدھا کشمیر کو جاتا ھے اور آغا شورش کاشمیری نے 1974 میں چھپنے والی اپنی کتاب میں لکھا ھے کہ انگریز کی یہ سازش ھے کہ انڈیا کا کچھ پنجاب اور پاکستان کا کچھ کشمیر ملا کر قادیانیوں اور سکھوں کو ایک علیحدہ مملکت دی جائے ھو سکتا ھے بھری عدالت میں ایک قادیانی کا قتل بھی اسی سلسلے کی کڑی ھو کیونکہ قاتل خالد خان وڈیو میں پولیس والوں سے کہہ رھا ھے کہ مجھے تم نے ھی تو پستول دے کر کہا تھا کہ اسے قتل کر دو بہرحال اس سارے ڈرامے کے بارے میں ھماری بیوروکریسی کے بہت سے لوگ باخبر ھونگے لیکن وہ خاموش رھینگے جس طرح حامد میر بھی اس سارے کھیل سے واقف ھے لیکن ھماری صحافت کی یہ خوبرو طوائف
    بڑی ” میسڑی” ھے یہ ھمیشہ بعد میں منہ کھولتی ھے جس طرح اس نے اسامہ بن لادن والے معاملے میں برسوں بعد زبان کھولی تھی ۔
    اجمل ملک

  • نقشہ آغاز ہے جب کہ کشمیر کی بھارت سے آزادی اختتام ہو گا۔ ڈاکٹرمعید یوسف

    نقشہ آغاز ہے جب کہ کشمیر کی بھارت سے آزادی اختتام ہو گا۔ ڈاکٹرمعید یوسف

    وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے یوم استحصال پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد میں شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، معید یوسف نے کہا کہ نقشہ آغاز ہے جب کہ کشمیر کی بھارت سے آزادی اختتام ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو احساس ہو گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے۔ دنیا اب خاموش رہنے کی متحمل نہیں۔

  • یوم استحصال کشمیر:وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار اورگورنرچوہدری محمد سرور کی قیادت میں گورنر ہاؤس سے فیصل چوک تک ریلی

    یوم استحصال کشمیر:وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار اورگورنرچوہدری محمد سرور کی قیادت میں گورنر ہاؤس سے فیصل چوک تک ریلی

    یوم استحصال کشمیر:وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اورگورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی قیادت میں گورنر ہاؤس سے فیصل چوک تک ریلی نکالی گئی جس میں بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیرکے عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے سائرن بجائے گئے۔ پاکستان اورآزاد جموں و کشمیر کے ترانے بجائے گئے۔
    وزیراعلیٰ عثمان بزدار،گورنر چوہدری محمد سرور،صوبائی وزراء اراکین اسمبلی اورتحریک انصاف کے عہدیداران نے ہاتھوں کی زنجیر بنا کرکشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
    فضاء”کشمیر بنے گا پاکستان“ کے نعروں سے گونجتی رہی۔ ریلی کے شرکاء نے پاکستان اورکشمیر کے پرچم اٹھا رکھے تھے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے لاہورسمیت پنجاب کے ہر ڈویژن میں ایک سڑک کو سرینگرکے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم آج یوم استحصال کشمیر بھرپور طریقے سے منا رہی ہے۔عثمان بزدارنے کہا کہ غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی لازوال جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام ہمارے دلوں میں بستے ہیں، انہیں کبھی نہیں بھول سکتے۔ہم کل بھی کشمیریوں کے ساتھ تھے،آج بھی ساتھ ہیں اورکل بھی ساتھ رہیں گے۔عثمان بزدارنے کہا کہ قائداعظمؒ نے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل ہے۔ ہم کشمیر کاز سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ہم کشمیری عوام کی سفارتی،سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔عثمان بزدارنے کہا کہ انشاء اللہ کامیابی کشمیری عوام کا مقدر بنے گی۔اس موقعہ پرگورنر پنجاب چوہدری محمدسرورنے کہا کہ مودی نے 5اگست2019ء کو اقوام متحدہ کے ضابطوں کی دھجیاں اڑا دیں۔بھارت نے غیر قانونی طورپر مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل کر کے انسانی حقوق کو پامال کیا۔گورنر پنجاب نے کہا ہم بھارت کی ہٹ دھرمی اورغیر قانونی اقدام کو ہر سطح پر بے نقاب کرتے رہیں گے۔ پاکستان کشمیر کے بغیرادھورا ہے۔مودی فاشسٹ اورہٹلر کا شاگرد ہے۔گورنر پنجاب نے کہا کہ مودی نے پہلے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا اورپھر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بربریت کا بازار گرم کررکھا ہے۔گورنر پنجاب نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کومکمل مذہبی آزادی حاصل ہے بھارت میں اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ کردیاگیاہے۔گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ 22 کروڑپاکستانی کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
    ریلی میں صوبائی وزراء میاں اسلم اقبال، یاسمین راشد،فیاض الحسن چوہان،اختر ملک، نعمان لنگڑیال،اراکین اسمبلی نذیر چوہان، مسرت جمشید چیمہ،مہندر پال سنگھ، تحریک انصاف پنجاب سینٹرل کے صدر اعجاز چوہدری، پارٹی رہنماؤں و عہدیداران جمشید اقبال چیمہ، دیگر شخصیات اورعوامی نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

  • آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے تمام کشمیریوں کو، باور کروانا چاہتا ہوں کہ آپ تنہا نہیں ہیں. وزیرخارجہ

    آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے تمام کشمیریوں کو، باور کروانا چاہتا ہوں کہ آپ تنہا نہیں ہیں. وزیرخارجہ

    یوم استحصال 5 اگست کے حوالے سے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے خصوصی ویڈیو پیغام میں کہا ہے آج ایک دفعہ پھر آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے تمام کشمیریوں کو، باور کروانا چاہتا ہوں کہ آپ تنہا نہیں ہیں،ہر پاکستانی آپ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے ہمیں آپ کی تکالیف کا احساس ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف خلاف ورزیوں اور نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے دنیا بے خبر نہیں ہے۔ آج دنیا کے سامنے ہندوستان کا اصلی چہرہ ہے نقاب ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان بطور سفیر کشمیریوں کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں آج کشمیریوں سے وعدہ کرتا ہوں کہ جب تک ان کی قیادت پابند سلاسل ہے میں ان کی وکالت کروں گا۔ میں کشمیریوں کی آواز کو ہر ملک کے دارالخلافہ تک لے کر جاؤں گا۔ بطور وزیر خارجہ آپ کی ترجمانی کرنا میرے فرایض میں شامل ہے اور انشاء اللہ فتح آپ کی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ4 ماہ کے لاک ڈاؤن سے، دنیا کی چیخیں نکل گئیں لیکن مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری کرفیو کو آج ایک سال ہو چکا ہے۔ نہتے کشمیری فوجی محاصرے میں دوہرا لاک ڈاؤن جھیلنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غاصبوں کی یہ غلط فہمی ہے کہ وہ جبر کے ذریعے کشمیریوں کے حوصلے پست کر لیں گے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب کوئی قوم کھڑی ہو جاتی ہے تو کوئی غاصبانہ فوج اسے دبا نہیں سکتی اور آج کشمیری کھڑے ہو چکے ہیں اور پاکستانی قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے انشاءاللہ ہم کامیابی سے ہمکنار ہوں گے اور کشمیر جلد اس جبر سے آزاد ہو گا۔

  • تمام کشمیریوں کا سفیر بنا رہوں گا۔ عمران خان کا ٹویٹ

    تمام کشمیریوں کا سفیر بنا رہوں گا۔ عمران خان کا ٹویٹ

    ‏میں آج کشمیریوں سے یکجہتی کیلئے آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کروں گا، وزیراعظم عمران خان کا ٹویٹ۔ ‏گزشتہ سال 5 اگست کے بعد سے کشمیری وحشیانہ فاشسٹ فوجی محاصرے میں ہیں،‏پانچ اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی،وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ تمام کشمیریوں کا سفیر بنے رہیں گے،
    انہوں نے کہا کہ بھارت نے غیرقانونی قبضے سے کشمیریوں کی آوازیں دبانے کی کوشش کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ کئی سال بعد میری حکومت نے مسئلہ کشمیر کواقوام متحدہ میں موثراندازمیں اٹھایا،ہم نے مودی سرکار کی ہندوتوا فاشسٹ بالادستی کو بے نقاب کیا، ہم نے پاکستان کے نئے سیاسی نقشے میں کشمیریوں کی امنگوں کا خیال رکھا ہےجب کہ ہم ‏نئے سیاسی نقشے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں سے متعلق اپنے عزم پرقائم ہیں،وزیراعظم نے کہا کہ وہ آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب میں یوم استحصال پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کریں گے،‏ان کشمیریوں کی آواز بنے رہیں گے جن کی آواز بھارت نے بند کرنے کی کوشش کی۔

  • ‏شکر ہے علامہ اقبال کے دور میں نہیں تھے، اُن کے دور میں ہوتے تو روز یہ طعنے مارتے کہ بھلا نظمیں لکھنے سے بھی آزادیاں ملتی ہیں؟ ارشاد بھٹی

    ‏شکر ہے علامہ اقبال کے دور میں نہیں تھے، اُن کے دور میں ہوتے تو روز یہ طعنے مارتے کہ بھلا نظمیں لکھنے سے بھی آزادیاں ملتی ہیں؟ ارشاد بھٹی

    ‏شکر ہے علامہ اقبال کے دور میں نہیں تھے، اُن کے دور میں ہوتے تو روز یہ طعنے مارتے کہ بھلا نظمیں لکھنے سے بھی آزادیاں ملتی ہیں؟اطلاعات کے مطابق معروف تجزیہ نگار، سینئرصحافی ارشاد بھٹی نے افواج پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کے حق میں پیش کئے جانے والے ترانے پرتنیقید کرنے والوں کوبہت خوبصورت جواب دیا ہے

    ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ بڑی عجیب بات ہے کہ ہم تنقید بھی کرتے ہیں تو وہ بھی ملک دشمن قوتوں کی زبان بولتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جولوگ کہتے ہیں کہ پاک فوج نے جوترانہ پیش کیا ہے کیا اس ترانے سے کشمیرآزاد ہوگا تو وہ سن لیں‌

     

    ارشاد بھٹی کہتے ہیں کہ پھرتو یہ حقیقت یہ ہے کہ :
    ‏شکر ہے علامہ اقبال کے دور میں نہیں تھے، اُن کے دور میں ہوتے تو روز یہ طعنے مارتے کہ بھلا نظمیں لکھنے سے بھی آزادیاں ملتی ہیں؟

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ہمارا تو حال ہے کہ ہم اُن کے دور میں ہوتے تو روز یہ طعنے مارتے کہ بھلا نظمیں لکھنے سے بھی آزادیاں ملتی ہیں،بھلا خواب دیکھنے سے بھی ملک حاصل ہوتے ہیں۔۔

  • کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے پاکستانی قوم آج یوم استحصال منائیگی

    کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے پاکستانی قوم آج یوم استحصال منائیگی

    اسلام آباد:کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے پاکستانی قوم آج یوم استحصال منائیگی،اطلاعات کے مطابق پاکستانی قوم غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں فوجی محاصرے کا ایک سال مکمل ہونے پر کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے آج یوم استحصال منائے گی۔

    ذرائع کے مطابق گزشتہ سال پانچ اگست کو نریندر مودی کی حکومت نے بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔ کشمیری عوام کیخلاف بھارت کے یکطرفہ، غیر قانونی اقدامات اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کی مذمت کیلئے متعدد تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان آزاد جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کریں گے جس میں کشمیریوں کے نصب العین کیلئے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا جائے گا۔

    وفاقی دارالحکومت سمیت تمام بڑے شہروں میں ایک میل لمبی یکجہتی واک کا اہتمام کیا جائے گا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اسلام آباد میں واک کی قیادت کریں گے۔ واک کے شرکا بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے اور پاکستان اور آزاد کشمیر کے پرچم لہرائیں گے۔

    ملک بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیارکی جائے گی۔ایک منٹ کیلئے ٹریفک روک جائے گی اور سائرن بجائے جائیں گے۔ ایک منٹ کی خاموشی ختم ہونے کے فوراً بعد ٹیلی ویژن چینلوں اور ریڈیو پر پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے قومی ترانے چلائے جائیں گے۔

    اسلام آباد سے حکومتی ذرائع کے مطابق بدھ کے روز سینیٹ کا خصوصی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے جس میں کشمیری عوام کو ان کی منصفانہ جدوجہد کے حصول کیلئے دی گئی قربانیوں پر بھرپور خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔