5 اگست کو بھارت کے مقبوضہ کشمیر پر قبضے، کریک ڈاؤن، قتل عام اور محاصرے کو ایک برس مکمل ہونے کے حوالے سے پاکستان نے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کر دیا ہے۔وزیر اطلاعات شبلی فراز اور وزیر مواصلات مراد سعید نے یادگاری ڈاک ٹکٹ کی رونمائی کی۔ شبلی فراز نے کہا کہ ڈاک ٹکٹ کے اجرا کا مقصد دنیا بھر میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنا ہے۔پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں یادگاری ٹکٹ کی رونمائی کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں شبلی فراز نے کہا کہ کہ یادگاری ڈاک ٹکٹ دنیا بھر میں گھومے گا، اہم دفاتر، سفارت خانوں میں جائے گا اور کشمیر کے مظالم کی عکاسی کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر میں 5 اگست کو یوم سیاہ ویوم استحصال کے طور پر منایا جائے گا، اس روز بھارتی مظالم کی خلاف کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔انہوں نے عوام سے اپیل کہ کہ اپنے گھروں پر قومی اور کشمیری پرچم بلند کریں تاکہ کشمیریوں کو احساس ہو کہ پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ کشمیر کاز کو اس کے انجام تک پہنچائے بغیر آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔اس موقع پر وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ بھارت کے ہندوتوا ایجنڈے کے تحت مقبوضہ کشمیر پر ظالمانہ محاصرے کو ایک برس مکمل ہو گیا ہے، اسی لیے آج ایک یادگاری ٹکٹ جاری کیا گیا۔ٹکٹ کے خدوخال پر روشنی ڈالتے ہوئے مراد سعید نے کہا کہ ڈاک ٹکٹ میں زنجیر کا مطلب پورے کشمیر کو محاصرے سے دنیا سے کاٹ دیا گیا ہے۔ اس کے
علاوہ حال ہی میں مقبوضہ کشمیر میں شہید ہونے والے بشیر احمد کی ان کے نواسے کےسامنے شہادت کی عکاسی کی گئی ہے جبکہ بھارت کے باوردی دہشتگردوں کو بھی اس ٹکٹ میں دکھایا گیا ہے۔مراد سعید نے کہا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ یہ ٹکٹ جہاں پہنچے گا، بھارتی مظالم کو بے نقاب کرے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے خود کو کشمیریوں کا سفیر ثابت کر دیا ہے
Category: کشمیر

مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضےکو ایک برس مکمل ہونے کے حوالے سے پاکستان نے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کر دیا

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں5 اگست کے حوالے سے اہم اجلاس
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں 5 اگست کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، وفاقی سیکرٹری اطلاعات اکبر حسین درانی اور اعلی عسکری حکام نے بھی شرکت کی۔ وزیر خارجہ نے اپنے دورہ ء لائن آف کنٹرول چری کوٹ سیکٹر اور مظفر آباد کے حوالے سے شرکاء اجلاس کو آگاہ کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان سمیت کشمیر کی سیاسی قیادت سے ہونیوالی ملاقاتوں کا تذکرہ کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ لاین آف کنٹرول پر بھارتی فوج نہتے اور معصوم شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔ پوری کشمیری قوم بھارت کے 5 اگست کے یکطرفہ اقدامات کو یکسر مسترد کر چکی ہے اور5 اگست کو متحد ہو کر ،مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے یوم استحصال منائے گی مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مظلوم کشمیریوں کی آواز کو دنیا کے ہر فورم پر اٹھائیں گے جب تک ان کا حق خود ارادیت انہیں حاصل نہیں ہو جاتا۔ اجلاس میں یوم استحصال سے متعلق، احتجاجی لائحہ ء عمل کے حوالے سے تفصیلی مشاورت بھی کی گئی۔

بھارت کی طرف سےایل او سی پرپاکستانی بارڈر کے ساتھ آرمی میں موجود خوبصورت اور نوجوان لڑکیوں کی تعیناتی
بھارت نے کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر پاکستانی بارڈر کے ساتھ آرمی میں موجود خوبصورت اور نوجوان لڑکیوں کو تعینات کر دیا ہے۔ بھارتی تاریخ میں یہ پہلا موقعہ ہے جب بھارتی فوج کی خواتین کو ایل او سی پر ڈیوٹی دینے کے لئے احکامات جاری کئے گیے ہیں۔ان خواتین جوانوں کودس ہزار فٹ کی بلندی پر ٹنگدھر سیکٹر میں سادھنا ٹاپ پر ڈیوٹی دی گئی ہے اور ان کا تعلق آسام رائفلز سے ہے۔ خواتین فوجیوں کے اس گروپ کی قیادت کیپٹن گرسمرن کور کر رہی ہے۔

اگلے دو دن کیلئے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا دیا گیا
باغی ٹی وی : مودی سرکار نے اگلے دو دن کیلئے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا دیا
مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 363 روز سے جاری بھارتی فوج کی جارحیت نے عید کی خوشیاں بھی پھیکی کردیں۔ وادی کو چھاؤنی میں تبدیل کردیاگیا۔ جگہ جگہ ناکہ بندیاں، مساجد میں نمازِ عید ادا کرنے کی بھی اجاز ت نہ دی گئی۔اب جبکہ بھارتی کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر ایک سال مکمل ہونے والا ہے اس موقع پر کرفیو لگا دیا گیا ہے کہ تاکہ کشمیریوں کی آواز اور احتجاج کو روکا جا سکے .قابض بھارتی فوج نے 5 اگست 2019 سے وادی میں لاک ڈاون کررکھا ہے اور کشمیرکی زمین کشمیریوں پر ہی تنگ کردی ہے، کل عیدالاضحیٰ کے موقع پر مساجد کو تالے لگا دیے گئے اور مساجد میں نمازعید بھی ادا کرنے کی اجازت نہ دی گئی۔ وادی کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا۔ سڑکوں پر پولیس اور فوج کی بھاری نفری کے علاوہ خاردارتاریں بھی لگا کر راستے بند کیے گئے۔
دوسری جانب کشمیر میڈیا سروس نے گزشتہ ماہ وادی میں ہونیوالے مظالم کے حوالے سے بھی نئے اعدادوشمار جاری کردیے، جن کے مطابق گزشتہ ماہ بھارتی فوج نے نام نہاد سرچ آپریشنز کی آڑ میں چوبیس کشمیریوں کو شہید کیا۔ مختلف کارروائیوں میں 59 کشمیری زخمی بھی ہوئے، جنہیں فائرنگ اور پیلٹ گنز کے ذریعے زخمی کیا گیا۔ کشمیریوں کے گیارہ گھروں کو بھی جلا دیا گیا نیز 98 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ۔ بھارتی فوج نے بڑے پیمانے پر لوٹ مار بھی کی

شہریار خان آفریدی کا مظفرآباد آزاد کشمیر میں مرکزی عید گاہ میں عوام سے خطاب
وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر عید کے موقع پر کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار کرنے یہاں پہنچا ہوں. چئیرمین کشمیر کمیٹی شہریار خان آفریدی کا مظفرآباد آزاد کشمیر میں مرکزی عید گاہ میں عوام سے خطاب۔ میرے ہمراہ کشمیر کمیٹی کے اراکین بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرنے پہنچے ہیں.انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کشمیر کے حقیقی سفیر کی حیثیت سے دنیا بھر میں اہم فورمز پر کشمیر کی آزادی کا مقدمہ لڑرہے ہیں جس کے لئےہم ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار ہیں. شہریار خان آفریدی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے. کشمیر کی آزادی تک کشمیر کا مقدمہ لڑیں گے۔ فاشسٹ مودی حکومت جان لےکشمیریوں کی جدوجہد میں انکے شانہ بشانہ کھڑے ہیں. شہریار خان آفریدی نے کہا کہ کشمیر کی آزادی تک کشمیر کا مقدمہ ہر فورم اور ہر میدان میں لڑینگے۔ دشمن جان لے. کشمیر کاز کیلئے پاکستان کے عوام، سیاسی جماعتیں اور مسلح افواج سمیت تمام سٹیک ہولڈرز متحد، یکسو اور یک جان ہیں. بعد میں
شہریار آفریدی نے وزیر اعظم آزاد کشمیر فاروق حیدر اور صدر سردار مسعود خان کے ہمراہ آزادی کشمیر کیلئے نکالی گئی ریلی کی قیادت بھی کی.
بدلتے رخ ہواؤں کے ،تحریک آزادی کشمیر کس مقام پر ہے تحریر:محمد نعیم شہزاد
بدلتے رخ ہواؤں کے
(تحریک آزادی کشمیر کس مقام پر ہے)محمد نعیم شہزاد
اقتدار اور حاکمیت ہر کسی کی مرغوب اور من پسند شے ہے۔ زمانہ بدلتا رہتا ہے اور اس کی روش ہمیشہ ایک طرح پر نہیں رہتی۔ ایک وقت تھا کہ جب طاقتور قومیں کمزور قوموں پر تلوار کے زور پر قابض ہو جایا کرتی تھیں اور اپنی ریاست اور سلطنت کو طویل و عریض کرتی چلی جاتی تھیں۔ طاقت کے اس زور اور نشے نے دھرتی کو خون سے رنگین کر دیا اور انسانی استخوان ٹھوکروں کی نظر ہوئے۔ انسان انسانیت کو بھول بیٹھا اور ہوس اقتدار اس کو اپنے سحر میں لے کر جنونی بنا چکی تھی۔ تہذیبوں کی تبدیلی اور گردشِ زمانہ نے اس روش کو تھوڑا تبدیل کیا اور مہذب دنیا اپنی اپنی جغرافیائی حدود میں سمٹ گئی مگر اب طاقت کے ساتھ مکر و فریب اور دجالیت عام ہوئی۔ دوسروں کو حقوق دینے کے نام پر ان کی حق تلفی کی گئی اور باسہولت زندگی کے نام پر زندگی سے محروم کر دیا جانے لگا۔ امن عامہ کی خاطر بد امنی کو اختیار کیا گیا اور اپنی مرضی کے فیصلے نافذ کیے گئے۔ اپنے اوپر ہونے والے مظالم پر واویلا کرنے کو جارحیت اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے کو دہشت گردی سے تعبیر کیا جانے لگا۔ امن و امان کے عالمی ادارے قیام میں آ گئے مگر امن ناپید رہا۔ حتی کہ مظلوم کی حمایت میں بلند ہونے والی آوازوں کو بھی بند کر دیا گیا۔ مظلوم کی امداد کا مطالبہ کرنے والی ریاست کو پابندیوں اور عالمی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں زمانہ ایک بار پھر کسی نئے لائحہ عمل کا متقاضی تھا۔
اس موقع پر سابقہ روش پر قائم رہنا کیونکر کارگر ہوتا جبکہ مشاہدہ ہے کہ گزشتہ پون صدی سے اس طرز عمل نے مظلوم کو ظلم سے نجات نہ دلائی۔ مگر ہر نئی چیز ذہن فوراً قبول نہیں کرتا۔ چنانچہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں بھی بڑے بڑے مفکر اور قومیت کے حامی تحریک پاکستان کے مخالف بن گئے اور بعض تو آج بھی پاکستان کے قیام سے مطمئن نظر نہیں آتے۔ اس موقع پر عالمگیر اصول "آپ ہر کسی کو خوش نہیں کر سکتے” اطمینان قلب کا باعث بنتا ہے۔ اور روح کو تسکین ملتی ہے اور اپنے عمل پر حقیقی خوشی نصیب ہوتی ہے۔
بھارت کی طرف سے نئی قانونی ترامیم کے بعد مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کو ایک برس مکمل ہونے کو ہے۔ اس لاک ڈاؤن اور ترمیم کے جہاں اور بہت سے اثرات سامنے آئے وہیں حکومت پاکستان نے پر امن احتجاج کی روش اپنائی جس پر بہت سے لوگ معترض ہوئے۔ ان لوگوں سے فقط اتنا عرض ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے مگر ایک ذمہ دار ریاست بھی ہے۔ اس قدر جارحیت پسندانہ اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ خیال کیے جاتے ہیں َاور اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوں گے۔ ہر فیصلہ وقت کی نزاکت کو دیکھ کر کرنا چاہیے اور اپنے اداروں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کی پالیسیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کے قدم مضبوط کرنے کی ضرورت ہے نا کہ بلا وجہ اختلاف کر کے جگ ہنسائی اور رسوائی کا باعث بننا چاہیے۔ ان سب گزارشات کا محرک آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ نیا نغمہ "جا چھوڑ دے میری وادی” اور اس پر آنے والے اعتراضات ہیں۔ پاک فوج ایک با اعتماد، ذمہ دار اور باوقار پروفیشنل ادارہ ہے۔ یقیناً ادارے کی پالیسیاں اور عمل ہماری کج فہم سوچ سے کئی گنا اچھا اور متوازن ہے۔ آج کے دور میں میڈیا ایک بڑے ہتھیار کی شکل اختیار کر چکا ہے اور دشمن کو زچ کرنے اور اپنی برتری ظاہر کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ ہمسایہ ملک کی "بالا کوٹ سٹرائک” کی بات ہو یا "گھس کر مارنے” کا دعویٰ ہر طرف میڈیا کارفرما نظر آتا ہے۔ تو ایسے ایک وقت پر جب بھارت کا مکروہ چہرہ ساری دنیا پر عیاں ہو چکا اور اقوام متحدہ سے بھی آوازیں اٹھنے لگیں کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے ہمارے ادارے کی طرف سے بھارتی جارحیت پر ایک نغمہ جاری کرنا کس طرح قابل اعتراض ہے ۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بھارتی سرگرمیوں پر اعتراض اگر ہماری پالیسیوں کے درست ہونے کا ثبوت نہیں تو اور کیا ہے۔ لہٰذا پروپیگنڈہ کا شکار ہونے سے بچیں، حالات کی نزاکت کا ادراک کریں اور اپنے اداروں کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں اور جارحیت پسند دشمن کو یک زبان جواب دیں "جا چھوڑ دے میری وادی”

وزیر خارجہ شاہ محمود قرہشی کی معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف کے ہمراہ وزیر اعظم ہاؤس آزاد کشمیر آمد
وزیر خارجہ شاہ محمود قرہشی کی معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف کے ہمراہ وزیر اعظم ہاؤس آزاد کشمیر آمد۔ وزیر اعظم آزاد کشمیرراجہ فاروق حیدر خان نے خیرمقدم کیا ۔ بعد میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان سے ملاقات ہوئی جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور 5 اگست یوم استحصال کے لائحہ ء عمل کے حوالے سے تبادلہ ء خیال کیا گیا۔ مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پوری پاکستانی قوم، مشکل کی اس گھڑی میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ بھارت کے مسلسل جبرو استبداد اور دباؤ کے باوجود 5 اگست کے غیر قانونی اقدامات کو تمام کشمیری مسترد کر چکے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مظلوم اور نہتے کشمیریوں کی آواز کو دنیا کے ہر فورم پر اٹھائیں گے۔
اس موقعہ پروزیراعظم آزادکشمیرراجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ نہتے کشمیری دنیا کی چوتھی بڑی فوجی قوت کا ڈٹ کرمقابلہ کررہے ہیں۔ پاکستانی قوم کی جانب سے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے بے مثال مظاہرے پر انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کا دنیا بھر میں واحد وکیل ہے۔ کشمیریوں نے اپنا مستقبل مملکت خداداد پاکستان سے وابستہ کیا ہوا ہے ۔ راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ جدوجہد آزادی میں کشمیری عوام نے جو قربانیاں دیں ان کی عصر حاضر میں مثال نہیں ملتی۔

ایک سالہ محاصرے کے دوران بھارتی فوجیوں نے 217 کشمیری شہید کر دیئے
ایک سالہ محاصرے کے دوران بھارتی فوجیوں نے 217 کشمیری شہید کر دیئے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کی جانب سے گذشتہ سال 5 اگست کو مسلط کردہ لاک ڈاون کو ایک سال مکمل ہو رہا ہے۔
اس دوران بھارتی فوجیوں نے 217 کشمیریوں کو شہید کیا جن میں 4 خواتین اور 10 لڑکے شامل ہیں۔ پرامن مظاہرین پر بھارتی فوج کی جانب سے طاقت کے استعمال کی وجہ سے کم سے کم ایک ہزار افراد شدید زخمی ہوئے ۔
گذشتہ اگست میں نئی دہلی نے آرٹیکل 370کو منسوخ کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کے علیحدگی پسند گروپوں کو عملی طور پر کچلنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ مرکزی دھارے میں شامل سیاسی جماعتوں کے لئے بھی اپنی سرگرمیاں کرنے کے لئے بہت کم جگہ ہے اور ان میں سے کسی نے بھی ابھی تک نئی دہلی کے جموں و کشمیر کی خودمختاری کو واپس لینے کے یکطرفہ فیصلے کے خلاف کھلے عام آواز نہیں اٹھائی ہے۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق لوگ ، خاص طور پر نوجوان ، محسوس کرتے ہیں کہ کشمیر اور نئی دہلی کے درمیان کسی بھی مفاہمت کا کوئی امکان نہیں رہااور اب ان کے سامنے صرف دو ہی انتخاب ہیں۔ نئی سیاسی حقیقت کے سامنے ہتھیار ڈالنایا اس کے خلاف مزاحمت ہے۔چنانچہ اس ایک سال میں شہید ہونے والے حریت پسند جو حالیہ مہینوں میں مقابلوں میں مصروف ہیں وہ زیادہ تر مقامی کشمیری ہیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں رواں سال سرکاری فوج کی کارروائیوں میں حزب المجاہدین ،جیش محمد اور لشکر طیبہ کے متعدد اعلی کمانڈرشہید ہوئے ہیں۔ جنوبی کشمیر میں ضلع اننت ناگ کے ڈیلگام کے علاقے میں سرکاری فوج کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں لشکر طیبہ کے ضلعی کمانڈر مظفر احمد بھٹ سمیت چار عسکریت پسند شہید ہوئے جن کا تعلق تحریک لبیک اور حزب المجاہدین تنظیموں سے تھا۔بھارتی فورسز کے نقطہ نظر سے سب سے بڑی کامیابی 6مئی کو ضلع پلوامہ میں حزب المجاہدین کے اعلیٰ ترین کمانڈر ریاض نائیکو کی شہادت ہے۔ 40 سالہ ریاض نائیکو حزب المجاہدین کے چیف آپریشنل کمانڈر تھے اور انھیں 2016 میں شہید ہونے والے کمانڈر برہان وانی کا جانشین سمجھا جاتا تھا۔ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ہی کشمیر میں عسکریت پسندی اور احتجاج کی نئی لہر شروع ہوئی تھی۔
25 جنوری کو ، جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے ترال کے علاقے میں سرکاری فوج اور عسکریت پسندوں کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں جیش محمد کشمیر کے سربراہ قاری یاسر سمیت تین عسکریت پسند شہید ہوگئے جبکہ تین فوجی زخمی ہوگئے۔23 جنوری کو ضلع پلوامہ کے علاقے کھریو میں ایک دوسرے اعلی عسکریت پسند کمانڈر ابو سیف اللہ عرف ابو قاسم کی شہادت ہوئی۔9 اپریل کو ، جیش محمد کے اعلی کمانڈر سجاد نواب ڈار کو سرکاری فوج نے شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع کے سوپور میں شہید کردیا۔جموں و کشمیر کے ڈوڈہ کے علاقے گنڈانہ میں 15 جنوری کو حکومتی افواج کے ساتھ شدید فائرنگ کے تبادلے میں حزب المجاہدین کے ایک اعلی کمانڈر ہارون وانی کی شہادت ہوئی۔28اپریل کو انصار غزوة الہند کے ڈپٹی کمانڈر ابوبکر برہان کوکا شہید ہوئے۔20مئی کوکل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما محمد اشرف صحرائی کے بیٹے اور حزب المجاہدین کے ضلعی کمانڈرجنید صحرائی شہید ہوئے۔
اس عرصے میں مقبوضہ کشمیر کو کھلی جیل میں تبدیل کردیا گیا ، ہزاروں حریت رہنماوں ، سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں ، مذہبی سربراہوں ، صحافیوں ، تاجروں ، وکلا اور سول سوسائٹی کے ممبروں ، نوجوانوں اور کارکنوں کو 5 اگست 2019 کے بعد یا اس سے قبل گرفتار کیا گیا تھا ۔وہ اب بھی تہاڑ اور ہندوستان اور مقبوضہ کشمیر کی دیگر جیلوں میں بند ہیں۔ جن میں محمد یاسین ملک ، شبیر احمد شاہ ، محمد اشرف صحرائی شامل ہیں۔جبکہ سینئر حریت رہنما سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق سری نگر میں نظربند ہیں۔
وزیراعظم عمران خان سے چینی وزیر خارجہ کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
ہم اپنی سرزمین پرکسی دہشتگرد گروپ کوکام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیراعظم
نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شامل ہو کر بہت بڑی غلطی کی، وزیراعظم عمران خان
کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران
کپتان ہو تو ایسا،اپوزیشن کی سازشوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو ملی اہم ترین کامیابیاں
وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا
مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت
یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا
کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب
وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان
کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ
مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ
برہان وانی کی چوتھی برسی، مقبوضہ کشمیر میں حریت کی اپیل پر مکمل ہڑتال
مودی حکومت مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت کو تبدیل کرنے میں مصروف ہے۔ اس مقصد کے لئے ، اس نے ہزاروں ہندوستانیوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ دیئے ہیں۔ اسی عرصے کے دوران بہت سے صحافیوں کو بھی ہراساں کیا گیا اور ان پر مقدمات قائم کئے گئے، جن میں مسرت زہرہ ،پیرزادہ عاشق،معروف ٹی وی پینلسٹ اور صحافی گوہر گیلانی ، اور قاضی شبلی شامل ہیں۔

مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوجی اہلکار کو اغوا کر لیا گیا، گاڑی جلا دی گئی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے شوپیان ضلع میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک بھارتی فوجی اہلکار کو اغوا کر لیا
بھارتی فوجی کے اغوا کے حوالہ سے پولیس نے کوئی بھی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ خبر رساں ادارے ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جموں و کشمیر کے ضلع کولگام کے رمبہامہ نہامہ کے قریب ٹیریٹوریل میں گزشتہ شام نامعلوم مسلح افراد نےبھارتی فوج سے وابستہ ایک اہلکار کی گاڑی کو نذر آتش کیا۔ فوجی اہلکار کو بعد میں اغوا کر لیا
بھارتی فوج اور پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔24 سالہ فوجی اہلکار شاکر منظور وگے ساکنہ ریشی پورہ ہرمین شوپیان کی گاڑی کو پہلے نذر آتش کیا گیا اور اہلکار کو بعد میں اغوا کیا گیا اہلکار اس وقت ٹیریٹوریل فوج کے رنگریٹھ سرینگر کیمپ سے وابستہ ہے اور عید کی چھٹی منانے کے لیے وہ گھر آیا تھا۔
وزیراعظم عمران خان سے چینی وزیر خارجہ کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
ہم اپنی سرزمین پرکسی دہشتگرد گروپ کوکام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیراعظم
نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شامل ہو کر بہت بڑی غلطی کی، وزیراعظم عمران خان
کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران
کپتان ہو تو ایسا،اپوزیشن کی سازشوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو ملی اہم ترین کامیابیاں
وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا
مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت
یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا
کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب
وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان
کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ
مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ
برہان وانی کی چوتھی برسی، مقبوضہ کشمیر میں حریت کی اپیل پر مکمل ہڑتال
مقبوضہ کشمیر، دفعہ 370 کے خاتمے کا ایک برس مکمل ہونے پربی جے پی کا جشن کا اعلان

یاسر حسین کا سوشل میڈیا پر اپنے ’جانو بکروٹا‘ کے لئے محبت بھرا جذباتی پیغام
پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار و میزبان یاسر حسین نے سوشل میڈیا پر اپنے قربانی کے بکرے کے لئے محبت بھرا جذباتی پیغام شئیر کردیا-
باغی ٹی وی : اداکار و میزبان یاسر حسین نے اس عید پر بکرے کی قربانی کی تھی عید کےدو سرے ہی روز انہیں اپنے بکرے کی یاد ستانے لگی کہ اُس کے لیے یاسر حسین نے سوشل میڈیا پر محبت بھرا پیغام جاری کردیا۔
https://www.instagram.com/p/CDYHS0gjTeG/?igshid=4c0p75eahdpw
انسٹاگرام پر اداکار یاسر حسین نے اپنی بکرے کے ساتھ ایک تصویر شیئر کی ہے، جس میں انہوں نے مہرون رنگ کا شلوار قمیض پہنا ہوا ہے اور وہ مسکرا رہے ہیں۔تصویر شئیر کرتے ہوئے کیپشن میں اداکار نے لکھا کہ یہ بہت پیارا اور خوش مزاج بکرا تھا، میرے پاس ایک دن رہا ایک دن میں ہمارے گھر کے سامنے والے چوکیدار سے اس نے بہت دوستی کرلی تھی۔
یاسر حسین نے لکھا کہ بغیر رسی کے اس کے ساتھ گھوم رہا تھا، اس کے سر پر ہاتھ پھیرنا بند کرو تو گردن کے اشارے سے دوبارہ سر پر ہاتھ رکھنے کو کہتا تھا۔
انہوں نے لکھا کہ کاش میں اُسے پورے سال پالتا اگلی دفعہ کم از کم کچھ مہینہ پہلے جانور لاؤں گا-
اداکار نے اپنے بکرے کا نام بتاتے ہوئے کہا اور ہاں اس کا نام ’جانو بکروٹا‘ تھا۔
اپنی پوسٹ کے آخر میں انہوں نے لکھا کہ یہ یعنی بکرے کا گوشت بہت مزے کا تھا۔
عثمان خالد بٹ کی دلچسپ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل
ایک دوسرے سے حسن سلوک سے پیش آئیں اور غیرمشروط محبت کریں









