Baaghi TV

Category: خواتین

  • زہر یلی ادویات کا طریقہ استعمال اور احتیاطی تدابیر

    زہر یلی ادویات کا طریقہ استعمال اور احتیاطی تدابیر

    زہر یلی ادویات کا طریقہ استعمال اور احتیاطی تدابیر
    آج کل زہریلی ادویات اور مہلک کیمیائی اشیاء ہماری زندگیوں میں بہت زیادہ شامل ہو گئی ہے کیڑے مکوڑے مچھر چوہے اور دیمک وغیرہ نے ہمیں اس قدر مجبور کر دیا ہے کہ ان کو ختم کرنے کے لیے ہم ہر طرح کی زہریلی ادویات اپنے گھروں میں رکھیں لیکن ذرا سی غفلت سے یہ زہر انسانی زندگی کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے اور اس کے ناقابل تلافی منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں گھروں میں عموماً بچے زہریلی ادویات وغیرہ پی کر گھر والوں اور اپنے لیے پریشاںی کھڑی کر دیتے ہیں اس لیت ان زہریلی ادویات اور گھروں میں رکھنے اور استعمال کرنے کے لیے سخت احتیاط اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے
    گھروں میں کیڑے مار ادویات کے چھڑکاو کے وقت تمام کھانے پینے کے برتنوں اور کپڑوں کو اچھی طرح ڈھانپ دینا چاہیے یا انہیں وہاں سے اُٹھا کر کسی اور جگہ منتقل کر دیں

    کیڑے مکوڑوں سے گھر کو صاف رکھنے کے آسان طریقے


    ادویات کو ایسی بوتلوں میں ہر گز نہ رکھیں جو کھانے پینے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہوں مثلاً جوس اور چٹنی کی خالی بوتلیں اچار کے مرتبان اور دیگر مشروبات کی بوتلیں وغیرہ
    تمام ادویات کو کسی ایسی جگہ ہر رکھیں جہاں بچوں کی پہنچ سے دور رہیں زہریلی ادویات پر زہر کا لیبل ضرور لگائیں بلکہ غیر ضروری ادویات گھر میں نہ رکھنا ہی بہتر ہے جب بھی کبھی ضرورت پڑے تو تازہ ادویات منگوا کر استعمال کریں
    زہریلی ادویات کھانے سے ظاہر ہونے والے اثرات:
    کسی بھی قسم کا زہر کھا لینے سے سر درد پیٹ درد صدمہ کی علامات قے سانس لینے میں دقت اور بیہوشی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں اگر مریض کو فوری طورپر طبی امداد نہ پہنچائی جائے تو مریض مر بھی سکتا ہے
    باہوش مریض کے لیے طبی امداد:
    مریض کو قے آنے کے لیے اپنی انگلی دور تک اس کے حلق میں لے جائیں اور اسے ہلائیں اگر پھر بھی قے نہ کریں تو کافی نمکین پانی پلائیں اس طرح وہ۔قے کر دے گا یہ عمل اس وقت تک جاری رکھیں جب تک باہر نکلنے والے پانی کا رنگ سفید نہ ہو جائے جب اس کا معدہ زہریلی رطوبتوں سے خالی ہو جائے تو مریض کو دودھ میں پھینٹے ہوئے انڈے یا آٹے میں ملا ہوا پانی پلائیں اور مریض جتنا زیادہ پی سکتا ہو اتنا ہی مفید ہے کوئلہ پیس کر چھوٹا چمچ بھر کر مریض کو کھلائیں اور اسے مزید دودھ میں پھینٹے ہوئے انڈوں کا پانی پلانے کی کوشش کریں اور قے کرواتے جائیں یہاں تک کہ اس کی قے بالکل پانی کی طرح صاف ہو جائے اگر کسی طرح سے بھی مریض قے نہ کر سکے تو معدے میں ڈالنے والی نالی چکنی کر کے ناک کے ذریعے سے معدے میں گزار دیں اور ایک کیف کے ذریعے سے ایک سے دو لیٹر تک پانی اس کے ہیٹ میں پہنچائیں پھر نالی کے ساتھ سو ملی لیٹر کی سرنج لگا کر اس کا پلنجر باہر کی طرف کھینچیں اس عمل کو اسپائریشن یا ہوا کو جسم سے باہر کھینچنے کا عمل کہتے ہیں
    https://login.baaghitv.com/khuli-fizza-mai-machron-sy-bachney-k-asaan-toatkey/
    بے ہوش مریض کے لیے:
    بے ہوش مریض کی حالت کافی نازک ہوتی ہے اس لیے اسے قے نہیں کروائی جاسکتی اگر اس کا سانس بند ہو چکا ہو تو فوراً منہ در منہ عمل سے سانس بہم پہنچائی جائے اور فوراً طبی امداد کے لیے نزدیکی ہاسپٹل میں جتنی جلدی ہو سکیں لے جائیں گھروں میں زہریلی ادویات کا کا چھڑکاو کر نے کے لیے ربڑ کے دستانے یا پلاسٹک کی تھیلیاں استعمال کریں چھڑکاو کے دوران کپڑے سے اپنے ناک منہ کو ڈھانپے رکھیں کام ختم کر لینے کے بعد اپنے ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح دھوئیں لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ اچھی طرح غسل کریں

  • چند مصالحہ جات جو معدے کی تیزابیت ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں

    چند مصالحہ جات جو معدے کی تیزابیت ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں

    چند مصالحہ جات جو معدے کی تیزابیت ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں
    معدے میں تیزابیت اس وقت ہوتی ہے جب گیسٹرک گلینڈز میں تیزابی سیال کی سطح بڑھ جاتی ہے جو کہ سانس میں بو گیس پیٹ میں درد وغیرہ کے علاوہ کئی امراض کا باعث بنتی ہے عام طور پر معدے میں تیزابیت کی وجہ خالی پءٹ ہونا بہت زیادہ چائے استعمال کرنا کافی کا استعمال کھانے کے درمیان طویل۔وقفہ اور تمباکو نوشی کا استعمال وغیرہ ہوتا ہے جب تیزابی سیال معمول سے زیادہ ہو جائے تو سینے میں جلن یا تیزابیت کا احساس ہوتا ہے کچن میں ہروقت موجود رہنے والی چند چیزیں معدے نی تیزابیت سے نجات دلا سکتی ہیں

    وزن کم کرنے کا آسان نسخہ


    سبز الائچی:
    سبز الائچی پاک و ہند سمیت ایشیائی ممالک گھروں میں عام استعمال کی۔جاتی ہے اور کچن میں ہر وقت موجود ہوتی ہے اس کے بے شمار فوائد ہیں ریاست میسور کی الائچی سب سے بہترین ہے اور دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں پائی جاتی ہے اردو اور ہندی میں اسے چھوٹی الائچی یا سبز الائچی انگلش میں کارڈموم کہتے ہیں یہ چھوٹی سی الائچی بڑے بڑے درج ذیل فائدے رکھتی ہے یہ معدے کی تیزابیت کو ختم کرتی ہے خوابیدگی کے خمار کو کم کرتی ہے جبکہ معدے میں پانی کی مقدار کو کنٹرول کرتے ہوئے ریاح پیدا ہونے سے روکتی ہے بد ہضمی سے ہونے والی گیس اورسردرد کے لیے سبز چائے میں الائچی ڈال کر پینے سے افاقہ ہوتا ہے الائچی معدے میں موجود لعابی جھلی کو مضبوط بناتی ہے اس لیے یہ تیزابیت کے لیے اکسیر ہے اس کو چبانے سے منہ میں بننے والے لعاب میں بھی اضافہ ہوتا ہے جو خوراک کو ہضم کرنے میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے معدے کے السر میں بھی فائدہ مند ہے ہیضہ اور دست آنے کی صورت میں سبز الائچی کا عرق پلانا بے حد مفید ہے الائچی خورد دافع اسہال میں بے حد مفید ہے

    معدے کی تیزابیت دور کرنے کے لئے لیمن گراس چائے


    سونف:
    چند ماہرین کے مطابق کھانے کے بعد تھوڑی سی مقدار میں سونف چبانا معدے میں تیزابیت کی روک تھام میں مدد دیتا ہے سونف کی چائے غذائی نالی کو صحت مند رکھتی ہے اس کے علاوہ یہ چائے بدہضمی اور پیٹ پھولنے کے خلاف بھی فائدہ مند ہے الائچی اور سونف کا قہوہ بھی متعدد معدے کے امراض کے لیے انتہائی مفید ہے اس کے علاوہ جن لوگوں کو جسم کے مختلف حصوں خاص طور پر گھٹنوں میں سوجن رہتی ہے ایسے میں اس قہوے کا استعمال جسم سے سوجن کو روکتا ہے اور اس سوجن کی وجہ سے ہونے والی دردوں سے نجات ملتی ہے سوجن کی وجہ سے رہنے والی بےچینی سے نجات ملے گی اس قہوے کا استعمال ہارمونز کو متوازن کرتا ہے جس سے مختلف مسائل سے نجات ملتی ہے الائچی اور سونف کا قہوہ بنانے کا طریقہ مندرجہ ذیل ہے
    اجزاء
    سونف آدھاچائے کا چمچ
    الائچی تین عدد
    پانی ایک کپ

    ترکیب:
    ایک پتیلی میں پانی ڈال۔کر چولہے پر رکھ دیں جب اس میں ابال آجائےتو اس میں سونف چائے کے چمچ کا تیسرا حصہ ڈال دیں پھر دو الائچیاں کھول کر ڈال دیں قہوہ زیادہ دیر نہ پکائیں کیونکہ اس سے قہوہ کڑوا ہو جاتا ہے اس سے ان میں پائے جانے والے کمپاونڈز ضائع ہو جاتے ہیں جب ایک ابال آجائےتو چولہا بند کردیں اور ٹھنڈا ہونے کے لیے رکھ دیں جب ہلکی سی گرمائش رہ جائے تو چھان کر کپ میں ڈال لیں اس میں آنے والی خوشبو بہت ہی خوشگوار ہوتی ہے اس قہوے کو دن میں ایک مرتبہ استعمال دن میں کسی بھی وقت استعمال کر سکتے ہیں لیکن کھانے کے فوراً بعد استعمال نہ کریں بلکہ کھانا کھانے سے دو گھنٹوں کے بعد استعمال کریں باقی کسی وقت بھی استعمال کر سکتے ہیں اگر آپ اس قہوہ کا استعمال روزانہ کرتے ہیں تو بہت سی بیماریوں سے بچے رہیں گے لیکن حاملہ عورتیں ہر گز استعمال نہ کریں

    دارچینی مختلف خطرناک بیماریوں کا علاج


    دار چینی:
    یہ مصالحہ بھی معدے کی تیزابیت کے خلاف کام کرتا ہے اور معدے کی صحت اور ہاضمے اور غذا کو جذب کرنے میں مدد دیتا ہے معدے میں تیزابیت کو دور کرنے کے لیے دارچینی کی چائے بے حد مفید ثابت ہوتی ہے
    لونگ:
    لونگ قدرری طور پر غذائی نالی میں گیس کو پیدا ہونے سے روکتی ہے الائچی اور لونگ کو کچل کر کھانا بھی معدے میں تیزابیت کا علاج کرتا ہے اورسانس کی بو سے بھی نجات دلاتا ہے
    زیرہ:
    زیرہ بھی معدے میں تیزابیت کو معمول پر رکھنے میں مددگار مصالحہ ہے جو کہ ہاضمے میں مدد دینے کے ساتھ پیٹ درد کو بھی کم کرتا ہے ایک چائے کا چمچ زیرہ ایک کپ ابلتے ہوئے پانی میں ڈال کر ہر کھانے کے بعد کھانے کی عادت بنا لیں اس کا ایک چمچ۔روزانہ کھانا توند سے نجات دلانے میں مدد دیتا ہے
    ادرک:
    ادرک کے بھی متعدد طبی فوائد ہیں یہ ہاضمے کے لیے بہترین اور ورم کش ہوتی ہے معدے کی تیزابیت کم کرنے کے لیے ایک ٹکڑا ادرک کا چبا لیں یا کچھ مقدار میں ادرک ابلتے پانی میں ڈال کر پی لیں

  • زہر کا اثر ختم کرنے کے طریقے

    زہر کا اثر ختم کرنے کے طریقے

    زہر کا اثر ختم کرنے کے طریقے
    زہریلی ادویات کھانے سے ظاہر ہونے والے اثرات:
    کسی بھی قسم کا زہر کھا لینے سے سر درد پیٹ درد صدمہ کی علامات قے سانس لینے میں دقت اور بیہوشی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں اگر مریض کو فوری طورپر طبی امداد نہ پہنچائی جائے تو مریض مر بھی سکتا ہے
    باہوش مریض کے لیے طبی امداد:
    مریض کو قے آنے کے لیے اپنی انگلی دور تک اس کے حلق میں لے جائیں اور اسے ہلائیں اگر پھر بھی قے نہ کریں تو کافی نمکین پانی پلائیں اس طرح وہ۔قے کر دے گا یہ عمل اس وقت تک جاری رکھیں جب تک باہر نکلنے والے پانی کا رنگ سفید نہ ہو جائے جب اس کا معدہ زہریلی رطوبتوں سے خالی ہو جائے تو مریض کو دودھ میں پھینٹے ہوئے انڈے یا آٹے میں ملا ہوا پانی پلائیں اور مریض جتنا زیادہ پی سکتا ہو اتنا ہی مفید ہے کوئلہ پیس کر چھوٹا چمچ بھر کر مریض کو کھلائیں اور اسے مزید دودھ میں پھینٹے ہوئے انڈوں کا پانی پلانے کی کوشش کریں اور قے کرواتے جائیں یہاں تک کہ اس کی قے بالکل پانی کی طرح صاف ہو جائے اگر کسی طرح سے بھی مریض قے نہ کر سکے تو معدے میں ڈالنے والی نالی چکنی کر کے ناک کے ذریعے سے معدے میں گزار دیں اور ایک کیف کے ذریعے سے ایک سے دو لیٹر تک پانی اس کے ہیٹ میں پہنچائیں پھر نالی کے ساتھ سو ملی لیٹر کی سرنج لگا کر اس کا پلنجر باہر کی طرف کھینچیں اس عمل کو اسپائریشن یا ہوا کو جسم سے باہر کھینچنے کا عمل کہتے ہیں

    پیشاب کے ٹیسٹ سے لبلبے کے کینسر کی تشخیص


    بے ہوش مریض کے لیے:
    بے ہوش مریض کی حالت کافی نازک ہوتی ہے اس لیے اسے قے نہیں کروائی جاسکتی اگر اس کا سانس بند ہو چکا ہو تو فوراً منہ در منہ عمل سے سانس بہم پہنچائی جائے اور فوراً طبی امداد کے لیے نزدیکی ہاسپٹل میں جتنی جلدی ہو سکیں لے جائیں
    احتیاطی تدابیر:
    ادویات کو ایسی بوتلوں میں ہر گز نہ رکھیں جو کھانے پینے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہوں مثلاً جوس اور چٹنی کی خالی بوتلیں اچار کے مرتبان اور دیگر مشروبات کی بوتلیں وغیرہ
    تمام ادویات کو کسی ایسی جگہ ہر رکھیں جہاں بچوں کی پہنچ سے دور رہیں زہریلی ادویات پر زہر کا لیبل ضرور لگائیں بلکہ غیر ضروری ادویات گھر میں نہ رکھنا ہی بہتر ہے جب بھی کبھی ضرورت پڑے تو تازہ ادویات منگوا کر استعمال کریں
    زہریلی ادویات کھانے سے ظاہر ہونے والے اثرات:
    کسی بھی قسم کا زہر کھا لینے سے سر درد پیٹ درد صدمہ کی علامات قے سانس لینے میں دقت اور بیہوشی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں اگر مریض کو فوری طورپر طبی امداد نہ پہنچائی جائے تو مریض مر بھی سکتے ہیں

  • جسم پر ظاہر ہونے والی ذیابطیس کی علامات

    جسم پر ظاہر ہونے والی ذیابطیس کی علامات

    جسم پر ظاہر ہونے والی ذیابطیس کی علامات
    ذیابطیس کا تعلق میٹابولک بیماریوں سے ہے ذیابطیس کی وجہ سے خون میں شوگر کا لیول بڑھ جاتا ہے اور اس کی وجہ جسم میں انسولین ہارمون کی انسولین پراسسینگ یا انسولین پروڈیوسینگ میں خرابی ہے، ذیابطیس عُمر کے کسی بھی حصے میں حملہ آور ہو سکتی ہے جس میں چھوٹے بڑے کی کوئی قید نہیں، یہ بچوں مردوں اور عورتوں کیساتھ ساتھ ہر طرح کے لائف سٹائل رکھنے والوں کو اپنا شکار بنا سکتی ہے-

    ذیابیطس سے بینائی سے محروم ہونیوالوں کیلئے کم لاگت والا نیا لیزر علاج دریافت

    ایک تحقیق کے مُطابق 1971 سے لیکر 2000 تک مردوں میں ذیابطیس سے جاں بحق ہونے کا تناسب کم ہُوا جس کی ایک وجہ ذیابطیس سے لڑنے والی ادویات میں انسان کی ترقی ہے مگر خواتین میں ذیابطیس سے جاں بحق ہونے کے تناسب میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ یہ پہلے سے بھی زیادہ ہوگیا-

    ذیابطیس کی نشانیاں عام طور پر نظر انداز کر دی جاتی ہیں اور اُن پر توجہ نہیں دی جاتی خاص طور ٹائپ 2 کی ذیابطیس کی نشانیاں اتنی ہلکی ہوتی ہیں کہ لوگ اُن کا بلکل نوٹس نہیں لیتے اور اُنہیں ایک لمبے عرصے کے بعد اُس وقت پتہ چلتا ہے جب یہ بیماری اُنہیں کوئی شدید نقصان پہنچاتی ہے ذیابطیس کی ٹائپ 1 میں علامات بہت جلد دنوں یا کُچھ ہی ہفتوں میں ظاہر ہو جاتی ہیں اور یہ علامات زیادہ خطرناک بھی ہوتی ہیں

    ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 دونوں اقسام کی ذیابطیس میں کُچھ نشانیاں ایک جیسی ہی ہوتی ہے جو کہ درجہ ذیل ہیں

    انسان کا خون خوراک کو گلوکوز میں بدلتا ہے اور یہ گلوکوز جسم کے سیلز بطور انرجی استعمال کرتے ہیں اور یہ سیلز گلوکوز کو استعمال کرنے کے لیے جسم سے انسولین کی ڈیمانڈ کرتے ہیں اور اگر انسولین ہارمون ٹھیک کام نہ کر رہا ہو تو جسم کے سیلز کو گلوکوز یعنی انرجی ملنی بند ہوجاتی ہے ایسی صورت میں انسان کو بار بار بھوک لگتی ہے اور جسم کو شدید تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے

    بڑی آنت کو صاف ستھرا اور صحت مند رکھنے کے طریقے


    ایک عام انسان دن میں 4 سے 7 دفعہ پیشاب کی حاجت محسوس کرتا ہے مگر اگر جسم ذیابطیس کا شکار ہوجائے تو یہ حاجت کئی دفعہ محسوس ہوتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ جسم گلوکوز کو جب وہ گُردوں سے گُزرتی ہے جذب کر لیتا ہے، لیکن جب خون میں گلوکوز کا لیول ہائی ہو اور انسولین ہارمون ٹھیک کام نہ کر رہا ہوتو گُردے خون سے سارے گلوکوز کو جذب نہیں کرپاتے اورگلوکوز کو پیشاب کے راستے خارج کرنا چاہتے ہیں ایسی صورت میں زیادہ پیشاب آتا ہے اور زیادہ پیاس لگتی ہے اور زیادہ پانی پینے سے بھی پیشاب کی مقدار بڑھتی ہے

    کھانسی کے علاج کا انتہائی مجرب گھریلو نسخہ


    آپ کا جسم شوگر کو خارج کرنے کے لیے زیادہ پانی استعمال کرتا ہے تاکہ گلوکوز پیشاب کے راستے خارج ہو ایسی صورت میں آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ زبان ہر وقت خُشک ہےاور جسم میں پانی کی کمی جسم کو ڈی ہائیڈریٹ کرتی ہے جس سے جلد پر خُشکی اور خارش پیدا ہوتی ہے

    جسم میں پانی کی کمی آپ کی آنکھوں کے لینز میں سوزش پیدا کرتا ہے اور لینز کا سائز بدلنے سے دُھندلا نظر آنا شروع ہو جاتا ہے

    یہ نشانیاں اُس وقت پیدا ہوتی ہیں جب ایک لمبا عرصہ خون میں گلوکوز کا لیول بڑھا رہتا ہے اور آپ توجہ نہیں دیتے اور یہ نشانیاں درجہ ذیل ہیں

    یہ نشانی مرد اور خواتین دونوں پر ظاہر ہوتی ہے خمیر گلوکوز پر پلتا ہے اور خون میں گلوکوز کے بڑھنے سے یہ جلد کے اُن مقامات پر پیدا ہونا شروع ہوجاتا ہے جہاں پسینے سے نمی رہتی ہے خاص طور پر بغلوں میں، انگلیوں میں اور ٹانگوں کے درمیان کے حصے میں یہ پیدا ہوتا ہے اور آپ کو خارش محسوس ہوتی ہے
    https://login.baaghitv.com/stomach-k-masayel-sy-nijaat-kesy-payen-%d8%9f/
    جسم پر کٹ لگ جانے سے یا کسی اور طریقے سے زخم پیدا ہونے کے بعد اُس کا بھرنے کا عمل انتہائی سُست ہوجاتا ہے کیونکہ خون میں شوگر کا لیول جب بڑھتا ہے تو جسم میں خون کی ترسیل متاثر ہوتی ہے جس سے زخم کو بھرنے میں دقت پیش آتی ہے

    خون کی ترسیل کے نظام متاثر ہونے سے نروز ڈیمج ہوتی ہیں اور ٹانگوں اور پاؤں میں خون کا بہاو کم ہو جاتا ہے جس سے ٹانگوں اور پاؤں میں خاص طور پر رات کے وقت درد اور کسی چیز کو محسوس کرنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہو جاتی ہے

    ٹائپ 1 ذیابطیس کی نشانیاں
    ٹائپ ون ذیابطیس میں درجہ ذیل علامات ظاہر ہوتی ہیں
    جب جسم خوراک سے توانائی حاصل نہیں کر پاتا تو وہ جسم میں موجود چربی کو جلا کر توانائی میں بدلنا شروع کر دیتا ہے اور آپ چاہے اپنی پُوری خوراک کھا رہے ہوں مگر آپ کا وزن کم ہونا شروع ہوجاتا ہے

    جسم جب چربی کو پگھلاتا ہے تو اس سے خون میں کیٹونز پیدا ہوتے ہیں اور ٹائپ ون ذیابطیس میں یہ کیٹونز خون میں خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے اور جب یہ بڑھتے ہیں تو یہ معدے کو متاثر کرتے ہیں جس سے متلی اور اُلٹی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے

    ایگزیما کا آسان اور مفید گھریلو علاج


    جسم جب چربی کو پگھلاتا ہے تو اس سے خون میں کیٹونز پیدا ہوتے ہیں اور ٹائپ ون ذیابطیس میں یہ کیٹونز خون میں خطرناک حد تک بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے اور جب یہ بڑھتے ہیں تو یہ معدے کو متاثر کرتے ہیں جس سے متلی اور اُلٹی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے

    دوران حمل ظاہر ہونے والی ذیابطیس کی عام طور پر کوئی خاص علامات ظاہر نہیں ہوتیں ماسوائے کہ آپ کو زیادہ پیاس لگتی ہے اور زیادہ پیشاب آتا ہے

    ٹائپ 2 ذیابطیس درجہ ذیل علامات کے ساتھ اپنے وجود کا احساس دلاتی ہے۔

    زخم جلدی نہ بھرنا
    جلد پر خارش اور خشکی
    اکثر خمیر کی انفیکشن
    وزن کا بڑھ جانا
    جلد کا گردن بغلوں اور ٹانگوں کے درمیان رنگ گہرا ہوجانا
    جسم کے اعضا میں سوئیاں چُھبنا اور بے حسی محسوس کرنا
    نظر کا متاثر ہونا
    خون میں شوگر لیول کم ہونے کی علامات
    ذیابطیس سے جُڑی اس بیماری کو ہائپو گلائکیمیا کہتے ہیں اور اس کی علامات اُس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب خون میں گلوکوز کا لیول انتہائی کم ہوجاتا ہے اور اسکی علامات درجہ ذیل ہیں

    جسم پر کپکپاہٹ
    بے چینی اور پریشانی
    شدید پسینہ آنا سردی لگنا چپچپاہٹ محسوس کرنا
    کنفیوز ہونا
    سر کا ہلکا ہونا اور چکر آنا
    شدید بھوک لگنا
    زیادہ نیند آنا
    کمزوری محسوس کرنا
    ہونٹوں پر زبان پر اور گردن پر گُدگُدی محسوس کرنا اور بے حسی محسوس کرنا
    ان علامات کے ساتھ آپ یہ علامات بھی محسوس کر سکتے ہیں
    دل کی دھڑکن کا تیز ہونا
    جلد کا پیلا ہونا
    نظر میں دھندلاہٹ
    سر درد
    ڈراؤنے خواب آنا یا سوتے میں چلانا
    توجہ میں کمی
    جسم کو جھٹکے لگنا یا دورہ پڑنے کی کیفیت ہونا
    ایسی کسی بھی علامات کی صورت میں فوراً اپنے خون میں شوگر لیول کاٹیسٹ کروائیں اور ڈاکٹر سے رابطہ کریں آپ اپنے جسم میں اس بیماری کو جتنی جلد دریافت کر یں گے اُس سے اس بیماری سے پیدا ہونے والی بڑی بیماریوں سے بچ سکتے

  • گلے کی مختلف بیماریوں کے گھریلو علاج

    گلے کی مختلف بیماریوں کے گھریلو علاج

    گلے کی مختلف بیماریوں کے گھریلو علاج
    موسم میں تبدیلی اور سردی کے آنے سے گلا خراب ہونے کی بیماری ایک عام بیماری ہے جو گلے میں سوزش پیدا کرتی ہے اور گلے میں تکلیف کا باعث بنتی ہے۔ اس بیماری میں فوراً ڈاکٹر کے پاس جانا اور اینٹی بائیوٹک ادویات لیکر کھانا ہماری قوت مدافعت کو کمزور کرنے کا سبب بنتا ہے لہذا گلا خراب ہونے کی صورت میں فوراً ڈاکٹر کے پاسجانے سے پہلے چند آسان گھریلو ٹوٹکے استعمال کرنے سے ایک سے تین دن میں آپ کا گلا خودبخود ٹھیک ہوجائے گا

    غرارے کرنا
    گلے میں سوزش کا سب سے بہترین علاج گرم پانی سے غرارے کرنا ہے، گرم پانی میں تھوڑا سا نمک ڈالیں اور دن میں کئی دفعہ غرارے کریں، تکلیف زیادہ ہو تو پانی میں لہسن کا رس شامل کر کے غرارے کریں اس کے علاوہ پانی میں لیموں کا رس ڈال کر غرارے کریں اورآدھا گرام ہینگ کا پاوڈر پانی میں ڈال کر غرارہ کرنا بھی انتہائی فائدہ مند ہوتا ہے۔

    نمبر 2 ہلدی اور گُڑ
    گلے میں سوزش اور تکلیف کی صورت میں ہلدی اور گُڑ کو مکس کر لیں اور یہ مکسچر تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد کھا کر اوپر سے گرم پانی پی لیں اس سے بہت جلد افاقہ ہو گا۔

    نمبر 3 پارسلے اور گُڑ
    پارسلے یعنی اجوائن خراسانی کو گُڑ کے ساتھ پانی میں اُبال کر قہوہ بنا لیں اور وقفے وقفے سے اس قہوے کو چُسکیاں لیکر پی لیں یہ بند گلے کو کھول دے گا۔

    کالی مرچ اور چینی:
    گلے میں سوزش ہو جائے تو 3 سے 4 کالی مرچیں لیکر اسے چینی یا گُڑ کے ساتھ چبا چبا کر کھالینے سے تکلیف میں کمی واقع ہوتی ہے اور گلے کی سوزش ختم ہوجاتی ہے

    کھانا کھانے کے فوراً بعد پانی پینے کے نقصانات


    ہربل چائے:
    گلے میں سوزش ہونے کی صورت میں ہر دو گھنٹے کے بعد گرم پانی پینا انتہائی فائدہ مند ہوتا ہے مگر اگر آپ کا گرم پانی پینے کا دل نہ کرے تو ہربل چائے کے ٹی بیگز جو بازار میں عام ملتے ہیں لے آئیں اور ہر دو گھنٹے بعد ہربل چائے پی لیں ہربل چائے گلے کی سوزش کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے

    دیسی گھی اور کالی مرچ:
    کالی مرچ جراثیم کا خاتمہ کرتی ہے اور گلے کی سوزش میں انتہائی مفید ہے ہر کھانے کے بعد 4 سے 5 دانے کالی مرچ کو پیس کر چائے کی چمچ دیسی گھی گرم کرکے اس میں مکس کریں اور اسے پی لیں یہ گلے کی درد میں فوری راحت کا باعث بنے گا اور بیٹھی ہُوئی آواز درست ہو جائے گی

    ہلدی ملا دودھ:
    رات کو سونے سے پہلے ہلدی پاوڈر کو گرم دودھ میں مکس کر کے پی لیں ہلدی ایک قُدرتی اینٹی بائیوٹیک ہے یہ آپ کے گلے کی سوزش کو دُور کر دے گی

    مُرغ یخنی:
    مُرغ یخنی گلے میں سوزش کا بہترین علاج ہے اور یہ فوری طور پر تکلیف میں راحت کا سبب بنتی ہے اور قوت مدافعت کو مضبوط بناتی ہے لہذا گلا خراب ہونے کی صورت میں دن میں کم از کم تین دفعہ ایک گرم پیالہ مُرغ یخنی پینے سے گلے کو آرام ملتا ہے

    پانی:
    سردیوں میں ہمارا امیون سسٹم یعنی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے اور قوت مدافعت کمزور ہونے کا ایک بڑا سبب پانی کی کمی ہے لہذا گلے میں سوزش کی صورت میں نیم گرم پانی وقفے وقفے سے پیتے رہیں تاکہ جسم ہائیڈریٹ رہے اور پانی کی کمی کی وجہ سے جراثیموں کو غالب آنے کا موقع نہ ملے اگر علامات تین دن سے زیادہ برقرار رہیں تو ڈاکٹر سے رابطہ کریں
    نمک ملے پانی سے غرارے کرنا:
    گرم پانی میں نمک مکس کر کے غرارے کرنے سے بھی گلے کی درد اور سوزش سے آرام ملتا ہے

  • خواتین میں ہارٹ اٹیک سے پہلے ظاہر ہونے والی نشانیاں

    خواتین میں ہارٹ اٹیک سے پہلے ظاہر ہونے والی نشانیاں

    خواتین میں ہارٹ اٹیک سے پہلے ظاہر ہونے والی نشانیاں
    دل کا دورہ دُنیا بھر میں اچانک موت کی سب سے بڑی وجہ ہے صرف پاکستان میں سالانہ دولاکھ پاکستانی اس بیماری سے موت کا شکار ہوتے ہیں میڈیکل سائنس کے مُطابق دل کی اس بیماری میں مُبتلا ہونے کی علامات مردوں اور عورتوں میں مختلف ہو سکتی ہیں مندرجہ ذیل سمٹمز جو ہارٹ اٹیک ہونے کی صورت میں صرف خواتین پر ظاہر ہوتی ہیں تاکہ خواتین اس بیماری کو ابتدائی مراحل میں ہی قابو کر سکیں
    کمر گردن جبڑا اور بازو میں درد:
    ہارٹ اٹیک کی بُنیادی علامات سینے میں درد اور بائیں بازو میں درد ہےمگر خواتین میں یہ درد دائیں بازو میں بھی ہو سکتا ہے اور گردن اور جبڑے کی درد آپ کو کنفیوز کر سکتی ہے یہ درد پروگریسیو بھی ہو سکتی ہے اور اچانک شدید بھی ہو سکتی ہے جو آپ کو رات میں سوتے سے جگا دے اور مسلسل دھیمی بھی ہو سکتی ہے اگر آپ ان علامات میں سے کوئی علامت محسوس کرتی ہیں تو فوراً اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں
    ٹھنڈا پسینہ:
    دل کے دورے سے پہلے ٹھنڈے پسینے آنا خواتین میں دل کے دورے کی بُنیادی علامت ہے جو ظاہر ہوتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ اعصاب تناؤ سے بھی جُڑی ہو اس لیے ڈاکٹر سے مشورہ بہت ضروری ہے
    معدے پر درد:
    ہارٹ اٹیک ہونے والا ہے اس کے سگنل معدے میں تیزابیت اور نزلہ بُخار وغیرہ اور ہارٹ برن میں اکثر کنفیوز کر دیتے ہیں کبھی کبھی خواتین معدے پر بہت بھاری بوجھ محسوس کرتی ہیں کُچھ مریضوں کا کہنا تھا کہ اُن کے معدے پر بہت زیادہ وزن پڑ گیا ایسے موقع پر اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں تاکہ صحیح تشخیص ہو سکے

    ہارٹ اٹیک سے پہلے جسم پر وصول ہونے والی نشانیاں


    سانس کا اُکھڑنا اور نیم بیہوشی:
    سانس چڑھنا یا سانس کا اُکھڑنا بغیر کسی دوسری وجہ کے دل کی شریانوں کے بند ہونے کی بُنیادی علامت ہے خواتین جنہوں نے اں علامات کے بعد سروائیو کیا اُنکا کہنا تھا کہ اُنہیں لگا کہ جیسے اُنہوں نے لمبی ریس میں دوڑ لگائی ہے
    شدید تھکاوٹ:
    ساری رات سو کر اُٹھنے کے بعد بھی اگر آپ تھکاوٹ محسوس کر رہی ہیں اور باتھ روم تک جانا مُشکل ہے تو یہ علامت ہے کہ دل خون کو صحیح طرح پمب نہیں کر رہا اس علامت کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے
    سینے میں درد اور گُھٹن:
    یہ علامات دونوں جنسوں میں ظاہر ہوتی ہیں مگر خواتین کی صورت میں سینے کا درد بائیں طرف ہونے کی بجائے دائیں طرف بھی ہو سکتا ہے اور سینے کے درمیان میں بھی ہو سکتا ہے اور سارے سینے میں بھی ہو سکتا ہے یہ بُنیادی علامت ہے کہ دل فیل ہو سکتا ہے اس لیے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا اشد ضروری ہے
    ضروری نہیں ہے کہ یہ علامات دل کے دورے سے ہی جُڑی ہوں مگر ان کا بار بار ظاہر ہونا اور ایک ہی علامت کا کئی دفعہ ظاہر ہونا دل کی بیماریوں سے جُڑا ہو سکتا ہے اس لیے مکمل تشخیص کے لیے ڈاکٹر سے مُلاقات کریں

  • ہڑڑ کے جادوئی طبی فوائد

    ہڑڑ کے جادوئی طبی فوائد

    ایلوپیتھی سائنس سے بنائی گئی ادویات یا ماڈرن ادویات اور سرجری وغیرہ کے طریقہ علاج کے لیے ایک ٹرم ہے جسے ایلوپیتھی کا نام سب سے پہلے 1810 میں ہومیو پیتھی ادویات کے موجد سیموئل نے دیا تاکہ اس طریقہ علاج کی ادویات اور ہومیو پیتھی ادویات کی علیحدہ علیحدہ پیچان قائم رہے ایلوپیتھی طریقہ علاج 19 ویں صدی کے شروع میں یورپ اور امریکہ میں مشہور ہونا شروع ہُوا اور پھر میڈیکل سائنس جیسے جیسے ترقی کرتی گئی یہ طریقہ علاج ساری دُنیا میں انتہائی کامیاب ہُوا اور آج اس طریقہ علاج کا ڈاکٹر بننے کے لیے طالبعلم کئی کئی سال تعلیم حاصل کر کے اس طریقہ علاج کی ادویات کے ڈاکٹر بنتے ہیں اور پھر ادویات کے ڈاکٹر بننے کے بعد وہ اس طریقہ علاج کی بہت سی شاخوں جیسے سرجری نیورو سرجری وغیرہ کے ماہر بننے کے لیے کئی کئی سال پڑھتے ہیں اوا سپیشلیسٹ ڈاکٹر بنتے ہیں
    اس حساب سے دیکھا جائے تو آج کا یہ مشہور طریقہ علاج تقریباً 200 سال پُرانا ہے مگر طبیب حضرات اس طریقہ علاج سے پہلے دوسرے اور بہت سے طریقہ علاج استعمال کرتے تھے جن میں یونانی ادویات اور ایوردیک طب جو کہ 3000 سال سے بھی پُرانا طریقہ علاج ہے اور آج بھی اس طریقہ علاج کا استعمال پاکستان، بھارت اور چین سمیت دُنیا کے بہت سے ممالک میں ہوتا ہے اور اس طریقہ علاج میں زیادہ تر ہربل ادویات جن کے سائیڈ ایفیکٹ نہ ہونے کے برابر ہیں مریضوں کو استعمال کروائی جاتی ہیں جن سے بہت سی بیماریوں کا علاج کامیاب علاج کیا جاتا ہے طب یونانی اور طب ایوردیک میں استعمال ہونے والی ہرب ہڑڑ سے کئی بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے جن کے نسخے کئی صدیوں سے استعمال ہو رہے ہیں اور مریض ان سے شفا یاب ہوتے ہیں اور طبیب حضرات کا کہناہے کہ یہ نسخے صدیوں کی تحقیق کا نچوڑ ہیں اور سوائے موت کے ہر بیماری کے لیے ان کے اندر شفاء ہے

    کھانا کھانے کے فوراً بعد پانی پینے کے نقصانات


    قبض دست اورآنتوں کی صفائی کے لیے:
    پیٹ کی بیماریوں میں طبیب حضرات ہڑڑ کا استعمال بہت مفید قرار دیتے ہیں خاص طور پر قبض کی شکایت کی صورت میں ہڑر کو پیپری اور نمک کے ساتھ ہم وزن ملا کر کھلایا جاتا ہے جو ہر قسم کی قبض کی شکایت کو دُور کر دیتا ہے اور دستوں کی بیماری کے علاج کے لیے ہڑڑ کو اُبال کر کھلایا جاتا ہے اور آنتوں کی صفائی کے لیے ہڑڑ کو مُرغ کی یخنی میں ڈال کر دینا کسی اکسیر سے کم کام نہیں کرتا

    ہاضمے کے لیے:
    راک نمک اور جریری کیساتھ ہم وزن ہڑڑ شامل کرلیں اور چُورن بنا لیں یہ بد ہضمی کو دُور کرنے کے لیے بہترین پھکی ہے جو بھوک کو بڑھانے میں مدد دیتی ہے

    گلے کی تمام بیماریوں کے لیے آزمودہ شربت


    جگر کے لیے:
    ہڑڑ خُون کی صفائی کرتی ہے اور اگر اسے شہد کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے تو یہ جگر کے لیے انتہائی مُفید ہے اور جگر کی گرمی اور سُستی کو دُور کرتی ہے

    تیزابیت کے لیے:
    معدے میں اگر تیزابیت پیدا ہو رہی ہے تو یہ اور بہت سی بیماریوں کو جنم دے سکتی ہے معدے کی تیزابیت کو دُور کرنے کے لیے ہڑڑ کو کشمش کیساتھ شامل کر کے کھایا جائے تو تیزابیت سے نجات ملتی ہے اور نظام انہضام کو تقویت ملتی ہے

    جراثیموں اور پیٹ کے کیڑوں کے لیے:
    طبیب حضرات بچوں کے پیٹ کے کیڑوں اور پیٹ سے دیگر جراثیم کے خاتمے کے لیے ہڑڑ کو نیم کی چھال کیساتھ باریک پیس کر کھانے کا مشورہ دیتے ہیں اور نیم اور ہڑڑ میں شامل اینٹی بیکٹیریل خوبیاں ان بیماریوں کا خاتمہ کر دیتی ہیں

    کھانسی کے لیے:
    ہڑڑ کا یہ نسخہ طب ایوردیک اور طب یونانی میں کئی صدیوں سے کھانسی کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جس میں ہڑڑ کالی مرچ اور پیپری ہم وزن لے کر باریک پیس لیں اور 3 سے 4 گرام روزانہ استعمال کریں کھانسی جڑ سے ختم ہوجائے گی
    منہ کے چھالوں کے لیے:
    منہ کے چھالے عام طور پر پیٹ کی بیماریوں کا نتیجہ ہوتے ہیں اور معدے میں گرمی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اس کے لیے ہڑڑ کو رات کو پانی میں بھگو دیں اور نہار مُنہ اس پانی سے کلی کریں اور ساتھ میں ہڑڑ کا چورن استعمال کریں تو اس سے منہ کے چھالوں کیساتھ ساتھ بہت سی بیماریوں سے شفاء ملتی ہے

    خُون کی صفائی کے لیے:
    ہڑڑ خون کو صاف کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے اور خُون صاف کرنے کے لیے وہ ہڑڑ کو گُڑ کیساتھ ملا کر کھانے سے دل اور دماغ کی طاقت کیساتھ خون کی صفائی کے لیے 10 گرام ہڑڑ کو 40 ملی لیٹر پانی میں حل کرکے روازنہ پینا کافی مفید ہے

    ہربل فیشل بنانے کا طریقہ


    دل و دماغ کی قوت کے لیے:
    ہڑڑ کو نمک شکر اور گھی کےساتھ ملا کر اگر استعمال کیا جائے تو اس میں تمام بیماریوں کی شفا ہے خاص طور پر اگر کھانے کے ساتھ کھائی جانے والی چٹنی میں ہڑڑ کو شامل کیا جائے تو یہ دل اور دماغ کو قوت بخشتی ہے اور عمر کو لمبا کرتی ہے یہ کھانے کو ہضم کرنے میں انتہائی مددگار ہے اور کھانے کے بعد قے اور متلی جیسی کفیت کو پیدا نہیں ہونے دیتی
    ہڑڑ تاثیر میں گرم ہوتی ہے اس لیے حاملہ خواتین اس کا استعمال طبیب سے مشورہ کیے بغیر نہ کریں

  • کیڑے مکوڑوں سے گھر کو صاف رکھنے کے آسان طریقے

    کیڑے مکوڑوں سے گھر کو صاف رکھنے کے آسان طریقے

    کیڑے مکوڑے اور چھپکلیاں جہاں کراہت پیدا کرتے ہیں وہاں گھر کی خوبصورتی کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں اور ان کو مارنے والے زہریلے سپرے گھر میں موجود ہمارے چھوٹے بچوں سمیت ہمارے لیے بھی نقصان دہ ہوتے ہیں اور ماحول دوست نہیں ہوتے منرجہ ذیل چند طریقے جو جہاں آپکی اور آپکے بچوں کی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہیں وہاں حشرات کو آپ کے گھر سے دُور رہنے پر مجبور کر دیں گے
    پودینے کا تیل اور اس کی خوشبو حشرات کو انتہائی نا پسند ہے مگر یہ تیل کُچھ لوگوں میں جلد پر جلن پیدا کرتا ہے لہذا اس کو سپرے کرنے سے پہلے اس میں پانی شامل کر لیں اور اسے گھر کی اُن جگہوں پر سپرے کریں جہاں حشرات موجود ہوں خاص طور پر گھر کی کھڑکیوں روشن دانوں اور دروازوں کے اردگرد اس سپرے کو چھڑکیں تاکہ گھر کے اندر حشرات داخل نہ ہوں

    کیڑے مکوڑے مچھر وغیرہ عام طور پر وہیں ڈیرے ڈالتے ہیں جہاں گندگی ہو اور چھکلیاں بھی وہیں پروان چڑھتی ہیں جہاں اُسے کھانے کے لیے وافر مقدار میں کیڑے مکوڑے ملیں لہذا اپنے گھر کے اندر اور باہر صفائی رکھیں اور گھر کے فرش کو ہفتے میں کم از کم 3 سے 4 دفعہ فنائل سے صاف کریں
    https://login.baaghitv.com/khuli-fizza-mai-machron-sy-bachney-k-asaan-toatkey/
    حشرات اور چھپکلیوں کو بھگانے کے لیے سیب کا سرکہ کوئی بھی کوکنگ آئل، سُرخ مرچ اور برتن دھونے والا لیموں کی خوشبو والا لیکوڈ سوپ پانی میں اچھی طرح حل کر کے گھر میں روزانہ سپرے کریں خاص طور پر گھر کے داخلی راستوں اور دروازے کھڑکیوں پر یہ سپرے روزانہ کریں

    مچھروں کو مارنے والا پینٹ ملیریا اور ڈینگی کے خلاف ایک انتہائی زبردست ایجاد ہے مگر یہ ابھی پاکستان میں عام دستیاب نہیں ہے اور مہنگا بھی ہے مگر اگر ایک بار گھر کو اس پینٹ سے پینٹ کر لیا جائے تو پھر سکون ہی سکون ہے

    تازہ سٹرس فروٹس کے چھلکے کی خُوشبو حشرات کو انتہائی ناگوار گُزرتی ہے لہذا اپنے گھر کے اردگرد اس کے چھلکے رکھ دیں خاص طور پر گھر کے داخلی راستوں میں روشن دانوں اور کھڑکیوں کے پیچھے تاکہ حشرات ایسے مقامات پر اپنا بسیرا ختم کریں اور دُور بھاگیں

    پودینے کے پتے اور کالی مرچ کے پاوڈر کوبلینڈر میں ڈال کر بلینڈ کر کے بوتل میں ڈال کر گھر میں روزانہ سپرے کریں خاص طور پر پردوں کے پیچھے اور دروازے کھڑکیوں پر حشرات بھاگ جائیں گے اور اس سپرے کو وہاں بھی چھڑکیں جہاں چھکلیوں کا بسیرا ہو

  • زیادہ نمک کھانے کے انسانی جسم پر اثرات

    زیادہ نمک کھانے کے انسانی جسم پر اثرات

    زیادہ نمک کھانے کے انسانی جسم پر اثرات
    نمک کے بغیر کھانوں کا مزہ ادھورا ہے اسی لیے اسے ساری دُنیا ہی اپنے کھانوں میں استعمال کرتی ہے لیکن اگر اس کا استعمال زیادہ کیا جائے تو یہ صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے نمک کے اندر موجود سوڈیم بہت سی بیماریوں کو جنم دیتا ہے
    ہر وقت پیاس کا محسوس ہونا:
    اگر آپ بہت زیادہ پیاس محسوس کرتے ہیں تو عین ممکن ہے کہ آپ جسم کی ڈیمانڈ سے زیادہ نمک کھا رہے ہیں زیادہ نمک جسم کے سیلز سے پانی چُوس لیتا ہے اور دماغ میں پیاس کی شدت کو بڑھا دیتا ہے

    چاکلیٹ کھانے کے فوائد


    جسم پر سوزش:
    ٹخنوں اور پاؤں پر سوزش اور آنکھوں کا پھولنا اس بات کی علامت ہے کہ آپ اپنی خوراک میں زیادہ نمک استعمال کر رہے ہیں اگر آپ کی انگلی کی انگوٹھی انگلی میں تنگ ہو گئی ہے تو آپ کو فوراً اپنی خوراک پر دھیان دینا چاہیے

    چیزوں پر توجہ دینا مُشکل ہوجاتا ہے:
    اگر آپ کا دماغ دُھندلاہٹ محسوس کرتا ہے یا چیزوں کو سمجھنے میں الجھن کا شکار ہونے لگ گیا ہے تو آپ کو اپنے ڈاکٹر سے فوراً رابطہ کرنا چاہیے اور اپنا سوڈیم لیول چیک کروانا چاہیے زیادہ نمک کھانا جہاں دماغ کو متاثر کرتا ہے وہاں آپ کے جسم کو وقت کے ساتھ کمزور بناتا جاتا ہے

    گُردوں میں پتھری:
    زیادہ نمک کھانے سے سب سے پہلے گُردے متاثر ہوتے ہیں ورلڈ ایکشن آن سالٹ اینڈ ہیلتھ کے مطابق زیادہ نمک پیشاب میں پروٹین کی مقدار کو بڑھا دیتا ہے اور اگر یہ مقدار بڑھ رہی ہو تو یہ گُردوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتی ہےجن کھانوں میں سوڈیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اُنہیں کھانے سے گُردوں میں پتھری بننے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے

    معدے کا السر:
    نمک معدے کی لائنینگ کو متاثر کرتا ہے اور اس کی زیادہ مقدار کھانے والوں کو معدے کے السر ہونے کا خطرہ عام لوگوں سے بہت زیادہ ہوتا ہے اگر کھانے کے بعد آپ معدے پر شدید درد محسوس کرتے ہیں تو آپ کو فوری طور پر اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے اور سوڈیم ٹیسٹ کروانا چاہیے

    آنکھوں کی تھکاوٹ دُور کرنے کے لئے آسان ورزش


    ہائی بلڈ پریشر:
    امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مُطابق انسان کو روزانہ 1500 ملی گرام سے زیادہ سوڈیم استعمال نہیں کرنا چاہیے بصورت دیگر ہائی بلڈ پریشر جیسی موضوی بیماریوں میں مُبتلا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے

    اکثر سردرد رہنا:
    مستقل درمیانی سردرد اس بات کی نشانی ہوتی ہے کہ آپ کا جسم ڈی ہائیڈریشن یعنی پانی کی کمی کا شکار ہے اور اس کی بڑی وجہ نمک کا زیادہ استعمال ہو سکتا ہے اکثر اوقات ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے خون کو لیجانے والی رگیں بڑھ جاتی ہیں اور سر درد کا سبب بنتی ہیں

    واش روم کا استعمال بڑھ جانا:
    دن کے کسی بھی اوقات میں زیادہ پیشاب آنا زیادہ نمک کھانے کی ایک بڑی نشانی ہے نمک کو جسم سے نکالنے کے لیے گُردوں کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے جس سے آپ کو بار بار واش روم جانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے

    مسلز میں کریمپ پڑنا:
    جسم میں سوڈیم اور پوٹاشیم کی صحیح مقدار ذمہ دار ہوتی ہے کہ مسلز کو درست رکھے زیادہ نمک کھانے سے مسل ٹائٹنس درد اور کھلی پڑنے جیسی نشانیاں ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں

    روزانہ کی خوراک میں لونگ کھانے کے بےشمارحیران کن فوائد


    پیٹ پھولا محسوس ہونا:
    اگر آپ کا وزن بڑھ رہا ہے اور آپکو اپنا پیٹ پھولا محسوس ہوتا ہے تو نشانی ہوسکتا ہے زیادہ نمک استمال کرنے کی ایسی صورتحال میں ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور اپنے سوڈیم لیول کا ٹیسٹ کروائیں تاکہ صورتحال کُھل کر سامنے آسکے بیماری کی بروقت نشاندہی اور فوری علاج سے کسی بڑی پریشانی میں مبتلا ہونے سے بچا سکتا ہے

  • امرود اور اُسکے پتوں کے کرشماتی فوائد

    امرود اور اُسکے پتوں کے کرشماتی فوائد

    انسان کاوجود مٹی سے بنایا گیا ہے اور اس وجود کی غذائی ضروریات اور وجود کو لگنے والی بیماریوں کا علاج بھی رب کائنات نے مٹی کے اندر ہی رکھا اور مٹی صدیوں سے جہاں ہماری غذائی ضروریات کو پُورا کر رہی ہے وہاں یہ ہماری بیماریوں کے لیے ہمیں ادویات بھی دے رہی ہےامرود اور اُس کے پتوں کے متعلق 1950 سے پہلے میڈیکل سائنس اتنی معلومات نہیں رکھتی تھی اور اسے ایک عام سا پھل مانا جاتا تھا مگر 1950 سے لیکر اب تک ماہرین ہر روز اس پھل اور اس کے پتوں پر اپنی تحقیق سے نئی معلومات حاصل کر رہے ہیں اور خاص طورپرامرود کے پتوں پر کی جانے والی بے شمار تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عام پتے نہیں ہیں بلکہ ایک اکسیر کا درجہ رکھتے ہیں امرود اینٹی آکسیڈینٹ خوبیوں کا خزانہ ہے جس میں وٹامن سی پوٹاشیم اور فائبر کی ایک بڑی مقدار شامل ہوتی ہے جو اسے غذایت میں دوسرے پھلوں سے ممتاز کرتی ہے
    https://login.baaghitv.com/benefits-of-jambolan/
    امرود اور اُسکے پتے دل کو طاقتور بنانے میں مدد دیتے ہیں:
    ماہرین کا کہنا ہے کہ امرود دل کے مریضوں کے لیے انتہائی مُفید غذا ہے کیونکہ اس کے اندر موجود بےشمار اینٹی آکسیڈینٹ خوبیاں اور امرود کے پتوں میں موجود وٹامنز دل کے لیے کسی اکسیر سے کم نہیں ہیں
    ماہرین کا کہنا ہے کے امرود میں شامل پوٹاشیم اور فوراً حل پذیر فائبر انسانی دل کے لیے انتہائی مفید ہے اور خاص طور پر امرود کے پتوں کا ماحاصل بلڈ پریشر کو قابو میں کرتے ہیں جو دل کی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ ہے اور پتوں کے یہ ماحصل خون میں شامل بُرے کولیسٹرول کو ختم کرکے اچھے کولیسٹرول کو پیدا کرتے ہیں اور بُرے کولیسٹرول کی زیادتی بھی دل کی بیماریوں کی ماں ہے ماہرین کی ایک ریسرچ جو اُنہوں نے 120 لوگوں کو 12 ہفتے ہر کھانے سے پہلے پکا امرود کھلا کر کی کے نتائج کے مُطابق ان 120 لوگوں میں بلڈ پریشر 8 سے 10 پوائنٹس کم ہُوا بُرا کولیسٹرول 9.9 فیصد کم ہُوا اور اچھے کولیسٹرول میں 8 سے 9 فیصد اضافہ ہُوا امرود کے پتوں کا ماحاصل یعنی ایکسٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے پتوں کو اچھی طرح دھو کر جوسر میں ڈال کر اس میں اُبلا ہوئی پانی ڈال کر اچھی طرح شیک کرلیں اور بعد میں کسی ململ کے کپڑے سے چھان لیں اور استعمال کریں

    امرود قدرت کی ایک خاص نعمت امرود کے کرشماتی فوائد


    امرود نظام انہضام کو درست رکھتاہے:
    امرود ڈائٹری فائبر کا خزانہ ہے اور اسے کھانے سے پیٹ آسانی کیساتھ صاف ہوجاتا ہے اور یہ قبض جیسی بیماری کو پیدا نہیں ہونے دیتا صرف ایک امرود کھانے سے ہمیں جسم کی روزانہ ضرورت کی 12 فیصد فائبر حاصل ہوتی ہے اور امرود کے پتوں کا ماحاصل پیٹ کی اکڑن اور درد اور ڈائریا میں انتہائی مُفید چیز ہےسائنس کے مطابق امرود میں اینٹی مائیکروبل موجود ہوتے ہیں جو آنتوں میں سے نقصان دہ مائیکروبس کا خاتمہ کر کے ہمیں ڈائیریا سے بچاتے ہیں
    امرود موٹاپے کو ختم کرتا ہے:
    موٹاپا جسم میں دائمی بیماریوں کی ماں ہے اور امرود میں موجود صرف 37 کیلوریز اور فائبر جہاں ہمارے معدے کو بھرا رکھتی ہے اور بھوک مٹاتی ہے وہاں یہ چربی کو پیدا نہیں ہونے دیتاجو افراد وزن کم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے بازار سے کم کیلوریز والے سپلیمنٹ مہنگے داموں خریدتے ہیں اُنہیں چاہیے کہ ایک دفعہ اس کام کے لیے امرود کو موقع ضرور دیں
    امرود اینٹی کینسر ہے:
    ماہرین کا کہنا ہے کہ امرود کے پتوں کا ماحصل جسم میں کینسر کے سیلز کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کی ایک وجہ ان پتوں میں موجود اینٹی آکسیڈینٹ خوبیا ں ہیں جو جسم کے اعضاء کو فری ریڈیکلز سے متاثر نہیں ہونے دیتی

    لونگ کے چند حیرت انگیز فوائد


    قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے:
    ہمارے جسم میں وٹامن سی کی کمی ہمارے جسم کی قوت مدافعت میں کمی کی بڑی وجہ ہے اور وٹامن سی کی کمی ہمیں بہت سی انفیکشنز کی صورت میں بیمار کر دیتی ہےصرف ایک امرود ہمیں روزانہ کی ضرورت سے کہیں بڑھ کر وٹامن سی مہیا کرتا ہے اور اگر امرود کا موازنہ کینو یا مالٹے سے کیا جائے تو یہ کینو مالٹے سے دُگنی وٹامن سی مہیا کرتا ہے اور وٹامن سی ہمارے جسم کی قوت مدافعت کو تندروست اور توانا رکھتی ہے سردیوں میں عام طور پر انسان کا نظام مدافعت کمزور ہوتا ہے لہذا سردیوں میں عام نزلہ زکام اور کھانسی جیسی بیماریوں سے بچنے کے لیے امرود کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے
    امرود ہماری جلد کے لیے مُفید ہے:
    امرود میں شامل وٹامنز اور منرلز ہماری جلد کے لیے انتہائی مُفید ہیں اور اسکی اینٹی آکسیڈینٹ خوبیاں جلد کی حفاظت کرتی ہیں اور زخموں کو جلدی بھر دیتی ہیں اور جلد کو عمر کے بڑھنے کے اثرات سے محفوظ رکھتی ہیں اور جلد کو توانا کر کے اُن کو جھریوں پڑنے سے بچاتی ہیں

    ملٹھی کے حیران کن فوائد


    امرود اور اُسکے پتےخون سے شوگر کی مقدار کم کرتے ہیں:
    امرود کے جہاں اور بیشمار فائدے ہیں وہاں یہ خُون میں بڑھی ہُوئی شوگر کو کنٹرول کرنے کی خوبی سے بھی نوازا گیا ہے اور بہت سی میڈیکل سائنس کی تحقیقات کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ امرود کے پتے بھی شوگر کو خون میں بڑھنے نہیں دیتے اور امرود کے پتے انسولین کے خلاف مزاحمت کی خوبیوں کے حامل ہیں اور یہ بات ذیابطیس کے مریضوں کےلیے ایک بڑی خوشخبری ہے ماہرین کی ایک ریسرچ کے مُطابق امرود کے پتوں کا قہوہ کھانے کے بعد پینے سے 2 گھنٹے تک خون میں بڑھنے والی شوگر کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے اور تحقیق کےمطابق کھانے کے فوراً بعد امرود کے پتوں کا قہوہ خون میں 10 فیصد تک شوگر لیول کم کرتا ہے اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ امرود کے پتے انسولین کا مُتبادل ہیں
    امرود عورتوں میں حیض سے ہونے والی تکلیف کو ختم کرتا ہے:
    ہت سی خواتین ماہواری کے دوران درد محسوس کرتی ہیں اور ماہواری کے دوران اُنہیں معدے پر اکڑن کی شکایت ہوتی ہےمیڈیکل سائنس کی چند تحقیقات کے مُطابق امرود کے پتوں کا ماحصل خواتین میں ماہواری کے دوران معدے کی اکڑن کو شفا ءدیتا ہےایک تحقیق میں 200 ایسی خواتین جو ماہواری میں درد محسوس کرتیں تھیں کو روزانہ 6 ملی گرام امرود کے پتوں کا ماحصل کھلایا گیا اور اُن کی درد میں نمایاں کمی دیکھی گئی امرود کے پتوں کا ماحصل حمل کی درد میں بھی انتہائی مفید اوراکسیر کا درجہ رکھتا ہے