Baaghi TV

Category: خواتین

  • بھنی اور پسی ہوئی مونگ پھلی سے تیار کردہ پی نٹ بٹر کے حیرت انگیز فوائد

    بھنی اور پسی ہوئی مونگ پھلی سے تیار کردہ پی نٹ بٹر کے حیرت انگیز فوائد

    بھنی اور پسی ہوئی مونگ پھلی سے تیار کردہ پی نٹ بٹر کے حیرت انگیز فوائد
    مونگ پھلی میں قدرتی طور پر ایسے اینٹی آکسیڈنٹ پائے جاتے ہیں جو غذائیت کے اعتبار سے سیب گاجر اور چقندر سے بھی زیادہ ہوتے ہیں جو کم وزن افراد سمیت باڈی بلڈنگ کرنے والوں کے لیے بھی نہایت مفید ثابت ہوتے ہیں اس کے طبی فوائد کئی امراض سے حفاظت کا بھی بہترین ذریعہ ہیں مونگ پھلی میں پایا جانے والا وٹامن ای کینسر کے خلاف لڑنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے جب کہ اس میں موجود قدرتی فولا لون کے نئے خلیات بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے اسے غریبوں کا بادام بھی کہا جاتا ہے مزیدار ذائقے اور کریمی ذائقے کا حامل پی نٹ بٹر ایک فوڈ پیسٹ یا اسپریڈ ہے جسے بھنی اور پسی ہوئی مونگ پھلی سے تیار کیا جاتا ہے اس کے ذائقے میں مزید اضافہ کرنے کے لیے اس میں دیگر اجزاء جیسا کہ نمک سوئیٹر اور ایملزیفائر کی شمولیت کی جاتی ہے اگر آپ پی نٹ بٹر کو پسند کرتے ہیں تو آپ کےلیے خوشی کی بات ہے کہ پی نٹ بٹر اتنا بھی برا نہیں جتنا اس کے برا ہونے کے بارے میں ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے یہ اس سے کوسوں دور ہے آپ اپنی ویسٹ لائن سے لے کر اپنے دل کی صحت تک پی نٹ بٹر کے شمار فوائد شمار کر سکتے ہیں اور جی بھر کر اس کے مزیدار کریمی ذائقے کا لطف اٹھا سکتے ہیں کیونکہ یہ ہمیں صحت کے بیش بہا فوائد پیش کرتا ہے جس میں چند درج ذیل ہیں

    کریمی فروٹ چاٹ بنانے کا طریقہ


    وزن کم کرنے اور مسلز بنانے میں معاون:
    اگر آپ خود کو توانائی سے عاری اور تکان زدہ محسوس کر رہے ہیں اور آپ کو اپنے ورک آوٹ کے لیے مزید توانائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے تو پی نٹ بٹر آپ کی اس ضرورت کو پورا کر سکتا ہے گو کہ پی نٹ بٹر میں موجود چکنائی کثیر مقدار وزن کم کرنے والوں کے لیے کوئی بہتر انتخاب نہیں لیکن یہ سوچ اس حقائق کے بر خلاف تازہ ترین تحقیق کے مطابق اس میں موجود مونو انسیچوریٹیڈ فیٹس یعنی غیر سیر شدہ چکنائی حقیقتاً وزن کم کرنے کے لیے موثر ہتھیار کے طور پر کام دکھا سکتی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر سیر شدہ چکنائی وزن کم کرنے کے لیے لوفیٹ ڈائٹ کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر کام دکھاتی ہے علاوہ ازیں پی نٹ بٹر میں موجود پروٹین آپ کو دیر تک سیر شدہ ہونے کا احساس دلاتا ہے جس کی وجہ سے آپ ضرورت سے زائد غذا کھانے سے خود کو بچا سکتے ہیں اس میں موجود پروٹین اور ہیلتھی آئل وزن کم کرنے کے ساتھ ساتھ ذیا بیطس سے محفوظ رکھنے میں بھی معاونت کرتے ہیں چھ سو گرام پی نٹ بٹر یا دو کھانے کے چمچ ہم روز ناشتے میں لیں تو اس سے ہم تقریباً دو گرام فائبر اور آٹھ گرام پروٹین حاصل کرتے ہیں

    شکر قندی کی کھیر بنانے کا طریقہ


    بہترین اینٹی آکسیڈنٹ:
    غذائیت کے اعتبار سے پی نٹ بٹر میں بہت سے اہم غذائی عناصر منرلز اور وٹامنز پوٹاشئیم میگنیشیم وٹامن ای اور بی سکس قلیل مقدار میں آئرن سیلینیم اور میگنیز وغیرہ شامل ہوتے ہیں تحقیق کے مطابق پوٹاشیم جسم کے سیال مادوں کو باقاعدہ رکھنے میں معاونے کرتا اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے پی نٹ میں موجود یہ تمام صحت بخش غذائی عناصر ہمارے جسم کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس میں پائے جانے والے اینٹی آکسیڈینٹ فری ریڈیکلز سے پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرنے اور ان کے اثرات زائل کرنے کے لیے بے حد اہم ہیں جو کہ ہمارے جسم کے ہر حصے کو متاثر کرتے ہیں ہماری سماعت بصارت اور سب سے بڑھ کر یہ ہماری جلد کو نقصان پہنچاتے ہیں اس پی نٹ بٹر کو مختلف سبزیوں اور پھلوں کے ساتھ ملا کر لے سکتے ہیں مثلاً کیلے کے گول سلائس کاٹ کر پلیٹ میں سجا لیں اب ہر سلائس کے اوپر پی نٹ بٹر اسپریڈ کریں اور کیلے اور بٹر کے منفرد ذائقے سے لطف اندوز ہوں

    مزے دار بادام کی کھیر ریسیپی


    دل کی بیماری کے لیے مفید:
    بلڈ پریشر کو نارمل سطح پر رکھنے میں معاونت کرنے کے ساتھ ساتھ پی نٹ بٹر دل کے لیے بے حد مفید ہے ایک تحقیق کے مطابق باقاعدگی سے پی نٹ بٹر کو اپنی غذا میں شامل کرنے سے آپ عارضہ قلب کے خطرے کو نصف کر دیتے ہیں خون کی شریانوں کی سوزش اور ان میں چکنائی کا جم جانا دونوں کا شمار عارضہ قلب کی بنیادی وجوہات میں خطرے کو نصف کر دیتے ہیں خون کی شریانوں کی سوزش اور ان میں چکنائی کا جم جانا دونوں کا شمار عارضہ قلب کی بیماریوں کے خطرے کو تقریباً ختم کر دیتے ہیں خون کی شریانوں کی سوزش اور ان میں چکنائی کا جم جانا دونوں کا شمار دل کی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ ہے اور پی نٹ بٹر ان دونوں کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے

    اخروٹ کی کھیر بنانے کا طریقہ


    دماغی صحت کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتا ہے:
    سب کے لیے دماغ اور اس کی کارکردگی سب سے اہم ہے اسی لیے ہم سب کی بھر پور کوشش ہوتی ہے کہ ہم اپنی ڈائٹ میں ایسی غذائیں شامل رکھیں جو کہ ہمارے دماغ کی حفاظت کریں پی نٹ بٹر دماغ اور اس کی کارکردگی کو بہتر فعال بنائے رکھنے میں بھر پور طریقے سے معاونت کرتا ہے اس میں وہ تمام صحت بخش غذائی عناصر اور لازمی وٹامنزبھر پور طریقے سے موجود ہیں ہمارے دماغ کو صحت مند رہنے کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے اس کے ساتھ ساتھ اس میں موجود غذائیت بخش عناصر عمر کے ساتھ جڑے دیگر عوارض سے ہمیں محفوظ بناتے ہیں اور دماغی کارکردگی کو تنزلی سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں پی نٹ بٹر کو کئی طریقوں سے ہم اپنی غذا میں شامل کر سکتے ہیں آپ چاہیں تواسے اسپریڈ کے طور پر ٹوسٹ یا کریکرز پر لگائیں یا پھر اس کی مدد سے بے حد مزیدار کپ کیک کینڈی بارز تیار کر کے اس کے مزیدار کرنچی اور لذیذ ذائقے سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں

  • میڈیکل سائنس کے مطابق پانی کی کتنی مقدار اور کس ترتیب سے پینی چاہئے

    میڈیکل سائنس کے مطابق پانی کی کتنی مقدار اور کس ترتیب سے پینی چاہئے

    میڈیکل سائنس کے مُطابق ہمارے جسم کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ پانی پر مشتمل ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان خوراک کے بغیر 3 ہفتوں سے زیادہ زندہ رہ سکتا ہے مگر پانی کے بغیر وہ بمشکل ایک ہفتہ گُزارے گا کیونکہ پانی پینا کھانا کھانے سے زیادہ اہم ہے جو ہماری صحت کو قائم رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہےہمارے ہاں عام طور پر کھانے کا تو ٹائم ٹیبل ہوتا ہے کہ صبح دُوپہر شام کھانا کھانا ہے لیکن پانی اُسی وقت پیا جاتا ہے جب پیاس لگتی مگر میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ اس کے اُلٹ ہونا چاہیے اور کھانا اُس وقت کھانا چاہیے جب بھوک لگے اور پانی پینے کا ٹائم ٹیبل بنانا چاہیے چاہے پیاس لگے نہ لگے ماہرین کے مُطابق سارے دن میں کتنا پانی لازمی پینا چاہیے اور کن اوقات میں پینا چاہیے اور یہ ٹائم ٹیبل اُن افراد کے اوقات کو ظاہر کرتا ہے جو صبح 8 بجے اُٹھتے ہیں اور اگر کوئی صبح 8 بجے سے پہلے یا بعد میں اُٹھتے ہیں تو اسی حساب سے اپنا ٹائم ٹیبل مقرر کر لیں یعنی ہر دو گھنٹے بعد

    دُودھ سے چہرےکی رنگت نکھارنے کے طریقے


    پہلا گلاس جب آپ اٹھتے ہیں یعنی 8 بجے کے مطابق:
    صبح سویرے اُٹھتے ہی پانی کا ایک گلاس پینا انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے کیونکہ نیند کے دوران جب کافی دیر تک آپ پانی نہیں پیتے تو آپ کا جسم ڈی ہائیڈریٹ ہو نا شروع کر دیتا ہے لہذا صبح اُٹھ کر پہلا کام یہی کریں کہ ایک گلاس پانی ضرور پی لیں
    دوسرا گلاس دس بجے:
    صبح پہلا گلاس پینے کے کم از کم ایک گھنٹے کے بعد ناشتہ کریں اور ناشتہ کرنے کے ایک گھنٹے کے بعد پانی کا دُوسرا گلاس پیئں چاہے پیاس لگی ہو یا نہ لگی ہواور پھر اپنے روزمرہ کے کاموں کی شروعات کریں
    تیسرا گلاس ساڑھے 12 بجے:
    ساڑھےبارہ بجے پانی کا تیسرا گلاس پی لیں اور کوشش کریں کہ اس کو پینے کے آدھے پونے گھنٹے کے بعد اپنا لنچ کھائیں

    کھانا کھانے کے فوراً بعد پانی پینے کے نقصانات


    چوتھا گلاس ڈھائی بجے:
    دوپہر کا کھانا کھانے کے کم از کم ایک گھنٹے کے وقفے کے بعد پانی کا یہ چوتھا گلاس پینا آپ کی خوراک کو ہضم کرنے میں انتہائی مدد گار ثابت ہوتا ہے اور خوراک سے توانائی کو پُوری طرح حاصل کرنے میں بھی آپ کی مدد کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ آپ کے دماغ کو توانا اور کام کرنے کے لیے دوبارہ تیار کرتا ہے
    پانچواں گلاس 4 بجے:
    دفتری اوقات میں عام طور پر اس وقت پر چائے کا وقفہ ہوتا ہے اور چائے کے اس وقفے میں بغیر چینی کی چائے پیئں اور چائے سے پہلے یا بعد میں چاہے پیاس محسوس ہو یا نہ لیکن پانی کا ایک گلاس لازمی پی لیں اور چائے دن میں جب بھی پینی ہو ساتھ میں ایک گلاس پانی ضروری پینا چاہیے
    چھٹا گلاس چھ بجے شام:
    شام کے اس اوقات میں پانی کا گلاس آپ کی توانائی کو بحال کرنے اور رات کے کھانے میں بسیار خوراکی سے بچنے میں آپ کی مدد کرتا ہے اور دماغ کی گرمی کو دُور کرنے کا باعث بنتا ہے
    ساتواں گلاس9 بجے:
    پانی کا یہ گلاس اپنے رات کے کھانے کے ایک گھنٹے بعد پینا انتہائی مفید اور زُد ہضم ثابت ہوتا ہے اور اس گلاس کے بعد نہانا جہاں آپ کے جسم کی تھکاوٹ اُتارنے کا باعث بنتا ہے وہاں آپ کو گہری اورفریش نیند دیتا ہے جو اگلا سارا دن کام کرنے میں آپ کی مدد کرتی ہے
    آٹھواں گلاس 11 بجے:
    پانی کا یہ گلاس رات کو سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے پی لیں یہ گلاس آپ کو ساری رات پُرسکون رہنے میں مدد گار ثابت ہو گا اور آپ کے جسم کو ڈی ہائیڈریٹ ہونے سے بچا کر رکھے گا عام طور پر ان اوقات پر پانی پی لینے سے باقی اوقات میں پیاس نہیں لگتی اور 8 گلاس یا 2 لیٹر پانی آپ کے جسم کی روزانہ کی ضرورت کے پانی کو پُورا کرتا ہے لیکن اگر آپ کو ان اوقات کے علاوہ بھی پیاس لگتی ہے تو ضرور پانی پیئں اور پانی پیتے وقت چھوٹے چھوٹے گھونٹ لیکر پانی پیئں اور پانی پینے کے دوران کم از کم 3 دفعہ وقفہ دیں

  • اسپغول کے معجزاتی فائدے

    اسپغول کے معجزاتی فائدے

    موجودہ دور میں طرز زندگی کیا بدلا ہے انسان خوش خوراکی اور عدم ورزش کی وجہ سے بیمار ہونے لگا ہے یہ بیماری اضافی اور غیر مناسب غذاؤں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے خاص طور پر معدہ جا غذا کو ہضم نہیں کر پاتا اور آنتوں سے خارج کرنے میں اسے دشواری ہو جاتی ہے آنتقوں کا نظام سست ہو جاتا ہے تو قبض جیسا موذی مرض پیدا ہو جاتا ہے جس کے لئتے یا تو میڈیسن لینا پڑتی ہیں یا پھر اسپغول کا چھلکا کھانا پڑتا ہے اسپغول جلد حل ہوجانے والی ڈائٹری فائبر ہے جو پلانٹاگو اووٹا کے پودے کے بیجوں سے حاصل ہوتی ہے جو تقریباً ایک گز کے قریب اونچا ہوتا ہے اس کی ٹہنیاں باریک ہوتی ہیں اور پتے جامن کے پتوں کے مشابہہ ہوتے ہیں اس کا رنگ سرخی مائل سفید اور سیاہ ہوتا ہے یہ نے ذائقہ اور لعاب دار ہوتا ہے اس کا مزاج سرد اور تر ہوتا ہے اس کیمقدار خوراک تین ماشہ سے ایک تولہ ہوتی ہے اسپغول کے چھلکے کو سبوس اسپغول کہتے ہیں اور عام طور پر ان بیجوں کا چھلکا بطور ڈائٹری سپلیمنٹ کے استعمال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ اس چھلکے کے کیپسول بھی بنائے جاتے ہیں اور اسے پوڈر فارم میں بھی استعمال کیا جاتا ہے

    لڑائی کا گھر ہانسی اور بیماری کی جڑ کھانسی ہنسی کے ہماری صحت پر اثرات


    دائمی قبض کا خاتمہ کرتا ہے:
    اسپغول کا چھلکا صدیوں سے دافع قبض کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے یہ فضلے کا سائز بڑھاتا ہے اور نتیجتاً قبض کو ختم کر دیتا ہے اسپغول کا چھلکا کھانے کے فوراً بعد یہ معدے میں خوراک کے بچے ہُوئے ذرات کو بائنڈ کر کے چھوٹی آنت میں لیجاتا ہے جہاں یہ چھوٹی آنت سے پانی جذب کرتا ہے جس سے فضلے کا سائز بڑھتا ہے اور اُس میں موئسچرائزر پیدا ہوتا ہے جس سے جہاں قبض ختم ہوتی ہے وہاں یہ آنتوں کی صفائی بھی کر دیتا ہے جو ہماری صحت اور نظام انہضام پر نہایت اچھے اثرات مرتب کرتی ہے ایک تحقیق کے مُطابق روزانہ 5 سے 6 گرام اسپغول کا چھلکا مسلسل دو ہفتے کھانے سے فضلے کے سائز اور وزن میں نمایاں اضافہ نوٹ کیا گیا یہ تحقیق 170 ایسے افراد پر کی گئی جنہیں دائمی قبض کی بیماری لاحق تھی اور نوٹ کیاگیاکہ یہ چھلکا اُن کے لیے ایک اکسیر کی طرح فائدہ مند ثابت ہُوا
    ڈائریا پیچش ختم کرتا ہے:
    اسپغول چھوٹی آنت سے پانی اپنے اندر جذب کر لیتا ہے جس سے فضلے کی سختی بڑھتی ہے اور آنتوں میں اس کی نقل و حرکت سُست ہوتی ہے چنانچہ نتیجے کے طور پر یہ ڈائریا ختم کردیتا ہے ایک تحقیق کے نتائج کے مُطابق روزانہ 3.5 گرام اسپغول کا چھلکا ہر کھانے کے بعد کھانے سے ڈائریا کے مریضوں میں شفا نوٹ کی گئی اور اس چھلکے کے کھانے سے اُن کا معدہ 69 سے 87 منٹ تک بھرا رہا جس سے باؤل موومنٹ میں نمایاں کمی نوٹ کی گئی

    معدے کی تیزابیت دور کرنے کے لئے لیمن گراس چائے


    خون میں شوگر لیول کم کرتا ہے:
    ایسے کھانے جن میں ڈائٹری فائبر شامل ہوتی ہے وہ معدے سے شوگر کا خون میں شامل ہونے کا عمل سُست کر دیتے ہیں اور انسولین کا لیول کنٹرول کرتے ہیں اور اسپغول کا چھلکا چونکہ حل پذ یر فائبر پر مشتمل ہوتا ہے چنانچہ یہ کسی بھی دوسری ڈائٹری فائبر سے زیادہ اچھا کام کرتا ہے اور ٹائپ 2 ذیابطیس کے مریضوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے میڈیکل سائنس کی ایک ریسرچ میں جو 56 ذیابطیس کے مریضوں پر کی گئی اور اُنہیں صبح شام 5 سے 6 گرام اسپغول کا چھلکا 8 ہفتے کھلایا گیا اور نوٹ کیا گیا کہ اُن کی بلڈ شوگر میں 11 فیصد کمی آئی
    بھوک مٹاتا ہے:
    اسپغول کا چھلکا معدے کو بھرا رکھتا ہے اور بار بار لگنے والی بھوک کو مٹاتا ہے جس سے جسم کو فاضل چربی پگھلانے کا وقت ملتا ہے اور موٹاپے میں کمی واقع ہوتی ہےایک تحقیق میں 11 گرام اسپغول کا چھلکا صحت مند لوگوں کو ہر کھانے سے پہلے کھلایا گیا جس سے جہاں کھانے کے 3 گھنٹے بعد بھی انہیں بھوک نہیں لگی وہاں اُن کے بڑھے ہُوئے وزن میں بھی کافی حد تک نمایاں کمی نوٹ کی گئی

    وزن کم کرنے کا آسان نسخہ


    وزن میں کمی لاتا ہے:
    اسپغول کا چھلکا معدے کو بھرا رکھتا ہے اور بار بار لگنے والی بھوک کو مٹاتا ہے جس سے جسم کو فاضل چربی پگھلانے کا وقت ملتا ہے اور موٹاپے میں کمی واقع ہوتی ہے ایک تحقیق میں 11 گرام اسپغول کا چھلکا صحت مند لوگوں کو ہر کھانے سے پہلے کھلایا گیا جس سے جہاں کھانے کے 3 گھنٹے بعد بھی انہیں بھوک نہیں لگی وہاں اُن کے بڑھے ہُوئے وزن میں بھی نمایاں کمی نوٹ کی گئی
    دل کے لیے مفید ہے:
    اسپغول کا چھلکا جہاں بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے وہاں یہ خون سے چکنائی کا خاتمہ کرتا ہے جس سے دل کی بیماریاں لاحق ہونے کا خدشہ کم ہوجاتا ہے یک تحقیق کے مطابق روانہ تین دفعہ 5 گرام اسپغول کا چھلکا مسلسل 6 ہفتے استعمال کرنے والوں میں خون کی چکنائی میں 26 فیصد کمی دیکھی گئی اور ایک دوسری تحقیق میں ذیابطیس کے مریضوں کو دن میں تین دفعہ 5 گرام اسپغول کھلایا گیا اور اُن کے خون کی نقصان دہ چکنائی میں نمایاں کمی نوٹ کی گئی اور اُن کا خون پتلا ہُوا

    سردیوں میں صحت مند رہنے کے لیے کیا کھانا چاہیے


    اسپغول میں پری بائیوٹیک افیکٹس ہوتے ہیں:
    ری بائیوٹیک ہضم نہ ہونے والے ذرات پر مشتمل ہوتے ہیں جو آنتوں کے دوست اور مفید بیکٹریا کی تعداد کو بڑھاتے ہیں اسپغول کا چھلکا بہترین پری بائیوٹیک افیکٹس پیدا کرتا ہے جس سے نظام انہضام کو تقویت ملتی ہے اسپغول کا چھلکا اگر زیتون کے تیل کیساتھ استعمال کیا جائے تو اس کی افادیت میں بیشمار اضافہ ہوتا ہے اور جسم سے کئی طرح کی دائمی بیماریوں کا خاتمہ کردیتا ہے جس میں دل کی بیماریاں ہائی بلڈ پریشر شوگر وغیرہ سر فہرست ہیں
    کولیسٹرول لیول کم کرتا ہے:
    اسپغول کا چھلکا چکنائی اور بائل ایسڈ کو بائنڈ کر دیتا ہے اور جسم سے خارج کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتا ہے اور بائل ایسڈ کے جسم سے خارج ہونے کے بعد جگر بائل ایسڈ دوبارہ پیدا کرنے کے لیے کولیسٹرول کو استعمال کرتا ہے جس سے ہمارے جسم کے کولیسٹرال لیول میں کمی واقع ہوتی ہےایک تحقیق کے مُطابق مسلسل 6 ہفتے روزانہ 6 گرام اسپغول کھانے والوں کے کولیسٹرول لیول میں 6 فیصد کمی نوٹ کی گئی

  • گاجر کا استعمال اور اس کے فوائد

    گاجر کا استعمال اور اس کے فوائد

    اکثر ہمارے بزرگ کہتے ہیں “اگر اندھیرے میں دیکھنا چاہتے ہو تو گاجر کھایا کرو” ، یہ بات کتنی سچ ہے اور گاجر کیا صرف بینائی کو بہتر بناتی ہے یا اس کے اور بھی فائدے ہیں، گاجر کوئی عام سبزی نہیں ہے بلکہ خالق نے اس کے اندر بیشمار خُوبیاں رکھی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ ہزاروں سالوں پہلے گاجر کو موجودہ افغانستان میں اُگایا جاتا تھا مگر اُس وقت یہ سائز میں چھوٹی رنگ میں پیلی اور جامنی اور ذائقے میں انتہائی کڑوی اور لکڑی جیسی ہوتی تھی اور جس گاجر کو آج ہم جانتے ہیں اس سے بلکل مختلف ہوتی تھی پھر سولہویں صدی میں ڈچ کسانوں نے میٹھی گاجریں اُگانے کا فن سیکھا اور آج دُنیا میں مختلف رنگوں کی میٹھی گاجریں اُگائی جارہی ہیں جو ہماری صحت پر انتہائی اچھے اثرات مرتب کرتی ہیں گاجر بیشمار وٹامنز، منرلز، اور غذائی فائبر کیساتھ ساتھ اینٹی آکسیڈنٹ خوبیوں کی حامل ہے اور اینٹی آکسیڈ نٹ خوبیاں ہمارے جسم کے سیلز کو خراب ہونے سے بچاتی ہیں طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گاجر میں وٹامن بی ،اے اور ای سمیت کئی قدرتی اجزاء پائے جاتے ہیں جو انسانی صحت کے لئے انتہائی اہم ہیں
    https://login.baaghitv.com/beetroot-give-protection-from-cancer-and-alzayemer/
    گاجر ہمیں کیسے فائدہ پہنچاتی ہے

    بینائی کو طاقتور بناتی ہے:
    گاجر ہماری آنکھوں کو اندھیرے میں دیکھنے کے قابل بناتی ہے کیونکہ گاجر میں وٹامن اے شامل ہوتا ہے اور جسم میں وٹامن اے کی کمی بینائی کو متاثر کرتی ہےاور اگر یہ کمی زیادہ ہوجائے تو رات کو دیکھائی دینا مُشکل اور بعض اوقات بند ہو جاتا ہے جسے نائٹ بلائینڈنس کہتے ہیں گاجر کا شُمار اُن سبزیوں میں ہوتا ہے جن میں بیٹا کیروٹین کی بڑی مقدار شامل ہوتی ہے اور یہ کیمیاء ہماری آنکھوں کو توانا رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے خاص طور پر یہ آنکھوں کو سُورج کی تیز روشنی جذب کرنے صلاحیت عطا کرتا ہے اور تیز روشنی کے اثرات سے آنکھوں کو محفوظ رکھتا ہے

    گاجر کا زردہ بنانے کی عمدہ ترکیب


    گاجر ذیا بیطس کے مریضوں کے لیے مُفید ہے:
    گاجر میٹھی ہوتی ہے مگر اس میں موجود فائبر اور کاربوہائیڈریٹس اس کی شوگر کو خون میں تیزی سے شامل نہیں ہونے دیتے اور یہی وجہ ہے کہ گاجر کا شُمار اُن سبزیوں میں ہوتا ہے جن کا گلیسمک انڈیکس کم ہے یعنی یہ خُون میں شوگر لیول کو تیزی سے نہیں بڑھاتی اور ایک میڈیم سائز کی گاجر میں صرف 25 کیلوریز ہوتی ہیں چنانچہ یہ ٹائپ 2 کی ذیابطیس کے مریضوں کے لیے بہترین سبزی ہے

    گاجر کا زردہ بنانے کی عمدہ ترکیب


    بلڈ پریشر اور دل کے مریضوں کے لیے مفید ہے:
    گاجر میں پوٹاشئیم اور فائبر شامل ہوتی ہے جو بڑھے ہُوئے بلڈ پریشر کے لیے انتہائی مفید کیمیا ء ہیں اور ماہرین کے مُطابق دل کی بیماریوں میں مُبتلا افراد کے لیے کم سوڈیم والے کھانے اور زیادہ پوٹاشیم والے کھانے انتہائی مُفید ثابت ہوتے ہیں کیونکہ پوٹاشیم دل میں خون لیجانے والی رگوں کو آرام پہنچاتی ہےایک اور تحقیق کے مُطابق زیادہ ڈائٹری فائبر کھانے والے افراد میں دل کی بیماریاں لاحق ہونے کا خدشہ فائبر نہ کھانے والے افراد سے کم ہوتا ہے اور ڈائٹری فائبر خون سے بُرے کولیسٹرول کا خاتمہ بھی کرتی ہےماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آدمی کو اپنی روزانہ کی خوراک میں کم از کم 25 گرام فائبر ضرور کھانی چاہیے اور ایک درمیانے سائز کی گاجر میں تقریباً 1.7 گرام فائبر ہوتی ہے

    گاجر قوت مدافعت کو مضبوط بناتی ہے:
    گاجر میں اینٹی آکسیڈینٹ خوبیاں ہوتی ہیں خاص طور پر یہ اینٹی آکسیڈینٹ وٹامن سی سے بھرپور غذا ہے اور وٹامن سی جہاں ہمارے جسم کو اور بہت سے مہلک بیماریوں سے بچاتا ہے وہاں یہ ہماری قوت مدافعت کو طاقتور بناتا ہے اور ہمارے جسم میں بیماریوں سے لڑنے کی قوت پیدا کرتا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ گاجر کا وٹامن سی کلوجن کی پیداوار بڑھاتا ہے جو ہماری جلد کے لیے انتہائی اہم اور مفید ہے خاص طور پر یہ زخموں کو جلد بھر دیتا ہے اور ہمارے جسم کو صحت مند رکھتا ہےبعض ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن سی کے سپلیمنٹ استعمال کرنا بھی ہمارے جسم کی قوت مدافعت کو مضبوط بناتا ہے اور یہ ہمیں سردی میں جب امیون سسٹم یعنی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے تو اُسے طاقتور کرنے کا باعث بنتا ہے

    لڑائی کا گھر ہانسی اور بیماری کی جڑ کھانسی ہنسی کے ہماری صحت پر اثرات


    ہڈیوں کو مضبوط کرتی ہے:
    گاجر میں جہاں وٹامن “کے” شامل ہوتا ہے وہاں محدود مقدار میں کیلشیم اور فاسفورس جیسے منرلز بھی شامل ہوتے ہیں اور یہ تمام ہڈیوں کو مضبوط اور صحت مند رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں

    نظام انہضام بہتر بناتی ہے:
    فائبر نظام انہضام کو بہتر بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا اور گاجر فائبر سے بھرپوُر ہوتی ہے جس کا فائبر خوراک کو ہضم کرنے اور فُضلے کو خارج کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے اور ایسے کھانے جن میں فائبر کی مقدار زیادہ ہو ہمارے آنتوں کے لیے انتہائی مُفید ہیں اور یہ ہمیں کولن کینسر یعنی آنتوں کے سرطان سے محفوظ رکھتے ہیں

    گاجر کینسر سے بچاتی ہے:
    ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ جسم میں فری ریڈیکلز ہوتے ہیں اور اگر ان کی مقدار بڑھ جائے تو یہ ہمارے جسم کے اعضا کو نقصان پہنچاتے ہیں اور مختلف طرح کی کینسر کا باعث بنتے ہیں اور گاجر کی اینٹی آکسیڈینٹ خوبیاں فری ریڈیکلز کی بڑھتی ہُوئی تعداد کو قابو میں کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ہمیں مختلف قسم کے کینسرز سے بچاتی ہے جن میں پروسٹیٹ کا کینسر، لکویمیا، پھیپھڑوں کا کینسر وغیرہ سر فہرست ہیں

    گاجر وزن کم کرتی ہے:
    موٹاپے جیسی بیماریوں میں مُبتلا افراد جو اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں اُن کے لیے گاجر ایک زبردست سبزی ہے جو جہاں بھوک کو مٹاتی ہے اور معدے کو بھرا رکھتی ہے وہاں انتہائی کم کیلوریز ہونے کے باعث وزن کو بڑھنے نہیں دیتی
    گاجر کیسے کھانی چاہیے:
    گاجر ایک ایسی سبزی ہے جسے آپ پکائے بغیر کھا سکتے ہیں آپ اسے باریک کاٹ کر سلاد میں شامل کر سکتے ہیں اور اسے چھیل کر ویسے بھی کھا سکتے ہیں اور اس کا جُوس بنا کر بھی پی سکتے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ گاجر کو پکانے سے یا اُبالنے سے اس کے وٹامنز کم ہو جاتے ہیں اسی لیے مغربی معاشرے میں لوگ زیادہ تر گاجر کو کچا ہی کھاتے ہیں

    گاجر کا جوس طبی فوائد کا حامل:
    گاجر کے جوس کا باقاعدہ استعمال ناخن بال دانت اور ہڈیوں کے لئے انتہائی مفید ہے ماہرین کے مطابق روازنی گاجر کا جوس پینے سے نہ صرف جگر کا نظام فعال ہوتا ہے بلکہ یہ کینسر کی رسولیوں کی افزائش روکنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے

  • دار چینی ملا دودھ پینے کے حیرت انگیز فوائد

    دار چینی ملا دودھ پینے کے حیرت انگیز فوائد

    دار چینی ملا دودھ پینے کے حیرت انگیز فوائد
    دار چینی کو ونڈر مسالہ بھی کہتے ہیں یہ کھانےکا ذائقہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ صحت کے لحاظ سے بھی بہت مفید ہے کھانوں کے علاوہ صحت اور خوبصورتی دونوں ہی چیزوں کے لیے دارچینی کا استعمال کیا جاتا ہے دار چینی میں موجود کمپاونڈ بہت سی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات سے بھر پور ہوتے ہیں جو صحت اور خوبصورتی دونوں کے لیے ہی فائدہ مند ہے دارچینی یوں تو اپنے آپ میں ہی ایک اچھی دوا ہے لیکن اسے دودھ کے ساتھ ملا کر پینا اور بھی فائدہ مند ہے دار چینی والا دودھ کئی بیماریوں میں فائدہ مند ہے اور کئی بیماریوں سے محفوظ بھی رکھتا ہے دار چینی والا دودھ بنانے کے لیے ایک کپ دودھ میں ایک سے دو چمچ دار چینی پاوڈر ڈال کر اچھی طرح مکس کر لیں اس دودھ پینے کا کعئی نقصان نہیں لیکن پھر بھی پینے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں

    دارچینی مختلف خطرناک بیماریوں کا علاج


    دار چینی والا دودھ پینے کے فوائد:
    اچھے نظام انہضام کے لیے:
    اگر آپ کا نظام انہضام فعل اچھا نہیں تو اس کے لیے دار چینی والا دودھ پینا آپ کے لیے انتہائی مفید رہے گا اس کے علاوہ گیس کا مسئلہ حل کرنے کا کام کرتا ہے
    بلڈ شوگر لیول کنٹرول کرنےکے لیے:
    دار چینی میں کئی ایسے کمپاونڈ پائے جاتے ہیں جو بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتے ہیں دار چینی والا دودھ خاص طور پر ٹائپ ٹو ذیا بیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے
    اچھی اور بھرپور نیند کے لیے:
    اگر آپ کو بے خوابی کی پرابلم ہے یا پھر آپ کو اچھی نیند نہیں آتی ہے تو دار چینی والا دودھ پینا آپ کے لیے بہت فائدہ مند رہے گا سونےسے پہلے ایک گلاس دار چینی والا دودھ پی لیں اس سے آپ کو اچھی نیند آئے گی
    خوبصورت بالوں اور جلد کے لیے:
    خوبصورت بالوں اور جلد کے لیے دار چینی والا دودھ پینے سے بال اور جلد سے منسلک تقریباً ہر مسئلہ دور ہو جاتا ہے اس کی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات اسکن اور بالوں کو انفیکشن سے محفوظ رکھتا ہے
    مضبوط ہڈیوں کے لیے:
    ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے لوگ سالوں سے دار چینی دودھ کا استعمال کرتے آرہے ہیں اس دودھ کے باقاعدہ استعمال سے گنٹھیا کا مسئلہ دور ہو جائے گا
    دار چینی کا بد ہضمی اور زخموں کو مندمل کرنے کا روایتی استعمال جدید سائنس سے بھی ثابت ہوا ہے بہت سے کھانوں میں استعمال ہونے والا مصالہ جات کی طرح یہ بھی جسم کے لئے فائدہ مند بتایا جاتا ہےیہ مختلف اقسام کے بیکٹیریا کو ختم کر سکتا ہے

  • ہلدی کا شربت خون میں شکر کی مقدار کم کرتا ہے

    ہلدی کا شربت خون میں شکر کی مقدار کم کرتا ہے

    ہلدی کا شربت خون میں شکر کی مقدار کم کرتا ہے
    ہلدی کا شربت نہ صرف خون میں۔شکر کی مقدار کم کرتا ہے بلکہ کولیسٹرول کم کرکے جگر کو فاسد مادوں سے محفوظ رکھتا ہے اور معدے کو تیزابیت سے بچاتا ہے ہلدی انسان کے لیے قدرت کے لیے ایک شاندار عطیہ ہے اس کے فعال اجزاء میں کرکومن شامل ہیں جو عمر بڑھنے کے ساتھ آنے والی متعدد خرابیوں سے بچاتا ہے ذیا بیطس کے مریضوں میں خون کی شکر کم کرتا ہے اور متعدد سرطان پیدا کرنے والے عوامل کا دشمن ہے جبکہ کشمش اور کالی مرچ جسم کے خلیوں کو نقصان سے بچاتی ہے جس کے نتیجے میں انسان وقت سے پہلے بوڑھا نہیں ہوتا
    اجزاء:
    تازہ ہلدی آدھ انچ کا ایک ٹکڑا
    ہلکی بھوری کالی مرچ دو عدد
    کشمش آٹھ عدد
    پانی دو سو ملی لیٹر
    ترکیب:
    ہلدی کو اچھی طرح دھو طرح دھو کر چھلکا اتار دیں چھلکا اتار کر دوبارہ دھوئیں اور باریک کاٹ لیں بھوری کالی مرچں کو پیس لیں اب ایک برتن میں پانی ابالیں کٹی ہوئی ہلدی اور پسی ہوئی کالی مرچ ڈالیں برتن ڈھک کر چولہا بند کر دیں کشمش ڈالیں اور چند منٹ تک عرق نکلنے دیں اب اس میں سے کشمش نکال کر ایک طرف رکھ دیں زرد شربت کو ایک پیالی میں چھان لیں کشمش چباتے جائیں اور ساتھ گھونٹ گھونٹ شربت پیتے جائیں

  • ہلدی کے طبی خواص اور فوائد

    ہلدی کے طبی خواص اور فوائد

    برصغیر کا شائد ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں ہلدی کا استعمال نہ کیا جاتا ہو مغرب کی جدید تحقیق بھی اب ہلدی کی افادیت تسلیم کرتی نظر آتی ہے نیویارک میں ناردرن ویسٹ چسٹر ہاسپٹل کے اینگزیکیٹو میڈیسن کی ڈائریکٹر ڈاکٹر منرو اسانتوس نے ان مریضوں کو اکثر بیشتر ہلدی استعمال کرنے کی سفارش کی ہے جو اپنے جوڑوں میں درد اور سوزش کی شکایت کرتے ہیں ڈاکٹر منروا خود بھی جب ورزش یا سپورٹس کے بعد جوڑوں میں دکھن محسوس کرتی ہیں تو اسے کم کرنے کے لئے ہلدی استعمال کرتی ہیں یہ اپنی خوبصورت رنگت دلچسپ ذائقے اور انسان کی صحت کےلیے بے پناہ خوبیوں کی حامل ہے مشہور کہاوت ہے کہ جس شہر میں زیتون، ہلدی، السی اور کلونجی میسر ہو وہاں ڈاکٹر کا کوئی کام نہیں

    مصالحےجب پودوں پر اگتے ہیں تو کیسے لگتے ہیں


    کینسر اور ہلدی:
    میڈیکل سائنس کے مطابق ہلدی میں سو سے زیادہ کیمیکل کمپاونڈز موجود ہوتے ہیں جو بہت سی بیماریوں کے لیے شفا رکھتے ہیں خاص طور پرکرکونم کمپاؤنڈ جو ہلدی کو خوبصورت پیلا رنگ دیتا ہے ایک انتہائی مفید آرگینک کیمیکل ہے جو کینسر جیسے موذی مرض کو پیدا نہیں ہونے دیتا ہلدی میں بیشمار اینٹی آکسیڈینٹ موجود ہوتے ہیں جو تحقیق کے مطابق سو سے زائد کینسر کی بیماریوں کو قابو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور کینسر زدہ سیلز کا خاتمہ بھی کرتے ہیں
    ہلدی ایک قدرتی انفلیمنٹری:
    انفلامیشن یعنی سوزش جسم کے کسی حصے میں درد یا بے چینی کی بنیادی وجہ ہے انفلامیشن کی صورت میں ڈاکٹر اینٹی ایفلامیٹری ادویات اینسیڈ وغیرہ تجویز کرتے ہیں یہ ادویات اکثر اوقات فائدہ پہنچانے میں ناکام ہوجاتی ہیں اور ان کا زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہےہلدی میں موجود کرکومن قدرتی طور پر اینٹی اینفلامیٹری خوبیوں کا حامل ہوتا ہے جو سارے جسم میں سوزش کے خلاف ایک تحریک شروع کردیتا ہے اور سوزش کو ختم کرتا ہے
    ہلدی قوت مدافعت بڑھاتی ہے:
    انسانی جسم کا امیون سسٹم جسم کو بیماریوں میں لاحق ہونے سے بچانے کا ذمہ دار ہوتا ہے، ڈاکٹرز کا کہنا ہے کے ایمیون سسٹم نظام انہضام کیساتھ جُڑا ہوتا ہےاور ہلدی کھانا جسم کے ایمیون سسٹم کو طاقت ور کرتا ہے کیونکہ ہلدی کے اندر قدرتی طور پر اینٹی وائرل، اینٹی بیکٹیریا اور اینٹی مائیکروبیل کمپاونڈ امیون سسٹم کو لڑنے کے لیے ہتھیار مہیا کرتے ہیں اور جسم کی قوت مدافعت قدرتی طور پر بڑھاتے ہیں

    دارچینی مختلف خطرناک بیماریوں کا علاج


    ہلدی ہارمونز کو درست کرتی ہے:
    انسان کے جسم اور دماغ میں ہونے والے تقریباًتمام عوامل ہارمونز کی وجہ سے ہوتے ہیں یہ ہارمونزنظام انہضام سے لیکر مسل بنانے نروس سسٹم کو درست رکھنے سونے اور جاگنے اور انسان کے مُوڈ کو درست رکھنے میں کام کرتے ہیں اور صحت مند جسم کو قائم رکھنے میں انتہائی مدد گار ثابت ہوتے ہیں ہلدی کے اندر موجود کیمیکل کمپاونڈز خون کو صاف کرتے ہیں اور ان ہارمونز کا بیلنس درست رکھتے ہیں جو صحت مند جسم کے لیے بہت ضروری ہے
    ہلدی بال گرنے سے روکتی ہے:
    بالوں کا گرنا ناقص صحت کی علامت ہے جس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں عام طور پر خوراک کی کمی بالوں کی جڑوں کو کمزور کر دیتی ہے جس سے بال گرنے لگتے ہیں ہلدی میں شامل بے شمار نیوٹرنٹس جہاں جلد کو صحت مند بناتے ہیں وہیں یہ بالوں کی جڑوں کو مظبوط اور بالوں سے روکھا پن ختم کرنے میں بہت زیادہ مدد گار ثابت ہوتے ہیں
    ہلدی نظام انہظام کو درست کرتی ہے:
    انسان اپنے جسم کی تقریباً تمام ضروریات خوراک سے حاصل کرتا ہے اور نظام انہضام خوراک کو ہضم کرکے جُز و بدن بنانے کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اگر یہ نظام خراب ہو تو جسم بہت سے بیماریوں کا حملہ برداشت کرنے کے قابل نہیں رہتا ہلدی میں شامل نیوٹرنٹس وٹامنز منرلز اینٹی آکسیڈینٹس اور انفلامیٹری کمپاؤنڈز نظام انہضام کو فعال رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں

    السی کے اندر کولیسٹرول کےعلاوہ بہت بیماریوں کا علاج


    ہلدی فالتو چربی کو پگھلاتی ہے:
    اگر ہلدی کو روزانہ کی خوراک میں شامل کیا جائے تو ہلدی میں موجود بے شمار کمپاؤنڈز جسم کی اضافی چربی کو جلانے میں اکسیر کا کام کرتے ہیں جسم کی فاضل چربی کئی خطرناک بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے جس میں دل اور کولیسٹرول کی بیماریاں اہم ہیں
    ہلدی گُردوں کی صفائی کرتی ہے:
    میڈیکل سائنس کے مطابق ہلدی میں موجود کرکومن ایک طاقتور اینٹی اینفلامیٹری کے طور پر کام کرتی ہے اور گُردوں کو صاف کر دیتی ہے اور خون کے بہاؤ میں انتہائی مددگار ثابت ہوتی ہے

    ہلدی یاداشت کو مضبوط کرتی ہے:
    برصغیر پاک و ہند کے لوگوں کو الزائمر کی بیماری بہت کم لاحق ہوتی ہے اور اس کی وجہ ہمارے کھانوں میں ہلدی کا روزانہ استعمال ہےجدید میڈیکل سائنس کی بہت سے تحقیقات میں دیکھا گیا ہے کہ ہلدی یاداشت کو بہتر بناتی ہے اور بھولنے کی اس خطرناک بیماری کو پیدا نہیں ہونے دیتی
    جوڑوں کی درد کے لیے بے حد مفید:
    ہلدی میں شامل قدرتی کمپاونڈز جہاں دیگر بیماریوں کو قابو کرتے ہیں وہاں یہ جوڑوں کے درد میں بھی شفا یاب ہیں یہ جوڑوں کے درمیان پیدا ہونے والے خلا کو کم کرتے ہیں اور درد میں قدرتی طور پر راحت پہنچاتے ہیں

  • مساج کے ذریعے بند ناک سے چھٹکارا حاصل کرنے کے طریقے

    مساج کے ذریعے بند ناک سے چھٹکارا حاصل کرنے کے طریقے

    مساج کے ذریعے بند ناک سے چھٹکارا حاصل کرنے کے طریقے
    نزلہ زکام وغیرہ کی وجہ سے ناک کا بند ہوجانا ایک عام بات ہے مگر اگر یہ ناک رات کو سونے کے درمیان بند ہوجائے تو نیند کو خراب کر دیتی ہے اور بے سکونی کا باعث بنتی ہے اور سانس لینے میں مشکل پیش آتی ہے بند ناک کو کھولنے کے چند آسان طریقے گے جن کو استعمال کر کے آپ سانس بند ہونے کی پریشانی سے بچ سکتے ہیں درج ذیل ہیں
    ناک کے دونوں طرف مالش کرنا:
    شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی کے ساتھ ناک کے ان دونوں سائیڈ مقامات پر دائرے کی شکل میں آہستہ آہستہ تقریباً ایک سے دو منٹ مالش کریں اس سے آپ کی سانس کی بند نالیاں کُھلنے میں مدد ملے گی اور آپ کو جمی ہُوئی ریشہ کو ناک سے خارج کرنے میں آسانی ہوگی
    دونوں بھنووں کے درمیان میں مالش کریں:
    ناک بند ہونے کے صورت میں بھنووں کے درمیان میں انگوٹھے یا انگلی کے ساتھ آہستہ آہستہ کم از کم ایک منٹ تک مالش کریں اس سے سانس کی نالیوں میں جمی ہُوئی ریشہ خارج ہونے میں مدد ملے گی اور یہ سانس کی نالی کی سوزش کو کم کرے گا
    ناک اور ہونٹوں کے درمیان مالش کریں:
    ناک اور ہونٹوں کے درمیاں آہستہ آہستہ مالش کریں اور اس عمل کو تقریباً 2 سے 3 منٹ تک جاری رکھیں یہ آپ کے ناک کی سوزش کو کم کرے گا اور سانس لینے میں آسانی پیدا ہوگی
    ہوا میں نمی:
    سردی بڑھنے کے ساتھ ہی ہوا میں نمی کا تناسب کم ہوتا چلا جاتا ہے اور ہوا جب خُشک ہوتی ہے تو سانس لینے سے ناک میں موجود ریشہ جمنی شروع ہوجاتی ہے اپنے کمرے میں ہیٹر یا چولہے کے اوپر پانی کی دیگچی رکھ دیں تاکہ پانی کی بھاپ ہوا میں نمی کے تناسب کو برقرار رکھے

    ہونٹوں کو خُشکی اور پھٹنے سے بچا نے کے لئے آسان طریقے


    گرم کپڑا ناک پر رکھیں:
    کسی کپڑے کو گرم کرکے ناک کے دونوں اطراف اس سے ٹکور کریں یہ جمی ہُوئی ریشہ کو خارج کرنے میں مددگار ثابت ہوگا
    ورزش کے ذریعے:
    اگر آپ نزلے زکام کا شکار الرجی کی وجہ سے ہُوئے ہیں اور آپ کی ناک بہہ رہی ہے تو اس کو ٹھیک کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ ورزش کریں ورزش کرنے سے آپکا جسم گرم ہوگا اور یہ ناک میں موجود ریشہ کو خارج کرنے میں آسانی پیدا کرے گا
    بھنے کالے چنوں کی ٹکور:
    کالے چنے لے کر اس کو بھنوا کر دیسی کپڑے میں ڈال کر گرم گرم چنوں سے ٹکور کرنے سے بھی بند ناک کھل جائے گی

  • وزن کم کرنے کا آسان نسخہ

    وزن کم کرنے کا آسان نسخہ

    وزن کم کرنے کا آسان نسخہ
    اجزاء:
    لیموں چار عدد
    شہد تین کھانے کے چمچ
    دار چینی دو چائے کے چمچ
    ادرک ایک ٹکڑا
    تازہ سہانجنا ایک سو پچیس گرام

    ترکیب:
    ادرک اور سہنجنا کو بلینڈر میں اچھی طرح پیس لیں اس میں لیموں کا رس شامل کر کے دو سے تین منٹ پھر بلینڈ کریں پھر اس میں سہد اور دار چینی ملا کر دوبارہ بلینڈ کریں اور اس کو نکال کر شیشے کے جار میں محفوظ کر لیں اس کا ایک چمچ دن میں دو بار کھانے سے پہلے استعمال کریں تین ہفتے استعمال کریں پھر کچھ دنوں کے وقفے کے بعد دوبارہ استعمال شروع کریں اس سے نہ صرف وزن کم ہوگا بلکہ اس سے نظر دماغ اور یاداشت بھی تیز ہوگی سہانجنا میں وٹامن چی بی سکس بی ون پوٹاشئیم میگنیشئم اور فاسفورس پایا جاتا ہے اس کی وجہ سے میٹابولزم بھی تیز ہوجاتا ہے اور تھکاوٹ بھی دور ہوتی ہے

  • معدے کی تیزابیت دور کرنے کے لئے لیمن گراس چائے

    معدے کی تیزابیت دور کرنے کے لئے لیمن گراس چائے

    معدے کی تیزابیت دور کرنے کے لئے لیمن گراس چائے
    اجزاء:
    سبز الائچی ایک عدد
    لیمن گراس ایک چھوٹا چمچ
    پودینے کے پتے پچیس عدد
    کالا زیرہ ایک چوتھائی چائے کا چمچ
    سبز دھنیا چار کھانے کے چمچ
    شہد حسب ذائقہ

    ترکیب:
    پتیلی میں تین گلاس پانی ڈال کر گرم کریں جب پانی کو ایک ابال آ جائے تو اس میں الائچی لیمن گراس پودینہ کالا زیرہ اور سبز دھنیا ڈال کر دو سے تین منٹ کے لئے ابال لیں اب کپ مہں ڈال کر حسب ضرورت گُڑ یا شہد ملا کر پئیں اس چائے سے نہ صرف تیزابیت ختم ہو گی بلکہ وزن بھی کم ہوگا اگر آپ اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو دن میں تین سے چارکپ پی لیا کریں اور ہر کھانے کے بعد ایک کپ پئیں