Baaghi TV

Category: خواتین

  • کیا موٹے لوگ زمین کے لئے خطرہ ہیں?

    کیا موٹے لوگ زمین کے لئے خطرہ ہیں?

    جو لوگ موٹاپے کا شکار ہوجاتے ہیں وہ اپنے ساتھ ساتھ ایسے افراد کو بھی نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں جو دُبلا، چست اور توانا جسم رکھتے ہیں ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا بھر میں متوسط وزن رکھنے والے افراد کے مقابلے میں موٹے افراد سالانہ 70 کروڑ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں

    موٹاپے سے متعلق ریسرچ کرنے والے ادارے دی او بیسیٹی سوسائٹی کے تحقیق کاروں نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ یہ موٹے افراد دنیا بھر میں 1.6 فیصد گرین ہاؤس گیس پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں تحقیق کاروں کے مطابق اس میں مختلف عوامل شامل ہیں جن میں موٹے افراد کے میٹابولیزم کے تیز ہونے کی وجہ سے اضافی کھانا بنانا اور انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے والی گاڑیوں میں اضافی ایندھن کا استعمال وغیرہ شامل ہے

    ادارے کے مطابق کہ اس نے تحقیق کے لیے گرین ہاؤسز گیسز کے اخراج، ڈیموگرافک ڈیٹا اور موٹاپا پھیلنے کے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہوئے اپنا نتیجہ اخذ کیا ہے

    تحقیق کاروں کا ماننا ہے کہ متوسط وزن رکھنے والے افراد کے مقابلے میں بھاری جسامت والے انسان 20 فیصد زیادہ گرین ہاؤس گیسز پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں

    اس تحقیق کے سر براہ فیڈون میگ کوس کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کے اوسط سائز میں اضافے کی وجہ سے دنیا میں انسان کے سانس لینے سے پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو کم کرنے کی کوششیں متاثر ہوسکتی ہیں انہوں نے مزید کہا کہ یہ تحقیق ان لوگوں کے لیے زیادہ اہم ہے جو موٹاپے سے چھٹکارا پانے کے لیے کام کر رہے ہیں

  • آپ کی جلد کیلئے کون سا ماسک بہتر رہے گا؟

    آپ کی جلد کیلئے کون سا ماسک بہتر رہے گا؟

    چہرے کی صفائی و حفاظت کیلئے اگرچہ کلینزر ،ٹونر اور موئسچرائزر بہترین انتخاب ہیں لیکن ان تینوں کے استعمال کے بعد بھی جلد کو کچھ خاص لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لئے ماسک ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوتے ہیں کیونکہ چہرے پر ماسک لگانے سے جو دھول مٹی کلینزر اور ٹونر کے بعد بھی بچ جاتی ہے ماسک اس کو اند ر تک صاف کر دیتے ہیں اگرچہ کلینزر ،ٹونر اور موئسچرائزر کو روزانہ کی بنیادوں پر استعمال کرنا چاہئے جبکہ ماسک ہفتے میں ایک بار لگانا ہی بہتر ہوتا ہے

    لیکن سوال یہ ہے کہ آپ کی جلد کیلئے کون سا ماسک بہتر رہے گا؟

    ملتانی مٹی کا ماسک:
    ملتانی مٹی کے ماسک کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ یہ جلد سے زائد تیل کو جذب کر لیتا ہے ملتانی مٹی کا ماسک چکنی اور خشک دونوں قسم کی جلد کیلئے موزوں ہوتا ہے۔

    کریم ماسک:
    کریم ماسک خشک اور نارمل جلد کیلئے بہترین انتخاب ہے،کریم ماسک جلد کے اندر تک نشوونما کرتا ہے کریم ماسک کو پانی کی بجائے ٹشو یا روئی سے صاف کر کے پانی سے چہرہ دھویا جائے

    ہربل فیشل بنانے کا طریقہ


    جیل ماسک

    بہترین نتائج کیلئے فیشل پیل ایک بہترین انتخاب ہے کیونکہ یہ جلد کے اندر تک جاتا ہے اورجلد کے خشک اور مردہ خلیا ت کو صاف کر دیتا ہے جیل ماسک آئلی سکن کیلئے موزوں ہوتا ہے۔جن عورتوں کی جلد چکنی ہوتی ہے وہ اسے خشک کرنے کے چکر میں خراب کر بیٹھتی ہیں اور جلد بالکل ہی اکڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے جیل ماسک اگرچہ آئل فری ہوتا ہے لیکن اس سے جلد کو پانی مناسب مقدارمیں ملتا ہے جس سے جلد تروتازہ رہتی ہے۔حساس جلد والی عورتوں کیلئے جیل ماسک کسی نعمت سے کم نہیں

    شیٹ ماسک:
    یہ ماسک عموماََ کاغذ یا کپڑے سے بنا ہوتا ہے اور لیکوئیڈ میں ڈبو کر پیک کیا جاتا ہے۔یہ ماسک چہرے کی شیپ میں ہی کٹا ہوتا ہے ۔شیٹ ماسک چہرے کو پانی کی مناسب مقدار فراہم کرتا ہے ۔اسے صرف چہرے پر لگا کر خشک کر کے اتارنا ہوتا ہے۔یہ ماسک خاص طور پر چہرے کی جھریوں وغیرہ کو ختم کرنے کیلئے استعمال کیا جا تاہے

  • مٹر میں چھپے صحت کے راز

    مٹر میں چھپے صحت کے راز

    مٹر موسم سرما کی مشہور سبزی ہے جس میں فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے مٹر کو سینکڑوں برسوں سے دنیا بھر میں کھایا جارہا ہے اور آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ بنیادی طور پر یہ مٹر سبزی نہیں بلکہ دالوں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں
    مگر مٹر کو سبزی کے طور پر ہی فروخت اور پکایا جاتا ہے

    تحقیقی رپورٹس کے مطابق یہ سبزی مختلف بیماریوں جیسے امراض قلب اور کینسر سے تحفظ میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے مگر دوسری جانب کچھ لوگوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اسے کھانے سے پیٹ پھولنے کی شکایت کا سامنا ہوسکتا ہے

    غذائی اجزا اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور:
    مٹر میں غذائی اجزاء کی مقدار متاثر کن ہے، اس کے آدھے کپ میں صرف 62 کیلوریز ہوتی ہیں اور 70 فیصد کیلوریز کاربوہائیڈریٹس سے ملتی ہیں جبکہ باقی پروٹین اور کچھ چکنائی سے حاصل ہوتی ہیں اس کے علاوہ مٹر میں لگ بھگ تمام وٹامن اور منرل موجود ہیں جو جسم کو درکار ہوتے ہیں اور آدھے کپ سے 11 گرام کاربوہائیڈریٹس 4 گرام فائبر 4 گرام پروٹین وٹامن اے کی روزانہ درکار 34 فیصد مقدار وٹامن کی روزانہ درکار 24 فیصد مقدار وٹامن سی کی روزانہ درکار 13 فیصد مقدار فولیٹ کی روزانہ درکار 12 فیصد مقدار تھایامین کی روزانہ درکار 15 فیصد مقدار میگنیز کی روزانہ درکار 11 فیصد مقدار آئرن کی روزانہ درکار 7 فیصد اور فاسفورس کی روزانہ درکار 6 فیصد مقدار حاصل ہوجاتی ہے

    اسی طرح پولی فینولز اینٹی آکسائیڈنٹس متعدد طبی فوائد فراہم کرتے ہیں

    نظام ہاضمہ بہتر بنائے:
    مٹر میں فائبر کی مقدار متاثرکن ہے جو نظام ہاضمہ کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، فائبر آنتوں میں موجود صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریا کی غذا کے طور پر کام کرتا ہے جو نقصان دہ بیکٹریا کو بڑھنے سے روکتا ہے اس سے مختلف امراض جیسے آنتوں کے ورم، آئی بی ایس اور آنتوں کے کینسر کا خطرہ کم ہوسکتا ہے جبکہ مٹر کھانے سے قبض کی روک تھام بھی ممکن ہوسکتی ہے

    گاجر کا استعمال اور اس کے فوائد


    پروٹین کے حصول کا بہترین ذریعہ:
    مٹر کو دیگر سبزیوں سے ممتاز کرنے والی خاصیت اس میں پروٹین کی زیادہ مقدار ہے جبکہ یہ نباتاتی پروٹین فائبر کے ساتھ پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرے رکھنے میں مدد دیتی ہے پروٹین کا زیادہ استعمال جسم میں ان مخصوص ہارمونز کی سطح میں اضافے کرتے ہیں جو کھانے کی خواہش میں کمی لاتے ہیں فائبر کے ساتھ مل کر پروٹین ہاضمے کا عمل سست رفتار کرتے ہیں اور پیٹ بھرنے کا احساس بڑھاتے ہیں تاہم یہ پروٹین کے حصول کا مکمل ذریعہ نہیں بلکہ اس میں امینو ایسڈ میتھولین موجود نہیں ہوتا، تو اس کے حصول کے لیے مٹر کو پروٹین کے دیگر ذرائع کے ساتھ ملا کر کھانا اس کمی کو دور کرسکتا ہے، مٹر میں موجود پروٹین کی مناسب مقدار مسلز کی مضبوطی اور ہڈیوں کی صحت کو بھی بہتر کرسکتی ہے جبکہ جسمانی وزن میں کمی اور اسے برقرار رکھنے کے لیے بھی فائدہ مند ہے

    نظام ہاضمہ بہتر بنائے:
    مٹر میں فائبر کی مقدار متاثرکن ہے جو نظام ہاضمہ کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے فائبر آنتوں میں موجود صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریا کی غذا کے طور پر کام کرتا ہے جو نقصان دہ بیکٹریا کو بڑھنے سے روکتا ہےاس سے مختلف امراض جیسے آنتوں کے ورم آئی بی ایس اور آنتوں کے کینسر کا خطرہ کم ہوسکتا ہے جبکہ مٹر کھانے سے قبض کی روک تھام بھی ممکن ہوسکتی ہے
    https://login.baaghitv.com/vitamin-a-ki-kami-ki-chand-nishanian/
    امراض قلب سے تحفظ:
    مٹر میں دل کی صحت کے لیے فائدہ مند منرلز جیسے میگنیشم، پوٹاشیم اور کیلشیئم کی مناسب مقدار موجود ہے، ان اجزا سے بھرپور غذا بلڈپریشر کی روک تھام میں مدد دے سکتی ہے جو امراض قلب کا خطرہ بڑھانے والے اہم ترین عناصر میں سے ایک ہے۔ فائبر بھی کولیسٹرول لیول کو کم کرکے امراض قلب کا خطرہ کم کرتا ہے جبکہ اس میں موجود فلیونولز، کیروٹین اور وٹامن سی بھی امراض قلب اور فالج کا خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

    کینسر سے بچاﺅ:
    مٹر کھانے سے کینسر کے خطرے کو بھی کم کیا جاسکتا ہے جس کی وجہ اس میں اینٹی آکسائیڈنٹس کی موجودگی اور جسمانی ورم میں کمی لانے کی صلاحیت ہے مٹر میں موجود نباتاتی مرکبات کو کینسر کش اثرات کا حامل سمجھا جاتا ہے اور تحقیقی رپورٹس کے مطابق یہ مرکبات مختلف اقسام کے کینسر کی روک تھام میں مدد دے سکتے ہیں اور رسولی کی نشوونما روک سکتے ہیں۔

    ذیابیطس کا خطرہ کم کرے:
    مٹر کھانے سے بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے جو کہ ذیابیطس کی روک تھام اور کنٹرول کرنے میں اہم عنصر ہے فائبر اور پروٹین سے بلڈشوگر لیول بہت تیزی سے نہیں بڑھتا جو ذیابیطس کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔ لو گلیسمک انڈیکس میں شامل ہونے کی وجہ سے یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہترین غذاﺅں میں سے ایک ہے جو بلڈ شوگر بڑھنے سے روکتا ہے اس میں موجود میگنیشم اور بی وٹامنز کے ساتھ وٹامن کے، اے اور سی بھی ذیابیطس کا خطرہ کم کرنے کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں

    کچی لہسن اور پیاز کا استعمال بریسٹ کینسر سے بچاؤ کے لئے انتہائی مفید


    اینٹی نیوٹریشن کی موجودگی:
    متعدد غذائی اجزا کی موجودگی کے ساتھ مٹر میں اینٹی نیوٹریشنز بھی پائے جاتے ہیں یہ ایسا نباتاتی مرکب ہے جو دالوں اور اجناس سمیت متعدد غذاﺅں میں پایا جاتا ہے، جو عام طور پر بیشتر صحت مند افراد کے لیے فکرمندی کی بات نہیں، مگر مٹر اور دالوں کا بہت زیادہ استعمال کرنے والوں کو اس حوالے سے احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ انہیں غذائی اجزا کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے یہ اینٹی نیوٹریشن آئرن کیلشیئم زنک اور میگنیشم جذب کرنے کے عمل میں مداخلت کرسکتے ہیں جبکہ گیس اور پیٹ پھولنے کا سامنا بھی ہوسکتا ہے تاہم مٹر میں دالوں کے مقابلے میں اینٹی نیوٹریشنز کی مقدار بہت کم ہوتی ہے تو یہ مسائل اس وقت تک لاحق نہیں ہوتے جب تک انہیں بہت زیادہ کھایا نہ جائے

  • سوشل میڈیا پر عورتوں کو بلیک میل کیے جانے کا حل : تحریر غنی محمود قصوری

    سوشل میڈیا پر عورتوں کو بلیک میل کیے جانے کا حل : تحریر غنی محمود قصوری

    معاشرے کا حصہ ہونے کی حیثیت سے ہر بندے کا حق ہے کہ وہ دوسروں کی طرح ہر سہولت کا استعمال کرسکے انٹرنیٹ اور خاص کر سوشل میڈیا کی بدولت یہ دنیا اس وقت ایک گلوبل ویلج بن چکی
    ہے لوگ اپنے سے دور بیٹھے عزیز و اقارب کیساتھ جلد رابطے کیلئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہیں جو کہ زیادہ تر محفوظ نہیں ہیں
    اس وقت پاکستان کی کل آبادی کا 22.2 فیصد افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جن میں بیشتر خواتین بھی شامل ہیں خواتین کی جانب سے بہت مرتبہ سائبر کرائم کی شکایات بھی ملی ہیں کچھ کم ظرف لوگ عورتوں کو اپنے جال میں پھانس کر ان کی تصاویر حاصل کر لیتے ہیں پھر ان تصویروں کی بدولت ان خواتین کو بلیک میل کرکے پیسے بٹورنے کے علاوہ جنسی تعلقات بھی قائم کر لیتے ہیں زیادہ تر خواتین ان بلیک میلروں کی باتوں میں آکر اپنی تصاویر ان کو دے بیٹھتی ہیں جنہیں یہ لوگ فوٹو شاپ و دیگر سوفٹ وئیر کے ذریعے اپنی مرضی کے مطابق ایڈٹ کر لیتے ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک بات بن جاتی ہے اور ایسا سب سے زیادہ فیس بک استعمال کرنے والی خواتین کے ساتھ ہوتا ہے زیادہ تر خواتین یہ غلطی کرنے کے بعد اپنی بدنامی کے ڈر سے خاموش ہی رہتی ہیں کیونکہ انہیں اپنی غلطی کی بدولت اپنے گھر والے افراد سے برے برتاءو کی توقع بھی رہتی ہے جس سے ان بلیک میلروں کے ناپاک عزائم کو مذید تقویت ملتی ہے عورتوں کی خاموشی ہی ان کی سب سے بڑی غلطی بن جاتی ہے جس سے یہ افراد دید ور ہو کر دوسری عورتوں کو بلیک میل کرکے پیسے اور جنسی تعلقات بڑھاتے ہیں کئی ایسی خواتین ان بلیک میلروں کی بدولت خاموش رہتے ہوئے ان کی ڈیمانڈیں پوری کرتی رہیں اور آخر تھک ہار کر خود کشی کرنے پر مجبور ہو گئیں
    عورتوں سے گزارش ہے کہ اپنی تصویر اپلوڈ نا کرنے کی عادت ڈالیں اور کسی بھی بغیر پہچان والے بندے کو اپنی تصویر ہرگز نا دیں تاکہ آپ کی زندگی جہنم بننے سے بچ سکے اور آپ کے بہن بھائی ،ماں باپ اور خاندان کے دیگر افراد سر فخر سے بلند کرکے اس معاشرے میں جی سکیں
    حالانکہ کسی پر اعتبار کرکے اسے اپنی تصویر یا ویڈیو دینا اتنا جرم نہیں جتنا بڑا جرم کسی کے اعتماد ٹھیس پہنچا کر اسے بلیک میل کرنا ہے
    مگرخدانخواستہ اگر کسی بھی عورت کے ساتھ ایسا معاملہ پیش آ جائے اور وہ اس غلطی کا شکار ہو چکی ہے تو مذید چکروں میں پڑ کر بلیک میل ہونے کی بجائے دوسری عورتوں کو اس بلیک میلر کا شکار نا ہونے دیں بلکہ معاشرے کے اس ناسور کو اس کے کردہ جرم کی سزا دلوائیں تاکہ کوئی اور حوا کی بیٹی اس کی بلیک میلنگ کی بھینٹ نا چڑھ سکے کیونکہ بلیک میل ہوتے رہنا یا پھر خودکشی کرلینا مسئلے کا حل نہیں اگر آپ خاموش رہی یا خودکشی کر گئی تو وہ بلیک میلر آپ کے بعد آپ کے گھر کے دیگر افراد کو بلیک میل کرے گا کیونکہ جب تک اس کے پاس آپ کی ویڈیو یا تصویریں ہونگی وہ بندہ بلیک میلنگ سے رکے گا نہیں عورت کا خاموش رہنا اپنے خاندان کی بدنامی کا ڈر ہے تو کیا فائدہ اس ڈر کا جو آپ کے بعد آپ کے خاندان کیلئے بھی ڈر بن جائے لہذہ خاموش رہنے اور خود کو ختم کرنے کی بجائے اپنی غلطی سے دی جانے والی ویڈیو یا تصویروں کو اس مجرم کو قانون کی گرفت میں لا کر ختم کروائیں کیونکہ سائبر کرائم کے انسداد الیکٹرونک کرائم ایکٹ 2015 کے تحت کسی بھی شخص کو فحش تصویر یا ویڈیو کے ذریعے بلیک میلنگ کرنے کی سزا 5 سے 7 سال قید یا 50 لاکھ روپیہ جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں ایک ساتھ ہو سکتی ہیں مذید یہ کہ اگر بلیک میلر بیرون ملک مقیم ہے تب بھی وہ اسی ایکٹ کے تحت مجرم ہے اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ اسے انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے کا حق رکھتا ہے اب تک کتنے ہی ایسے مجرموں کو پکڑ کر سزا ڈلوائی جا چکی ہے
    اگر آپ اس تکلیف میں مبتلا ہیں تو فوری فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی FIA کے سائبر کرائم ونگ کی چوبیس گھنٹے کام کرنے والی ہیلپ لائن 9911 پر کال کریں یا پھر ڈائریکٹر کرائم ایف آئی اے کے ای میل Dir.crime@fia.gov.pk
    ڈائریکٹر این آر 3 سی کے ای میل Pd@nr3c.gov.pk پر ای میل کرکے اپنی شکایت درج کروائیں اور ان کی ہدایات پر عمل کریں یہ ادارہ آپ کے راز کو راز ہی رکھتا ہے اور آن لائن آپ سے رابطے میں رہ کر مطلوبہ مجرم کو پکڑے گا وفاقی تحقیقاتی ادارہ مکمل تصدیق کرکے اس مجرم کو قابو کرکے آپ کا فحش مواد ختم کروائے گا اور یوں آپ کی اس جرآت سے دیگر حوا کی بیٹیاں اس کی بلیک میلنگ سے بچ جائیں گی اور پھر کوئی دوسری حوا کی بیٹی بلیک میلنگ سے مجبور ہوکر خود کشی نا کرسکے گی تو چپ رہ کر بلیک میل ہونے و خودکشی کرنے کی بجائے مجرم کیساتھ اپنا فحش ڈیٹا بھی ختم کروائیں تاکہ آپ اور آپ کے خاندان کے افراد سر فخر سے بلند کرکے جی سکیں

  • بے داغ اور حسین جلد کے چند اصول

    بے داغ اور حسین جلد کے چند اصول

    شاید آپ میک اَپ کے ذریعے اپنی پسند اور خواہش کے مطابق جِلد کو چمکدار اور بے داغ بناسکتی ہیں تاہم اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہر عورت جِلد کو فطری طور پر اچھی اور خوبصورت بنانے کی خواہشمند ہوتی ہے کیونکہ فطری خوبصورتی کا کوئی مقابلہ نہیں درج ذیل باتوں پر عمل کرکے آپ فطری طور پر ایک چمکدار، بے داغ اور خوبصورت جِلد حاصل کرسکتی ہیں

    جلد اور ساخت کا اندازہ لگانا:
    کوئی بھی بیوٹی پراڈکٹ استعمال کرنے سے پہلے چہرے کی جِلد اور ساخت کا اندازہ لگانا ضروری ہے تاکہ جِلد کی ساخت کے مطابق اسی قسم کے میک اَپ کو ترجیح دی جا سکے ورنہ ایک مصنوعی قسم کا تاثر ابھرتا ہے اور جِلد انفیکشن کا شکار بھی ہو سکتی ہے متضاد میک اَپ یا بیوٹی پراڈکٹس کا استعمال جِلد کو خراب کرنے کا باعث بنتا ہے سب سے اہم بات جو ہر کسی کو معلوم ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ آپ کی جِلد کس قسم کی ہے؟کیا آپ کی جِلد خشک ہے، حساس ہے، آئلی ہے یا ان سب کاکامبی نیشن ہے؟ آپ کو کون سی پراڈکٹس استعمال کرنی ہیں یا جِلد کے لیے آپ کو روزانہ کی بنیاد پر کیا کرنا ہے یہ سب آپ مؤثر اور بہتر طور پر اس وقت کرپائیں گی اور آپ کی محنت نتیجہ خیز رہے گی جب آپ کو اپنی اسکن ٹائپ کا علم ہوگا مثلاً اگر آپ کی جِلد آئلی ہے تو ایسی جِلد پر آئل بیسڈ موئسچرائزر سود مند ثابت نہیں ہوگا، تاہم خشک جِلد پر ان کا اثر سب سے بہترین دیکھا جاتا ہے

    چہرے کے داغ دھبے دور کرنے کی گھریلو ٹپس


    خشک جِلد پر میک اَپ کے لئے پہلے جِلد کو نمی فراہم کرنا بے حد ضروری ہوتا ہے تاکہ میک اَپ متوازن نظر آئےجِلد کو نم نہ کرنے کی صورت میں چہرے پر دھبے پڑ جاتے ہیں اگر آپ کی جِلد بے حد خشک ہے تو آپ نمی کے ساتھ ساتھ میک اَپ میں آئلی بیس یا فاؤنڈیشن کا استعمال کریں

    حساس جِلد رکھنے والی خواتین میک اَپ کے معاملے میں احتیاط برتیں چکنے فاؤنڈیشن کو بالکل استعمال نہ کریں جبکہ خشک فاؤنڈیشن یا خشک بیس کا استعمال ان کی جِلد کے لئے مناسب رہتا ہے

    کلینزنگ :
    اچھی جِلد کے لئے کلینزنگ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے کلینزنگ جِلد کی حفاظت کا ایک اہم حصہ ہے کیوں کہ اس سے گرد وغباراور میک اَپ کی صفائی آسانی سے ہوتی ہے اس طرح جِلد کو بہتر انداز میں آکسیجن حاصل ہوتی ہے اور جِلد کی نمی برقرار رہتی ہے جِلد کے لیے کلینزنگ ایک ایسا عمل ہے جو آپ کو ہمیشہ اور باقاعدگی سے کرنا چاہیے یاد رکھیں آپ کو روزانہ دو بار اپنی جِلد کی کلینزنگ ضرور کرنی چاہیے کلینزنگ سے آپ کی جِلد مٹی، میل، کالک اور ہر طرح کی آلودگی سے صاف ہوجاتی ہے۔اگر آپ کلینزنگ نہیں کریں گی تو جِلد پر بلیک ہیڈز، دانے اور ایکنی نکل آئیںگے اس طرح آپ کا بے داغ جِلد حاصل کرنے کا خواب پورا نہیں ہوپائے گا صبح اور رات میں، کلینزر کا استعمال آپ کی روز مرہ کی عادت میں شامل ہونا چاہیے

    دُودھ سے چہرےکی رنگت نکھارنے کے طریقے


    ٹوننگ:
    جِلد کی کلینزنگ کے مرحلے کا آخری حصہ جِلد کی ٹوننگ کرنا ہوتا ہے ٹوننگ دو طرح سے کام کرتی ہے پہلا یہ کہ جو مسام کی صفائی کلینزنگ سے رہ جاتی ہے ٹوننگ ان کی صفائی کا بھی کام کرتی ہے اس کے علاوہ کلینزنگ کے جو ذرات جِلد میں رہ جاتے ہیں ان کی بھی ٹوننگ کے ذریعےصفائی ہوجاتی ہے ٹوننگ سے آپ کی جِلد کی پی ایچ سطح بحال ہوجاتی ہے جب پی ایچ سطح بحال ہوجائے گی تو پھر آپ کی جِلد پر ریشے پیدا نہیں ہونگے

    موئسچرائزنگ کی اہمیت:
    اپنی جِلد کو کبھی خشک نہ ہونے دیں اپنی جِلد کو کم از کم اس حد تک ہر وقت موئسچرائز رکھیں کہ جِلدڈی ہائیڈریشن محسوس نہ کرے اس لیے اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ اپنی جِلد کی ٹائپ کے مطابق موئسچرائزر استعمال کررہی ہیں تاکہ آپ کی جِلد صحت مند رہے موئسچرائزنگ کو کبھی نہ چھوڑیں کیونکہ یہ آپ کی جِلد کو تروتازہ اور بحال رکھنے میں معاون رہتی ہے پانی کی کمی جِلد کو بھی متاثر کرتی ہے پانی کی کمی کی وجہ سے جِلد خشک اور بدرنگ ہو جاتی ہے آپ دن بھر میں پانی کی زیادہ مقدار پی کر اپنی جِلد کو نرم، ملائم اور ترو تازہ بنا سکتی ہیں

    رنگ گورا کرنے کا آزمودہ ٹوٹکہ


    جلد کے مطابق دُرست پراڈکٹس کا استعمال:
    جب ایک بار آپ جان لیں گی کہ آپ کی جلد کی کونسی ٹائپ ہے کہ تو اس کے بعد ہی آپ اپنی جِلد کے لیے درست پراڈکٹس کا انتخاب کر پائیں گی اس کے علاوہ، آپ کو اس بات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ آپ کی جِلد کو ہر موسم کے حساب سے مختلف پراڈکٹس کی ضرورت ہوتی ہے گرمیوں کے موسم میں آپ کی جِلد کو الگ طرح کے پراڈکٹس کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ سردیوں کے موسم میں آپ کی جِلد کو کچھ اور طرح کے پراڈکٹس کی ضرورت پڑے گی اگر آپ کی جِلد حساس نہیں ہے تو آپ کو ہر موسم کے حساب سے مختلف پراڈکٹس کا استعمال کرنا چاہیے اور اس سلسلے میں تجربات کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے

  • ذہنی دباؤ خوبصورتی کو متاثر کرسکتا ہے

    ذہنی دباؤ خوبصورتی کو متاثر کرسکتا ہے

    دنیا میں شاید ہی کوئی انسان ایسا ہو بلکہ ایسا کوئی انسان ہی نہیں جسے ذہنی دباؤ کا سامنا نہ ہوتا ہو ملازمت، یوٹیلیٹی بلز گھر کی پریشانیاں مہنگائی یا زندگی کا کوئی نہ کوئی واقعہ آپ کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کرسکتاہے تاہم اس کیفیت میں آپ کب تک رہتے ہیں یہ آپ پر منحصر ہے سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ ذہنی دباؤ کو کیسے مینیج کرتے ہیں۔عام طور پر ذہنی دباؤ سے دور رہنے کیلئے صحت بخش غذائیں ورزش اور بھرپور نیند جیسے معمولات پر عمل کیا جاتا ہے۔نیویارک کے ادارے الیون الیون ویلنیس سینٹر کے ہیلتھ کوچ جیکی ڈومبورگیان کا کہنا ہے اگر ذہنی دباؤ آپ کے بالوں جِلد اور ناخنوں سے ظاہر ہونے لگے تو آپ کبھی دباؤ کا شکار ہونا پسند نہیں کریں گی لیکن کچھ علامات ایسی ہیں جو آپ کے ذہنی دباؤ کو ظاہر کرسکتی ہیں
    آنکھوں کی حفاظت:
    اکثر اوقات اور لوگوں کو کل کیا کرنا ہے اس کی ٹینشن آج سے ہی شروع ہوجاتی ہے اور بعض اوقات کل کے متوقع حالات آج کی نیند اڑادیتے ہیں نیند نہ آنے کی وجہ سے آپ کی آنکھوں کے نیچے پانی جمع ہو جاتا ہے اور وہ پھولنے لگتی ہیں صبح اٹھنے کے بعد آپ کی آنکھیں اور زیادہ خرابی ظاہر کررہی ہوتی ہیں اگر آپ کو سیاہ حلقوں سے پاک خوبصورت آنکھیں چاہئیں تو ساری سوچوں کو ایک طرف رکھ کر موبائل اسکرین اور دیگر الیکٹرونک ڈیوائس بندکرکے بھرپور نیند لینے کی تیار ی کریں اور کیفین سے پا ک چائے جیسے کہ کیمومائل ٹی کا ایک کپ پئیں اس سے آپ کو اچھی نیند آئےگی اگر پھر بھی صبح آپ کی آنکھیں سوجی ہوئی ہوں تو ایک ٹھنڈا چمچ ( جو فریج میں رکھا ہو) الٹا کرکے آنکھوں کے نیچے پھیریں اس کے بعد آنکھوں کے نیچے الٹی مثلث بنا کر کنسیلر لگائیں ایسا کرنے سے آپ کے ناک سے چمک شروع ہو کرآپ کی آنکھوں تک بڑھتی چلی جائے گی اور اس سوجن کو چھپالے گی

    خواتین میں ہارٹ اٹیک سے پہلے ظاہر ہونے والی نشانیاں


    کیل مہاسے:
    ذہنی دباؤ کی وجہ سے جِلد کے مسائل بھی سامنے آتےہیں جیسے کہ ایکنی، چنبل یا ایگزیما ذہنی دباؤ کی وجہ سے کورٹیسول ریلیز ہوتا ہے اس کی وجہ سے جسم میں ایسے ہارمونز پیدا ہوتے ہیں جس سے آپ کے چہرے اور جِلد پر دانے نکلنا شروع ہو جاتے ہیں ذہنی دباؤ کی وجہ سے آپ کے جسم میں اچھے اور برے بیکٹیریاکا توازن بگڑ جاتاہے اوریہ آپ کے چہرے پر ایکنی کی صورت ظاہر ہونا شروع ہوتاہے اس کا حل یہ ہے کہ گہری سانسیں اس طریقے سے لیں کہ ایک لمبی سانس لے کر روک لیں اور چند سیکنڈوں کے بعد آہستہ آہستہ اپنے منہ سےنکالتے رہیں اس سے انزائٹی کم کرنے میں مدد ملتی ہے ماہرین اس کیلئے 10منٹ کا مراقبہ کرنے کا بھی مشورہ دیتے ہیں بہت سار ا پانی پینا اور متوازن غذا کھانا بھی اہمیت رکھتا ہے پھل ، سبزیاں اور اعلیٰ معیار کا پروٹین بھی ان مسائل کے حل کیلئے لازمی ہیں

    ہونٹوں کو خُشکی اور پھٹنے سے بچا نے کے لئے آسان طریقے


    خشک اور کھردری جِلد:
    اگر آپ انزائٹی کا شکار ہیں توہو سکتاہے کہ آپ زائد مقدار میں پانی نہ پی رہی ہوں خصوصاً موسم گرما میں زیادہ پانی نہ پینے سے ڈی ہائیڈریشن اور آپ کی جِلد کاغذ جیسی خشک ہو سکتی ہے اس کے سدباب کے لیے آپ بہت سارا پانی پئیں کم سے کم آٹھ گلاس اور وہ بھی ہر روز جسم میں صحت بخش اینٹی آکسیڈنٹس میں اضافے کیلئے آپ کو گرین ٹی پینے اور ایسی غذائیں کھانے کی ضرورت ہےجن میں پانی کی مقدار زیادہ ہو جیسے کہ کھیرے ، ٹماٹر، چقندر، تربوز یا ہری سبزیاں وغیرہ فوری ہائیڈریشن کیلئے ایک سیرم استعمال کریں جس میں ہیالیورونک ایسڈ ہو یہ ایسا جزو ہے جوقدرتی طور پر آپ کے جسم میں موجود ہوتاہے اور پانی سے ہزار گنا زیادہ وزن رکھتاہے یہ ہوا سے نمی جذب کرکے جِلد تک پہنچاتا ہے اور آپ کی جِلد دمکنے لگتی ہے

    خارش:
    ذہنی دباؤ کی وجہ سے بگڑنے والا ہارمون ڈائز بائی اوسس پیدا ہوتا ہے جس سے بُرے بیکٹیریا اچھے بیکٹیریا پر حاوی ہوجاتے ہیں اور جِلد میں خارش ہونے لگتی ہے جِلد کو پرسکون رکھنے کیلئے سانس کی مشق بہت کام آتی ہے گہری سانس لینے سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے اور اس قسم کے مسائل کم پیدا ہوتے ہیں سانس کی مشق کے علاوہ آپ ڈاکٹر سے بھی رجوع کریں

  • بالوں میں ہیئر برش  کس طرح کرنا چاہیئے؟

    بالوں میں ہیئر برش کس طرح کرنا چاہیئے؟

    بالوں میں برش کرنا روز مرہ کا کام ہے جس کو درُست طریقے سے انجام دینا بے حد ضروری ہے تا کہ بال خوبصورت نظر آئیں اور ٹوٹنے اور گرنے سے محفوظ رہ سکیں مگر بالوں میں درُست طریقے سے برش کرنے سے بھی پہلے جو چیز ضروری ہے وہ ہے اپنے بالوں کے لیے صحیح برش کا انتخاب کرنا

    ایک ایسے برش کا انتخاب کرنا چاہیئے جس کا ہینڈل ہلکے ربڑ یا لکڑی سے بنا ہو تا کہ با آسانی پکڑ میں آ سکے برش کے سرے گول ہونے چاہئیں تا کہ آسانی سے جلد تک پہنچ سکیں اور رگڑ کر برش کرنے سے سر کی جلد کو زخمی بھی نہ کریں ایسے برش ہمارے بالوں کے لیے نہایت مناسب ہیں

    نائیلون برسٹلز پر مشتمل ہیئر برش ہر گزنہیں خریدنے چاہیئے یہ ہمارے بالوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کے سرے ہموار نہیں ہوتے اور برش کرتے وقت بالوں میں اُلجھ جاتے ہیں برسٹلز کے سرے ہموار طریقے سے ربڑ کوٹڈ ہونے چاہئیں یہ ہمارے بالوں کو خاص کر خشک بالوں کو برش سے چپکنے سے بچاتے ہیں

    ہیئر برش کا صحیح استعمال:
    بالوں میں برش کرتے وقت دھیان رکھیں کہ بالوں میں برش ہمیشہ جڑوں سے سروں کی جانب کریں بالوں میں برش پھیرنے سے کھوپڑی میں خون کی گردش اچھے طریقے سے ہوتی ہے جو آپ کے بالوں کی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے سر کے ہر حصے میں یکساں انداز میں برش کریں

    گرتے ہوئے بالوں کو روکنے کا آسان علاج


    ا س سے نہ صرف آپ کے بالوں پر جمی دھول مٹی ہٹ جاتی ہے بلکہ بال خوبصورت بھی نظر آتے ہیں بالوں میں برش کرنے سے پہلے بالوں کو مختلف حصوں میں تقسیم کر لیں ایک ہاتھ سے بال پکڑیں اور دوسرے ہاتھ سے برش کریں

    اگر آپ اپنے لمبے بالوں میں ایک ہی سٹروک برش کا کر رہی ہیں تو آپ اپنے بالوں کے ٹوٹنے کا سبب خود ہیں لمبے بالوں میں آہستہ آہستہ برش کریں پہلے ٹھوڑی تک بالوں میں برش کریں پھر آہستہ آہستہ برش کو بالوں کے سرے تک لے جائیں

    جب آپ بالوں میں اچھے طریقے سے برش کر چکی ہوں تو گردن جھُکا کر تمام بالوں کو اوپر کی جانب موڑ لیں اور ا ب گردن کے اختتامی حصے سے سر کی اوپری جانب بالوں میں برش پھیریں استعمال کے بعد ہیئر برش کو دھو لیں

    اگر آپ روز یہ عمل نہیں دُہرا سکتیں تو کم از کم ہفتے میں ایک بار ضرور یہ عمل کریں نیم گرم صابن ملے پانی میں چند منٹوں تک برش کو بھگو کر رکھیں کسی بھی اچھی جراثیم کش دوا کے چند قطرے اس میں ڈالیں اور پھر برش کو دھو ڈالیں

    پھر کاٹن کے کپڑے سے اس کو خشک کر لیں سر کو کسی بھی قسم کے انفیکشن سے بچانے کے لیے نہایت ضروری ہے کہ آپ اپنا ہیئر برش کسی کے ساتھ ہر گز شیئر نہ کریں

    گیلے بالوں میں بھی کبھی برش مت کریں کیونکہ ان کی جڑیں کمزور ہوتی ہیں اور ذرا سا جھٹکا لگنے سے بال ٹوٹنے لگتے ہیں۔بالوں میں برش اس وقت کریں جب بال خشک ہو چُکے ہوں

  • پی سی اوز کیا ہے اس کی وجوہات اور علاج

    پی سی اوز کیا ہے اس کی وجوہات اور علاج

    ہار مونز کے عدم توازن سے انسان میں بہت سے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں جو کہ مستقبل میں کئی بیماریوں کا سبب بن جاتے ہیں لیکن ہار مونز کے نظام میں عدم توازن کب پیدا ہوتا ہے یا پھر ان سے کون سی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور ان کا علاج کیسے ممکن ہے اس حوالے سے بہت کم خواتین آ گاہ ہوتی ہیں

    در اصل ہمارے معاشرے میں پلے سیسٹک اووریز سینڈروم کی بیماری عام ہے اور اس کا مطلب ہار مون کی خرابی ہے اس کی وجوہات پر نظر ڈالی جائے توسب سے بڑی وجہ غذا ہے یہ بیماری ایک غذائی بگاڑاس وجہ سے بھی ہے کیونکہ ہم وہی نظر آتے ہیں جو ہم کھاتے ہیں غذا ہی ہمارے خون کا حصہ بنتی ہے اور اسی سے بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں

    ہمارے ہاں لڑکیاں کھانے میں دودھ کا استعمال نہیں کرتیں اور مرغن غذائیں زیادہ استعمال کرتی ہیں جس کے بعد ورزش تک کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتیں

    یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد لڑکیوں کا وزن بڑھنے لگتا ہے اور ساتھ ہی کیلشیئم کی کمی بھی واقع ہو جاتی ہے اگر آج کل کے حساب سے دیکھیں تو اس ضمن میں میتھی بہترین غذا ہے لڑکیوں کو چاہیے کہ میتھی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں کیونکہ ہارمونز کے عدم توازن کی وجہ سے ہی بانجھ پن پیدا ہوتا ہے لڑکیوں کو چاہیے کہ میتھی کی سبزی کھا لیں یا پھر اس کا قہوہ بنا کر پی لیں

    چاہے کسی بھی قسم کے ہار مونز میں عدم توازن ہو یہاں تک کہ ان کی وجہ سے مخصوص ایام میں بے قاعدگی ہی کیوں نہ ہو تو ایسی صورت میں لڑکیوں کو چاہیے کہ بینگن کا استعمال زیادہ کریں یا پھر جامن کے پتوں کا قہوہ بنا کر پئیں

    کچی لہسن اور پیاز کا استعمال بریسٹ کینسر سے بچاؤ کے لئے انتہائی مفید


    ہارمونز کے عدم توازن کی وجہ سے بڑھنے والے وزن کو کم کرنے کے لیے جامن کے بیج اور میتھی دانہ پیس کر اور اس کا قہوہ بنا کر پی لیں ایسی چیزوں کو جوس کی شکل میں پینے سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے

    اور اگر ایسا نہ کر سکیں تو پھانک کر پانی بھی پی سکتی ہیں۔اس کے علاوہ غذا کے ساتھ ساتھ چہل قدمی کرنا بھی ضروری ہے اگر چہل قدمی تھوڑی تیز رفتاری کے ساتھ کی جائے تو اس سے چربی بھی جلتی ہے

    آپ کو چاہیے کہ نظامِ ہضم کو تیز بنانے کے لیے دن کے مختلف حصوں میں تھوڑا تھوڑا کھائیں۔ کثر لڑکیاں شکایت کرتی ہیں کہ میں تو کچھ نہیں کھاتی اس کے باوجود میرے وزن میں اضافہ ہو رہا ہے

    یہ حقیقت بھی ہے کہ وہ واقعی کچھ نہیں کھاتیں لیکن اس نہ کھانے کہ وجہ سے ان میں آئرن کی کمی واقع ہو جاتی ہے جس کے باعث ان کا جگر چربی بنانے لگتا ہے لہٰذا کھانا کبھی بھی مت چھوڑیں اپنی غذا بھر پور لیںساتھ میں ورزش ضرور کریں

  • خشک جلد کے لئے بہترین ماسک

    خشک جلد کے لئے بہترین ماسک

    سردیوں میں ہماری جلد خشکی اور مختلف مسائل کا شکار ہو جاتی ہے بہت سے ایسے مسائل ہیں جو اس موسم میں شدت پکڑ لیتے ہیں مثلاً جلد کا پھٹنااور خشکی وغیرہ اس سلسلے میں خصوصی احتیاط اور ان کا بروقت علاج کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ ہماری جلد بے رونق اور روکھی سی ہو جاتی ہے

    ہماری جلد کو نرم و ملائم اور خوبصورت رہنے کے لیے مناسب نمی کی ضرورت ہوتی ہے اگر کسی وجہ سے نمی کی مناسب مقدار جلد کو میسر نہ ہو تو اس کی ساخت خشک ہو جاتی ہے۔بعض مردو خواتین کی جلد قدرتی طور پر خشک ہوتی ہے جو کوئی سنگین مسئلہ نہیں ہے جلد کو خشک اور کھردرا بنانے میں زیادہ تر موسمی اثرات غیر مناسب احتیاط،سستے لوشن یا صابن کا استعمال،جسم میں پانی اور وٹا منز کی کمی اور غیر مناسب خوراک وغیرہ وجہ بنتے ہیں
    https://login.baaghitv.com/shehad-sy-skin-ko-khoobsurat-bnaney-k-behtareen-tareeky/
    اگر خشک جلد کی مناسب دیکھ بھال نہ کی جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ جلد کھردری اور جھریوں کا شکار ہو جاتی ہے ایسے میں ہمیں سب سے پہلے اپنی خوراک کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے تا کہ اندرونی طور پر جلد میں نمی پیدا ہو ایسی غذائوں کا استعمال کرنا چاہیئے جو جلد کو تازگی فراہم کرتی ہیں اس کے بعد جلد کی بیرونی حفاظت کی باری آتی ہےاس حوالے سے چند ماسکس کا استعمال کر کے ہم خاص طور پر سرد موسم میں نہ صرف جلد کی تازگی برقرا ر رکھ سکتے ہیں بلکہ خوبصورت اور جاذب نظر بھی نظر آ سکتے ہیں

    سردیوں میں خشک جلد کے لیے بہترین کیلے کا ماسک ہے یہ ماسک جلد کو قدرتی نمی اور موئسچرائزر فراہم کرتا ہے یہ ماسک چہرے پر لگانے سے پہلے منہ اچھی طرح دھو کر خشک کر لیں ماسک بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ مسلا ہوا کیلا، پائوڈر کا دودھ او ر ایک چائے کا چمچ شہد ملا کر پیسٹ تیار کر لیں پھر چہرے اور پوری گردن پر لگائیں اس کے بعد ململ کے باریک کپڑے سے چہرے کو ڈھانپ لیں پندرہ منٹ کے بعد چہرہ اور گردن دھو لیں

    خشک جلد کے لیے ایک اور بہترین ماسک پھینٹا ہوا دہی اور شہد ملا کر استعمال کیا جا سکتا ہے دونوں اجزاء کو شامل کر کے کیلے کے ماسک کی طرح ہی چہرے پر لگائیں اور پندرہ سے بیس منٹ بعد نیم گرم پانی سے چہرہ دھو لیں دہی کا ماسک جلد میں نمی پیدا کرتا ہے ساتھ ہی رنگت بھی نکھارتا ہے

    چکنی جلد والی خواتین کو چاہیے کہ سردیوں میں جلد کو خوبصورت بنانے کے لیے انڈے کی سفیدی اور لیموں کا ماسک لگائیں ۔ نڈے کی سفیدی میں چند قطرے لیموں شامل کر کے اتنا پھینٹیں کہ جھاگ بن جائے اب اسے چہرے پر لگائیں اور خشک ہونے کے لیے چھوڑ دیں خشک ہونے کے بعد ٹھنڈے پانی سے چہرہ دھو لیں

    نارمل جلد کے لیے ایک حصہ خشک پائؤڈر دودھ او ر ایک حصہ کچی ملتانی مٹی لے کر اس میں زیتون کا تیل ملا لیں اور پیسٹ بنا کر چہرے اور گردن پر لگائیں پندرہ منٹ بعد صاف پانی سے چہرہ دھو لیں

  • دودھ پلانے والی ماؤں کے لئے مفید غذائیں

    دودھ پلانے والی ماؤں کے لئے مفید غذائیں

    قدرت نے ماں کے دودھ میں وہ غذائیت رکھی ہے جو بچے کی ذہنی اور جسمانی نشوو نما کے لیے ضروری ہے ،چونکہ ماں کی غذا دودھ کی صورت میں بچے کی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے،اس لیے بچے کو بھر پور غذائیت پہنچانے کے لیے ماں کو دن بھر میں کئی مرتبہ تھوڑی تھوڑی مقدار میں ایسی صحت بخش غذا کھانی چاہیے جس سے نہ صرف ماں کے دودھ میں اضافہ ہو سکے بلکہ ان کی صحت بھی بحال رہے

    بچوں کی بہترین نشوونما ہر والدین کا بنیادی فرض ہے ماں بچے کی نشوونما کو کیسے بہتر بنا سکتی ہے


    بچے کی پیدائش کے بعد سے لے کر دودھ پینے کی عمر تک ماں کو ڈائٹنگ نہیں کرنی چاہیے بلکہ کچھ ماہرین تو یہ کہتے ہیں کہ ان مائوں کو گھی اور ڈیری مصنوعات کا بلا جھجھک استعمال کرنا چاہیے۔نہیں کیلوریز بڑھنے کی فکر چھوڑ کر بہترین اور صحت مند غذا لینی چاہیے

    اور ساتھ ساتھ ہلکی پھلکی ورزش کر لینے میں بھی کوئی حرج نہیں دودھ پلانے والی مائوں کوچاہیے کہ زیادہ دیر تک خالی پیٹ مت رہیں انہیں بغیر چھلکے والی سبزیاں اور پھل مثلاً پالک،گاجر،ٹماٹر ،سٹرابیری،انگور اور آڑو وغیرہ اچھی طرح دھو کر کھانی چاہیے

    دودھ پلانے والی مائوں کے لیے کیفین مثلا چائے،کافی اور کولڈ ڈرنک کا زیادہ استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے اگر بچے کو کسی قسم کی الرجی یا انفیکشن ہو تو ماں کو مرچ مصالحے والی چیزیں کھانے،ٹھنڈ اپانی پینے، ٹھنڈے چاول اور چاکلیٹ وغیرہ کھانے سے احتیاط کرنی چاہیے کچے آم،دال،آلو اور کچے کیلے بچے کے پیٹ میں گیس پیدا کرتے ہیں اس لیے دودھ پلانے والی مائوں کوان غذاؤں کے استعمال سے بھی پرہیز کرنا چاہیے

    ہرے پتے والی سبزیاں دودھ پلانے والی ماؤں کے لئے بے حد مفید ہیں اکثر دودھ پلانے والی مائیں خون کی کمی کا شکار ہو جاتی ہیں ان کے لیے ہرے پتے والی سبزیاں جن میں پالک،سرسوں،بتھوئے کے پتے اور میتھی،سویا وغیرہ شامل ہیں بہت فائدہ مند ہیں پالک میں ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو بریسٹ کینسر سے بھی محفوظ رکھتے ہیں

    دودھ پلانے والی مائوں کے لیے سفید چاول کی جگہ برائون چاول کا استعمال بہتر ہوتا ہے دودھ پلانے والی مائوں کے ہار مونز کو بیلنس کرنے،بھوک میں اضافہ کرنے اور فوری توانائی بحال کرنے میں برائون چاول مفید ہوتے ہیں

    آج کل گاجر کا موسم ہے ایسے میں چھوٹے بچوں کی مائوں کو چاہیے کہ گاجر کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریںاس میں موجود وٹامن اے ماں کے دودھ کی خصوصیات میں اضافہ کرتا ہے ۔گاجر کو دودھ میں پکا کر سوپ یا جوس کی صورت میں لینا زیادہ بہتر ہے

    بچے کی پیدائش کے بعد اکثر مائیں بے چینی،گھبراہٹ اور ذہنی تنائو کا شکار ہو جاتی ہیں ایسی خواتین کے لیے خشخاش کا استعمال مفید ہے دن میں ایک دفعہ تھوڑی مقدار میں خشخاش کھائی جا سکتی ہے اس کے علاوہ خشخاش کا استعمال دلیہ اور کھیر میں ڈال کر بھی کیا جا سکتا ہے

    دودھ پلانے والی ماؤں کے لئے زیرہ بھی ایک مفید غذا ہے بہترین مناسب مقدار میں زیرے کا استعمال ماں کے دودھ میں اضافہ کرتا ہےیہ نہ صرف زائد چربی پگھلانے میں مدد کرتا ہے بلکہ قبض اور سینے کی جلن کو بھی دور کرتا ہے

    سونف میں چھپے صحت کے راز جانئے


    دودھ پلانے والی مائوں کے لیے سونف کا استعمال بھی ہر لحاظ سے بہتر ہے یہ نہ صرف ماں کے دودھ میں اضافہ کرتی ہے بلکہ بچے کے پیٹ کے درد کو بھی دور کرتی ہے سونف کو دودھ میں اُبال کر پیا جا سکتا ہے یا کھانے کے بعد چبایا جا سکتا ہے

    دنیا بھر میں میتھی اور میتھی دانہ کو ماں کے دودھ میں اضافہ کرنے والی غذا مانا جاتا ہے میتھی میں وٹامن بی،آئرن،بیٹا کیرو ٹن اور اومیگا تھری پایا جاتا ہے میتھی کو میتھی دانہ کی چائے،میتھی دانہ کی کھچڑی،میتھی کا ساگ اور میتھی کے پراٹھے کی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے