Baaghi TV

Category: خواتین

  • جسمانی تبدیلیوں کو نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے

    جسمانی تبدیلیوں کو نظر انداز کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے

    انسانی جسم میں رونما ہونے والی ہر ایک نئی تبدیلی صحت سے متعلق کوئی نہ کوئی پیغام لاتی ہے ان تبدیلیوں کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان پر توجہ دینی چاہیے ماہرین جسمانی امراض کے مطابق جب ہم چھوٹی چھوٹی تکلیفوں یا کسی نئی جسمانی علامت کو نظر انداز کرتے ہیں تو یہی بظاہر چھوٹی نظر آنے والی تکلیف یا علامت بعد میں بڑی بیماری کی شکل میں سامنے آتی ہے ، جس کے نتیجے میں ہمارا خود کے ساتھ یہ رویہ پچھتاوے کا سبب بنتا ہے مگر وقت ہمارے ہاتھ سے اور بیماری علاج سے باہر نکل چکی ہوتی ہے

    چند مصالحہ جات جو معدے کی تیزابیت ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں


    روز مرہ کی زندگی کی بھاگ دوڑمیں خود پر کڑی نظر رکھنی چاہیے اور مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہوتے ہی معالج سے رابطہ کرنا چاہیے

    سینے میں درد کی شکایت:
    ماہرین کے مطابق سینے کے درد کی 30 وجوہات ہو سکتی ہیں، ان میں سے کچھ معمولی ہوتی ہیں جیسے کہ مضر صحت غذا کے نتیجے میں سینے کا جلنا وغیرہ، مگر ہر بارغذا کو ہی وجہ نہیں سمجھنا چاہیے یہ ایک چھوٹا ہارٹ اٹیک بھی ہو سکتا ہے ایسی صورت میں درد کو برداشت نہ کریں اگر سینے میں درد کے ساتھ سانس کا پھولنا، ٹھنڈے پسینے کا آنا اور دل کا تیز دھڑکنا بھی شامل ہے تو فوراًاپنے معالج سے رجوع کریں

    سر درد کا شکایت:
    جب آپ کو سر درد محسوس ہو تو سمجھ جائیں آپ کا جسم آپ سے کچھ کہہ رہا ہے، بیشتر افراد اس صورت میں پین کلرز کے ذریعے درد کو دبا لیتے ہیں اور کام جاری رکھتے ہیں، اگر آپ صحیح مقدار میں پانی پی رہے ہیں اور پھر بھی سر سے درد نہیں جا رہا تو اس پر ایکشن لینا ضروری ہے سر درد کی بہت سی وجوہات میں سے چند اسباب غذائیت کی کمی کم نیند لینا یا ذہنی دباؤ کا شکار ہونا شامل ہو سکتا ہے

    جسم میں درد کا محسوس ہونا:
    اگر آپ صحت مند ، چاک و چوبند ہیں اور غذا بھی بہتر لے رہے ہیں تو جسم میں درد کا رہنا مناسب علا مت نہیں ، چاہے آپ نے سارا دن بہت مصروف گزارا ہو، اگر آپ بہتر غذا کا استعمال کر رہے ہیں صحت بھی بظاہر اچھی ہے اور پھر بھی جسم میں تھکاوٹ یا درد کی مسلسل شکایت ہے تو معالج سے رابطہ کریں اور اپنے مکمل ٹیسٹ کروائیں
    https://login.baaghitv.com/vitamin-a-ki-kami-ki-chand-nishanian/
    وزن کا بڑھنا یا کم ہونا:
    وزن میں کمی کے خواہشمند افراد اگر اس کے لیے ڈاکٹر کے بتائے ہوئے ڈائیٹ پلان یا ورزش کے بغیر ہی وزن میں کمی آنے لگے تو یہ منا سب علامت نہیں، مگر اس کے نتائج غیر معمولی ہو سکتے ہیں ، بغیرعادات کے بدلنے یا ورزش کے وزن میں کمی آنے لگے تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں آپ ٹی بی، ذیابطیس، وائرل انفیکشن، معدے کی بیماری، ذہنی دباؤ یا کسی اور خاموش بیماری کا شکار بھی ہو سکتے ہیں

    جلد پر تل یا داغ دھبوں کا بننا:
    اگر آپ کے جلد پر اچانک بغیر کسی چوٹ، زخم، ایکنی یا پھنسی پھوڑوں کے داغ دھبے بننے لگیں تو انہیں نظر انداز نہ کریں، چند نشانات یا تلوں کا بننا ایک عام بات ہے مگر ان تلوں میں اضافہ یا داغ دھبوں کا سائز اور رنگ بدل رہا ہے تو ماہر جلدی امراض سے فوری رجوع کریں

    بالوں کا باریک ہونا:
    مردوں کا گنجا ہونا ایک عام سی بات ہے، اگر آپ خاتون ہیں اور گنجی ہو رہی ہیں یا روٹین سے ہٹ کر اپنے بال گرنے لگے ہیں یا بال باریک ہو رہے ہیں تو یہ فکر مند ہونے کی بات ہے بالوں کے باریک ہونے کی وجہ غذائیت ، وٹامنز کی کمی یا کیمکلز کا زیادہ استعمال اور سختی سے باندھ کر رکھنا بھی ہو سکتا ہے

    جلد اور ہونٹوں کا پھٹنا:
    اگر آپ کے ہونٹ اور جلد خشک موسم کے ساتھ گرم موسم میں بھی پھٹ ر ہے ہیں تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں، جسم کا سب سےزیادہ حصہ ہماری جلد پر مشتمل ہے اور اگر یہ خشک ہونے لگے تو یہ فکر مندی کی بات ہے جلد اور ہونٹوں کی پھٹنے کی وجہ وٹامن بی اور بی 12 کی کمی بھی ہو سکتی ہے جوبے خوابی کی وجہ بھی بنتا ہے

  • پلاسٹک کے برتن انسانی صحت پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں ؟

    پلاسٹک کے برتن انسانی صحت پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں ؟

    رنگ برنگے اور وزن میں ہلکے اور قیمت میں کم پلاسٹک کے برتن آج کل ہر مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہیں ان برتنوں کا استعمال اتنا بڑھ چکا ہے کہ اب ہر جگہ کھانے کے لئے یہی برتن نظر آتے ہیں ان میں آسانی سے کھانا مائیکرو ویو کے ذریعے گرم بھی ہو جاتا ہے

    پلاسٹک کیسے بنتا ہے؟
    پلاسٹک کئی کیمکلز سے مل کر بنتا ہے جس میں ’بسفینال اے یعنی بی پی اے نامی ایک مادہ پایا جاتا ہے پولی مرز مادوں سے تیار شدہ پلاسٹک کو کسی بھی رنگ اور شکل میں ڈھالا جا سکتا ہے دنیا بھر میں اس مادہ سے بہت سی ضرورت کی اشیا بنائی جا رہی ہیں جن میں کچن میں استعمال ہونے والے برتن پیکنگ اور دیگر اشیا شامل ہیں بی پی اے مادہ پلاسٹک کو سخت بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے

    پلاسٹک کی کوئی بھی قسم اچانک نقصان نہیں پہنچاتی اس کا باقاعدگی سے استعمال انسانی صحت پر مضر اثرات مرتب کرتا ہے پلاسٹک برتنوں یا گھر میں کسی بھی صورت میں استعمال کے لیے موزوں نہیں ہے

    ب پی اے کے نقصانات:
    بسفینال اے یعنی بی پی اے یقیناً بہت خطرناک مادہ ہے اس سے کئی بیماریوں کا خدشہ ہوتا ہے جیسے کہ دل کی بیماریاں، بریسٹ کینسر سمیت معدے اور آنتوں کا کینسر اور ذیابطیس وغیرہ مارکیٹ میں بی پی اے فری اشیاء بھی دستیاب ہیں لہذا خریدتے وقت احتیاط کریں اور بی پی اے فری برتن خریدیں

    پلاسٹک کو نرم اور لچک دار بنانے کے لیے استعمال کیے جانے والے مادے کو فیتالیٹ کہا جاتا ہے یہ بیوٹی پروڈکٹس اور گھر میں استعمال کی جانے والی اشیا میں بھی استعمال کیا جا تا ہے

    مٹی کے برتن میں کھانا پکانے کے فائدے


    فیتالیٹ کے نقصانات:
    اس کے استعمال سے بھی صحت پر اثرات سامنے آسکتے ہیں جن میں خواتین کے جملہ امراض سمیت بریسٹ کینسر ، مردوں میں اسپرم کی کمی ، آٹزم اسپکٹرم ڈس آرڈر، شوگر ٹائپ 2 ، دمہ اور دماغی بیماریاں ’آئی کیو لیول ‘ کا کم ہو جانا شامل ہے

    اسٹائرین پلاسٹک:
    یہ پلاسٹک انڈوں کے ریک تیار کرنے میں، ڈسپازیبل کپس ، گلاس ، چمچے اور پلیٹیں تیار کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے اس پلاسٹک کے استعمال سے مختلف اقسام کے کینسر وجود میں آتے ہیں اسٹائرین پلاسٹک میں پائے جانے والےمتعدد قسم کے اجزاء مضر صحت ہیں

    وینائل کلورائیڈ:
    اس پلاسٹک سے زیادہ تر ٹرانسپیرنٹ شیٹس ، دستر خواں، بیگز، بیڈ شیٹس اور پردے وغیرہ بنتے ہیں یہ بہت پتلا اور لچکدار مادہ ہوتا ہے اور یہی پلاسٹک کینسر کا سبب بنتا ہے

    انسانی صحت کے لیے پلاسٹک کسی بھی صورت فائدہ مند نہیں ہے پلاسٹک کے انسانی آنکھ سے نظر نہ آنے والے چھوٹے چھوٹے ذرّا ت پلاسٹک کے برتنوں میں غذا کے ذریعے سونگھنے اور ایسےبرتنوں کے ہاتھ لگانے کے ذریعے بھی ہمارے اندر منتقل ہو جاتے ہیں

    سب سے زیادہ پلاسٹک کا یہ مادہ ہمارے اندر پلاسٹک کے برتنوں میں کھانا گرم کرنے اور اسی میں کھانے سے با آسانی منتقل ہو جاتا ہے

    اس ایک سروے کے مطابق پلاسٹک کے استعمال بڑھ جانے کی وجہ سے گزشتہ چند دہائیوں میں مردوں کے اسپر م میں 40 فیصد کمی آئی ہے جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں بانجھ پن میں اضافہ ہوا ہے

  • پستہ  کے حیران کن طبی فوائد

    پستہ کے حیران کن طبی فوائد

    پستے میں صحت کے لیے فائدہ مند چکنائی اور پروٹین، فائبر اور اینٹی آکسائیڈنٹس کی اچھی خاصی مقدار ہوتی ہےاس کے ساتھ ساتھ اس میں متعدد اہم اجزاء بھی ہوتے ہیں جس کو کھانے سے جسمانی وزن میں کمی لانے کے ساتھ دل اور معدے کی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملتی ہےاس کا استعمال 7 ہزار قبل مسیح سے لوگ کررہے ہیں اور آئس کریم اور مختلف میٹھے پکوانوں میں بھی اس کو شامل کیا جاتا ہے

    صحت کے لیے فائدہ مند غذائی اجزا سے بھرپور:
    پستے بہت زیادہ پرغذائیت ہوتے ہیں جس کے 28 گرام مقدار یا 49 دانوں میں درج ذیل غذائی اجزا جیسے 159 کیلوریز، 8 گرام کاربوہائیڈریٹس، 3 گرام فائبر، 6 گرام پروٹین، 13 گرام چکنائی (90 فیصد ان سچورٹیڈ فیٹس)، پوٹاشیم کی روزانہ درکار مقدار کا 6 فیصد حصہ پوٹاشیم، فاسفورس کی روزانہ درکار مقدار کا 11 فیصد حصہ، وٹامن بی سکس کی روزانہ درکار مقدار کا 28 فیصد حصہ، تھایامین کی روزانہ درکار مقدار کا 21 فیصد حصہ، کاپر کی روزانہ درکار مقدار کا 41 فیصد حصہ، میگنیز کی روزانہ درکار مقدار کا 15 فیصد حصہ موجود ہوتا ہے اسی طرح پستے وٹامن بی 6 سے بھرپور غذاﺅں میں سے بھی ایک ہے وٹامن بی 6 متعدد جسمانی افعال بشمول بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے اور ہیموگلوبن بننے وغیرہ کے لیے ضروری ہوتا ہے

    اخروٹ میں چُھپے صحت کے راز


    بلڈ پریشر اور کولیسٹرول لیول میں کمی:
    پستے مختلف طریقوں سے امراض قلب کا خطرہ کم کرتے ہیں اینٹی آکسیڈنٹس کے ساتھ ساتھ یہ گری بلڈ کولیسٹرول میں کمی اور بلڈ پریشر کو بہتر کرسکتی ہے جس سے بھی امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہےمختلف تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوتا ہے کہ پستے کولیسٹرول کی سطح میں کمی لانے میں مدد دے سکتے ہیں نقصان دہ کولیسٹرول کے شکار افراد پر ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پستے کھانے سے کولیسٹرول کی شرح میں 9 فیصد کمی دیکھنے میں آئی جبکہ دن کی 20 فیصد کیلوریز اس گری سے حاصل کرنا کولیسٹرول کی شرح میں 12 فیصد تک کمی آسکتی ہے

    پروٹین سے بھرپور:
    گریاں کھانے کے متعدد فوائد ہوتے ہیں مگر عام طور پر ان میں کیلوریز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے مگر پستے سب سے کم کیلوریز والی گریوں میں سے ایک ہے28 گرام پستوں میں 159 کیلوریز پائی جاتی ہیں جبکہ اخروٹ کی اتنی مقدار میں 185 کیلوریز ہوتی ہے دوسری جانب پروٹین کے حوالے سے پستے بادام کے بعد دوسری اہم ترین گری ہے پستوں میں امینو ایسڈز کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے جو پٹھوں کی صحت کے لیے بہت ضروری ہوتے ہیں جبکہ یہ امینو ایسڈز اس لیے بھی ضروری ہیں کیونکہ جسم خود انہیں بنا نہیں سکتا، اور وہ غذا کے ذریعے ہی حاصل کیے جاتے ہیں اسمیں ایک امینو ایسڈ ایل آرگینی بھی موجود ہوتا ہے جو جسم میں جاکر نائٹرک آکسائیڈ میں بدل جاتا ہے یہ ایسا مرکب ہے جو شریانوں کو کشادہ کرنے کے ساتھ خون کی روانی میں مدد دیتا ہے
    https://login.baaghitv.com/anjeer-jannat-ka-phal-janiye-iski-afadiayt-or-ehmiyat/
    اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور:
    ینٹی آکسیڈنٹس صحت کے لیے لازمی ہوتے ہیں کیونکہ یہ خلیات کو ہونے والے نقصان کی روک تھام کرنے کے ساتھ مختلف امراض جیسے کینسر کا خطرہ کم کرتے ہیں۔کسی بھی گری کے مقابلے میں پستوں میں اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار سب سے زیادہ ہوتی ہے، صرف اخروٹ ہی اس حوالے سے پستے سے بہتر ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ کچھ مقدار میں پستے کھانے والے افراد میں لیوٹین اور y-Tocopherol کی سطح زیادہ ہوتی ہے۔ پستے میں لیوٹین اور zeaxanthin کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو آنکھوں کی صحت کے لیے انتہائی اہم اینٹی آکسیڈنٹس ہیں ان کی مدد سے آنکھوں کو ڈیوائسز کی نیلی روشنی اور عمر بڑھنے سے پٹھوں میں آنے والی تنزلی سے تحفظ مل سکتا ہے۔ اسی طرح پستے میں موجود 2 اینٹی آکسیڈنٹس پولی فینولز اور tocopherols کینسر اور امراض قلب سے تحفظ فراہم کرسکتے ہیں۔ اس گری میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس معدے میں بہت آسانی سے قابل رسائی ہوتے ہیں اور ہاضمے کے دوران جذب ہوجاتے ہیں

    جسمانی وزن میں کمی لائے:
    پستے کو جسمانی وزن میں کمی کے لیے بہترین غذاﺅں میں سے ایک مانا جاتا ہے اور پستے بھی ان میں سے ایک ہیں جس کے بارے میں زیادہ تحقیقی رپورٹس تو موجود نہیں مگر نتائج کافی حوصلہ افزا ہیں پستے فائبر اور پروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں اور یہ دونوں ہی پیٹ کو بھرنے کا احساس بڑھانے کے ساتھ کم کھانے میں مدد دیتے ہیں ایک تحقیق کے دوران روزانہ 53 گرام پستے کھانے سے جسمانی وزن میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی محققین کے خیال میں اس کی ایک ممکنہ وجہ اس میں موجود چکنائی ہے جو پوری طرح جسم میں جذب نہیں ہوتا۔ چھلکوں والے پستے کھانے میں وقت زیادہ لگتا ہے اور ان چھلکوں کو دیکھ کر معلوم ہوجاتا ہے کہ کتنی گریاں کھائی ہیں

    الائچی کے جادوئی فوائد


    معدے میں فائدہ مند بیکٹریا کی مقدار میں اضافہ:
    پستے فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں اور یہ جز نظام ہاضمہ میں پوری طرح ہضم نہیں ہوتا، کچھ اقسام کے فائبر معدے میں موجود بیکٹریا کی غذا بنتے ہیں جو پروبائیوٹیکس کا کام کرنے لگتے ہیں یہ بیکٹریا فائبر کو شارٹ چین فیٹی ایسڈز میں بدل دیتا ہے جو متعدد طبی فوائد کا باعث بن سکتا ہے نظام ہاضمہ کے امراض کینسر اور امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے

    خون کی شریانوں کے لیے مفید:
    خون کی شریانوں کی اندرونی جھلی کے درست افعال بہت ضروری ہوتی ہے اور اس میں خرابی امراض قلب کا خطرہ بڑھاتی ہے۔پستوں میں ایک امینو ایسڈ ایل آرگینی بھی موجود ہوتا ہے جو جسم میں جاکر نائٹرک آکسائیڈ میں بدل جاتا ہے یہ ایسا مرکب ہے جو شریانوں کو کشادہ کرنے کے ساتھ خون کی روانی میں مدد دیتا ہےایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ 40 گرام پستے تین ماہ تک کھانے سے شریانوں کی اندرونی جھلی کے افعال اور شریانوں کی اکڑن میں بہتری دیکھنے میں آئی دوران خون ٹھیک رہنا بھی متعدد جسمانی افعال کو ٹھیک رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

    ناشتے میں کی جانے والی چند غلطیاں جو نقصان کا باعث بنتی ہیں


    بلڈ شوگر میں کمی:
    کاربوہائیڈریٹس کی زیادہ مقدار ہونے کے باوجود پستے کم گلیسمک انڈیکس والی غذاﺅں میں شامل ہے یعنی اس سے بلڈ شوگر تیزی سے نہیں بڑھتا تحقیقی رپورٹس کے مطابق پستے صحت مند بلڈشوگر لیول کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہےایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کھانے کے بعد 56 گرام پستے کھانا صحت مند بلڈ شوگر ردعمل دینے کے ساتھ اس میں 20 سے 30 فیصد کمی آتی ہے ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں کی جانب سے اس گری کے استعمال سے خای پیٹ بلڈ شوگر 9 فیصد کمی آتی ہے تو پستوں کا اپنی غذا میں اضافہ طویل المعیاد بنیادوں پر بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتا ہے

  • ہارٹ اٹیک کے صورت میں ابتدائی طبی امداد دینے کے آسان طریقے

    ہارٹ اٹیک کے صورت میں ابتدائی طبی امداد دینے کے آسان طریقے

    پاکستان میں شرح اموات کی سب سے بڑی وجہ ہارٹ اٹیک اور دل کی بیماریاں ہیں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مُطابق پاکستان میں دل کی بیماریوں سے مرنے والوں کی نسبت 2.76 فیصد ہے یعنی تقریباً ہر دس میں سے تین افراد اس بیماری کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں پاکستان میں اس بیماری کی سب بڑی وجہ ناقص خوراک ورزش کا فُقدان اور غُربت اور دماغی ٹینشن ہے لیکن اس سے بھی بڑی وجہ وقت پر علاج کا نہ ہونا ہے کیونکہ دل کے ہسپتال شہروں میں ہیں اور پاکستان کی 70 فیصد سے زیادہ آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے اور دل کا دورہ پڑنے کے بعد مریض کو ہسپتال پہنچتے پہنچتے اتنا وقت لگ جاتا ہے کہ ڈاکٹر پھر اُس کے لیے کُچھ نہیں کر پاتے

    خواتین میں ہارٹ اٹیک سے پہلے ظاہر ہونے والی نشانیاں


    فرسٹ ایڈ یعنی ابتدائی طبی امداد میں دل کا دورہ پڑنے کی صورت میں فوری طور پردرج ذیل اقدامات کرنے چاہئے تاکہ مریض کے دل کو ہسپتال پہنچتے پہنچتے کم سے کم نقصان ہو اور اس ابتدائی طبی امداد کے لیے جن ادویات کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہر گھر میں ہونی چاہیے
    دل کا دورہ پڑنے کی علامات:
    دل کا دورہ پڑنے کی صورت میں دل پر شدید درد محسوس ہوتا ہے اور سینے پر بہت زیادہ بوجھ پڑنا شروع ہوجاتا ہے مزید علامات میں دل سے درد بائیں بازو میں اور بائیں ٹانگ میں سفر کرتا ہے، خواتین میں یہ درد دائیں بازوں میں بھی چلا جاتا ہے اور خواتین میں یہ درد سینے میں دائیں طرف بھی محسوس ہوتا ہے اور ایسا بھی محسوس ہو سکتا ہے کہ معدے پر کوئی تیز دھار نشتر پھر گیا ہے سانس لینے میں دشواری شروع ہوجاتی ہے اور مریض کا سانس پھولنا شروع ہو جاتا ہے
    ابتدائی طبی امداد:
    اگر کوئی فرد کارڈیک اریسٹ میں مبتلا ہو رہا ہے یعنی اُسے ہارٹ اٹیک آ رہا ہے تو ایسے فرد کو فوری طور بلا کسی تاخیر کے ہسپتال پہنچانا بہت ضروری ہوتا ہے لیکن ہسپتال پہنچتے پہنچتے اگر تھوڑا سا وقت زیادہ لگ جائے تو مریض کی جان خطرے میں چلے جاتی ہے اس لیے ایسے کسی بھی موقع پر ہسپتال لیجاتے ہُوئے ڈسپرین کی ایک گولی مریض کو دانتوں سے پیس کر کھانے کو دیں ڈسپرین کی گولی مریض کو چبا کر کھانے کو بولیں اور اُسے پانی کیساتھ ہرگز مت دیں ڈسپرین دینے کے بعد دوسری گولی اینجی سڈ کی مریض کی زُبان کے نیچے رکھیں، یہ دونوں گولیاں یعنی ڈسپرین اور اینجی سڈ آپکو کسی بھی فارمیسی مل جائیں گی ان گولیوں کے ساتھ اپنے فرسٹ ایڈ باکس میں فارمیسی سے ایک دل کے اوپر لگانے والا پیچ یعنی پٹی ملتی ہے جسکا نام ڈیپونٹ ہے ضرور رکھیں اسے فوراً دل کے اوپر بغل کے قریب کر کے لگا دیں اور مریض کو ہسپتال پہنچائیں اس ابتدائی طبی امداد سے مریض کے دل کو ہسپتال پہنچتے پہنچتے کم سے کم نقصان ہوگا اور ڈاکٹرز کو مریض کی جان بچانے کے لیے وقت مل جائے گا

  • ناشتے میں کی جانے والی چند غلطیاں جو نقصان کا باعث بنتی ہیں

    ناشتے میں کی جانے والی چند غلطیاں جو نقصان کا باعث بنتی ہیں

    ویسے تو طبی سائنس مکمل طور پر تصدیق نہیں کرسکی کہ ناشتا دن کی سب سے اہم غذا ہے یا نہیں مگر ایسی متعدد وجوہات ہیں جو دن کی پہلی غذا کو ترجیح بنانے کی اہمیت پر زور دیتی ہیں پروٹین، صحت بخش چکنائی اور فائبر پر مبنی متوازن غذا کا استعمال دن بھر کے کاموں کے لیے جسمانی توانائی فراہم کرتا ہے جبکہ اس سے دن کے باقی حصے میں زیادہ کھانے سے بچنا بھی آسان ہوجاتا ہے

    اگر دن کا آغاز صحت بخش غذا سے کریں تو نفسیاتی طور پر بھی دن کے باقی حصے میں صحت بخش انتخاب میں مدد مل سکتی ہےتو ناشتا کرنے کے ساتھ ساتھ ان عام غلطیوں سے بچیں جو طویل المعیاد بنیادوں پر صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں ناشتے میں کی جانے والی درج ذیل غلطیاں جو کہ بعد میں ہپریشانی باعث بنتی ہیں

    ناشتہ نہ کرنا:
    کبھی کبھار تو ناشتے سے دوری نقصان دہ نہیں مگر ایسا ہر صبح ہونے لگے تو اس سے بیماریوں جیسے ہائی بلڈ کولیسٹرول، امراض قلب اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھتا ہے اس عادت کے نتیجے میں کچھ لوگوں میں تمباکو نوشی کا امکان بھی بڑھتا ہے اس کے مقابلے میں صبح کے وقت متوازن غذا سے ان خطرات کو کم کیا جاسکتا ہے جبکہ دن بھر کے لیے توانائی بھی حاصل ہوتی ہے

    جلدی جلدی کھانا:
    جب ناشتا بہت تیزی سے کھایا جاتا ہے تو اس سے فائدے کی بجائے نقصان ہوسکتا ہے کچھ تحقیقی رپورٹس میں تیزرفتاری سے کھانے اور موٹاپے کے درمیان تعلق دریافت کیا گیا تاہم اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہےاس کے مقابلے میں آرام سے اور چبا چبا کر کھانا زیادہ کھانے سے بچانے میں مدد دیتا ہے

    ناکافی مقدار میں کھانا:
    اگر کچھ مقدار میں ناشتے کے بعد پیٹ نہیں بھرتا تو دن کے باقی حصے میں زیادہ کھانے یا جنک فوڈ کے استعمال کا امکان بڑھتا ہے اور اس کا نتیجہ اضافی جسمانی وزن کی شکل میں نکل سکتا ہے صبح کے وقت پیٹ بھر کر کھانا مثبت اثرات کا باعث بنتا ہے کیونکہ اس سے میٹابولزم تیز ہوتا ہے جس سے دن بھر کیلوریز جلانے میں مدد ملتی ہے۔

    انڈے کا مزیدار کٹا کٹ تیار کرنے کا طریقہ


    انڈے کھانے سے پرہیز:
    انڈے کی سفیدی پروٹین اور دیگر غذائی اجزا کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے اور زردی بھی پروٹین، وٹامن ڈی اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے اگر آپ صحت مند ہیں تو روزانہ ایک انڈا کھانا صحت کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے تاہم ذیابیطس یا امراض قلب کے شکار ہیں تو ڈاکٹر کے مشورے سے اس کی مقدار کا تعین کریں

    ناشتے میں پروٹین کا شامل ضروری:
    پروٹین سے بھرپور ناشتا صحت کے لیے ضروری ہوتا ہے کیونکہ اس سے دن کے باقی حصے میں بھوک کی اشتہا کو قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، ناشتے میں انڈے، دہی اور دودھ وغیرہ پروٹین کے حصول کا اچھا ذریعہ ہیں

    کاربوہائیڈریٹس ضروری:
    کاربوہائیڈریٹس کو صحت کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے مگر اسے مکمل طور پر غذا سے مت نکالیں بس انتخاب پر زور دیں پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس دن بھر جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں جن کے حصول کے لیے جو کا دلیہ تازہ پھل وغیرہ اچھا ذریعہ ہیں جن سے دوپہر کو اچانک جسمانی توانائی میں کمی سے بچنے میں مدد ملتی ہے

    ساگودانہ کی کھیر بچوں کی بہترین صحت کے لیے انمول خزانہ


    صحت بخش چکنائی سے دوری:
    ان سچورٹیڈ فیٹ یا ناسیر چکنائی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں اور انہیں ناشتے کا حصہ بنایا جانا چاہیے اس مقصد کے لیے دہی میں گریاں یا بیجوں کو شامل کیا جاسکتا ہے یا ایک سیب بھی مددگار ثابت ہوتا ہے اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دل کی صحت کے لیے مفید ہوتے ہیں اس کے مقابلے میں سچورٹیڈ فیٹ کولیسٹرول کو بڑھانے کا باعث بنتا ہے تو مکھن وغیرہ کا استعمال محدود کرنا چاہیے

    بہت زیادہ سیریل کھانا:
    آپ اپنی پلیٹ میں اسے ڈالنے سے قبل ڈبے پر موجود غذائی لیبل کو دیکھیں اور دیکھیں کہ کتنی مقدار میں کھانے کا مشورہ دیا گیا ہے اور اس پر عمل کریں ایسے سیریل کا انتخاب کریں جس میں فائبر کی مقدار زیادہ جبکہ شکر کی کم ہو

    ڈبے والا جوس نقصان دہ:
    صبح کے وقت اگر مالٹے کے جوس کا گلاس پیتے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ اس میں شکر کی مقدار بہت زیادہ ہو کیونکہ ڈبے والے جوس میں چینی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جبکہ صحت بخش اجزا کی مقدار کم درحقیقت ان میں خالی کیلوریز ہوتی ہیں تو بہتر ہے کہ سو فیصد خالص جوس کا انتخاب کریں یا جوس میں پانی کو ملالیں بلکہ زیادہ بہتر تو یہ ہے کہ جوس کی جگہ پھل کو ترجیح دیں جس میں زیادہ فائبر، کم شکر اور کم کیلوریز ہوتی ہیں

    ڈرنکس جو وزن کم کرتے ہیں


    پانی پینا صحت کے لئے مفید:
    صبح جب آپ جاگتے ہیں تو پانی کو پئے کئی گھنٹے گزر چکے ہوتے ہیں تو اس وقت ایک گلاس پانی اسے ناشتے کو جلد ہضم کرنے میں مدد دے سکتا ہے اس سے آپ اپنا پیٹ ایک کیلوری کے بغیر بھر سکتے ہیں اس سے بہتر سوچنے اور صبح کے وقت چڑچڑے پن سے بچنے میں بھی مدد مل سکتی ہے

    ناشتے کا بہترین انتخاب:
    یہ دیکھیں کہ ناشتے میں جو کھا رہے ہیں اس میں چینی، چربی یا چکنائی اور نمک کی مقدار کتنی زیادہ ہے اس کی جگہ ایسی غذا کا انتخاب کریں جس میں پروٹین، فائبر وغیرہ موجود ہوں

    فلیور دہی کا ستعمال نقصان دہ
    بازار سے ڈبہ بند دہی یا فلیور دہی میں چینی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے تو اس کی جگہ سادہ دہی کا انتخاب کریں جس میں دار چینی یا شہد کو شامل کرنا صحت کو زیادہ فائدہ پہنچا سکتا ہے

  • لباس میں استعمال ہونے والا عام کپڑا  ہماری صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے

    لباس میں استعمال ہونے والا عام کپڑا ہماری صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے

    لباس میں استعمال ہونے والا عام کپڑا ہماری صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے
    کپڑوں کی خریداری کرتے ہُوئے ایک پہلو پر ہم نے کبھی بھی نہیں سوچا اور وہ یہ ہے کہ جو کپڑا ہم پہننے کے لیے خرید رہے ہیں یہ کہاں سے آیا اسے کس نے بنایا کہیں اس پر زہریلا کیمیکل تو نہیں لگا ہُوا جس دھاگے سے اسے بُنا گیا ہے کہیں وہ ہماری صحت اور ماحول کے لیے نقصان دہ تو نہیں ہے بدقسمتی سے ہمارے روز مرہ پہنے جانے والے کپڑوں میں بہت کم کپڑے ایسے ہیں جو قُدرتی اور ایکو فرینڈلی دھاگے سے بنائے جاتے ہیں اور ہمارے زیادہ تر کپڑوں پر ٹنوں کے حساب سے زہریلے کیمیکلز، بلیچ اورایسے رنگ استعمال ہوتے ہیں جن کا مٹیریل ہماری صحت کو خراب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں عام پہنے جانے والے کپڑے جہاں ہماری صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں وہاں ہمارے ماحول کو آلودہ کرنے میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں ہے اگر کبھی آپ اپنے کپڑے کے ٹیگ کا مطالعہ کریں تو آپ کو پتہ چلے گا کے آپ کے زیادہ تر کپڑوں میں استعمال ہونے والا مٹیریل پولئسٹر، ایکریلک، نائلون، مصنوعی ریشم یعنی ایسیٹیٹ جیسے مٹیریل پر مشتمل ہے ٹیکسٹائل انڈسٹری میں جدید ٹیکنالوجی سے بننے والے آرام دہ کپڑے جن پر سلوٹیں نہیں پڑتیں داغ نہیں پڑتے حشرات سے محفوظ رکھنے والے کپڑے ڈیجیٹل پرنٹ وغیرہ جن کے متعلق ہم بلکل نہیں جانتے کہ ان پر ٹنوں کے حساب سے زہر لگا ہُوا ہے اور یہ زہر ہمیں نقصان پہنچاتا ہے ہمارے ماحول کو نقصان پہنچاتا ہے
    سائنس کی جدید تحقیقات کے مُطابق ایسے کپڑے کینسر پیدا کرنے کا ایک بڑا سبب ہیں اور یہ صرف کینسر ہی پیدا نہیں کرتے یہ جسم کے ہارمونز کو خراب کرنے کا باعث بنتے ہیں اور ہارمونز کی بیماری ہماری نئی نسل کے بیشمار بچوں میں موجود ہے یہ کپڑے ہماری قوت مدافعت کو بُری طرح نقصان پہنچاتے ہیں موجودہ نسل کے بچے ہر روز وائرل بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں یہ کپڑے کئی طرح کی ذہنی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں اور یہ بیماریاں آج ہمارے معاشرے میں عام ہیں جس میں اضطراب، ٹینشن، مُوڈ خراب ہونا وغیرہ سرفہرست ہیں

    زہر یلی ادویات کا طریقہ استعمال اور احتیاطی تدابیر


    ہماری صحت کے لیے نقصان دہ کپڑوں میں سر فہرست درجہ زیل کپڑے ہیں
    پولیئسٹر:
    ہمارے پہنے جانے والے کپڑوں میں ایسا کپڑا جس میں پولیسٹر یا ٹریلین ڈیکرن لیکرا اور وائکرون جیسا دھاگہ استعمال ہوتا ہے انتہائی خطرناک کپڑا ہے جو ہمیں جلد کی بہت سی بیماریوں کا شکار بناتا ہے پولیئسٹر سنتھٹیک پولیمس سے بنتا ہے اور اس میں خطرناک زہریلا مواد ہوتا ہے جو کپڑے کی مینوفیکچرنگ کے بعد بھی کپڑے پر لگا رہتا ہے اور ہماری جلد کے موئسچرائزر کے ساتھ ہمارے جسم میں داخل ہوجاتا ہے اور سائنس کی بہت سی تحقیقات کے مطابق یہ بہت سے بیماریوں کو جنم دیتا ہے جس میں جلد کا کینسر سمیت اور کئی کینسر ہیں سانس کی کئی دائمی بیماریاں ہیں اور یہ جلد پر خارش، جلن اور بہت سی الرجیوں کو پیدا کرتا ہے

    گلے کی مختلف بیماریوں کے گھریلو علاج


    نائلون:
    نائلون سے بننے والا کپڑا ہماری صحت کے لئے انتہائی خطرناک ہے کیونکہ اس میں بھی خطرناک زہریلا مواد استعمال ہوتا ہے جو کینسر، جلد کی بیماریوں، چکر آنا، سردرد، سپائن کی درد، سسٹم ڈسفنکشن جیسی بیماریوں کا باعث ہے اور ایسے کپڑوں کی فہرست بہت لمبی ہے جسے تحریر میں لانا بھی ایک مشکل کام ہے یہ ہائی ٹیک فیشن ایبل کپڑے جو ہم خُوبصورتی کے لیے پہنتے ہیں درحقیقت دھیرے دھیرے ہمیں قتل کر رہے ہیں اور اگر آپ کبھی کسی ڈائینگ یونٹ کا وزٹ کریں تو آپ کو پتہ چلے کے اُسے چلانے کے لیے کتنا کوئلہ جلایا جاتا ہے جو ہماری فضا کو زہریلا کرتا ہے اور اگر ہم سادگی اختیار کریں تو جہاں ہماری صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے وہاں یہ ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کوبھی فٖضائی آلودگی سے بچائے گی اور ہماری قومی بچت میں بھی اضافہ کرے گی اس لیے ہمیشہ کوشش کریں کے سادہ کاٹن استعمال کریں وُول استعمال کریں سلک فلیکس اور ہیمپ جیسے نیچرل اور ایکو فرینڈلی کپڑے پہنیں

    چند مصالحہ جات جو معدے کی تیزابیت ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں


    ریون یعنی نقلی ریشم:
    اس کپڑے کو بنانے میں بھی کئی زہریلے مادےجن میں کاربن ڈائی سلفائیڈ، سلفیورک ایسڈ، ایمونیا، ایسٹن اور کاسٹک سوڈا وغیرہ استعمال ہوتا ہے اور یہ مواد بار بار کپڑے کو دھونے سے بھی نہیں اُترتا اور کپڑوں سے مسلسل خارج ہوتا رہتا ہے جس میں کاربن ڈائی سلفائیڈ جب خارج ہوتا ہے تو یہ متلی، اُلٹی، سردرد، سینے اور پٹھوں میں درد اور بے نیندی جیسی بیماریاں پیدا کرتا ہے اس کپڑے سے خارج ہونے والا دیگر زہریلا مواد ہڈیوں کی بیماری، بھوک کی کمی، رعشہ جیسی بیماریوں کا باعث بنتا ہے اگر ہم سادگی اختیار کریں تو جہاں ہماری صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے وہاں یہ ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کوبھی فٖضائی آلودگی سے بچائے گی اور ہماری قومی بچت میں بھی اضافہ کرے گی اس لیے ہمیشہ کوشش کریں کے سادہ کاٹن استعمال کریں وُول استعمال کریں سلک فلیکس اور ہیمپ جیسے نیچرل اور ایکو فرینڈلی کپڑے پہنیں

  • پیٹ کی چربی پگھل کر کہاں جاتی ہے؟

    پیٹ کی چربی پگھل کر کہاں جاتی ہے؟

    پیٹ کی چربی پگھل کر کہاں جاتی ہے؟

    دنیا بھر میں لوگ توند کی چربی پگھلانے کے لیے مختلف غذاوں یا طریقوں کو آزماتے ہیں کیا آپ نے کبھی سوچا کہ جو لوگ اضافی چربی کو پگھلا دیتے ہیں تو وہ کہاں جاتی ہے؟ اس سوال کا جواب بس تین فیصد ہی ڈاکٹر دے پاتے ہیں تاہم اب آسڑیلیا سےتعلق رکھنے والے طبی ماہرین نے اس کا جواب ڈھونڈ نکالا ہے بیو ساوتھ ویلز یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ عام افراد سے لے کر ڈاکٹروں میں سب سے عام غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ اضافی چربی گھل کر توانائی کی شکل اختیار کر لیتی ہے تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ مادے کی منتقلی کے قانون کے خلاف ہے محققین کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ چربی شکل تبدیل کر کے مسل کی شکل اختیار کر لیتی ہے جو کہ ناممکن ہے جبکہ کئی کا خیال ہے کہ یہ آنتوں کے راستے جسم سے خارج ہو جاتی ہے سوال یہ ہے کہ جسمانی توانائی مسلز یا فضلہ کی شکل اختیار نہیں کرتی تو یہ کہاں جاتی ہے؟ تو اس پر کی گئی تحقیق کے مطابق یہ چربی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی کی شکل اختیار کرتی ہے انسان کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی کی شکل اختیار کر لیتی ہے انسان کاربن ڈائی آکسائیڈ کو خارج کر دیتا ہے جبکہ پانی جسم کے اندر گردش کرکے پیشاب یا پسینے کی شکل میں باہر نکل جاتا ہے

    وزن کم کرنے کا آسان نسخہ


    تحقیق کے مطابق اگر کوئی فرد دس کلو گرام چربی کم کرتا ہے تو 4-8 کلو کاربن ڈائی آکسائیڈ پھیپھڑوں کے ذریعے باہر خارج ہوتی ہے جبکہ باقی 6-1 کلو گرام پانی کی شکل اختیار کر لیتا ہے یہ ہر ایک کو حیران کر دینے والا کام ہے ہم جو کچھ بھی کھاتے ہیں وہ پھیپھڑوں کے راستے ہی باہر نکلتا ہے تمام کاربوہائیڈریٹس ہضم ہو جاتے ہیں جبکہ تقریباً تمام چربی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی کی شکل اختیار کر لیتی ہے پروٹین کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے تاہم اس کا معمولی حصہ یورا اور دیگر ٹھوس مواد کی شکل اختیار کر لیتا ہے جوکہ پیشاب کی شکل میں لارج ہو جاتا ہے غذا میں جو واحد چیز ہمارا معدہ حاصل نہیں کرپاتا اور برقرار رہتا ہے وہ غذائی فائبر ہے اس کے علاوہ جو کچھ ہم نگلتے ہیں وہ دوران خون اور اعضاء میں جذب ہو جاتا ہے اور پھر پھیپھڑوں کے راستے باہر نکل جاتا ہے اور انسان اوسطاً روزانہ چھ سو گرام آکسیجن بھی نگلتے ہیں اور یہ توند نکلنے اور کمر ہھیلنے کے لیے ایک اہم عنصر ہے اگر ہم دن بھر میں 5-3 کلو گرام غذا اور پانی جسم کا حصہ بناتے ہیں جبکہ چھ سو گرام آکسیجن نگلتے ہیں تو 1-4کلو مواد جسم سے باہر نکالنے کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ جسم بڑھنے لگتا ہے موٹاہے اور توند سے بچنے کے لیے چہل قدمی کریں جو میٹابولک ریٹ تین گنا بڑھا دیتی ہے اور اس کے علاوہ کم کھائیں اور جسم سے زیادہ مقدار میں خارج کریں

  • انڈا کھانے کے ان گنت فوائد

    انڈا کھانے کے ان گنت فوائد

    انڈا کھانے کے ان گنت فوائد
    انڈہ صحت کے لیے بے حد اہم غذا ہے کیونکہ اس میں پروٹین آئرن وٹامن اور دیگر غذائیت سے بھر پور اجزاء پائے جاتے ہیں اسی لیے انڈے کا شمار صحت مند متوازن غذا میں ہوتا ہے انڈے کے بےشمار فوائد میں ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ یہ دل کے انراض سے بچنے میں مدد دیتا ہے اور کولیسٹرول کے مسائل کو بھی دور کرتا ہے لیکن اس کے لیے اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ آپ روزانہ یتنے انڈے کھا رہے ہیں ایک انڈے میں تقریباً دو سو ملی گرام کولیسٹرول شامل ہوتا ہے تب ہی ہاضی کولیسٹرول۔مریضوں کو انڈہ احتیاط سے کھانا چاہیے تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ۔روزانہ ایک انڈا کھانے سے انسان ہر طرح کی دل کی بیماریوں سے خود کو محفوظ رکھ سکتا ہے کولیسٹرول کی مقدار کو لیول میں رکھنے کے لیے بھی انڈے کا استعمال کرنا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈزٹرائی گلائیسرائیڈز کی سطح میں کمی لانے میں مددگارثابت ہوتا ہے جس سے قلب سے جُڑے مختلف امعاض کا خطرہ کم ہوتا ہےماہر غذائیت ڈاکٹر روپالی دتا کا کہنا ہے کہ جو افراد کولیسٹرول بڑھ جانے کے سبب پریشان ہیں جبکہ وہ اپنے کھانے میں سبزیاں بھی استعمال نہیں کرتے ےو ان کے لیے دن میں اُبلے انڈے بغیر زردی کے کھانا ضروری ہیں اس کے علاوہ یہ لوگ ہفتے میں دو انڈے پورے بھی کھا سکتے ہیں اور جن افراد کا کولیسٹرول لیول ٹھیک ہے ان کے لیے روزانہ ایک انڈا زردی کے ساتھ مفید ہے ایسے افراد جو کسی طرح کی بیماری میں مبتلا نہیں ان کے لیے بھی روزانہ ایک انڈا مفید ثابت ہوتا ہے

    نقلی انڈوں کی پہچان کیسے کی جائے؟


    زردی کا استعمال:
    انڈوں کے شوقین افراد اگر دن میں ایک سے زائد انڈے کھاتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ وہ زردی نکال کر انڈہ کھائیں کیونکہ یہ سفیدی کے مقابلے میں زیادہ کیلوریز کی حامل ہوتی ہے اندازے کے مطابق ایک بڑے انڈے میں 55 کیلوریز شامل ہوتی ہیں
    انڈہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے:
    ذیا بیطس ہائی کولیسٹرول اور امراض قلب میں مبتلا مریضوں کے لیے پورے ہفتے میں صرف دو انڈے کھانے چاہیے
    اُبلے ہوئے انڈے:
    انڈے کو کئی مختلف اقسام سے بنا کر کھایا جاسکتا ہے لیکن ابلے انڈے کو سب سے زیادہ کار آمد ہے کیونکہ انڈہ ابال کر کھانا جسمانی وزن میں دوگنا تیزی سے کمی میں لانے میں مدد دیتا ہے

  • انگلیوں سے فنگس کے داغ ختم کرنے کے طریقے

    انگلیوں سے فنگس کے داغ ختم کرنے کے طریقے

    انگلیوں سے فنگس کے داغ ختم کرنے کے طریقے
    پیروں کی انگلی میں فنگس بہت عام مرض ہے جس کی وجہ علامت پیروں کے ناخن میں سفید بھورے یا زرد رنگ کے دھبے ابھر آنا ہے اس بیماری کے نتیجے میں ناخن موٹے یا ٹوٹنے لگتے ہیں اس مرض کے دوران ورم ان کی موٹائی بڑھنے ناخن کا گوشت میں گھس جانے رنگت بدلنا اور انگلیوں میں درد وغیرہ ہوتا ہے جسمانی دفاعی نظام میں کمزوری پیروں کا بہت زیادہ نم جگہ پر رہنا یا دوران خون ناقص گردش کے باعث ہوتا ہے اس کے لیے طریقہ درج ذیل ہیں

    خواتین میں ہارٹ اٹیک سے پہلے ظاہر ہونے والی نشانیاں


    بیکنگ سوڈا:
    بیکنگ سوڈا پیروں میں جذب ہو جانے والی نمی کو خشک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور پیروں کی بو ختم کرنے کے ساتھ ناخنوں کے فنگس کا بھی علاج کرتی ہے اس کے لیے بیکنگ سوڈا پانی میں ملا کر پیسٹ بنائیں اور اسے متاثرہ حصے پر لگائیں اس پیسٹ کو دس منٹ تک لگا کر رکھنے کے بعد دھو لیں اس کے علاوہ پانی کی بالٹی میں بیکنگ سوڈا ملائیں اور پیروں کو اس میں ڈبو دیں پیروں سے ظاہر ہونے والے سنگین امراض کے لیے جئی کا دلیا پیروں کے ناخنوں کے اس مسئلے کا یہ علاج بھی مفید ہے ایک بڑے ٹب کا دو تہائی حصہ پانی سے بھریں اور اس میں جئی کا دلیہ مکس کر لیں ایک گھنٹے بعد اس میں پیروں کو آدھے گھنٹے یا اس سے زائد وقت تک کے لیے ڈبو دیں
    سفید سرکہ:
    سفید سرکہ معمولی سی تیزابی خاصیت کا ہوتا ہے جو فنگس سے نجات کے لیے جلد میں ہائیڈروجن کا توازن بحال کرتا ہے اسی طرح یہ فنگس کو پھیلنے سے روکتا ہے جبکہ بیکٹیریا کو ختم کر دیتا ہے سرکے کو پانی کی یکساں مقدار کو مکس کریں اور متاثرہ حصے کو روزانہ آدھے گھنٹے تک اس سیال میں ڈبو کر رکھیں اس عمل کے بعد پیروں کو اچھی طرح خشک کریں ٹی ٹری آئل پیروں کے ناخنوں کے فنگس کا قدرتی علاج ثابت ہو سکتا ہے اس کے لیے سب سے پہلے متاثرہ حصے کو صاف کر کے پھر اس تیل کو متاثرہ حصے پر لگا دیں دس منٹ تک ناخن اور جلد کو اس میں ڈوبا ہوا رہنے دیں اور پھر نرمے سے رگڑ لیں اس عمل کو تب تک دہرائیں جب تک مرض سے آرام نہیں مل جاتا
    ماوتھ واش:
    ماوتھ واش منہ میں موجود بیکٹیریا اور جراثیموں کا خاتمہ کرتا ہے تو اسے پیروں میں جراثیموں کے خاتمے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں اس کی جراثیم کش خصوصیات نقصان دہ بیکٹیریا اور فنگس کو دور کرتی ہے سفید سرکہ اور ماوتھ واش کی یکساں مقدار ملا کر آدھے گھنٹے تک متاثرہ حصے کو اس میں ڈبو کر رکھیں اس کے بعد نرمی سے اس جگہ کو رگڑیں اس عمل کو روزانہ ایک یا دو مرتبہ دہرائیں جب تک انفیکشن ختم نہ ہو جائے
    https://login.baaghitv.com/massage-k-zariye-band-naak-sy-chutkara-hasil-karney-k-tareekey/
    لہسن:
    لہسن بھی فنگس کو ختم کرنے کی خصوصیات رکھتا ہے اس میں موجود اجزاء جیسے الیسین اور اجونی وغیرہ پیروں کے ناخنوں میں فنگس کے علاج میں مددگار ثابت ہوتے ہیں لہسن کو پیس کر عرق نکال لیں یا اس کے آئل کو سفید سرکے میں ملا کر اس مکسچر کو متاثرہ حصے پر لگا لیں پھر بینڈیج سے کور کر لیں اس بینڈیج کو چند گھنٹوں کے لیے لگا رہنے دیں یہ عمل روزانہ تب تک کریں جب تک فنگس ختم نہیں ہو جاتی
    ٹی ٹری آئل:
    ٹی ٹری آئل پیروں کے ناخنوں کے فنگس کا قدرتی علاج ثابت ہو سکتا ہے اس کے لیے سب سے پہلے متاثرہ حصے کو صاف کر کے پھر اس تیل کو متاثرہ حصے پر لگا دیں دس منٹ تک ناخن اور جلد کو اس میں ڈوبا ہوا رہنے دیں اور پھر نرمے سے رگڑ لیں اس عمل کو تب تک دہرائیں جب تک مرض سے آرام نہیں مل جاتا ان تمام گھریلو ٹوٹکوں کے علاوہ ڈاکٹرز سے بھی ضرور مشورہ کریں

  • قبض سے نجات حاصل کرنے کے طریقے

    قبض سے نجات حاصل کرنے کے طریقے

    قبض سے نجات حاصل کرنے کے طریقے
    قبض کا عمومی مطلب یہ ہے کہ آپ ہفتے میں تین یا اس سے کم مرتبہ فضلہ خارج کریں لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فضلہ نہ آنے کی وجہ سے پیٹ میں تناو ہو اور فضلہ چھوٹی سخت اور خشک شکل میں آئے قبض کا علاج آسان ہے اور اس سے چھٹکارا اور بھی آسان ہے قبض کے اسباب:
    معیاری غذا اور غیر فعال طرز زندگی قبض کی سب سے عام وجہ ہے بہت زیادہ جنک فوڈ کھانا اور ورزش نہ کرنا آپ کی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب کر سکتا ہے غذا سے متعلق چند عوامل جن کی وجہ سے آپ کا شکار ہو سکتے ہیں درج ذیل ہیں
    ایسی اشیاء زیادہ کھانا جن میں دودھ دہی یا ڈیری پراڈکٹس کا استعمال کیا گیا ہو ایسی اشیاء زیادہ کھانا جن میں چکنائی اور چینی کا زیادہ استعمال کیا گیا ہو فائبر سے بھر پور کھانے کی اشیاء کی کمی جیسے پھل سبزیاں اور دلیہ وغیرہ پانی کی کمی یا پانی کم پینا شراب یا کیفین کا استعمال اس کے علاوہ جیسے ہی آپ کو فضلہ خارج کرنے کی حاجت ہو فوراً ٹوائلٹ جائیں مناسب وقت اور جگہ کے انتظار میں فضلہ کو روکنا بھی قبض کا باعث بن سکتا ہے روزمرہ کے معمولات میں تبدیلی بھی نظام انہضام کے لیے مسائل کا باعث ہو سکتی ہیں جس کی وجہ سے آپ قبض کا شکار ہو سکتے ہیں ورزش میں کمی اور غذا میں تبدیلی یہ تمام چیزیں بظی قبض کا باعث بن سکتی ہیں فائبر سے بھر پور اشیاء کھاتے رہیں ورزش کرتے رہیں اور پانی پیتے رہیں

    گردوں کے فیل ہونے کے اسباب اور علاج


    قبض کے اسباب:
    قبض کو ام الامرض بھی کہا جاتا ہے اور قبض بہت سے ادویات کا عام سائیڈ ایفیکٹ ہے آپ کی جسمانی صحت بھی قبض کی وجوہات میں سے ایک ہو سکتی ہے جسمانی صحت خراب ہونے کی صورت میں۔ہو سکتا ہے کہ کسی بیماری کے سائیڈ ایفیکٹ کے طور پر آپ کی آنتوں میں خوراک کی حرکت محدود ہو جائے جس کی بناء پر آپ قبض کا شکار بن سکتے ہیں لہذا کسی بھی بیماری یا جسمانی صحت میں خرابی کی صورت میں ڈاکٹر سے رابطہ کریں تاکہ قبض کی تکلیف سے بچا جا سکےاس کے علاوہ دیگر عوامل جن کی بنا پر آپ قبض کا شکار ہو سکتے ہیں درج ذیل ہیں
    اسٹروک، پارکنسنز کی بیماری،ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ، غیر فعال تھائیرائیڈز ، حاملہ ہونا ،ذیا بیطس ان کے علاوہ بڑھتی عمر میں اعضاء کے فعال سست ہونے اور محدود ہو جانے کی بنا پر بھی اکثر قبض کی شکایت ہو جاتی ہے جس کے لیے بڑی عمر کے افراد کو معالج سے مشورہ اور دوا لینا ضروری ہے قبض سے آرام پانے کے لیے کئی قدرتی طریقے موجود ہیں جنہیں آپ اپنے گھر میں ہی اپنا کر اس بیماری سے چھٹکارا پا سکتے ہیں اور ان میں سے کئی طریقہ جات کو میڈیکل سائنس بھی مانتی ہے

    جگر کی حفاظت کے چند ضامن اصول


    زیادہ سے زیادہ پانی پئیں:
    متواتر طور پر جسم میں پانی کی کمی بھی قبض کی وجہ بن سکتی ہے اس سےبچنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ متواتر پانی پیتے رہیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو اور قبض کی صورتحال در پیش نہ آئے اگر آپ کو قبض ہو گئی ہے تو پھر اس سے آرام پانے کے لیے کاربونیٹڈ پانی پئیں کاربونیٹڈ ڈرنکس کاربو نیٹڈ پانی کا متبادل نہیں اور بعض صورتحال میں یہ قبض کی کیفیت کو مزید بڑھاوا دیتی ہیں
    زیادہ سے زیادہ فائبر والی اشیاء کھانا:
    جو افراد قبض کا شکار رہتے ہیں انہیں فائبر والی خوراک کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ تحقیق کے مطابق %77 افراد کو کھانے میں فائبر والی خوراک ملا کر کھانے سے قبض سے افاقہ ہوا ہے اس کی وجہ فائبر ملک خوراک زیادہ کھانے سے انتڑیوں میں خوراک کی حرکت میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کے علاوہ فائبر والی خوراک زود ہضم ہونے کی بنا پر قبض سے نجات دلاتی ہے

    کولیسٹرول لیول کیسے کم کر سکتے ہیں؟


    باقاعدگی سے ورزش کرنا:
    حالیہ تحقیق کے مطابق ورزش کرنے سے قبض میں افاقہ ہوتا ہے یا نہیں لیکن ڈاکٹرزاس بات پرمتفق ہیں کہ ورزش کے نتیجے میں اعضاء کو ملنے والی تحریک کی بنا پر خوراک کو جسم کا حصہ بننے اور ہضم کرنے میں مدد ملتی ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ورزش قبض کی علامات اور وجوہات کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے
    کافی پینا:
    کافی پینا خاص کر ایسی کافی جس میں کیفین ہو قبض کو دور کرنے میں مدد دیتی ہے اس کی وجہ کافی کا نظام انہضام سے متعلقہ پٹھوں کو تحریک دینا ہے جس کی وجہ سے خوراک کی حرکت میں اضافہ ہوتا ہے اس کے علاوہ کافی میں حل پذیر فائبر کی معمولی مقدار بھی شامل ہوتی ہے جو کہ آنتوں میں موجود بیکٹیریا کو بیلنس کر کے ہمیں قبض سے بچاتی ہے

    پیشاب کے ٹیسٹ سے لبلبے کے کینسر کی تشخیص


    ڈیری مصنوعات:
    بعض اوقات ڈیری مصنوعات اور لیکٹوز کی عدم برداشت بھی قبض ہونے کا باعث بنتی ہیں اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو ڈیری مصنوعات سے بنی اشیاء کھانے سے قبض کا مسئلہ درپیش آتا ہے تو آپ ان مصنوعات کو اپنی غذا سے نکال دیں اس سے آپ کو کیلشیم کی کمی مسئلہ درپیش آ سکتا ہے لیکن اس کے لیےآپ اپنی خوراک میں کیلشیم سے بھر پور متبادل اشیاء شامل کر کے اس کمی کا ازالہ کر سکتے ہیں