مٹی کے برتن میں کھانا پکانے کے فائدے
مٹی کے برتنوں کی تاریخ بہت پُرانی ہے کیونکہ دھات کےاستعمال سے بہت پہلے انسان نے اپنی ابتدا میں ہی مٹی کو ہاتھ سے مختلف شکلوں میں ڈھالنا سیکھ لیا تھا اور تب سے لیکر آج تک مٹی کے برتن کھانا پکانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں طب ایوردیک اور طب یونان جن کی تاریخ صدیوں پُرانی ہے کے مطابق مٹی کے برتن میں پکا ہُوا کھانا ہماری صحت پر گہرے اثرات مُرتب کرتا ہے اور ان دونوں طبیعات کے ماہرین آج بھی کھانا پکانے کے لیے مٹی کے برتن تجویز کرتے ہیں کیونکہ مٹی کے برتن میں پکا ہُوا کھانا نہ صرف صحت کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ مٹی کے برتن کا کھانا ذائقے میں بھی دھات کے برتن میں پکے کھانے سے زیادہ لذیذ ہوتا ہے
https://login.baaghitv.com/benefits-of-fenugreek-seed-for-women/
مٹی کے برتن میں قدرتی طور پر الکالائن ہوتی ہے:
مٹی قُدرتی الکالائن ہے اور الکالائن تیزابیت کو ختم کرتی ہے اور جب ہم مٹی کے برتن میں کھانا پکاتے ہیں تو مٹی کی الکالائن خصوصیات کھانے کی تیزابیت کو ختم کرتی ہے جس سے ہمارے جسم کا پی ایچ بیلنس بہتر ہوتا ہے اور خوراک جہاں جلد ہضم ہوجاتی ہے وہاں معدے پر بھاری پن نہیں چھوڑتی مٹی کے برتن میں کھانا پکاتے وقت کھانے میں قیمتی منرلز میگنیشئم کیلشئیم آئرن فاسفورس سلفر وغیرہ شامل ہوتے ہیں جو ہماری صحت پر نہایت اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں
کھانے کے وٹامن ضائع نہیں ہوتے:
مٹی کے برتن کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں باریک سوراخ ہوتے ہیں جو حدت اور نمی کو کھانے کے اندر تک داخل کرتے ہیں اور دھات کے برتن کی نسبت مٹی کے برتن میں کھانا سُست روی سے آہستہ آہستہ پکتا ہے اور تیز آنچ لگنے سے بچا رہتا ہے جس سے کھانے میں موجود وٹامنز اور غذائیت محفوظ رہتی ہے اورکھانےمیں مہک برقرار رہتی ہےجو لوگ کھانا پکانا نہیں جانتے یا کھانا پکانا سیکھ رہے ہوتے ہیں اُن کے لیے سب سے بہترین برتن مٹی کے برتن ہوتے ہیں کیونکہ ان برتنوں میں کھانا آہستہ آہستہ پکتا ہے اور کھانا جلنے کے چانسز بہت کم ہوتے ہیں
گھی کم مقدار میں خرچ ہوتا ہے:
مٹی کے برتن میں کھانا ہلکی آنچ پر پکتا ہے جس سے کھانے کے اندر موجود قُدرتی آئل جلتا نہیں ہے اور نمی کے ساتھ کھانے میں شامل ہوجاتا ہے لہذا ہمیں کھانے میں گھی اور تیل کا استعمال کم کرنا پڑتا ہے
کھانے کا ذائقہ دار بنتا ہے:
ہانڈی میں پکا ہُوا چکن دھات کے برتن میں پکے ہُوئے چکن سے کہیں زیادہ مزیدار ہوتا ہے اور اُس کی وجہ یہ ہے کہ مٹی کے برتن مسام دار ہوتے ہیں جن میں سے گرم آنچ کی ہوا برتن میں داخل ہوتی ہے اور کھانے کو ہلکی آنچ پر گلاتی ہے جس سے کھانے کا ذائقہ دوبالا ہوجاتا ہے
https://login.baaghitv.com/health-benefits-of-honey/
مٹی کے برتن خریدنے میں سستے ہوتے ہیں:
ھات کے برتن ، کُوکر وغیرہ جہاں کھانے کی غذائیت اور ذائقے کو نقصان پہنچاتے ہیں وہاں دھات مہنگی ہونے کی وجہ سے یہ برتن بھی مہنگے داموں ملتے ہیں مگر مٹی کے برتن جہاں عام دستیاب ہیں وہاں آپ انہیں انتہائی سستے داموں خرید سکتے ہیں
مٹی کے کونسے برتن استعمال نہیں کرنے چاہیے:
ڈاکٹرز کا کہنا ہے مٹی کے ایسے برتن جنہیں مختلف کیمیکلز کیساتھ پالش کیا گیا ہو میں پکا کھانا صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور پالش کرنے سے مٹی کے برتنوں کے مسام بند ہوجاتے ہیں جس سے ہوا برتن میں داخل نہیں ہوپاتی اور پالش میں استعمال ہونے والے خطرناک کیمیکلز کھانے میں شامل ہوجانے کے خدشات ہوتے ہیں اس لیے مٹی کے وہی برتن استعمال کرنے چاہیے جن پر کسی قسم کی پالش وغیرہ کا استعمال نہ کیا گیا ہو اور وہ صرف مٹی سے بنے ہوں
Category: خواتین

مٹی کے برتن میں کھانا پکانے کے فائدے

چہرے کے داغ دھبے دور کرنے کی گھریلو ٹپس
چہرے کے داغ دھبے دور کرنے کی گھریلو ٹپس
چہرے پر دانے نکلتے ہوں تو چہرہ گیلا کر کے پھٹکری کو ہلکے ہاتھوں سے پورے چہرے پر پندرہ منٹ تک رگڑیں دانے جلد ختم ہو جائیں گے
چکنی جلد کے لیے:
چکنی جلد کے لیے ایک لیموں کے رس میں ایک کھانے کا چمچ بیسن اور دوچائے کے چمچ عرق گلاب ملا کر ماسک تیار کر لیں اور دس منٹ بعد دھو لیں
سیاہ کیلوں کا خاتمہ:
ناک پر اچھی کولڈ کریم سے مساج کرنے کے بعد ململ کے کپڑے سے کریم اتار لیں اب لیموں کے رسدار چھلکے ناک پر رگڑیں اور کیلوں کو ہاتھوں سے دبا کر نکال دیں
لیموں کے چھلکے سے جس میں نمی ہو ناخن کا مساج کریں ناخن صاف اور چمکدار ہو جائیں گے
مہاسے:
انڈے کی زردی اور تل کو کوٹ کر مکس کر لیں اور پھوڑے پھنسیوں پر لگائیں داغ اور پھنسی دونوں غائب ہو جائیں گے
منہ پر کالے دھبے بننا:
منہ پر کالے کالے دھبوں کا نمودار ہونا بہت بُری تکلیف ہے کیونکہ اس کی وجہ سے مریض کے حسن پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں کالے دھبوں یا نشانوں سے بچنے کے لیے مندرجہ ذیل۔ہربل استعمال کریں مولی کے بیج بیس گرام لے کر ان کا بہت باریک سفوف بنائیں اور کسی چینی کے برتن میں محفوظ کر لیں پلاسٹک سلور یا تانبے کا برتن بلکل نہ ہو صرف چینی یا شیشے کا۔برتن ہی ضروری ہے ایک چمچ یہ۔سفوف ایک چمچ دہی کے ساتھ مکس کرکے پیسٹ بنا لیں اب یہ پیسٹ چہرے پر لگا کر ایک گھنٹے کے بعد چہرہ دھو لیں چند دن کے استعمال سے چہرہ صاف ہو جائےگا
مختلف بیماریاں اور ان کا گھریلو علاج
مختلف بیماریاں اور ان کا گھریلو علاج
سر کے درد کی بہت سی قسمیں ہیں کبؑی تو یہ درد سر کے آدھے حصے میں ہے اور کبھی پورے حصے میں محسوس ہوتا ہے اور بعض دفعہ تو متلی اعر قے کی بھی شکایت ہو جاتی ہے جس شخص کے سر میں درد ہو اسے چاہیے کہ نمک کی ایک چٹکی زبان پر رکھ لے اور دس یا پندرہ منٹ کے بعد ایک گلاس ٹھنڈا پانی پی لے درد فوراً دور ہو جائے گا اس کے علاوہ پیاز کو باریک پیس کر پاوں کے تلوں پر لیپ کریں تو ہر قسم کا درد دور ہو جاتا ہے تربوز کے بیج یا مغز لے کر کونڈی وغیرہ میں ڈال کر پانی ملا کر خوب پیسیں یہاں تک کہ مکھن کی طرح ہو جا ئے پھر مریض کے سر پر اس کا لیپ کریں سر کا درد دور ہو جائے گا
ہچکی:
پانی میں شکر ڈال کر اس کا شربت بنا کر پی لیں ہچکی بند ہو جائے گی اس کے علاوہچکی آنے پر دو لونگ منہ میں ڈال کر چوستے رہیں فوراً آرام آ جاتا ہے
نکسیر:
نکسیر کے پھوٹنے کے بعد دونوں ہاتھ اوپر اٹھائیں اور گردن اور منہ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارنے سے نکسیر آنا بند ہو جاتی ہے
حشرات کے کاٹنے کے علاج کے مختلف طریقے
حشرات کے کاٹنے کے نشان سے کیڑے کی پہچان کرنے کے طریقے
گھر کے اندر گھر کے باہر گاڑی میں میدان میں اور کبھی کبھی پہنے ہُوئے کپڑوں میں بھی حشرات چُھپے ہوتے ہیں اور یہ اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ نظر بھی نہیں آتے اور ان کی کارگُزاری کا پتہ بھی اُسی وقت چلتا ہے جب یہ اپنا کام کر چُکے ہوتے ہیں جیسے مچھر جب کاٹتا ہے تو بلکل پتہ نہیں چلتا مگر جب کاٹ کر اُڑ جاتا تب تھوڑی دیر بعد احساس ہوتا ہے کہ کسی حشرات نے کاٹا ہے اور جہاں کاٹا ہوتا ہے وہاں سُرخ نشان ہوتا ہے اور ہمیں یہ نہیں معلوم ہوتا کہ کس چیز نے کاٹا ہے
مچھر :
مچھر کے کاٹنے کا نشان عام طور پر سب پہچان لیتے ہیں، یہ نشان پفی اور سُرخ رنگ کا ہوتا ہے جس پر شدید خارش محسوس ہوتی ہے اور یہ کُچھ دیر بعد ختم بھی ہوجاتا ہے اس نشان پر جلد تھوڑی پھول جاتی ہےمچھر کے کاٹنے کی صورت میں کاٹے پر خارش مت کریں اور کاٹے کی جگہ کو صابن سے اچھی طرح دھویں اور اگر خارش شدید ہو تو اس جگہ پر ایلو ویرا یا بیکنگ سوڈا مل دیں
https://login.baaghitv.com/keeron-makoron-or-chipkalion-ko-ghar-sy-bhaganey-k-tareekey/
مکڑی :
گھروں میں رہنے والی مکڑیاں عام طور پر زہریلی نہیں ہوتی اور اگر وہ کاٹ جائیں تو جلد پر ایک چھوٹا سا سُرخ یا نشان کے ساتھ تھوڑی سے سوزش ہوجاتی ہے مگر کُچھ مکڑیاں خطرناک ہوتی ہیں اور اُن کے کاٹنے سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے مکڑی اگر جلد پر کاٹ لے تو جلد پر 2 چھوٹے چھوٹے پنکچر کے نشان پیدا ہوجاتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کے مکڑی نے کاٹا ہے اور اگر مکڑی خطرناک نہیں ہے تو جلد کو صابن سے دھوکر آپ اُس کے اوپر کوئی اینٹی بائیوٹک کریم لگا دیں یا پھر تھوڑی سے ٹوتھ پیسٹ مل دیں تاکہ جلد پر ٹھنڈک پڑے اور آپ کو جلن یا کھجلی نہ ہو اگر آپ کو لگے کہ مکڑی خطرناک تھی جیسے کالی مکڑی جسے بلیک ویڈو بھی کہتے ہیں تو جس جگہ کاٹا ہو اُسے اوپر کر دیں تاکہ خون کی ترسیل اُس مقام پر کم ہو جائے اور زہر نہ پھیلے پھر زخم پر کوئی پٹی باندھیں اور ایمبولینس کو بُلائیں یا ڈاکٹر کے پاس خود چلے جائیں تاکہ جلد علاج ممکن ہو اور زہر جسم میں نہ پھیلے اگر آپ کو لگے کے مکڑی خطرناک تھی جسی کالی مکڑی جسے بلیک ویڈو بھی کہتے ہیں تو جس جگہ کاٹا ہو اُسے اوپر کر دیں تاکہ خون کی ترسیل اُس مقام پر کم ہو جائے اور زہر پھیلے نہ پھر زخم پر کوئی پٹی باندھیں اور ایمبولینس کو بُلائیں یا ڈاکٹر کے پاس خود چلے جائیں تاکہ جلد علاج ممکن ہو اور زہر جسم میں نہ پھیلے
کھٹمل:
کھٹمل کے کاٹے کا نشان سمجھنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی کیونکہ کھٹمل جہاں کاٹتا ہے اُس جلد کیساتھ 10 دن تک بھی چپکا رہ سکتا ہے اور اگر کاٹنے کے بعد وہ گر بھی جائے تو سُرخ رنگ کا ایک سرکل جلد پر نشان کی صورت میں چھوڑ جاتا ہے جس سے پتہ چل جاتا ہے کہ کھٹمل نے کاٹا ہے کھٹمل اگر جلد سے چپکا ہُوا ہے تو اُسے سیدھا اوپر کیطرف کھینچ کر جلد سے ہٹائیں اور جلد کو صابن یا پھر الکوحل کیساتھ صاف کریں کھٹمل کو الکوحل میں ہی بھگو دیں اور اُس کے مر جانے کے بعد اُسے کسی پلاسٹک کے لفافے میں بند کر پھینک دیں
چیونٹی:
چیونٹیاں عام طور پر اتنی خطرناک نہیں ہوتیں اور کم ہی انسان کو کاٹتی ہیں مگر سُرخ چونٹیاں اگر مل کر حملہ کردیں تو انتہائی تکلیف پہنچا سکتی ہیں ان کے کاٹنے کے نشان چھوٹے چھوٹے سُرخ سپاٹس کی صورت میں جلد پر نمودار ہوتے ہیں جہاں شدید جلن کیساتھ خارش ہوتی ہے سُرخ چیونٹیوں کے کاٹنے کی صورت میں فوری طور پر متاثرہ حصے کو پانی اور صابن سے دھوئیں اور کوئی پٹی وغیرہ جیسے سنی پلاسٹ متاثرہ حصے پر لگا دیں اور جلن کی صورت میں برف سے ٹکور کریں
پسو:
پسو کے کاٹنے کا نشان عام طور پر جسم کے نچلے حصے پر 3 سے 4 چھوٹے چھوٹے سُرخ نشانوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جہاں پر شدید خارش اور جلن ہوتی ہے پسو کے کاٹنے کی صورت میں متاثرہ حصے پر کوئی اینٹی سیپٹیک کریم لگائیں اور خارش مت کریں ورنہ الرجی پھیل سکتی ہے متاثرہ حصے پر برف کی ٹکور کریں اور اگر خارش زیادہ ہو تو میڈیکل سٹور سے کوئی خارش کی کریم لیکر متاثرہ حصے پر لگائیں
https://login.baaghitv.com/to-get-rid-of-sweat-stings/
بیڈ بگ:
آ پ بیڈ بگ کے کاٹے کو آسانی سے پہچان سکتے ہیں کیونکہ اس کے کاٹے کے چھوٹے چھوٹے نشان جلد پر ایک دوسرے کے بہت قریب ہوتے ہیں اور اکثر ایک لائن کی صورت میں جلد پر سُرخ رنگ سے ظاہر ہوتے ہیں اور عام طور پر یہ کیڑا کھلی جلد پر جیسے گردن اور بازو وغیرہ پر کاٹتا ہے اس کیڑے کے کاٹنے صورت میں صابن اور پانی سے جلد کو دھوئیں اورخارش مت کریں تھوڑی دیر میں یہ نشان خود ہی ختم ہو جائیں گے کے کاٹے کو آسانی سے پہچان سکتے ہیں کیونکہ اس کے کاٹے کے چھوٹے چھوٹے نشان جلد پر ایک دوسرے کے بہت قریب ہوتے ہیں اور اکثر ایک لائن کی صورت میں جلد پر سُرخ رنگ سے ظاہر ہوتے ہیں اور عام طور پر یہ کیڑا کھلی جلد پر جیسے گردن اور بازو وغیرہ پر کاٹتا ہے اس کیڑے کے کاٹنے صورت میں صابن اور پانی سے جلد کو دھوئیں اورخارش مت کریں تھوڑی دیر میں یہ نشان خود ہی ختم ہو جائیں گے
شہد کی مکھی اور پیلی مکھی:
مکھی کے کاٹنے کے بعد جلد کاٹنے والی جگہ پر فوراً سُرخ ہوجاتی ہے اور سُوج جاتی ہےاور آپ کو شدید درد شدید جلن اور شدید خارش ہوتی ہے ایسی صورت میں سب سے پہلے فوری طور پر مکھی کا ڈنگ جلد میں سے نکالیں اور متاثرہ حصے کو صابن سے دھوکر اُس پر کوئی اینٹی بائیوٹک کریم لگائیں اور اگر زیادہ مکھیوں نے کاٹ لیا ہے تو ڈاکٹر سے رابطہ کریں عام طور پر حشرات کے کاٹے کی جگہ پر سرسوں کا تیل لگانا بھی بہت فائدہ مند ہوتا ہے اور اگر آپ دیکھیں کے کاٹے کی جگہ زیادہ زخم بن رہے ہیں اور جلد میں پس بھی پڑ رہی ہے تو ڈاکٹر سے رابطہ کریں
دارچینی مختلف خطرناک بیماریوں کا علاج
دارچینی مختلف خطرناک بیماریوں کا علاج
دارچینی ایک انتہائی مزیدار مصالحہ ہے جسے ہزاروں سالوں سے نہ صرف کھانے میں بلکہ بہت سی ادویات میں استعمال کیا جارہا ہے اور طبیب حضرات اسے سونے سے زیادہ قیمتی قرار دیتے ہیں دارچینی سینامومم درخت کے تنے کو چھیل کر درخت کے اندرونی تنے سے حاصل کی جاتی ہےآپکو بازار میں دارچینی کی دو قسمیں ملیں گی اصلی دارچینی اور عام دارچینی
دار چینی اینٹی آکسیڈینٹ سے بھرپور:
دارچینی ایک انتہائی طاقتور اینٹی آکسیڈینٹ پولی فینولس 3، 4، 5 سے بھر پور ہوتی ہے اور میڈیکل سائنس کی ریسرچ کے مطابق پولی فینولس کی زیادہ مقدار دارچینی کو لہسن اور اوریگانو سے بھی زیادہ مفید بناتا ہے
اینٹی اینفلیمٹری:
انفلیمیشن جسم کے لیے بہت ضروری ہے یہ آپ کے اندر انفیکشن سے لڑنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے اور زخم کو جلد بھرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے
دل کی بیماریوں کے لیے مفید:
دار چینی بلڈ پریشر کو کنٹرول رکھنے میں مدد گار ہے جن لوگوں کو ٹائپ 2 شوگر ہے اگر وہ آدھی چائے کی چمچ دارچینی روزانہ استعمال کریں تو یہ اُن کے خون میں شوگر لیول کو نارمل رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہےدارچینی کولیسڑول کو بھی کم کرتی ہے جو دل کی بہت سے بیماریوں کا سبب ہے
انسولین ہارمون:
میڈیکل سائنس دار چینی پر ریسرچ کے بعد بتاتی ہے کہ دارچینی جہاں خون میں شوگر لیول نارمل رکھتی ہے وہاں یہ انسولین ہارمون کو توانا کرتی ہے اور ہارمون کی بلاکج ختم کرتی ہےاور ٹائپ 2 کی زیابیطس پر جادوئی طور پر اثر انداز ہوتی ہے
یاداشت کوبہتر کرتی ہے:
دارچینی دماغ کی بہت سی بیماریوں کے لیے انتہائی مفید ہے اور یاداشت کو بہتر بنانے میں انتہائی مدد گار ثابت ہوتی ہے
کینسر جیسے موذی مرض سے بچاتی ہے:
میڈیکل سائنس کی بہت سی ریسرچز میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کے دارچینی کے ایکسٹریکٹس کینسر جیسے خطرناک مرض سے بچنے میں مدد گار ہوتے ہیں یہ جسم میں کینسر سیلز کو بڑھنے نہیں دیتی اور کینسر زدہ سیلز کو ختم کرنے میں اہم قردار ادا کرتی ہے
فنگل ختم کرنےمیں مدد دیتی ہے:
دارچینی میں اینٹی آکسیڈنٹ کی ایک بڑی مقدار موجود ہوتی ہے جو فنگل سے پیدا ہونے والی کئی طرح کی انفیکشن کو ٹھیک کرنے میں انتہائی مدد گار ہے خاص طور پر دار چینی کا تیل فنگس سے پیدا ہونے والے انفیکشن کے لیے اکسیر کا کام کرتا ہے
بیکڑیا کے خاتمے کے لیے اکسیر:
دار چینی بہت سے بیکٹریا خاص طور پرلئسٹریا اور سالمونیلا کے خاتمے کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے یہ دانت درد میں بھی آرام کا باعث بنتی ہےا ور منہ سے بدبو کا خاتمہ بھی کرتی ہے
HIV وائرس سے بچاؤ کے لیے:
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کے دارچینی ایڈز جیسے موضی مرض میں HIV-1 جیسے وائرس سے لڑنے میں انتہائی کارآمد دوا ہے جو جسم کا میٹابولزم بڑھاتی ہے اورجسم میں قوت مدافعت پیدا کرتی ہے
جسمانی طاقت:
دارچینی کا ریگولر استعمال جسم کی اندرونی طاقت کو بڑھاتا ہے اور مرد کو کمزور نہیں ہونے دیتا
عام دارچینی کا زیادہ استعمال صحت کے لیے مفید نہیں ہے اور جگر کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے
آنکھوں کی تھکاوٹ دُور کرنے کے لئے آسان ورزش
آنکھیں انسان کے جسم کا انتہائی اہم حصہ ہیں جن کے بغیر زندگی اندھیری ہو جاتی ہے سائنسدانوں کا کہنا ہے کے انسان کا دماغ جو کام کرتا ہے وہ 50 فیصد آنکھوں کی وجہ سے کرتا ہے۔ ہمارے جسم کے دیگر اعضاء کی طرح عُمر کے بڑھنے سے آنکھیں بھی متاثر ہوتی ہیں اور کمزور ہوتی جاتی ہیں، یہ زیادہ کام کرنے سے خاص طور پر زیادہ دیر کمپیوٹر یا موبائل فون وغیرہ استعمال کرنے سے اور ڈرائیونگ کرنے سے یا ٹی وی دیکھنے سے تھکاوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں اور آنکھوں کی یہ تھکاؤٹ آنکھوں کے پٹھوں کو کمزور کر سکتی ہے آنکھوں کی ورزشیں جو آنکھوں کی تھکاوٹ کی صورت میں آنکھوں کو دوبارہ فعال کرتی ہیں اور آنکھوں کے پٹھوں کے لیے سکون کا باعث بنتی ہیں
قریب اور دور کی چیزوں کو غور سے دیکھیں:
اپنے ہاتھ کے انگوٹھے کو آنکھوں سے دس انچ کی دوری پر رکھ کر 10 سے 15 سیکنڈ اُسے غور سے دیکھیں اور پھر اپنی آنکھوں کا فوکس کسی ایسی چیز پر مرکوز کریں جو آپ سے 10 سے 15 فٹ کے فاصلے پر ہو اور اُسے بھی 10 سے پندرہ سیکنڈ غور سے دیکھیں پھر اسی طرح آنکھوں کا فوکس کسی ایسی چیز پر جو آپ سے کافی فاصلے پر ہو (کوئی درخت وغیرہ) پر مرکوز کریں اور اُسے بھی 10 سے پندرہ سیکنڈ دیکھیں
آنکھوں کی پتلی دائیں بائیں گھمانا:
سیدھے کھڑے ہو کر یا بیٹھ کرسر کو سیدھا رکھتے ہُوئے آنکھوں کی پتلی دائیں طرف گھمائیں اور پانچ سیکنڈ وہاں موجود کسی چیز کو فوکس کریں پھر اسی طرح آنکھوں کی پتلی بائیں جانب گُھما کر پانچ سیکنڈ کسی چیز کو فوکس کریں اور اس عمل کو کم از کم 3 سے 5 دفعہ کریں
آنکھوں کی پُتلی اوپر اور نیچے گھمانا:
سیدھے کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر آنکھوں کی پتلی کو پہلے اوپر کسی چیز پر فوکس کریں اور پانچ سیکنڈ کے بعد کھلی آنکھوں کے ساتھ پتلی کو نیچے کی طرف کسی چیز پر 5 سیکنڈ فوکس کریں اور اس عمل کو کم از کم تین سے پانچ دفعہ کریں
آنکھوں کی پتلی قطر میں اوپر نیچے کرنا:
آنکھوں کی پتلی کو پہلے دائیں طرف لے جائیں اور دائیں طرف لیجاکر پہلے اوپر دیکھنے کی کوشش کریں اور پھر نیچے اور اسی طرح یہ عمل بائیں طرف بھی کریں اور اس کو کم از کم پانچ دفعہ کریں
آنکھوں کی پتلی کو دائرے میں گھمانا:
آنکھوں کو پُوری طرح کھول کر دائرے میں پہلے دائیں سے بائیں اور پھر بائیں سے دائیں پانچ پانچ دفعہ گھمائیں اور اس عمل کو کم از کم تین دفعہ دونوں آنکھوں پر کریں
آنکھیں جھپکانا:
آنکھیں میچ کر ایک دم کھولیں اور اس عمل کو ایک منٹ میں کم از کم 15 سے 20 دفعہ کریں اور یہ ورزش تقریباً 2 منٹ تک جاری رکھیں
آنکھوں پر ہاتھوں کی گرم ہتھیلیاں رکھنا:
کسی اندھیری جگہ پر بیٹھ کر ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو آپس میں رگڑ کر گرم کر لیں اور پھر ان کو آنکھوں کے اوپر اس طرح رکھ لیں کے کسی قسم کی روشنی آنکھوں تک نہ پہنچ سکے اور جب آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جائے تو گہری سانس لیں اور اندھیرے کو دیکھنے کی کوشش کریں اور اس ورزش کو کم از کم 5 بار کریں
آنکھوں کو چاق و چوبند رکھنے کے لیے:
اپنی آنکھوں پر کھیرا گاجر یا ایلوویرا پیس کر لیپ کریں اور اس لیپ کو کُچھ دیر تک آنکھوں پر لگا رہنے دیں اور اس کی ٹھنڈک کو محسوس کریں اس سے بھی آنکھیں توانا اور چاک وچوبند ہو جاتی ہیں
اہم اور آسان گھریلو ٹپس
کانچ کا گلاس وغیرہ ٹوٹ جائے تو ویکیوم کلینر یا جھاڑو سے صفائی کرتے وقت اس بات کا خدشہ رہتا ہے کہ باریک کانچ صاف نہیں ہوگا ایسے موقع پر نرف اور گیلے کپڑے کا استعمال کریں اور کپڑے سے کانچ کو صاف کر دیں اس سے تمام باریک ذرات کپڑے پر چپک جائیں گے اور بہترین صفائی ہو جائے گی بعد میں وہ کپڑا پھینک دیں تاکہ جلد کٹ لگنے سے محفوظ رہے
اگر انڈہ اُبالتے وقت ٹوٹ جائے اور خدشہ ہو کے سفیدی باہر نکل آئے گی تو تھوڑا سرکہ پانی میں ڈال دیں اور انڈے کو اُبلنے دیں اس طریقے سے انڈے کی سفیدی باہر نہیں آئے گی اور انڈہ چھیلنا بھی بہت آسان ہو جائے گا
اگر گُلاب یا کسی اور پھول کو دیر تک تازہ رکھنا چاہتے ہیں تو آلو میں باریک سوراخ کر کے پھول کی ٹہنی کو اُس سوراخ میں ڈال دیں پھول کئی گھنٹے تازہ رہے گا
اگر چائے کے کپ یا مگ وغیرہ پر داغ پڑ جائیں تو بغیر کسی کیمیکل کو استعمال کرنے کے لیموں پر تھوڑا نمک لگا کر داغ پر رگڑیں داغ صاف ہو جائیں گے
ویسے آجکل موسمی خبریں اور انٹرنیٹ اس بات سے آگاہ کر دیتا کہ موسم کیسا ہوگا مگر اگر ان ذرائع ابلاغ تک رسائی نہ ہو تو صبح کے وقت دیکھنے کے لیے کہ آج بارش ہو گی یا نہیں آسمان کے کنارے پر بادل کے کسی ٹکڑے پر نظر جما کر رکھیں اگر ٹکڑا بڑا ہو رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ موسم ابر آلود ہوگا اور اگر ٹکڑا گھٹ کر چھوٹا ہو رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ موسم صاف ہو جائے گا
کُچھ کپڑے رنگ دھلائی کے وقت رنگ چھوڑ دیتے ہیں اور دُھل کر پُرانے لگنے لگتے ہیں ایسے موقع پر ایک گیلن پانی میں ایک کپ نمک حل کر دیں اور رنگین کپڑوں کو رات بھر اس پانی میں بھیگا رہنے دیں اور صبح اُن کپڑوں کو دھو لیں رنگ نہیں نکلے گا کیونکہ نمک رنگ کو کپڑے پر پکا کر دے گا اور دھلائی کے دوران نکلنے نہیں دے گا
اگر چمڑے کے جُوتے آواز دینے لگے ہیں تو جوتے کو اندر سے سول نکال کر گری کا تیل جوتے میں لگا دیں اور جب چمڑا تیل جذب کر لے تو سول واپس ڈال دیں آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور اگر آواز جوتوں کے اندر سے آتی ہو تو ٹالکم پاوڈر جوتے میں ڈال دیں
تازہ بریڈ، برگر بن اور فروٹ کیک وغیرہ اگر باریک سلائسز میں کاٹنے ہوں تو ایک مسئلہ ہوتا ہے اور بریڈ کے ذرات بُھرنے لگتے ہیں ایسے موقع پر تیز گرم پانی لیں اور اُس میں چھری کو تھوڑی دیر بھگو کر گرم کر لیں اور نکال کر فوراً کسی کپڑے سے صاف کر کے آسانی سے باریک سلائسز میں کاٹ لیں بریڈ وغیرہ آرام سے کٹ جائے گی
کانچ کا گلاس وغیرہ ٹوٹ جائے تو ویکیوم کلینر یا جھاڑو سے صفائی کرتے وقت اس بات کا خدشہ رہتا ہے کہ باریک کانچ صاف نہیں ہوگا ایسے موقع پر نرف اور گیلے کپڑے کا استعمال کریں اور کپڑے سے کانچ کو صاف کر دیں اس سے تمام باریک ذرات کپڑے پر چپک جائیں گے اور بہترین صفائی ہو جائے گی بعد میں وہ کپڑا پھینک دیں تاکہ جلد کٹ لگنے سے محفوظ رہے
ہاتھ پاؤں یا جسم کے کسی حصے پر کانچ یا لکڑی کا کوئی باریک ذرہ چُبھ جائے تو جہاں تکلیف دہ ہوتا ہے وہاں چھوٹا ہونے کے باعث آسانی سے نہیں نکلتا اور درد کا باعث بنا رہتا ہے ایسے موقع پر شیشے کی کوئی بوتل لیکر اُس میں کنارے تک گرم پانی ڈال کر متاثرہ جگہ پر رکھ کر دبا ؤ ڈالیں تاکہ تھوڑا ویکیوم پیدا ہو اس سے متاثرہ جگہ کے ماس میں کھنچاؤ پیدا ہو گا اور گرم بھاپ چھبے ہُوئے ذرے کو باہر کھینچ لے گی
اگر آنکھ میں کوئی چیز یاتنکا وغیرہ چلا گیا ہے اور نہیں نکل رہا تو اس کو نکالنے کے لیے صدیوں سے آزمودہ اور آسان ترین ٹوٹکہ استعمال کریں اور آنکھ میں کیسٹر آئل کا ایک قطرہ آنکھ کے کنارے پر ڈال دیں اور یاد رکھیں یہ قطرہ آنکھ کے اندر نہیں ڈالنا کنارے پر ڈالنا ہے تاکہ خودبخود گر جائے یہ ٹوٹکا تھوڑی ہی دیر میں آپکی آنکھ کو صاف کر دے گا اور تکلیف سے راحت کا باعث بنے گا
گرمی کے موسم میں دھوپ سے چہرے پر نشان پڑ جاتے ہیں اس کے لئے ایک لیموں کے رس میں ایک چمچ شہد ملا کر ماسک تیار کر لیں اور چہرے پر لگا لیں دس منٹ بعد چہرہ دھو لیں مسمل استعمال سے نشان آہستہ آہستہ ختم ہو جائیں گے
چکن پوکس کے نشان ختم کرنے کے لئے پچاس گرام صندل میں دس گرام گل ختمی ڈال کر پاؤڈر بنا لیں اس کو دودھ میں ملا کر پیسٹ بنا لیں ار نشانوں پر لگائیں
اگر آواز بیٹھ جائے تو گُڑ ڈال کر چاول پکائیں اور رات کو خوب پیٹ بھر کر کھائیں تھوڑی دیر بعد دع گھونٹ گرم پانی پی لیں دو تین دن ایسا کرنے سے آواز کھل جائے گی
سردیوں میں صحت مند رہنے کے لیے کیا کھانا چاہیے
سردیوں میں صحت مند رہنے کے لیے کیا کھانا چاہیے
سردیوں کی آمد آمد ہے اور ہم جہاں سارا سال اس خوبصورت موسم کا انتظار کرتے ہیں وہاں اس موسم کے ساتھ جُڑی کُچھ بیماریاں ہمیں اس دل نشین موسم سے لطف اندوز نہیں ہونے دیتیں سردیاں انسان کے امیون سسٹم (قوت مدافعت) کو کمزور کر دیتی ہیں اور اسی وجہ سے ہم عام طور پر سردیوں میں نزلے کھانسی اور زکام جیسی بیماریوں کا شکار رہتے ہیں سردیوں میں امیون سسٹم کو ٹھیک رکھنے اور صحت مند رہنے کے لیے ہمیں اپنی خوراک میں کُچھ ایسے کھانے شامل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمیں اندر سے مضبوط اور صحت مند رکھیں مندرجہ ذیل کھانےجو سردیوں میں ہمیں جہاں سردی اور بیماری سے بچائیں گے وہاں ہمیں اس موسم سے لطف اندوز ہونے میں بھی مدد گار ہوں گے
سردیوں میں کیا کھانا چاہیے:
سردیوں کے فروٹس مسمی مالٹا کینو وغیرہ اینٹی آکسیڈینٹ خوبیوں سے بھر پور ہوتے ہیں اور ان میں شامل وٹامن سی سردیوں میں ہماری صحت کے لیے انتہائی مفید ہے لہذا ان فروٹس کو اپنی روزانہ کی خوراک کا حصہ بنائیں اور سٹرس فروٹس کیساتھ ٹماٹر سُرخ مرچ اور آلو اور شکرقندی کو بھی اپنی خوراک کا حصہ بنائیں
ساگ:
سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک ساگ اجوائن کے پتے اور سبز پیاز بھی سردیوں کے ایسے کھانے ہیں جو ہمیں اندر سے مضبوط بناتے ہیں اور بیماریوں سے لڑنے کی قوت عطا کرتے ہیں سردیوں میں جب امیون سسٹم کمزور ہوتا ہے تو ایسے کھانے جن میں زنک کی مقدار زیادہ ہو ہمارے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں زنک والے کھانوں میں کالے چنے لوبیا انڈے گوشت اور امرود انار وغیرہ زنک سے بھرپور ہوتے ہیں
سردی کی آمد کیساتھ ہی سردیوں کی سبزیاں اور فروٹس بھی بازار میں ملنا شروع ہوجاتے ہیں ان سبزیوں اور فروٹس کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں اور نیچے دیئے گئے کھانوں کو اپنی خوراک میں شامل کریں تاکہ آپ کی قوت مدافعت سردی سے کمزور نہ ہو
شہد:
شہد اُم الشفا ہے جس میں وٹامنز اور منرلز کے ساتھ بے شمار اینٹی آکسیڈینٹ خوبیاں شامل ہیں جو آپ کے جسم میں موسمی بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتی ہیں اور سردی سے متاثر نہیں ہونے دیتی
ڈرائی فروٹس:
خشک میوہ جات سردیوں میں کسی اکسیر سے کم نہیں لیکن ان کا استعمال صبح کے ناشتے میں کریں تاکہ یہ معدے پر بھاری نہ ہوں اور معدے کو ان کو ہضم کرنے میں آسانی ہو اور جسم سارا دن ان کی توانائی سے مستفید ہو سکتے خشک میوہ جات میں بادام اخروٹ اور پستے کے علاوہ کشمش انجیر اور خشک خوبانی کو بھی اپنی خوراک میں شامل کریں
دیسی گھی:
دیسی گھی کے متعلق عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ چربی کی وجہ سے نقصان دہ ہے مگربہت سی میڈیکل تحقیقات کے مُطابق خالص دیسی گھی جسم سے بُری چکنائی کا خاتمہ کرتا ہے دیسی گھی کا ایک چمچ روازنہ صبح کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں تاکہ سردی کی خشکی آپ کو متاثر نہ کرے
تلسی ادرک اور نیازبو کے پتے:
یہ تینوں اینٹی بیکٹریل، اینٹی بائیوٹک اور اینٹی وائرل خوبیوں سے بھرپور ہوتے ہیں خاص طور پر ادرک کا زیادہ استعمال سردی میں کھانسی اور بلغم جیسی بیماریاں پیدا نہیں ہونے دیتا آپ ان تینوں کو اُبال کر ان کا قہوہ بھی استعمال کر سکتے ہیں
کالی مرچ اجوائن اور ہینگ:
ان تینوں چیزوں کو اپنی روزانہ کی خوراک میں شامل کریں خاص طور پر اپنی چائے اور قہوے میں ان کا استعمال بڑھائیں تاکہ آپ کو سردی نہ لگے کالی مرچ اجوائن اور ہینگ آپ کے جسم کی گرمائش کو برقرار رکھتی ہیں اور کم اور باریک لباس پہننے پر بھی آپ کو سردی نہیں لگنے دیتی
گُڑ اور شکر:
گُڑ اور شکر جہاں آپ کے نظام انہظام کو بہتر بناتے ہیں وہاں یہ جسم کی قوت مدافعت کو مضبوط بنانے میں بھی انتہائی مدد گار ہیں سردیوں میں اپنے قہوے اور میٹھے کھانے میں چینی کی بجائے گُڑ اور شکر کا استعمال کریں خاص طور پر چائے میں چینی کی جگہ شکر ڈالیں
لہسن:
اپنی اینٹی بیکٹریا اور اینٹی وائرل خوبیوں کی وجہ سے لہسن سردیوں کی سب سے زبردست خوراک ہے جو بیشمار خوبیوں کے ساتھ ساتھ سردی میں ہماری قوت مدافعت کو مضبوط بناتا ہے اور ہمیں سردی کے اثرات سے محفوظ رکھتا ہےان کھانوں کے ساتھ ساتھ سردیوں میں دُودھ مچھلی اور پانی کا استعمال بھی کریں اور ساری سردیاں ڈاکٹر سے محفوظ رہیں اور موسم سے خوب لطف اندوز ہوں
السی کے اندر کولیسٹرول کےعلاوہ بہت بیماریوں کا علاج
السی صدیوں سے استعمال کی جارہی ہے اور طبیب حضرات السی کو انتہائی کارآمد بیج مانتے ہیں اور اس بات کو آج دور جدید میں بہت سی سائنسی تحقیقات تسلیم کرتی ہیں اور السی کو انتہائی مفید خوراک کے طور پر تجویز کرتی ہیں السی کے ایسے فائدےجو میڈیکل سائنس کی بہت سے تحقیات میں ثابت ہو چکے ہیں
السی غذائی اجزا سے بھر پور :
السی کا بیج انسان نے اپنی ابتدا میں ہی تلاش کر لیا تھا اور اس کے مفید فائدوں سے آگاہ ہوگیا تھا اسی لیے السی کو قدیم ترین بیجوں میں شمار کیا جاتا ہے جس کی دو قسمیں (گولڈن، براون) ہیں اور دونوں ہی انتہائی مفید اور غذائی اجزا سے بھر پور ہوتی ہیں السی کو عام طور پر روزانہ ایک کھانے کا چمچ (7 گرام) ضرور کھانا چاہیے السی کا ایک کھانے کا چمچ روزانہ بہترین پروٹین اومیگا تھری غذائی فائبر وٹامنز اور منرلز مہیا کرتا ہے
السی کے صرف ایک کھانے کے چمچ میں درجہ ذیل غذائی اجزا پائے جاتے ہیں37 کیلوریز،1.3 گرام پروٹین،2 گرام کاربز،1.9 گرام فائبر،3 گرام ٹوٹل فیٹ،0.3 گرام سیچروٹیڈ فیٹ،1597 ملیگرام اومیگا فیٹی ایسڈ،وٹامن بی 6 ٪2 ، وٹامن بی 1٪ 8،کیلشیم ٪2 ، آئرن ٪2،میگنیشیم٪ 7، فاسفورس4 فیصد، پوٹاشیم ٪2
السی اومیگا تھری فیٹ سے بھر پور ہوتی ہے:
السی کے اندر اومیگا تھری فیٹ کی ایک بڑی مقدار موجود ہوتی ہے جسے الفا-لائینولینک ایسڈ کہا جاتا ہے جدید تحقیق کے مطابق یہ ایسڈ کولیسٹرول کو خون میں شامل ہونے سے روکتا ہے کوسٹا ریکن میڈیکل ریسرچ کے مطابق 3638 لوگوں پر تجربہ کیا گیا اور تحقیق سے اس بات کو ثابت کیا گیا کے الفا-لائینولینک ایسڈ استعمال کرنے والوں میں دل کا دورہ پڑنے کے چانسز بہت کم ہوتے ہیں اور یہ دل کی دیگر بیماریوں میں بھی انتہائی مفید ہوتی ہے
السی سرطان کی دُشمن:
تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ السی ایک غذائی اجزا لائگننس سے پھرپور ہوتی ہے اور Lignans کینسر کے سیلز کو ختم کرنے میں انتہائی فعال کردار ادا کرتا ہےالسی کھانے والی خواتین میں چھاتی کے سرطان کا مرض پیدا ہونے کےچانسز کم ہوتے ہیں مردوں کے پروسٹریٹ کینسر پر ہونے والی ریسرچ کے مطابق اگر 15 گرام السی روزانہ کھائی جائے اور دیگر چکنائیوں سے بچا جائے تو السی اس کینسر کو جڑ سے اُکھاڑ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے
السی فائبر سے بھرپور :
السی کے صرف ایک کھانے کے چمچ میں 3 گرام غذائی فائبر ہوتا ہے جو اسے دیگر فائبر رکھنے والی غذاوں میں سے اوپر کھڑا کر دیتا ہے غذائی فائبرمعدے اور مثانے میں موجود بیکڑیا کی صفائی کرتا ہے اور نظام انہضام کے لیے بھی انہتائی مفید ہے
السی کولیسڑول کم کرتی ہے:
جدید میڈیکل سائنس کی ریسرچز السی کو کولیسٹرول کم کرنے میں انتہائی مدد گار تسلیم کرتی ہیں ایک تحقیق کے مطابق 3 کھانے کے چمچ90دن السی کا پاوڈرروزانہ استعمال کرنے والوں میں ٪17 کولیسٹرال میں اور ٪20 LDL کولیسٹرول میں کمی دیکھی گئی اور ٪ 12 HDL یعنی اچھے کولیسٹرال میں اضافہ دیکھا گیا
بلڈ پریشر اور السی:
کینڈین میڈیکل ریسرچ کے مطابق 3 کھانے کے چمچ السی روزانہ چھ ماہ تک استعمال کر سے سیسٹالیک بلڈ پریشر 10ایم ایم ایچ جی اور ڈیاستولیک بلڈ پریشر 7 ایم ایم ایچ جی تک کم کیا جاسکتا ہےالسی قابو میں نہ آنے والے ہائی بلڈ پریشر کو قابو میں کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اگر اسے روزانہ خوراک کا حصہ بنایا جائے
السی بہترین پروٹین سے بھرپور ہوتی ہے:
السی کو اگر پودوں کی مچھلی کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیوں کہ یہ اومیگا تھری فیٹ کے ساتھ ساتھ پروٹین کی بہترین قسم سے بھوپور ہوتی ہے جو امیون فنکشن اور کولیسٹرول کو کم کرنے میں انتہائی مفید ہے
السی بلڈ شوگر قابو میں کرتی ہے:
ٹائپ 2 ذیابطیس بہت سے بیماریوں کا سبب ہے جس میں انسان کے خون میں انسولین کی پیدائش کم ہوجاتی ہے اور خون میں گلوکوز کا لیول بڑھ جاتا ہے سائنس کے مطابق اگر روزانہ 10 سے 20 گرام السی کو کھایا جائے تو 30 دن میں بلڈ شوگر ٪8-20 کم کی جاسکتی ہےالسی میں موجود انسلوبل فائبر شوگر کی خون میں ترسیل کو سست کرتا ہے اور شوگر کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید ہے
السی بھوک ختم کرتی ہے:
السی کھانے سے بھوک ختم ہوتی ہے اور جسم میں موجود چربی بگھلتی ہے وہ لوگ جو وزن کم کرنا چاہتے ہیں 25 گرام السی کو ناشتے میں استعمال کریں
السی اور السی کا تیل:
السی کا بیج اور السی کا تیل کھانے کو جہاں مزیدار بھی بناتا ہے اور بے پناہ غذائی اجزا سے بھرپور السی صحت کے لیے انتہائی مفید بھی ہے اس لیے السی کو اپنی روزانہ کی خوراک کا حصہ بنائیں اور صحت مند رہیں
ہارٹ اٹیک سے پہلے جسم پر وصول ہونے والی نشانیاں
پاکستان میں دل کی بیماریوں کی شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے اور 40 فیصد اموات کی وجہ (Coronary Heart Disease(CHD) ہے ،ہر سال پاکستان میں 2 لاکھ سے زیادہ اموات کی وجہ دل کی بیماریاں ہیں اور یہ ایک پریشان کن بات ہے دل کی خرابی کی صورت میں جسم پر وصول ہونے والی نشانیاں درج ذیل ہیں جن کو نظر انداز کرنا سنگین غلطی ہوگی
دل پر درد ہونا اور درد کا بازو میں پھیلنا:
مرد وں میں عام طور پر یہ درد بائیں بازو میں ہوتا ہے جبکہ خواتین میں یہ درد بائیں اور دائیں دونوں بازوں میں سفر کرتا ہے بعض خواتین میں دل کا دورہ پڑنے سے پہلے کہنی میں عجیب درد کی شکایت بھی ہوتی ہے ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ درد دل سے سپائنل کارڈ کے ذریعے بازو کی طرف سفر کرتا ہے سپائنل کارڈ میں جسم کی بہت سی اور رگیں ملکر درد کا سگنل وصول کرتی ہیں اور دماغ کو سگنل بھی بھیجتی ہیں دماغ بہت سی رگوں سے یہ سارے سگنل وصول کر کے کنفیوز ہو جاتا ہے اور آپ کو بتاتا ہے کہ درد بازو میں ہو رہا ہے جبکہ درد کی اصل جگہ دل ہوتا ہے
مسلسل کھانسی آنا:
کھانسی کی اور بھی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن یہ کارڈیو ویسکولر ڈیزیز کی بھی نشانی مانی جاتی ہے جس میں اگر کھانسی کے ساتھ خون بھی آئے تو یہ ہارٹ فیل ہونے کا سگنل ہے
بہت زیادہ نفسیاتی اور اعصابی تناؤ:
میڈیکل سائنس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی میں بہت زیادہ اعصابی تناؤ کا شکار رہتے ہیں اُن میں دل کی بیماریوں کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے، اعصابی تناؤ کی اوربھی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں جس میں سٹریس سے بھری زندگی یا پھر کوئی ڈس آرڈرجیسے پینک ڈس آرڈر اور Phobic Anxiety شامل ہیں اور اس کے دل پر بُرے اثرات پڑتے ہیں یہ عام طور پر بلڈ پریشر کو بڑھا دیتا ہے اور دل کی دھڑکنوں کو سُست کر دیتا ہے
پاؤں، ٹخنوں، اور ٹانگوں پر سوجن ہونا:
جب آپ کا دل خون کو ٹھیک طرح پمپ نہیں کرپاتا تو آپ کی بلڈ ویسلز کا فلڈ ایدھر اُدھر لیک کر جاتا ہے اور عام طور پر کشش ثقل کی وجہ سے پاؤں اور ٹانگوں میں اکھٹا ہوتا ہے اور سوجن ظاہر ہوتی ہے اسے Peripheralایڈیما کہا جاتا ہے اور اس ایڈیما میں ضروری نہیں کے دل ہی وجہ ہو لیکن دل میں خرابی کی صورت میں بھی یہ سوجن ظاہر ہوتی ہے جس پر توجہ دینی چاہیے
بھوک کا کم لگنا اور متلی آنا:
بہت سے مریضوں میں جو دل کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں بھوک کا کم لگنا اور متلی محسوس ہونا ایک عام نشانی ہے ایسا اس لیے ہوتا ہے کے بلڈ کا فلڈ جسم کے لیور کے گرد اور خوراک کو ہضم کرنے والے نظام کے رستے میں رکاوٹ بنتا ہے عام طور پر اس کی علامات میں پیٹ میں درد شروع ہوجاتی ہے ایسی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لینا چاہیے
جلد پر ریش پڑنا:
بہت سا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ ایگزیما اور Shingles دل کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں جلد پر ریش پڑنے کی ایک بڑی وجہ ہائی کولیسٹرول بھی ہوسکتا ہے جو دل کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے
تھکاوٹ محسوس ہونا:
دل میں خرابی کی صورت میں جسم تھوڑا سا کام کرکے زیادہ تھکاوٹ محسوس کرتا ہے کیوں کے دل جسم کو خون کی پُوری سپلائی نہیں دے پارہا ہوتا
اعصاب پر قابو نہ رہنا یا بے ہوش ہونا:
دل جب خون کو پمپ کرنے کی صلاحیت کھوتا ہے تو پورے جسم کے ساتھ ساتھ دماغ میں بھی خون کا بہاؤ کم ہوجاتا ہے اور دماغ کو اکسیجن کی سپلائی کم ہوجاتی ہے ایسی صورتحال میں بے ہوشی یا اعصاب پر قابو نہیں رہتا یہ دل فیل ہونے کی ایک بڑی نشانی ہے اور ایسی صورتحال میں فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے









