Baaghi TV

Category: بہاولپور

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا اوچ شریف کا ہنگامی دورہ، امدادی پیکج کا اعلان لیکن آفت زدہ علاقہ قرار نہ دینے پر مایوسی

    وزیراعلیٰ پنجاب کا اوچ شریف کا ہنگامی دورہ، امدادی پیکج کا اعلان لیکن آفت زدہ علاقہ قرار نہ دینے پر مایوسی

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سیلاب سے متاثرہ اوچ شریف کا ہنگامی دورہ کیا اور متاثرین کے لیے ایک جامع امدادی پیکج کا اعلان کیا، تاہم علاقے کو "آفت زدہ” قرار نہ دینے پر مقامی عوام میں گہری مایوسی پائی جاتی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ نے اوچ شریف کے نواحی علاقے بلہ جھلن میں قائم فلڈ ریلیف کیمپ کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ رکن صوبائی اسمبلی مخدوم سید عامر علی شاہ، ایم پی اے ملک خالد محمود وارن اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے وزیراعلیٰ کو سیلاب کی تباہ کاریوں اور متاثرہ خاندانوں کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔

    مریم نواز نے متاثرین سے براہ راست ملاقاتیں کیں، ان کے مسائل سنے اور فوری امداد کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور ان کے لیے خصوصی مالی امداد کا بھی اعلان کیا۔ اس دوران ایک موقع پر انہوں نے کیمپ میں موجود ایک بچے کو گود میں اٹھا کر متاثرین کے دل جیت لیے۔

    دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے سرکاری منچن بند کا معائنہ کیا اور مستقبل میں سیلابی خطرات سے بچاؤ کے لیے اسے مزید مضبوط بنانے کی ہدایت جاری کیں۔ انہوں نے متاثرین کی بحالی کے لیے ایک جامع امدادی پیکج کا اعلان کیا جس میں مالی امداد، رہائشی سہولیات کی فراہمی، زراعت کی بحالی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر نو شامل ہے۔

    مقامی عوام اور سماجی رہنماؤں نے وزیراعلیٰ کے بروقت دورے اور امدادی پیکج کا خیرمقدم کیا، لیکن علاقے کو باضابطہ طور پر آفت زدہ قرار نہ دیے جانے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ سیلاب نے ان کے گھر، کھیت اور روزگار مکمل طور پر تباہ کر دیے ہیں اور آفت زدہ علاقہ قرار نہ دینا ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اوچ شریف اور گردونواح کو فوری طور پر آفت زدہ علاقہ قرار دے کر خصوصی فنڈز جاری کیے جائیں تاکہ متاثرین کی مکمل بحالی ممکن ہو سکے۔

  • اوچ شریف: ایم پی اے عامر علی شاہ کی اسمبلی میں سیلاب متاثرین کی بھرپور وکالت

    اوچ شریف: ایم پی اے عامر علی شاہ کی اسمبلی میں سیلاب متاثرین کی بھرپور وکالت

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان) دریائے ستلج اور چناب کے حالیہ سیلاب سے تباہ حال اوچ شریف کے عوام کی آواز پنجاب اسمبلی کے ایوان میں گونج اٹھی۔ عوامی رہنما و رکن صوبائی اسمبلی مخدوم سید عامر علی شاہ نے اپنے حلقے کے متاثرین کی کسمپرسی اور دلخراش حالات کو جذباتی انداز میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ درجنوں دیہات پانی میں ڈوب گئے، ہزاروں گھر منہدم ہو گئے، کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں جبکہ بچے، خواتین اور بزرگ بھوک اور بیماری کا شکار ہیں۔

    انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ علاقوں کو فوری طور پر آفت زدہ قرار دے کر راشن، خیمے، صاف پانی اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

    انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی غفلت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “اعلانات اور وعدوں سے عوام کا پیٹ نہیں بھرتا، عملی اقدامات ہی سہارا ہیں، بصورت دیگر عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے۔

    ” مقامی عوام نے اپنے نمائندے کی جرات مندانہ وکالت پر خوشی اور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نقصانات کا فوری تخمینہ لگایا جائے اور معاوضے کے ساتھ بحالی کے منصوبے بنائے جائیں۔

  • اوچ شریف: ناصر ٹاؤن میں کھلے ہولز اور گندا پانی، شہری اذیت میں مبتلا

    اوچ شریف: ناصر ٹاؤن میں کھلے ہولز اور گندا پانی، شہری اذیت میں مبتلا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان) ناصر ٹاؤن اس وقت بدترین صورتحال کا شکار ہے جہاں سیوریج کے کھلے ہولز اور گندا پانی گلیوں کو دلدل میں بدل چکا ہے۔ کھلے ہولز دہکتے تندور کی مانند موت کے دہانے بنے ہوئے ہیں، جس کے باعث کسی بھی وقت بڑے حادثے کا خدشہ ہے۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ متعدد شکایات کے باوجود میونسپل کمیٹی نے نہ تو نکاسیٔ آب کا انتظام کیا اور نہ ہی خطرناک ہولز کو ڈھانپنے کی زحمت کی۔ مرد، خواتین اور بچے گھروں سے نکلنے سے خوفزدہ ہیں جبکہ بزرگ اور مریض شدید اذیت میں مبتلا ہیں۔

    شہریوں نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ہولز فوری طور پر نہ بھرے گئے تو میونسپل کمیٹی کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔

    مکینوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اوچ شریف کے قلب میں واقع ناصر ٹاؤن کے لوگ دوسرے درجے کے شہری ہیں جنہیں بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا جا رہا ہے؟

  • اوچ شریف: ٹھیکیدار کا فراڈ، میٹل روڈ منصوبہ تین برس سے تعطل کا شکار،عوام خوار

    اوچ شریف: ٹھیکیدار کا فراڈ، میٹل روڈ منصوبہ تین برس سے تعطل کا شکار،عوام خوار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی گاؤں موضع چک مانک کے رہائشی تین برس سے بدعنوانی اور انتظامی غفلت کا شکار ہیں۔ مقامی مکینوں کے مطابق ٹھیکیدار نے میٹل روڈ کی تعمیر کے نام پر فنڈز ہڑپ کر لیے اور پہلے سے موجود سولنگ اکھاڑ کر اینٹیں فروخت کر دیں، جس کے بعد منصوبہ مکمل طور پر تعطل کا شکار ہو گیا۔

    اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ ٹوٹ پھوٹ، کیچڑ اور گردوغبار نے گاؤں کو اذیت کدہ بنا دیا ہے۔ بارش میں راستے دلدل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جبکہ خشک موسم میں اڑتی دھول سے صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔

    اہم تعلیمی ادارے، جن میں دو سرکاری سکول اور دینی مدرسہ "حیدر کرار” شامل ہیں، براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں اور طلبہ و طالبات کی حاضری میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ خواتین، بچے اور بزرگ روزمرہ آمدورفت میں شدید مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ مریضوں کو اسپتال پہنچانا بھی مشکل ہو چکا ہے۔

    نمبر دار ملک حسنین سمیت عمائدین اور رہائشیوں نے الزام لگایا کہ یہ تین سالہ تعطل انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت ہے اور عوام کے ساتھ کھلا دھوکہ ہے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق سے فوری نوٹس لینے، کرپٹ ٹھیکیدار کے خلاف کارروائی کرنے اور بیچی گئی اینٹوں سمیت مکمل حساب کتاب لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • مسلم سٹوڈنٹس لیگ کے  سیلاب متاثرین کی خیمہ بستیوں میں سکول قائم

    مسلم سٹوڈنٹس لیگ کے سیلاب متاثرین کی خیمہ بستیوں میں سکول قائم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،لاہور،باجوڑ،بہاولپور کی خیمہ بستی میں مسلم سٹوڈنٹس لیگ نے سکول قائم کر دیئے،مددگار سکولوں میں سینکڑوں بچے زیر تعلیم ہیں ،جلال پور پیر والا،علی پور سمیت دیگر علاقوں میں سیلاب متاثرین کو کشتیوں کے ذریعے ریسکیو کیا جا رہا ہے، متاثرین میں کھانے خشک راشن کی تقسیم کا عمل بھی جاری ہے

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر سیلاب متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،مسلم اسٹوڈنٹس لیگ بھی سیلاب متاثرہ علاقوں میں متحرک ہے، مسلم سٹوڈنٹس لیگ نے سیلاب متاثرین کی خیمہ بستیوں لاہور، باجوڑ،بہاولپور میں مددگار اسکول قائم کر دیئے ہیں،سیلا ب متاثرہ بچوں‌کو سکولوں میں تعلیم دی جا رہی ہے، مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی جانب سے سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو سکول بیگ، کتابیں، کاپیاں تحفتا دی گئی ہیں، مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی مددگار ٹیم نے لاہور،موہلنوال میں خیمہ بستی میں سکول کے بعد باجوڑ خیبر پختونخواہ میں مددگار سکول قائم کیا جس کی افتتاحی تقریب میں اسسٹنٹ کمشنر خار باجوڑ کلیم جان، صدر مسلم سٹوڈنٹس لیگ انس محصی، جنرل سیکرٹری ایم ایس ایل عمر عباس، صدر مددگار ٹیم حماد عبدالرزاق، کو آڈینیٹر ایم ایس ایل کے پی کے معاویہ اعجاز اور دیگر معزز شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر متاثرہ بچوں میں قرآن مجید کے ساتھ ساتھ ایجوکیشنل گفٹس بھی تقسیم کیے گئے۔بہاولپور میں خیمہ بستی میں مددگار اسکول کے افتتاح کے موقع پر صدر مسلم سٹوڈنٹس لیگ انس محصی اور علاقائی معزز شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر انس محصی کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لئے مسلم سٹوڈنٹس لیگ کے نوجوان بھی متحرک ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ سیلاب متاثرین کے بچوں کی تعلیم کے لئے وقت ضائع نہ ہو اسی لئے خیمہ بستیوں میں ہی سکول بنائے گئے ہیں ،مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی جانب سے دیگر خیمہ بستیوں میں بھی مددگار سکول بنائے جائیں گے.

  • اوچ شریف:سیلاب متاثرین کی کشتی الٹ گئی

    اوچ شریف:سیلاب متاثرین کی کشتی الٹ گئی

    بہاولپور: تحصیل اوچ شریف کے علاقے بیٹ بکھری میں کشتی الٹ گئی۔

    ریسکیو حکام کے مطابق اوچ شریف میں الٹنے والی کشتی میں 3 افراد سوار تھے جنہیں بروقت ریسکیو کرلیا گیا جب کہ نجی کشتی کو قبضے میں لے لیا گیا ہے،نجی کشتی میں سوار لوگ اپنے گھروں میں مقیم لوگوں کے لیے کھانا لے کرجارہے تھے۔

    دوسری جانب ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر کا بتانا ہے کہ جلال پورپیروالا سے آنے والاسیلابی پانی تحصیل احمدپور شرقیہ کے دریائی علاقوں میں داخل ہورہا ہے اور احمد پور شرقیہ کے 100 سے زائد دیہات زیر آب ہیں، متاثرہ علاقوں میں ابھی بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے تاہم بہت سے لوگ اب بھی اپنے گھروں میں موجود ہیں اورنکلنے کو تیار نہیں ہیں۔

    تنقید سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے، مرتضیٰ وہاب

    قبل،ازیں،ملتان کی تحصیل جلالپور پیر والا میں سیلاب متاثرین کی کشتی الٹ گئی،تھی،کشتی میں 19 افراد سوار تھے، 18 افراد کو بچا لیا گیا تھا،کشتی اوباڑو جنوبی قائد ملت اسکول کے قریب حادثے کا شکار ہوئی، حادثےکا شکار ہونے والی کشتی نے سیلاب متاثرین کو موضع دراب پور سے ریسکیو کیا تھامظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کےعلاقےلتی ماڑی میں بھی سیلاب متاثرین کی کشتی الٹی تھی۔

    ریسکیو حکام کے مطابق کشتی میں 10 سے زائد افراد سوار تھے، مزید ایک شخص نےکشتی میں لٹکنے کی کوشش کی تو کشتی اپنا توازن کھو کر الٹ گئی، خوش قسمتی سےکوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور تمام افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا،ادھر بہاولنگر کی بستی کلر والی کےمقام پردریائےستلج میں 12 سال کابچہ ڈوب کرجاں بحق ہو گیا۔

    خیبرپختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی سے متعلق آڈٹ رپورٹ سامنے آگئی

  • بہاولپور: ڈپٹی کمشنر کا نجی کشتیاں تحویل میں لے کر ریسکیو میں شامل کرنے کا حکم

    بہاولپور: ڈپٹی کمشنر کا نجی کشتیاں تحویل میں لے کر ریسکیو میں شامل کرنے کا حکم

    بہاولپور میں سیلاب متاثرین کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے ڈپٹی کمشنر بہاولپور نے تمام نجی کشتیاں تحویل میں لینے اور انہیں سرکاری ریسکیو آپریشن کا حصہ بنانے کے احکامات جاری کر دیے۔

    ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ نجی کشتیوں کو ریسکیو 1122 کے آپریشن میں شامل کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ متاثرہ افراد کو بروقت نکالا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب میں پھنسے لوگوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنا ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے دستیاب تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ریسکیو ذرائع کے مطابق متاثرہ افراد نے شکایت کی تھی کہ نجی کشتی مالکان سیلاب کے دوران کرایوں میں غیر معمولی اضافہ کر کے ان سے زائد رقم وصول کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے متاثرین کا کہنا تھا کہ انہیں کشتی کے ذریعے محفوظ مقام تک پہنچانے کے لیے 25 سے 30 ہزار روپے تک مانگے جا رہے ہیں۔

    سیلاب متاثرہ ایک شخص نے جیو نیوز کے پروگرام ’’کیپیٹل ٹاک‘‘ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے روتے ہوئے شکایت کی کہ وہ صبح چھ بجے سے اپنی فیملی کو بچانے کے لیے کشتی کا انتظار کر رہا ہے، اس کے اہل خانہ پانی میں گھرے ہوئے ہیں، بھوکے پیاسے ہیں، لیکن ریسکیو اہلکار اور نجی کشتی مالکان انہیں نکالنے کے لیے بھاری رقوم طلب کر رہے ہیں۔ اس شخص نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ "میں بے بسی کے عالم میں کھڑا ہوں اور چاہتا ہوں کہ کوئی ایک کشتی مل جائے تاکہ اپنی فیملی کو محفوظ مقام پر پہنچا سکوں، لیکن ریسکیو 1122 والے بھی عوام سے 25، 30 ہزار روپے لے رہے ہیں۔”

    عوامی شکایات سامنے آنے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے تمام نجی کشتیوں کو تحویل میں لے کر انہیں سرکاری ریسکیو آپریشن میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ متاثرہ افراد کو بغیر کسی مالی دباؤ کے محفوظ مقامات تک پہنچایا جاسکے۔

  • بہاولپور میں دریائے ستلج کا ریلا بپھرنے سے زمیندارہ بند ٹوٹ گئے

    بہاولپور میں دریائے ستلج کا ریلا بپھرنے سے زمیندارہ بند ٹوٹ گئے

    بہاولپور میں دریائے ستلج کا ریلا بپھرنے سے زمیندارہ بند ٹوٹ گئے اور پانی ملحقہ آبادیوں میں داخل ہونے سے کئی مکانات گر گئے

    موضع ساہلاں میں زمیندارہ بند ٹوٹنے سے پانی بستی حسین آباد اور ملحقہ بستیوں میں داخل ہو گیا جس کے باعث کئی مکان گر گئے اور علاقہ مکینوں نے نقل مکانی شروع کر دی،ادھر ہیڈ تریموں سے نکلنے والے نئے ریلے کی آمد کے باعث دوبارہ ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے،ڈی سی ملتان کا کہنا ہے کہ ہیڈ تریموں سے 4 لاکھ 14 ہزار سے زائد کیوسک کا نیا ریلا دو روز میں ملتان کے بندوں سے ٹکرائے گا، لہٰذا دریائی علاقوں کے مکین دوبارہ گھروں کو جانے سے گریز کریں،ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ موجودہ ریلےکی ملتان کی دریائی حدود سے نکلنے کی سست رفتار پر تشویش ہے، موجودہ ریلے نے شجاع آباد اور جلالپور پیروالا کے متعدد علاقوں کو نقصان پہنچایا، 36 گھٹنےمیں ڈسچارج کی سست رفتارکے باعث ریلے کی سطح میں متوقع کمی نہیں ہوئی، ملتان: نئے ریلے کی شدت میں زیادہ اضافہ ہوا تو بریچنگ پر دوبارہ غور کریں گے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے سیلابی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گجرات میں بارشوں سے مرکزی نالوں میں بریچنگ ہوئی جو اربن فلڈنگ کی وجہ بنی، گجرات میں نکاسی آب کے لیے مشینری پہنچا دی گئی ہے، اگلے 12 سے 18 گھنٹے میں صورتحال بہتر ہو جائےگی، دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے اور سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں،سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 50 قیمتی جانوں کا نقصان ہوا ہے، جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو 10، 10 لاکھ روپے امداد دی جائے گی۔سیالکوٹ اور گجرات سب سے زیادہ سیلاب سے متاثر ہوئے، گجرات میں ریلیف سرگرمیوں کے لیے تمام تر سہولتیں فراہم کردی گئی ہیں۔

  • بہاولپور سیلاب، جنازہ کشتی کے ذریعے قبرستان منتقل

    بہاولپور سیلاب، جنازہ کشتی کے ذریعے قبرستان منتقل

    پنجاب کے مختلف شہروں میں حالیہ بارشوں اور دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث سیلابی صورتحال برقرار ہے جس سے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

    بہاولپور کی تحصیل خیرپور ٹامیوالی کے علاقے بونگہ رمضان میں رابطہ سڑکیں سیلابی پانی میں ڈوب جانے سے آمد و رفت مکمل طور پر معطل ہوگئی۔ اسی وجہ سے ایک جنازہ کشتی کے ذریعے قبرستان منتقل کرنا پڑا۔ اس موقع پر لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا رہا تاہم ریسکیو اہلکاروں نے مدد فراہم کر کے جنازے کو بحفاظت قبرستان پہنچانے میں کردار ادا کیا۔

    علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ پانی کی بلند سطح نے روزمرہ زندگی کو مفلوج کر دیا ہے، اسکول، دفاتر اور بازار بھی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔

    ادھر جھنگ کے علاقے کھوڑاں باقر میں بھی سیلاب متاثرین نے آمد و رفت کے لیے عارضی اور غیر روایتی ذرائع اپنانا شروع کر دیے ہیں۔ مقامی افراد نے ٹائروں اور ٹیوبز کا سہارا لے کر پانی میں سفر کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ بنیادی ضروریات زندگی جیسے خوراک اور ادویات تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔متاثرہ شہریوں نے حکومت سے فوری امدادی اقدامات اور پانی کے اخراج کے لیے ہنگامی بنیادوں پر منصوبہ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مزید جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

  • اوچ شریف: سیلاب متاثرین کو ڈینگی اور ملیریا سے بچانے کے لیے خصوصی مہم کا آغاز

    اوچ شریف: سیلاب متاثرین کو ڈینگی اور ملیریا سے بچانے کے لیے خصوصی مہم کا آغاز

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان) ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان اور اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ نوید حیدر کی ہدایت پر اوچ شریف کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ڈینگی اور ملیریا سے بچاؤ کے لیے ایک جامع مہم شروع کی گئی ہے۔ اس مہم کا مقصد سیلاب متاثرین کو موسمی بیماریوں سے محفوظ رکھنا ہے۔

    مہم کی اہم جھلکیاں
    انڈور اسپرے: فوکل ڈینگی انسپکٹر عمران حیدر سیال کی نگرانی میں بنگلہ مستوئی، بختیاری، جھانگڑہ شرقی، اور بھلا جھلن سمیت تمام ریلیف کیمپس میں انڈور ریزیڈوئل اسپرے (IRS) کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔

    آگاہی اور سہولیات: اس مہم کے تحت نہ صرف مچھروں کا خاتمہ کیا جا رہا ہے، بلکہ متاثرین کو صاف پانی، بنیادی طبی امداد، اور صفائی کے حوالے سے آگاہی بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

    انتظامیہ کا عزم: اسسٹنٹ کمشنر نوید حیدر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی تک ان کی امداد کے لیے دن رات کوشاں ہے اور صحت عامہ کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے عوام کو کھڑے پانی کو ہٹانے اور اپنے ماحول کو صاف رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

    متاثرین نے اس مہم کو ایک "زندگی بچانے والا اقدام” قرار دیا اور انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مشکل وقت میں بروقت امداد اور اسپرے کی بدولت وہ بیماریوں سے محفوظ ہیں۔ یہ مہم دیگر اضلاع کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ ہے۔