Baaghi TV

Category: بہاولپور

  • اوچ شریف:دفعہ 144 گیا بھاڑ میں،جھانگڑہ پل کے قریب دریائے ستلج میں نہانے کا سلسلہ جاری

    اوچ شریف:دفعہ 144 گیا بھاڑ میں،جھانگڑہ پل کے قریب دریائے ستلج میں نہانے کا سلسلہ جاری

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)جھانگڑہ پل کے قریب دریائے ستلج میں متعدد افراد کی جانب سے خطرناک طریقے سے نہانے کے واقعات سامنے آئے ہیں، جو ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق کے جاری کردہ حفاظتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں دریاؤں اور نہروں میں نہانے پر سخت پابندی عائد کی تھی، اور خبردار کیا تھا کہ ایسی لاپرواہی سنگین حادثات اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن سکتی ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق متعدد نوجوانوں کو نہ صرف نہاتے دیکھا گیا بلکہ وہ گہرے پانی میں خطرناک انداز میں تیراکی کرتے بھی نظر آئے، جس سے کسی بڑے حادثے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ مقامی لوگوں نے انتظامیہ کی خاموشی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد نہ ہونے سے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

    شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے فوری ایکشن لینے اور نگرانی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ایسی غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور نہر و دریا کے کناروں پر پولیس یا رینجرز تعینات کیے جائیں تاکہ کسی ممکنہ سانحے سے بچا جا سکے۔

    تاہم، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس واقعے کی باضابطہ تصدیق یا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جس سے شہریوں میں اضطراب بڑھ رہا ہے۔ یہ صورتحال شہری تحفظ کے حوالے سے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھا رہی ہے۔

  • بہاولپور : آلو گوبھی کا سالن کھانے سے ایک بچہ جاں بحق، 3 تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل

    بہاولپور : آلو گوبھی کا سالن کھانے سے ایک بچہ جاں بحق، 3 تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل

    بہاولپور (نامہ نگار حبیب خان): بہاولپور کے علاقے سمہ سٹہ ٹانگہ اڈہ میں فوڈ پوائزننگ کا ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں رات کے کھانے میں آلو گوبھی کھانے سے ایک 6 سالہ بچے کی جان چلی گئی، جبکہ تین دیگر بچوں کو تشویشناک حالت میں بہاول وکٹوریہ ہسپتال (بی وی ایچ) منتقل کیا گیا ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق، خوش قسمتی سے ان تینوں بچوں کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

    ریسکیو ٹیم اور ہسپتال کے ابتدائی ذرائع کے مطابق، بستی بدھا نیئر آر ایچ سی خانقاہ کے رہائشی چار بچوں نے رات کو آلو گوبھی کھائی تھی، جس کے بعد اچانک ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کھانے میں کوئی زہریلا مواد شامل تھا جس کی وجہ سے یہ فوڈ پوائزننگ ہوئی۔
    جاں بحق اور متاثرہ بچوں کی تفصیلات:محمد سلمان ولد محمد کورا (عمر: 6 سال، بستی بدھا نیئر آر ایچ سی خانقاہ): بدقسمتی سے محمد سلمان موقع پر ہی دم توڑ گئے اور انہیں ہسپتال منتقل نہیں کیا جا سکا۔محمد عثمان ولد الطاف (عمر: 4 سال، بستی بدھا نیئر آر ایچ سی خانقاہ)شمشیر ولد الطاف (عمر: 3 سال، بستی بدھا نیئر آر ایچ سی خانقاہ)لقمان ولد منیر احمد (عمر: 3 سال، بستی بدھا نیئر آر ایچ سی خانقاہ)

    بہاول وکٹوریہ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عامر محمود بخاری نے تصدیق کی ہے کہ تینوں بچوں کو ایمرجنسی وارڈ میں داخل کیا گیا ہے اور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ان کے علاج میں مصروف ہے۔

    مقامی پولیس نے اس دلخراش واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فوڈ پوائزننگ کی اصل وجہ جاننے کے لیے کھانے کے نمونے حاصل کر کے ٹیسٹنگ کے لیے لیبارٹری بھیجے جائیں گے تاکہ زہریلے مادے کی موجودگی کی تصدیق کی جا سکے۔

  • اوچ شریف: کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی، جرائم پیشہ افراد سرگرم، شہری عدم تحفظ کا شکار

    اوچ شریف: کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی، جرائم پیشہ افراد سرگرم، شہری عدم تحفظ کا شکار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف میں کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مجرمانہ غفلت نے صورتحال کو مزید سنگین کر دیا ہے۔ شہر کے مختلف گنجان آباد علاقوں بشمول اوچ بخاری، اوچ گیلانی، شمس کالونی، امیر آباد، اکبر ٹاؤن، اختر کالونی، ناصر ٹاؤن، سمیع ٹاؤن، عمر ٹاؤن، اقبال آباد، شمیم آباد اور حسینی چوک میں مکان مالکان کی جانب سے کرایہ داروں کے کوائف پولیس کو جمع نہ کروانے کا سلسلہ عام ہو چکا ہے۔

    اس قانونی غفلت کی آڑ میں جرائم پیشہ اور مشکوک افراد نے ان رہائشی علاقوں میں اپنے ڈیرے جما لیے ہیں، جس سے چوری، ڈکیتی اور دیگر جرائم میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ رات کے وقت چوری کی وارداتیں معمول بنتی جا رہی ہیں اور انجان چہروں کی آمدورفت نے خوف کی فضا قائم کر دی ہے۔

    مقامی رہائشیوں نے باغی ٹی وی سے گفتگو میں حالیہ وارداتوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی خاموشی جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی کے مترادف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کرایہ داری ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور تمام مکان مالکان کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے کرایہ داروں کی تفصیلات متعلقہ تھانوں میں لازمی جمع کرائیں۔

    شہریوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو جرائم کی شرح میں مزید اضافہ ہو گا جو شہر کے امن و امان کو شدید خطرے میں ڈال دے گا۔ مقامی پولیس سے رابطے کی کوشش کے باوجود کوئی مؤثر یا تسلی بخش مؤقف سامنے نہ آ سکا، جس نے شہریوں کے تحفظات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

    شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے اوچ شریف میں قانون کی بالادستی قائم کریں تاکہ عوام کو تحفظ کا احساس دلایا جا سکے اور مجرموں کا قلع قمع کیا جا سکے۔

  • اوچ شریف: مسلم و غیر مسلم جعلی پیروں، نجومیوں  کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کا مطالبہ

    اوچ شریف: مسلم و غیر مسلم جعلی پیروں، نجومیوں کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کا مطالبہ

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف اور گردونواح میں غیر مسلم جعلی پیروں، نجومیوں اور تعویذ گنڈے کے نام پر کام کرنے والے جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف عوامی ردعمل شدت اختیار کر گیا ہے۔ شہریوں نے ان گروہوں کو سادہ لوح عوام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان گروہوں پر الزام ہے کہ وہ کالا جادو، جھوٹی کرامات اور تعویذات کے ذریعے نہ صرف مالی لوٹ مار کر رہے ہیں بلکہ خواتین کی عزتوں کو بھی پامال کر رہے ہیں۔

    مقامی افراد کے مطابق عباسیہ لنک کینال، محمود ماتم، بگو رام، جانی رام، پیپو رام سمیت متعدد علاقوں میں غیر مسلم افراد کی آڑ میں یہ جعلی روحانی معالج اپنا دھندہ کھلے عام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ متاثرہ شہریوں محمد قاسم خان، عبدالرشید، محمد عامر، یونس عمر، محمود الحسن، اکبر علی اور دیگر نے میڈیا کو بتایا کہ یہ افراد جھوٹے خواب، پیش گوئیاں اور نقلی عملیات کے نام پر لاکھوں روپے بٹور رہے ہیں۔

    شہریوں نے انکشاف کیا کہ ان گروہوں کے خفیہ اڈوں پر خواتین کو بند کمروں میں بلایا جاتا ہے جہاں ان کے ساتھ جنسی زیادتی جیسے جرائم سرزد ہو رہے ہیں۔ ان جعلی پیروں کے نیٹ ورک میں ایسے ایجنٹ بھی شامل ہیں جو جھوٹی کہانیاں گھڑ کر سادہ لوح افراد کو ورغلاتے ہیں اور انہیں اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ تمام حرکات اسلامی تعلیمات اور قرآن مجید کے احکامات کے صریح خلاف ہیں۔ عوام نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس پر خاموش تماشائی بنے رہنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اداروں کی عدم کارروائی ان جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی کے مترادف ہے۔

    شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، چیف سیکرٹری پنجاب، آئی جی پنجاب اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے اپیل کی ہے کہ ان جعلی پیروں اور نجومیوں کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کیا جائے، ان کے خفیہ اڈے مسمار کیے جائیں، عوام کو شعور دینے کے لیے آگاہی مہم شروع کی جائے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان پر آہنی ہاتھ ڈالیں۔

    مقامی آبادی نے خبردار کیا ہے کہ اگر انتظامیہ نے فوری اور موثر کارروائی نہ کی تو وہ سڑکوں پر نکل کر احتجاجی دھرنوں کا آغاز کریں گے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ معاشرے کو اس ناسور سے نجات دلانے کے لیے حکومت کو فوری اور سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔

  • اوچ شریف: غیرقانونی بھانوں سے شہر گندگی اور بیماریوں کی لپیٹ میں، شہریوں کا فوری نوٹس کا مطالبہ

    اوچ شریف: غیرقانونی بھانوں سے شہر گندگی اور بیماریوں کی لپیٹ میں، شہریوں کا فوری نوٹس کا مطالبہ

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)غیرقانونی بھانوں سے روحانی شہر ماحولیاتی تباہی کا شکار، تعفن، بیماریوں اور انسانی المیے پر شہری سراپا احتجاج

    پنجاب کا روحانی و تاریخی شہر اوچ شریف اس وقت ایک شدید ماحولیاتی بحران میں مبتلا ہے، جہاں درجنوں غیر قانونی جانوروں کے بھانے شہری زندگی کے لیے عذاب بن چکے ہیں۔ شہر کی گلیاں، رہائشی علاقے اور نالیاں گندگی، تعفن، خون آلود پانی اور جانوروں کے فضلے سے اٹی پڑی ہیں، جس سے نہ صرف شہریوں کا روزمرہ معمول مفلوج ہو گیا ہے بلکہ مختلف مہلک امراض بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

    شہریوں نے انکشاف کیا ہے کہ یہ بھانے بااثر افراد کی سرپرستی میں عرصہ دراز سے قائم ہیں اور انتظامیہ کی خاموشی اس غیرقانونی کاروبار کو دوام دے رہی ہے۔ فضلے کی بدبو سے شہری گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ سانس کی بیماریاں، دمہ، اسہال، جلدی امراض اور پیٹ کے مسائل بچوں، خواتین اور بزرگوں کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔

    مقامی رہائشی محمد رمضان، عامر محمود، الحسن اکبر اور شفیق احمد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ "یہ شہر اولیاء کا مرکز ہے، مگر بدقسمتی سے انتظامیہ کی غفلت نے اسے گندگی کا مرکز بنا دیا ہے۔ بچوں کا اسکول جانا، خواتین کا گھروں سے نکلنا اور بزرگوں کا مسجد تک جانا بھی عذاب بن چکا ہے۔”

    شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز، چیف سیکرٹری، سیکرٹری ماحولیات، کمشنر بہاولپور اور ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فرحان فاروق سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ:

    * شہر کے رہائشی علاقوں میں موجود تمام غیر قانونی بھانوں کی فوری بندش کو یقینی بنایا جائے
    * ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ماحولیات پر مشتمل خودمختار ٹاسک فورس تشکیل دی جائے
    * فضلہ ٹھکانے لگانے کے لیے جدید اور منظم نظام نافذ کیا جائے
    * گندگی پھیلانے اور ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں

    شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اوچ شریف میں ایک مکمل ماحولیاتی سانحہ جنم لے سکتا ہے جو نہ صرف صحت عامہ کے لیے خطرہ بنے گا بلکہ روحانی و ثقافتی ورثے کی توہین بھی تصور ہوگا۔

  • بہاولپور: اسلامیہ یونیورسٹی میں ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے پر آگاہی سیمینار

    بہاولپور: اسلامیہ یونیورسٹی میں ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے پر آگاہی سیمینار

    بہاولپور (باغی ٹی وی ، نامہ نگار حبیب خان) ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے کے موقع پر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے میڈیکل اینڈ ہیلتھ ڈویژن کے زیر اہتمام ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں صحت عامہ سے متعلق ماہرین، اساتذہ، فیکلٹی ممبران اور ملازمین نے بھرپور شرکت کی۔ سیمینار کا مقصد ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی روک تھام، اس سے بچاؤ، اور صحت کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔

    وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "تندرستی ہزار نعمت ہے” اور ایک تندرست معاشرہ ہی ترقی کی ضمانت ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پہلے ہی "ہیپاٹائٹس فری کیمپس” کے ہدف پر کام کر رہی ہے اور ملازمین و طلبا کی صحت کے تحفظ کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    ڈاکٹر قاضی مسرور علی، سابق ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ قائداعظم میڈیکل کالج، نے ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ میں سماجی رویوں کی تبدیلی کو کلیدی عنصر قرار دیتے ہوئے کہا کہ صاف ستھری زندگی اور طبی اصولوں کی پابندی ہی اس موذی مرض سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے۔ انہوں نے ویکسینیشن، محفوظ انجیکشن اور باقاعدہ طبی معائنہ کو بھی ناگزیر قرار دیا۔

    ڈائریکٹر ہیلتھ بہاولپور ڈاکٹر سید تنویر حسین نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور نائجیریا دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں ہیپاٹائٹس کا پھیلاؤ سب سے زیادہ ہے، اور پاکستان میں اس وقت 1.2 کروڑ افراد ہیپاٹائٹس بی یا سی سے متاثر ہیں۔

    چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر محمد عثمان چیمہ نے بتایا کہ یونیورسٹی میں 2020 سے ایک فعال ہیپاٹائٹس کلینک کام کر رہا ہے جہاں فیکلٹی، طلبہ اور ملازمین کی اسکریننگ اور علاج کی سہولیات دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم ہیپاٹائٹس فری کیمپس کے ویژن کی عملی مثال ہے۔

    سیمینار کے دوران پرنسپل میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ملیحہ عارف نے ہیپاٹائٹس کی وجوہات، احتیاطی تدابیر اور طبی پہلوؤں پر مفصل پریزنٹیشن دی، جبکہ ویمن میڈیکل آفیسر ڈاکٹر صباء طاہر نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔

    اس بامقصد سیمینار کے ذریعے نہ صرف ہیپاٹائٹس کے حوالے سے آگاہی میں اضافہ ہوا بلکہ یہ پیغام بھی عام ہوا کہ اگر صحت کے اصولوں کو زندگی کا حصہ بنا لیا جائے تو ہیپاٹائٹس جیسے مہلک امراض سے نجات ممکن ہے۔ شرکاء نے یونیورسٹی انتظامیہ کے اس مثبت اقدام کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور جلد "ہیپاٹائٹس فری کیمپس” کا ہدف حاصل کر لے گی۔

  • اوچ شریف: سبزی و فروٹ منڈی میں آڑھتیوں کی من مانی، پرائس کنٹرول غائب

    اوچ شریف: سبزی و فروٹ منڈی میں آڑھتیوں کی من مانی، پرائس کنٹرول غائب

    اوچ شریف (باغی ٹی وی ، نامہ نگار حبیب خان) احمد پور شرقیہ کی سبزی و فروٹ منڈی میں پرائس کنٹرول کا مکمل فقدان، آڑھتیوں نے من مانی نرخ مقرر کرنا شروع کر دیے، جس سے مہنگائی کا طوفان عوام کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ شہریوں نے شکایت کی ہے کہ انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی عدم موجودگی کے باعث روزمرہ سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جبکہ معیار بھی شدید متاثر ہوا ہے۔

    ذرائع کے مطابق منڈی میں سرکاری نرخ نامے صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہو چکے ہیں، اور آڑھتی 20 سے 30 فیصد زائد نرخ وصول کر کے صارفین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ مختلف اقسام کی اشیاء کو مصنوعی طور پر "اعلیٰ” اور "ادنیٰ” درجہ دے کر نرخوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ منڈی میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی بولیوں میں انتظامیہ کی غیر موجودگی نے آڑھتیوں کو مکمل آزادی دے رکھی ہے۔

    شہریوں نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی مہنگائی کی خبریں میڈیا پر آتی ہیں، متعلقہ افسران چند دنوں کے لیے متحرک ہوتے ہیں لیکن جلد ہی سارا عمل پھر پرانی ڈگر پر آ جاتا ہے۔ ایسی عارضی کارروائیاں عوام کو مستقل ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

    سماجی اور فلاحی تنظیموں کے نمائندوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، کمشنر بہاولپور اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے اپیل کی ہے کہ احمدپور شرقیہ کی سبزی و فروٹ منڈیوں میں روزانہ کی بنیاد پر مجسٹریٹس اور دیگر ذمہ دار افسران کی حاضری یقینی بنائی جائے تاکہ قیمتوں پر کنٹرول قائم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایماندار اور بااختیار افسران بولی کے عمل کو خود مانیٹر کریں تو نرخوں میں استحکام ممکن ہے۔

    شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ اگر موجودہ حالات پر قابو نہ پایا گیا تو غریب طبقے کے لیے سستی سبزی اور پھل کا حصول خواب بن کر رہ جائے گا، جس سے معاشرتی بے چینی اور عوامی غصہ بڑھ سکتا ہے۔

  • کپاس کی فصل پر تباہ کن حملے، محکمہ زراعت وٹس ایپ تک محدود، کاشتکار بے بس

    کپاس کی فصل پر تباہ کن حملے، محکمہ زراعت وٹس ایپ تک محدود، کاشتکار بے بس

    اوچ شریف (باغی ٹی وی ،نامہ نگار حبیب خان) تحصیل احمد پور شرقیہ کی سب تحصیل اوچ شریف اور گردونواح میں کپاس کی فصل اس وقت شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے، گرمی کی حبس، غیر معمولی موسمیاتی تبدیلیوں اور کیڑے مکوڑوں کے تباہ کن حملوں نے فصلوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے، جبکہ محکمہ زراعت کی کارکردگی صرف واٹس ایپ گروپ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

    چوک بھٹہ، خیرپور ڈاہا، دھوڑکوٹ، ترنڈ بشارت، سرور آباد، بکھری، حلیم پور، رسول پور، بیٹ احمد، بیٹ بختیاری، کچی شکرانی، مستوئی، طاہر والی، چنی گوٹھ سمیت متعدد دیہی علاقوں میں کپاس کی فصل پر سفید مکھی، گلابی سنڈی، سبز تیلہ اور تھرپس کے حملوں نے شدید تباہی مچا دی ہے۔ مقامی کاشتکاروں کے مطابق فصلیں سوکھ رہی ہیں، پتے جھڑ رہے ہیں اور پھول متاثر ہو رہے ہیں، لیکن محکمہ زراعت عملی طور پر غیر حاضر ہے۔

    کسانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ زراعت کی ملی بھگت سے غیر معیاری زرعی ادویات مارکیٹ میں دھڑلّے سے فروخت ہو رہی ہیں، جن کی وجہ سے سپرے کے باوجود کیڑوں پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ غیر مؤثر سپرے سے نہ صرف فصل تباہ ہوئی بلکہ کسانوں کے مالی وسائل بھی ضائع ہو گئے۔ ایک کاشتکار نے بتایا کہ "ہماری زمینیں جل رہی ہیں، لیکن محکمہ صرف مشورے واٹس ایپ پر بھیج رہا ہے، کوئی افسر فیلڈ میں نظر نہیں آتا۔”

    کسانوں نے محکمہ زراعت کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صرف میٹنگز، تصاویر اور موبائل پیغامات سے زمینی حقائق نہیں بدل سکتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر فیلڈ افسران کو متاثرہ علاقوں میں بھیجا جائے،غیر معیاری زرعی ادویات کی فروخت پر کریک ڈاؤن کیا جائے،کسانوں کو سستی، مؤثر اور معیاری سپرے مہیا کیا جائے،بیماریوں سے بچاؤ کی تربیت اور بروقت مشورے فیلڈ میں فراہم کیے جائیں۔

    کاشتکاروں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ زراعت کو بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں، ورنہ نہ صرف کپاس کی پیداوار متاثر ہوگی بلکہ ملکی معیشت کو بھی بڑا دھچکا لگے گا۔ اگر یہ روش برقرار رہی تو کسان سڑکوں پر احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

    کیا محکمہ زراعت اب بھی واٹس ایپ سے باہر نکلے گا؟

  • اوچ شریف: لاریب سکول کی سعدیہ بی بی 1141 نمبر لے کر نمایاں

    اوچ شریف: لاریب سکول کی سعدیہ بی بی 1141 نمبر لے کر نمایاں

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)میٹرک رزلٹ 2025 میں اوچ شریف روڈ پر واقع چنی گوٹھ کے نواحی علاقے چک نمبر 151 این پی کے لاریب پبلک ہائی سکول نے تعلیمی میدان میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ادارے کی ہونہار طالبہ سعدیہ بی بی نے پنجاب بورڈ کے سالانہ امتحان میں 1141 نمبر حاصل کر کے نہ صرف اپنے اسکول بلکہ پورے علاقے کا نام فخر سے بلند کر دیا۔

    اس شاندار کامیابی پر اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر محمد اکرم خان نے طلبہ، والدین اور اساتذہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ:

    "یہ کامیابی ہماری مشترکہ محنت کا نتیجہ ہے۔ میں والدین کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہم پر اعتماد کیا، اور اپنے جملہ سٹاف کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے بچوں کی تعلیمی و اخلاقی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔”

    یاد رہے کہ یہ اسکول پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) سے الحاق شدہ ہے اور علاقے بھر میں گورنمنٹ و پرائیویٹ سیکٹر کے اداروں میں اپنی تعلیمی کارکردگی کے باعث ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ والدین نے بھی اس موقع پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ادارے کی تعریف کی اور کہا کہ:

    "ڈاکٹر محمد اکرم خان اور ان کے اساتذہ نے ہمارے بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت دی، ہم ان کے شکر گزار ہیں۔”

    ڈاکٹر محمد اکرم خان نے مزید کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ PEF کے معیار کے مطابق حکومت پنجاب کے تعلیمی ویژن کو سامنے رکھتے ہوئے ادارے میں ہائی کوالیفائیڈ اسٹاف کا انتخاب کیا جائے، طلبہ کی نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جائے اور تدریس کے جدید اصولوں کو اپنایا جائے تاکہ ادارہ مزید کامیابیوں کی راہ پر گامزن رہے۔

    اس کامیابی نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر جذبہ، محنت اور نیت خالص ہو تو دیہی علاقوں کے تعلیمی ادارے بھی بڑے شہروں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ سعدیہ بی بی کی کامیابی پورے علاقے کے لیے ایک روشن مثال بن گئی ہے۔

  • اوچ شریف: قانون کی رٹ دفن، گلیاں قبرستانوں کا منظر، شہری محصور، انتظامیہ خاموش

    اوچ شریف: قانون کی رٹ دفن، گلیاں قبرستانوں کا منظر، شہری محصور، انتظامیہ خاموش

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف اس وقت بدترین بدانتظامی، لاقانونیت اور مجرمانہ غفلت کا شکار ہو چکا ہے۔ شہر کی تنگ و تاریک گلیاں اب رہائشی راستے نہیں بلکہ قبرستانوں کا منظر پیش کر رہی ہیں، جہاں ہر قدم پر غیر قانونی تھڑے، ریت بجری کے ڈھیراور بے لگام تجاوزات شہری زندگی کے لیے مستقل خطرہ بن چکے ہیں۔

    صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینس، فائر بریگیڈ یا پولیس کی گاڑی بروقت متاثرہ مقام تک نہیں پہنچ پاتی۔ متعدد بار ایسے سانحات سامنے آ چکے ہیں جہاں مریض بروقت اسپتال نہ پہنچنے کے باعث جان کی بازی ہار گئے اور آگ بجھانے والی گاڑیاں راستہ نہ ہونے کے باعث جائے وقوعہ تک نہ پہنچ سکیں۔ یہ انسانی المیے اب صرف اتفاقات نہیں بلکہ ریاستی ناکامی کے واضح ثبوت بن چکے ہیں۔

    شہر میں تعمیراتی مافیا کی حکمرانی نظر آتی ہے، جو دن دہاڑے سرکاری زمینوں پر قابض ہو کر غیر قانونی تعمیرات جاری رکھے ہوئے ہے۔ شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر ان سب تجاوزات کو کس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ اور وہ کون سے عناصر ہیں جن کے ہوتے ہوئے قانون خاموش اور انتظامیہ بے بس ہے؟

    ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔ متعلقہ افسران یا تو لا علم ہیں یا جان بوجھ کر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ شہری حلقے اس خاموشی کو "منتخب بے حسی” قرار دے رہے ہیں جو کہ عوام کے بنیادی حقوق پر کھلا حملہ ہے۔

    شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، کمشنر بہاولپور، اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطالبات درج ذیل ہیں:

    شہر بھر سے تمام غیر قانونی تھڑے، تجاوزات اور رکاوٹیں فی الفور ہٹائی جائیں۔
    ایمرجنسی سروسز کے راستے بحال کیے جائیں تاکہ جان بچانے والی گاڑیاں بروقت پہنچ سکیں۔
    مجرمانہ غفلت برتنے والے سرکاری اہلکاروں اور تعمیراتی مافیا کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    شہریوں نے واضح کیا ہے کہ اگر انتظامیہ نے فوری اقدامات نہ اٹھائے تو وہ سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کریں گے۔ اس وقت سوال یہ ہے کہ کیا حکومت بروقت حرکت میں آ کر اوچ شریف کو بچا پائے گی یا یہ شہر اپنی ہی گلیوں میں کسی بڑے سانحے کا منتظر ہے؟