Baaghi TV

Category: بہاولپور

  • اوچ شریف: غیرقانونی بھانوں سے شہر گندگی اور بیماریوں کی لپیٹ میں، شہریوں کا فوری نوٹس کا مطالبہ

    اوچ شریف: غیرقانونی بھانوں سے شہر گندگی اور بیماریوں کی لپیٹ میں، شہریوں کا فوری نوٹس کا مطالبہ

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)غیرقانونی بھانوں سے روحانی شہر ماحولیاتی تباہی کا شکار، تعفن، بیماریوں اور انسانی المیے پر شہری سراپا احتجاج

    پنجاب کا روحانی و تاریخی شہر اوچ شریف اس وقت ایک شدید ماحولیاتی بحران میں مبتلا ہے، جہاں درجنوں غیر قانونی جانوروں کے بھانے شہری زندگی کے لیے عذاب بن چکے ہیں۔ شہر کی گلیاں، رہائشی علاقے اور نالیاں گندگی، تعفن، خون آلود پانی اور جانوروں کے فضلے سے اٹی پڑی ہیں، جس سے نہ صرف شہریوں کا روزمرہ معمول مفلوج ہو گیا ہے بلکہ مختلف مہلک امراض بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

    شہریوں نے انکشاف کیا ہے کہ یہ بھانے بااثر افراد کی سرپرستی میں عرصہ دراز سے قائم ہیں اور انتظامیہ کی خاموشی اس غیرقانونی کاروبار کو دوام دے رہی ہے۔ فضلے کی بدبو سے شہری گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ سانس کی بیماریاں، دمہ، اسہال، جلدی امراض اور پیٹ کے مسائل بچوں، خواتین اور بزرگوں کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔

    مقامی رہائشی محمد رمضان، عامر محمود، الحسن اکبر اور شفیق احمد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ "یہ شہر اولیاء کا مرکز ہے، مگر بدقسمتی سے انتظامیہ کی غفلت نے اسے گندگی کا مرکز بنا دیا ہے۔ بچوں کا اسکول جانا، خواتین کا گھروں سے نکلنا اور بزرگوں کا مسجد تک جانا بھی عذاب بن چکا ہے۔”

    شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز، چیف سیکرٹری، سیکرٹری ماحولیات، کمشنر بہاولپور اور ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فرحان فاروق سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ:

    * شہر کے رہائشی علاقوں میں موجود تمام غیر قانونی بھانوں کی فوری بندش کو یقینی بنایا جائے
    * ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ماحولیات پر مشتمل خودمختار ٹاسک فورس تشکیل دی جائے
    * فضلہ ٹھکانے لگانے کے لیے جدید اور منظم نظام نافذ کیا جائے
    * گندگی پھیلانے اور ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں

    شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اوچ شریف میں ایک مکمل ماحولیاتی سانحہ جنم لے سکتا ہے جو نہ صرف صحت عامہ کے لیے خطرہ بنے گا بلکہ روحانی و ثقافتی ورثے کی توہین بھی تصور ہوگا۔

  • بہاولپور: اسلامیہ یونیورسٹی میں ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے پر آگاہی سیمینار

    بہاولپور: اسلامیہ یونیورسٹی میں ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے پر آگاہی سیمینار

    بہاولپور (باغی ٹی وی ، نامہ نگار حبیب خان) ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے کے موقع پر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے میڈیکل اینڈ ہیلتھ ڈویژن کے زیر اہتمام ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں صحت عامہ سے متعلق ماہرین، اساتذہ، فیکلٹی ممبران اور ملازمین نے بھرپور شرکت کی۔ سیمینار کا مقصد ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی روک تھام، اس سے بچاؤ، اور صحت کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔

    وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "تندرستی ہزار نعمت ہے” اور ایک تندرست معاشرہ ہی ترقی کی ضمانت ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پہلے ہی "ہیپاٹائٹس فری کیمپس” کے ہدف پر کام کر رہی ہے اور ملازمین و طلبا کی صحت کے تحفظ کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    ڈاکٹر قاضی مسرور علی، سابق ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ قائداعظم میڈیکل کالج، نے ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ میں سماجی رویوں کی تبدیلی کو کلیدی عنصر قرار دیتے ہوئے کہا کہ صاف ستھری زندگی اور طبی اصولوں کی پابندی ہی اس موذی مرض سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے۔ انہوں نے ویکسینیشن، محفوظ انجیکشن اور باقاعدہ طبی معائنہ کو بھی ناگزیر قرار دیا۔

    ڈائریکٹر ہیلتھ بہاولپور ڈاکٹر سید تنویر حسین نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور نائجیریا دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں ہیپاٹائٹس کا پھیلاؤ سب سے زیادہ ہے، اور پاکستان میں اس وقت 1.2 کروڑ افراد ہیپاٹائٹس بی یا سی سے متاثر ہیں۔

    چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر محمد عثمان چیمہ نے بتایا کہ یونیورسٹی میں 2020 سے ایک فعال ہیپاٹائٹس کلینک کام کر رہا ہے جہاں فیکلٹی، طلبہ اور ملازمین کی اسکریننگ اور علاج کی سہولیات دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم ہیپاٹائٹس فری کیمپس کے ویژن کی عملی مثال ہے۔

    سیمینار کے دوران پرنسپل میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ملیحہ عارف نے ہیپاٹائٹس کی وجوہات، احتیاطی تدابیر اور طبی پہلوؤں پر مفصل پریزنٹیشن دی، جبکہ ویمن میڈیکل آفیسر ڈاکٹر صباء طاہر نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔

    اس بامقصد سیمینار کے ذریعے نہ صرف ہیپاٹائٹس کے حوالے سے آگاہی میں اضافہ ہوا بلکہ یہ پیغام بھی عام ہوا کہ اگر صحت کے اصولوں کو زندگی کا حصہ بنا لیا جائے تو ہیپاٹائٹس جیسے مہلک امراض سے نجات ممکن ہے۔ شرکاء نے یونیورسٹی انتظامیہ کے اس مثبت اقدام کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور جلد "ہیپاٹائٹس فری کیمپس” کا ہدف حاصل کر لے گی۔

  • اوچ شریف: سبزی و فروٹ منڈی میں آڑھتیوں کی من مانی، پرائس کنٹرول غائب

    اوچ شریف: سبزی و فروٹ منڈی میں آڑھتیوں کی من مانی، پرائس کنٹرول غائب

    اوچ شریف (باغی ٹی وی ، نامہ نگار حبیب خان) احمد پور شرقیہ کی سبزی و فروٹ منڈی میں پرائس کنٹرول کا مکمل فقدان، آڑھتیوں نے من مانی نرخ مقرر کرنا شروع کر دیے، جس سے مہنگائی کا طوفان عوام کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ شہریوں نے شکایت کی ہے کہ انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی عدم موجودگی کے باعث روزمرہ سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جبکہ معیار بھی شدید متاثر ہوا ہے۔

    ذرائع کے مطابق منڈی میں سرکاری نرخ نامے صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہو چکے ہیں، اور آڑھتی 20 سے 30 فیصد زائد نرخ وصول کر کے صارفین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ مختلف اقسام کی اشیاء کو مصنوعی طور پر "اعلیٰ” اور "ادنیٰ” درجہ دے کر نرخوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ منڈی میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی بولیوں میں انتظامیہ کی غیر موجودگی نے آڑھتیوں کو مکمل آزادی دے رکھی ہے۔

    شہریوں نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی مہنگائی کی خبریں میڈیا پر آتی ہیں، متعلقہ افسران چند دنوں کے لیے متحرک ہوتے ہیں لیکن جلد ہی سارا عمل پھر پرانی ڈگر پر آ جاتا ہے۔ ایسی عارضی کارروائیاں عوام کو مستقل ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

    سماجی اور فلاحی تنظیموں کے نمائندوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، کمشنر بہاولپور اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے اپیل کی ہے کہ احمدپور شرقیہ کی سبزی و فروٹ منڈیوں میں روزانہ کی بنیاد پر مجسٹریٹس اور دیگر ذمہ دار افسران کی حاضری یقینی بنائی جائے تاکہ قیمتوں پر کنٹرول قائم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایماندار اور بااختیار افسران بولی کے عمل کو خود مانیٹر کریں تو نرخوں میں استحکام ممکن ہے۔

    شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ اگر موجودہ حالات پر قابو نہ پایا گیا تو غریب طبقے کے لیے سستی سبزی اور پھل کا حصول خواب بن کر رہ جائے گا، جس سے معاشرتی بے چینی اور عوامی غصہ بڑھ سکتا ہے۔

  • کپاس کی فصل پر تباہ کن حملے، محکمہ زراعت وٹس ایپ تک محدود، کاشتکار بے بس

    کپاس کی فصل پر تباہ کن حملے، محکمہ زراعت وٹس ایپ تک محدود، کاشتکار بے بس

    اوچ شریف (باغی ٹی وی ،نامہ نگار حبیب خان) تحصیل احمد پور شرقیہ کی سب تحصیل اوچ شریف اور گردونواح میں کپاس کی فصل اس وقت شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے، گرمی کی حبس، غیر معمولی موسمیاتی تبدیلیوں اور کیڑے مکوڑوں کے تباہ کن حملوں نے فصلوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے، جبکہ محکمہ زراعت کی کارکردگی صرف واٹس ایپ گروپ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

    چوک بھٹہ، خیرپور ڈاہا، دھوڑکوٹ، ترنڈ بشارت، سرور آباد، بکھری، حلیم پور، رسول پور، بیٹ احمد، بیٹ بختیاری، کچی شکرانی، مستوئی، طاہر والی، چنی گوٹھ سمیت متعدد دیہی علاقوں میں کپاس کی فصل پر سفید مکھی، گلابی سنڈی، سبز تیلہ اور تھرپس کے حملوں نے شدید تباہی مچا دی ہے۔ مقامی کاشتکاروں کے مطابق فصلیں سوکھ رہی ہیں، پتے جھڑ رہے ہیں اور پھول متاثر ہو رہے ہیں، لیکن محکمہ زراعت عملی طور پر غیر حاضر ہے۔

    کسانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ زراعت کی ملی بھگت سے غیر معیاری زرعی ادویات مارکیٹ میں دھڑلّے سے فروخت ہو رہی ہیں، جن کی وجہ سے سپرے کے باوجود کیڑوں پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ غیر مؤثر سپرے سے نہ صرف فصل تباہ ہوئی بلکہ کسانوں کے مالی وسائل بھی ضائع ہو گئے۔ ایک کاشتکار نے بتایا کہ "ہماری زمینیں جل رہی ہیں، لیکن محکمہ صرف مشورے واٹس ایپ پر بھیج رہا ہے، کوئی افسر فیلڈ میں نظر نہیں آتا۔”

    کسانوں نے محکمہ زراعت کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صرف میٹنگز، تصاویر اور موبائل پیغامات سے زمینی حقائق نہیں بدل سکتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر فیلڈ افسران کو متاثرہ علاقوں میں بھیجا جائے،غیر معیاری زرعی ادویات کی فروخت پر کریک ڈاؤن کیا جائے،کسانوں کو سستی، مؤثر اور معیاری سپرے مہیا کیا جائے،بیماریوں سے بچاؤ کی تربیت اور بروقت مشورے فیلڈ میں فراہم کیے جائیں۔

    کاشتکاروں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ زراعت کو بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں، ورنہ نہ صرف کپاس کی پیداوار متاثر ہوگی بلکہ ملکی معیشت کو بھی بڑا دھچکا لگے گا۔ اگر یہ روش برقرار رہی تو کسان سڑکوں پر احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

    کیا محکمہ زراعت اب بھی واٹس ایپ سے باہر نکلے گا؟

  • اوچ شریف: لاریب سکول کی سعدیہ بی بی 1141 نمبر لے کر نمایاں

    اوچ شریف: لاریب سکول کی سعدیہ بی بی 1141 نمبر لے کر نمایاں

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)میٹرک رزلٹ 2025 میں اوچ شریف روڈ پر واقع چنی گوٹھ کے نواحی علاقے چک نمبر 151 این پی کے لاریب پبلک ہائی سکول نے تعلیمی میدان میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ادارے کی ہونہار طالبہ سعدیہ بی بی نے پنجاب بورڈ کے سالانہ امتحان میں 1141 نمبر حاصل کر کے نہ صرف اپنے اسکول بلکہ پورے علاقے کا نام فخر سے بلند کر دیا۔

    اس شاندار کامیابی پر اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر محمد اکرم خان نے طلبہ، والدین اور اساتذہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ:

    "یہ کامیابی ہماری مشترکہ محنت کا نتیجہ ہے۔ میں والدین کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہم پر اعتماد کیا، اور اپنے جملہ سٹاف کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے بچوں کی تعلیمی و اخلاقی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔”

    یاد رہے کہ یہ اسکول پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) سے الحاق شدہ ہے اور علاقے بھر میں گورنمنٹ و پرائیویٹ سیکٹر کے اداروں میں اپنی تعلیمی کارکردگی کے باعث ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ والدین نے بھی اس موقع پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ادارے کی تعریف کی اور کہا کہ:

    "ڈاکٹر محمد اکرم خان اور ان کے اساتذہ نے ہمارے بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت دی، ہم ان کے شکر گزار ہیں۔”

    ڈاکٹر محمد اکرم خان نے مزید کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ PEF کے معیار کے مطابق حکومت پنجاب کے تعلیمی ویژن کو سامنے رکھتے ہوئے ادارے میں ہائی کوالیفائیڈ اسٹاف کا انتخاب کیا جائے، طلبہ کی نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جائے اور تدریس کے جدید اصولوں کو اپنایا جائے تاکہ ادارہ مزید کامیابیوں کی راہ پر گامزن رہے۔

    اس کامیابی نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر جذبہ، محنت اور نیت خالص ہو تو دیہی علاقوں کے تعلیمی ادارے بھی بڑے شہروں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ سعدیہ بی بی کی کامیابی پورے علاقے کے لیے ایک روشن مثال بن گئی ہے۔

  • اوچ شریف: قانون کی رٹ دفن، گلیاں قبرستانوں کا منظر، شہری محصور، انتظامیہ خاموش

    اوچ شریف: قانون کی رٹ دفن، گلیاں قبرستانوں کا منظر، شہری محصور، انتظامیہ خاموش

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف اس وقت بدترین بدانتظامی، لاقانونیت اور مجرمانہ غفلت کا شکار ہو چکا ہے۔ شہر کی تنگ و تاریک گلیاں اب رہائشی راستے نہیں بلکہ قبرستانوں کا منظر پیش کر رہی ہیں، جہاں ہر قدم پر غیر قانونی تھڑے، ریت بجری کے ڈھیراور بے لگام تجاوزات شہری زندگی کے لیے مستقل خطرہ بن چکے ہیں۔

    صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ ایمرجنسی کی صورت میں ایمبولینس، فائر بریگیڈ یا پولیس کی گاڑی بروقت متاثرہ مقام تک نہیں پہنچ پاتی۔ متعدد بار ایسے سانحات سامنے آ چکے ہیں جہاں مریض بروقت اسپتال نہ پہنچنے کے باعث جان کی بازی ہار گئے اور آگ بجھانے والی گاڑیاں راستہ نہ ہونے کے باعث جائے وقوعہ تک نہ پہنچ سکیں۔ یہ انسانی المیے اب صرف اتفاقات نہیں بلکہ ریاستی ناکامی کے واضح ثبوت بن چکے ہیں۔

    شہر میں تعمیراتی مافیا کی حکمرانی نظر آتی ہے، جو دن دہاڑے سرکاری زمینوں پر قابض ہو کر غیر قانونی تعمیرات جاری رکھے ہوئے ہے۔ شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر ان سب تجاوزات کو کس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ اور وہ کون سے عناصر ہیں جن کے ہوتے ہوئے قانون خاموش اور انتظامیہ بے بس ہے؟

    ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔ متعلقہ افسران یا تو لا علم ہیں یا جان بوجھ کر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ شہری حلقے اس خاموشی کو "منتخب بے حسی” قرار دے رہے ہیں جو کہ عوام کے بنیادی حقوق پر کھلا حملہ ہے۔

    شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، کمشنر بہاولپور، اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطالبات درج ذیل ہیں:

    شہر بھر سے تمام غیر قانونی تھڑے، تجاوزات اور رکاوٹیں فی الفور ہٹائی جائیں۔
    ایمرجنسی سروسز کے راستے بحال کیے جائیں تاکہ جان بچانے والی گاڑیاں بروقت پہنچ سکیں۔
    مجرمانہ غفلت برتنے والے سرکاری اہلکاروں اور تعمیراتی مافیا کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    شہریوں نے واضح کیا ہے کہ اگر انتظامیہ نے فوری اقدامات نہ اٹھائے تو وہ سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کریں گے۔ اس وقت سوال یہ ہے کہ کیا حکومت بروقت حرکت میں آ کر اوچ شریف کو بچا پائے گی یا یہ شہر اپنی ہی گلیوں میں کسی بڑے سانحے کا منتظر ہے؟

  • اوچ شریف: مقدس مزارات کے اطراف گندگی ، زائرین پریشان، انتظامیہ خاموش

    اوچ شریف: مقدس مزارات کے اطراف گندگی ، زائرین پریشان، انتظامیہ خاموش

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)روحانی، تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے پاکستان کے اہم ترین شہروں میں شمار ہونے والا اوچ شریف اس وقت سنگین صفائی کے بحران سے دوچار ہے۔ حضرت محبوب سبحانی شیخ عبدالقادر جیلانیؒ، مخدوم جہانیاں جہاں گشتؒ، اور مخدوم جلال الدین سرخ پوشؒ سمیت دیگر بزرگانِ دین کے مزارات کے اردگرد گندگی کے ڈھیر، ابلتی نالیاں، بدبو اور مچھروں کی بہتات نے زائرین کو پریشان کر دیا ہے۔

    ملک بھر سے عقیدت کے جذبے سے سرشار ہو کر اوچ شریف پہنچنے والے زائرین اس صورتحال پر سخت نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ رحیم یار خان سے آنے والے زائر محمد رمضان نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم یہاں روحانی سکون کی تلاش میں آئے تھے، مگر گندگی اور بدبو نے سارا تاثر برباد کر دیا۔”

    دیگر زائرین نے بھی شکایت کی کہ نہ تو پینے کا صاف پانی میسر ہے، نہ بیت الخلاء کا مناسب بندوبست، اور نہ ہی مچھروں سے بچاؤ کے لیے کوئی اقدام کیا گیا ہے۔ مزارات کے خادمین اور متولیان کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور بہاولپور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (بی ڈبلیو ایم سی) کو بارہا تحریری اور زبانی شکایات کی گئیں، لیکن کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔

    نالیوں کی صفائی نہ ہونے کے باعث گندا پانی سڑکوں پر بہہ رہا ہے، جبکہ گندگی کے ڈھیر روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ مچھر مار سپرے اور فوگنگ جیسی بنیادی سہولیات کا مکمل فقدان ہے، جس سے نہ صرف شہر کی روحانی عظمت متاثر ہو رہی ہے بلکہ زائرین کی صحت کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

    شہریوں اور زائرین نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور درج ذیل اقدامات پر زور دیا ہے:

    * تمام مزارات کے اطراف روزانہ کی بنیاد پر صفائی یقینی بنائی جائے۔
    * بی ڈبلیو ایم سی مچھر مار اسپرے اور فوگنگ مہم فوری شروع کرے۔
    * زائرین کے لیے صاف پانی، بیت الخلاء، اور سایہ دار بیٹھنے کی جگہیں مہیا کی جائیں۔
    * مزارات کی بے حرمتی پر ذمہ داران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔

    زائرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر متعلقہ اداروں نے فوری اقدامات نہ کیے تو مقدس مقامات کی زیارت سے محروم ہونا پڑے گا۔ "یہ مزارات ہمارے ایمان اور عقیدت کا مرکز ہیں، لیکن انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی ہمیں یہاں آنے سے روک رہی ہے،” ایک زائر نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

    اب دیکھنا یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ اوقاف کب تک خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں یا زائرین کی اس آواز پر کوئی عملی قدم اٹھاتے ہیں۔

  • اوچ شریف: زمین کے تنازع نے بھائی کو دشمن بنا دیا، نذیر احمد کی دہائی پر پولیس خاموش

    اوچ شریف: زمین کے تنازع نے بھائی کو دشمن بنا دیا، نذیر احمد کی دہائی پر پولیس خاموش

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار: حبیب خان)موضع لاڑ بستی کھنڈو، تھانہ نو شہرہ جدید کی حدود میں زمین کے تنازع نے خاندانی رشتوں کو دشمنی میں بدل دیا ہے۔ نذیر احمد نامی شہری نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے سگے بھائی وزیر احمد نے زرعی زمین ہتھیانے کی غرض سے نہ صرف اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کر رکھی ہیں بلکہ اس کی جان کو بھی شدید خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔

    نذیر احمد نے اس سلسلے میں تھانہ نو شہرہ جدید، ایس ایچ او اور ڈی پی او بہاولپور کو متعدد بار تحریری درخواستیں دیں، تاہم پولیس کی جانب سے مکمل خاموشی اور بے حسی کا مظاہرہ کیا گیا۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہی گھر میں غیر محفوظ ہو چکا ہے اور پولیس کی مجرمانہ خاموشی اسے موت کے منہ کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر کوئی افسوسناک واقعہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری پولیس اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

    علاقہ مکینوں نے بھی پولیس رویے پر سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زمینی تنازعات جیسے نازک معاملات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے عملی ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پولیس نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو یہ خاندانی جھگڑا کسی بڑے خونی سانحے میں بدل سکتا ہے۔

    سماجی حلقوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی پی او بہاولپور فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیں، نذیر احمد کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور وزیر احمد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس کی غیر سنجیدگی نے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر دی ہے، جو کسی وقت بھی قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ اگر بروقت اقدام نہ اٹھایا گیا تو صرف مذمت اور افسوس باقی رہ جائے گا۔

  • اوچ شریف: سینئر صحافی حبیب خان کی بیٹی خدیجہ نے میٹرک میں 1122 نمبر لے کر شاندار کامیابی سمیٹ لی

    اوچ شریف: سینئر صحافی حبیب خان کی بیٹی خدیجہ نے میٹرک میں 1122 نمبر لے کر شاندار کامیابی سمیٹ لی

    اوچ شریف (نامہ نگار) اوچ شریف کے سینئر صحافی اور پریس کلب کے جنرل سیکرٹری حبیب خان کی ہونہار بیٹی خدیجہ حبیب نے میٹرک کے سالانہ امتحانات 2025ء میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے 1200 میں سے 1122 نمبر حاصل کر کے اپنے خاندان، اساتذہ اور ادارے کا نام روشن کر دیا۔

    خدیجہ راشد منہاس گرلز ہائر سیکنڈری اسکول کی طالبہ ہیں، جن کی غیر معمولی کامیابی نے نہ صرف ان کے والدین بلکہ پورے اوچ شریف کے لیے فخر کا باعث بن گئی ہے۔ خدیجہ کی محنت، والدین کی دعائیں اور اساتذہ کی بہترین رہنمائی اس کامیابی کی بنیاد بنی۔

    اس موقع پر ان کے والد حبیب خان نے کہا کہ "خدیجہ کی یہ کامیابی صرف ہمارے گھر کی نہیں بلکہ پورے شہر کی خوشی ہے۔ یہ اللہ کا فضل، بچی کی محنت اور اساتذہ کی توجہ کا ثمر ہے۔”

    خدیجہ کی اس کامیابی پر اسکول پرنسپل، اساتذہ، رشتہ داروں اور اہل علاقہ نے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی ہے اور ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ خدیجہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ لگن، استقامت اور رہنمائی سے کامیابی کی ہر منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔

    اوچ شریف کے عوام نے اس کامیابی کو پورے شہر کے لیے باعث فخر قرار دیتے ہوئے خدیجہ کے لیے دعا اور تحسین کا اظہار کیا ہے۔

  • بہاولپور: میٹرک امتحان، پہلی تین پوزیشن بہاولنگر کے نام، چشتیاں کی طیبہ امین کی پہلی پوزیشن

    بہاولپور: میٹرک امتحان، پہلی تین پوزیشن بہاولنگر کے نام، چشتیاں کی طیبہ امین کی پہلی پوزیشن

    بہاولپور (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن بہاولپور کے تحت میٹرک سالانہ امتحانات 2025 کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا، جس میں چشتیاں کی طالبہ طیبہ امین نے 1185 نمبرز حاصل کر کے پہلی پوزیشن حاصل کی اور علاقائی سطح پر اپنی ذہانت کا لوہا منوایا۔ ہارون آباد کے عبداللہ رشید نے 1182 نمبرز کے ساتھ دوسری جبکہ چشتیاں کی ہی علیزے لیاقت نے 1181 نمبرز کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔

    اس سال مجموعی طور پر 91,643 طلبہ و طالبات نے امتحان میں شرکت کی، جن میں 80,491 سائنس گروپ اور 11,152 آرٹس گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔ نتائج سے واضح ہوا کہ بہاول نگر خصوصاً چشتیاں کے طلبہ نے شاندار کارکردگی دکھا کر اعلیٰ پوزیشنز اپنے نام کیں۔

    دوسری جانب، بہاولپور اور رحیم یار خان کی طالبات اس سال کی پوزیشن لسٹ میں جگہ نہ بنا سکیں، جس پر تعلیمی ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں تعلیمی اداروں کی خستہ حالی، اساتذہ کی کمی، سہولیات کا فقدان اور سماجی مسائل طالبات کی کارکردگی کو متاثر کر رہے ہیں۔

    ایک مقامی استاد نے صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، "کئی اسکولوں میں بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں، جیسے بجلی، پینے کا صاف پانی، اور مناسب تعلیمی ماحول، جو کہ خاص طور پر طالبات کے لیے ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔” ماہرین تعلیم کا ماننا ہے کہ اگر فوری طور پر تعلیمی انفراسٹرکچر میں بہتری، اساتذہ کی تربیت اور سہولیات فراہم نہ کی گئیں تو آئندہ سالوں میں بھی طالبات کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔

    چیئرمین بہاولپور بورڈ محمد عدنان خان نے اس موقع پر کہا کہ "ہماری کوشش ہے کہ بورڈ کے تحت ہر طالب علم کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں، اور ہم تعلیمی معیار بلند کرنے کے لیے مزید اقدامات کر رہے ہیں۔”

    جہاں چشتیاں اور ہارون آباد کے طلبہ نے اس سال تعلیمی میدان میں مقام بنایا، وہیں بہاولپور اور رحیم یار خان کے لیے یہ نتائج ایک لمحہ فکریہ ہیں، جو فوری اصلاحات کا تقاضا کرتے ہیں تاکہ ہر طالب علم اپنی صلاحیتوں کے مطابق کامیابی حاصل کر سکے۔