Baaghi TV

Category: بہاولپور

  • ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی “شانِ پاکستان ایوارڈ” کے لیے نامزد

    ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی “شانِ پاکستان ایوارڈ” کے لیے نامزد

    اوچ شریف باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان)ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی “شانِ پاکستان ایوارڈ” کے لیے نامزد آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (APWWA) کے زیر اہتمام 14 اگست 2025 کو لاہور میں منعقد ہونے والی “استحکامِ پاکستان کانفرنس و تقریبِ تقسیمِ شانِ پاکستان ایوارڈ” میں ممتاز صحافی، تجزیہ نگار اور قلمکار ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی کو “شانِ پاکستان ایوارڈ” کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ یہ باوقار تقریب ملک بھر سے تعلق رکھنے والے ان ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک شاندار موقع فراہم کرے گی جنہوں نے ادب، صحافت، تعلیم، طب، قانون، فنونِ لطیفہ اور سماجی خدمات جیسے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

    تقریب کی سرپرستی ممتاز شخصیت ملک یعقوب اعوان کریں گےجبکہ APWWA کے بانی و نگران ایم ایم علی کی زیر نگرانی اس ایوارڈ شو کا انعقاد کیا جائے گا۔ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی کو ان کی غیر معمولی صحافتی خدمات، قومی شعور کو بیدار کرنے اور سماجی مسائل پر بے باک قلمی جہاد کی بدولت اس اعزاز کے لیے چنا گیا ہے۔ ان کی تحریریں نہ صرف فکر انگیز ہیں بلکہ قوم کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک واضح سمت بھی فراہم کرتی ہیں۔

    ایوارڈ نامزدگی پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان بڈانی نمائندہ باغی ٹی وی حبیب خان سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ “یہ ایوارڈ میرے لیے فخر اور عزت کا باعث ہے۔ میری صحافتی خدمات کو اس طرح سراہا جانا میری حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔ میں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن، سرپرست ملک یعقوب اعوان، بانی ایم ایم علی اور خصوصاً ممتاز حیدر اعوان کا دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے اس اعزاز کے لائق سمجھا۔ میں اپنی قوم کی خدمت جاری رکھنے کے لیے مزید پرعزم ہوں۔”

    “شانِ پاکستان ایوارڈ” ہر سال ان شخصیات کو دیا جاتا ہے جو پاکستان کی فکری، سماجی اور ثقافتی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ تقریب نہ صرف ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے بلکہ دیگر افراد کے لیے بھی ایک عظیم مثال قائم کرتی ہے۔

    یہ تقریب 14 اگست 2025 کو یومِ آزادی کے موقع پر لاہور میں منعقد ہوگی، جس میں ملک بھر سے نامور شخصیات شرکت کریں گی۔ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی کی نامزدگی کو صحافتی اور سماجی حلقوں میں بے حد سراہا جا رہا ہے اور یہ ایوارڈ ان کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کا اعتراف ہوگا۔

  • خزانے کی تلاش میں مزار کی کھدائی کرنیوالی خاتون سمیت ساتھی گرفتار

    خزانے کی تلاش میں مزار کی کھدائی کرنیوالی خاتون سمیت ساتھی گرفتار

    بہاولپور کے علاقے گوٹھ محراب میں خزانے کی تلاش کے دوران پولیس نے کراچی سے آنے والی ایک خاتون اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق، خاتون اور اس کے ہمراہ افراد نے مقامی مزار یتیم شاہ کے مقام پر غیر قانونی کھدائی کی کوشش کی، جس کا مقصد مبینہ طور پر خزانہ تلاش کرنا تھا۔

    خاتون کا دعویٰ ہے کہ انہیں اپنے علم اور معلومات کی بنیاد پر یقین تھا کہ اس جگہ خزانہ دفن ہے، اس لیے وہ یہاں پہنچی تھیں۔ پولیس نے بتایا کہ خاتون اور اس کے ساتھیوں نے مقامی افراد کے ساتھ مل کر مزار کی قبروں کے پاس کھدائی شروع کر دی تھی، جو مقامی لوگوں کی شدید ناراضگی اور احتجاج کا باعث بنی۔علاقہ مکینوں نے قبروں کے پاس غیر قانونی کھدائی کو مذہبی جذبات کی بے حرمتی قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا اور پولیس سے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ پولیس نے بھی فوری کارروائی کرتے ہوئے خاتون اور اس کے ساتھیوں کو حراست میں لے لیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خزانے کی تلاش کے نام پر کسی بھی قسم کی غیر قانونی کھدائی برداشت نہیں کی جائے گی، اور عوام کو بھی اس قسم کی سرگرمیوں سے دور رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے تاکہ علاقے میں امن و امان قائم رہے،مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ واقعے کی مکمل تہہ تک پہنچا جا سکے۔

  • احمدپورشرقیہ: مظفر کالونی میں بیوی کا لرزہ خیز قتل، شوہر گرفتار

    احمدپورشرقیہ: مظفر کالونی میں بیوی کا لرزہ خیز قتل، شوہر گرفتار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار: حبیب خان)احمدپورشرقیہ کے نواحی علاقے مظفر کالونی میں گھریلو جھگڑا لرزہ خیز قتل کا باعث بن گیا، جہاں سفاک شوہر نے اپنی بیوی کو تیز دھار آلے سے ذبح کر کے قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق 35 سالہ صابرہ بی بی کو اس کے شوہر مقصود نے انتہائی بے دردی سے قتل کیا، جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پھیل گئی۔

    پولیس ذرائع نے بتایا کہ ملزم مقصود حال ہی میں قتل کے ایک مقدمے میں سزا کاٹ کر جیل سے رہا ہوا تھا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ ڈیرہ نواب صاحب کی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا جبکہ آلہ قتل بھی اس کے قبضے سے برآمد کر لیا گیا۔

    مقتولہ کی لاش کو ضابطے کی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے پس پردہ وجوہات جاننے کے لیے ملزم سے تفتیش جاری ہے، اور تمام ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب اہل علاقہ نے اس اندوہناک واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ اس قسم کے جرائم کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید تفصیلات تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔

  • بہاولپور میں چلڈرن ہسپتال کے قیام فیصلہ

    بہاولپور میں چلڈرن ہسپتال کے قیام فیصلہ

    بہاولپور میں چلڈرن ہسپتال کے قیام کی اصولی منظوری دیدی گئی-

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی ملک ظہیر اقبال چنڑ نے ملاقات کی جس میں صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال، جنوبی پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاحی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیاملاقات کے دوران ڈپٹی سپیکر نے پنجاب میں روڈز کی تعمیر و بحالی کے اقدامات پر وزیراعلیٰ کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ مریم نواز شریف کی قیادت میں صوبہ ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہے۔

    ملک ظہیر اقبال نے بہاولپور میں برن سنٹر کے قیام پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب کے عوام کو صحت کی بنیادی سہولتیں ان کی دہلیز پر فراہم کرنا قابل تحسین قدم ہےانہوں نے “فیلڈ ہسپتال”، “کلینک آن ویل” اور “مریم نواز ہیلتھ کلینک پراجیکٹ” جیسے عوام دوست منصوبوں کو سراہتے ہوئے انہیں پنجاب کی صحت سہولیات میں انقلابی تبدیلی قرار دیا۔

    خضدار:جبری مشقت پر مجبور 9 ہندو افراد بازیاب،2 زمیندار گرفتار

    ڈپٹی سپیکر نے پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت تمام شہروں کی یکساں ترقی کے ویژن کو “گیم چینجر” قرار دیا اور ایئر ایمبولنس سروس، فیلڈ ہسپتالز کے قیام اور تجاوزات کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو قابل ستائش قرار دیااس موقع پر عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بہاولپور میں چلڈرن ہسپتال کے قیام کی اصولی منظوری دی گئی جسے سول ہسپتال کے قریب تعمیر کرنے پر اتفاق کیا گیا-

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے منصوبے کا تفصیلی پلان طلب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی ترقی ان کے دل کے بے حد قریب ہے جنوبی پنجاب کو ترقی کے مرکزی دھارے میں لانا ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور عوامی فلاح پر مبنی فیصلے ان کے وژن کا حصہ ہیں۔ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور عوام دوست فیصلے حکومت کا طرہ امتیاز ہیں۔

    یوٹیلیٹی اسٹورز کےملازمین نے اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کر دیا

  • اوچ شریف: مزارات پر جعلی خلیفے قابض، نذرانوں کی بندربانٹ، اوقاف کی ملی بھگت بے نقاب

    اوچ شریف: مزارات پر جعلی خلیفے قابض، نذرانوں کی بندربانٹ، اوقاف کی ملی بھگت بے نقاب

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)روحانیت کے مرکز اوچ شریف کے تاریخی مزارات مبینہ طور پر جعلی خلیفوں کے قبضے میں چلے گئے ہیں۔ عقیدت کی آڑ میں سرگرم "خلیفہ مافیا” نے محکمہ اوقاف کے کرپٹ افسران کی سرپرستی میں مزارات کو نفع بخش کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں لاکھوں روپے کے نذرانے، چادریں، خیرات اور عطیات روزانہ کی بنیاد پر ہڑپ کیے جا رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اولیاء کرام کے ان مقدس مقامات پر اصل خدام کی جگہ غیر متعلقہ، نان اہل افراد کو خلیفہ مقرر کر دیا گیا ہے جن کی نہ کوئی دینی سند ہے نہ تربیت۔ ایک ایک مزار پر پانچ پانچ خلیفے تعینات ہیں جو نذر و نیاز کی تقسیم کے نام پر بدترین بندر بانٹ میں ملوث ہیں۔ ان تقرریوں کا کوئی ضابطہ، قانون یا شفافیت موجود نہیں بلکہ یہ تمام کارروائیاں مبینہ طور پر رشوت، سفارش اور کمیشن کے نظام کے تحت ہو رہی ہیں۔

    محکمہ اوقاف کے افسران پر الزام ہے کہ وہ ان جعلی خلیفوں سے ماہانہ "حصہ” وصول کرتے ہیں اور بدلے میں انہیں کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ ان خلیفوں کی عیاشیاں، بچوں کی شاہانہ زندگی اور مقدس مقامات کی بے توقیری ایک لمحہ فکریہ بن چکی ہے۔ زائرین، جو عقیدت کے جذبے سے درباروں پر حاضری دیتے ہیں، صاف پانی، بیت الخلا، سیکیورٹی اور رہائش جیسی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔

    مقامی علما، شہریوں اور سول سوسائٹی نے اس صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلیٰ پنجاب، اور محکمہ اینٹی کرپشن سے مطالبہ کیا ہے کہ اوچ شریف کے مزارات پر قابض جعلی خلیفوں اور محکمہ اوقاف کے بدعنوان افسران کے خلاف فوری طور پر جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اولیاء کرام کے مزارات کو کرپشن، جعلسازی اور دنیاوی ہوس سے پاک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    اس معاملے نے نہ صرف عوام کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے بلکہ ان مقدس مقامات کے تقدس پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ عوامی مطالبے کے پیش نظر یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ حکومت اور عدلیہ اس سنگین کرپشن اسکینڈل پر کب اور کیا عملی قدم اٹھاتی ہے۔

  • احمد پور شرقیہ: ڈینگی سے بچاؤ کیلئے TERC اجلاس، بین المحکماتی تعاون اور عوامی شمولیت پر زور

    احمد پور شرقیہ: ڈینگی سے بچاؤ کیلئے TERC اجلاس، بین المحکماتی تعاون اور عوامی شمولیت پر زور

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)احمد پور شرقیہ میں ڈینگی کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایمرجنسی رسپانس کمیٹی (TERC) کا ایک اہم اجلاس اسسٹنٹ کمشنر نوید حیدر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ صحت، بلدیاتی ادارے، تعلیمی شعبے اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ ڈینگی انسپکٹر نوید حیدر سیال نے ڈینگی سے بچاؤ کی موجودہ مہم پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    اسسٹنٹ کمشنر نوید حیدر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈینگی ایک سنگین عوامی صحت کا چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے تمام محکموں کے اشتراک اور عوامی شمولیت کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف حکومتی کوششیں کافی نہیں بلکہ شہریوں کی فعال شراکت سے ہی کامیابی ممکن ہے۔

    اجلاس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے، جن میں شہری و دیہی علاقوں میں صفائی مہم کو تیز کرنے، پانی کے ذخائر پر کڑی نگرانی، لاروا کش اسپرے کو مزید وسعت دینے، تعلیمی اداروں میں طلبہ کے لیے آگاہی سیشنز کے انعقاد، اور مساجد، سماجی تنظیموں و مقامی رہنماؤں کو مہم کا حصہ بنانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

    فوکل پرسن نوید سیال نے بتایا کہ محکمہ صحت کی ٹیمیں فیلڈ میں مسلسل سرگرم عمل ہیں، جدید ڈیجیٹل رپورٹنگ سسٹم کے ذریعے مشتبہ مقامات کی نشاندہی اور بروقت کارروائی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں کیسز کی شرح میں کمی آئی ہے، مگر خطرہ ابھی مکمل ختم نہیں ہوا۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے اجلاس کے اختتام پر شہریوں سے اپیل کی کہ وہ گھروں، گلیوں اور بازاروں میں صفائی ستھرائی کو یقینی بنائیں، پانی کھڑا نہ ہونے دیں اور کسی بھی مشتبہ صورت میں فوری انتظامیہ سے رابطہ کریں۔ انہوں نے کہا، "ڈینگی کے خلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور صرف اجتماعی کوششوں سے ہی ہم اس خطرے پر قابو پا سکتے ہیں۔”

    یہ اجلاس بین المحکماتی ہم آہنگی اور عوامی شعور کی بیداری کے ذریعے ڈینگی کے مکمل خاتمے کی طرف ایک عملی قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

  • اوچ شریف: قاری مختیار بھگلہ برادری سمیت مخدوم عامر علی شاہ کے قافلے میں شامل

    اوچ شریف: قاری مختیار بھگلہ برادری سمیت مخدوم عامر علی شاہ کے قافلے میں شامل

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے رتہر نہڑانوالی کی معروف شخصیت قاری مختیار احمد بھگلہ نے اپنی برادری سمیت رکنِ صوبائی اسمبلی مخدوم سید عامر علی شاہ کی بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر غوث الاعظم ہاؤس میں ایک پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں انہوں نے باقاعدہ سیاسی شمولیت اختیار کرتے ہوئے سید عامر علی شاہ کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

    قاری مختیار احمد بھگلہ، جو ماضی میں مخدوم سید سمیع الحسن گیلانی کے سیاسی کیمپ سے وابستہ رہے، نے موجودہ سیاسی منظرنامے میں تبدیلی اور مخدوم سید عامر علی شاہ کی قیادت سے متاثر ہو کر نیا سیاسی فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنی برادری کے ہمراہ سیاسی وابستگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ علاقے کی ترقی اور عوامی خدمت کے وژن کی تکمیل کے لیے موجودہ قیادت کے ساتھ چلیں گے۔

    تقریب میں دعا خیر کی گئی اور برادری کے دیگر معززین نے بھی قاری مختیار احمد کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے اس نئے سیاسی اتحاد کو خوش آئند قرار دیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اعلان کے بعد حلقہ پی پی 250 میں سیاسی توازن نئی کروٹ لے سکتا ہے اور یہ پیش رفت مستقبل کے انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔

    مخدوم سید عامر علی شاہ نے قاری مختیار احمد بھگلہ اور ان کے ساتھیوں کا پرتپاک خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ شمولیت نہ صرف جماعت کو تقویت دے گی بلکہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں مزید بہتری آئے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ علاقے کے عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور ترقی کا سفر جاری رہے گا۔

    مقامی سطح پر اس خبر کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے اور اسے اوچ شریف کے سیاسی نقشے میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

  • اوچ شریف: کپاس کی فصل پر کیڑوں کا حملہ، جعلی ادویات سے تباہی، کسان شدید مالی بحران کا شکار

    اوچ شریف: کپاس کی فصل پر کیڑوں کا حملہ، جعلی ادویات سے تباہی، کسان شدید مالی بحران کا شکار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف اور گردونواح کے علاقوں دھوڑکوٹ، ترنڈ، بشارت، حلیم پور، بیٹ احمد بختیاری، رسول پور اور دیگر دیہات میں کپاس کی فصل اس وقت شدید بحران کا شکار ہے، جہاں سبز تیلے، گلابی سنڈی اور تھریپس جیسے کیڑوں کے حملوں نے فصل کو تباہ کر دیا ہے۔ صورتحال کی سنگینی میں محکمہ زراعت کی مجرمانہ غفلت اور مارکیٹ میں جعلی و غیر معیاری زرعی ادویات کی بھرمار نے مزید اضافہ کر دیا ہے۔

    مقامی کسانوں نے بتایا ہے کہ وہ مسلسل مہنگی کیڑے مار ادویات کا اسپرے کر رہے ہیں، لیکن ان کی فصل روز بروز تباہ ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے بقول مارکیٹ میں دستیاب ادویات جعلی اور غیر مؤثر ہیں، جس کے باعث سال بھر کی محنت ضائع ہو رہی ہے۔ محمد عامر نامی کسان نے بتایاکہ”ہم نے قرض لے کر کپاس کی کاشت کی، اب فصل ہاتھ سے نکل رہی ہے۔ نہ ادویات کام کر رہی ہیں اور نہ کوئی افسر ہماری سن رہا ہے۔”

    ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بعض زرعی افسران کی مبینہ ملی بھگت سے ناقص ادویات کی فروخت ایک منظم کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ کسان تنظیموں اور زمینداروں نے اس مافیا کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اگر جعلی ادویات کی فروخت پر قابو نہ پایا گیا تو نہ صرف کسانوں کو شدید مالی نقصان ہوگا بلکہ کپاس جیسی نقد آور فصل کی تباہی سے ملکی معیشت کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔

    کسانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ
    * جعلی زرعی ادویات کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے.
    * ذمہ دار افسران کو برطرف کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں.
    * ادویات کے معیار کی جانچ پڑتال کے لیے جدید اور خودمختار نظام تشکیل دیا جائے.
    * زرعی تحقیقاتی ادارے کیڑوں سے بچاؤ کی مؤثر، سستی اور قابلِ بھروسہ ادویات فوری طور پر متعارف کروائیں۔

    کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت اگر بروقت ایکشن نہ لے تو فصلوں کی تباہی، کسانوں کی خودکشیاں اور غذائی و معاشی بحران ایک ناگزیر المیہ بن سکتے ہیں۔

  • احمد پور شرقیہ: 16 لاکھ آبادی کے لیے صرف 7 ایمبولینسیں اور 1 فائر بریگیڈ گاڑی

    احمد پور شرقیہ: 16 لاکھ آبادی کے لیے صرف 7 ایمبولینسیں اور 1 فائر بریگیڈ گاڑی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگارحبیب خان)پنجاب کی سب سے بڑی تحصیل احمد پور شرقیہ جہاں آبادی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 16 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، وہاں ریسکیو 1122 کی سہولیات کی کمی نے عوام کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اتنی بڑی آبادی کے لیے محض 7 ایمبولینسیں اور ایک فائر بریگیڈ گاڑی کا دستیاب ہونا انتظامی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ احمد پور شرقیہ شہر میں صرف 3 ایمبولینسیں موجود ہیں، جن میں سے ایک مسلسل بہاولپور ریفر مریضوں کی منتقلی میں مصروف رہتی ہے، جبکہ باقی دو گاڑیاں پوری تحصیل کے لیے ناکافی ہیں۔ اوچ شریف میں صرف دو ایمبولینسز دی گئی ہیں، جب کہ جھانگڑہ انٹرچینج اور اس کے مضافات کے لیے بھی محض دو گاڑیاں دستیاب ہیں۔ بدترین صورتحال یہ ہے کہ ریسکیو کے پاس کوئی باقاعدہ فائر بریگیڈ گاڑی موجود نہیں، جو ایک فائر ٹینڈر استعمال ہو رہا ہے وہ بھی بہاولپور سے وقتی طور پر حاصل کیا گیا ہے، جو کسی بڑے حادثے کی صورت میں ناکافی ہے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق اس مسئلے سے بارہا مقامی ایم این اے اور ایم پی اے کو آگاہ کیا جا چکا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ مزید 10 ایمبولینسیں اور کم از کم 2 فائر بریگیڈ گاڑیاں فراہم کی جائیں، تاہم متعدد بار یاد دہانیوں کے باوجود اب تک صرف وعدے ہی سننے کو ملے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ احمد پور شرقیہ کے عوام بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے لاہور یا کسی بڑے شہر کے، اور ان کی جانوں کی بھی کوئی قیمت ہونی چاہیے۔ اگر کسی اسکول میں آگ لگ جائے یا کوئی ٹریفک حادثہ پیش آ جائے تو موجودہ سہولیات کسی المیے کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

    احمد پور شرقیہ کے عوام وزیراعلیٰ پنجاب، صوبائی وزیر صحت اور ڈی جی ریسکیو 1122 سے اپیل کرتے ہیں کہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر 10 ایمبولینسیں، 2 فائر بریگیڈ گاڑیاں اور درکار تربیت یافتہ عملہ فراہم کیا جائے۔ یہ صرف مطالبہ نہیں بلکہ 16 لاکھ شہریوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے جس پر تاخیر ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

  • احمدپور شرقیہ: قانون صرف کتابوں میں بند، 18 سال سے کم عمر لڑکے کا نکاح

    احمدپور شرقیہ: قانون صرف کتابوں میں بند، 18 سال سے کم عمر لڑکے کا نکاح

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) احمدپور شرقیہ کے نواحی گاؤں اسماعیل پور میں کم عمری کی شادی کا ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں 18 سال سے کم عمر لڑکے محمد اسامہ گھلو کا نکاح کروا دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ نکاح باقاعدہ تقریب کے ساتھ انجام پایا، جہاں نکاح خواں نے نکاح پڑھایا، دلہے کو ہار پہنائے گئے اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب کچھ باشعور شہریوں نے میڈیا اور متعلقہ اداروں کو مطلع کیا، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ پولیس حرکت میں آئی، نہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے نوٹس لیا اور نہ ہی تحصیل یا ضلعی انتظامیہ نے اس پر کوئی ردعمل ظاہر کیا۔

    یہ امر باعث تشویش ہے کہ حکومت کی جانب سے کم عمری کی شادیوں کے خلاف منظور کیے گئے سخت قوانین محض کاغذی کارروائی بن کر رہ گئے ہیں۔ ان قوانین کے مطابق اگر کوئی والدین اپنے کم عمر بچوں کی شادی کرواتے ہیں یا نکاح خواں، گواہ یا سہولت کار اس عمل میں شریک ہو تو ان سب کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے، مگر یہاں قانون کا عملی نفاذ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ یہ صورتحال نہ صرف قانون کی کمزوری کو بے نقاب کرتی ہے بلکہ معاشرے میں موجود عمومی بے حسی کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

    اس واقعے پر علاقے کے شہری حلقوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے محض ایک شادی نہیں بلکہ قانون کی صریحاً خلاف ورزی اور انتظامیہ کی ناکامی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو حکومت بین الاقوامی دباؤ کے تحت کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون سازی کرتی ہے، مگر دوسری جانب ضلعی، تحصیل اور یونین سطح پر موجود ادارے ایسے واقعات پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو متزلزل کرتا ہے بلکہ آئندہ کے لیے خطرناک مثال بھی بن سکتا ہے۔

    شہریوں نے ڈی پی او بہاولپور، ڈپٹی کمشنر بہاولپور، اسسٹنٹ کمشنر احمدپور شرقیہ، چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور محمد اسامہ گھلو کے نکاح میں ملوث تمام افراد، جن میں والدین، نکاح خواں، گواہان اور تقریب کے سہولت کار شامل ہیں، ان سب کے خلاف فوری اور موثر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ قانون کی بالا دستی ثابت ہو اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

    یہ واقعہ ہمارے معاشرے کے لیے محض ایک کم عمر لڑکے کا نکاح نہیں بلکہ ایک ایسا سوال ہے جو ریاستی ذمہ داری، قانونی نفاذ اور اجتماعی ضمیر کی بیداری پر اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اگر ایسے واقعات پر بھی خاموشی اختیار کی گئی تو یہ طرز عمل آئندہ کئی بچوں کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل دے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون کو صرف کتابوں کی زینت بنانے کے بجائے اسے عملی شکل دی جائے اور ان افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جو کمزور بچوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔