Baaghi TV

Category: بہاولپور

  • اوچ شریف: موٹر وے پر ڈاکوؤں کی پولیس اورعوام پر فائرنگ، ایک گرفتاردیگر فرار

    اوچ شریف: موٹر وے پر ڈاکوؤں کی پولیس اورعوام پر فائرنگ، ایک گرفتاردیگر فرار

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان) موٹر وے ایم 5 پر تھانہ چنی گوٹھ کی حدود میں پل 82 ہزار کے قریب ڈاکوؤں نے دہشت پھیلا دی۔ موٹر وے پولیس نے ڈکیتی کی ایک گاڑی کو ٹریس کر کے روکا تو ملزمان نے بغیر کسی خوف کے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

    موٹر وے پولیس نے بہادری سے تعاقب جاری رکھا، جس پر ڈاکو گاڑی چھوڑ کر قریبی بستی میں بھاگ گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق مقامی عوام نے بھی ڈاکوؤں کا پیچھا کیا لیکن ملزمان نے عوام پر بھی فائرنگ کر دی۔ تاہم بہادر شہریوں نے ایک ملزم کو دبوچ کر موٹر وے پولیس اور چنی گوٹھ پولیس کے حوالے کر دیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کے ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور عوام کاحکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ موٹر وے جیسے حساس مقام پر اس قسم کی دہشت گردی ناقابلِ برداشت ہے۔عوامی وسماجی حلقوں نے سوال کیا ہے کہ کیا حکام اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں گے؟ عوام اپنی حفاظت کے لیے حکام کی طرف دیکھ رہے ہیں

  • اوچ شریف: نشے میں دھت موٹرسوار گرکر زخمی ، چہرہ لہولہان

    اوچ شریف: نشے میں دھت موٹرسوار گرکر زخمی ، چہرہ لہولہان

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف میں ریسٹ ہاؤس کے سامنے علی گیلانی والی گلی کے قریب ایک دلخراش واقعہ پیش آیا، جہاں ایک موٹر سائیکل سوار مبینہ طور پر نشے کی حالت میں اپنی گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور سڑک پر بری طرح گر گیا۔ اس افسوسناک حادثے کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوار کے چہرے پر گہری اور شدید چوٹیں آئیں۔

    حادثے میں زخمی ہونے والے شخص کی شناخت حاجی مشتاق ولد محمد اقبال کے نام سے ہوئی ہے، جن کی عمر 38 سال ہے اور وہ محلہ گیلانی اوچ شریف کے رہائشی ہیں۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی موقع پر موجود باشعور شہریوں نے فوری طور پر ریسکیو ٹیم کو طلب کیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے جائے حادثہ پر پہنچ کر زخمی حاجی مشتاق کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور پھر انہیں فوری طور پر آر ایچ سی اوچ شریف ہسپتال منتقل کر دیا، جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ اس واقعے نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور نشے کی حالت میں گاڑی چلانے کے سنگین نتائج کی ایک بار پھر نشاندہی کی ہے۔

  • اوچ شریف: مفت کتابیں خواب، تعلیمی نظام بحران کا شکار،طلباء اور والدین پریشان

    اوچ شریف: مفت کتابیں خواب، تعلیمی نظام بحران کا شکار،طلباء اور والدین پریشان

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان)ضلع بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ کی سب تحصیل اوچ شریف کے سرکاری سکولوں میں تعلیمی سال 2025 کا آغاز کتابوں کے بغیر ہو رہا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی مفت نصابی کتب کی عدم دستیابی نے تدریسی عمل کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، جس کے باعث اساتذہ، طلباء اور ان کے والدین شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

    ذرائع کے مطابق گورنمنٹ سکولوں میں نویں اور دسویں جماعتوں کے مکمل نصاب کی کتابیں دستیاب نہیں ہیں جبکہ دیگر جماعتوں میں بھی ریاضی، انگریزی اور سائنس جیسے اہم مضامین کی کتابیں ناپید ہیں۔ حیران کن طور پر نئے تعلیمی پالیسی کے تحت نصاب میں تبدیلی کے باوجود سکولوں کو پرانی کتابوں سے پڑھانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جو نہ صرف غیر مؤثر تدریس کا سبب بن رہا ہے بلکہ طلباء کے لیے ذہنی الجھن کا باعث بھی بن رہا ہے۔

    اساتذہ کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے قائم کردہ بک ڈپو ویران پڑے ہیں اور طلباء روزانہ کتابیں حاصل کرنے کی امید میں سکولوں کے چکر لگا رہے ہیں۔ انہیں نامکمل اور غیر مطابقت پذیر کورسز کی بنیاد پر تعلیم دی جا رہی ہے، جس سے ان کے تعلیمی معیار پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس مایوس کن صورتحال میں والدین اپنی جیبوں سے بھاری رقم خرچ کر کے بازار سے مہنگی کتابیں خریدنے پر مجبور ہیں جو حکومت کی "مفت تعلیم” کی پالیسی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

    اساتذہ، والدین اور سماجی حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ اگر اس مسئلے کا فوری حل نہ نکالا گیا تو طلباء کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع ہو جائے گا اور آئندہ بورڈ امتحانات کے نتائج بھی بری طرح متاثر ہوں گے خاص طور پر جب گرمیوں کی چھٹیاں بھی قریب ہیں۔

    عوامی اور سماجی حلقوں نے وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات، سیکرٹری ایجوکیشن لاہور اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور ضلع بہاولپور سمیت پورے صوبے کے سرکاری سکولوں میں نصابی کتابوں کی مکمل اور بروقت فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ طلباء کا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔

  • اوچ شریف چمک اٹھا، بلدیہ ورکس کی جانب سے صفائی مہم زور و شور سے جاری

    اوچ شریف چمک اٹھا، بلدیہ ورکس کی جانب سے صفائی مہم زور و شور سے جاری

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے اوچ گیلانی میں بلدیہ ورکس (بی ڈبلیو بہاولپور) کی ہدایت پر صفائی ستھرائی کا کام انتہائی تیزی سے جاری ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد شہر کو صاف ستھرا بنانا، بیماریوں سے پاک ماحول فراہم کرنا اور شہریوں کو صحت مند زندگی کی سہولیات میسر کرنا ہے۔

    بی ڈبلیو کے احکامات پر اوچ گیلانی کے 59 سپروائزری یونٹ میں صفائی کا کام سپروائزر بنیامین اور نائب سپروائزر کامران خان گشکوری کی زیرِ نگرانی تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔ صفائی کے دوران علاقے کی تمام گلیوں، نالیوں اور نکاسی آب کے نظام کو مکمل طور پر صاف کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مچھروں اور دیگر موذی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے مؤثر جراثیم کش ادویات کا بھی باقاعدگی سے چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے۔

    سپروائزر بنیامین نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بلدیہ ورکس کی واضح ہدایات کی روشنی میں صفائی مہم کو ایک منظم انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے اور تمام ٹیمیں پورے جوش و خروش کے ساتھ عوام کی خدمت میں مصروف ہیں۔ نائب سپروائزر کامران خان گشکوری نے مزید کہا کہ اوچ شریف شہر کی فلاح و بہبود بلدیہ ورکس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور صفائی کا یہ سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر بلاناغہ جاری رہے گا۔

    شہریوں نے بلدیہ ورکس (بی ڈبلیو بہاولپور) کی ان شاندار کوششوں کو دل کی گہرائیوں سے سراہا اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ صفائی کا یہ عمل مستقل بنیادوں پر جاری رہنا چاہیے تاکہ اوچ شریف کو ایک صاف ستھرا، خوبصورت اور بیماریوں سے محفوظ شہر بنایا جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی مسلسل کاوشوں سے ہی ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پایا جا سکتا ہے۔

  • اوچ شریف: دودھ کے نام پر بکتا زہر، فوڈ اتھارٹی بے خبر

    اوچ شریف: دودھ کے نام پر بکتا زہر، فوڈ اتھارٹی بے خبر

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) اولیائے کرام کے شہر اوچ شریف میں گرمی کی شدت بڑھتے ہی منافع خور عناصر نے دودھ میں کیمیکل اور پانی کی خطرناک ملاوٹ کا دھندا عروج پر پہنچا دیا ہے۔ یہ زہریلا ملاوٹی دودھ سرعام فروخت ہو رہا ہے جو نہ صرف شہریوں کی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے بلکہ پنجاب فوڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

    ذرائع کے مطابق اوچ شریف میں روزانہ ہزاروں لیٹر دودھ استعمال ہوتا ہے اور گرمیوں میں لسی، دہی اور دیگر مشروبات کی مانگ بڑھنے سے اس کی کھپت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس طلب کو پورا کرنے کے لیے بے ایمان دکاندار دودھ کو گاڑھا اور خالص دکھانے کے لیے خطرناک کیمیکلز کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔

    شہریوں محمد عامر، یونس ادریس، احمد رضا اور محمد عثمان کی جانب سے موصول ہونے والی دل دہلا دینے والی شکایات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دودھ میں صرف پانی ہی نہیں بلکہ ایسے زہریلے کیمیکلز شامل کیے جا رہے ہیں جو انسانی صحت خاص طور پر معصوم بچوں کے لیے انتہائی مہلک ہیں۔ ان کیمیکلز کے استعمال سے کئی خوفناک بیماریاں اور دیگر سنگین طبی مسائل تیزی سے جنم لے رہے ہیں۔

    شہری اس بنیادی ضرورت کی چیز میں اس قدر گھناؤنی ملاوٹ پر شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹی کی مجرمانہ خاموشی اور عدم دلچسپی نے صورتحال کو مزید بدتر کر دیا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ملاوٹی دودھ بیچنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے اور شہریوں کو خالص دودھ کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

  • اوچ شریف: موٹروے پر FIA کے انسانی سمگلروں کے خلاف کارروائی، خواتین و بچوں سمیت 48 بازیاب

    اوچ شریف: موٹروے پر FIA کے انسانی سمگلروں کے خلاف کارروائی، خواتین و بچوں سمیت 48 بازیاب

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگار حبیب خان)وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے انسانی سمگلنگ کے ایک وسیع نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ ملتان-سکھر موٹروے پر جھانگڑہ انٹرچینج کے قریب ایک جرأت مندانہ کارروائی میں، ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل بہاولپور کے اہلکاروں نے دو اہم اسمگلروں کو دھر لیا اور ان کے چنگل سے 10 خواتین اور 4 بچوں سمیت 48 بے گناہ افراد کو بازیاب کروا لیا، جنہیں غیر قانونی طور پر بیرون ملک دھکیلا جا رہا تھا۔

    گرفتار کیے گئے انسانیت کے ان دشمنوں کی شناخت فضل محمد اور شعیب رضا کے ناموں سے ہوئی ہے۔ یہ دونوں ایک منظم گروہ کے سرگرم رکن ہیں جو پاکستانی شہریوں کو دھوکے سے ایران اور عراق کے خطرناک اور غیر قانونی راستوں سے لے جا رہے تھے۔ ابتدائی تحقیقات نے ایک لرزہ خیز انکشاف کیا ہے کہ ان سفاک اسمگلروں نے ہر فرد سے 2 سے 3 لاکھ روپے تک کی بھاری رقم اینٹھی تھی، جس کا مجموعی تخمینہ 83 لاکھ 93 ہزار روپے سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ ان کا مذموم منصوبہ ان بے خبر افراد کو پہلے کراچی منتقل کرنا تھا، اور پھر وہاں سے بلوچستان کے دشوار گزار راستوں سے گزار کر انہیں ایران اور بالآخر عراق پہنچانا تھا۔

    ایف آئی اے کی بروقت کارروائی نے ان 48 افراد کی زندگیوں کو ایک ممکنہ انسانی المیے سے بچا لیا، جن میں معصوم بچے اور بے بس خواتین بھی شامل تھیں۔ اس کامیاب چھاپے کے دوران، ایف آئی اے کے تیز طرار اہلکاروں نے 17 اصلی پاسپورٹس، متعدد موبائل فونز اور دیگر اہم دستاویزات بھی قبضے میں لیے ہیں، جو اس گھناؤنے کاروبار کی تہہ تک پہنچنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ گرفتار شدہ دونوں ملزمان کے خلاف انسانی سمگلنگ کے سنگین الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے دیگر کارندوں کو بھی قانون کے شکنجے میں لایا جا سکے۔

    ایف آئی اے کے ترجمان نے اس شاندار کامیابی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انسانی سمگلنگ ایک انتہائی قابل مذمت جرم ہے، جس کی بھینٹ اکثر غریب اور معصوم شہری چڑھتے ہیں۔ انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے ایسے مجرمانہ گروہوں کے خلاف ملک بھر میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی اور کسی بھی ملزم کو قانون کی گرفت سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔

    ایف آئی اے نے تمام باشعور شہریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ اگر وہ اپنے گرد و نواح میں انسانی سمگلنگ یا کسی بھی مشکوک سرگرمی کا مشاہدہ کریں تو فوری طور پر ایف آئی اے کی ہیلپ لائن یا اپنے قریبی دفتر کو مطلع کریں، تاکہ مزید قیمتی انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔

  • اوچ شریف میں چوری کی بڑھتی وارداتیں، ایک ہی رات دو گھروں کو نشانہ

    اوچ شریف میں چوری کی بڑھتی وارداتیں، ایک ہی رات دو گھروں کو نشانہ

    اوچ شریف باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان )اوچ شریف اور مضافاتی علاقوں میں چوری کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گزشتہ شب ایک ہی رات میں دو الگ الگ مقامات پر چوروں نے وارداتیں کر کے نہ صرف قیمتی سامان چوری کیا بلکہ علاقہ مکینوں کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا۔ پولیس نے دونوں واقعات کی ایف آئی آر درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پہلی واردات چک مانک کے رہائشی عرفان حیدر ولد خلیل احمد کے بند گھر میں ہوئی، جو کچھ عرصہ قبل محلہ جگ پورہ منتقل ہو چکے تھے۔ صبح جب وہ واپس اپنے آبائی گھر پہنچے تو دروازے کھلے اور اندر سامان بکھرا ہوا پایا۔ تلاشی کے دوران معلوم ہوا کہ چور ایک چھت والا پنکھا اور دو عدد چارپائیاں لے اڑے۔ عرفان حیدر کے مطابق تین نامعلوم افراد رات کی تاریکی میں دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوئے اور واردات کے بعد فرار ہو گئے۔

    دوسری واردات موضع حیدرپورہ میں محمد قربان ولد حضور بخش کے گھر پر ہوئی، جہاں چور ایک مہنگی جانوروں کو پانی پلانے والی مشین (موازنہ) چرا کر لے گئے۔ واردات اُس وقت ہوئی جب محمد قربان اپنے مویشیوں کے باڑے کے قریب سوئے ہوئے تھے۔ صبح کے وقت چوری کا انکشاف ہوا تو گواہان محمد نادر اور محمد جاوید کو طلب کیا گیا، جنہوں نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ چور دیوار پھلانگ کر باڑے میں داخل ہوئے اور نشانات سڑک تک پائے گئے جہاں سے وہ غائب ہو گئے۔پولیس نے دونوں واقعات میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں اور تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جلد ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    دوسری جانب شہریوں نے بڑھتی ہوئی چوریوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے سیکیورٹی انتظامات کو مؤثر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اوچ شریف اور گردونواح کے علاقے جرائم پیشہ افراد کا مرکز بن سکتے ہیں۔

  • اوچ شریف کے تاریخی مزارات کی تزئین وآرائش،63 کروڑ روپے سے زائد کے منصوبے

    اوچ شریف کے تاریخی مزارات کی تزئین وآرائش،63 کروڑ روپے سے زائد کے منصوبے

    اوچ شریف (جنرل رپورٹر)اوچ شریف کے تاریخی مزارات کی تزئین وآرائش،63 کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبے جاری۔ کمشنر بہاول پور ڈویژن

    تفصیل کے مطابق:کمشنر بہاول پور ڈویژن مسرت جبیں نے کہا ہے کہ حکومت جنوبی پنجاب کے تاریخی اور روحانی ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے، جن کے تحت اُچ شریف میں واقع صدیوں پرانے مزارات کی تزئین و آرائش اور بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ یہ بات انہوں نے اوچ شریف کے دورے کے موقع پر دربار محبوب سبحانی سید جلال الدین سرخ پوش بخاری اور دیگر مزارات پر جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کرتے ہوئے کہی۔کمشنر کو جاری منصوبوں پر ایک تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ ان منصوبوں پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 63 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ ان منصوبوں میں مزارات کی بحالی، ملحقہ مساجد کی تعمیر و مرمت، زائرین کے لیے جدید سہولیات کی فراہمی، اور سیاحتی ترقیاتی اقدامات شامل ہیں۔

    کمشنر مسرت جبیں نے بتایا کہ 9.5 کروڑ روپے کی لاگت سے زائرین کے لیے خصوصی سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں، جن میں شاندار داخلی گیٹ، وسیع پارکنگ ایریا، وضو خانے، واش رومز، اور پینے کے صاف پانی کا بندوبست شامل ہے۔ اس کے علاوہ 9 مزارات کو ملانے والی سڑک پر ٹائلز نصب کی جائیں گی جبکہ ایک کرافٹ بازار بھی تعمیر کیا جائے گا تاکہ مقامی ہنرمندوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔انہوں نے واضح کیا کہ حضرت جلال الدین سرخ پوش بخاری، حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت، بی بی جیوندی، حضرت بہاول حلیم اور دیگر مزارات کی مکمل مرمت و تزئین کی جائے گی، جو نہ صرف روحانی سیاحت کو فروغ دے گا بلکہ ملکی و غیر ملکی زائرین کے لیے ایک پرکشش مقام بن جائے گا۔

    کمشنر نے اس موقع پر منصوبوں کی معیاری اور بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام محکمے باہمی ہم آہنگی سے کام کریں اور ہر اسکیم کو روزانہ کی بنیاد پر چیک کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی سستی یا ناقص کارکردگی برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ ترقیاتی فنڈز کا 100 فیصد مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے گا۔یہ منصوبے نہ صرف خطے کے تاریخی ورثے کو محفوظ بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہیں بلکہ جنوبی پنجاب میں سیاحت، معیشت اور مقامی ترقی کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوں گے۔

  • اوچ شریف میں مضر صحت غیر معیاری مشروبات،حکام کی خاموشی

    اوچ شریف میں مضر صحت غیر معیاری مشروبات،حکام کی خاموشی

    اوچ شریف میں مضر صحت غیر معیاری مشروبات کی کھلم کھلا تیاری شہریوں کی جانوں سے کھیلنے کا سلسلہ جاری پنجاب فوڈ اتھارٹی کی خاموشی سوالیہ نشان بن گئی شہریوں کا ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق سے نوٹس لینے کا مطالبہ

    اوچ شریف باغی ٹی وی ( نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف اور گردونواح کے علاقوں میں غیر معیاری، مضر صحت اور انسانی جانوں کے لیے خطرناک مشروبات کی تیاری اور فروخت کا سلسلہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ خصوصاً "لیمن دودھ سوڈا” کے نام پر تیار کیے جانے والے یہ مشروب زہر قاتل بن چکے ہیں، جن کی تیاری میں ٹیکسٹائل کلرز، کیمیکل اور سکرین کا استعمال عام ہے۔زرائع کے مطابق ان جعلی مشروبات کی تیاری زنگ آلود مشینوں پر انتہائی ناقص صفائی کے ماحول میں کی جاتی ہے، جہاں حفظانِ صحت کے اصولوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ورکروں کے پاس نہ دستانے ہوتے ہیں، نہ ہی سر ڈھانپنے کے لیے ٹوپیاں، اور ان کی میڈیکل فٹنس تک کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہوتا۔اوچ شریف میں درجنوں ایسے کارخانے قائم ہو چکے ہیں جہاں لیمن دودھ سوڈا، صندل شربت، الائچی، بادام اور دیگر اقسام کے مشروبات تیار کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ ان مشروبات کے استعمال سے پیٹ کی شدید بیماریاں، آنتوں کی سوجن، انفیکشن، گیسٹرو، اور ڈائریا جیسی مہلک بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ان مشروبات کا استعمال روزمرہ میں عام ہو چکا ہے، خاص طور پر گرم موسم میں لوگ پیاس بجھانے کے لیے ان کا استعمال کرتے ہیں، مگر لاعلمی میں اپنی صحت دائو پر لگا رہے ہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے تاحال کسی قسم کی کارر وائی سامنے نہیں آئی، جو عوام میں شدید تشویش اور غصے کا باعث بن رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ فوڈ اتھارٹی ایک خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے اور انسانی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف کسی قسم کی مہم یا چیکنگ کا آغاز نہیں کیا گیا۔شہریوں وزیر احمد شہباز خان سمیع اللہ فاروقی عبد الستار ساجد خان ودیگر نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکریٹری فوڈ اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان زہریلے مشروبات کے خلاف کارروائی کی جائے، تاکہ انسانی جانوں کو لاحق خطرات سے بچایا جا سکے اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے،

  • احمدپورشرقیہ: پٹواریوں کی گندم مہم تیز، کسانوں کو ‘پٹوار حصہ’ کا باردانہ بھجوا دیا گیا

    احمدپورشرقیہ: پٹواریوں کی گندم مہم تیز، کسانوں کو ‘پٹوار حصہ’ کا باردانہ بھجوا دیا گیا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)تحصیل احمد پور شرقیہ میں گندم کٹائی کے سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی پٹوار خانوں میں کرپشن کا نیا سلسلہ زور پکڑ گیا ہے، جہاں مقامی پٹواریوں اور ان کے منشیوں کی جانب سے کسانوں پر دباؤ ڈال کر "پٹوار حصہ” کے نام پر زبردستی گندم کے بورے وصول کیے جا رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مختلف دیہاتوں میں پٹواریوں کے منشیوں نے زمینداروں کو پیغام بھجوایا ہے کہ فی ایکڑ یا فی مشینری استعمال کے حساب سے گندم دینا ہوگی، بصورت دیگر زمینوں کے انتقال، فرد، یا دیگر قانونی معاملات میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی۔ کئی کسانوں نے خوف کے باعث اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ انکار کی صورت میں متعلقہ پٹواری ان کے قانونی کاغذات روک لیتے ہیں اور دفاتر کے چکر لگوا کر انہیں ذہنی اذیت میں مبتلا کیا جاتا ہے۔

    ایک کسان نے بتایا:
    "ہم دن رات کھیتوں میں کام کرتے ہیں، لیکن ہمیں ہماری ہی محنت کا صلہ نہیں ملتا۔ کچھ سرکاری اہلکار ناجائز حصہ وصول کرتے ہیں اور انکار کی صورت میں دھمکیاں دی جاتی ہیں۔”

    کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ روایت کئی سالوں سے چلی آ رہی ہے، مگر اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ انکار ممکن نہیں رہا۔ اگر کوئی کسان جرات کا مظاہرہ کرے تو اس کا ریکارڈ روک لیا جاتا ہے، اور دفاتر میں شنوائی کے بجائے ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    علاقے کے معززین، سماجی رہنماؤں اور کسان تنظیموں نے ضلعی انتظامیہ، محکمہ مال اور حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل بھر میں ہونے والی اس "گندم گردی” کا فوری نوٹس لیا جائے، ذمہ دار پٹواریوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، اور کسانوں کو کرپٹ نظام سے نجات دلائی جائے۔