Baaghi TV

Category: بہاولپور

  • اوچ شریف: دودھ کے نام پر بکتا زہر، فوڈ اتھارٹی بے خبر

    اوچ شریف: دودھ کے نام پر بکتا زہر، فوڈ اتھارٹی بے خبر

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) اولیائے کرام کے شہر اوچ شریف میں گرمی کی شدت بڑھتے ہی منافع خور عناصر نے دودھ میں کیمیکل اور پانی کی خطرناک ملاوٹ کا دھندا عروج پر پہنچا دیا ہے۔ یہ زہریلا ملاوٹی دودھ سرعام فروخت ہو رہا ہے جو نہ صرف شہریوں کی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے بلکہ پنجاب فوڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

    ذرائع کے مطابق اوچ شریف میں روزانہ ہزاروں لیٹر دودھ استعمال ہوتا ہے اور گرمیوں میں لسی، دہی اور دیگر مشروبات کی مانگ بڑھنے سے اس کی کھپت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اس طلب کو پورا کرنے کے لیے بے ایمان دکاندار دودھ کو گاڑھا اور خالص دکھانے کے لیے خطرناک کیمیکلز کا بے دریغ استعمال کر رہے ہیں۔

    شہریوں محمد عامر، یونس ادریس، احمد رضا اور محمد عثمان کی جانب سے موصول ہونے والی دل دہلا دینے والی شکایات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دودھ میں صرف پانی ہی نہیں بلکہ ایسے زہریلے کیمیکلز شامل کیے جا رہے ہیں جو انسانی صحت خاص طور پر معصوم بچوں کے لیے انتہائی مہلک ہیں۔ ان کیمیکلز کے استعمال سے کئی خوفناک بیماریاں اور دیگر سنگین طبی مسائل تیزی سے جنم لے رہے ہیں۔

    شہری اس بنیادی ضرورت کی چیز میں اس قدر گھناؤنی ملاوٹ پر شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹی کی مجرمانہ خاموشی اور عدم دلچسپی نے صورتحال کو مزید بدتر کر دیا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ملاوٹی دودھ بیچنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے اور شہریوں کو خالص دودھ کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

  • اوچ شریف: موٹروے پر FIA کے انسانی سمگلروں کے خلاف کارروائی، خواتین و بچوں سمیت 48 بازیاب

    اوچ شریف: موٹروے پر FIA کے انسانی سمگلروں کے خلاف کارروائی، خواتین و بچوں سمیت 48 بازیاب

    اوچ شریف،باغی ٹی وی(نامہ نگار حبیب خان)وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے انسانی سمگلنگ کے ایک وسیع نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ ملتان-سکھر موٹروے پر جھانگڑہ انٹرچینج کے قریب ایک جرأت مندانہ کارروائی میں، ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل بہاولپور کے اہلکاروں نے دو اہم اسمگلروں کو دھر لیا اور ان کے چنگل سے 10 خواتین اور 4 بچوں سمیت 48 بے گناہ افراد کو بازیاب کروا لیا، جنہیں غیر قانونی طور پر بیرون ملک دھکیلا جا رہا تھا۔

    گرفتار کیے گئے انسانیت کے ان دشمنوں کی شناخت فضل محمد اور شعیب رضا کے ناموں سے ہوئی ہے۔ یہ دونوں ایک منظم گروہ کے سرگرم رکن ہیں جو پاکستانی شہریوں کو دھوکے سے ایران اور عراق کے خطرناک اور غیر قانونی راستوں سے لے جا رہے تھے۔ ابتدائی تحقیقات نے ایک لرزہ خیز انکشاف کیا ہے کہ ان سفاک اسمگلروں نے ہر فرد سے 2 سے 3 لاکھ روپے تک کی بھاری رقم اینٹھی تھی، جس کا مجموعی تخمینہ 83 لاکھ 93 ہزار روپے سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ ان کا مذموم منصوبہ ان بے خبر افراد کو پہلے کراچی منتقل کرنا تھا، اور پھر وہاں سے بلوچستان کے دشوار گزار راستوں سے گزار کر انہیں ایران اور بالآخر عراق پہنچانا تھا۔

    ایف آئی اے کی بروقت کارروائی نے ان 48 افراد کی زندگیوں کو ایک ممکنہ انسانی المیے سے بچا لیا، جن میں معصوم بچے اور بے بس خواتین بھی شامل تھیں۔ اس کامیاب چھاپے کے دوران، ایف آئی اے کے تیز طرار اہلکاروں نے 17 اصلی پاسپورٹس، متعدد موبائل فونز اور دیگر اہم دستاویزات بھی قبضے میں لیے ہیں، جو اس گھناؤنے کاروبار کی تہہ تک پہنچنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ گرفتار شدہ دونوں ملزمان کے خلاف انسانی سمگلنگ کے سنگین الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے دیگر کارندوں کو بھی قانون کے شکنجے میں لایا جا سکے۔

    ایف آئی اے کے ترجمان نے اس شاندار کامیابی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انسانی سمگلنگ ایک انتہائی قابل مذمت جرم ہے، جس کی بھینٹ اکثر غریب اور معصوم شہری چڑھتے ہیں۔ انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے ایسے مجرمانہ گروہوں کے خلاف ملک بھر میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی اور کسی بھی ملزم کو قانون کی گرفت سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔

    ایف آئی اے نے تمام باشعور شہریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ اگر وہ اپنے گرد و نواح میں انسانی سمگلنگ یا کسی بھی مشکوک سرگرمی کا مشاہدہ کریں تو فوری طور پر ایف آئی اے کی ہیلپ لائن یا اپنے قریبی دفتر کو مطلع کریں، تاکہ مزید قیمتی انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔

  • اوچ شریف میں چوری کی بڑھتی وارداتیں، ایک ہی رات دو گھروں کو نشانہ

    اوچ شریف میں چوری کی بڑھتی وارداتیں، ایک ہی رات دو گھروں کو نشانہ

    اوچ شریف باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان )اوچ شریف اور مضافاتی علاقوں میں چوری کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گزشتہ شب ایک ہی رات میں دو الگ الگ مقامات پر چوروں نے وارداتیں کر کے نہ صرف قیمتی سامان چوری کیا بلکہ علاقہ مکینوں کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا۔ پولیس نے دونوں واقعات کی ایف آئی آر درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پہلی واردات چک مانک کے رہائشی عرفان حیدر ولد خلیل احمد کے بند گھر میں ہوئی، جو کچھ عرصہ قبل محلہ جگ پورہ منتقل ہو چکے تھے۔ صبح جب وہ واپس اپنے آبائی گھر پہنچے تو دروازے کھلے اور اندر سامان بکھرا ہوا پایا۔ تلاشی کے دوران معلوم ہوا کہ چور ایک چھت والا پنکھا اور دو عدد چارپائیاں لے اڑے۔ عرفان حیدر کے مطابق تین نامعلوم افراد رات کی تاریکی میں دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوئے اور واردات کے بعد فرار ہو گئے۔

    دوسری واردات موضع حیدرپورہ میں محمد قربان ولد حضور بخش کے گھر پر ہوئی، جہاں چور ایک مہنگی جانوروں کو پانی پلانے والی مشین (موازنہ) چرا کر لے گئے۔ واردات اُس وقت ہوئی جب محمد قربان اپنے مویشیوں کے باڑے کے قریب سوئے ہوئے تھے۔ صبح کے وقت چوری کا انکشاف ہوا تو گواہان محمد نادر اور محمد جاوید کو طلب کیا گیا، جنہوں نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ چور دیوار پھلانگ کر باڑے میں داخل ہوئے اور نشانات سڑک تک پائے گئے جہاں سے وہ غائب ہو گئے۔پولیس نے دونوں واقعات میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں اور تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جلد ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    دوسری جانب شہریوں نے بڑھتی ہوئی چوریوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے سیکیورٹی انتظامات کو مؤثر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اوچ شریف اور گردونواح کے علاقے جرائم پیشہ افراد کا مرکز بن سکتے ہیں۔

  • اوچ شریف کے تاریخی مزارات کی تزئین وآرائش،63 کروڑ روپے سے زائد کے منصوبے

    اوچ شریف کے تاریخی مزارات کی تزئین وآرائش،63 کروڑ روپے سے زائد کے منصوبے

    اوچ شریف (جنرل رپورٹر)اوچ شریف کے تاریخی مزارات کی تزئین وآرائش،63 کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبے جاری۔ کمشنر بہاول پور ڈویژن

    تفصیل کے مطابق:کمشنر بہاول پور ڈویژن مسرت جبیں نے کہا ہے کہ حکومت جنوبی پنجاب کے تاریخی اور روحانی ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے، جن کے تحت اُچ شریف میں واقع صدیوں پرانے مزارات کی تزئین و آرائش اور بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ یہ بات انہوں نے اوچ شریف کے دورے کے موقع پر دربار محبوب سبحانی سید جلال الدین سرخ پوش بخاری اور دیگر مزارات پر جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کرتے ہوئے کہی۔کمشنر کو جاری منصوبوں پر ایک تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ ان منصوبوں پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 63 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ ان منصوبوں میں مزارات کی بحالی، ملحقہ مساجد کی تعمیر و مرمت، زائرین کے لیے جدید سہولیات کی فراہمی، اور سیاحتی ترقیاتی اقدامات شامل ہیں۔

    کمشنر مسرت جبیں نے بتایا کہ 9.5 کروڑ روپے کی لاگت سے زائرین کے لیے خصوصی سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں، جن میں شاندار داخلی گیٹ، وسیع پارکنگ ایریا، وضو خانے، واش رومز، اور پینے کے صاف پانی کا بندوبست شامل ہے۔ اس کے علاوہ 9 مزارات کو ملانے والی سڑک پر ٹائلز نصب کی جائیں گی جبکہ ایک کرافٹ بازار بھی تعمیر کیا جائے گا تاکہ مقامی ہنرمندوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔انہوں نے واضح کیا کہ حضرت جلال الدین سرخ پوش بخاری، حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت، بی بی جیوندی، حضرت بہاول حلیم اور دیگر مزارات کی مکمل مرمت و تزئین کی جائے گی، جو نہ صرف روحانی سیاحت کو فروغ دے گا بلکہ ملکی و غیر ملکی زائرین کے لیے ایک پرکشش مقام بن جائے گا۔

    کمشنر نے اس موقع پر منصوبوں کی معیاری اور بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام محکمے باہمی ہم آہنگی سے کام کریں اور ہر اسکیم کو روزانہ کی بنیاد پر چیک کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی سستی یا ناقص کارکردگی برداشت نہیں کی جائے گی، جبکہ ترقیاتی فنڈز کا 100 فیصد مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے گا۔یہ منصوبے نہ صرف خطے کے تاریخی ورثے کو محفوظ بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہیں بلکہ جنوبی پنجاب میں سیاحت، معیشت اور مقامی ترقی کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوں گے۔

  • اوچ شریف میں مضر صحت غیر معیاری مشروبات،حکام کی خاموشی

    اوچ شریف میں مضر صحت غیر معیاری مشروبات،حکام کی خاموشی

    اوچ شریف میں مضر صحت غیر معیاری مشروبات کی کھلم کھلا تیاری شہریوں کی جانوں سے کھیلنے کا سلسلہ جاری پنجاب فوڈ اتھارٹی کی خاموشی سوالیہ نشان بن گئی شہریوں کا ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق سے نوٹس لینے کا مطالبہ

    اوچ شریف باغی ٹی وی ( نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف اور گردونواح کے علاقوں میں غیر معیاری، مضر صحت اور انسانی جانوں کے لیے خطرناک مشروبات کی تیاری اور فروخت کا سلسلہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ خصوصاً "لیمن دودھ سوڈا” کے نام پر تیار کیے جانے والے یہ مشروب زہر قاتل بن چکے ہیں، جن کی تیاری میں ٹیکسٹائل کلرز، کیمیکل اور سکرین کا استعمال عام ہے۔زرائع کے مطابق ان جعلی مشروبات کی تیاری زنگ آلود مشینوں پر انتہائی ناقص صفائی کے ماحول میں کی جاتی ہے، جہاں حفظانِ صحت کے اصولوں کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ورکروں کے پاس نہ دستانے ہوتے ہیں، نہ ہی سر ڈھانپنے کے لیے ٹوپیاں، اور ان کی میڈیکل فٹنس تک کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہوتا۔اوچ شریف میں درجنوں ایسے کارخانے قائم ہو چکے ہیں جہاں لیمن دودھ سوڈا، صندل شربت، الائچی، بادام اور دیگر اقسام کے مشروبات تیار کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ ان مشروبات کے استعمال سے پیٹ کی شدید بیماریاں، آنتوں کی سوجن، انفیکشن، گیسٹرو، اور ڈائریا جیسی مہلک بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ان مشروبات کا استعمال روزمرہ میں عام ہو چکا ہے، خاص طور پر گرم موسم میں لوگ پیاس بجھانے کے لیے ان کا استعمال کرتے ہیں، مگر لاعلمی میں اپنی صحت دائو پر لگا رہے ہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے تاحال کسی قسم کی کارر وائی سامنے نہیں آئی، جو عوام میں شدید تشویش اور غصے کا باعث بن رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ فوڈ اتھارٹی ایک خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے اور انسانی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف کسی قسم کی مہم یا چیکنگ کا آغاز نہیں کیا گیا۔شہریوں وزیر احمد شہباز خان سمیع اللہ فاروقی عبد الستار ساجد خان ودیگر نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکریٹری فوڈ اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان زہریلے مشروبات کے خلاف کارروائی کی جائے، تاکہ انسانی جانوں کو لاحق خطرات سے بچایا جا سکے اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے،

  • احمدپورشرقیہ: پٹواریوں کی گندم مہم تیز، کسانوں کو ‘پٹوار حصہ’ کا باردانہ بھجوا دیا گیا

    احمدپورشرقیہ: پٹواریوں کی گندم مہم تیز، کسانوں کو ‘پٹوار حصہ’ کا باردانہ بھجوا دیا گیا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)تحصیل احمد پور شرقیہ میں گندم کٹائی کے سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی پٹوار خانوں میں کرپشن کا نیا سلسلہ زور پکڑ گیا ہے، جہاں مقامی پٹواریوں اور ان کے منشیوں کی جانب سے کسانوں پر دباؤ ڈال کر "پٹوار حصہ” کے نام پر زبردستی گندم کے بورے وصول کیے جا رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مختلف دیہاتوں میں پٹواریوں کے منشیوں نے زمینداروں کو پیغام بھجوایا ہے کہ فی ایکڑ یا فی مشینری استعمال کے حساب سے گندم دینا ہوگی، بصورت دیگر زمینوں کے انتقال، فرد، یا دیگر قانونی معاملات میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی۔ کئی کسانوں نے خوف کے باعث اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ انکار کی صورت میں متعلقہ پٹواری ان کے قانونی کاغذات روک لیتے ہیں اور دفاتر کے چکر لگوا کر انہیں ذہنی اذیت میں مبتلا کیا جاتا ہے۔

    ایک کسان نے بتایا:
    "ہم دن رات کھیتوں میں کام کرتے ہیں، لیکن ہمیں ہماری ہی محنت کا صلہ نہیں ملتا۔ کچھ سرکاری اہلکار ناجائز حصہ وصول کرتے ہیں اور انکار کی صورت میں دھمکیاں دی جاتی ہیں۔”

    کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ روایت کئی سالوں سے چلی آ رہی ہے، مگر اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ انکار ممکن نہیں رہا۔ اگر کوئی کسان جرات کا مظاہرہ کرے تو اس کا ریکارڈ روک لیا جاتا ہے، اور دفاتر میں شنوائی کے بجائے ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    علاقے کے معززین، سماجی رہنماؤں اور کسان تنظیموں نے ضلعی انتظامیہ، محکمہ مال اور حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل بھر میں ہونے والی اس "گندم گردی” کا فوری نوٹس لیا جائے، ذمہ دار پٹواریوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، اور کسانوں کو کرپٹ نظام سے نجات دلائی جائے۔

  • اوچ شریف:زنگ آلود سانچے،ناقص صفائی،عوام مضرصحت  برف استعمال کرنے پرمجبور

    اوچ شریف:زنگ آلود سانچے،ناقص صفائی،عوام مضرصحت برف استعمال کرنے پرمجبور

    اوچ شریف باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے برف کے کارخانوں کی ابتر صورتحال نے شہریوں کی صحت کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ شہر بھر میں قائم درجنوں برف خانوں میں زنگ آلود سانچوں، صفائی کے ناقص انتظامات اور غیر تربیت یافتہ ملازمین کی موجودگی کے باعث تیار کی جانے والی غیر معیاری برف شہریوں میں گیسٹرو، ڈائیریا اور جلدی امراض جیسی بیماریوں کے تیزی سے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے۔ انتظامیہ کی غفلت اور متعلقہ اداروں کی خاموشی پر شہریوں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، اوچ شریف میں موجود برف کے کارخانوں میں مضر صحت اور غیر معیاری برف کی کھلے عام فروخت جاری ہے۔ ان کارخانوں میں استعمال ہونے والے برف کے سانچے زنگ آلود ہو چکے ہیں اور صفائی کے انتظامات انتہائی ناقص ہیں۔ گندے اور آلودہ پانی سے تیار کی جانے والی یہ برف گھریلو اور تجارتی دونوں سطحوں پر استعمال ہو رہی ہے، جو کہ متعدد بیماریوں کو جنم دے رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق ان برف خانوں میں کام کرنے والے بیشتر ملازمین طبی سرٹیفکیٹ سے محروم ہیں اور حفاظتی لباس، سر ڈھانپے بغیر اور صفائی کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کام کر رہے ہیں۔ پرانے اور میلے کپڑوں، گندے ناخنوں اور غیر محفوظ ماحول میں تیار کی جانے والی یہ برف عوام کی صحت کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن رہی ہے۔

    مزید برآں، کئی برف خانوں میں پانی کے مائیکرو بائیولوجیکل اور کیمیکل ٹیسٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہے، جبکہ بیشتر مقامات پر فلٹریشن پلانٹ کا کوئی اندراج موجود نہیں ہے۔ ان کارخانوں میں مکھیوں سے بچاؤ کے لیے جالی اور کیڑے مار ادویات کا بھی کوئی استعمال نہیں کیا جاتا، جس سے برف مزید آلودہ ہو رہی ہے۔

    برف کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیاں بھی حفظان صحت کے اصولوں کے منافی ہیں۔ یہ گاڑیاں کھلے عام اور بغیر کسی کور کے برف لے کر جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں گرد و غبار اور دیگر آلودگی آسانی سے برف میں شامل ہو جاتی ہے۔

    شہری حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت سے فوری طور پر اس سنگین صورتحال کا نوٹس لینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ان برف خانوں کا باقاعدگی سے معائنہ، لیبارٹری ٹیسٹ اور سخت لائسنسنگ کا نظام نافذ نہیں کیا جاتا، تب تک شہریوں کی صحت کو لاحق خطرات بدستور موجود رہیں گے۔

  • اوچ شریف:خیرپور اڈا پر ڈکیتی کے دوران فائرنگ، ایک ڈاکو ہلاک، پولیس اہلکار زخمی

    اوچ شریف:خیرپور اڈا پر ڈکیتی کے دوران فائرنگ، ایک ڈاکو ہلاک، پولیس اہلکار زخمی

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان)بہاولپور کی تحصیل خیرپور ٹامیوالی کے علاقے خیرپور اڈا پر ڈکیتی کی واردات کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک مشتبہ ڈاکو ہلاک اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق پولیس اہلکار ڈکیتی کی اطلاع ملنے پر فوری طور پر خیرپور اڈا پہنچے تو وہاں موجود ڈاکوؤں نے ان پر فائر کھول دیا۔ جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ایک گولی ڈکیتی میں ملوث شخص کو لگی، جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ اس فائرنگ کے تبادلے میں ایک گولی ایک پولیس اہلکار کے پاؤں پر بھی لگی۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ تاہم، پولیس پہلے ہی متوفی کی لاش کو منتقل کر رہی تھی۔ ریسکیو عملے نے فوری طور پر زخمی پولیس اہلکار محمد امین ولد محمد لقمان عمر 44 سال ساکن انیتی خیرپور ٹامیوالی کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور بعد ازاں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال خیرپور ٹامیوالی منتقل کر دیا۔ زخمی پولیس اہلکار کے دائیں پاؤں پر گولی لگی ہے۔

    ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور پولیس اس واقعے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

  • احمد پور شرقیہ: پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کا سبزی منڈی کا دورہ، نیلامی کی نگرانی

    احمد پور شرقیہ: پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کا سبزی منڈی کا دورہ، نیلامی کی نگرانی

    اوچ شریف باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان) ڈپٹی کمشنر بہاولپور اور اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ کی خصوصی ہدایات پر پرائس کنٹرول مجسٹریٹ عمران حیدر سیال نے علی الصبح فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ احمد پور شرقیہ کا اچانک دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا اور نیلامی کے عمل کو شفاف بنانا تھا۔

    اپنے دورے کے دوران پرائس کنٹرول مجسٹریٹ عمران حیدر سیال نے ٹماٹر، آلو، پیاز سمیت دیگر سبزیوں اور پھلوں کی نیلامی کے طریقہ کار کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ انہوں نے نیلامی میں شامل آڑھتیوں اور تاجروں سے بات چیت کی اور انہیں سرکاری نرخ ناموں کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کی۔

    عمران حیدر سیال نے سبزی منڈی کے مختلف حصوں کا تفصیلی معائنہ کیا اور وہاں موجود اشیاء کے معیار اور قیمتوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ کسی بھی صورت میں ناجائز منافع خوری برداشت نہیں کی جائے گی اور مقرر کردہ قیمتوں سے زیادہ وصول کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نرخ نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے اور ضرورت پڑنے پر دیگر قانونی اقدامات بھی اٹھائے جائیں گے۔

    انہوں نے مارکیٹ کمیٹی کے عملے کو بھی ہدایت کی کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر نیلامی کے عمل کی شفافیت کو یقینی بنائیں اور عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری کے ساتھ نبھائیں۔

    شہریوں نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کے اس اقدام کو خوب سراہا اور امید ظاہر کی کہ اس طرح کے مسلسل اقدامات سے مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور عام لوگوں کو سستی اور معیاری اشیاء دستیاب ہو سکیں گی۔

  • اوچ شریف : محنت کشوں کا وزیر اعلیٰ کے راشن کارڈ پروگرام کو زبردست خراج تحسین

    اوچ شریف : محنت کشوں کا وزیر اعلیٰ کے راشن کارڈ پروگرام کو زبردست خراج تحسین

    اوچ شریف باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان)وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے صوبے کے مزدور طبقے کے لیے اعلان کردہ تاریخ کے سب سے بڑے ماہانہ راشن کارڈ پروگرام کو اوچ شریف کے محنت کش طبقے کی جانب سے زبردست پذیرائی ملی ہے۔ مقامی مزدوروں، ریڑھی بانوں، رکشہ ڈرائیوروں اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد نے اس فیصلے کو اپنے لیے ایک "بڑا سہارا” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کے ان مشکل حالات میں حکومت پنجاب کا یہ اقدام ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔

    اوچ شریف کے مزدور رہنما محمد اسلم، عبد العزیز اور صفدر حسین نے متفقہ طور پر کہا کہ "ہم روزانہ کماتے ہیں اور اسی سے ہمارا گزر بسر ہوتا ہے، مہینے کے آخر تک گھر کا چولہا جلانا بھی مشکل ہو جاتا ہے، لیکن اب راشن کارڈ کے ذریعے ہمیں کم از کم بنیادی غذائی اجناس میسر آئیں گی، جو ہمارے بچوں کی بھوک مٹانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔”

    ایک خاتون محنت کش (ش، م) بی بی نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں نہ کوئی حکومتی امداد ملتی ہے اور نہ ہی کوئی وظیفہ، لیکن یہ راشن کارڈ ہمارے جیسے غریب لوگوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے۔ ہم وزیر اعلیٰ صاحبہ کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔”

    اوچ شریف کی سماجی تنظیموں اور مزدور یونینز نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس راشن کارڈ اسکیم کو شفاف طریقے سے نافذ کیا گیا تو یہ پنجاب کی سماجی بہبود کی پالیسی کے لیے ایک کامیاب مثال بن سکتی ہے۔ مقامی سطح پر اس پروگرام کے بارے میں آگاہی اور رجسٹریشن کے عمل کے آغاز کا بے صبری سے انتظار کیا جا رہا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔

    یہ عوامی ردعمل واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ پنجاب حکومت کی یہ نئی اسکیم زمینی سطح پر عام لوگوں کی ضروریات کے عین مطابق ہے اور حقیقی فلاحی تبدیلی کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔