Baaghi TV

Category: بہاولپور

  • اوچ شریف: سیلاب کے بعد کارپٹ روڈ شدید کٹاؤ کا شکار، حادثات کا خدشہ

    اوچ شریف: سیلاب کے بعد کارپٹ روڈ شدید کٹاؤ کا شکار، حادثات کا خدشہ

    اوچ شریف (نامہ نگار حبیب خان)دریائے چناب اور دریائے ستلج میں حالیہ سیلابی ریلے گزرنے کے بعد اوچ شریف اور گردونواح میں انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال ترنڈ بشارت سے سرور آباد تک تقریباً پانچ کلو میٹر طویل کارپٹ روڈ کی ہے، جہاں سڑک کے دونوں اطراف شدید کٹاؤ کے باعث بنیاد کمزور ہو چکی ہے۔

    مقامی مشاہدے کے مطابق سیلابی پانی کے تیز بہاؤ نے سڑک کے کناروں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کئی مقامات پر کارپٹ روڈ نیچے سے خالی ہو چکی ہے جبکہ بعض حصوں میں گہرے شگاف پڑ گئے ہیں۔ بظاہر ہموار دکھائی دینے والی یہ سڑک اندرونی طور پر غیر محفوظ ہو چکی ہے، جس پر بھاری ٹریفک کی آمد و رفت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

    سیلابی صورتحال ختم ہونے کے باوجود تاحال محکمہ ہائی ویز کی جانب سے سڑک کا تکنیکی معائنہ، مرمتی کام یا حفاظتی اقدامات شروع نہیں کیے جا سکے۔ خطرناک مقامات پر نہ تو وارننگ سائن بورڈ نصب ہیں اور نہ ہی ٹریفک کی رہنمائی کے لیے کوئی انتظام موجود ہے، جس سے عوامی تحفظ کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

    یہ سڑک اوچ شریف سمیت درجنوں دیہی آبادیوں کے لیے مرکزی رابطہ ذریعہ ہے، جس سے طلبہ، مریض اور کسان روزانہ مستفید ہوتے ہیں۔ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو نہ صرف عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی یہ سڑک مکمل طور پر ناکارہ ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

    علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ہائی ویز کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر سڑک کا تکنیکی سروے کرایا جائے، کٹاؤ روکنے کے لیے حفاظتی پشتے تعمیر کیے جائیں اور نکاسی آب کے مؤثر انتظامات کیے جائیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری متعلقہ محکموں پر عائد ہو گی۔

  • اوچ شریف: بلیک میلر گینگ کے سنسنی خیز انکشافات، لڑکیوں کو ورغلا کر نازیبا ویڈیوز بنانے والا گروہ بے نقاب

    اوچ شریف: بلیک میلر گینگ کے سنسنی خیز انکشافات، لڑکیوں کو ورغلا کر نازیبا ویڈیوز بنانے والا گروہ بے نقاب

    اوچ شریف ( باغی ٹی وی ، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے علاقے میں گزشتہ دنوں وائرل ہونے والی نازیبا اور فحش ویڈیوز کے معاملے میں انتہائی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تحقیقات کے دوران احسن رضا، عمر، ندیم اور عرفان پر مشتمل ایک منظم بلیک میلر گینگ بے نقاب ہوا ہے، جس میں اوچ گیلانی کی رہائشی عظمیٰ خورشید نامی خاتون مرکزی کردار ادا کر رہی تھی۔ انکشاف ہوا ہے کہ یہ گروہ عظمیٰ خورشید کے ذریعے شریف گھرانوں کی بچیوں کو ورغلا کر مخصوص ٹھکانوں پر لاتا تھا، جہاں ان کی عزت پامال کرنے کے بعد خفیہ ویڈیوز بنا لی جاتی تھیں تاکہ انہیں بلیک میل کیا جا سکے۔ اس گروہ کے مظالم کی انتہا یہ ہے کہ بدنامی کے خوف سے ایک متاثرہ لڑکی پہلے ہی خودکشی کر کے اپنی جان دے چکی ہے۔ ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد تھانہ اوچ شریف میں پولیس کی مدعیت میں مقدمہ تو درج کر لیا گیا ہے، تاہم گینگ اب اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، گینگ کی اہم رکن عظمیٰ خورشید نے خود کو بچانے کے لیے نازیبا ویڈیوز میں نظر آنے والے احسن رضا کو اپنا شوہر ظاہر کیا ہے، حالانکہ احسن رضا پہلے سے شادی شدہ ہے اور عظمیٰ خورشید خود بھی اوچ گیلانی کے رہائشی محمد آصف کی منکوحہ ہے۔ عظمیٰ اور آصف کا کیس گزشتہ کئی سالوں سے عدالت میں زیر سماعت ہے اور ان کا ایک بچہ بھی ہے، جسے آصف اپنی اولاد تسلیم کرنے سے انکاری ہے اور اس نے عدالت میں ڈی این اے ٹیسٹ کی درخواست دے رکھی ہے۔ خفیہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ گروہ قانونی گرفت سے بچنے کے لیے عظمیٰ خورشید کی اپنے شوہر سے طلاق اور احسن رضا سے نکاح کا ڈرامہ رچا کر خود کو میاں بیوی ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان ہوش ربا انکشافات کے بعد عوامی و سماجی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کر کے اس خطرناک بلیک میلر گینگ کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی شریف زادی ان کے ہتھے نہ چڑھ سکے اور نہ ہی کسی کو جان دینے پر مجبور ہونا پڑے۔

  • اوچ شریف: ٹرانسفارمر چور مافیا سرگرم، درجنوں بستیاں اندھیرے میں ڈوب گئیں

    اوچ شریف: ٹرانسفارمر چور مافیا سرگرم، درجنوں بستیاں اندھیرے میں ڈوب گئیں

    اوچ شریف(باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان)اوچ شریف کے نواحی اور دیہی علاقوں میں بجلی کے ٹرانسفارمرز کی چوری کی وارداتوں نے ایک منظم اور خطرناک مافیا کی شکل اختیار کر لی ہے، جس کے باعث سرکاری رٹ غیر مؤثر دکھائی دے رہی ہے اور جرائم پیشہ عناصر بلا خوف و خطر قومی اثاثے لوٹنے میں مصروف ہیں۔ پولیس اور واپڈا حکام کی مبینہ لاپرواہی اور نگرانی کے فقدان نے صورتحال کو انتہائی ابتر بنا دیا ہے، جس کا تازہ ترین نشانہ ترنڈ بشارت کے ملحقہ دیہی علاقے، بستی نائچ اور بستی محمد بخش بوہڑ بنے ہیں۔ رات کے اندھیرے میں نامعلوم پیشہ ور ملزمان نے نہایت مہارت کے ساتھ واپڈا کے نصب شدہ ٹرانسفارمرز اتار کر ان میں سے قیمتی کاپر کوائلیں نکال لیں اور لوہے کی خالی باڈیاں قریبی کھیتوں اور ویران مقامات پر پھینک کر فرار ہو گئے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ بھاری ٹرانسفارمرز کو پول سے اتارنا اور انہیں کاٹ کر قیمتی پرزہ جات نکالنا عام چوروں کے بس کی بات نہیں بلکہ اس کے لیے مخصوص آلات اور تکنیکی مہارت درکار ہوتی ہے، جو اس واردات کے پیچھے کسی منظم گروہ کی موجودگی کی نشاندہی کرتی ہے۔ صبح کے وقت جب بجلی کی طویل بندش پر مکینوں نے صورتحال کا جائزہ لیا تو ٹرانسفارمرز غائب تھے اور ان کے ڈھانچے فاصلے پر پڑے پائے گئے، جس کے باعث مذکورہ بستیاں مکمل طور پر اندھیرے میں ڈوب گئیں۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پورے علاقے میں پینے کے پانی کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے، جس سے گھریلو خواتین اور بزرگ شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ طلبہ کی تعلیم اور کاروباری سرگرمیاں بھی مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں۔

    علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ چوروں کو مخصوص ٹرانسفارمرز کے بارے میں اندرونی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے وہ آسانی سے ان کیمتی اثاثوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام، پولیس اور واپڈا انتظامیہ سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ بستی نائچ اور بستی محمد بخش بوہڑ میں فوری طور پر نئے ٹرانسفارمرز نصب کر کے بجلی کی فراہمی بحال کی جائے تاکہ عوام کی اذیت ختم ہو سکے۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر ملوث ملزمان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کیا جائے اور انہیں گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسی وارداتوں کا سدِباب ہو سکے۔

  • اوچ شریف:قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی، 30 سال بعد قیمتی اراضی واگزار

    اوچ شریف:قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی، 30 سال بعد قیمتی اراضی واگزار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی/نامہ نگار حبیب خان) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے دو ٹوک ویژن کے مطابق قبضہ مافیا کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں ضلع بہاولپور میں تیزی سے جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ نوید حیدر کی قیادت میں اوچ شریف کے نواحی علاقے نورپور جدید میں ایک اہم اور تاریخی آپریشن کیا گیا، جس کے دوران 30 سال سے زائد عرصے سے قابض عناصر سے قیمتی اراضی واگزار کرا کے اصل مالک سید اظہر علی رضوی کے حوالے کر دی گئی۔

    تفصیلات کے مطابق مذکورہ اراضی پر طویل عرصے سے بااثر قبضہ مافیا کا ناجائز قبضہ تھا، جس کے باعث اصل مالک شدید مشکلات اور قانونی پیچیدگیوں کا شکار رہا۔ سابقہ ادوار میں متعدد درخواستوں کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی نہ ہو سکی تھی۔ موجودہ صوبائی حکومت کی زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت ڈپٹی کمشنر بہاولپور سید حسن رضا کی خصوصی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر نوید حیدر نے ریونیو، پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کے ہمراہ موقع پر پہنچ کر مکمل قانونی کارروائی عمل میں لائی۔

    کارروائی کے دوران کسی دباؤ یا سفارش کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے قبضہ مافیا کے خلاف قانون کے مطابق اقدامات کیے گئے اور اراضی تحویل میں لے کر باقاعدہ طور پر اصل مالک کے حوالے کی گئی۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کا واضح پیغام ہے کہ صوبے بھر میں قبضہ مافیا اور لینڈ گریبروں کے لیے کوئی گنجائش نہیں، اور عوام کی جائز ملکیت کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    اراضی کی واگزاری کے بعد سید اظہر علی رضوی نے وزیراعلیٰ پنجاب، ڈپٹی کمشنر بہاولپور اور اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کئی دہائیوں بعد انصاف ملا ہے۔ علاقے کے مکینوں اور شہری حلقوں نے بھی ضلعی انتظامیہ کی کارروائی کو سراہتے ہوئے اسے قانون کی بالادستی اور عوامی حقوق کے تحفظ کی روشن مثال قرار دیا۔

  • اوچ شریف: سیلاب متاثرین سردی میں “مہنگائی کے شکنجے” میں، امداد کے وعدے دھوکہ بن گئے

    اوچ شریف: سیلاب متاثرین سردی میں “مہنگائی کے شکنجے” میں، امداد کے وعدے دھوکہ بن گئے

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار: حبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے حالیہ سیلابی ریلے سے بری طرح متاثر ہوئے، جہاں متعدد مکانات منہدم ہو گئے اور گھریلو سامان پانی کی نذر ہو گیا۔ سیلاب سے متاثرہ خاندان اس وقت شدید سردی کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا بھی سامنا کر رہے ہیں، جس نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

    متاثرین کے مطابق سرد موسم میں بچوں اور بزرگوں کو گرم رکھنے کے لیے کمبل اور رضائی کی اشد ضرورت ہے، تاہم مارکیٹ میں ان اشیاء کی قیمتیں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ غریب اور سیلاب زدہ خاندان انہیں خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ایک متاثرہ شہری کا کہنا تھا کہ وہ کم از کم اپنے بچوں کو سردی سے بچانا چاہتے ہیں، لیکن نہ مہنگی رضائیاں ان کی پہنچ میں ہیں اور نہ ہی سستے لنڈا بازار سے کچھ حاصل ہو پا رہا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں معیاری کورین کمبل تو بہت مہنگے داموں فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ عام کمبل بھی چھانٹی کے بعد زیادہ قیمت پر دستیاب ہیں۔ اس صورتحال نے سیلاب متاثرین کو مزید بے بس کر دیا ہے۔

    ایک متاثرہ خاتون نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ سردی کی شدت نے زندگی مشکل بنا دی ہے اور کمبلوں کی مہنگائی ایک نئے عذاب کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجر صرف منافع کمانے میں مصروف ہیں جبکہ متاثرہ خاندان اپنے بچوں کو گرم رکھنے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

    دوسری جانب متاثرین نے حکومت پنجاب اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے اعلان کردہ امدادی رقوم پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ متاثرہ افراد کے مطابق سیلاب زدگان کے لیے کچے مکانات کے منہدم ہونے پر 5 لاکھ روپے اور پکے مکانات پر 10 لاکھ روپے امداد کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم عملی طور پر کچے اور پکے دونوں طرح کے مکانات کے متاثرہ خاندانوں کو صرف 75 ہزار روپے دیے گئے، جو نہ مکانات کی بحالی کے لیے کافی ہیں اور نہ ہی سردی سے بچاؤ کے سامان کی خریداری کے لیے۔

    ایک متاثرہ شخص نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے وعدوں پر بھروسہ کیا، مگر دی جانے والی امداد نے ان کی مشکلات کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ سر چھپانے کو گھر ہے، نہ مناسب لباس اور نہ ہی سردی سے بچاؤ کا کوئی انتظام۔

    سیلاب متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر کمبل، رضائیاں، گرم کپڑے اور مناسب مالی امداد فراہم کی جائے، بصورت دیگر سردی اور مہنگائی کے اس سنگین بحران میں کئی خاندان مزید خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

  • اوچ شریف: علی پور روڈ پر المناک ٹریفک حادثہ، نوجوان خاتون جاں بحق، متعدد زخمی

    اوچ شریف: علی پور روڈ پر المناک ٹریفک حادثہ، نوجوان خاتون جاں بحق، متعدد زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار: حبیب خان)علی پور روڈ، انڈس ہائی وے پر للو والی موڑ کے قریب مسافر بس اور ٹریلر کے درمیان آمنے سامنے شدید تصادم ہو گیا، جس کے نتیجے میں 20 سالہ نوجوان خاتون موقع پر ہی جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے کی اطلاع صبح 9 بج کر 7 منٹ پر موصول ہوئی، جس پر ریسکیو 1122 کی ٹیمیں 7 منٹ کے اندر موقع پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارروائیوں کے لیے BPA-27، BPA-34، BPA-35، BF-6 اور APR-1 روانہ کیے گئے۔

    ریسکیو عملے کے مطابق جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت رمشا بی بی زوجہ محمد شریف، عمر 20 سال، ساکن ترنڈہ محمدپناہ کے نام سے ہوئی ہے، جنہیں حادثے کے باعث جسم کے مختلف حصوں پر شدید چوٹیں اور متعدد فریکچرز آئے جو جان لیوا ثابت ہوئے۔ متوفیہ کی ڈیڈ باڈی کو ضروری قانونی کارروائی کے بعد آر ایچ سی اوچ شریف منتقل کر دیا گیا۔

    حادثے میں محمد شریف ولد مظفر احمد، عمر 27 سال، معمولی زخمی ہوئے جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد آر ایچ سی اوچ شریف منتقل کیا گیا، جبکہ تین دیگر معمولی زخمی افراد ریسکیو ٹیم کے پہنچنے سے قبل ہی قریبی ہسپتال منتقل ہو چکے تھے۔

    حادثے کے باعث کچھ دیر کے لیے انڈس ہائی وے پر ٹریفک کی روانی متاثر رہی، جسے ریسکیو اور پولیس کی مدد سے بعد ازاں بحال کر دیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حادثہ تیز رفتاری اور لاپرواہی کے باعث پیش آیا، تاہم پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    علاقہ مکینوں اور عوامی حلقوں نے انڈس ہائی وے پر بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ رفتار کی نگرانی، ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔

  • اوچ شریف:خیر پور ڈاہا میں نشئی غنڈوں کی دہشت، پولیس خاموش تماشائی

    اوچ شریف:خیر پور ڈاہا میں نشئی غنڈوں کی دہشت، پولیس خاموش تماشائی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے خیر پور ڈاہا میں منشیات کے عادی اور چھرا بردار عناصر نے کھلی دہشت پھیلا رکھی ہے، جس کے باعث شہری شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ تھانہ دھوڑکوٹ سے چند فرلانگ کے فاصلے پر یہ نشئی عناصر دن دہاڑے ہاتھوں میں چھریاں لے کر گلی محلوں میں دندناتے پھر رہے ہیں، شہریوں کو سرِعام دھمکیاں دینا، گالم گلوچ اور معمولی بات پر حملہ آور ہونا روز کا معمول بن چکا ہے، جبکہ پولیس کی موجودگی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔

    علاقہ مکینوں کے مطابق منشیات کے عادی افراد کھلے عام نشہ آور اشیاء استعمال اور فروخت کر رہے ہیں، جس سے نئی نسل تیزی سے تباہی کی طرف جا رہی ہے۔ جو شہری ان کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اسے تشدد، چھرا گھونپنے اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ خوف کا یہ عالم ہے کہ والدین بچوں کو گھروں سے باہر بھیجنے سے گریزاں ہیں، جبکہ خواتین اور بزرگ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

    انتہائی تشویشناک امر یہ ہے کہ یہ تمام جرائم تھانہ دھوڑکوٹ کی حدود میں ہو رہے ہیں، مگر پولیس کی جانب سے نہ کوئی مؤثر چھاپہ مار کارروائی سامنے آئی ہے اور نہ ہی کسی بڑے ملزم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ سوال زور پکڑتا جا رہا ہے کہ آیا تھانہ دھوڑکوٹ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے یا کسی دباؤ اور مبینہ ملی بھگت کے تحت دانستہ چشم پوشی اختیار کی جا رہی ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد بار پولیس کو درخواستیں اور شکایات دی گئیں، تاہم ہر بار ٹال مٹول اور بے بسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ اہلِ علاقہ نے الزام عائد کیا ہے کہ نشئی اور جرائم پیشہ عناصر کو اندرونی سرپرستی حاصل ہے، جس کے باعث وہ قانون کو کھلے عام چیلنج کر رہے ہیں۔

    سماجی اور شہری حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور فیصلہ کن کارروائی نہ کی گئی تو خیر پور ڈاہا مکمل طور پر نشہ، جرائم اور غنڈہ گردی کا مرکز بن جائے گا۔ شہریوں نے ڈی پی او بہاولپور، آر پی او بہاولپور ریجن اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ تھانہ دھوڑکوٹ کے ایس ایچ او کی کارکردگی کا فوری جائزہ لیا جائے اور منشیات کے عادی، چھرا بردار اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

  • اوچ شریف: خیر پور ڈاھا میں آوارہ کتوں کا راج، شہری خوف کے مارے گھر میں محصور

    اوچ شریف: خیر پور ڈاھا میں آوارہ کتوں کا راج، شہری خوف کے مارے گھر میں محصور

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) نواحی علاقے خیر پور ڈاھا میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں کے لیے مہلک خطرہ بن گئی ہے۔ ہر صبح اور شام لوگ گھر سے نکلنے میں خوف محسوس کر رہے ہیں، جبکہ گزشتہ شام ایک پاگل کتے نے فہد نامی معصوم بچے کو شدید زخمی کر دیا، جس نے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر دی ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ رات کے وقت گلیوں میں نکلنا محال ہو چکا ہے اور بچے کھیلنے تک نہیں جا سکتے۔ مقامی لوگوں نے اس صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر فوری اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بڑے سانحے سے بچنا ممکن نہیں ہوگا۔

    علاقہ مکینوں نے اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ آوارہ کتوں کو فوری طور پر تلف کیا جائے اور شہریوں کی جان و مال کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے بلدیہ اور متعلقہ محکموں کی غفلت اور نااہلی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے کوئی عملی کارروائی نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے صورتحال دن بہ دن خراب ہو رہی ہے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق محکمہ بلدیہ کی لاپرواہی اور انتظامیہ کی ناکامی کی وجہ سے آوارہ کتوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آئی اور شہری اپنے روزمرہ کے معمولات بھی خوف کے عالم میں انجام دے رہے ہیں۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو بچوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

  • احمد پور شرقیہ: ریسکیو 1122 کی جدید سہولیات اور آپریشنل سسٹمز کا جائزہ، حاجی عامر شہزاد کا دورہ

    احمد پور شرقیہ: ریسکیو 1122 کی جدید سہولیات اور آپریشنل سسٹمز کا جائزہ، حاجی عامر شہزاد کا دورہ

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان) احمد پور شرقیہ میں ریسکیو 1122 سروس کے تحت عوامی فلاح و بہبود کے شعبے میں اہم پیش رفت کے سلسلے میں اسلامیہ فاؤنڈیشن کے بانی اور معروف سماجی رہنما حاجی عامر شہزاد نے محکمہ ایمرجنسی سروسز کے دفتر کا دورہ کیا۔

    اس موقع پر ریسکیو افسران نے مہمانِ خصوصی کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں ادارے کی کارکردگی، سہولیات اور آپریشنل ڈھانچے سے متعلق جامع بریفنگ دی۔ ریسکیو اینڈ سیفٹی آفیسر محمد رفیق اور اسٹیشن کوآرڈینیٹر عابد رحیم نے حاجی عامر شہزاد کو فلڈ ریسکیو ایکوپمنٹ، آگ بجھانے والی جدید گاڑیوں، ایمبولینسز، میڈیکل ریسپانس یونٹس اور دیگر خصوصی وہیکلز کے استعمال اور اہمیت سے آگاہ کیا۔

    بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ محکمہ ریسکیو 1122 نہ صرف حادثات بلکہ قدرتی آفات، آگ بجھانے، سیلابی صورتحال اور میڈیکل ایمرجنسیز میں بھی دن رات خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ دورے کے دوران حاجی عامر شہزاد نے ریسکیو سروس کی پیشہ ورانہ اہلیت، تربیت یافتہ ٹیموں اور جدید مشینری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریسکیو 1122 عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ فلاحی ادارے اور عوام بھی ریسکیو کے ساتھ تعاون کو بہتر بنائیں تاکہ ہنگامی حالات میں بروقت اور مؤثر امداد ممکن ہو سکے۔ ریسکیو افسران نے بتایا کہ احمد پور شرقیہ میں ایمرجنسی رسپانس ٹائم مزید بہتر بنانے کے لیے اضافی وسائل اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے اور امید ظاہر کی کہ سماجی اداروں کی حمایت سے ریسکیو سروس مزید فعال اور جدید خطوط پر استوار ہوگی۔

    اس موقع پر ادارے کے مختلف شعبہ جات کا بھی دورہ کیا گیا، جہاں حاجی عامر شہزاد کو کنٹرول روم، ریسکیو اسٹیشن، ٹریننگ ہال اور فلیٹ اسٹور سمیت تمام اہم یونٹس کا معائنہ کروایا گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق، عوام میں آگاہی مہم اور حادثات سے بچاؤ کے پروگرام بھی جلد شروع کیے جائیں گے۔

    سماجی رہنماؤں کے اس طرح کے دوروں کو ریسکیو حکام نے خوش آئند قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے ادارے کی کارکردگی مزید نکھرے گی اور عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

  • احمدپور شرقیہ:پسند کی شادی کی خواہش پر لڑکی قتل

    احمدپور شرقیہ:پسند کی شادی کی خواہش پر لڑکی قتل

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)تحصیل احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقے موضع سکیل بستی مہر کالو سیال میں غیرت کے نام پر پیش آنے والا دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں پسند کی شادی کی خواہش پر ایک نوجوان لڑکی کو اس کے باپ اور بھائی نے بے رحمی سے قتل کر دیا۔ اس واقعے نے پورے علاقے کو غم اور صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق مقتولہ سلمہ بی بی کئی برسوں سے اپنی خالہ کے ساتھ احمد پور شرقیہ میں مقیم تھی اور ایک مقامی میڈیکل ادارے میں ملازمت کرتی تھی۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑکی اپنی پسند کے رشتے میں شادی کرنا چاہتی تھی، جس پر گھر والے سخت ناراض تھے۔

    چند روز قبل والد نے اسے یہ کہہ کر گھر بلوایا کہ اس کی مرضی کے مطابق شادی کر دی جائے گی۔ لڑکی خوشی خوشی گھر لوٹ آئی، مگر اس کے پیچھے ایک خوفناک منصوبہ چھپا تھا۔

    واقعے کی رات تقریباً 10 بجے والد مہر طالب اور بھائی نے اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں نیم مردہ حالت میں موٹر سائیکل پر ڈال کر کھیتوں کی طرف لے جایا گیا اور ویرانے میں پھینک دیا گیا۔

    اہل علاقہ کے مطابق مقتولہ پوری رات لاپتہ رہی۔ صبح ہونے پر تھانہ ڈیرہ نواب پولیس نے مقامی افراد کی مدد سے سرچ آپریشن کیا، جس کے دوران سرسوں کی فصل سے لڑکی کی لاش برآمد کر لی گئی۔ دل خراش منظر دیکھ کر پورا علاقہ سوگوار ہو گیا۔

    پولیس نے موقع سے شواہد اکٹھے کیے اور لاش کو ٹی ایچ کیو ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا، جہاں پوسٹ مارٹم جاری ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق لڑکی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

    پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور والد و بھائی کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے اس واردات کو غیرت کے نام پر قتل کی ایک اور دل خراش مثال قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے سخت قانون سازی اور مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق پسند کی شادی کا حق حاصل کرنے کی خواہش کوئی جرم نہیں، مگر معاشرتی جبر نے ایک اور معصوم جان لے لی۔

    ذرائع کے مطابق سلمہ بی بی کی شادی اور رخصتی ایک روز بعد ہونا طے تھی، مگر خاندانی ضد اور فرسودہ روایات نے اسے زندگی کی دہلیز تک پہنچنے سے پہلے ہی موت کے حوالے کر دیا۔

    پولیس حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔