Baaghi TV

Category: بہاولپور

  • اوچ شریف: سیلاب متاثرین سردی میں “مہنگائی کے شکنجے” میں، امداد کے وعدے دھوکہ بن گئے

    اوچ شریف: سیلاب متاثرین سردی میں “مہنگائی کے شکنجے” میں، امداد کے وعدے دھوکہ بن گئے

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار: حبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے حالیہ سیلابی ریلے سے بری طرح متاثر ہوئے، جہاں متعدد مکانات منہدم ہو گئے اور گھریلو سامان پانی کی نذر ہو گیا۔ سیلاب سے متاثرہ خاندان اس وقت شدید سردی کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا بھی سامنا کر رہے ہیں، جس نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

    متاثرین کے مطابق سرد موسم میں بچوں اور بزرگوں کو گرم رکھنے کے لیے کمبل اور رضائی کی اشد ضرورت ہے، تاہم مارکیٹ میں ان اشیاء کی قیمتیں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ غریب اور سیلاب زدہ خاندان انہیں خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ایک متاثرہ شہری کا کہنا تھا کہ وہ کم از کم اپنے بچوں کو سردی سے بچانا چاہتے ہیں، لیکن نہ مہنگی رضائیاں ان کی پہنچ میں ہیں اور نہ ہی سستے لنڈا بازار سے کچھ حاصل ہو پا رہا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں معیاری کورین کمبل تو بہت مہنگے داموں فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ عام کمبل بھی چھانٹی کے بعد زیادہ قیمت پر دستیاب ہیں۔ اس صورتحال نے سیلاب متاثرین کو مزید بے بس کر دیا ہے۔

    ایک متاثرہ خاتون نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ سردی کی شدت نے زندگی مشکل بنا دی ہے اور کمبلوں کی مہنگائی ایک نئے عذاب کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجر صرف منافع کمانے میں مصروف ہیں جبکہ متاثرہ خاندان اپنے بچوں کو گرم رکھنے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

    دوسری جانب متاثرین نے حکومت پنجاب اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے اعلان کردہ امدادی رقوم پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ متاثرہ افراد کے مطابق سیلاب زدگان کے لیے کچے مکانات کے منہدم ہونے پر 5 لاکھ روپے اور پکے مکانات پر 10 لاکھ روپے امداد کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم عملی طور پر کچے اور پکے دونوں طرح کے مکانات کے متاثرہ خاندانوں کو صرف 75 ہزار روپے دیے گئے، جو نہ مکانات کی بحالی کے لیے کافی ہیں اور نہ ہی سردی سے بچاؤ کے سامان کی خریداری کے لیے۔

    ایک متاثرہ شخص نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے وعدوں پر بھروسہ کیا، مگر دی جانے والی امداد نے ان کی مشکلات کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ سر چھپانے کو گھر ہے، نہ مناسب لباس اور نہ ہی سردی سے بچاؤ کا کوئی انتظام۔

    سیلاب متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر کمبل، رضائیاں، گرم کپڑے اور مناسب مالی امداد فراہم کی جائے، بصورت دیگر سردی اور مہنگائی کے اس سنگین بحران میں کئی خاندان مزید خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

  • اوچ شریف: علی پور روڈ پر المناک ٹریفک حادثہ، نوجوان خاتون جاں بحق، متعدد زخمی

    اوچ شریف: علی پور روڈ پر المناک ٹریفک حادثہ، نوجوان خاتون جاں بحق، متعدد زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار: حبیب خان)علی پور روڈ، انڈس ہائی وے پر للو والی موڑ کے قریب مسافر بس اور ٹریلر کے درمیان آمنے سامنے شدید تصادم ہو گیا، جس کے نتیجے میں 20 سالہ نوجوان خاتون موقع پر ہی جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے کی اطلاع صبح 9 بج کر 7 منٹ پر موصول ہوئی، جس پر ریسکیو 1122 کی ٹیمیں 7 منٹ کے اندر موقع پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارروائیوں کے لیے BPA-27، BPA-34، BPA-35، BF-6 اور APR-1 روانہ کیے گئے۔

    ریسکیو عملے کے مطابق جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت رمشا بی بی زوجہ محمد شریف، عمر 20 سال، ساکن ترنڈہ محمدپناہ کے نام سے ہوئی ہے، جنہیں حادثے کے باعث جسم کے مختلف حصوں پر شدید چوٹیں اور متعدد فریکچرز آئے جو جان لیوا ثابت ہوئے۔ متوفیہ کی ڈیڈ باڈی کو ضروری قانونی کارروائی کے بعد آر ایچ سی اوچ شریف منتقل کر دیا گیا۔

    حادثے میں محمد شریف ولد مظفر احمد، عمر 27 سال، معمولی زخمی ہوئے جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد آر ایچ سی اوچ شریف منتقل کیا گیا، جبکہ تین دیگر معمولی زخمی افراد ریسکیو ٹیم کے پہنچنے سے قبل ہی قریبی ہسپتال منتقل ہو چکے تھے۔

    حادثے کے باعث کچھ دیر کے لیے انڈس ہائی وے پر ٹریفک کی روانی متاثر رہی، جسے ریسکیو اور پولیس کی مدد سے بعد ازاں بحال کر دیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حادثہ تیز رفتاری اور لاپرواہی کے باعث پیش آیا، تاہم پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    علاقہ مکینوں اور عوامی حلقوں نے انڈس ہائی وے پر بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ رفتار کی نگرانی، ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔

  • اوچ شریف:خیر پور ڈاہا میں نشئی غنڈوں کی دہشت، پولیس خاموش تماشائی

    اوچ شریف:خیر پور ڈاہا میں نشئی غنڈوں کی دہشت، پولیس خاموش تماشائی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے خیر پور ڈاہا میں منشیات کے عادی اور چھرا بردار عناصر نے کھلی دہشت پھیلا رکھی ہے، جس کے باعث شہری شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ تھانہ دھوڑکوٹ سے چند فرلانگ کے فاصلے پر یہ نشئی عناصر دن دہاڑے ہاتھوں میں چھریاں لے کر گلی محلوں میں دندناتے پھر رہے ہیں، شہریوں کو سرِعام دھمکیاں دینا، گالم گلوچ اور معمولی بات پر حملہ آور ہونا روز کا معمول بن چکا ہے، جبکہ پولیس کی موجودگی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔

    علاقہ مکینوں کے مطابق منشیات کے عادی افراد کھلے عام نشہ آور اشیاء استعمال اور فروخت کر رہے ہیں، جس سے نئی نسل تیزی سے تباہی کی طرف جا رہی ہے۔ جو شہری ان کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اسے تشدد، چھرا گھونپنے اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ خوف کا یہ عالم ہے کہ والدین بچوں کو گھروں سے باہر بھیجنے سے گریزاں ہیں، جبکہ خواتین اور بزرگ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

    انتہائی تشویشناک امر یہ ہے کہ یہ تمام جرائم تھانہ دھوڑکوٹ کی حدود میں ہو رہے ہیں، مگر پولیس کی جانب سے نہ کوئی مؤثر چھاپہ مار کارروائی سامنے آئی ہے اور نہ ہی کسی بڑے ملزم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ سوال زور پکڑتا جا رہا ہے کہ آیا تھانہ دھوڑکوٹ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے یا کسی دباؤ اور مبینہ ملی بھگت کے تحت دانستہ چشم پوشی اختیار کی جا رہی ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد بار پولیس کو درخواستیں اور شکایات دی گئیں، تاہم ہر بار ٹال مٹول اور بے بسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ اہلِ علاقہ نے الزام عائد کیا ہے کہ نشئی اور جرائم پیشہ عناصر کو اندرونی سرپرستی حاصل ہے، جس کے باعث وہ قانون کو کھلے عام چیلنج کر رہے ہیں۔

    سماجی اور شہری حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور فیصلہ کن کارروائی نہ کی گئی تو خیر پور ڈاہا مکمل طور پر نشہ، جرائم اور غنڈہ گردی کا مرکز بن جائے گا۔ شہریوں نے ڈی پی او بہاولپور، آر پی او بہاولپور ریجن اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ تھانہ دھوڑکوٹ کے ایس ایچ او کی کارکردگی کا فوری جائزہ لیا جائے اور منشیات کے عادی، چھرا بردار اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

  • اوچ شریف: خیر پور ڈاھا میں آوارہ کتوں کا راج، شہری خوف کے مارے گھر میں محصور

    اوچ شریف: خیر پور ڈاھا میں آوارہ کتوں کا راج، شہری خوف کے مارے گھر میں محصور

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) نواحی علاقے خیر پور ڈاھا میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں کے لیے مہلک خطرہ بن گئی ہے۔ ہر صبح اور شام لوگ گھر سے نکلنے میں خوف محسوس کر رہے ہیں، جبکہ گزشتہ شام ایک پاگل کتے نے فہد نامی معصوم بچے کو شدید زخمی کر دیا، جس نے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر دی ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ رات کے وقت گلیوں میں نکلنا محال ہو چکا ہے اور بچے کھیلنے تک نہیں جا سکتے۔ مقامی لوگوں نے اس صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر فوری اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بڑے سانحے سے بچنا ممکن نہیں ہوگا۔

    علاقہ مکینوں نے اسسٹنٹ کمشنر احمد پور شرقیہ اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ آوارہ کتوں کو فوری طور پر تلف کیا جائے اور شہریوں کی جان و مال کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے بلدیہ اور متعلقہ محکموں کی غفلت اور نااہلی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے کوئی عملی کارروائی نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے صورتحال دن بہ دن خراب ہو رہی ہے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق محکمہ بلدیہ کی لاپرواہی اور انتظامیہ کی ناکامی کی وجہ سے آوارہ کتوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آئی اور شہری اپنے روزمرہ کے معمولات بھی خوف کے عالم میں انجام دے رہے ہیں۔ شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو بچوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔

  • احمد پور شرقیہ: ریسکیو 1122 کی جدید سہولیات اور آپریشنل سسٹمز کا جائزہ، حاجی عامر شہزاد کا دورہ

    احمد پور شرقیہ: ریسکیو 1122 کی جدید سہولیات اور آپریشنل سسٹمز کا جائزہ، حاجی عامر شہزاد کا دورہ

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان) احمد پور شرقیہ میں ریسکیو 1122 سروس کے تحت عوامی فلاح و بہبود کے شعبے میں اہم پیش رفت کے سلسلے میں اسلامیہ فاؤنڈیشن کے بانی اور معروف سماجی رہنما حاجی عامر شہزاد نے محکمہ ایمرجنسی سروسز کے دفتر کا دورہ کیا۔

    اس موقع پر ریسکیو افسران نے مہمانِ خصوصی کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں ادارے کی کارکردگی، سہولیات اور آپریشنل ڈھانچے سے متعلق جامع بریفنگ دی۔ ریسکیو اینڈ سیفٹی آفیسر محمد رفیق اور اسٹیشن کوآرڈینیٹر عابد رحیم نے حاجی عامر شہزاد کو فلڈ ریسکیو ایکوپمنٹ، آگ بجھانے والی جدید گاڑیوں، ایمبولینسز، میڈیکل ریسپانس یونٹس اور دیگر خصوصی وہیکلز کے استعمال اور اہمیت سے آگاہ کیا۔

    بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ محکمہ ریسکیو 1122 نہ صرف حادثات بلکہ قدرتی آفات، آگ بجھانے، سیلابی صورتحال اور میڈیکل ایمرجنسیز میں بھی دن رات خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ دورے کے دوران حاجی عامر شہزاد نے ریسکیو سروس کی پیشہ ورانہ اہلیت، تربیت یافتہ ٹیموں اور جدید مشینری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریسکیو 1122 عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ فلاحی ادارے اور عوام بھی ریسکیو کے ساتھ تعاون کو بہتر بنائیں تاکہ ہنگامی حالات میں بروقت اور مؤثر امداد ممکن ہو سکے۔ ریسکیو افسران نے بتایا کہ احمد پور شرقیہ میں ایمرجنسی رسپانس ٹائم مزید بہتر بنانے کے لیے اضافی وسائل اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے اور امید ظاہر کی کہ سماجی اداروں کی حمایت سے ریسکیو سروس مزید فعال اور جدید خطوط پر استوار ہوگی۔

    اس موقع پر ادارے کے مختلف شعبہ جات کا بھی دورہ کیا گیا، جہاں حاجی عامر شہزاد کو کنٹرول روم، ریسکیو اسٹیشن، ٹریننگ ہال اور فلیٹ اسٹور سمیت تمام اہم یونٹس کا معائنہ کروایا گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق، عوام میں آگاہی مہم اور حادثات سے بچاؤ کے پروگرام بھی جلد شروع کیے جائیں گے۔

    سماجی رہنماؤں کے اس طرح کے دوروں کو ریسکیو حکام نے خوش آئند قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے ادارے کی کارکردگی مزید نکھرے گی اور عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

  • احمدپور شرقیہ:پسند کی شادی کی خواہش پر لڑکی قتل

    احمدپور شرقیہ:پسند کی شادی کی خواہش پر لڑکی قتل

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)تحصیل احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقے موضع سکیل بستی مہر کالو سیال میں غیرت کے نام پر پیش آنے والا دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں پسند کی شادی کی خواہش پر ایک نوجوان لڑکی کو اس کے باپ اور بھائی نے بے رحمی سے قتل کر دیا۔ اس واقعے نے پورے علاقے کو غم اور صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق مقتولہ سلمہ بی بی کئی برسوں سے اپنی خالہ کے ساتھ احمد پور شرقیہ میں مقیم تھی اور ایک مقامی میڈیکل ادارے میں ملازمت کرتی تھی۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑکی اپنی پسند کے رشتے میں شادی کرنا چاہتی تھی، جس پر گھر والے سخت ناراض تھے۔

    چند روز قبل والد نے اسے یہ کہہ کر گھر بلوایا کہ اس کی مرضی کے مطابق شادی کر دی جائے گی۔ لڑکی خوشی خوشی گھر لوٹ آئی، مگر اس کے پیچھے ایک خوفناک منصوبہ چھپا تھا۔

    واقعے کی رات تقریباً 10 بجے والد مہر طالب اور بھائی نے اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں نیم مردہ حالت میں موٹر سائیکل پر ڈال کر کھیتوں کی طرف لے جایا گیا اور ویرانے میں پھینک دیا گیا۔

    اہل علاقہ کے مطابق مقتولہ پوری رات لاپتہ رہی۔ صبح ہونے پر تھانہ ڈیرہ نواب پولیس نے مقامی افراد کی مدد سے سرچ آپریشن کیا، جس کے دوران سرسوں کی فصل سے لڑکی کی لاش برآمد کر لی گئی۔ دل خراش منظر دیکھ کر پورا علاقہ سوگوار ہو گیا۔

    پولیس نے موقع سے شواہد اکٹھے کیے اور لاش کو ٹی ایچ کیو ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا، جہاں پوسٹ مارٹم جاری ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق لڑکی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

    پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور والد و بھائی کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے اس واردات کو غیرت کے نام پر قتل کی ایک اور دل خراش مثال قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے سخت قانون سازی اور مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق پسند کی شادی کا حق حاصل کرنے کی خواہش کوئی جرم نہیں، مگر معاشرتی جبر نے ایک اور معصوم جان لے لی۔

    ذرائع کے مطابق سلمہ بی بی کی شادی اور رخصتی ایک روز بعد ہونا طے تھی، مگر خاندانی ضد اور فرسودہ روایات نے اسے زندگی کی دہلیز تک پہنچنے سے پہلے ہی موت کے حوالے کر دیا۔

    پولیس حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • اوچ شریف:چنی گوٹھ پل کے قریب تین گاڑیوں کی ٹکر، دو زخمی

    اوچ شریف:چنی گوٹھ پل کے قریب تین گاڑیوں کی ٹکر، دو زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان): چنی گوٹھ پل کے مقام پرگذشتہ روز سہ پہر ایک ٹریفک حادثہ پیش آیا، جس میں دو افراد زخمی ہو گئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ، ایک ٹرالہ یوٹرن لے رہا تھا کہ پیچھے سے آنے والا منی مزدا اس سے ٹکرا گیا۔ اسی دوران منی مزدا کے عقب سے آنے والی موٹر سائیکل بھی حادثے کا شکار ہو گئی۔

    تین گاڑیوں کے اس ٹکراؤ کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہو گئے، جنہیں ریسکیو ذرائع نے موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ٹی ایچ کیو ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا۔

    زخمیوں کی تفصیل کے مطابق:اختر حسین ولد جند وڈا، عمر 38 سال، سکنہ مولا فرید آباد احمد پور ایسٹ، کے چہرے پر متعدد زخم آئے۔صفی اللہ ولد اللہ دتہ، عمر 29 سال، سکنہ خانبیلہ ضلع لیاقت پور، کے ماتھے پر چوٹیں آئی ہیں۔

    ریسکیو حکام نے بتایا کہ زخمیوں کی حالت مستحکم ہے اور انہیں ہسپتال میں مکمل طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے میں ٹریفک معمول کے مطابق بحال کر دی گئی ہے۔

  • اوچ شریف: گھریلو جھگڑا، خاتون نے مبینہ طور پر تیزاب پی لیا، حالت تشویشناک

    اوچ شریف: گھریلو جھگڑا، خاتون نے مبینہ طور پر تیزاب پی لیا، حالت تشویشناک

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان): اللہ ہو چوک ریلوے اسٹیشن کے قریب گھریلو جھگڑے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں شوہر سے تلخ کلامی کے بعد خاتون نے مبینہ طور پر واش کلینر یا تیزاب پی لیا۔

    واقعے کے فوری بعد خاتون کی حالت غیر ہو گئی اور وہ بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ مقامی افراد نے فوری طور پر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی۔

    ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچی اور متاثرہ خاتون 24 سالہ صغراں بی بی زوجہ اللہ دتہ کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد تشویشناک حالت میں ٹی ایچ کیو ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا۔ وہاں اس کا علاج جاری ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت نازک ہے۔

    حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ گھریلو جھگڑوں کے دوران فوری طور پر قانونی اور طبی مدد حاصل کی جائے تاکہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

  • اوچ شریف: کنٹریکٹر کی غفلت،سیوریج صفائی، 3 مزدور بے ہوش

    اوچ شریف: کنٹریکٹر کی غفلت،سیوریج صفائی، 3 مزدور بے ہوش

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان) جمال درویش روڈ پر سیوریج لائن کی صفائی کے دوران تین مزدور زہریلی گیس سے بے ہوش ہو گئے، جس سے نجی کنٹریکٹر کی غفلت سامنے آ گئی۔

    نجی کنٹریکٹر محمد اعجاز ولد واحد بخش، سکنہ پھلیلی، حسینی چوک اوچ شریف، سیوریج کے مین ہول کی صفائی کروا رہا تھا کہ دورانِ کام اندر جمع زہریلی گیس اور شدید تعفن کے باعث مزدور یکے بعد دیگرے بے ہوش ہو گئے۔ بیہوش ہونے والوں میں جعفر ولد نذیر احمد، سکنہ بریرا، حسینی چوک اوچ شریف، سید زوار حسین ولد سید ناظم حسین، سکنہ حسینی چوک اوچ شریف اور ایک اور مزدور شامل تھے، جو اپنے ساتھیوں کی مدد کرتے ہوئے خود بھی بے ہوش ہوگیا۔

    واقعہ کی اطلاع ملتے ہی علاقہ مکینوں نے فوری طور پر ریسکیو 1122 کو طلب کیا، جنہوں نے موقع پر پہنچ کر تینوں مزدوروں کو باہر نکالا اور ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہوئے انہیں آر ایچ سی اوچ شریف منتقل کیا۔ طبی عملے کے مطابق تینوں افراد کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔

    علاقہ عوام نے سیوریج صفائی کے دوران حفاظتی سامان کے نہ ہونے اور انتظامیہ کی عدم توجہ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بغیر حفاظتی ماسک، آکسیجن سپورٹ اور سیکیورٹی انتظامات کے مزدوروں کو مین ہول میں اتارنا انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

    اس افسوسناک واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر APE نے نجی کنٹریکٹر سمیت ذمہ دار افراد کے خلاف واقعہ کی مکمل انکوائری کا حکم دے دیا۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ اداروں کو مزدوروں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین نافذ کرنے چاہئیں تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

  • ہیڈ پنجند: موسمِ سرما میں مچھلی پوائنٹ کی بدانتظامی شہریوں کے لیے پریشانی کا سبب

    ہیڈ پنجند: موسمِ سرما میں مچھلی پوائنٹ کی بدانتظامی شہریوں کے لیے پریشانی کا سبب

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف میں موسمِ سرما کی ٹھنڈی ہواؤں اور بادلوں سے بھرے آسمان نے شہر کا موسم دلکش ضرور بنا دیا، تاہم ہیڈ پنجند مچھلی پوائنٹ پر موجود بدانتظامی نے شہریوں کی سیر و تفریح کے تمام رنگ پھیکے کر دیے۔

    ہفتہ وار تعطیلات اور خوبصورت موسم کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد اہلِ خانہ کے ہمراہ ہیڈ پنجند پہنچی، جہاں انہوں نے روایتی گرم تلی ہوئی مچھلی سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کی، مگر مچھلی پوائنٹ کی ابتر صورتحال نے ان کی خوشی کو شدید مایوسی میں بدل دیا۔

    شہریوں کے مطابق مچھلی پوائنٹ پر صفائی ستھرائی کا کوئی معقول انتظام موجود نہیں تھا۔ کئی جگہوں پر کوڑے کے ڈھیر پڑے، مچھلی صاف کرنے کے مقامات پر بدبو اور آلائشیں جمع تھیں، جبکہ نہروں کے کنارے گندگی پھیلی ہوئی تھی۔ کھانے کے لیے لگائے گئے اسٹالز کے اردگرد مکھیوں کی بھرمار اور گندا ماحول فوڈ اتھارٹی کے دعوؤں کے برعکس کھلی غفلت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

    ٹوٹی ہوئی میزیں، غیر معیاری برتن، کھلے آسمان تلے تیار کی جانے والی مچھلی، اور صفائی کے فقدان نے شہریوں کو سخت برہم کر دیا۔ شہریوں نے فوڈ اتھارٹی اور مقامی انتظامیہ کے خلاف شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ محکمے صرف نمائشی کارروائیوں میں مصروف ہیں، جبکہ عملی طور پر عوام کو صحت مند ماحول فراہم کرنے میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں۔

    شہریوں کا کہنا تھا کہ موسمِ سرما میں ہیڈ پنجند شہریوں اور سیاحوں کا پسندیدہ تفریحی مقام بن جاتا ہے، اس کے باوجود یہاں صفائی کا موثر نظام نہ ہونا انتظامیہ کی نااہلی کا کھلا اعتراف ہے۔

    شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مچھلی پوائنٹ کے تمام اسٹالز کی سخت چیکنگ کی جائے، صفائی کے ناقص انتظامات کرنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور فوڈ اتھارٹی کو پابند بنایا جائے کہ وہ مستقل بنیادوں پر نگرانی کا نظام قائم کرے۔

    شہریوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال پر فوری توجہ نہ دی گئی تو گندگی، آلودہ کھانے اور غیر صحت بخش ماحول کے باعث بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔