Baaghi TV

Category: بہاولپور

  • احمد پور شرقیہ: 120 کنال زمین قبضہ مافیا سے واگزار

    احمد پور شرقیہ: 120 کنال زمین قبضہ مافیا سے واگزار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)موضع کوئلہ باقر شاہ، تحصیل احمد پور شرقیہ میں سابق فوڈ انسپکٹر سید عطر حسین شاہ کی 120 کنال قیمتی اراضی برسوں سے غیر قانونی قبضہ مافیا کے قبضے میں تھی، جسے ضلعی انتظامیہ، محکمہ ریونیو اور پولیس کی مشترکہ کارروائی کے ذریعے مکمل طور پر واگزار کرا لیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق یہ اراضی طویل عرصے سے مختلف حربوں سے قبضہ مافیا کے زیر قبضہ تھی اور کئی بار قانونی کارروائی کے باوجود بااثر عناصر زمین چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ نے وارنٹ قبضہ پر سخت عمل درآمد کرتے ہوئے قبضہ ختم کرایا اور زمین اصل مالک کے حوالے کر دی۔

    کارروائی کے دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے بڑی تعداد میں موجود تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ قبضہ مافیا نے ابتدائی مرحلے میں کارروائی روکنے کی کئی کوششیں کیں، لیکن انتظامیہ کی سنجیدہ اور بروقت کارروائی نے تمام رکاوٹیں دور کر دیں۔

    سابق فوڈ انسپکٹر سید عطر حسین شاہ نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت اور انتظامیہ بروقت مداخلت نہ کرتی تو قبضہ مافیا مزید مضبوط ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی ثابت کرتی ہے کہ پنجاب حکومت شہریوں کے ملکیتی حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے اور کسی بھی بااثر گروہ کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔

    عوامی حلقوں نے بھی اس کارروائی کو خوش آئند قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ تحصیل احمد پور شرقیہ سمیت پورے ضلع میں قبضہ مافیا کے خلاف مستقل بنیادوں پر سخت آپریشن جاری رکھا جائے تاکہ مزید شہری برسوں پرانے تنازعات سے نجات حاصل کر سکیں۔

    ضلعی انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا کہ یہ کامیاب کارروائی شہریوں کے ملکیتی حقوق کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قبضہ مافیا، چاہے بااثر کیوں نہ ہو، کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور مستقبل میں بھی ایسی کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھی جائیں گی۔

    اس کامیاب آپریشن کے بعد مقامی سطح پر عوامی حلقوں میں اطمینان اور حکومت کے اقدامات کی تعریف کی جا رہی ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی مزید علاقوں میں قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ ضلع بھر میں غیر قانونی قبضہ مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔

  • اوچ شریف: پھیری والوں کے لاؤڈ اسپیکر، شہری پریشان، قانون بھی بہرہ

    اوچ شریف: پھیری والوں کے لاؤڈ اسپیکر، شہری پریشان، قانون بھی بہرہ

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف اور گردونواح میں لاوڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی شہریوں کے لیے شدید اذیت کا سبب بن گئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت کے قوانین صرف مساجد تک محدود ہیں، جہاں اذان کے علاوہ مختصر استعمال پر علما کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کر دی جاتی ہے، لیکن شہر بھر میں سبزی فروش، فروٹ فروش، رکشہ ڈرائیور، کباڑیے اور ریڑھی بان اپنی مرضی سے بلند آواز میں اسپیکر استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔

    شہریوں نے بتایا کہ گلیوں، بازاروں اور رہائشی علاقوں میں مسلسل شور کے باعث نہ تو اذان کا احترام ہوتا ہے اور نہ ہی بزرگ، مریض اور طلبہ سکون سے رہ سکتے ہیں۔ متعلقہ محکمے بھی اس صورتحال پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، گویا یہ ان کی ذمہ داری نہیں۔

    اہلیانِ علاقہ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی لاوڈ اسپیکر استعمال کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے تاکہ شہر میں شور اور بے ہنگم صورتحال ختم کی جا سکے اور شہری سکون حاصل کر سکیں۔

  • اوچ شریف:پنجاب پولیس میں اعلیٰ سطحی تبادلے، احمدپورشرقیہ اور جتوئی کے ایس ڈی پی اوز کی تعیناتیاں

    اوچ شریف:پنجاب پولیس میں اعلیٰ سطحی تبادلے، احمدپورشرقیہ اور جتوئی کے ایس ڈی پی اوز کی تعیناتیاں

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگارحبیب خان) پنجاب حکومت نے محکمہ پولیس میں اعلیٰ سطح پر تبادلوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے متعدد ایس ڈی پی اوز کے تبادلے کر دیے ہیں۔ اس ضمن میں تحصیل احمد پور شرقیہ سرکل کے ایس ڈی پی او محمود اکبر کو ضلع مظفرگڑھ کے شہر جتوئی تعینات کیا گیا ہے جبکہ جتوئی میں خدمات سر انجام دینے والے ایس ڈی پی او جاوید اختر کو تحصیل احمد پور شرقیہ سرکل میں نئے ایس ڈی پی او کے طور پر پوسٹنگ دے دی گئی ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق یہ تبادلے محکمہ کی کارکردگی بہتر بنانے اور انتظامی امور میں بہتری لانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ نئے ایس ڈی پی اوز جلد ہی اپنے عہدوں کا چارج سنبھالیں گے اور متعلقہ افسران کے مطابق عوام کو بہتر سروس فراہم کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔

  • اوچ شریف : سرکاری سکولوں میں تعمیراتی فنڈز میں مبینہ کرپشن کے انکشافات

    اوچ شریف : سرکاری سکولوں میں تعمیراتی فنڈز میں مبینہ کرپشن کے انکشافات

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) تحصیل احمد پور شرقیہ، بالخصوص اوچ شریف کے سرکاری سکولوں میں ’’مسنگ فیسلیٹیز‘‘ اور ’’سیکیورٹی پروٹوکول‘‘ کے تحت تعمیراتی کاموں کے لیے جاری فنڈز میں مبینہ طور پر سنگین بے ضابطگیوں اور کرپشن کے انکشافات نے شہریوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے حفاظتی دیواروں، ٹوائلٹس، پینے کے صاف پانی، کلاس روم مرمت اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھاری رقوم جاری کی گئیں تھیں، مگر یہ فنڈز بھی مبینہ طور پر این ایس بی کی طرح بدعنوانی کی نذر ہونے لگے۔

    ذرائع کے مطابق متعدد سرکاری سکولوں کے ہیڈز نے ذاتی کمیشن حاصل کرنے کے لیے سرکاری کنٹرول ریٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خودساختہ مہنگے نرخوں پر غیر معیاری سیمنٹ، بجری، ریت اور دیگر تعمیراتی سامان کی خریداری شروع کر رکھی ہے۔ کئی اسکولوں میں تعمیراتی کام انتہائی ناقص، عارضی اور محض کاغذی کارروائی تک محدود بتایا جا رہا ہے، جبکہ بعض اسکولوں میں فنڈز کے ہونے کے باوجود کوئی نمایاں تعمیراتی سرگرمی دکھائی ہی نہیں دیتی۔

    شہریوں نے شکوہ کیا کہ اتنے بھاری بجٹ کے باوجود اسکولوں کی حالت نہ سدھرنا خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سکول ہیڈز نے ٹھیکیداروں اور کمیشن مافیا کے ساتھ مل کر کم معیار کا سامان مہنگے داموں ظاہر کرکے فنڈز ہڑپنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ کئی مواقع پر تعمیراتی میٹریل کھلی مارکیٹ کے کم ترین معیار سے بھی نیچے پایا گیا، جس سے حکومتی اصلاحاتی منصوبوں کے متاثر ہونے کا شدید خدشہ ہے۔

    بعض سکول انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ تمام خریداری تحصیل انتظامیہ کی ہدایات اور بجٹ کے مطابق کی جا رہی ہے، اور کرپشن کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ تاہم زمینی حقائق ان دعوؤں کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس پر عوامی و سماجی حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    عوام نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکرٹری سکول ایجوکیشن اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل بھر کے تمام سکولوں کا شفاف آڈٹ اور انکوائری کرائی جائے، سرکاری کنٹرول ریٹ کے مطابق خریداری کو لازمی قرار دیا جائے، جبکہ کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شہریوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری ایکشن نہ لیا گیا تو مسنگ فیسلیٹیز کے منصوبے مکمل طور پر کرپشن کی بھینٹ چڑھ جائیں گے اور بچوں کا تعلیمی مستقبل شدید خطرے سے دوچار ہو جائے گا۔

  • اوچ شریف و نواحی علاقوں میں ٹریفک قوانین کے خلاف ورزیوں پر سخت کریک ڈاؤن

    اوچ شریف و نواحی علاقوں میں ٹریفک قوانین کے خلاف ورزیوں پر سخت کریک ڈاؤن

    اوچ شریف (باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان) پنجاب موٹر وہیکل آرڈیننس میں نئی ترمیم کے بعد تحصیل احمد پور شرقیہ، اوچ شریف، دھوڑکوٹ اور گردونواح میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف پنجاب پولیس اور ٹریفک پولیس نے بھرپور کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ بغیر ہیلمٹ سفر، کم عمر ڈرائیونگ، بغیر لائسنس گاڑی چلانا اور ون وے کی خلاف ورزی جیسے جرائم پر پولیس نے مکمل زیرو ٹالرنس پالیسی اپنا لی ہے۔

    کریک ڈاؤن کے دوران درجنوں موٹر سائیکلیں مختلف تھانوں میں بند کر دی گئی ہیں جبکہ متعدد شہریوں کو بھاری جرمانے بھی کیے گئے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قانون توڑنے والوں کے لیے نہ کوئی سفارش قبول کی جائے گی، نہ نرمی، اور نہ ہی کسی قسم کی رعایت دی جائے گی۔ قوانین کی مؤثر عملداری کے لیے کارروائیاں روزانہ کی بنیاد پر جاری رہیں گی۔

    دوسری جانب شہریوں نے لائسنس کے اجراء میں تاخیر اور سرکاری لائسنس سینٹرز میں مسلسل ’’لنک ڈاؤن‘‘ پر شدید احتجاج کیا ہے۔ شہریوں کے مطابق لائسنس مراکز میں لمبی قطاریں معمول بن چکی ہیں، عوام گھنٹوں خوار ہوتے ہیں، اور وقت پر لائسنس نہ بننے کی وجہ سے پولیس کی کارروائیوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ ’’ایک طرف پولیس سختی کر رہی ہے، دوسری طرف حکومت کے لائسنس سینٹرز کی خراب کارکردگی نے عوامی مشکلات کو دوگنا کر دیا ہے۔‘‘

    عوامی حلقوں نے حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ لائسنسنگ سسٹم کو فوری طور پر فعال کیا جائے، لنک ڈاؤن مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے اور عوام کو عملی ریلیف فراہم کیا جائے، ورنہ یہ صورتحال مزید عوامی غم و غصے کو جنم دے سکتی ہے۔

  • اوچ شریف: پیف سکولوں کی خستہ حالی، تعلیمی نظام سنگین بحران سے دوچار

    اوچ شریف: پیف سکولوں کی خستہ حالی، تعلیمی نظام سنگین بحران سے دوچار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان)اوچ شریف اور گردونواح کے پیف اسکولوں کی ابتر حالت نے سرکاری تعلیمی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ بیشتر اسکول آج بھی کرائے کی خستہ اور بوسیدہ عمارتوں میں قائم ہیں جہاں نہ بنیادی سہولیات موجود ہیں اور نہ ہی بچوں کی جانوں کا تحفظ ممکن ہے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق اوچ شریف، ناصر ٹاؤن، جامڑاہ، حلیم پور، قادر آباد، بیٹ احمد، بیٹ بختیاری، چناب اور رسول پور سمیت متعدد علاقوں میں چلنے والے پیف اسکولوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ کئی عمارتیں بارش میں ٹپکنے والی چھتوں، ٹوٹی ہوئی دیواروں اور غیر محفوظ کمروں پر مشتمل ہیں جہاں درجنوں بچے قطاروں کی شکل میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

    والدین کا کہنا ہے کہ بجلی کا نظام ناکارہ ہے، پینے کا صاف پانی میسر نہیں، ٹوائلٹ کی سہولت موجود نہیں جبکہ بچوں کے بیٹھنے کے لیے مناسب فرنیچر بھی فراہم نہیں کیا جاتا۔ پسماندہ بستیوں کے اسکولوں کی حالت سب سے زیادہ بدتر بتائی جاتی ہے۔

    گزشتہ برس ناصر ٹاؤن میں اسکول کی دیوار گرنے سے ایک طالبہ جاں بحق ہوئی تھی جبکہ جامڑاہ میں شارٹ سرکٹ کے باعث دو افراد کی ہلاکت نے پیف اسکولوں کے انتظامی نقائص کی سنگینی کو واضح کیا تھا۔ مقامی افراد کے مطابق ان سانحات کے باوجود متعلقہ محکموں نے کوئی مؤثر اصلاحاتی اقدامات نہیں کیے۔

    مزید یہ کہ شہریوں نے غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری پرائیویٹ اسکولوں کی بھرمار پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ والدین کے مطابق نصاب اور یونیفارم کی قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہیں، اور غیر منظور شدہ کتابیں بھی کھلے عام پڑھائی جا رہی ہیں، جس سے تعلیمی معیار مزید متاثر ہو رہا ہے۔

    عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ پیف اسکولوں کی عمارتوں کا ہنگامی بنیادوں پر سروے کیا جائے، خطرناک عمارتوں کو فوری تبدیل کیا جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مزید برآں غیر قانونی اسکولوں کو بند کر کے تعلیمی نظام کو فائلوں تک محدود رکھنے کے بجائے زمینی سطح پر ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

    شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بھی وقت بڑا سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔

  • اوچ شریف: نجی بینک اے ٹی ایم اور بائیو میٹرک نظام ٹھپ، صارفین شدید پریشان

    اوچ شریف: نجی بینک اے ٹی ایم اور بائیو میٹرک نظام ٹھپ، صارفین شدید پریشان

    اوچ شریف (باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان) گزشتہ کئی دنوں سے اوچ شریف میں نجی بینکوں کے اے ٹی ایم مشینیں اور بائیو میٹرک تصدیقی نظام کارکردگی سے محروم ہیں، جس کے باعث صارفین کو رقم نکلوانے اور ٹرانزیکشن کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔

    شہریوں نے بتایا کہ مختلف بینکوں کی برانچوں میں نصب بائیو میٹرک ڈیوائسز خراب ہیں اور اے ٹی ایم مشینیں اکثر “ناکارہ” نظر آتی ہیں۔ نتیجتاً، بینکنگ کے بنیادی اقدامات رقم نکالنا، پنشن یا سوشل بینیفٹ وصول کرنا اور دیگر اہم مالی ٹرانزیکشنز شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

    کئی صارفین کا کہنا ہے کہ موجودہ بینکنگ نظام کی یہ خرابی ان کے روزمرہ کے مالی معاملات پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔ خاص طور پر اُن افراد کے لیے مسئلہ سنگین ہے جو پنشن یا سوشل بینیفٹ بائیو میٹرک کے ذریعے وصول کرتے ہیں کیونکہ بائیو تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے رقم حاصل کرنا ممکن نہیں۔

    عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بینک حکام فوری طور پر اے ٹی ایم اور بائیو میٹرک نظام کی مرمت کریں تاکہ صارفین کو آسانی سے خدمات مل سکیں اور انہیں بار بار بینکوں کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ انہیں بینکوں سے توقع ہے کہ وہ جدید بینکنگ سروسز فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے بنیادی نظام کی فعال کارکردگی کو بھی یقینی بنائیں۔

  • اوچ شریف:ہیلمٹ لازمی قرار، مارکیٹ میں مصنوعی قلت ،شہری پریشان

    اوچ شریف:ہیلمٹ لازمی قرار، مارکیٹ میں مصنوعی قلت ،شہری پریشان

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)پنجاب حکومت کی جانب سے موٹر سائیکل ڈرائیونگ لائسنس اور ہیلمٹ کے لازمی استعمال کا قانون عملی طور پر نافذ ہوتے ہی اوچ شریف میں ہیلمٹ کی خریداری میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہری قانون کے مطابق ہیلمٹ خریدنے بازاروں کا رُخ کر رہے ہیں، مگر دکان داروں نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قیمتوں میں بے انتہا اضافہ کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق عام معیار کے ہیلمٹ، جو چند روز قبل 800 سے 1000 روپے میں دستیاب تھے، اب 3500 سے 4000 روپے میں بلیک پر فروخت ہو رہے ہیں۔ متعدد دکانداروں نے نہ صرف قیمتیں بڑھا دی ہیں بلکہ اسٹاک بھی چھپا دیا ہے، جس سے مصنوعی قلت پیدا ہو کر شہری شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ”قانون نافذ ہونا اچھی بات ہے لیکن عوام کی جیبیں خالی کر کے نہیں۔”
    انہوں نے ضلعی انتظامیہ، اسسٹنٹ کمشنر اور پرائس کنٹرول کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ ناجائز منافع خوروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، جرمانے کیے جائیں اور دکانیں سیل کی جائیں تاکہ عام آدمی بھی مقررہ قیمت پر ہیلمٹ خرید سکے۔

    عوامی حلقوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ قانون پر سختی سے عمل کرانے کے ساتھ ساتھ ریلیف اقدامات بھی کیے جائیں، ورنہ بلیک مارکیٹ اور بے تحاشہ مہنگائی شہریوں کے لیے مزید مسائل پیدا کر دے گی۔

  • اوچ شریف: شہر تجاوزات کے شکنجے میں، میونسپل کمیٹی کی مبینہ چشم پوشی،شہری سراپا احتجاج

    اوچ شریف: شہر تجاوزات کے شکنجے میں، میونسپل کمیٹی کی مبینہ چشم پوشی،شہری سراپا احتجاج

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف شہر مکمل طور پر تجاوزات کی لپیٹ میں آ چکا ہے جبکہ میونسپل کمیٹی مبینہ طور پر مسلسل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ احمد پور شرقیہ روڈ، خیرپور ڈاہا روڈ سمیت مرکزی شاہراہیں سریا، بجری، تعمیراتی سامان اور غیر قانونی اسٹالز سے بھر گئی ہیں، جس کے باعث ٹریفک نظام شدید درہم برہم ہو چکا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ چیف آفیسر میونسپل کمیٹی اور فیلڈ اسٹاف تجاوزات کے خلاف کارروائی کے بجائے بھتہ مافیا کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر ’’نذرانے‘‘ وصول کیے جاتے ہیں جبکہ صرف کاغذی کارروائی دکھا کر عوام کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔

    مین شاہراہوں پر قائم نجی اسپتالوں، کلینکس، اسکولز اور دکانداروں کی خودساختہ پارکنگز نے اندرونِ شہر ٹریفک کو مکمل جام کر رکھا ہے۔ ہاتھی گیٹ بازار، موبائل مارکیٹ، سبزی و فروٹ منڈی اور مرکزی چوک تجاوزات کے نرغے میں آ کر گزرگاہوں کو تنگ ترین بنا چکے ہیں، جبکہ غیر قانونی رکشہ اسٹینڈز اور ریڑھی بانوں نے سڑکوں کو یرغمال بنا دیا ہے۔

    علاقہ مکینوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر انتظامیہ نے مزید چشم پوشی کی تو شہر کی سڑکیں مکمل طور پر بند ہو جائیں گی اور کاروبار بری طرح متاثر ہوگا۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے ڈی سی بہاولپور سے فوری اور سخت آپریشن کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب بیانات نہیں، عملی اقدام ضروری ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ اگر صورتحال جوں کی توں رہی تو شہری وسیع پیمانے پر احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے۔

  • اوچ شریف: مسجد کے واش روم میں خاتون نے بچے کو جنم دے دیا، ریسکیو کی بروقت کارروائی

    اوچ شریف: مسجد کے واش روم میں خاتون نے بچے کو جنم دے دیا، ریسکیو کی بروقت کارروائی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان)چاہا بستی چوک میں حیرت انگیز اور غیر معمولی واقعہ پیش آیا جہاں ایک حاملہ خاتون نے جامعہ مسجد کے واش روم میں اچانک بچے کو جنم دے دیا۔ واقعہ کے وقت خاتون نیم بے ہوش تھی جس پر مسجد انتظامیہ اور اہل علاقہ نے فوری طور پر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی۔

    ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچی تو خاتون کی حالت نازک تھی۔ ریسکیو اہلکاروں نے مکمل راز داری اور احتیاط کے ساتھ زچہ و بچہ کو فوری طبی امداد فراہم کی۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد دونوں کو تشویشناک حالت میں ٹی ایچ کیو ہسپتال احمدپور شرقیہ منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

    علاقہ مکینوں نے ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائی اور انسانی ہمدردی پر مبنی خدمات کو بھرپور سراہتے ہوئے کہا کہ ریسکیو ٹیم نے ذمہ داری اور پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت دیا ہے۔