Baaghi TV

Category: بہاولپور

  • اوچ شریف: پرنس بہاول عبّاس عبّاسی کا دورہ، عوامی پذیرائی اور تعزیتی ملاقاتیں

    اوچ شریف: پرنس بہاول عبّاس عبّاسی کا دورہ، عوامی پذیرائی اور تعزیتی ملاقاتیں

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان)ولی عہد امیر بہاولپور پرنس بہاول عبّاس عبّاسی نے اوچ شریف اور گردونواح کا دورہ کیا، جہاں عوام نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔ پرنس بہاول عبّاس خان عبّاسی نے موضع کوٹ خلیفہ اور دیگر مقامات پر پہنچ کر مختلف شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور تعزیتی دورے بھی کیے۔ انہوں نے ملک عظیم بخش کھنڈ اور سردار اللہ ڈتہ بھٹہ مرحوم کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور مرحومین کے لیے فاتحہ خوانی کی۔

    دورے کے دوران شہریوں نے پھول نچھاور کر کے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ معروف سیاسی و سماجی رہنما ملک محمد وسیم کھنڈ کی قیادت میں علاقہ عمائدین کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے پرنس بہاول عبّاس کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر سردار محمد یحییٰ خان کلاچی، سمیع اللہ عبّاسی، ملک خادم حسین، غلام فرید، امیر بخش، عبدالرشید، اجمل شاہ گیلانی، ساجد حسین، محمد عثمان، صابر حسین، ندیم کھنڈ، محمد یار بھٹہ، محمد اسلم بھٹہ و دیگر معززین بھی شریک تھے۔

    علاقائی سطح پر اس دورے کو عوامی پذیرائی اور سیاسی رابطوں کے حوالے سے خاص اہمیت دی جا رہی ہے، جو پرنس بہاول عبّاس عبّاسی کی عوامی مقبولیت اور اثرورسوخ کا مظہر ہے۔

  • اوچ شریف کی اُمِ ایمن کا تاریخی کارنامہ، نیشنل آرٹ مقابلے میں پہلی پوزیشن اپنے نام کرلی

    اوچ شریف کی اُمِ ایمن کا تاریخی کارنامہ، نیشنل آرٹ مقابلے میں پہلی پوزیشن اپنے نام کرلی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان): اوچ شریف کی ایک ہونہار اور باصلاحیت بیٹی، امِ ایمن بنت مہر غلام ربانی کاٹھیہ نے اپنی غیر معمولی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (NUML) ملتان کیمپس کے زیرِ اہتمام منعقدہ انٹر کالجز آرٹ کمپیٹیشن میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ اس شاندار کامیابی نے نہ صرف ان کے خاندان اور آبائی شہر اوچ شریف بلکہ پورے جنوبی پنجاب کے لیے باعث فخر لمحہ پیدا کر دیا ہے۔

    15 اپریل 2025 کو منعقد ہونے والے اس قومی سطح کے باوقار مقابلے میں ملک بھر کے نامور تعلیمی اداروں کے ذہین طلبہ و طالبات نے حصہ لیا۔ سخت مقابلے اور ججز کے لیے مشکل ترین فیصلہ کن لمحات کے باوجود امِ ایمن کا تخلیقی فن پارہ، رنگوں کے ذریعے اپنی کہانی بیان کرنے کا بے مثال ہنر اور دیکھنے والوں کے دلوں کو چھو لینے والی فنکارانہ مہارت سب پر غالب آ گئی۔ ان کی اس شاندار اور منفرد کارکردگی پر NUML ملتان کیمپس کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر (ر) اسد رضا نے انہیں خصوصی "سرٹیفیکیٹ آف اپریسی ایشن” پیش کیا اور ان کی بے پناہ قابلیت اور انتھک محنت کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کیا۔

    امِ ایمن جو اس وقت KIPS کالج میں زیرِ تعلیم ہیں، بچپن ہی سے فنونِ لطیفہ میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔ ان کی یہ شاندار کامیابی نہ صرف تعلیمی میدان میں اوچ شریف کے ٹیلنٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ شہر کے نوجوانوں اور بالخصوص طالبات کے لیے ایک روشن مثال اور فخرکا باعث بنی ہے۔

    اوچ شریف کے شہریوں، اساتذہ کرام اور مختلف سماجی حلقوں نے امِ ایمن کی اس غیر معمولی کامیابی پر دلی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مستقبل کا ایک درخشاں ستارہ قرار دیا ہے۔ ان کے والد مہر غلام ربانی کاٹھیہ نے اپنی پیاری بیٹی کی اس شاندار فتح کو اللہ تعالیٰ کا خاص کرم اور اساتذہ کی دعاؤں کا ثمر قرار دیا۔

    یہ شاندار کامیابی اس پختہ یقین کی عکاسی کرتی ہے کہ اگر دل میں سچا جذبہ، انتھک محنت اور بلند حوصلہ ہو تو چھوٹے شہروں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی بڑے سے بڑے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔ امِ ایمن کی یہ کامیابی جنوبی پنجاب کے دیگر باصلاحیت نوجوانوں کے لیے ایک مشعل راہ ثابت ہو گی۔

  • جنوبی پنجاب میں ہیٹ ویو الرٹ جاری، ہنگامی اقدامات کا حکم

    جنوبی پنجاب میں ہیٹ ویو الرٹ جاری، ہنگامی اقدامات کا حکم

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان) جنوبی پنجاب میں متوقع شدید گرمی کی لہر اور درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے پیشِ نظر محکمہ صحت و آبادی جنوبی پنجاب نے ایک ہیٹ ویو الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اس الرٹ کا مقصد خطے کے عوام کو ممکنہ طور پر ہونے والے ہیٹ سٹروک اور گرمی سے پیدا ہونے والی دیگر بیماریوں سے محفوظ رکھنا ہے۔

    محکمہ صحت و آبادی جنوبی پنجاب کے سپیشل سیکریٹری محمد شہباز حسین کی جانب سے جنوبی پنجاب کے تمام ڈویژنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی ہیلتھ اتھارٹیز کو ایک باضابطہ مراسلہ بھیجا گیا ہے۔ اس مراسلے میں موجودہ موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔

    ہیٹ سٹروک کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے اور مختلف اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز جنوبی پنجاب کو فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔ فوکل پرسن تمام متعلقہ محکموں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں گے اور گرمی سے بچاؤ کے لیے ضروری گائیڈ لائنز کی فراہمی کے عمل کو تیز کریں گے۔

    محکمہ صحت و آبادی کی طرف سے جاری کردہ تفصیلی ہدایات میں جنوبی پنجاب کے تمام ضلعی ہیلتھ اتھارٹیز کو خصوصی طور پر متحرک کیا گیا ہے۔ ان اضلاع میں ملتان، خانیوال، وہاڑی، لودھراں، بہاولنگر، رحیم یار خان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، مظفرگڑھ، لیہ اور راجن پور شامل ہیں۔ ان تمام اضلاع کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں۔ ان اقدامات میں مندرجہ ذیل چیزیں شامل ہیں:

    سرکاری اسپتالوں میں ہیٹ سٹروک یونٹس کا قیام: تمام سرکاری اسپتالوں میں ہیٹ سٹروک سے متاثرہ افراد کے علاج کے لیے خصوصی یونٹس قائم کیے جائیں گے۔ ان یونٹس میں ضروری طبی سہولیات اور عملہ موجود ہوگا۔عوامی مقامات پر ٹھنڈے اور صاف پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ شہری خود کو ہائیڈریٹ رکھ سکیں۔
    عوامی آگاہی مہمات: گرمی کے اثرات، ہیٹ سٹروک کی علامات اور اس سے بچاؤ کے طریقوں کے بارے میں عوام میں وسیع پیمانے پر آگاہی مہم چلائی جائے گی۔ اس میں مختلف ذرائع ابلاغ کا استعمال کیا جائے گا۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری طبی امداد کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔ ایمبولینس سروسز اور طبی عملے کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں محکمہ صحت و آبادی جنوبی پنجاب نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی تیار کی ہے تاکہ گرمی کی شدید لہر کے باعث ہونے والے ممکنہ جانی نقصانات سے بچا جا سکے۔

    محکمہ صحت و آبادی جنوبی پنجاب نے عام شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ گرمی کی شدت کو کم کرنے اور خود کو محفوظ رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔ ان احتیاطی تدابیر میں شامل ہیں

    شدید دھوپ میں غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں۔
    اگر باہر نکلنا ضروری ہو تو سر کو ڈھانپیں اور ہلکے رنگ کے ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنیں۔
    باقاعدگی سے پانی اور دیگر مائعات کا استعمال کریں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔
    گرمی کی علامات محسوس ہونے پر فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں۔

    محکمہ صحت و آبادی جنوبی پنجاب اس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور عوام کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

  • ایران میں شہید ہونے والے مزدوروں کے اہلِ خانہ سے محمد علی درانی کی ملاقات اور تعزیت

    ایران میں شہید ہونے والے مزدوروں کے اہلِ خانہ سے محمد علی درانی کی ملاقات اور تعزیت

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)سابق وفاقی وزیر اور سینیٹر محمد علی درانی نے ایران میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے مزدوروں کے لواحقین سے ملاقات کی اور ان کے غم میں شریک ہو کر متاثرہ خاندانوں کو دلی تسلی دی۔ شہداء کا تعلق احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقوں محراب والا، چکی موڑ، بستی حاجی ربنواز آرائیں اور خانقاہ شریف کی مختلف بستیوں سے تھا۔

    محمد علی درانی نے متاثرہ خاندانوں کے گھروں میں جا کر فرداً فرداً تعزیت کی، خواتین کے سروں پر چادریں رکھیں اور ان کے صبر و حوصلے کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جانے والے یہ محنت کش صرف روزگار کی تلاش میں تھے اور اُن کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ شہداء کے ہر لواحق کی کفالت کے لیے فوری طور پر ایک کروڑ روپے فی کس معاوضہ ادا کیا جائے۔

    سابق وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ وہ خود ایرانی سفارتخانے اور قونصل خانے سے رابطہ کر کے اس واقعے پر بات کریں گے تاکہ ایران کی حکومت بھی متاثرہ خاندانوں کے لیے ہمدردانہ اور عملی اقدام کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں دہشت گردی ایک سنگین ناسور بن چکی ہے، جس کا خاتمہ صرف قومی یکجہتی، سنجیدہ سیاسی مکالمے اور ریاستی اداروں کی مکمل ہم آہنگی سے ہی ممکن ہے۔

    محمد علی درانی کا کہنا تھا کہ پاک فوج اور حکومت دہشت گردی کے خلاف دن رات برسرِپیکار ہیں، لیکن اس مسئلے کا پائیدار حل قومی اتفاقِ رائے کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ ان شہداء کو نہ صرف یاد رکھے بلکہ ان کے پسماندگان کے ساتھ کھڑی ہو کر انسانیت کا عملی مظاہرہ کرے۔

  • اوچ شریف: تیز رفتار کاروں نے نوجوان کوکچل ڈالا، غفلت سے گندم کا کھیت خاکستر

    اوچ شریف: تیز رفتار کاروں نے نوجوان کوکچل ڈالا، غفلت سے گندم کا کھیت خاکستر

    اوچ شریف (نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف اور اس کے گرد و نواح میں آج دو افسوسناک واقعات پیش آئے، جس سے علاقے میں غم و اندوہ کی فضا چھا گئی۔ ایک طرف تیز رفتار کاروں کی ریس نے ایک نوجوان کی قیمتی جان لے لی تو دوسری جانب غفلت کے باعث گندم کا ایک بڑا کھیت آتشزدگی کا شکار ہو گیا۔

    پہلا دلخراش واقعہ اوچ شریف میں پیش آیا جہاں ریش لگاتی دو تیز رفتار کاروں کی زد میں آ کر اوچ موغلہ کا رہائشی نوجوان محمد ذیشان جاں بحق ہو گیا۔ متوفی جو مرکزی الشمس چوک میں واقع مغل موبائل شاپ پر ملازمت کرتا تھا، شام کے وقت ڈیوٹی سے فارغ ہو کر پیدل اپنے گھر جا رہا تھا کہ اچانک دو بے قابو کاریں اس سے ٹکرا گئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دونوں کاریں آپس میں ریس لگا رہی تھیں اور ان کی رفتار اس قدر زیادہ تھی کہ محمد ذیشان کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ مل سکا اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور پولیس فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں لیکن تب تک محمد ذیشان کی زندگی کی ڈور ٹوٹ چکی تھی۔ موقع پر موجود ہر شخص غمزدہ تھا اور پورے علاقے میں سوگ کی فضا تھی۔ مرحوم کی نماز جنازہ اوچ موغلہ کے استانہ کافی والا گراؤنڈ میں ادا کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں اہل علاقہ، عزیز و اقارب اور سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور گاڑیوں کا سراغ لگانے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہیں۔

    اسی دوران اوچ شریف کے نواحی علاقے اڈا سلطان واہ، اوچ شریف روڈ پر ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک گندم کے کھیت میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ تیز ہواؤں کے باعث آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری کھڑی فصل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ریسکیو 1122 بہاولپور کنٹرول روم کو اطلاع ملتے ہی ایک فائر وہیکل اور ایمبولینس فوری طور پر روانہ کی گئیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مقامی افراد نے گندم کی کٹائی کے بعد کھیت میں بچ جانے والی فصل کی باقیات کو آگ لگا دی تھی۔ تیز ہوا کے باعث شعلے بے قابو ہو کر قریبی کھڑی فصل تک پہنچ گئے، جس سے صورتحال خطرناک ہو گئی۔ تاہم ریسکیو ٹیم نے بروقت پہنچ کر پیشہ ورانہ مہارت سے آگ پر قابو پا لیا اور اسے مزید پھیلنے سے روک دیا۔ ریسکیو حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ فصل کی باقیات کو آگ لگانے جیسی غیر ذمہ دارانہ حرکت سے پرہیز کریں، جو نہ صرف خطرناک بلکہ قانوناً بھی جرم ہے۔ ان دو المناک واقعات نے اوچ شریف کے علاقے میں گہرے غم اور افسوس کی لہر دوڑا دی ہے۔

  • ایران میں بہاولپور کے 8 محنت کشوں کا سفاکانہ قتل عام، گھروں میں صف ماتم

    ایران میں بہاولپور کے 8 محنت کشوں کا سفاکانہ قتل عام، گھروں میں صف ماتم

    اوچ شریف،باغی ٹی وی (نامہ نگارحبیب خان) ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں ایک ہولناک واقعے نے انسانیت کو شرما سار کر دیا، جہاں ضلع بہاولپور اور احمد پور شرقیہ سے تعلق رکھنے والے آٹھ غریب محنت کشوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ یہ دلخراش سانحہ ایرانی شہر مہرستان کے نواحی گاؤں "ہیزآباد پایین” میں پیش آیا، جو پاک ایران سرحد سے تقریباً 100 کلومیٹر دور واقع ہے۔

    موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ تمام مزدور ایک چھوٹی سی آٹو ورکشاپ پر اپنی روزی روٹی کے لیے کام کر رہے تھے، جب سفاک حملہ آوروں نے ان پر اچانک دھاوا بول دیا۔ نہتے اور بے گناہ مزدوروں کو پہلے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انتہائی قریب سے گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

    اس سفاکانہ حملے میں شہید ہونے والے بدقسمت افراد کی شناخت درج ذیل ہے:

    1. دلشاد ولد جندوڈا قوم سیال، گلی نمبر 8، خانقاہ شریف، سمہ سٹہ
    2. دانش ولد دلشاد قوم سیال، خانقاہ شریف، سمہ سٹہ
    3. جعفر ولد محمد رمضان قوم سیال، خانقاہ شریف، سمہ سٹہ
    4. ناصر ولد محمد قوم کھیڑا، موضع رنگ پور
    5. نعیم ولد غلام فرید قوم ساندھی، محلہ سردار آباد، خانقاہ شریف
    6. عامر ولد محمد لیاقت قوم ساندھی، محلہ سردار آباد، خانقاہ شریف
    7. محمد خالد قوم بھٹی، سکنہ مہراب والا، احمد پور شرقیہ
    8. محمد جمشید ولد محمد صادق قوم آرائیں، چکی موڑ، احمد پور شرقیہ

    اس المناک خبر کے بہاولپور، سمہ سٹہ، خانقاہ شریف اور احمد پور شرقیہ پہنچتے ہی ہر طرف کہرام مچ گیا۔ شہداء کے گھروں میں قیامت کا منظر ہے، جہاں بوڑھے والدین، بے سہارا بیوائیں اور معصوم یتیم بچوں کی دلدوز سسکیاں فضا کو سوگوار بنا رہی ہیں۔ غم سے نڈھال رشتہ داروں نے اپنی فریاد میں کہا، "ہمارے جگر گوشے دو وقت کی روٹی کمانے پردیس گئے تھے، مگر اب ان کی بے جان لاشیں واپس آ رہی ہیں. آخر ان کا کیا قصور تھا؟”

    غم و اندوہ کی اس گھڑی میں مقامی تاجروں نے از خود اپنے کاروبار بند کر دیے ہیں اور مساجد میں شہداء کی روح کے ایصال ثواب کے لیے خصوصی دعاؤں اور قرآن خوانی کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ سیاسی، سماجی اور مذہبی رہنماؤں نے اس وحشیانہ واقعے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ایرانی حکام سے رابطہ کر کے ان سفاک قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

    اہل علاقہ اور سوگوار خاندانوں نے حکومت پاکستان اور وزارت خارجہ سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شہداء کے جسد خاکی جلد از جلد وطن واپس لائے جا سکیں اور انہیں انصاف مل سکے۔ اس المناک سانحے نے پورے علاقے کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔

    بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق ایران کے سیستان بلوچستان کے ضلع مہرستان میں آٹھ پاکستانی شہریوں کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری کا دعویٰ ایک غیر معروف تنظیم کالعدم بی این اے یعنی بلوچ نیشنلسٹ آرمی کی جانب سے کیا گیا ہے۔

    سرکاری سطح پر اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کے حوالے سے دعوے کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی ہے تاہم ایران کے کسی علاقے سے پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے حوالے اس تنظیم کی ذمہ داری قبول کرنے کا غالباً یہ پہلا واقعہ ہے۔

    تاہم بلوچستان میں ماضی میں اس تنظیم کی جانب سے بعض واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے کے حوالے سے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تنظیم کے نام سے آخری مرتبہ تشدد کے کسی بڑے واقعے کے حوالے سے ذمہ داری قبول کرنے کا جو دعویٰ سامنے آیا تھا وہ پاکستان کے شہر لاہور کے گنجان آباد اور مصروف انارکلی بازار میں جنوری 2022 میں دھماکے کا تھا جس میں تین افراد ہلاک اور 26 زخمی ہوئے تھے۔

  • اوچ شریف: کوٹلہ موسیٰ خان میں حادثہ، نوجوان جاں بحق، خاتون زخمی

    اوچ شریف: کوٹلہ موسیٰ خان میں حادثہ، نوجوان جاں بحق، خاتون زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے رسول واہ کوٹلہ موسیٰ خان روڈ پر ایک افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا، جس میں تیز رفتار شہزور ڈالے کی موٹر سائیکل کو ٹکر لگنے سے ایک نوجوان موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ اس کے ہمراہ سوار 70 سالہ معمر خاتون شدید زخمی ہو گئیں۔

    تفصیلات کے مطابق 35 سالہ سعید احمد ولد عطا محمد جو کہ موضع پالو لی تحصیل احمدپور کا رہائشی تھا اپنی موٹر سائیکل پر لنک روڈ سے مین روڈ کی طرف جا رہا تھا۔ اس دوران اچانک سامنے سے آنے والے ایک تیز رفتار شہزور ڈالے نے اس کی موٹر سائیکل کو زوردار ٹکر مار دی۔ حادثے کے نتیجے میں سعید احمد کو سر پر شدید چوٹیں آئیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    موٹر سائیکل پر سعید احمد کے ساتھ اس کی 70 والدہ سالہ گامن مائی زوجہ عطا محمد بھی سوار تھیں جو اس حادثے میں شدید زخمی ہو گئیں۔ ریسکیو 1122 کی ٹیم نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور بعد ازاں ٹی ایچ کیو ہسپتال احمدپور منتقل کر دیا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق خاتون کی ٹانگ میں فریکچر ہوا ہے تاہم ان کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔

    ریسکیو ذرائع نے ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے بتایا کہ یہ حادثہ تیز رفتاری اور غفلت کے باعث پیش آیا۔ جاں بحق نوجوان سعید احمد کی لاش ضروری قانونی کارروائی کے بعد ان کے لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہے۔ اس المناک واقعے سے علاقے میں سوگ کی فضا ہے۔

  • اوچ شریف: سول سوسائٹی کا اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ

    اوچ شریف: سول سوسائٹی کا اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف سول سوسائٹی کے صدر عمر خورشید سہمن نے مقامی مارکیٹ میں جنرل اسٹورز پر اسرائیلی مصنوعات کی موجودگی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور ان مصنوعات کے فوری بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جو مصنوعات اسرائیل میں تیار ہوتی ہیں یا اسرائیلی کمپنیوں سے منسلک ہیں، ان کی خرید و فروخت دراصل فلسطینی مسلمانوں کے قاتلوں اور ظالموں کی مالی مدد کے مترادف ہے۔ انہوں نے اسٹور مالکان کو سختی سے خبردار کیا کہ وہ اپنی دکانوں سے اسرائیلی مصنوعات یا ان کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے برانڈز فوری طور پر ہٹا دیں۔

    عمر خورشید سہمن نے کہا کہ فلسطین میں معصوم بچوں، عورتوں اور بزرگوں پر بم برسائے جا رہے ہیں، ان کے گھروں کو ملبے کا ڈھیر بنایا جا رہا ہے اور ایسے حالات میں اگر ہم اسرائیلی مصنوعات خریدتے ہیں تو یہ نہ صرف ہمارے ایمان اور ضمیر کے خلاف ہے بلکہ انسانیت کے بھی خلاف ہے۔

    انہوں نے کہا کہ صرف سوشل میڈیا پر فلسطین کے حق میں نعرے لگانے یا پوسٹس کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، اصل جدوجہد اور حقیقی حمایت تب ہی ممکن ہے جب ہم عملی طور پر اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں اور اپنی روزمرہ زندگی میں مقامی یا مسلم ممالک کی مصنوعات کو ترجیح دیں۔

    عمر خورشید سہمن نے تاجر برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی اخلاقی اور انسانی ذمہ داری کو سمجھیں اور اسرائیلی مصنوعات کی فروخت بند کرکے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا عملی مظاہرہ کریں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے گھروں، دفاتر اور کاروبار میں ایسی مصنوعات کے استعمال سے مکمل گریز کریں تاکہ دشمن کی معیشت کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

  • اوچ شریف: فلسطین کے لیے عظیم ریلی، اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج

    اوچ شریف: فلسطین کے لیے عظیم ریلی، اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج

    اوچ شریف،باغی ٹی وی ( نامہ نگار حبیب خان): اوچ شریف میں ممتاز روحانی پیشوا پیر سید محمد شاہ جرار کی قیادت میں فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک عظیم الشان اور پُرامن احتجاجی ریلی منعقد ہوئی۔ یہ ریلی جامعہ قاسمیہ بھٹہ ککس سے شروع ہوئی اور شہر کے مرکزی مقام الشمس چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی میں علمائے کرام، وکلا، صحافیوں، تاجروں، طلبہ اور عام شہریوں سمیت ہزاروں افراد نے پرجوش شرکت کی۔

    شرکاء میں مولانا اسداللہ مدنی، مولانا جلیل احمد عباسی، مفتی شبیر الحق، مولانا شاکر قاسمی، مولانا راشد فاروقی، مولانا اعجاز الحق، مولانا عبداللہ مستوئی، قاری سعد مدنی، میاں محمد عامر صدیقی (صدر پریس کلب اوچ شریف)، خواجہ سہیل عباس، عمر خورشید سہمن، شفیق شہزاد، عادل بخاری، راؤ فاروق، قاضی عمران بھٹہ اور دیگر معروف شخصیات شامل تھیں۔ شرکاء نے ہاتھوں میں فلسطین کے پرچم، بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر فلسطینیوں کی آزادی کے حق میں اور اسرائیلی مظالم کے خلاف نعرے درج تھے۔ ریلی کے دوران فلک شگاف نعروں سے فضا گونج اٹھی۔

    احتجاج کے دوران شرکاء نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور علامتی طور پر اسرائیلی پرچم نذرِ آتش کیا۔ اس کے ساتھ ہی فلسطین کی جلد آزادی اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ ریلی کا ماحول مکمل طور پر پرامن اور منظم رہا، جبکہ شرکاء کا جذبہ قابلِ دید تھا۔

    الشمس چوک پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے علمائے کرام نے کہا کہ "فلسطین کا مسئلہ عالمِ اسلام کا مشترکہ درد ہے اور اس کا پُرامن حل عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔” انہوں نے امریکہ اور برطانیہ سمیت عالمی طاقتوں پر کڑی تنقید کی اور الزام لگایا کہ یہ ممالک اسرائیلی ظلم و ستم کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "فلسطینی عوام نے آزادی کی خاطر لازوال قربانیاں دی ہیں اور ان کا حوصلہ آج بھی ناقابلِ شکست ہے۔”

    اوچ شریف سول سوسائٹی کے صدر عمر خورشید سہمن نے خطاب میں کہا کہ "اسرائیل نے معاہدوں کی پامالی اور بدعہدی کی تاریخی روایت کو برقرار رکھا ہے۔” انہوں نے 57 اسلامی ممالک کے سربراہان سے اپیل کی کہ وہ خاموش تماشائی نہ بنیں، بلکہ اتحاد اور عملی اقدامات کے ذریعے فلسطینیوں کی حمایت کریں تاکہ اسرائیل کو مظلوم فلسطینی سرزمین سے بے دخل کیا جا سکے۔

    ریلی کے اختتام پر شرکاء نے عزم کیا کہ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ ہر ممکن یکجہتی جاری رکھیں گے۔ یہ اجتماع نہ صرف ایک احتجاج بلکہ فلسطین کے حق میں اوچ شریف کے عوام کے غیر متزلزل عزم کا واضح ثبوت تھا۔

  • اوچ شریف: خوشیوں کی برسات، 50 یتیم بچیوں کی شادیوں پر دعائیں اور تحسین

    اوچ شریف: خوشیوں کی برسات، 50 یتیم بچیوں کی شادیوں پر دعائیں اور تحسین

    اوچ شریف (نامہ نگار،حبیب خان) اوچ شریف نے انسانیت کی ایک شاندار مثال پیش کرتے ہوئے اس وقت سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی جب مقامی سول سوسائٹی نے بیک وقت 50 یتیم اور غریب بچیوں کی اجتماعی شادیوں کا کامیاب انعقاد کیا۔ اس قابل تحسین اقدام پر اوچ شریف پریس کلب کے صدر میاں محمد عامر صدیقی اور دیگر عہدیداران نے سول سوسائٹی کے صدر عمر خورشید سہمن اور ان کی ٹیم کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

    اوچ شریف سول سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقدہ اس اجتماعی شادیوں کی تقریب میں علاقے کی مختلف فلاحی تنظیموں اور مخیر حضرات نے دل کھول کر حصہ لیا۔ اس انسانیت دوست اقدام کا بنیادی مقصد معاشرے کے ان پسے ہوئے طبقات کی مدد کرنا تھا جو معاشی مشکلات کے باعث اپنی بیٹیوں کے فرض سے سبکدوش ہونے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔

    اوچ شریف پریس کلب کے صدر میاں محمد عامر صدیقی نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک "بے مثال اور انتہائی نیک عمل” ہے جس نے نہ صرف ان 50 بچیوں کی زندگیوں میں خوشیاں بھر دیں بلکہ پورے معاشرے کو خدمت انسانیت کا ایک مثبت پیغام بھی دیا۔ انہوں نے عمر خورشید سہمن اور ان کی ٹیم کی انتھک محنت اور جذبے کو سراہتے ہوئے اسے "واقعی قابل ستائش” قرار دیا۔

    پریس کلب کے جنرل سیکرٹری حبیب اللہ خان نے اس کامیاب پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات معاشرے میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے ہیں اور باہمی تعاون کے ذریعے معاشرتی ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دیتے ہیں۔ چیئرمین خواجہ غلام شبیر نے ان اجتماعی شادیوں کو ایک "روشن مثال” قرار دیا کہ اگر سب مل کر کام کریں تو بڑے سے بڑے معاشرتی مسائل بھی حل کیے جا سکتے ہیں۔ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین محمد ساجد خان نے اس اقدام کو اوچ شریف کے عوام کے لیے ایک "نیا شعور” قرار دیتے ہوئے ایسی فلاحی سرگرمیوں کو معاشرتی مسائل کے حل کی جانب ایک "اہم قدم” قرار دیا۔

    اوچ شریف سول سوسائٹی کے صدر عمر خورشید سہمن نے پریس کلب کے عہدیداران کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ان کا مقصد صرف شادیوں کا اہتمام کرنا نہیں تھا بلکہ ان بچیوں کو عزت و وقار کے ساتھ ایک نئی زندگی شروع کرنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے اس کامیاب پروگرام کی تکمیل پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور بتایا کہ اس میں شادی کے تمام ضروری سامان، لباس اور دیگر تقریبات کا مکمل انتظام کیا گیا تھا، جس سے نہ صرف بچیوں بلکہ ان کے خاندانوں کو بھی اطمینان نصیب ہوا۔

    مقامی کمیونٹی نے اس شاندار اقدام پر عمر خورشید سہمن اور ان کی ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اوچ شریف کی سول سوسائٹی کی یہ فلاحی سرگرمیاں نہ صرف ان بچیوں کی زندگی میں خوشیاں لانے کا ذریعہ بنیں بلکہ پورے علاقے میں خدمت انسانیت کا ایک نیا معیار بھی قائم کر گئیں۔ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ اگر معاشرے کا ہر فرد دوسروں کی مدد کے لیے آگے بڑھے تو کسی بھی مشکل کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔