Baaghi TV

Category: بہاولپور

  • اوچ شریف:چنی گوٹھ پل کے قریب تین گاڑیوں کی ٹکر، دو زخمی

    اوچ شریف:چنی گوٹھ پل کے قریب تین گاڑیوں کی ٹکر، دو زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان): چنی گوٹھ پل کے مقام پرگذشتہ روز سہ پہر ایک ٹریفک حادثہ پیش آیا، جس میں دو افراد زخمی ہو گئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ، ایک ٹرالہ یوٹرن لے رہا تھا کہ پیچھے سے آنے والا منی مزدا اس سے ٹکرا گیا۔ اسی دوران منی مزدا کے عقب سے آنے والی موٹر سائیکل بھی حادثے کا شکار ہو گئی۔

    تین گاڑیوں کے اس ٹکراؤ کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہو گئے، جنہیں ریسکیو ذرائع نے موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ٹی ایچ کیو ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا۔

    زخمیوں کی تفصیل کے مطابق:اختر حسین ولد جند وڈا، عمر 38 سال، سکنہ مولا فرید آباد احمد پور ایسٹ، کے چہرے پر متعدد زخم آئے۔صفی اللہ ولد اللہ دتہ، عمر 29 سال، سکنہ خانبیلہ ضلع لیاقت پور، کے ماتھے پر چوٹیں آئی ہیں۔

    ریسکیو حکام نے بتایا کہ زخمیوں کی حالت مستحکم ہے اور انہیں ہسپتال میں مکمل طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے میں ٹریفک معمول کے مطابق بحال کر دی گئی ہے۔

  • اوچ شریف: گھریلو جھگڑا، خاتون نے مبینہ طور پر تیزاب پی لیا، حالت تشویشناک

    اوچ شریف: گھریلو جھگڑا، خاتون نے مبینہ طور پر تیزاب پی لیا، حالت تشویشناک

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان): اللہ ہو چوک ریلوے اسٹیشن کے قریب گھریلو جھگڑے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں شوہر سے تلخ کلامی کے بعد خاتون نے مبینہ طور پر واش کلینر یا تیزاب پی لیا۔

    واقعے کے فوری بعد خاتون کی حالت غیر ہو گئی اور وہ بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ مقامی افراد نے فوری طور پر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی۔

    ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچی اور متاثرہ خاتون 24 سالہ صغراں بی بی زوجہ اللہ دتہ کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد تشویشناک حالت میں ٹی ایچ کیو ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا۔ وہاں اس کا علاج جاری ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت نازک ہے۔

    حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ گھریلو جھگڑوں کے دوران فوری طور پر قانونی اور طبی مدد حاصل کی جائے تاکہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔

  • اوچ شریف: کنٹریکٹر کی غفلت،سیوریج صفائی، 3 مزدور بے ہوش

    اوچ شریف: کنٹریکٹر کی غفلت،سیوریج صفائی، 3 مزدور بے ہوش

    اوچ شریف (باغی ٹی وی نامہ نگار حبیب خان) جمال درویش روڈ پر سیوریج لائن کی صفائی کے دوران تین مزدور زہریلی گیس سے بے ہوش ہو گئے، جس سے نجی کنٹریکٹر کی غفلت سامنے آ گئی۔

    نجی کنٹریکٹر محمد اعجاز ولد واحد بخش، سکنہ پھلیلی، حسینی چوک اوچ شریف، سیوریج کے مین ہول کی صفائی کروا رہا تھا کہ دورانِ کام اندر جمع زہریلی گیس اور شدید تعفن کے باعث مزدور یکے بعد دیگرے بے ہوش ہو گئے۔ بیہوش ہونے والوں میں جعفر ولد نذیر احمد، سکنہ بریرا، حسینی چوک اوچ شریف، سید زوار حسین ولد سید ناظم حسین، سکنہ حسینی چوک اوچ شریف اور ایک اور مزدور شامل تھے، جو اپنے ساتھیوں کی مدد کرتے ہوئے خود بھی بے ہوش ہوگیا۔

    واقعہ کی اطلاع ملتے ہی علاقہ مکینوں نے فوری طور پر ریسکیو 1122 کو طلب کیا، جنہوں نے موقع پر پہنچ کر تینوں مزدوروں کو باہر نکالا اور ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہوئے انہیں آر ایچ سی اوچ شریف منتقل کیا۔ طبی عملے کے مطابق تینوں افراد کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔

    علاقہ عوام نے سیوریج صفائی کے دوران حفاظتی سامان کے نہ ہونے اور انتظامیہ کی عدم توجہ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بغیر حفاظتی ماسک، آکسیجن سپورٹ اور سیکیورٹی انتظامات کے مزدوروں کو مین ہول میں اتارنا انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

    اس افسوسناک واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر APE نے نجی کنٹریکٹر سمیت ذمہ دار افراد کے خلاف واقعہ کی مکمل انکوائری کا حکم دے دیا۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ اداروں کو مزدوروں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین نافذ کرنے چاہئیں تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

  • ہیڈ پنجند: موسمِ سرما میں مچھلی پوائنٹ کی بدانتظامی شہریوں کے لیے پریشانی کا سبب

    ہیڈ پنجند: موسمِ سرما میں مچھلی پوائنٹ کی بدانتظامی شہریوں کے لیے پریشانی کا سبب

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف میں موسمِ سرما کی ٹھنڈی ہواؤں اور بادلوں سے بھرے آسمان نے شہر کا موسم دلکش ضرور بنا دیا، تاہم ہیڈ پنجند مچھلی پوائنٹ پر موجود بدانتظامی نے شہریوں کی سیر و تفریح کے تمام رنگ پھیکے کر دیے۔

    ہفتہ وار تعطیلات اور خوبصورت موسم کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد اہلِ خانہ کے ہمراہ ہیڈ پنجند پہنچی، جہاں انہوں نے روایتی گرم تلی ہوئی مچھلی سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کی، مگر مچھلی پوائنٹ کی ابتر صورتحال نے ان کی خوشی کو شدید مایوسی میں بدل دیا۔

    شہریوں کے مطابق مچھلی پوائنٹ پر صفائی ستھرائی کا کوئی معقول انتظام موجود نہیں تھا۔ کئی جگہوں پر کوڑے کے ڈھیر پڑے، مچھلی صاف کرنے کے مقامات پر بدبو اور آلائشیں جمع تھیں، جبکہ نہروں کے کنارے گندگی پھیلی ہوئی تھی۔ کھانے کے لیے لگائے گئے اسٹالز کے اردگرد مکھیوں کی بھرمار اور گندا ماحول فوڈ اتھارٹی کے دعوؤں کے برعکس کھلی غفلت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

    ٹوٹی ہوئی میزیں، غیر معیاری برتن، کھلے آسمان تلے تیار کی جانے والی مچھلی، اور صفائی کے فقدان نے شہریوں کو سخت برہم کر دیا۔ شہریوں نے فوڈ اتھارٹی اور مقامی انتظامیہ کے خلاف شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ محکمے صرف نمائشی کارروائیوں میں مصروف ہیں، جبکہ عملی طور پر عوام کو صحت مند ماحول فراہم کرنے میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں۔

    شہریوں کا کہنا تھا کہ موسمِ سرما میں ہیڈ پنجند شہریوں اور سیاحوں کا پسندیدہ تفریحی مقام بن جاتا ہے، اس کے باوجود یہاں صفائی کا موثر نظام نہ ہونا انتظامیہ کی نااہلی کا کھلا اعتراف ہے۔

    شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مچھلی پوائنٹ کے تمام اسٹالز کی سخت چیکنگ کی جائے، صفائی کے ناقص انتظامات کرنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور فوڈ اتھارٹی کو پابند بنایا جائے کہ وہ مستقل بنیادوں پر نگرانی کا نظام قائم کرے۔

    شہریوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال پر فوری توجہ نہ دی گئی تو گندگی، آلودہ کھانے اور غیر صحت بخش ماحول کے باعث بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔

  • احمد پور شرقیہ: 120 کنال زمین قبضہ مافیا سے واگزار

    احمد پور شرقیہ: 120 کنال زمین قبضہ مافیا سے واگزار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)موضع کوئلہ باقر شاہ، تحصیل احمد پور شرقیہ میں سابق فوڈ انسپکٹر سید عطر حسین شاہ کی 120 کنال قیمتی اراضی برسوں سے غیر قانونی قبضہ مافیا کے قبضے میں تھی، جسے ضلعی انتظامیہ، محکمہ ریونیو اور پولیس کی مشترکہ کارروائی کے ذریعے مکمل طور پر واگزار کرا لیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق یہ اراضی طویل عرصے سے مختلف حربوں سے قبضہ مافیا کے زیر قبضہ تھی اور کئی بار قانونی کارروائی کے باوجود بااثر عناصر زمین چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ نے وارنٹ قبضہ پر سخت عمل درآمد کرتے ہوئے قبضہ ختم کرایا اور زمین اصل مالک کے حوالے کر دی۔

    کارروائی کے دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے بڑی تعداد میں موجود تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ قبضہ مافیا نے ابتدائی مرحلے میں کارروائی روکنے کی کئی کوششیں کیں، لیکن انتظامیہ کی سنجیدہ اور بروقت کارروائی نے تمام رکاوٹیں دور کر دیں۔

    سابق فوڈ انسپکٹر سید عطر حسین شاہ نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت اور انتظامیہ بروقت مداخلت نہ کرتی تو قبضہ مافیا مزید مضبوط ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی ثابت کرتی ہے کہ پنجاب حکومت شہریوں کے ملکیتی حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے اور کسی بھی بااثر گروہ کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔

    عوامی حلقوں نے بھی اس کارروائی کو خوش آئند قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ تحصیل احمد پور شرقیہ سمیت پورے ضلع میں قبضہ مافیا کے خلاف مستقل بنیادوں پر سخت آپریشن جاری رکھا جائے تاکہ مزید شہری برسوں پرانے تنازعات سے نجات حاصل کر سکیں۔

    ضلعی انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا کہ یہ کامیاب کارروائی شہریوں کے ملکیتی حقوق کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قبضہ مافیا، چاہے بااثر کیوں نہ ہو، کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور مستقبل میں بھی ایسی کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھی جائیں گی۔

    اس کامیاب آپریشن کے بعد مقامی سطح پر عوامی حلقوں میں اطمینان اور حکومت کے اقدامات کی تعریف کی جا رہی ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی مزید علاقوں میں قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ ضلع بھر میں غیر قانونی قبضہ مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔

  • اوچ شریف: پھیری والوں کے لاؤڈ اسپیکر، شہری پریشان، قانون بھی بہرہ

    اوچ شریف: پھیری والوں کے لاؤڈ اسپیکر، شہری پریشان، قانون بھی بہرہ

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف اور گردونواح میں لاوڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی شہریوں کے لیے شدید اذیت کا سبب بن گئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت کے قوانین صرف مساجد تک محدود ہیں، جہاں اذان کے علاوہ مختصر استعمال پر علما کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کر دی جاتی ہے، لیکن شہر بھر میں سبزی فروش، فروٹ فروش، رکشہ ڈرائیور، کباڑیے اور ریڑھی بان اپنی مرضی سے بلند آواز میں اسپیکر استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔

    شہریوں نے بتایا کہ گلیوں، بازاروں اور رہائشی علاقوں میں مسلسل شور کے باعث نہ تو اذان کا احترام ہوتا ہے اور نہ ہی بزرگ، مریض اور طلبہ سکون سے رہ سکتے ہیں۔ متعلقہ محکمے بھی اس صورتحال پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، گویا یہ ان کی ذمہ داری نہیں۔

    اہلیانِ علاقہ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی لاوڈ اسپیکر استعمال کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے تاکہ شہر میں شور اور بے ہنگم صورتحال ختم کی جا سکے اور شہری سکون حاصل کر سکیں۔

  • اوچ شریف:پنجاب پولیس میں اعلیٰ سطحی تبادلے، احمدپورشرقیہ اور جتوئی کے ایس ڈی پی اوز کی تعیناتیاں

    اوچ شریف:پنجاب پولیس میں اعلیٰ سطحی تبادلے، احمدپورشرقیہ اور جتوئی کے ایس ڈی پی اوز کی تعیناتیاں

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگارحبیب خان) پنجاب حکومت نے محکمہ پولیس میں اعلیٰ سطح پر تبادلوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے متعدد ایس ڈی پی اوز کے تبادلے کر دیے ہیں۔ اس ضمن میں تحصیل احمد پور شرقیہ سرکل کے ایس ڈی پی او محمود اکبر کو ضلع مظفرگڑھ کے شہر جتوئی تعینات کیا گیا ہے جبکہ جتوئی میں خدمات سر انجام دینے والے ایس ڈی پی او جاوید اختر کو تحصیل احمد پور شرقیہ سرکل میں نئے ایس ڈی پی او کے طور پر پوسٹنگ دے دی گئی ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق یہ تبادلے محکمہ کی کارکردگی بہتر بنانے اور انتظامی امور میں بہتری لانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ نئے ایس ڈی پی اوز جلد ہی اپنے عہدوں کا چارج سنبھالیں گے اور متعلقہ افسران کے مطابق عوام کو بہتر سروس فراہم کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔

  • اوچ شریف : سرکاری سکولوں میں تعمیراتی فنڈز میں مبینہ کرپشن کے انکشافات

    اوچ شریف : سرکاری سکولوں میں تعمیراتی فنڈز میں مبینہ کرپشن کے انکشافات

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) تحصیل احمد پور شرقیہ، بالخصوص اوچ شریف کے سرکاری سکولوں میں ’’مسنگ فیسلیٹیز‘‘ اور ’’سیکیورٹی پروٹوکول‘‘ کے تحت تعمیراتی کاموں کے لیے جاری فنڈز میں مبینہ طور پر سنگین بے ضابطگیوں اور کرپشن کے انکشافات نے شہریوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے حفاظتی دیواروں، ٹوائلٹس، پینے کے صاف پانی، کلاس روم مرمت اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھاری رقوم جاری کی گئیں تھیں، مگر یہ فنڈز بھی مبینہ طور پر این ایس بی کی طرح بدعنوانی کی نذر ہونے لگے۔

    ذرائع کے مطابق متعدد سرکاری سکولوں کے ہیڈز نے ذاتی کمیشن حاصل کرنے کے لیے سرکاری کنٹرول ریٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خودساختہ مہنگے نرخوں پر غیر معیاری سیمنٹ، بجری، ریت اور دیگر تعمیراتی سامان کی خریداری شروع کر رکھی ہے۔ کئی اسکولوں میں تعمیراتی کام انتہائی ناقص، عارضی اور محض کاغذی کارروائی تک محدود بتایا جا رہا ہے، جبکہ بعض اسکولوں میں فنڈز کے ہونے کے باوجود کوئی نمایاں تعمیراتی سرگرمی دکھائی ہی نہیں دیتی۔

    شہریوں نے شکوہ کیا کہ اتنے بھاری بجٹ کے باوجود اسکولوں کی حالت نہ سدھرنا خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سکول ہیڈز نے ٹھیکیداروں اور کمیشن مافیا کے ساتھ مل کر کم معیار کا سامان مہنگے داموں ظاہر کرکے فنڈز ہڑپنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ کئی مواقع پر تعمیراتی میٹریل کھلی مارکیٹ کے کم ترین معیار سے بھی نیچے پایا گیا، جس سے حکومتی اصلاحاتی منصوبوں کے متاثر ہونے کا شدید خدشہ ہے۔

    بعض سکول انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ تمام خریداری تحصیل انتظامیہ کی ہدایات اور بجٹ کے مطابق کی جا رہی ہے، اور کرپشن کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ تاہم زمینی حقائق ان دعوؤں کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس پر عوامی و سماجی حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    عوام نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکرٹری سکول ایجوکیشن اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل بھر کے تمام سکولوں کا شفاف آڈٹ اور انکوائری کرائی جائے، سرکاری کنٹرول ریٹ کے مطابق خریداری کو لازمی قرار دیا جائے، جبکہ کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شہریوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری ایکشن نہ لیا گیا تو مسنگ فیسلیٹیز کے منصوبے مکمل طور پر کرپشن کی بھینٹ چڑھ جائیں گے اور بچوں کا تعلیمی مستقبل شدید خطرے سے دوچار ہو جائے گا۔

  • اوچ شریف و نواحی علاقوں میں ٹریفک قوانین کے خلاف ورزیوں پر سخت کریک ڈاؤن

    اوچ شریف و نواحی علاقوں میں ٹریفک قوانین کے خلاف ورزیوں پر سخت کریک ڈاؤن

    اوچ شریف (باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان) پنجاب موٹر وہیکل آرڈیننس میں نئی ترمیم کے بعد تحصیل احمد پور شرقیہ، اوچ شریف، دھوڑکوٹ اور گردونواح میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف پنجاب پولیس اور ٹریفک پولیس نے بھرپور کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ بغیر ہیلمٹ سفر، کم عمر ڈرائیونگ، بغیر لائسنس گاڑی چلانا اور ون وے کی خلاف ورزی جیسے جرائم پر پولیس نے مکمل زیرو ٹالرنس پالیسی اپنا لی ہے۔

    کریک ڈاؤن کے دوران درجنوں موٹر سائیکلیں مختلف تھانوں میں بند کر دی گئی ہیں جبکہ متعدد شہریوں کو بھاری جرمانے بھی کیے گئے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قانون توڑنے والوں کے لیے نہ کوئی سفارش قبول کی جائے گی، نہ نرمی، اور نہ ہی کسی قسم کی رعایت دی جائے گی۔ قوانین کی مؤثر عملداری کے لیے کارروائیاں روزانہ کی بنیاد پر جاری رہیں گی۔

    دوسری جانب شہریوں نے لائسنس کے اجراء میں تاخیر اور سرکاری لائسنس سینٹرز میں مسلسل ’’لنک ڈاؤن‘‘ پر شدید احتجاج کیا ہے۔ شہریوں کے مطابق لائسنس مراکز میں لمبی قطاریں معمول بن چکی ہیں، عوام گھنٹوں خوار ہوتے ہیں، اور وقت پر لائسنس نہ بننے کی وجہ سے پولیس کی کارروائیوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ ’’ایک طرف پولیس سختی کر رہی ہے، دوسری طرف حکومت کے لائسنس سینٹرز کی خراب کارکردگی نے عوامی مشکلات کو دوگنا کر دیا ہے۔‘‘

    عوامی حلقوں نے حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ لائسنسنگ سسٹم کو فوری طور پر فعال کیا جائے، لنک ڈاؤن مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے اور عوام کو عملی ریلیف فراہم کیا جائے، ورنہ یہ صورتحال مزید عوامی غم و غصے کو جنم دے سکتی ہے۔

  • اوچ شریف: پیف سکولوں کی خستہ حالی، تعلیمی نظام سنگین بحران سے دوچار

    اوچ شریف: پیف سکولوں کی خستہ حالی، تعلیمی نظام سنگین بحران سے دوچار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان)اوچ شریف اور گردونواح کے پیف اسکولوں کی ابتر حالت نے سرکاری تعلیمی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ بیشتر اسکول آج بھی کرائے کی خستہ اور بوسیدہ عمارتوں میں قائم ہیں جہاں نہ بنیادی سہولیات موجود ہیں اور نہ ہی بچوں کی جانوں کا تحفظ ممکن ہے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق اوچ شریف، ناصر ٹاؤن، جامڑاہ، حلیم پور، قادر آباد، بیٹ احمد، بیٹ بختیاری، چناب اور رسول پور سمیت متعدد علاقوں میں چلنے والے پیف اسکولوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ کئی عمارتیں بارش میں ٹپکنے والی چھتوں، ٹوٹی ہوئی دیواروں اور غیر محفوظ کمروں پر مشتمل ہیں جہاں درجنوں بچے قطاروں کی شکل میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

    والدین کا کہنا ہے کہ بجلی کا نظام ناکارہ ہے، پینے کا صاف پانی میسر نہیں، ٹوائلٹ کی سہولت موجود نہیں جبکہ بچوں کے بیٹھنے کے لیے مناسب فرنیچر بھی فراہم نہیں کیا جاتا۔ پسماندہ بستیوں کے اسکولوں کی حالت سب سے زیادہ بدتر بتائی جاتی ہے۔

    گزشتہ برس ناصر ٹاؤن میں اسکول کی دیوار گرنے سے ایک طالبہ جاں بحق ہوئی تھی جبکہ جامڑاہ میں شارٹ سرکٹ کے باعث دو افراد کی ہلاکت نے پیف اسکولوں کے انتظامی نقائص کی سنگینی کو واضح کیا تھا۔ مقامی افراد کے مطابق ان سانحات کے باوجود متعلقہ محکموں نے کوئی مؤثر اصلاحاتی اقدامات نہیں کیے۔

    مزید یہ کہ شہریوں نے غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری پرائیویٹ اسکولوں کی بھرمار پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ والدین کے مطابق نصاب اور یونیفارم کی قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہیں، اور غیر منظور شدہ کتابیں بھی کھلے عام پڑھائی جا رہی ہیں، جس سے تعلیمی معیار مزید متاثر ہو رہا ہے۔

    عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ پیف اسکولوں کی عمارتوں کا ہنگامی بنیادوں پر سروے کیا جائے، خطرناک عمارتوں کو فوری تبدیل کیا جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مزید برآں غیر قانونی اسکولوں کو بند کر کے تعلیمی نظام کو فائلوں تک محدود رکھنے کے بجائے زمینی سطح پر ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

    شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بھی وقت بڑا سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔