Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • ڈیرہ غازیخان: ریسکیو1122نے 24گھنٹوں میں 279 زندگیاں بچائیں

    ڈیرہ غازیخان: ریسکیو1122نے 24گھنٹوں میں 279 زندگیاں بچائیں

    ڈیرہ غازیخان،باغی ٹی وی(سٹی رپورٹرجواد اکبر) ریسکیو1122نے 24گھنٹوں میں 279 زندگیاں بچائیں

    تفصیلات کے ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 279 ایمرجنسیز میں فوری کارروائی کرتے ہوئے قیمتی جانوں کو محفوظ بنایا۔ مجموعی طور پر 830 کالز موصول ہوئیں، جن میں سے 26 روڈ ٹریفک حادثات، 228 طبی ایمرجنسیز، 2 آتشزدگی کے واقعات، 5 جرائم سے متعلق کیسز، 16 دیگر نوعیت کی ایمرجنسیز اور 2 گرنے کے واقعات شامل تھے۔ ہر موقع پر ریسکیو ٹیم نے فوری رسپانس دیتے ہوئے متاثرین کو بروقت امداد فراہم کی۔

    ضلعی ایمرجنسی آفیسر احمد کمال نے اس موقع پر کہا کہ ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان ایک پیشہ ور ایمرجنسی سروس ہے جو ہر قسم کی ایمرجنسیز میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے درخواست کی کہ بلا ضرورت 1122 پر کالز نہ کریں، فیک کالز سے گریز کریں اور ایمبولینس کو راستہ دیں تاکہ حقیقی ضرورت مندوں کی فوری مدد ممکن ہو سکے۔

    ریسکیو 1122 کے بانی ڈاکٹر رضوان نصیر کے وژن کے مطابق ادارہ نہ صرف ایمرجنسی خدمات فراہم کر رہا ہے بلکہ عوام میں آگاہی پیدا کرنے اور ایک محفوظ معاشرے کے قیام کے لیے بھی سرگرم عمل ہے۔ معمولی یا غیر اہم مسائل کے لیے ایمبولینس سروس کا استعمال نہ کریں تاکہ حقیقی ایمرجنسیز میں تاخیر سے بچا جا سکے۔ ضلعی ایمرجنسی آفیسر نے عوام سے ادارے کے عملے کے ساتھ تعاون کی اپیل کی اور کہا کہ یہ عمل کسی کی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

    ریسکیو 1122 ڈیرہ غازی خان کا عملہ دن رات عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہا ہے اور مزید بہتر کارکردگی کے لیے عوام کے تعاون کا طلب گار ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: وکیل صدام قریشی منشی کے ہاتھوں قتل، ملزم گرفتار

    ڈیرہ غازی خان: وکیل صدام قریشی منشی کے ہاتھوں قتل، ملزم گرفتار

    ڈیرہ غازی خان: وکیل صدام قریشی منشی کے ہاتھوں قتل، ملزم گرفتار

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک وکیل کے منشی نے معمولی تنازع پر اپنے وکیل کے بھائی وکیل کو قتل کر دیا۔ واقعہ کچہری کے علاقے میں پیش آیا، جب وکیل صدام حسین قریشی اپنے چیمبر میں موجود تھے۔ صبح تقریباً دس بجے وکیل صدام حسین قریشی اور منشی رحمت اللہ پتافی کے درمیان لین دین کے معاملے پر تلخ کلامی ہوئی، جو اچانک شدت اختیار کر گئی۔

    منشی نے تکرار کے دوران چھری سے وکیل پر متعدد وار کیے، جس سے صدام حسین قریشی شدید زخمی ہو گئے۔ زخمی حالت میں انہوں نے مدد کے لیے آواز دی اور خون میں لت پت اپنے چیمبر سے باہر نکلے، جہاں ساتھی وکلاء اور دیگر موجود افراد نے قاتل کو پکڑنے کی کوشش کی، مگر وہ چھری لہراتے ہوئے موقع سے فرار ہو گیا۔

    زخمی وکیل کو فوری طور پر ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا، مگر خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے وہ جانبر نہ ہو سکے۔

    پولیس نے واقعے کی اطلاع ملنے پر بروقت کارروائی کی اور قاتل کو پیر عادل کے قریب سے گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم رحمت اللہ پتافی وکیل کے ساتھ عرصے سے کام کر رہا تھا اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں کے درمیان مالی معاملات پر تنازع چل رہا تھا جو اس افسوسناک واقعے کا باعث بنا۔

    صدام حسین قریشی ایڈووکیٹ، سینئر وکیل میاں غلام شبیر قریشی کے بیٹے اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئر وکیل تجمل حسین قریشی کے چھوٹے بھائی تھے۔
    یہ واقعہ وکلا برادری کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے اور ساتھی وکلا نے اس واقعے پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • ڈیرہ غازی خان: فیصل موورز وین کی ٹکر، بزرگ جاں بحق، خاتون زخمی

    ڈیرہ غازی خان: فیصل موورز وین کی ٹکر، بزرگ جاں بحق، خاتون زخمی

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی(سٹی رپورٹرجواداکبر) فیصل موورز وین کی ٹکر، بزرگ جاں بحق، خاتون زخمی

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں پل غازی گھاٹ پر فیصل موورز کی وین نے راہ چلتے دو افراد کو ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں ایک شخص موقع پر جاں بحق جبکہ خاتون زخمی ہوگئی۔ حادثے کی اطلاع ریسکیو کنٹرول روم کو دی گئی، جس پر فوری طور پر قریبی ایمبولینس اور پولیس کو روانہ کیا گیا۔

    ریسکیو ٹیم کے مطابق 80 سالہ محبوب ولد دریا خان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر جاں بحق ہو گئے۔ ان کے جسم پر سر کی شدید چوٹیں اور متعدد فریکچر تھے۔ دوسری جانب 60 سالہ مریم بی بی زوجہ فیاض شدید زخمی ہوگئی، جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد علامہ اقبال ٹیچنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    حادثہ اس وقت پیش آیا جب وین ڈیرہ غازی خان سے ملتان جا رہی تھی۔ جاں بحق محبوب کی میت کو پولیس کی نگرانی میں لواحقین کے حوالے کر دیا گیا۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق ایمبولینس سات منٹ میں جائے حادثہ پر پہنچ گئی۔ حادثے کی مزید تحقیقات پولیس کر رہی ہے تاکہ واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

  • ڈی جی خان:6 سالہ بچہ ٹیوب ویل کے 200 فٹ گہرے بور میں گر کر جاں بحق

    ڈی جی خان:6 سالہ بچہ ٹیوب ویل کے 200 فٹ گہرے بور میں گر کر جاں بحق

    ڈی جی خان،باغی ٹی وی (سٹی رپورٹرجواد اکبر)6 سالہ بچہ ٹیوب ویل کے 200 فٹ گہرے بور میں گر کر جاں بحق

    تفصیل کے مطابق ڈی جی خان کے علاقے کالا کالونی ہیڈ گجانی میں ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا جہاں چھ سالہ نواب ولد منظور 200 فٹ گہرے ٹیوب ویل کے بور میں گر کر جاں بحق ہو گیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کنٹرول روم نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے قریبی ریسکیو اسٹیشن سے ایک ایمبولینس اور دو ریسکیو گاڑیاں جائے وقوعہ کی طرف روانہ کر دیں۔ اس واقعے کی اطلاع پولیس کنٹرول اور ڈپٹی کمشنر کنٹرول روم کو بھی دی گئی۔

    ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچنے کے بعد جدید سونار ڈیوائس کے ذریعے بچے کے مقام کی نشاندہی کی۔ بچے کی لاش 75 فٹ کی گہرائی میں پھنس چکی تھی۔ چھ گھنٹے طویل آپریشن کے دوران ریسکیو اہلکاروں نے آئرن راڈز اور مختلف رسیوں کی مدد سے بچے کے کپڑوں کو ہک کیا اور سلپ ناٹ تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے لاش کو باہر نکالا۔ بدقسمتی سے بچہ پانی میں ڈوب جانے کے باعث پہلے ہی زندگی کی بازی ہار چکا تھا۔

    ریسکیو اہلکاروں نے بچے کی لاش کو نکال کر لواحقین کے حوالے کر دیا۔ اس دلخراش واقعے نے علاقے میں سوگ کی فضا قائم کر دی ہے۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر احمد کمال نے اس آپریشن کی قیادت کی اور کہا کہ ریسکیو ٹیم نے اپنی تمام تر کوششیں کیں، لیکن قدرتی حالات کے باعث بچے کی جان نہیں بچائی جا سکی۔

  • کیا ڈیرہ غازیخان کی پسماندگی کے ذمہ دار سردار ہیں؟

    کیا ڈیرہ غازیخان کی پسماندگی کے ذمہ دار سردار ہیں؟

    کیا ڈیرہ غازیخان کی پسماندگی کے ذمہ دار سردار ہیں؟
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    ڈیرہ غازیخان جو پنجاب کا ایک اہم ضلع اور ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہے، کئی دہائیوں سے ترقی کے وعدوں کا شکار ہے۔ اس علاقے میں وسائل کی کمی نہیں ہے لیکن عوام کو وہ سہولتیں اور ترقیاتی منصوبے نہیں مل سکے جو انہیں حاصل ہونا چاہیے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس پسماندگی کے ذمہ دار وہ سردار ہیں جو اس خطے کی سیاسی قیادت کے دعوے دار ہیں؟ سرداروں کے اقتدار کے باوجود ڈیرہ غازیخان میں بنیادی سہولتوں کی کمی، صنعتی ترقی کا فقدان اور صحت کے بحران جیسے مسائل حل نہ ہو سکے۔ یہ صورتحال عوام کے لیے ایک تشویش کا باعث بن چکی ہے اور اب یہ سوال سر اٹھا رہا ہے کہ آیا سردار اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ڈیرہ غازیخان جوڈویژنل ہیڈکوارٹر ہے، نہ ہی یہاں ریلوے سروس فعال ہے ، نہ ہی ایئرپورٹ کام کر رہا ہے،یہاں نہ موٹروے ہےاور نہ اچھی سڑکیں موجود ہیں، میٹرو بس،اورینج ٹرین ، فلائی اوور، انڈر پاس یا جدید بنیادی ڈھانچوں کا توکوئی تصورہی نہیں کیا جاسکتاہے۔

    ڈیرہ غازیخان میں ڈی جی سیمنٹ اور الغازی ٹریکٹرز جیسی بڑی فیکٹریاں موجود ہیں جو خطے کی معیشت کے لیے اہم ہیں۔ لیکن یہ صنعتیں مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کررہی ہیں اور نہ ان کے لیے صحت کی سہولت، نہ تعلیمی ادارے قائم کرتی ہیں اور نہ ہی پینے کے صاف پانی کے منصوبے دئے ہیں۔ بلکہ ان فیکٹریوں کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی، دمہ، ہیپاٹائٹس اور کینسر جیسی خطرناک بیماریاں عام ہو چکی ہیں۔ ان بیماریوں کی روک تھام کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے اور یہ صنعتیں صرف دولت جمع کرنے کا ذریعہ بن گئی ہیں۔

    ڈیرہ غازیخان میں اٹامک انرجی موجود ہے ،پاکستان اٹامک انرجی کے زیرِ انتظام کئی اضلاع میں کینسر ہسپتال کام کر رہے ہیں لیکن ڈیرہ غازیخان کی عوام اس بنیادی ضرورت سے محروم ہیں۔ اس علاقے میں کینسر کی بیماری عام ہے ،کینسرکے مریض بے یار و مددگار زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جو عوام کے ساتھ سوکن جیسا سلوک ہے۔

    یہ حیرت کی بات ہے کہ یہاں کے عوام کو اس قدر سنگین مسائل کا سامنا ہے حالانکہ ڈیرہ غازیخان سے تعلق رکھنے والی کئی اہم سیاسی شخصیات نے ملک کے اعلی ترین عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں۔ سردار میر بلخ شیر مزاری اور غلام مصطفی جتوئی وزرائے اعظم رہے، سردار فاروق احمد خان لغاری پاکستان کے صدر رہے اور دیگر سردار بھی اہم وزارتوں پر فائز رہے۔ اس کے باوجود ضلع کی عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

    سردار اویس احمد خان لغاری جو اس وقت وفاقی وزیر برائے توانائی ہیں اور ہردور میں حکومت کا حصہ رہے اور اہم وزارتوں پر فائز رہے ہیں، ریلوے اسٹیشن کی بحالی یا دیگر بنیادی منصوبوں میں کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہ کر سکے۔ ان کی قیادت میں ریلوے اسٹیشن جو چاروں صوبوں کو جوڑنے میں اہم کردار ادا کر سکتا تھا مگر کرپشن اور غفلت کے باعث ناکارہ ہو چکا ہے۔ اس کی زمین اور دیگر اثاثے کرپٹ مافیا کے ہاتھوں میں جا چکے ہیں جو اسے اونے پونے بیچ رہے ہیں،سردار اویس احمد لغاری آج تک ڈیرہ غازیخان کیلئے کوئی میگاپروجیکٹ لانے میں عملاََ ناکام رہے ہیں

    سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اور ان کے بیٹے سردار دوست محمد کھوسہ جو وزیر اعلی پنجاب کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں بھی علاقے کی ترقی میں خاطر خواہ کردار ادا نہیں کر سکے۔انہوں نے اپنے دور حکومت میں غازی میڈیکل کالج دیا لیکن اس کالج میں آج بھی مقامی طلباء کیلئے کوئی کوٹا مختص نہیں ہے ،عملاََ ڈیرہ غازیخان سے تعلق رکھنے طلباء غازی میڈیکل کالج میں داخلوں سے محروم رہتے ہیں، سردار دوست محمد کھوسہ کے مختصر دورِ حکومت میں چند ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے لیکن ان کی پائیداری اور عوام تک رسائی محدود رہی۔

    سردار فاروق احمد خان لغاری نے ایک انٹرنیشنل ایئرپورٹ بنوایالیکن ائرپورٹ چالو ہونے کے بجائے بند پڑا ہے۔ سردار عثمان بزدار نے وزیر اعلی کے طور پر صرف ایک میگا پروجیکٹ سردار فتح محمد خان بزدار کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ دیا۔ دیگر وعدے محض زبانی جمع خرچ ثابت ہوئے۔ ان کے دور حکومت میں تونسہ میں ترقیاتی کاموں پر توجہ دی گئی جبکہ ڈیرہ غازیخان نظر انداز رہا۔ ان کے بھائیوں کی کرپشن کی کہانیاں بھی عوام میں گردش کرتی رہیں۔

    ڈیرہ غازیخان کی عوام دہائیوں سے سرداروں کے وعدے سنتی آ رہی ہے۔ یہ ضلع ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہے جس میں چھ اضلاع شامل ہیں، ترقی کے معاملے میں باقی پنجاب سے کہیں پیچھے اور پسماندہ ترین ضلع ہے۔ عوام اس انتظار میں ہیں کہ کب ان کے مسائل حل ہوں گے اور کب وہ بنیادی سہولتوں سے مستفید ہوں گے۔ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، لیکن ایوان اقتدار میں بیٹھے سردار عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے شروع کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔

    یہ ضلع جو قدرتی وسائل اور تاریخی اہمیت رکھتا ہے صرف وعدوں پر گزارا کر رہا ہے۔ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ضلع اپنی پسماندگی کے اندھیروں میں مزید گم ہو جائے گا۔ ڈیرہ غازیخان کی عوام کے لیے ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی اقدامات کا نہ ہونا یہاں کے سرداروں اور حکومت کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے لیے فوری اور مئوثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ اس علاقے کے مسائل حل ہوں اور یہاں کی عوام بھی ترقی کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔

    ڈیرہ غازیخان کی پسماندگی اور عوامی مسائل کا حل اس بات پر منحصر ہے کہ علاقے کی سیاسی قیادت کتنی سنجیدگی سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتی ہے۔ سرداروں کی قیادت میں اب تک جو ترقیاتی منصوبے نظرانداز ہوئے ہیں، اس بات کا غماز ہے کہ سرداروں کو عوامی فلاح و بہبود میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ اگر فوری طور پر بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ نہیں دی گئی تو یہ ضلع اپنی پسماندگی کے اندھیروں میں مزید غرق ہو جائے گا۔ ڈیرہ غازیخان کی عوام کے لیے ضروری ہے کہ انہیں اپنے حقوق اور سہولتیں جلد از جلد فراہم کی جائیں تاکہ یہ خطہ ترقی کے راستے پر گامزن ہو سکے۔

    اب سرداروں کو بھی یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اب یہ 77سال پہلے بزرگوں والا ڈیرہ غازیخان نہیں ہے، جب آپ کے بڑوں کے ایک پیغام پر تمام برادریاں ووٹ دیا کرتی تھیں ،اب وقت تبدیل ہوچکا ہے ، یہ پڑھے لکھے نوجوانوں کا ڈیرہ غازیخان ہے اگر اب بھی آپ نے ایوانوں بیٹھ کر اپنے علاقے ،اپنے شہراور ضلع کے عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ نہ دی تو وہ وقت دور نہیں ہے جب آپ دوبارہ اسمبلیوں میں جانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے اور بہت جلد آپ کی جگہ کوئی اور اسمبلی میں پہنچ جائے گا اور آپ ماضی کاحصہ بن جائیں۔

  • ڈیرہ غازی خان: کرسمس اور قائداعظم ڈے کے لیے فول پروف سکیورٹی پلان جاری

    ڈیرہ غازی خان: کرسمس اور قائداعظم ڈے کے لیے فول پروف سکیورٹی پلان جاری

    ڈیرہ غازی خان، باغی ٹی وی (نیوز رپورٹر شاہد خان)کرسمس اور قائداعظم ڈے کے لیے ڈیرہ غازی خان ریجن میں فول پروف سکیورٹی انتظامات مکمل

    ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ غازی خان کیپٹن (ر) سجاد حسن خان کے احکامات پر ریجن کے تمام اضلاع میں کرسمس اور قائداعظم ڈے کے لیے فول پروف سکیورٹی پلان ترتیب دے دیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ریجن کے 41 گرجا گھروں میں کرسمس تقریبات اور 17 مقامات پر قائداعظم ڈے کی تقریبات کی سکیورٹی کے لیے 864 پولیس افسران و اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ سکیورٹی میں 7 ڈی ایس پی، 56 انسپکٹرز اور سب انسپکٹرز شامل ہیں، جبکہ ایلیٹ فورس اور موٹر سائیکل اسکواڈ مسلسل گشت پر رہیں گے۔

    گرجا گھروں میں داخلے کے لیے 81 میٹل ڈیٹیکٹرز کا استعمال اور 167 سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے آن لائن نگرانی کی جائے گی۔ آر پی او نے تمام ضلعی پولیس سربراہان کو ہدایت دی ہے کہ وہ خود سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیں اور چیک پوسٹوں پر سخت چیکنگ یقینی بنائیں۔

    آر پی او کیپٹن (ر) سجاد حسن خان کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ ہم اقلیتی برادری کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائیں گے تاکہ وہ اپنے مذہبی تہوار پُرامن طریقے سے منا سکیں۔

  • ڈیرہ غازی خان: گیس بحران نے شہریوں کو سردیوں میں بے بس کر دیا

    ڈیرہ غازی خان: گیس بحران نے شہریوں کو سردیوں میں بے بس کر دیا

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی (سٹی رپورٹرجواد اکبر) گیس بحران نے شہریوں کو سردیوں میں بے بس کر دیا

    ڈیرہ غازی خان میں شدید سردی کی لہر نے پہلے ہی شہریوں کی زندگی کو مشکل بنا رکھا تھا، لیکن گیس کی مسلسل بندش نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ گھریلو صارفین کو کھانا پکانے، گرم پانی اور ہیٹنگ کے لیے گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

    گیس کی عدم دستیابی کے باعث شہریوں کو مہنگی ایل پی جی سلنڈروں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ان کا مالی بوجھ بڑھ گیا ہے۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ نے غریب اور متوسط طبقے کے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ سردیوں میں گیس کی کمی کی وجہ سے شدید پریشان ہیں۔ بچے اور بوڑھے سردی کی وجہ سے بیمار پڑ رہے ہیں اور گھر میں گرم رہنے کے لیے انہیں اضافی کپڑے پہننے پڑ رہے ہیں۔

    شہریوں نے حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ گیس کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ سردیوں میں گیس کی کمی ایک انسانی مسئلہ ہے اور اسے فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: قائداعظم ڈے اور کرسمس کے انتظامات کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا

    ڈیرہ غازی خان: قائداعظم ڈے اور کرسمس کے انتظامات کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا

    ڈیرہ غازی خان ،باغی ٹی وی(سٹی رپورٹر جواد اکبر): قائداعظم ڈے اور کرسمس کے انتظامات کا جائزہ، شہریوں کی سہولت اور سکیورٹی کیلئے ہدایات جاری

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی بورڈ ڈیرہ غازی خان کا اجلاس ڈپٹی کمشنر و چیئرمین محمد عثمان خالد کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں قائداعظم ڈے اور کرسمس کے موقع پر انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر یوم قائد کو بھرپور انداز میں منایا جائے گا اور کرسمس کی خوشیوں میں مسیحی برادری کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہم تہواروں کے موقع پر تمام ادارے الرٹ رہیں اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔

    اجلاس میں اہم مقامات کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے واک تھرو گیٹس نصب کرنے، چرچز کے اندر اور اطراف میں سی سی ٹی وی کیمروں کو فعال رکھنے اور ٹریفک کی روانی کو ممکن بنانے کی ہدایت دی گئی۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر احمد کمال نے بریفنگ میں بتایا کہ ریسکیو 1122 نے منظم روابط اور انتظامات کو یقینی بنایا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے باآسانی نمٹا جا سکے۔ اجلاس میں پولیٹیکل اسسٹنٹ محمد اسد چانڈیہ، اے ڈی سی جی قدسیہ ناز، اور دیگر افسران بھی شریک تھے۔

  • ڈیرہ غازی خان: ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ اور گورننس کی بہتری کیلئے خصوصی احکامات جاری

    ڈیرہ غازی خان: ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ اور گورننس کی بہتری کیلئے خصوصی احکامات جاری

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی (سٹی رپورٹرجواداکبر) ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ اور گورننس کی بہتری کیلئے خصوصی احکامات جاری

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں زیر تکمیل ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ کمشنر ڈاکٹر ناصر محمود بشیر نے خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے غیر جانبدار ذرائع سے منصوبوں کے آڈٹ کرانے اور معیار کو جانچنے کے لیے "ٹیسٹ کٹس” کے استعمال کا حکم دیا۔

    کمشنر نے ہدایات دیں کہ اگر کسی منصوبے میں غیر معیاری کام پایا گیا تو متعلقہ تعمیراتی کمپنی کو آئندہ سرکاری منصوبوں کے لیے بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی موثر مانیٹرنگ کو یقینی بنائیں تاکہ عوام کو گورننس میں بہتری کا واضح فرق محسوس ہو۔

    اجلاس میں وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر مین ہولز پر پلاسٹک کے مضبوط ڈھکن لگانے، صفائی کے معیار کو بہتر بنانے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی کرنے اور تجاوزات کے خاتمے پر زور دیا گیا۔ کمشنر نے کہا کہ گلی محلوں میں موجود سڑکوں کے گڑھے فوری طور پر بھرے جائیں اور بڑے شہروں میں ماڈل ریڑھی بازاروں کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ عوام کو سہولت میسر ہو۔

    اجلاس میں شہر کی خوبصورتی کے لیے خصوصی توجہ دینے اور دیگر عوامی امور پر بہتری کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور متعلقہ حکام کو مزید ہدایات جاری کی گئیں۔

  • ڈیرہ غازی خان:پولیو فری پاکستان کے لیے حکومت، عوام اور میڈیا متحد ہیں: عظمیٰ کاردار

    ڈیرہ غازی خان:پولیو فری پاکستان کے لیے حکومت، عوام اور میڈیا متحد ہیں: عظمیٰ کاردار

    ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی (سٹی رپورٹرجواداکبر) وزیراعلیٰ پنجاب کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو اور رکن صوبائی اسمبلی عظمیٰ کاردار نے ڈیرہ غازی خان کا دورہ کیا۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد سے ملاقات کی، جس میں ڈیرہ غازی خان میں جاری انسداد پولیو مہم کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    عظمیٰ کاردار نے ڈی سی آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پولیو فری پاکستان کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے ڈیرہ غازی خان میں انسداد پولیو مہم کی 98 فیصد کوریج کو سراہا اور بتایا کہ ان کا دورہ پولیو مہم کی نگرانی اور پڑتال کے سلسلے میں ہے۔

    فوکل پرسن نے کہا کہ پنجاب بھر میں پولیو مہم کی مؤثر نگرانی کی گئی ہے، اور پاکستان و افغانستان مشترکہ طور پر پولیو کے خاتمے کے لیے سرگرم ہیں۔ انہوں نے سرحدی علاقوں کی وجہ سے انوائرمینٹل سیمپلز کے پازیٹیو آنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان، سندھ، اور خیبر پختونخوا کے ساتھ انسداد پولیو کے لیے قریبی رابطے میں ہیں۔

    انہوں نے فرنٹ لائن پولیو ورکرز کو ملک کا سرمایہ قرار دیتے ہوئے ان کی سیکیورٹی یقینی بنانے پر زور دیا۔ عظمیٰ کاردار نے کہا کہ حکومت، عوام، اور میڈیا کے تعاون سے جلد پولیو جیسے موذی مرض پر قابو پا لیا جائے گا۔ انہوں نے بارڈر کے قریب واقع ڈیرہ غازی خان میں پولیو مہم کے کامیاب انعقاد پر انتظامیہ اور کوہ سلیمان کے قبائلی علاقوں میں مقامی پولیو ورکرز کی خدمات کو بھی سراہا۔

    ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان کے تمام قبائلی بچوں کی رجسٹریشن کو یقینی بنایا گیا ہے، اور پولیو فری ڈیرہ غازی خان کے لیے پرامید ہیں۔ سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر ادریس لغاری نے بتایا کہ کوہ سلیمان میں ایچ آئی وی کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، اور قبائلی علاقوں میں ایڈز اسکریننگ کیمپس بھی لگائے گئے ہیں۔

    قبل ازیں، عظمیٰ کاردار نے دریائے سندھ کے کنارے بچوں کی ویکسینیشن کے عمل کا معائنہ بھی کیا اور انسداد پولیو کی مہم کی کامیابی کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔