Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • لورالائی: 15 روز سے گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال، کوئلے کی سپلائی معطل

    لورالائی: 15 روز سے گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال، کوئلے کی سپلائی معطل

    لورالائی(باغی ٹی وی رپورٹ) 15 روز سے گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال، کوئلے کی سپلائی معطل

    تفصیلات کے مطابق لورالائی میں گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کو 15 دن ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے ملک بھر میں کوئلے کی سپلائی مکمل طور پر بند ہے۔ دہشت گردی کے مسلسل واقعات کے نتیجے میں 50 سے زائد گاڑیاں نذرِ آتش کی جاچکی ہیں، جب کہ نصف درجن سے زائد ڈرائیور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ راڑہ شم کے علاقے میں سب سے زیادہ گاڑیاں جلائی گئیں، جن میں سے اکثر کوئلے کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتی تھیں، جبکہ کچھ گاڑیاں فروٹ اور سبزیوں سے لدی ہوئی تھیں۔

    دکی، سنجاوی، ہرنائی اور شہ رگ کھوسٹ کے مقامات پر گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کا احتجاج جاری ہے۔ ہڑتال کے باعث لورالائی سے ڈیرہ غازی خان جانے والی شاہراہ سمیت دیگر اہم راستوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہے اور مسافروں و مال بردار گاڑیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ کوئلے کی لوڈنگ گزشتہ کئی دنوں سے بند ہے، جس کی وجہ سے دکی، ہرنائی، شہ رگ کھوسٹ اور چمالنگ سے پنجاب کے لیے کوئلے کی ترسیل مکمل طور پر رک گئی ہے۔

    ڈیرہ غازیخان میں موجود گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر عبدالسلام ناصر اور جنرل سیکریٹری بلال لغاری نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئےحکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان اداروں کی توجہ صرف سگریٹ پکڑنے تک محدود ہے، جب کہ ڈرائیوروں اور مسافروں کو تحفظ فراہم کرنے پر کوئی دھیان نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ٹرانسپورٹرز کے مسائل آخر کون حل کرے گا؟

    عبدالسلام ناصر اور بلال لغاری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے فوری طور پر مذاکرات کرے، متاثرہ مالکان اور شہداء کے لواحقین کو معاوضہ فراہم کرے اور ہڑتال ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پورے نہ کیے تو بلوچستان بھر میں کوئلے کی لوڈنگ غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی جائے گی۔

    ہڑتال کے باعث ٹرک مالکان کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے، جبکہ حکومت کو بھی ٹیکس کی مد میں بھاری خسارہ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، احتجاج اور ہڑتال جاری رہے گی۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ گڈز ٹرانسپورٹ کا بحران ختم ہو سکے، اور دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی جا سکے۔

  • غیر سیاسی خاتون کے پاکستان پر حملے سے حیران رہ گئی، مریم نواز

    غیر سیاسی خاتون کے پاکستان پر حملے سے حیران رہ گئی، مریم نواز

    صوبہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا ہے کہ ایک خاتون جن کا سیاست سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں، انہوں نے پاکستان پر جو حملہ کیا ہے، مجھے یقین نہیں آیا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق تونسہ شریف میں بلوچستان کے لیے آبپاشی منصوبے کچھی کینال کی بحالی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان کے ایسے دوست ملک پر حملہ کیا، جو ہر مشکل میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا۔ہ وہ دوست ملک پاکستان کی مدد کو آیا، اور پاکستان کا ایک قابل بھروسہ دوست ہے، پاکستان کا محسن ہے، اس کے اوپر انہوں نے حملہ کیا تو میں حیران رہ گئی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز جاری کردہ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں بشریٰ بی بی نے دعویٰ کیا تھا کہ کچھ بیرونی طاقتیں مدینہ میں ننگے پاؤں چلنے کے عمران خان کے مذہبی انداز سے ناخوش تھیں۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں نہیں مان سکتی کہ ان کو اس کے نتائج کا نہیں پتا، پاکستان کے اوپر اس کے نتائج کا نہیں پتا، اور اس سے جو بگاڑ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے، اس کو ان کی خبر نہیں ہے، یہ بات میں نہیں مان سکتی۔ میں کہنا چاہتی ہوں کہ جہاں اندرونی حملے بھی ہو رہے ہیں، اس دن بھی وزیراعظم آپ سے درخواست کی تھی، آپ نے کہا تھا کہ ملک کی ترقی میں ایک ہی چیز خلل ڈال سکتی ہے، اور وہ دہشتگردی ہے، آپ کی بات بالکل درست ہے، لیکن یہ صرف دہشت گردی نہیں ہو رہی ہے۔مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ جو حملے خیبرپختونخوا سے پنجاب کے اوپر ہو رہے ہیں، یہ مناظر میں نے 76 سال کی تاریخ میں کبھی نہیں دیکھے، یہ حملے خارجی یا دہشت گرد نہیں کررہے یہ حملے خیبرپختونخوا کی حکومت پنجاب اور وفاق پر کر رہی ہے اور ایک اور حملے کے لیے تیار بیٹھی ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان ترقی کررہا ہے، ایسے وقت میں جب پاکستان پر چھائی ہوئی گرد ہٹنے جا رہی ہے، پاکستان ترقی کے راستے پر آرہا ہے، ایسے وقت میں یہ لوگ کیوں دھرنے لے کر آ جاتے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ہم دشمنوں سےخود کا دفاع کریں یا اپنے لوگوں سے ڈیفینڈ کریں، اُس دن بھی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میرے پنجاب پولیس کے جوان ہیں، ان کے سر دہشت گرد نہیں پھاڑ رہے، ان کی ہڈیاں دہشت گرد نہیں توڑ رہے، ان کے سر ہماری اپنی خیبرپختونخوا کی حکومت پھاڑ رہی ہے، ان پر حملے خیبرپختونخوا کی حکومت کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی، ان کا ایجنڈا بہت خطرناک ہے، جو میرا خیال ہے کہ ہماری بھی سمجھ سے باہر ہے، ورنہ ہوش و حواس میں کوئی ایسا پاکستانی جس کے دل میں تھوڑی سی بھی اپنے وطن کی، اپنی مٹی کی محبت ہو، وہ یہ کام کر ہی نہیں سکتا۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ بات ہوتی ہے کہ صوبوں کا ایک دوسرے سے جوڑنا چاہیے، یہ کچھی کینال پنجاب سے بلوچستان کو ہمیشہ کے لیے جوڑ رہی ہے، مگر یہ جو ہو رہا ہے، میری سمجھ سے باہر ہے، خیبرپختونخوا کی حکومت کے لوگوں نے وہاں سے سیدھی گولیاں پنجاب پولیس پر چلائیں۔میں نے انہیں سختی سے منع کیا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام بھی ہمارے بھائی ہیں، گولیاں نہیں چلانیں، اگر کوئی طیش میں آکر گولی چلا دیتا تو خدانخواستہ وہاں شہادتیں ہو جاتیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟

    سعودی عرب کے خلاف زہر آلودہ بات کی معافی نہیں، وزیر اعظم

    اسلام آباد احتجاج، کراچی سے پولیس نفری روانہ

    چیمپئینز ٹرافی بلدیہ عظمی کراچی کے صدر دفتر پہنچ گئی

  • سعودی عرب کے خلاف زہر آلودہ بات کی معافی نہیں، وزیر اعظم

    سعودی عرب کے خلاف زہر آلودہ بات کی معافی نہیں، وزیر اعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے بشریٰ بی بی کے بیان کو پاکستان دشمنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف زہر آلودہ بات کرنا ناقابل معافی جرم ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق تونسہ شریف میں کچھی کینال منصوبے کی بحالی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہاکہ بطور وزیراعظم پاکستان میں اعلان کرتا ہوں کہ کوئی ایسا ہاتھ جو پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی میں رکاوٹ بنے گا، قوم اسے اپنے ہاتھوں سے توڑ دے گی۔ سعودی عرب پاکستان کا مربی دوست، بھائی اور برادر ملک ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے، سعودی عرب نے بلاتفریق ہمیشہ پاکستان کے عوام اور حکومتوں کی ہر محاذ پر بھرپور مالی، سفارتی اور عالمی حمایت کی ہے۔ شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب نے ہر محاذ پر پاکستان کی وہ مدد کی ہے جس کی کوئی مثال نہیں ہے اور بدلے میں کبھی کوئی مطالبہ نہیں کیا، جس طرح ایک بھائی دوسرے بھائی کی مدد کرتا ہے سعودی عرب نے ویسے ہی ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے۔بشریٰ بی بی کے سعودی عرب سے متعلق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ اس سے بڑی دشمنی نہیں ہوسکتی، وہ ملک جس نے کبھی پاکستان سے کوئی مطالبہ نہیں کیا اور ہمیشہ پاکستان کے لیے اپنے دروازے کھولے۔سعودی بادشاہ اور فرمانروا شہزادہ سلمان جس طرح پاکستان کی مدد کررہے ہیں، ابھی دو تین دورے کرکے آیا ہوں، سعودی فرمانروا نے مجھے کہا کہ آپ منصوبے لے کر آئیں ہم انتظار کررہے ہیں‘۔ جس بھائی کا یہ شفیقانہ رویہ ہے اس کے خلاف زہر اگلا جائے تو وہ کیا کہیں گے کہ پاکستان کے عوام، حکومت اور سیاستدان کیسے ہیں کہ دل میں ہمارے لیے اچھے جذبات رکھنے کے بجائے ایسا زہر آلودہ بیان دے رہے ہیں اور معاشرے میں ایسا زہر گھول رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہاکہ اس فطرت کے لوگوں کو اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کو اس بیان کا کتنا نقصان ہوگا۔

    اسلام آباد احتجاج، کراچی سے پولیس نفری روانہ

    چیمپئینز ٹرافی بلدیہ عظمی کراچی کے صدر دفتر پہنچ گئی

  • دراہمہ:مبینہ پولیس مقابلہ،سنگین جرائم میں مطلوب ڈاکو شفیع کمہارہلاک

    دراہمہ:مبینہ پولیس مقابلہ،سنگین جرائم میں مطلوب ڈاکو شفیع کمہارہلاک

    دراہمہ(باغی ٹی وی ،نامہ نگارمحمدعلی بروہی) پولیس مقابلے میں سنگین جرائم میں مطلوب ڈاکو ہلاک، شہری کے قاتل کا خاتمہ

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے تھانہ دراہمہ کی حدود میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک خطرناک ڈاکو ہلاک ہوگیا جو کئی سنگین مقدمات میں مطلوب تھا۔ ہلاک ہونے والے ڈاکو کی شناخت محمد زبیر ولد شفیع محمد کمہار سکنہ کوٹھہ میر شاہ صدر دینے نام سے ہوئی۔

    پولیس کے مطابق 12 نومبر کو یہ ڈاکو دوران واردات مزاحمت پر ایک معصوم شہری کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے جرم میں ملوث تھا۔ اس کے خلاف قتل، ڈکیتی، اقدامِ قتل اور دیگر سنگین جرائم کے متعدد مقدمات درج تھے۔

    ڈیرہ غازیخان پولیس کی پریس ریلیز کے مطابق تھانہ دراہمہ پولیس معمول کے گشت اور انسدادِ جرائم کے لیے ٹھیڑی روڈ پر موجود تھی جب دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مشتبہ افراد نے اچانک پولیس پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ پولیس نے حفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی، جس کے دوران ایک ڈاکو شدید زخمی ہوگیا۔

    زخمی ڈاکو کے قبضے سے ایک کلاشنکوف اور ہنڈا CG125 موٹر سائیکل برآمد ہوئی، جو چند روز قبل تھانہ دراہمہ کی حدود سے چھینی گئی تھی۔ زخمی ڈاکو نے موقع پر ہی دم توڑ دیا، جبکہ اس کے ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

    تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ہلاک ہونے والا ڈاکو محمد زبیر خطرناک جرائم پیشہ تھا اور مقدمہ نمبر 1010/24 کے تحت قتل (دفعہ 302)، ڈکیتی (دفعہ 397) اور اقدامِ قتل (دفعہ 324) جیسے مقدمات میں مطلوب تھا۔ یہ ڈاکو عوام کے لیے خوف کی علامت بنا ہوا تھا اور مختلف وارداتوں میں ملوث رہا تھا۔

    ڈیرہ غازی خان پولیس نے اس کارروائی کو انسدادِ جرائم کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں امن و امان قائم رکھنا اور عوام کی جان و مال کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔ ہلاک ہونے والے ڈاکو کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ موقع سے ملنے والے شواہد کی بنیاد پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • ڈیرہ غازی خان: ٹیچنگ ہسپتال کی کینٹین میں لوٹ مار، انتظامیہ خاموش، ادارے ناکام

    ڈیرہ غازی خان: ٹیچنگ ہسپتال کی کینٹین میں لوٹ مار، انتظامیہ خاموش، ادارے ناکام

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواداکبر) ٹیچنگ ہسپتال کی کینٹین میں لوٹ مار، انتظامیہ خاموش، ادارے ناکام

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان ٹیچنگ ہسپتال میں کینٹین کا ٹھیکہ حاصل کرنے والی کمپنی نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو کر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ کنٹین میں من مانے داموں پر مصنوعات اشیاء فروخت کی جارہی ہیں، کم معیار کی اشیا مہنگی قیمتوں پر بیچ رہی ہے اور مختلف برانڈز کی نقل کر کے عوام کو دھوکہ دیاجارہاہے۔ اس سب کے باوجود مقامی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے اس مسئلے پر خاموش ہیں، جس کے باعث عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

    کینٹین کے ٹھیکے میں ایک حصہ دار نے خود کو محفوظ سمجھتے ہوئے کہا کہ "میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا” اور یہ دعوی کیا کہ اس نے تمام متعلقہ افراد کو راضی کر لیا ہے۔ اس نے میڈیا کو کنٹرول کرنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ اپنے کاروبار کو تحفظ دینے کے لیے ایک بڑے میڈیا گروپ کو جائن کیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حکومتی اداروں کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر بدعنوانیوں کو بلا روک ٹوک جاری رکھے ہوئے ہے۔

    یہ خبر بھی پڑھیں

    ڈیرہ غازیخان:ٹیچنگ ہسپتال میں آپریشن کے بعد انفیکشنزمیں خطرناک اضافہ،مریض مرنے لگے
    ڈیرہ غازی خان: ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال کی انتظامی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش
    ڈیرہ غازیخان: ٹیچنگ ہسپتال میں سروس ڈیلوری کا بحران، مریض شدید مشکلات کا شکار
    ڈیرہ غازی خان: ہسپتال کا عملہ معصوم ہے، شکایات کیسی؟۔ ایم ایس / کیا پورا شہر جھوٹا ہے؟۔ مہر فدا
    ڈیرہ غازی خان: ٹیچنگ ہسپتال میں ملنے والے کٹے سر کا معمہ حل نہ ہوسکا، سیکیورٹی اہلکار کہاں لے گئے؟

    ٹیچنگ ہسپتال کی کینٹین کا ٹھیکہ ایک ایسی کمپنی کو دیا گیا ہے جس کے خلاف مختلف شکایات سامنے آ چکی ہیں۔ کمپنی نے کینٹین میں ایسی اشیا فراہم کرنا شروع کی ہیں جو مارکیٹ میں دستیاب معیاری اشیا کے مقابلے میں نہ صرف کم معیار کی ہیں بلکہ ان کی قیمتیں بھی بہت زیادہ ہیں۔ مثال کے طور پر 20 روپے کا بسکٹ 40 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے اور 80 سے 100 روپے تک کی بوتلیں مارکیٹ ریٹ سے مہنگی فروخت کی جا رہی ہیں۔ہسپتال کنٹین کے ٹھیکیدار نے کم معیار کی اشیا بیچنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ مختلف برانڈز کی نقل کر کے انہیں اصلی بنا کر فروخت کیا جا رہا ہے۔ مارکیٹ میں موجود اصلی برانڈز کی جگہ مقامی طور پر تیار شدہ غیر معیاری مصنوعات بیچنے کا عمل جاری ہے، جس سے مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    اس تمام صورتحال پر ہسپتال کی انتظامیہ نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور اس مسئلے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ مقامی حکام جیسے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹ بھی اس معاملے پر کچھ نہیں کر رہے۔ ان اداروں نے اپنے دفاتر تک محدود رہتے ہوئے اس مسئلے پر توجہ نہیں دی جبکہ عوام اس لوٹ مار کا شکار ہو کر سخت پریشانی میں ہیں۔

    عوام کامطالبہ ہے کہ بتایا جائے کہ ہسپتال کی کینٹین کا ٹھیکہ کس کمپنی کو دیا گیا ہے اور اس کمپنی کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے؟ہسپتال کی انتظامیہ نے اس غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے کیا ردعمل ظاہر کیا ہے؟پنجاب فوڈ اتھارٹی اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹ اس مسئلے پر کیا اقدامات کر رہے ہیں؟

    عوام نے اس سلسلے میں کمشنر ڈیرہ غازی خان، ڈپٹی کمشنر، پنجاب فوڈ اتھارٹی اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹ سے فوری کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کینٹین میں اشیا کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے، معیار کو بہتر بنایا جائے اور صفائی ستھرائی کے حالات میں بھی بہتری لائی جائے۔

  • ڈیرہ غازی خان: کم اجرت دینے والے اداروں کے خلاف لیبر ڈیپارٹمنٹ متحرک

    ڈیرہ غازی خان: کم اجرت دینے والے اداروں کے خلاف لیبر ڈیپارٹمنٹ متحرک

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نامہ نگار شہزاد خان) لیبر ڈیپارٹمنٹ ڈیرہ غازی خان نے کم اجرت دینے والے پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیوں، کاٹن فیکٹریز، فلور ملز اور دیگر اداروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    لیبر آفیسر محمد عقیل نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اور حکومت کے ویژن کے مطابق تمام ورکرز کی کم از کم اجرت کا تحفظ یقینی بنایا جا رہا ہے۔ مہنگائی کے موجودہ حالات میں غریب ورکروں اور سیکیورٹی گارڈز کی اجرت کے تحفظ کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ صنعتی ادارے، فلور ملز، کاٹن فیکٹریز، پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیاں، دکانیں، بھٹہ مالکان اور رائس ملز مالکان اپنے ورکرز کو 8 گھنٹے کی ڈیوٹی پر پابند رکھیں اور کم از کم ماہانہ اجرت 37 ہزار روپے ادا کریں۔

    اگر کوئی ادارہ یا کمپنی کم اجرت دیتے ہوئے پکڑی گئی تو ان کے خلاف فیکٹری شاپ ایکٹ کے تحت چالان کیا جائے گا۔ لیبر آفیسر نے تمام صنعتی اور تجارتی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ادارے بروقت لیبر ڈیپارٹمنٹ میں رجسٹرڈ کرائیں۔

    یہ اقدام غریب ورکرز کے معاشی تحفظ کو یقینی بنانے اور ان کے حقوق کی فراہمی کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: سول لائن پولیس کا جرائم پیشہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن

    ڈیرہ غازی خان: سول لائن پولیس کا جرائم پیشہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نامہ نگارشہزاد خان) سول لائن پولیس نے جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کے لیے اپنے اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ حساس مقامات پر سفید لباس میں اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ منشیات فروشوں اور قبحہ خانوں کے خلاف بھی بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔

    ایس ایچ او تھانہ سول لائن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تمام کارروائیاں ڈی پی او سید علی کی خصوصی ہدایات پر کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں کی روک تھام کے لیے کچہری روڈ اور ٹیچنگ اسپتال جیسے حساس مقامات پر سفید لباس میں سیکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں تاکہ جرائم پیشہ عناصر پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔

    ایس ایچ او نے مزید بتایا کہ علاقے میں منشیات فروشوں اور قبحہ خانوں کے خلاف بھی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد نہ صرف مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے بلکہ عوام میں تحفظ کا احساس پیدا کرنا بھی ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ جرائم پیشہ عناصر کے لیے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ایسے افراد جو معصوم شہریوں کا نقصان کرتے ہیں، انہیں قانون کے مطابق سخت سزائیں دی جائیں گی۔ سول لائن پولیس عوام کی حفاظت اور امن و امان کی بحالی کے لیے دن رات سرگرم ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جا رہا ہے۔

    عوام نے پولیس کے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ان کارروائیوں سے علاقے میں جرائم کی شرح میں کمی آئے گی اور شہری محفوظ ماحول میں اپنی زندگی بسر کر سکیں گے۔

  • ڈیرہ غازی خان: ایکسائز انسپکٹر کا مبینہ اغواء، پولیس متحرک، ترجمان

    ڈیرہ غازی خان: ایکسائز انسپکٹر کا مبینہ اغواء، پولیس متحرک، ترجمان

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواد اکبر) ایکسائز انسپکٹر کا مبینہ اغواء، پولیس کی تفتیش جاری، ترجمان

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان پولیس کے مطابق ایکسائز انسپکٹر شیخ سکندر الزمان اہل خانہ سے رابطہ منقطع ہونے پر لاپتہ قرار دیے گئے ہیں، جس کے بعد ان کے اغواء کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اغواء کا مقدمہ درج کیا اور تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق مغوی کی بازیابی کے لیے جدید تکنیکی وسائل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ CCTV کیمروں کی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ مغوی کے موبائل فون کے CDRs اور لوکیشن ڈیٹا کا تجزیہ بھی جاری ہے۔ مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور مشتبہ افراد کو شاملِ تفتیش کیا گیا ہے۔

    اس خبر کو بھی پڑھیں
    ڈیرہ غازی خان: ایکسائز انسپکٹر شیخ سکندرزمان مبینہ اغواء، مقدمہ درج
    پولیس ترجمان نے مزید کہا کہ ڈی پی او سید علی کی ہدایت پر ایس پی انویسٹیگیشن کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو مغوی کی تلاش میں مصروف عمل ہے۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے اور جلد مثبت نتائج کی امید ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: ایکسائز انسپکٹر شیخ سکندرزمان مبینہ  اغواء، مقدمہ درج

    ڈیرہ غازی خان: ایکسائز انسپکٹر شیخ سکندرزمان مبینہ اغواء، مقدمہ درج

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرجواد اکبر) ایکسائز انسپکٹر شیخ سکندرزمان مبینہ اغواء، مقدمہ درج

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے تھانہ گدائی میں ایکسائز انسپکٹر شیخ سکندر الزمان کے اغواء کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ان کے بھائی مبشر الزمان کی درخواست پر پولیس نے کارروائی کا آغاز کیا۔ مبشر الزمان نے پولیس کو بتایا کہ ان کے بھائی، شیخ سکندر الزمان جو ڈیرہ غازی خان میں ایکسائز انسپکٹر کے طور پر کام کرتے ہیں، گزشتہ شب اپنی گاڑی ویگنار کار نمبر ANQ429 پر روانہ ہوئے تھے لیکن وہ واپس نہیں لوٹے۔

    مبشر الزمان نے مزید بتایا کہ ان کے بھائی کا موبائل فون بند آ رہا تھا جس کی وجہ سے انہیں تشویش ہوئی۔ انہوں نے متعدد بار مختلف نمبروں سے رابطہ کیا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ اس دوران ریحان اکبر اور جاوید ستار بھی ان کی مدد کے لیے آئے اور مل کر شیخ سکندر الزمان کی تلاش کی گئی مگر ابھی تک ان کا پتہ نہیں چل سکا۔

    مبشر الزمان نے اس بات کا قومی شبہ ظاہر کیا کہ ان کے بھائی کو اغواء کیا گیا ہے اور ان کی گمشدگی کے پیچھے نامعلوم افراد کی سازش ہو سکتی ہے۔ ان کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔ ان کی درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قانونی کارروائی کے تحت مناسب اقدامات کیے جائیں۔

    پولیس نے اس معاملے کی ابتدائی تفتیش کی اور مقدمہ 365 کے تحت درج کر لیا ہے، جس پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • پیر عادل:تیز رفتاری کے باعث کوسٹر الٹنے سے 12 افراد زخمی، 4 کی حالت تشویشناک

    پیر عادل:تیز رفتاری کے باعث کوسٹر الٹنے سے 12 افراد زخمی، 4 کی حالت تشویشناک

    پیرعادل(باغی ٹی وی،نامہ نگارباسط علی گاڈی)ڈیرہ غازی خان کے علاقے میں انڈس ہائی وے پر تیز رفتاری کے باعث ایک مسافر کوسٹر (LWN-1325) حادثے کا شکار ہو کر الٹ گئی۔ کوسٹر میں ایک ہی خاندان کے افراد سوار تھے جو پیر عادل سے وزیرستان میں شادی کی تقریب کے لیے جا رہے تھے۔ حادثے کے نتیجے میں 12 افراد زخمی ہو گئے جن میں سے 4 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    ریسکیو 1122 کنٹرول روم کو ایمرجنسی کال موصول ہونے پر فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔ قریبی موجود دو ایمبولینسز اور سینٹرل اسٹیشن سے دو مزید ایمبولینسز اور ایک ریسکیو وہیکل جائے حادثہ پر روانہ کی گئیں۔ ریسکیو ٹیم نے موقع پر زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور انہیں علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازی خان منتقل کیا۔

    ریسکیو ٹیم نے الٹی ہوئی کوسٹر کو سڑک سے ہٹا کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ حادثہ کالا شہر کے قریب انڈس ہائی وے پر پیش آیا اور تمام زخمیوں کا تعلق پیر عادل سے ہے۔ حادثے کی اطلاع ڈی سی کنٹرول اور پولیس کو بھی فراہم کر دی گئی ہے۔