Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • ڈیرہ غازیخان:عدالت کا تاریخی فیصلہ، 6 ماہ سے بند پریس کلب ڈی سیل کرنے کا حکم

    ڈیرہ غازیخان:عدالت کا تاریخی فیصلہ، 6 ماہ سے بند پریس کلب ڈی سیل کرنے کا حکم

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی رپورٹ)عدالت کا تاریخی فیصلہ، 6 ماہ سے بند پریس کلب ڈی سیل کرنے کا حکم

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان کی سول عدالت نے 6 ماہ سے بند پریس کلب کو ڈی سیل کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے میٹروپولیٹین کارپوریشن کے فیصلے کو معطل کر دیا۔ سول جج جہانگیر سلطان شیخ نے یہ فیصلہ صدر پریس کلب شیر افگن بزدار کی درخواست پر دیا۔

    شیر افگن بزدار نے عدالت میں دعویٰ دائر کیا تھا جس میں کہا گیا کہ پریس کلب کا رقبہ صوبائی حکومت نے 60 سال قبل باقاعدہ الاٹ کیا تھا، اور اس پر پریس کلب قانونی طور پر قائم ہے۔ انہوں نے دعویٰ میں مزید کہا کہ میٹروپولیٹین کارپوریشن کو اس رقبے کو سیل کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں۔

    پریس کلب کے وکیل میاں طارق محمود نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ میٹروپولیٹین کا یہ اقدام غیر قانونی اور غیر آئینی ہے کیونکہ صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر اس طرح کی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

    عدالت نے دونوں فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد میٹروپولیٹین کارپوریشن کے اقدام کو معطل کرتے ہوئے پریس کلب کو فوری طور پر ڈی سیل کرنے کا حکم دیا۔

    یہ فیصلہ صحافی برادری کے لیے بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو طویل عرصے سے پریس کلب کی بحالی کے لیے جدوجہد کر رہی تھی۔

  • ڈیرہ غازی خان: وسائل میں توازن کے لیے شعور سے آبادی میں کمی ممکن ہے،ہما مہدی لغاری

    ڈیرہ غازی خان: وسائل میں توازن کے لیے شعور سے آبادی میں کمی ممکن ہے،ہما مہدی لغاری

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواد اکبر) وسائل میں توازن کے لیے شعور سے آبادی میں کمی ممکن ہے،ہما مہدی لغاری

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں عوامی رویوں میں مثبت تبدیلی کے باعث ضلع ڈیرہ غازی خان میں آبادی کی شرح 2.989 سے کم ہو کر 2.83 پر آ گئی ہے۔ تاہم معاشی اور معاشرتی جرائم سے بچنے کے لیے آبادی اور وسائل کے درمیان توازن قائم کرنا ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار ضلعی آفیسر بہبود آبادی ہما مہدی لغاری نے مقامی صحافیوں اور کالم نویسوں کے ساتھ آگاہی و مشاورتی سیشن کے دوران کیا۔

    ہما مہدی لغاری نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی آبادی ملکی وسائل کو ختم کر رہی ہے۔ جب تک آبادی اور وسائل میں توازن نہیں آئے گا، خوشحال گھرانے کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ بہبود آبادی ڈائریکٹر جنرل ثمن رائے کی ہدایت پر مختلف طبقات کے ساتھ آگاہی سیشنز منعقد کر رہا ہے تاکہ عوام کو بڑھتی ہوئی آبادی کے منفی اثرات سے آگاہ کیا جا سکے۔

    سیشن میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر بہبود آبادی محمد فیاض، سینئر صحافی محمد اشرف بزدار، ریاض جاذب، ملک سراج، چوہدری شکیل احمد ،ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی،سعیداحمدشاہ، محمد شاہد اور دیگر نے شرکت کی اور میڈیا کے کردار اور حکومتی ذمہ داریوں پر تبادلہ خیال کیا۔ شرکاء نے بڑھتی ہوئی آبادی کے حوالے سے شعور بیدار کرنے میں میڈیا کے اہم کردار کو سراہا اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔

  • ڈیرہ غازی خان اور تونسہ  سے پی ٹی آئی قیادت غائب، کارکن غیر فعال

    ڈیرہ غازی خان اور تونسہ سے پی ٹی آئی قیادت غائب، کارکن غیر فعال

    ڈیرہ غازی خان اور تونسہ میں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنان احتجاجی مہم سے مکمل طور پر غیر فعال نظر آئے۔ اسلام آباد میں ہونے والے دھرنے اور احتجاج میں شرکت کے لیے ان دونوں علاقوں سے کوئی قافلہ روانہ نہ ہوا۔ مقامی قیادت جن میں زرتاج گل اور خواجہ شیراز شامل ہیں، کارکنان کو متحرک کرنے یا احتجاج میں شامل کرنے میں ناکام رہی۔

    زرتاج گل نے خفیہ طور پر ملتان سے ایک قافلے کے ساتھ اسلام آباد روانگی کی، تاہم اپنے علاقے کے کارکنان کو ساتھ لے جانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ خواجہ شیراز سمیت دیگر رہنما بھی منظر عام سے غائب رہے، جس سے کارکنان میں مایوسی پھیل گئی۔

    ڈیرہ غازی خان اور تونسہ میں تمام اہم شاہراہیں معمول کے مطابق کھلی رہیں۔ غازی گھاٹ پل اور تونسہ بیراج پل پر بھی ٹریفک بلا تعطل جاری رہی۔ بین الصوبائی سڑکوں پر کسی قسم کی بندش یا رکاوٹ کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بھی بغیر کسی خلل کے چلتی رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے ان علاقوں میں کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی۔

    کارکنان کی غیر فعالیت نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ماضی میں احتجاجی مہمات میں سرگرم کارکنان اس بار مکمل طور پر غیر متحرک دکھائی دیے، جس کی بنیادی وجہ قیادت کی غیر موجودگی اور عدم دلچسپی بتائی جا رہی ہے۔

    یہ صورتحال مقامی سطح پر پارٹی کی تنظیمی کمزوریوں کو ظاہر کرتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ تحریک انصاف کی یہ حکمت عملی اس کی سیاسی مقبولیت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے اور کارکنان کے حوصلے مزید کمزور کر سکتی ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: غیرقانونی ٹھیکیدار فدا حجانہ کی گڈز ٹرانسپورٹ سے بھتہ خوری جاری، انتظامیہ خاموش

    ڈیرہ غازی خان: غیرقانونی ٹھیکیدار فدا حجانہ کی گڈز ٹرانسپورٹ سے بھتہ خوری جاری، انتظامیہ خاموش

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی،سٹی رپورٹر جواد اکبر)غیرقانونی ٹھیکیدار فدا حجانہ کی گڈز ٹرانسپورٹ سے بھتہ خوری جاری، انتظامیہ خاموش

    ڈیرہ غازیخان میں انٹرسٹی ٹیکس کے نام پر بین الصوبائی گڈز ٹرانسپورٹ سے فداحجانہ کے غنڈوں کی بھتہ وصولی جاری،انتظامیہ حصہ لیکرخاموش، انتظامیہ کی گڈزٹرانسپورٹ کو چپ کرانے کیلئے غیرقانونی ٹیکس کے نام پر بھتہ وصولی کی نام نہادٹھیکیدارکے ملازمین پر لولی لنگڑی ایف آئی آر درج کرائی گئی،ایک قومی اخبارکے رپورٹر کے ذریعے گڈزٹرانسپورٹ کو چپ کرانے کیلئے ایک لاکھ روپے ماہانہ دینے کی پیش کش ۔روزانہ ڈیرہ غازیخان سے تقریباََ 2000سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں گزر کر پاکستان کے مختلف شہروں میں سامان کی ترسیل کرتی ہیں ،زیادہ تربلوچستان سے آنے والے ٹرک اور منی گڈزان کا نشانہ، 200روپے سے 400روپے فی گاڑی گن پوائنٹ پوائنٹ پر بھتہ لیا جاتا ہے ،گڈزٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری بلال لغاری

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں بین الصوبائی گڈز ٹرانسپورٹ سے غیرقانونی بھتہ خوری کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ انٹرسٹی ٹیکس کے نام پر روزانہ سینکڑوں گاڑیوں سے غیرقانونی طور پر رقم وصول کی جا رہی ہے، جبکہ مقامی انتظامیہ اس معاملے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے الزام عائد کیا ہے کہ انتظامیہ بھتہ خوروں کے ساتھ ملی بھگت میں ملوث ہے اور اس مسئلے کو دبانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری بلال لغاری کے مطابق روزانہ ڈیرہ غازی خان سے تقریبا 2000 گاڑیاں سامان کی ترسیل کے لیے گزرتی ہیں، جن میں زیادہ تر بلوچستان سے آنے والے ٹرک اور منی گڈز شامل ہیں۔

    ان گاڑیوں سے گن پوائنٹ پر 200 سے 400 روپے فی گاڑی بھتہ لیا جا رہا ہے۔ بلال لغاری کا کہنا ہے کہ فداحجانہ نامی ٹھیکیدار نے مقامی انتظامیہ کے ساتھ ملی بھگت کرکے میونسپل کارپوریشن سے انٹرسٹی ٹرانسپورٹ سے ٹیکس وصولی کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔ اس ٹھیکے کی آڑ میں بین الصوبائی گڈز ٹرانسپورٹ سے روزانہ لاکھوں روپے کا غیرقانونی بھتہ وصول کیا جا رہا ہے۔

    مسلسل شکایات کے باوجود انتظامیہ نے محض رسمی کارروائی کرتے ہوئے تھانہ گدائی میں چند غنڈوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ مورخہ 28 اگست 2024 کو اسسٹنٹ کمشنر سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی تیمور عثمان کی جانب سے تحریری درخواست پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ درخواست میں واضح کیا گیا کہ پل ڈاٹ اور گدائی چونگی پر شعیب ولد محمد اکبرقوم راناسکنہ چورہٹہ، محمد زبیر ولد محمد حسین قوم حجانہ سکنہ شاہ سکندر روڈ اور محمد اسلم ولد محمد اکرم قوم حجانہ سکنہ شاہ سکندر روڈ غیرقانونی طور پر اڈہ فیس کے نام پر بھتہ وصول کر رہے ہیں۔سیکرٹری آرٹی آئی نے خود موقع پر پہنچ کر بھتہ خوری کی تصدیق کی اور ملزمان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 384 اور 341 کے تحت مقدمہ درج کرایا۔

    تاہم گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بھتہ خوری کے اڈے بدستور فعال ہیں اور ملزمان کو روکنے کے لیے کوئی مئوثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔گڈز ٹرانسپورٹ کے صدر عبدالسلام ناصر اور جنرل سیکرٹری بلال لغاری نے اس صورتحال پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ پر دباؤڈالنے کے لیے بارہا کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان کو شکایات درج کرائی گئیں لیکن کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے گڈز ٹرانسپورٹ کو خاموش کرانے کے لیے ایک قومی اخبارکے رپورٹر کے ذریعے ماہانہ ایک لاکھ روپے دینے کی پیشکش کی جو کہ غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے۔ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر بھتہ خوری کے اس نظام کو ختم نہ کیا گیا تو وہ پورے ملک میں پہیہ جام ہڑتال کرنے پر مجبور ہوں گے۔ گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے مقامی انتظامیہ کو متنبہ کیا ہے کہ اس مسئلے کا فوری حل نکالا جائے، ورنہ یہ احتجاج پورے ملک میں پھیل سکتا ہے، جس سے معاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوں گی۔

  • لورالائی: 15 روز سے گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال، کوئلے کی سپلائی معطل

    لورالائی: 15 روز سے گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال، کوئلے کی سپلائی معطل

    لورالائی(باغی ٹی وی رپورٹ) 15 روز سے گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال، کوئلے کی سپلائی معطل

    تفصیلات کے مطابق لورالائی میں گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کو 15 دن ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے ملک بھر میں کوئلے کی سپلائی مکمل طور پر بند ہے۔ دہشت گردی کے مسلسل واقعات کے نتیجے میں 50 سے زائد گاڑیاں نذرِ آتش کی جاچکی ہیں، جب کہ نصف درجن سے زائد ڈرائیور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ راڑہ شم کے علاقے میں سب سے زیادہ گاڑیاں جلائی گئیں، جن میں سے اکثر کوئلے کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتی تھیں، جبکہ کچھ گاڑیاں فروٹ اور سبزیوں سے لدی ہوئی تھیں۔

    دکی، سنجاوی، ہرنائی اور شہ رگ کھوسٹ کے مقامات پر گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کا احتجاج جاری ہے۔ ہڑتال کے باعث لورالائی سے ڈیرہ غازی خان جانے والی شاہراہ سمیت دیگر اہم راستوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہے اور مسافروں و مال بردار گاڑیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ کوئلے کی لوڈنگ گزشتہ کئی دنوں سے بند ہے، جس کی وجہ سے دکی، ہرنائی، شہ رگ کھوسٹ اور چمالنگ سے پنجاب کے لیے کوئلے کی ترسیل مکمل طور پر رک گئی ہے۔

    ڈیرہ غازیخان میں موجود گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر عبدالسلام ناصر اور جنرل سیکریٹری بلال لغاری نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئےحکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان اداروں کی توجہ صرف سگریٹ پکڑنے تک محدود ہے، جب کہ ڈرائیوروں اور مسافروں کو تحفظ فراہم کرنے پر کوئی دھیان نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ٹرانسپورٹرز کے مسائل آخر کون حل کرے گا؟

    عبدالسلام ناصر اور بلال لغاری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے فوری طور پر مذاکرات کرے، متاثرہ مالکان اور شہداء کے لواحقین کو معاوضہ فراہم کرے اور ہڑتال ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پورے نہ کیے تو بلوچستان بھر میں کوئلے کی لوڈنگ غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی جائے گی۔

    ہڑتال کے باعث ٹرک مالکان کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے، جبکہ حکومت کو بھی ٹیکس کی مد میں بھاری خسارہ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، احتجاج اور ہڑتال جاری رہے گی۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکومت کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ گڈز ٹرانسپورٹ کا بحران ختم ہو سکے، اور دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی جا سکے۔

  • غیر سیاسی خاتون کے پاکستان پر حملے سے حیران رہ گئی، مریم نواز

    غیر سیاسی خاتون کے پاکستان پر حملے سے حیران رہ گئی، مریم نواز

    صوبہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا ہے کہ ایک خاتون جن کا سیاست سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں، انہوں نے پاکستان پر جو حملہ کیا ہے، مجھے یقین نہیں آیا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق تونسہ شریف میں بلوچستان کے لیے آبپاشی منصوبے کچھی کینال کی بحالی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان کے ایسے دوست ملک پر حملہ کیا، جو ہر مشکل میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا۔ہ وہ دوست ملک پاکستان کی مدد کو آیا، اور پاکستان کا ایک قابل بھروسہ دوست ہے، پاکستان کا محسن ہے، اس کے اوپر انہوں نے حملہ کیا تو میں حیران رہ گئی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز جاری کردہ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں بشریٰ بی بی نے دعویٰ کیا تھا کہ کچھ بیرونی طاقتیں مدینہ میں ننگے پاؤں چلنے کے عمران خان کے مذہبی انداز سے ناخوش تھیں۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں نہیں مان سکتی کہ ان کو اس کے نتائج کا نہیں پتا، پاکستان کے اوپر اس کے نتائج کا نہیں پتا، اور اس سے جو بگاڑ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے، اس کو ان کی خبر نہیں ہے، یہ بات میں نہیں مان سکتی۔ میں کہنا چاہتی ہوں کہ جہاں اندرونی حملے بھی ہو رہے ہیں، اس دن بھی وزیراعظم آپ سے درخواست کی تھی، آپ نے کہا تھا کہ ملک کی ترقی میں ایک ہی چیز خلل ڈال سکتی ہے، اور وہ دہشتگردی ہے، آپ کی بات بالکل درست ہے، لیکن یہ صرف دہشت گردی نہیں ہو رہی ہے۔مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ جو حملے خیبرپختونخوا سے پنجاب کے اوپر ہو رہے ہیں، یہ مناظر میں نے 76 سال کی تاریخ میں کبھی نہیں دیکھے، یہ حملے خارجی یا دہشت گرد نہیں کررہے یہ حملے خیبرپختونخوا کی حکومت پنجاب اور وفاق پر کر رہی ہے اور ایک اور حملے کے لیے تیار بیٹھی ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان ترقی کررہا ہے، ایسے وقت میں جب پاکستان پر چھائی ہوئی گرد ہٹنے جا رہی ہے، پاکستان ترقی کے راستے پر آرہا ہے، ایسے وقت میں یہ لوگ کیوں دھرنے لے کر آ جاتے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ہم دشمنوں سےخود کا دفاع کریں یا اپنے لوگوں سے ڈیفینڈ کریں، اُس دن بھی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میرے پنجاب پولیس کے جوان ہیں، ان کے سر دہشت گرد نہیں پھاڑ رہے، ان کی ہڈیاں دہشت گرد نہیں توڑ رہے، ان کے سر ہماری اپنی خیبرپختونخوا کی حکومت پھاڑ رہی ہے، ان پر حملے خیبرپختونخوا کی حکومت کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی، ان کا ایجنڈا بہت خطرناک ہے، جو میرا خیال ہے کہ ہماری بھی سمجھ سے باہر ہے، ورنہ ہوش و حواس میں کوئی ایسا پاکستانی جس کے دل میں تھوڑی سی بھی اپنے وطن کی، اپنی مٹی کی محبت ہو، وہ یہ کام کر ہی نہیں سکتا۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ بات ہوتی ہے کہ صوبوں کا ایک دوسرے سے جوڑنا چاہیے، یہ کچھی کینال پنجاب سے بلوچستان کو ہمیشہ کے لیے جوڑ رہی ہے، مگر یہ جو ہو رہا ہے، میری سمجھ سے باہر ہے، خیبرپختونخوا کی حکومت کے لوگوں نے وہاں سے سیدھی گولیاں پنجاب پولیس پر چلائیں۔میں نے انہیں سختی سے منع کیا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام بھی ہمارے بھائی ہیں، گولیاں نہیں چلانیں، اگر کوئی طیش میں آکر گولی چلا دیتا تو خدانخواستہ وہاں شہادتیں ہو جاتیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟

    سعودی عرب کے خلاف زہر آلودہ بات کی معافی نہیں، وزیر اعظم

    اسلام آباد احتجاج، کراچی سے پولیس نفری روانہ

    چیمپئینز ٹرافی بلدیہ عظمی کراچی کے صدر دفتر پہنچ گئی

  • سعودی عرب کے خلاف زہر آلودہ بات کی معافی نہیں، وزیر اعظم

    سعودی عرب کے خلاف زہر آلودہ بات کی معافی نہیں، وزیر اعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے بشریٰ بی بی کے بیان کو پاکستان دشمنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف زہر آلودہ بات کرنا ناقابل معافی جرم ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق تونسہ شریف میں کچھی کینال منصوبے کی بحالی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہاکہ بطور وزیراعظم پاکستان میں اعلان کرتا ہوں کہ کوئی ایسا ہاتھ جو پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی میں رکاوٹ بنے گا، قوم اسے اپنے ہاتھوں سے توڑ دے گی۔ سعودی عرب پاکستان کا مربی دوست، بھائی اور برادر ملک ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے، سعودی عرب نے بلاتفریق ہمیشہ پاکستان کے عوام اور حکومتوں کی ہر محاذ پر بھرپور مالی، سفارتی اور عالمی حمایت کی ہے۔ شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب نے ہر محاذ پر پاکستان کی وہ مدد کی ہے جس کی کوئی مثال نہیں ہے اور بدلے میں کبھی کوئی مطالبہ نہیں کیا، جس طرح ایک بھائی دوسرے بھائی کی مدد کرتا ہے سعودی عرب نے ویسے ہی ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے۔بشریٰ بی بی کے سعودی عرب سے متعلق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ اس سے بڑی دشمنی نہیں ہوسکتی، وہ ملک جس نے کبھی پاکستان سے کوئی مطالبہ نہیں کیا اور ہمیشہ پاکستان کے لیے اپنے دروازے کھولے۔سعودی بادشاہ اور فرمانروا شہزادہ سلمان جس طرح پاکستان کی مدد کررہے ہیں، ابھی دو تین دورے کرکے آیا ہوں، سعودی فرمانروا نے مجھے کہا کہ آپ منصوبے لے کر آئیں ہم انتظار کررہے ہیں‘۔ جس بھائی کا یہ شفیقانہ رویہ ہے اس کے خلاف زہر اگلا جائے تو وہ کیا کہیں گے کہ پاکستان کے عوام، حکومت اور سیاستدان کیسے ہیں کہ دل میں ہمارے لیے اچھے جذبات رکھنے کے بجائے ایسا زہر آلودہ بیان دے رہے ہیں اور معاشرے میں ایسا زہر گھول رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہاکہ اس فطرت کے لوگوں کو اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کو اس بیان کا کتنا نقصان ہوگا۔

    اسلام آباد احتجاج، کراچی سے پولیس نفری روانہ

    چیمپئینز ٹرافی بلدیہ عظمی کراچی کے صدر دفتر پہنچ گئی

  • دراہمہ:مبینہ پولیس مقابلہ،سنگین جرائم میں مطلوب ڈاکو شفیع کمہارہلاک

    دراہمہ:مبینہ پولیس مقابلہ،سنگین جرائم میں مطلوب ڈاکو شفیع کمہارہلاک

    دراہمہ(باغی ٹی وی ،نامہ نگارمحمدعلی بروہی) پولیس مقابلے میں سنگین جرائم میں مطلوب ڈاکو ہلاک، شہری کے قاتل کا خاتمہ

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے تھانہ دراہمہ کی حدود میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں ایک خطرناک ڈاکو ہلاک ہوگیا جو کئی سنگین مقدمات میں مطلوب تھا۔ ہلاک ہونے والے ڈاکو کی شناخت محمد زبیر ولد شفیع محمد کمہار سکنہ کوٹھہ میر شاہ صدر دینے نام سے ہوئی۔

    پولیس کے مطابق 12 نومبر کو یہ ڈاکو دوران واردات مزاحمت پر ایک معصوم شہری کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے جرم میں ملوث تھا۔ اس کے خلاف قتل، ڈکیتی، اقدامِ قتل اور دیگر سنگین جرائم کے متعدد مقدمات درج تھے۔

    ڈیرہ غازیخان پولیس کی پریس ریلیز کے مطابق تھانہ دراہمہ پولیس معمول کے گشت اور انسدادِ جرائم کے لیے ٹھیڑی روڈ پر موجود تھی جب دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مشتبہ افراد نے اچانک پولیس پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ پولیس نے حفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی، جس کے دوران ایک ڈاکو شدید زخمی ہوگیا۔

    زخمی ڈاکو کے قبضے سے ایک کلاشنکوف اور ہنڈا CG125 موٹر سائیکل برآمد ہوئی، جو چند روز قبل تھانہ دراہمہ کی حدود سے چھینی گئی تھی۔ زخمی ڈاکو نے موقع پر ہی دم توڑ دیا، جبکہ اس کے ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

    تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ہلاک ہونے والا ڈاکو محمد زبیر خطرناک جرائم پیشہ تھا اور مقدمہ نمبر 1010/24 کے تحت قتل (دفعہ 302)، ڈکیتی (دفعہ 397) اور اقدامِ قتل (دفعہ 324) جیسے مقدمات میں مطلوب تھا۔ یہ ڈاکو عوام کے لیے خوف کی علامت بنا ہوا تھا اور مختلف وارداتوں میں ملوث رہا تھا۔

    ڈیرہ غازی خان پولیس نے اس کارروائی کو انسدادِ جرائم کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں امن و امان قائم رکھنا اور عوام کی جان و مال کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔ ہلاک ہونے والے ڈاکو کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں جبکہ موقع سے ملنے والے شواہد کی بنیاد پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • ڈیرہ غازی خان: ٹیچنگ ہسپتال کی کینٹین میں لوٹ مار، انتظامیہ خاموش، ادارے ناکام

    ڈیرہ غازی خان: ٹیچنگ ہسپتال کی کینٹین میں لوٹ مار، انتظامیہ خاموش، ادارے ناکام

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواداکبر) ٹیچنگ ہسپتال کی کینٹین میں لوٹ مار، انتظامیہ خاموش، ادارے ناکام

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان ٹیچنگ ہسپتال میں کینٹین کا ٹھیکہ حاصل کرنے والی کمپنی نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو کر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ کنٹین میں من مانے داموں پر مصنوعات اشیاء فروخت کی جارہی ہیں، کم معیار کی اشیا مہنگی قیمتوں پر بیچ رہی ہے اور مختلف برانڈز کی نقل کر کے عوام کو دھوکہ دیاجارہاہے۔ اس سب کے باوجود مقامی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے اس مسئلے پر خاموش ہیں، جس کے باعث عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں۔

    کینٹین کے ٹھیکے میں ایک حصہ دار نے خود کو محفوظ سمجھتے ہوئے کہا کہ "میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا” اور یہ دعوی کیا کہ اس نے تمام متعلقہ افراد کو راضی کر لیا ہے۔ اس نے میڈیا کو کنٹرول کرنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ اپنے کاروبار کو تحفظ دینے کے لیے ایک بڑے میڈیا گروپ کو جائن کیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حکومتی اداروں کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر بدعنوانیوں کو بلا روک ٹوک جاری رکھے ہوئے ہے۔

    یہ خبر بھی پڑھیں

    ڈیرہ غازیخان:ٹیچنگ ہسپتال میں آپریشن کے بعد انفیکشنزمیں خطرناک اضافہ،مریض مرنے لگے
    ڈیرہ غازی خان: ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال کی انتظامی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش
    ڈیرہ غازیخان: ٹیچنگ ہسپتال میں سروس ڈیلوری کا بحران، مریض شدید مشکلات کا شکار
    ڈیرہ غازی خان: ہسپتال کا عملہ معصوم ہے، شکایات کیسی؟۔ ایم ایس / کیا پورا شہر جھوٹا ہے؟۔ مہر فدا
    ڈیرہ غازی خان: ٹیچنگ ہسپتال میں ملنے والے کٹے سر کا معمہ حل نہ ہوسکا، سیکیورٹی اہلکار کہاں لے گئے؟

    ٹیچنگ ہسپتال کی کینٹین کا ٹھیکہ ایک ایسی کمپنی کو دیا گیا ہے جس کے خلاف مختلف شکایات سامنے آ چکی ہیں۔ کمپنی نے کینٹین میں ایسی اشیا فراہم کرنا شروع کی ہیں جو مارکیٹ میں دستیاب معیاری اشیا کے مقابلے میں نہ صرف کم معیار کی ہیں بلکہ ان کی قیمتیں بھی بہت زیادہ ہیں۔ مثال کے طور پر 20 روپے کا بسکٹ 40 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے اور 80 سے 100 روپے تک کی بوتلیں مارکیٹ ریٹ سے مہنگی فروخت کی جا رہی ہیں۔ہسپتال کنٹین کے ٹھیکیدار نے کم معیار کی اشیا بیچنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ مختلف برانڈز کی نقل کر کے انہیں اصلی بنا کر فروخت کیا جا رہا ہے۔ مارکیٹ میں موجود اصلی برانڈز کی جگہ مقامی طور پر تیار شدہ غیر معیاری مصنوعات بیچنے کا عمل جاری ہے، جس سے مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    اس تمام صورتحال پر ہسپتال کی انتظامیہ نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور اس مسئلے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ مقامی حکام جیسے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹ بھی اس معاملے پر کچھ نہیں کر رہے۔ ان اداروں نے اپنے دفاتر تک محدود رہتے ہوئے اس مسئلے پر توجہ نہیں دی جبکہ عوام اس لوٹ مار کا شکار ہو کر سخت پریشانی میں ہیں۔

    عوام کامطالبہ ہے کہ بتایا جائے کہ ہسپتال کی کینٹین کا ٹھیکہ کس کمپنی کو دیا گیا ہے اور اس کمپنی کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے؟ہسپتال کی انتظامیہ نے اس غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے کیا ردعمل ظاہر کیا ہے؟پنجاب فوڈ اتھارٹی اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹ اس مسئلے پر کیا اقدامات کر رہے ہیں؟

    عوام نے اس سلسلے میں کمشنر ڈیرہ غازی خان، ڈپٹی کمشنر، پنجاب فوڈ اتھارٹی اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹ سے فوری کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کینٹین میں اشیا کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے، معیار کو بہتر بنایا جائے اور صفائی ستھرائی کے حالات میں بھی بہتری لائی جائے۔

  • ڈیرہ غازی خان: کم اجرت دینے والے اداروں کے خلاف لیبر ڈیپارٹمنٹ متحرک

    ڈیرہ غازی خان: کم اجرت دینے والے اداروں کے خلاف لیبر ڈیپارٹمنٹ متحرک

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نامہ نگار شہزاد خان) لیبر ڈیپارٹمنٹ ڈیرہ غازی خان نے کم اجرت دینے والے پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیوں، کاٹن فیکٹریز، فلور ملز اور دیگر اداروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    لیبر آفیسر محمد عقیل نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اور حکومت کے ویژن کے مطابق تمام ورکرز کی کم از کم اجرت کا تحفظ یقینی بنایا جا رہا ہے۔ مہنگائی کے موجودہ حالات میں غریب ورکروں اور سیکیورٹی گارڈز کی اجرت کے تحفظ کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ صنعتی ادارے، فلور ملز، کاٹن فیکٹریز، پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیاں، دکانیں، بھٹہ مالکان اور رائس ملز مالکان اپنے ورکرز کو 8 گھنٹے کی ڈیوٹی پر پابند رکھیں اور کم از کم ماہانہ اجرت 37 ہزار روپے ادا کریں۔

    اگر کوئی ادارہ یا کمپنی کم اجرت دیتے ہوئے پکڑی گئی تو ان کے خلاف فیکٹری شاپ ایکٹ کے تحت چالان کیا جائے گا۔ لیبر آفیسر نے تمام صنعتی اور تجارتی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ادارے بروقت لیبر ڈیپارٹمنٹ میں رجسٹرڈ کرائیں۔

    یہ اقدام غریب ورکرز کے معاشی تحفظ کو یقینی بنانے اور ان کے حقوق کی فراہمی کے لیے اٹھایا گیا ہے۔