Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • ڈیرہ غازی خان: سول لائن پولیس کا جرائم پیشہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن

    ڈیرہ غازی خان: سول لائن پولیس کا جرائم پیشہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، نامہ نگارشہزاد خان) سول لائن پولیس نے جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کے لیے اپنے اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ حساس مقامات پر سفید لباس میں اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ منشیات فروشوں اور قبحہ خانوں کے خلاف بھی بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔

    ایس ایچ او تھانہ سول لائن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تمام کارروائیاں ڈی پی او سید علی کی خصوصی ہدایات پر کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں کی روک تھام کے لیے کچہری روڈ اور ٹیچنگ اسپتال جیسے حساس مقامات پر سفید لباس میں سیکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں تاکہ جرائم پیشہ عناصر پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔

    ایس ایچ او نے مزید بتایا کہ علاقے میں منشیات فروشوں اور قبحہ خانوں کے خلاف بھی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد نہ صرف مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے بلکہ عوام میں تحفظ کا احساس پیدا کرنا بھی ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ جرائم پیشہ عناصر کے لیے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ایسے افراد جو معصوم شہریوں کا نقصان کرتے ہیں، انہیں قانون کے مطابق سخت سزائیں دی جائیں گی۔ سول لائن پولیس عوام کی حفاظت اور امن و امان کی بحالی کے لیے دن رات سرگرم ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جا رہا ہے۔

    عوام نے پولیس کے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ان کارروائیوں سے علاقے میں جرائم کی شرح میں کمی آئے گی اور شہری محفوظ ماحول میں اپنی زندگی بسر کر سکیں گے۔

  • ڈیرہ غازی خان: ایکسائز انسپکٹر کا مبینہ اغواء، پولیس متحرک، ترجمان

    ڈیرہ غازی خان: ایکسائز انسپکٹر کا مبینہ اغواء، پولیس متحرک، ترجمان

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواد اکبر) ایکسائز انسپکٹر کا مبینہ اغواء، پولیس کی تفتیش جاری، ترجمان

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان پولیس کے مطابق ایکسائز انسپکٹر شیخ سکندر الزمان اہل خانہ سے رابطہ منقطع ہونے پر لاپتہ قرار دیے گئے ہیں، جس کے بعد ان کے اغواء کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اغواء کا مقدمہ درج کیا اور تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق مغوی کی بازیابی کے لیے جدید تکنیکی وسائل کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ CCTV کیمروں کی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ مغوی کے موبائل فون کے CDRs اور لوکیشن ڈیٹا کا تجزیہ بھی جاری ہے۔ مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور مشتبہ افراد کو شاملِ تفتیش کیا گیا ہے۔

    اس خبر کو بھی پڑھیں
    ڈیرہ غازی خان: ایکسائز انسپکٹر شیخ سکندرزمان مبینہ اغواء، مقدمہ درج
    پولیس ترجمان نے مزید کہا کہ ڈی پی او سید علی کی ہدایت پر ایس پی انویسٹیگیشن کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو مغوی کی تلاش میں مصروف عمل ہے۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے اور جلد مثبت نتائج کی امید ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: ایکسائز انسپکٹر شیخ سکندرزمان مبینہ  اغواء، مقدمہ درج

    ڈیرہ غازی خان: ایکسائز انسپکٹر شیخ سکندرزمان مبینہ اغواء، مقدمہ درج

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرجواد اکبر) ایکسائز انسپکٹر شیخ سکندرزمان مبینہ اغواء، مقدمہ درج

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے تھانہ گدائی میں ایکسائز انسپکٹر شیخ سکندر الزمان کے اغواء کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ان کے بھائی مبشر الزمان کی درخواست پر پولیس نے کارروائی کا آغاز کیا۔ مبشر الزمان نے پولیس کو بتایا کہ ان کے بھائی، شیخ سکندر الزمان جو ڈیرہ غازی خان میں ایکسائز انسپکٹر کے طور پر کام کرتے ہیں، گزشتہ شب اپنی گاڑی ویگنار کار نمبر ANQ429 پر روانہ ہوئے تھے لیکن وہ واپس نہیں لوٹے۔

    مبشر الزمان نے مزید بتایا کہ ان کے بھائی کا موبائل فون بند آ رہا تھا جس کی وجہ سے انہیں تشویش ہوئی۔ انہوں نے متعدد بار مختلف نمبروں سے رابطہ کیا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ اس دوران ریحان اکبر اور جاوید ستار بھی ان کی مدد کے لیے آئے اور مل کر شیخ سکندر الزمان کی تلاش کی گئی مگر ابھی تک ان کا پتہ نہیں چل سکا۔

    مبشر الزمان نے اس بات کا قومی شبہ ظاہر کیا کہ ان کے بھائی کو اغواء کیا گیا ہے اور ان کی گمشدگی کے پیچھے نامعلوم افراد کی سازش ہو سکتی ہے۔ ان کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔ ان کی درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قانونی کارروائی کے تحت مناسب اقدامات کیے جائیں۔

    پولیس نے اس معاملے کی ابتدائی تفتیش کی اور مقدمہ 365 کے تحت درج کر لیا ہے، جس پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • پیر عادل:تیز رفتاری کے باعث کوسٹر الٹنے سے 12 افراد زخمی، 4 کی حالت تشویشناک

    پیر عادل:تیز رفتاری کے باعث کوسٹر الٹنے سے 12 افراد زخمی، 4 کی حالت تشویشناک

    پیرعادل(باغی ٹی وی،نامہ نگارباسط علی گاڈی)ڈیرہ غازی خان کے علاقے میں انڈس ہائی وے پر تیز رفتاری کے باعث ایک مسافر کوسٹر (LWN-1325) حادثے کا شکار ہو کر الٹ گئی۔ کوسٹر میں ایک ہی خاندان کے افراد سوار تھے جو پیر عادل سے وزیرستان میں شادی کی تقریب کے لیے جا رہے تھے۔ حادثے کے نتیجے میں 12 افراد زخمی ہو گئے جن میں سے 4 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    ریسکیو 1122 کنٹرول روم کو ایمرجنسی کال موصول ہونے پر فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔ قریبی موجود دو ایمبولینسز اور سینٹرل اسٹیشن سے دو مزید ایمبولینسز اور ایک ریسکیو وہیکل جائے حادثہ پر روانہ کی گئیں۔ ریسکیو ٹیم نے موقع پر زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور انہیں علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازی خان منتقل کیا۔

    ریسکیو ٹیم نے الٹی ہوئی کوسٹر کو سڑک سے ہٹا کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ حادثہ کالا شہر کے قریب انڈس ہائی وے پر پیش آیا اور تمام زخمیوں کا تعلق پیر عادل سے ہے۔ حادثے کی اطلاع ڈی سی کنٹرول اور پولیس کو بھی فراہم کر دی گئی ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: ہسپتال کا عملہ معصوم ہے، شکایات کیسی؟۔ ایم ایس / کیا پورا شہر جھوٹا ہے؟۔  مہر فدا

    ڈیرہ غازی خان: ہسپتال کا عملہ معصوم ہے، شکایات کیسی؟۔ ایم ایس / کیا پورا شہر جھوٹا ہے؟۔ مہر فدا

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ)علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال میں مبینہ کرپشن اور بدانتظامی کے معاملے پر سول سوسائٹی کے نمائندہ اور ہائیکورٹ کے وکیل مہر فدا حسین ایڈووکیٹ نے سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہسپتال کے عملے کی جانب سے مریضوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا ہتک آمیز سلوک اور انتظامی معاملات میں بے ضابطگیاں باعث تشویش ہیں۔

    انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہسپتال انتظامیہ خصوصاََ ایم ایس ڈاکٹر عبدالرحمن عامران مسائل کو تسلیم کرنے کے بجائے انکار کی راہ اختیار کر رہے ہیں۔ ایم ایس نے دعوی کیا ہے کہ ان کا پورا عملہ بشمول ڈاکٹرز اور دیگر اسٹاف معصوم ہیں اور ایمانداری سے کام کر رہے ہیں ،ان سے کسی قسم کی کوتاہی ہوہی نہیں سکتی اور کرپشن کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    مہر فدا حسین نے کہا کہ جب وہ اپنے والد کے علاج کے لیے ہسپتال گئے تو انہیں اور ان کے اہل خانہ کو توہین آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اس معاملے پر ایم ایس سے شکایت کی مگر ایم ایس کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں سب کچھ درست ہے۔ مہر فدا نے طنزیہ لہجے میں کہا، "کیا پورا شہر ہی جھوٹا ہے؟”

    ان کا مطالبہ ہے کہ ڈیرہ غازی خان کے ٹیچنگ ہسپتال میں بھی نشتر ہسپتال ملتان کی طرز پر شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ ذمہ داران کا تعین ہو اور عوام کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔واضح رہے کہ نشتر ہسپتال میں ڈائیلسز یونٹ سے ایڈز وائرس کے کیس کی تحقیقات میں ایم ایس اور متعلقہ عملے کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازی خان میں بھی اسی طرح کی سخت اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔

  • سخی سرور میں اوقاف کی زمینوں پر قبضے، ہوشرباء کرپشن اسکینڈل

    سخی سرور میں اوقاف کی زمینوں پر قبضے، ہوشرباء کرپشن اسکینڈل

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی رپورٹ)سخی سرور میں اوقاف کی زمینوں پر قبضے، ہوشرباء کرپشن اسکینڈل

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے قریب سخی سرور میں محکمہ اوقاف کی اربوں روپے مالیت کی زمینوں پر بڑے پیمانے پر قبضے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس غیر قانونی عمل میں محکمے کے اہلکاروں کے ملوث ہونے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ قبضہ مافیا نے محکمے کے اہلکاروں کی مدد سے ایک منظم نیٹ ورک قائم کیا اور ہزاروں ایکڑ اراضی پر قبضہ کر لیا، جس سے نہ صرف حکومت کو مالی نقصان پہنچا بلکہ مقامی افراد کی زندگیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

    سخی سرور میں محکمہ اوقاف کی ہزاروں ایکڑ زرعی زمینوں پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔ یہ زمینیں نہ صرف حکومت کی آمدن کا ایک اہم ذریعہ تھیں بلکہ مقامی کمیونٹی کے لیے روزگار کا بھی وسیلہ تھیں۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ محکمہ اوقاف کے زونل ایڈمنسٹریٹر سمیت دیگر اہلکاروں نے قبضہ مافیا کو سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے میں مدد فراہم کی۔ ان اہلکاروں نے زمینوں کی نشاندہی کی اور قبضے کے عمل میں سہولت فراہم کی۔

    ذرائع کے مطابق محکمے کے اہلکاروں نے ہر قبضے کے بدلے رشوت وصول کی۔ اس کے علاوہ، قبضہ مافیا نے زمینوں کی غیر قانونی خرید و فروخت سے اربوں روپے کا فائدہ اٹھایا۔ قبضہ شدہ اراضی کی وجہ سے مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع کم ہو گئے ہیں اور زمینوں کی قیمتیں بھی غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہیں، جس سے ان کی زندگیوں میں مشکلات آئی ہیں۔

    عوام اور سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا نوٹس لیں اور ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ محکمہ اوقاف نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے پاس ناجائز تعمیرات کو مسمار کرنے کا اختیار اور وسائل موجود نہیں، اور وہ بارہا اعلی حکام کو تحریری طور پر آگاہ کر چکے ہیں، تاہم قبضہ مافیا دوبارہ زمینوں پر قابض ہو جاتا ہے۔

    عوامی سطح پر اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ قبضہ شدہ زمینوں کو فوراً واپس کیا جائے اور انہیں اپنے اصل مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ محکمہ اوقاف کے تمام ریکارڈ کو آن لائن کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی نگرانی ممکن ہو سکے۔ مزید برآں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس معاملے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے اور قبضہ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔

    سخی سرور میں اوقافی زمینوں پر قبضہ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے جس کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت کو اس معاملے کی سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے تاکہ اس قسم کی کرپشن کا خاتمہ کیا جا سکے اور مقامی افراد کو ان کی جائز زمینوں تک رسائی حاصل ہو سکے۔

  • ڈیرہ غازیخان: ٹیچنگ ہسپتال میں سروس ڈیلوری کا بحران، مریض شدید مشکلات کا شکار

    ڈیرہ غازیخان: ٹیچنگ ہسپتال میں سروس ڈیلوری کا بحران، مریض شدید مشکلات کا شکار

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی رپورٹ) ٹیچنگ ہسپتال میں سروس ڈیلوری کا بحران، مریض شدید مشکلات کا شکار

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازیخان کے ٹیچنگ ہسپتال میں علاج کروانا مریضوں کے لیے ایک بڑا امتحان بن گیا ہے۔ ہسپتال میں بے ترتیبی، اقربا پروری اور سفارش کلچر نے عام لوگوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، ٹیچنگ ہسپتال میں سروس ڈیلوری کی حالت دگرگوں ہوچکی ہے، جس کے باعث مریضوں اور ان کے لواحقین کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا ہے۔

    بیڈ گورننس اور سفارش کلچر کی وجہ سے ہسپتال میں مریضوں کا علاج مشکل ہوگیا ہے اور سسٹم میں موجود بدعنوانیوں نے مریضوں کی زندگی کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ہسپتال میں پرچی لائن میں مریضوں کو دو سے تین گھنٹے تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ مریض جب اپنی باری پر پرچی کاؤنٹر پر پہنچتے ہیں تو کئی بار انہیں انتظار کے باوجود اپنی باری کے بجائے کسی سیکیورٹی گارڈ، نرس یا چپڑاسی کے ذریعے مخصوص افراد کی پرچیاں تیار ہوتے دیکھنا پڑتا ہے جو بغیر کسی اصول کے فوراََ علاج کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ جبکہ مریض جو اپنی باری کے منتظر ہوتے ہیں انہیں نظرانداز کر دیا جاتا ہے اور اگر وہ میرٹ کی بات کرتے ہیں تو انہیں بے عزتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    پرچی کے حصول کے بعد مریضوں کو ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے مزید گھنٹوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر کی جانب سے دی جانے والی دوائی لینے کے لیے مریضوں کو فارمیسی میں بھی طویل لائنوں کا سامنا ہوتا ہے جہاں کچھ دوائیاں فراہم کی جاتی ہیں لیکن باقی کا کہاجاتا ہے کہ وہ بازار سے خریدنی ہوں گی۔ اس ساری صورتحال کی وجہ سے عوام کا اعتماد حکومتی نظام پر سے اٹھ چکا ہے۔

    یہ خبر بھی پڑھیں
    ڈیرہ غازی خان: ٹیچنگ ہسپتال میں ملنے والے کٹے سر کا معمہ حل نہ ہوسکا، سیکیورٹی اہلکار کہاں لے گئے؟

    ڈیرہ غازیخان:ٹیچنگ ہسپتال میں آپریشن کے بعد انفیکشنزمیں خطرناک اضافہ،مریض مرنے لگے

    منتخب عوامی نمائندے اور ضلعی انتظامیہ صرف فوٹوشو ٹ و پروٹوکول انجوائے کر رہے ہیں اور ہسپتال کی حقیقت سے مکمل طور پر بے خبر ہیں۔ ناقص نگرانی اور غیر مؤثر اقدامات کے باعث تمام وسائل دستیاب ہونے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔ہروقت میڈیا میں نظرآنے کی شوقین ہسپتال انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے عوامی سطح پر شدید مایوسی اور غم و غصہ پایا جا رہا ہےاور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو اس سے ہسپتال کے نظام پر مزید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

    اس بدانتظامی کے باعث شہریوں نے وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال کی سروس ڈیلوری میں بہتری لائی جا سکے اور مریضوں کو بہتر علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

  • ڈیرہ غازی خان: تھانہ کالا کی حدود میں فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق، تین زخمی

    ڈیرہ غازی خان: تھانہ کالا کی حدود میں فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق، تین زخمی

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹر جواداکبر) آج صبح تھانہ کالا کی حدود میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک شخص جاں بحق اور تین افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کو اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی صدر حماد نبی اور ایس ایچ او تھانہ کالا طاہر سلیم فوری طور پر موقع پر پہنچے۔

    عینی شاہدین کے مطابق گاڑی میں سوار افراد ڈیرہ غازی خان جا رہے تھے کہ اچانک موٹر سائیکل سوار ملزمان نے ان پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں محمد شہباز موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق واقعے کی وجہ پرانی دشمنی ہو سکتی ہے۔ ڈیرہ غازی خان پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں اور قانون کے مطابق مزید کارروائی جاری ہے۔

    ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سید علی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کی ہے اور ملزمان کی جلد گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔ پولیس کی کوشش ہے کہ ملزمان کو قانون کی گرفت میں لایا جائے تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کیا جا سکے۔

  • نوکری کا جھانسہ دےکر پیسوں کا الزام،زرتاج گل کی ضمانت منظور

    نوکری کا جھانسہ دےکر پیسوں کا الزام،زرتاج گل کی ضمانت منظور

    ڈیرہ غازی خان،پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل کو خوشخبری مل گئی، انسدادِ دہشت گردی عدالت نے زرتاج گل کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی۔

    راجن پور کے ایڈیشنل سیشن جج ملک محمد لطیف کی عدالت نے زرتاج گل کے خلاف پیسے لے کر نوکری کا جھانسہ دینے اور زمین پر قبضے کے مقدمے کی سماعت کی، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد زرتاج گل کی درخواست ضمانت منظور کر لی،زرتاج گل پر ڈیرہ غازی خان میں 7 اے ٹی اے کے تحت مقدمہ درج ہے۔مقدمہ ڈی جی خان کےتھانہ بی ایم پی سخی سرور میں ایک شہری ظفر حسین کی درخواست پردرج کیا گیا ہے،مدعی مقدمہ نے الزام عائد کیا کہ زرتاج گل نے سول ہسپتال سخی سرور میں نوکری دلوانے کے عوض پانچ لاکھ روپے لیے،ڈھائی سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود تو نوکری دلائی اور نہ ہی رقم واپس کی

    قبل ازیں گزشتہ روز زرتاج گل کو راجن پور کی مقامی عدالت نے ایک مقدمے میں بری کر دیا تھا،مقامی عدالت کے جج نے 4 ماہ قبل تھانہ بی ایم پی کوٹ سبزل میں درج ہونے والے مقدمے میں زرتاج گل کو بری کیا ہے۔

    عمران خان زندہ باد نعرہ لگانے پر مقدمہ بنا دیا جاتا ہے،زرتاج گل
    عدالتی فیصلے کے بعد زرتاج گل کا کہنا تھا کہ میں عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاتی رہوں گی مجھے بھی اور میرے لیڈر عمران خان کو بھی انصاف یہاں سے ملے گا۔ہمارے اوپر پنجاب پولیس نے مقدمے کئے، ہم پولیس کی وردی کی عزت کرتے ہیں،دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں لیکن زرتاج گل پرعمران خان زندہ باد نعرہ لگانے پر مقدمہ بنا دیا جاتا ہے، کیا یہ دہشت گردی ہے، عدالت نے آج پولیس سے پوچھا کہ اس پر جواب دیں لیکن پولیس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا،ڈیرہ غازیخان ڈویژن جہاں پر ہمیں بلوچستان کا بارڈر لگتا ہے ہمیں سندھ کا بارڈر لگتا ہے کے پی کے کا بارڈر لگتا ہے سمگلنگ یہاں عروج پہ ہے ڈاکوؤں کے یہاں پر ڈاکو راج ہے دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں اب اس پورے ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں انکو ایک ہی خاتون ملی ہے زرتاج گل جس کو دہشت گرد بناکر یہاں پیش کیا، اور جو جرم مجھ پر لگایا گیا کہ زرتاج گل وزیر نے رہا کرو عمران خان کے نعرے لگائیں، سب سے تکلیف اس بات کی ہوئی ہے کہ وہ ساتھ مجرمہ نام لگاکر عدالت میں پکا رہے تھے، میں ایک ایم این اے ہوں ڈیڑھ لاکھ ووٹ لیکر ائی ہوں، جج صاحب نے میری اس کیس میں کنفرم ضمانت منظور کرلی اور کہا کہ یہ بالکل سیاسی اور جھوٹا ایف آئی آر ہے اور پولیس کے خلاف فوری انکوائری کا حکم جاری کردیا، میری سیاست میرا جینا مرنا اس ملک میں ہے اور انصاف کے لئے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا رہوں گی انصاف کی امید صرف اور صرف عدالتوں اور معزز میرٹ پسند ججز سے ہے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • ڈیرہ غازی خان: VICS سنٹرز میں فٹنس ایس او پیز نظرانداز، کھٹارا گاڑیاں شہریوں کے لیے وبال جان

    ڈیرہ غازی خان: VICS سنٹرز میں فٹنس ایس او پیز نظرانداز، کھٹارا گاڑیاں شہریوں کے لیے وبال جان

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی رپورٹ) پبلک ٹرانسپورٹ کی کھٹارہ گاڑیاں حادثات اور آلودگی کا باعث بن گئیں، شہریوں کا فوری ایکشن کا مطالبہ

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان کی سڑکوں پر ناقص حالت میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیاں شہریوں کے لیے سنگین مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ رکشہ سے لے کر ہیوی ٹرکوں تک، اکثر گاڑیاں فٹنس کے معیارات پر پوری نہیں اترتیں، جس کے نتیجے میں روزانہ حادثات اور صوتی و فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔

    قانون کے مطابق، پنجاب موٹر وہیکل آرڈینینس 1965ء اور موٹر وہیکل رول 1969ء کے تحت پنجاب میں چلنے والی تمام اقسام کی پبلک سروس وہیکلز، چاہے وہ ہیوی ڈیوٹی ہوں، لائٹ ڈیوٹی، یا رکشہ وغیرہ، کے لیے ہر چھ ماہ بعد فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی ہے۔ تاہم، ڈیرہ غازی خان میں یہ قانون عملاً نظرانداز کیا جا رہا ہے، اور متعلقہ محکمے جیسے وہیکل رجسٹریشن اور ایگزامنیشن پاسنگ ڈپارٹمنٹ کی غفلت اور نااہلی کی وجہ سے ہزاروں شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔

    حکومت پنجاب نے ڈیرہ غازی خان سمیت مختلف شہروں میں "وہیکل انسپیکشن اینڈ سرٹیفیکیشن سسٹم” (VICS) کے تحت گاڑیوں کی فٹنس چیک کرنے اور سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے سنٹرز قائم کیے ہیں۔ مگر ڈیرہ غازی خان میں یہ عمل یا تو سست روی کا شکار ہے یا مکمل طور پر التوا میں ہے۔ ان سنٹرز میں فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا مقصد گاڑیوں کی معیاری فٹنس کو یقینی بنانا ہے تاکہ حادثات اور آلودگی کی شرح کم کی جا سکے، لیکن یہاں سہولت کا عدم انتظام شہریوں کو مزید مشکلات میں مبتلا کر رہا ہے۔

    شہری حلقوں نے وزیر ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور کمشنر ڈیرہ غازی خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر فٹنس چیکنگ کا نظام بحال کریں اور شہر کی سڑکوں پر دوڑنے والی گاڑیوں کی فٹنس چیکنگ کے لیے خصوصی مہم کا آغاز کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی فٹنس چیکنگ میں کوتاہی انسانی جانوں کے نقصان کا باعث بن سکتی ہے اور اس مسئلے کا فوری حل نکالا جانا چاہیے تاکہ سڑکوں پر محفوظ اور ماحول دوست سفر کو یقینی بنایا جا سکے۔