Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • ڈیرہ غازی خان: ہسپتال کا عملہ معصوم ہے، شکایات کیسی؟۔ ایم ایس / کیا پورا شہر جھوٹا ہے؟۔  مہر فدا

    ڈیرہ غازی خان: ہسپتال کا عملہ معصوم ہے، شکایات کیسی؟۔ ایم ایس / کیا پورا شہر جھوٹا ہے؟۔ مہر فدا

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ)علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال میں مبینہ کرپشن اور بدانتظامی کے معاملے پر سول سوسائٹی کے نمائندہ اور ہائیکورٹ کے وکیل مہر فدا حسین ایڈووکیٹ نے سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہسپتال کے عملے کی جانب سے مریضوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا ہتک آمیز سلوک اور انتظامی معاملات میں بے ضابطگیاں باعث تشویش ہیں۔

    انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہسپتال انتظامیہ خصوصاََ ایم ایس ڈاکٹر عبدالرحمن عامران مسائل کو تسلیم کرنے کے بجائے انکار کی راہ اختیار کر رہے ہیں۔ ایم ایس نے دعوی کیا ہے کہ ان کا پورا عملہ بشمول ڈاکٹرز اور دیگر اسٹاف معصوم ہیں اور ایمانداری سے کام کر رہے ہیں ،ان سے کسی قسم کی کوتاہی ہوہی نہیں سکتی اور کرپشن کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    مہر فدا حسین نے کہا کہ جب وہ اپنے والد کے علاج کے لیے ہسپتال گئے تو انہیں اور ان کے اہل خانہ کو توہین آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اس معاملے پر ایم ایس سے شکایت کی مگر ایم ایس کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں سب کچھ درست ہے۔ مہر فدا نے طنزیہ لہجے میں کہا، "کیا پورا شہر ہی جھوٹا ہے؟”

    ان کا مطالبہ ہے کہ ڈیرہ غازی خان کے ٹیچنگ ہسپتال میں بھی نشتر ہسپتال ملتان کی طرز پر شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ ذمہ داران کا تعین ہو اور عوام کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔واضح رہے کہ نشتر ہسپتال میں ڈائیلسز یونٹ سے ایڈز وائرس کے کیس کی تحقیقات میں ایم ایس اور متعلقہ عملے کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازی خان میں بھی اسی طرح کی سخت اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔

  • سخی سرور میں اوقاف کی زمینوں پر قبضے، ہوشرباء کرپشن اسکینڈل

    سخی سرور میں اوقاف کی زمینوں پر قبضے، ہوشرباء کرپشن اسکینڈل

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی رپورٹ)سخی سرور میں اوقاف کی زمینوں پر قبضے، ہوشرباء کرپشن اسکینڈل

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے قریب سخی سرور میں محکمہ اوقاف کی اربوں روپے مالیت کی زمینوں پر بڑے پیمانے پر قبضے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس غیر قانونی عمل میں محکمے کے اہلکاروں کے ملوث ہونے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ قبضہ مافیا نے محکمے کے اہلکاروں کی مدد سے ایک منظم نیٹ ورک قائم کیا اور ہزاروں ایکڑ اراضی پر قبضہ کر لیا، جس سے نہ صرف حکومت کو مالی نقصان پہنچا بلکہ مقامی افراد کی زندگیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

    سخی سرور میں محکمہ اوقاف کی ہزاروں ایکڑ زرعی زمینوں پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔ یہ زمینیں نہ صرف حکومت کی آمدن کا ایک اہم ذریعہ تھیں بلکہ مقامی کمیونٹی کے لیے روزگار کا بھی وسیلہ تھیں۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ محکمہ اوقاف کے زونل ایڈمنسٹریٹر سمیت دیگر اہلکاروں نے قبضہ مافیا کو سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے میں مدد فراہم کی۔ ان اہلکاروں نے زمینوں کی نشاندہی کی اور قبضے کے عمل میں سہولت فراہم کی۔

    ذرائع کے مطابق محکمے کے اہلکاروں نے ہر قبضے کے بدلے رشوت وصول کی۔ اس کے علاوہ، قبضہ مافیا نے زمینوں کی غیر قانونی خرید و فروخت سے اربوں روپے کا فائدہ اٹھایا۔ قبضہ شدہ اراضی کی وجہ سے مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع کم ہو گئے ہیں اور زمینوں کی قیمتیں بھی غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہیں، جس سے ان کی زندگیوں میں مشکلات آئی ہیں۔

    عوام اور سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا نوٹس لیں اور ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ محکمہ اوقاف نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے پاس ناجائز تعمیرات کو مسمار کرنے کا اختیار اور وسائل موجود نہیں، اور وہ بارہا اعلی حکام کو تحریری طور پر آگاہ کر چکے ہیں، تاہم قبضہ مافیا دوبارہ زمینوں پر قابض ہو جاتا ہے۔

    عوامی سطح پر اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ قبضہ شدہ زمینوں کو فوراً واپس کیا جائے اور انہیں اپنے اصل مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ محکمہ اوقاف کے تمام ریکارڈ کو آن لائن کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی نگرانی ممکن ہو سکے۔ مزید برآں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس معاملے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے اور قبضہ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔

    سخی سرور میں اوقافی زمینوں پر قبضہ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے جس کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت کو اس معاملے کی سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے تاکہ اس قسم کی کرپشن کا خاتمہ کیا جا سکے اور مقامی افراد کو ان کی جائز زمینوں تک رسائی حاصل ہو سکے۔

  • ڈیرہ غازیخان: ٹیچنگ ہسپتال میں سروس ڈیلوری کا بحران، مریض شدید مشکلات کا شکار

    ڈیرہ غازیخان: ٹیچنگ ہسپتال میں سروس ڈیلوری کا بحران، مریض شدید مشکلات کا شکار

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی رپورٹ) ٹیچنگ ہسپتال میں سروس ڈیلوری کا بحران، مریض شدید مشکلات کا شکار

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازیخان کے ٹیچنگ ہسپتال میں علاج کروانا مریضوں کے لیے ایک بڑا امتحان بن گیا ہے۔ ہسپتال میں بے ترتیبی، اقربا پروری اور سفارش کلچر نے عام لوگوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، ٹیچنگ ہسپتال میں سروس ڈیلوری کی حالت دگرگوں ہوچکی ہے، جس کے باعث مریضوں اور ان کے لواحقین کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا ہے۔

    بیڈ گورننس اور سفارش کلچر کی وجہ سے ہسپتال میں مریضوں کا علاج مشکل ہوگیا ہے اور سسٹم میں موجود بدعنوانیوں نے مریضوں کی زندگی کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ہسپتال میں پرچی لائن میں مریضوں کو دو سے تین گھنٹے تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ مریض جب اپنی باری پر پرچی کاؤنٹر پر پہنچتے ہیں تو کئی بار انہیں انتظار کے باوجود اپنی باری کے بجائے کسی سیکیورٹی گارڈ، نرس یا چپڑاسی کے ذریعے مخصوص افراد کی پرچیاں تیار ہوتے دیکھنا پڑتا ہے جو بغیر کسی اصول کے فوراََ علاج کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ جبکہ مریض جو اپنی باری کے منتظر ہوتے ہیں انہیں نظرانداز کر دیا جاتا ہے اور اگر وہ میرٹ کی بات کرتے ہیں تو انہیں بے عزتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    پرچی کے حصول کے بعد مریضوں کو ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے مزید گھنٹوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر کی جانب سے دی جانے والی دوائی لینے کے لیے مریضوں کو فارمیسی میں بھی طویل لائنوں کا سامنا ہوتا ہے جہاں کچھ دوائیاں فراہم کی جاتی ہیں لیکن باقی کا کہاجاتا ہے کہ وہ بازار سے خریدنی ہوں گی۔ اس ساری صورتحال کی وجہ سے عوام کا اعتماد حکومتی نظام پر سے اٹھ چکا ہے۔

    یہ خبر بھی پڑھیں
    ڈیرہ غازی خان: ٹیچنگ ہسپتال میں ملنے والے کٹے سر کا معمہ حل نہ ہوسکا، سیکیورٹی اہلکار کہاں لے گئے؟

    ڈیرہ غازیخان:ٹیچنگ ہسپتال میں آپریشن کے بعد انفیکشنزمیں خطرناک اضافہ،مریض مرنے لگے

    منتخب عوامی نمائندے اور ضلعی انتظامیہ صرف فوٹوشو ٹ و پروٹوکول انجوائے کر رہے ہیں اور ہسپتال کی حقیقت سے مکمل طور پر بے خبر ہیں۔ ناقص نگرانی اور غیر مؤثر اقدامات کے باعث تمام وسائل دستیاب ہونے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔ہروقت میڈیا میں نظرآنے کی شوقین ہسپتال انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے عوامی سطح پر شدید مایوسی اور غم و غصہ پایا جا رہا ہےاور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو اس سے ہسپتال کے نظام پر مزید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

    اس بدانتظامی کے باعث شہریوں نے وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال کی سروس ڈیلوری میں بہتری لائی جا سکے اور مریضوں کو بہتر علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

  • ڈیرہ غازی خان: تھانہ کالا کی حدود میں فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق، تین زخمی

    ڈیرہ غازی خان: تھانہ کالا کی حدود میں فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق، تین زخمی

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹر جواداکبر) آج صبح تھانہ کالا کی حدود میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک شخص جاں بحق اور تین افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کو اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی صدر حماد نبی اور ایس ایچ او تھانہ کالا طاہر سلیم فوری طور پر موقع پر پہنچے۔

    عینی شاہدین کے مطابق گاڑی میں سوار افراد ڈیرہ غازی خان جا رہے تھے کہ اچانک موٹر سائیکل سوار ملزمان نے ان پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں محمد شہباز موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق واقعے کی وجہ پرانی دشمنی ہو سکتی ہے۔ ڈیرہ غازی خان پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں اور قانون کے مطابق مزید کارروائی جاری ہے۔

    ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سید علی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کی ہے اور ملزمان کی جلد گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔ پولیس کی کوشش ہے کہ ملزمان کو قانون کی گرفت میں لایا جائے تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کیا جا سکے۔

  • نوکری کا جھانسہ دےکر پیسوں کا الزام،زرتاج گل کی ضمانت منظور

    نوکری کا جھانسہ دےکر پیسوں کا الزام،زرتاج گل کی ضمانت منظور

    ڈیرہ غازی خان،پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل کو خوشخبری مل گئی، انسدادِ دہشت گردی عدالت نے زرتاج گل کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی۔

    راجن پور کے ایڈیشنل سیشن جج ملک محمد لطیف کی عدالت نے زرتاج گل کے خلاف پیسے لے کر نوکری کا جھانسہ دینے اور زمین پر قبضے کے مقدمے کی سماعت کی، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد زرتاج گل کی درخواست ضمانت منظور کر لی،زرتاج گل پر ڈیرہ غازی خان میں 7 اے ٹی اے کے تحت مقدمہ درج ہے۔مقدمہ ڈی جی خان کےتھانہ بی ایم پی سخی سرور میں ایک شہری ظفر حسین کی درخواست پردرج کیا گیا ہے،مدعی مقدمہ نے الزام عائد کیا کہ زرتاج گل نے سول ہسپتال سخی سرور میں نوکری دلوانے کے عوض پانچ لاکھ روپے لیے،ڈھائی سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود تو نوکری دلائی اور نہ ہی رقم واپس کی

    قبل ازیں گزشتہ روز زرتاج گل کو راجن پور کی مقامی عدالت نے ایک مقدمے میں بری کر دیا تھا،مقامی عدالت کے جج نے 4 ماہ قبل تھانہ بی ایم پی کوٹ سبزل میں درج ہونے والے مقدمے میں زرتاج گل کو بری کیا ہے۔

    عمران خان زندہ باد نعرہ لگانے پر مقدمہ بنا دیا جاتا ہے،زرتاج گل
    عدالتی فیصلے کے بعد زرتاج گل کا کہنا تھا کہ میں عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاتی رہوں گی مجھے بھی اور میرے لیڈر عمران خان کو بھی انصاف یہاں سے ملے گا۔ہمارے اوپر پنجاب پولیس نے مقدمے کئے، ہم پولیس کی وردی کی عزت کرتے ہیں،دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں لیکن زرتاج گل پرعمران خان زندہ باد نعرہ لگانے پر مقدمہ بنا دیا جاتا ہے، کیا یہ دہشت گردی ہے، عدالت نے آج پولیس سے پوچھا کہ اس پر جواب دیں لیکن پولیس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا،ڈیرہ غازیخان ڈویژن جہاں پر ہمیں بلوچستان کا بارڈر لگتا ہے ہمیں سندھ کا بارڈر لگتا ہے کے پی کے کا بارڈر لگتا ہے سمگلنگ یہاں عروج پہ ہے ڈاکوؤں کے یہاں پر ڈاکو راج ہے دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں اب اس پورے ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں انکو ایک ہی خاتون ملی ہے زرتاج گل جس کو دہشت گرد بناکر یہاں پیش کیا، اور جو جرم مجھ پر لگایا گیا کہ زرتاج گل وزیر نے رہا کرو عمران خان کے نعرے لگائیں، سب سے تکلیف اس بات کی ہوئی ہے کہ وہ ساتھ مجرمہ نام لگاکر عدالت میں پکا رہے تھے، میں ایک ایم این اے ہوں ڈیڑھ لاکھ ووٹ لیکر ائی ہوں، جج صاحب نے میری اس کیس میں کنفرم ضمانت منظور کرلی اور کہا کہ یہ بالکل سیاسی اور جھوٹا ایف آئی آر ہے اور پولیس کے خلاف فوری انکوائری کا حکم جاری کردیا، میری سیاست میرا جینا مرنا اس ملک میں ہے اور انصاف کے لئے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا رہوں گی انصاف کی امید صرف اور صرف عدالتوں اور معزز میرٹ پسند ججز سے ہے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • ڈیرہ غازی خان: VICS سنٹرز میں فٹنس ایس او پیز نظرانداز، کھٹارا گاڑیاں شہریوں کے لیے وبال جان

    ڈیرہ غازی خان: VICS سنٹرز میں فٹنس ایس او پیز نظرانداز، کھٹارا گاڑیاں شہریوں کے لیے وبال جان

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی رپورٹ) پبلک ٹرانسپورٹ کی کھٹارہ گاڑیاں حادثات اور آلودگی کا باعث بن گئیں، شہریوں کا فوری ایکشن کا مطالبہ

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان کی سڑکوں پر ناقص حالت میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیاں شہریوں کے لیے سنگین مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ رکشہ سے لے کر ہیوی ٹرکوں تک، اکثر گاڑیاں فٹنس کے معیارات پر پوری نہیں اترتیں، جس کے نتیجے میں روزانہ حادثات اور صوتی و فضائی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔

    قانون کے مطابق، پنجاب موٹر وہیکل آرڈینینس 1965ء اور موٹر وہیکل رول 1969ء کے تحت پنجاب میں چلنے والی تمام اقسام کی پبلک سروس وہیکلز، چاہے وہ ہیوی ڈیوٹی ہوں، لائٹ ڈیوٹی، یا رکشہ وغیرہ، کے لیے ہر چھ ماہ بعد فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی ہے۔ تاہم، ڈیرہ غازی خان میں یہ قانون عملاً نظرانداز کیا جا رہا ہے، اور متعلقہ محکمے جیسے وہیکل رجسٹریشن اور ایگزامنیشن پاسنگ ڈپارٹمنٹ کی غفلت اور نااہلی کی وجہ سے ہزاروں شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔

    حکومت پنجاب نے ڈیرہ غازی خان سمیت مختلف شہروں میں "وہیکل انسپیکشن اینڈ سرٹیفیکیشن سسٹم” (VICS) کے تحت گاڑیوں کی فٹنس چیک کرنے اور سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے سنٹرز قائم کیے ہیں۔ مگر ڈیرہ غازی خان میں یہ عمل یا تو سست روی کا شکار ہے یا مکمل طور پر التوا میں ہے۔ ان سنٹرز میں فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا مقصد گاڑیوں کی معیاری فٹنس کو یقینی بنانا ہے تاکہ حادثات اور آلودگی کی شرح کم کی جا سکے، لیکن یہاں سہولت کا عدم انتظام شہریوں کو مزید مشکلات میں مبتلا کر رہا ہے۔

    شہری حلقوں نے وزیر ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور کمشنر ڈیرہ غازی خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر فٹنس چیکنگ کا نظام بحال کریں اور شہر کی سڑکوں پر دوڑنے والی گاڑیوں کی فٹنس چیکنگ کے لیے خصوصی مہم کا آغاز کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی فٹنس چیکنگ میں کوتاہی انسانی جانوں کے نقصان کا باعث بن سکتی ہے اور اس مسئلے کا فوری حل نکالا جانا چاہیے تاکہ سڑکوں پر محفوظ اور ماحول دوست سفر کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • ڈیرہ غازی خان: بڑھتے حادثات، بین الصوبائی کوئٹہ روڈ کو دو رویہ کرنے کا عوامی مطالبہ

    ڈیرہ غازی خان: بڑھتے حادثات، بین الصوبائی کوئٹہ روڈ کو دو رویہ کرنے کا عوامی مطالبہ

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر جواد اکبر) کوئٹہ روڈ پر بڑھتے ہوئے حادثات شہریوں کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ڈیرہ سخی سرور روڈ پر ایک افسوسناک حادثے میں نجی تعلیمی ادارے کی وین کی ٹرک سے ٹکر کے نتیجے میں پرنسپل سمیت چار افراد جاں بحق جبکہ متعدد اساتذہ شدید زخمی ہوگئے۔ حادثے کی بنیادی وجوہات میں تیز رفتاری اور اوور لوڈ گاڑیوں کی بے قابو نقل و حرکت شامل ہیں۔

    عوامی اور سماجی حلقوں نے اس تشویش ناک صورتحال پر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بین الصوبائی کوئٹہ روڈ کو دو رویہ بنایا جائے تاکہ حادثات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب ہائی وے پولیس سے رفتار کی مؤثر نگرانی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

  • ڈی جی خان: ٹیچنگ ہسپتال,کینٹن مافیا کی لوٹ مار، عوام کی جیبوں پر ڈاکہ، انتظامیہ خاموش

    ڈی جی خان: ٹیچنگ ہسپتال,کینٹن مافیا کی لوٹ مار، عوام کی جیبوں پر ڈاکہ، انتظامیہ خاموش

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرجواد اکبر) ٹیچنگ ہسپتال میں کینٹن مافیا کی لوٹ مار، عوام کی جیبوں پر ڈاکہ، انتظامیہ خاموش

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے ٹیچنگ ہسپتال میں کینٹن کے نام پر عوام سے لوٹ مار کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔ ہسپتال میں تین مختلف مقامات پر کینٹن کھول کر اشیاء کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کیا گیا ہے۔ کینٹن کے عملے نے عوام کو چمٹری اتارنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا، جہاں عام مارکیٹ قیمتوں سے کہیں زیادہ قیمتیں وصول کی جا رہی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ہسپتال کے کینٹن میں 20 روپے کا بسکٹ 40 روپے میں بیچا جا رہا ہے جبکہ 80 سے 100 روپے میں ریگولر بوتلیں فروخت کی جا رہی ہیں جو مارکیٹ میں کہیں سستی ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ منرل واٹر کے نام پر دو نمبر برانڈ کی بوتلیں بھی فروخت کی جا رہی ہیں، جنہیں اصل مصنوعات کے طور پر بیچا جا رہا ہے۔

    یہ تمام صورتحال ہسپتال انتظامیہ کی خاموشی کے سبب چل رہی ہے جو اس مافیا کے ساتھ مک مکا کر کے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹ بھی اس معاملے سے غافل ہیں اور عوام کو اس لوٹ مار سے بچانے کے لیے کوئی اقدام نہیں کر رہے۔

    مریضوں اور ان کے لواحقین نے کمشنر ڈیرہ غازی خان، ڈپٹی کمشنر، پنجاب فوڈ اتھارٹی اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹ سے فوری طور پر اس مافیا کے خلاف کارروائی کرنے اور ہسپتال میں صفائی، معیار اور قیمتوں پر قابو پانے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • جرائم اور سوشل میڈیا کی وجہ سے خلیجی ممالک نے پاکستانیوں پر ویزا پابندی لگادی

    جرائم اور سوشل میڈیا کی وجہ سے خلیجی ممالک نے پاکستانیوں پر ویزا پابندی لگادی

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی رپورٹ)جرائم اور سوشل میڈیا کی وجہ سے خلیجی ممالک نے پاکستانیوں پر ویزا پابندی لگادی

    تفصیلات کے متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں حالیہ دنوں میں پاکستانی شہریوں کو ویزا کے اجرا میں مشکلات اور سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔ یہ پابندیاں ملتان، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، بھکر اور میانوالی سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں پر خاص طور پر لاگو کی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، کچھ پاکستانیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر اماراتی قوانین پر طنزیہ تبصرے اور بعض افراد کی مبینہ مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں شاپنگ مالز اور شاہراہوں پر ہنگامہ آرائی، ذاتی دشمنیوں کے نتیجے میں لڑائی جھگڑے اور قتل کے واقعات شامل ہیں۔ ان الزامات کے تحت متعدد پاکستانیوں کو قید اور کچھ کو ملک بدر کیا گیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی جانب سے مجرمانہ سرگرمیوں پر سخت کارروائیوں کے نتیجے میں پاکستانی شہریوں کے لیے ویزے معطل کیے گئے ہیں۔ سلطنت عمان اور سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ریاستوں نے بھی پاکستانیوں کی گرفتاری اور ملک بدری کے اقدامات کیے ہیں۔ خلیجی ممالک نے حال ہی میں ایک مشترکہ سافٹ ویئر سسٹم متعارف کروایا ہے جس کے ذریعے بلیک لسٹ کیے گئے افراد کا ڈیٹا تمام ریاستوں میں شیئر کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ریاست میں ممنوع قرار دیا گیا شخص دیگر ریاستوں میں بھی داخل نہیں ہو سکے گا۔

    اس صورتحال نے جنوبی پنجاب کے نوجوانوں کو شدید متاثر کیا ہے، جو روزگار کے مواقع کی تلاش میں خلیجی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ ویزے کی معطلی اور پابندیاں ان کے لیے روزگار کے مواقع مزید محدود کر رہی ہیں۔ عوامی حلقے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ چند افراد کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے پوری کمیونٹی کو سزا نہ دی جائے۔ حکومت پاکستان پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی سطح پر بات چیت کرے اور اس مسئلے کا فوری حل تلاش کرے تاکہ ویزوں کی بحالی اور وہاں مقیم پاکستانیوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے۔

    حکومت پاکستان اور وزارت خارجہ و اوورسیز کو چاہئے کہ وہ تمام خلیجی ممالک سے اس مسئلے کے حل کے لیے بامقصد مذاکرات کریں اور پاکستانی نوجوانوں کے اجتماعی مسائل کو بھرپور طریقے سے اجاگر کریں۔ کسی ایک فرد کے انفرادی جرم کی سزا پوری کمیونٹی پر نہ دی جائے۔ پاکستانی شہریوں کے لیے قوانین کی پاسداری کو یقینی بناتے ہوئے وہاں قیام اور روزگار کے مواقع بہتر بنائے جائیں۔ مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کو فروغ دیا جائے اور ایسی متفقہ پالیسیاں بنائی جائیں جن سے دونوں فریقین کے مفادات محفوظ رہ سکیں۔

  • کچے کے علاقے میں لُنڈ گینگ کے سرغنہ شاہد لُنڈ کی ہلاکت – مکمل کہانی

    کچے کے علاقے میں لُنڈ گینگ کے سرغنہ شاہد لُنڈ کی ہلاکت – مکمل کہانی

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی) پنجاب کے کچے کے علاقے میں خطرناک ڈاکو شاہد لُنڈ کی ہلاکت کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ شاہد لُنڈ، جو لُنڈ گینگ کا سربراہ تھا اور 28 سے زائد سنگین مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا، حالیہ دنوں میں ایک خفیہ منصوبہ بندی کے تحت قتل ہوا۔ ذرائع کے مطابق یہ ہلاکت پولیس اور عمر لُنڈ کے درمیان کیے گئے ایک خفیہ معاہدے کا نتیجہ تھی، جس کے تحت عمر لُنڈ نے اپنے گینگ کے سربراہ کو قتل کر کے قانونی تحفظ اور اپنے مقدمات کے خاتمے کی یقین دہانی حاصل کی۔

    قتل کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد
    پولیس کے خفیہ ذرائع کے مطابق علی پور میں تعینات ایک اعلیٰ پولیس افسر نے عمر لُنڈ کو راضی کیا کہ وہ شاہد لُنڈ کو ہلاک کرے۔ اس کے بدلے میں عمر کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں سندھ سے بھی کئی ڈاکو شامل ہوئے۔ اس تقریب میں عمر لُنڈ نے شاہد لُنڈ پر فائرنگ کی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔

    قتل کے بعد کا منظر
    شاہد لُنڈ کو قتل کرنے کے بعد عمر لُنڈ نے دیگر گینگ ممبرز کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر فائرنگ کے دوران اس کی رائفل میں گولی پھنس گئی۔ بعد میں اس نے راکٹ لانچر سے حملہ کرنے کی کوشش کی مگر لانچر کی پن بھی پھنس گئی۔ اس صورتحال کے پیش نظر عمر نے چھوٹے دریا کو عبور کیا اور راجن پور پہنچ کر خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

    پولیس کا ردعمل اور کامیابی کا دعویٰ
    رحیم یار خان اور راجن پور کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں شاہد لُنڈ کی ہلاکت کو پولیس نے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے آئی جی پنجاب نے پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف یہ کارروائی امن و امان کے قیام کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ پولیس نے شاہد لُنڈ کا مجرمانہ ریکارڈ بھی عوام کے سامنے پیش کیا جس میں پولیس اہلکاروں کی شہادت، اغوا برائے تاوان اور ڈکیتی جیسے سنگین جرائم شامل تھے۔
    https://x.com/OfficialDPRPP/status/1854931010582204787

    عوامی ردعمل اور مقامی صورتحال
    شاہد لُنڈ کی ہلاکت کے بعد کچے کے علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ردعمل سے نمٹا جا سکے۔ مقامی لوگوں نے پولیس کی اس کارروائی کو سراہا ہے جبکہ عوامی حلقوں میں اس بات کی امید پیدا ہوئی ہے کہ ڈاکوؤں کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

    ماضی میں شاہد لُنڈ کا طرز عمل اور سوشل میڈیا پر ویڈیو
    یہ بھی یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل شاہد لُنڈ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ محکمہ داخلہ کے ایک نمبر پر مبینہ کال کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس ویڈیو میں اس نے اپنی زندگی کے بارے میں بات کی اور دعویٰ کیا کہ اصل مجرموں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس کی ہلاکت نے کچے کے علاقے میں موجود دیگر گینگ ممبرز کے لیے واضح پیغام دے دیا ہے۔

    پنجاب پولیس کا بیان اور آئندہ کا لائحہ عمل
    پنجاب پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ یہ کارروائی عوام کے تحفظ اور امن کی بحالی کے لیے ان کے عزم کا اظہار ہے۔ کچے کے علاقے میں موجود ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔