Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • ڈیرہ غازی خان: بڑھتے حادثات، بین الصوبائی کوئٹہ روڈ کو دو رویہ کرنے کا عوامی مطالبہ

    ڈیرہ غازی خان: بڑھتے حادثات، بین الصوبائی کوئٹہ روڈ کو دو رویہ کرنے کا عوامی مطالبہ

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی، سٹی رپورٹر جواد اکبر) کوئٹہ روڈ پر بڑھتے ہوئے حادثات شہریوں کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ڈیرہ سخی سرور روڈ پر ایک افسوسناک حادثے میں نجی تعلیمی ادارے کی وین کی ٹرک سے ٹکر کے نتیجے میں پرنسپل سمیت چار افراد جاں بحق جبکہ متعدد اساتذہ شدید زخمی ہوگئے۔ حادثے کی بنیادی وجوہات میں تیز رفتاری اور اوور لوڈ گاڑیوں کی بے قابو نقل و حرکت شامل ہیں۔

    عوامی اور سماجی حلقوں نے اس تشویش ناک صورتحال پر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بین الصوبائی کوئٹہ روڈ کو دو رویہ بنایا جائے تاکہ حادثات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب ہائی وے پولیس سے رفتار کی مؤثر نگرانی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

  • ڈی جی خان: ٹیچنگ ہسپتال,کینٹن مافیا کی لوٹ مار، عوام کی جیبوں پر ڈاکہ، انتظامیہ خاموش

    ڈی جی خان: ٹیچنگ ہسپتال,کینٹن مافیا کی لوٹ مار، عوام کی جیبوں پر ڈاکہ، انتظامیہ خاموش

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرجواد اکبر) ٹیچنگ ہسپتال میں کینٹن مافیا کی لوٹ مار، عوام کی جیبوں پر ڈاکہ، انتظامیہ خاموش

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے ٹیچنگ ہسپتال میں کینٹن کے نام پر عوام سے لوٹ مار کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔ ہسپتال میں تین مختلف مقامات پر کینٹن کھول کر اشیاء کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کیا گیا ہے۔ کینٹن کے عملے نے عوام کو چمٹری اتارنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا، جہاں عام مارکیٹ قیمتوں سے کہیں زیادہ قیمتیں وصول کی جا رہی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ہسپتال کے کینٹن میں 20 روپے کا بسکٹ 40 روپے میں بیچا جا رہا ہے جبکہ 80 سے 100 روپے میں ریگولر بوتلیں فروخت کی جا رہی ہیں جو مارکیٹ میں کہیں سستی ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ منرل واٹر کے نام پر دو نمبر برانڈ کی بوتلیں بھی فروخت کی جا رہی ہیں، جنہیں اصل مصنوعات کے طور پر بیچا جا رہا ہے۔

    یہ تمام صورتحال ہسپتال انتظامیہ کی خاموشی کے سبب چل رہی ہے جو اس مافیا کے ساتھ مک مکا کر کے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹ بھی اس معاملے سے غافل ہیں اور عوام کو اس لوٹ مار سے بچانے کے لیے کوئی اقدام نہیں کر رہے۔

    مریضوں اور ان کے لواحقین نے کمشنر ڈیرہ غازی خان، ڈپٹی کمشنر، پنجاب فوڈ اتھارٹی اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹ سے فوری طور پر اس مافیا کے خلاف کارروائی کرنے اور ہسپتال میں صفائی، معیار اور قیمتوں پر قابو پانے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • جرائم اور سوشل میڈیا کی وجہ سے خلیجی ممالک نے پاکستانیوں پر ویزا پابندی لگادی

    جرائم اور سوشل میڈیا کی وجہ سے خلیجی ممالک نے پاکستانیوں پر ویزا پابندی لگادی

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی رپورٹ)جرائم اور سوشل میڈیا کی وجہ سے خلیجی ممالک نے پاکستانیوں پر ویزا پابندی لگادی

    تفصیلات کے متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں حالیہ دنوں میں پاکستانی شہریوں کو ویزا کے اجرا میں مشکلات اور سخت پابندیوں کا سامنا ہے۔ یہ پابندیاں ملتان، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، بھکر اور میانوالی سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں پر خاص طور پر لاگو کی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، کچھ پاکستانیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر اماراتی قوانین پر طنزیہ تبصرے اور بعض افراد کی مبینہ مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں شاپنگ مالز اور شاہراہوں پر ہنگامہ آرائی، ذاتی دشمنیوں کے نتیجے میں لڑائی جھگڑے اور قتل کے واقعات شامل ہیں۔ ان الزامات کے تحت متعدد پاکستانیوں کو قید اور کچھ کو ملک بدر کیا گیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی جانب سے مجرمانہ سرگرمیوں پر سخت کارروائیوں کے نتیجے میں پاکستانی شہریوں کے لیے ویزے معطل کیے گئے ہیں۔ سلطنت عمان اور سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ریاستوں نے بھی پاکستانیوں کی گرفتاری اور ملک بدری کے اقدامات کیے ہیں۔ خلیجی ممالک نے حال ہی میں ایک مشترکہ سافٹ ویئر سسٹم متعارف کروایا ہے جس کے ذریعے بلیک لسٹ کیے گئے افراد کا ڈیٹا تمام ریاستوں میں شیئر کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ریاست میں ممنوع قرار دیا گیا شخص دیگر ریاستوں میں بھی داخل نہیں ہو سکے گا۔

    اس صورتحال نے جنوبی پنجاب کے نوجوانوں کو شدید متاثر کیا ہے، جو روزگار کے مواقع کی تلاش میں خلیجی ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ ویزے کی معطلی اور پابندیاں ان کے لیے روزگار کے مواقع مزید محدود کر رہی ہیں۔ عوامی حلقے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ چند افراد کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے پوری کمیونٹی کو سزا نہ دی جائے۔ حکومت پاکستان پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی سطح پر بات چیت کرے اور اس مسئلے کا فوری حل تلاش کرے تاکہ ویزوں کی بحالی اور وہاں مقیم پاکستانیوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے۔

    حکومت پاکستان اور وزارت خارجہ و اوورسیز کو چاہئے کہ وہ تمام خلیجی ممالک سے اس مسئلے کے حل کے لیے بامقصد مذاکرات کریں اور پاکستانی نوجوانوں کے اجتماعی مسائل کو بھرپور طریقے سے اجاگر کریں۔ کسی ایک فرد کے انفرادی جرم کی سزا پوری کمیونٹی پر نہ دی جائے۔ پاکستانی شہریوں کے لیے قوانین کی پاسداری کو یقینی بناتے ہوئے وہاں قیام اور روزگار کے مواقع بہتر بنائے جائیں۔ مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کو فروغ دیا جائے اور ایسی متفقہ پالیسیاں بنائی جائیں جن سے دونوں فریقین کے مفادات محفوظ رہ سکیں۔

  • کچے کے علاقے میں لُنڈ گینگ کے سرغنہ شاہد لُنڈ کی ہلاکت – مکمل کہانی

    کچے کے علاقے میں لُنڈ گینگ کے سرغنہ شاہد لُنڈ کی ہلاکت – مکمل کہانی

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی) پنجاب کے کچے کے علاقے میں خطرناک ڈاکو شاہد لُنڈ کی ہلاکت کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ شاہد لُنڈ، جو لُنڈ گینگ کا سربراہ تھا اور 28 سے زائد سنگین مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا، حالیہ دنوں میں ایک خفیہ منصوبہ بندی کے تحت قتل ہوا۔ ذرائع کے مطابق یہ ہلاکت پولیس اور عمر لُنڈ کے درمیان کیے گئے ایک خفیہ معاہدے کا نتیجہ تھی، جس کے تحت عمر لُنڈ نے اپنے گینگ کے سربراہ کو قتل کر کے قانونی تحفظ اور اپنے مقدمات کے خاتمے کی یقین دہانی حاصل کی۔

    قتل کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد
    پولیس کے خفیہ ذرائع کے مطابق علی پور میں تعینات ایک اعلیٰ پولیس افسر نے عمر لُنڈ کو راضی کیا کہ وہ شاہد لُنڈ کو ہلاک کرے۔ اس کے بدلے میں عمر کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں سندھ سے بھی کئی ڈاکو شامل ہوئے۔ اس تقریب میں عمر لُنڈ نے شاہد لُنڈ پر فائرنگ کی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔

    قتل کے بعد کا منظر
    شاہد لُنڈ کو قتل کرنے کے بعد عمر لُنڈ نے دیگر گینگ ممبرز کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر فائرنگ کے دوران اس کی رائفل میں گولی پھنس گئی۔ بعد میں اس نے راکٹ لانچر سے حملہ کرنے کی کوشش کی مگر لانچر کی پن بھی پھنس گئی۔ اس صورتحال کے پیش نظر عمر نے چھوٹے دریا کو عبور کیا اور راجن پور پہنچ کر خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

    پولیس کا ردعمل اور کامیابی کا دعویٰ
    رحیم یار خان اور راجن پور کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں شاہد لُنڈ کی ہلاکت کو پولیس نے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے آئی جی پنجاب نے پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف یہ کارروائی امن و امان کے قیام کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ پولیس نے شاہد لُنڈ کا مجرمانہ ریکارڈ بھی عوام کے سامنے پیش کیا جس میں پولیس اہلکاروں کی شہادت، اغوا برائے تاوان اور ڈکیتی جیسے سنگین جرائم شامل تھے۔
    https://x.com/OfficialDPRPP/status/1854931010582204787

    عوامی ردعمل اور مقامی صورتحال
    شاہد لُنڈ کی ہلاکت کے بعد کچے کے علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ردعمل سے نمٹا جا سکے۔ مقامی لوگوں نے پولیس کی اس کارروائی کو سراہا ہے جبکہ عوامی حلقوں میں اس بات کی امید پیدا ہوئی ہے کہ ڈاکوؤں کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

    ماضی میں شاہد لُنڈ کا طرز عمل اور سوشل میڈیا پر ویڈیو
    یہ بھی یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل شاہد لُنڈ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ محکمہ داخلہ کے ایک نمبر پر مبینہ کال کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس ویڈیو میں اس نے اپنی زندگی کے بارے میں بات کی اور دعویٰ کیا کہ اصل مجرموں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس کی ہلاکت نے کچے کے علاقے میں موجود دیگر گینگ ممبرز کے لیے واضح پیغام دے دیا ہے۔

    پنجاب پولیس کا بیان اور آئندہ کا لائحہ عمل
    پنجاب پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ یہ کارروائی عوام کے تحفظ اور امن کی بحالی کے لیے ان کے عزم کا اظہار ہے۔ کچے کے علاقے میں موجود ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

  • ڈیرہ غازی خان: ٹیچنگ ہسپتال میں ملنے والے کٹے سر کا معمہ حل نہ ہوسکا، سیکیورٹی اہلکار کہاں لے گئے؟

    ڈیرہ غازی خان: ٹیچنگ ہسپتال میں ملنے والے کٹے سر کا معمہ حل نہ ہوسکا، سیکیورٹی اہلکار کہاں لے گئے؟

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی رپورٹ) علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال میں کٹا ہوا سر ملنے کا انوکھا واقعہ، شکوک و شبہات میں اضافہ،3 نومبر 2024 کو ڈیرہ غازی خان میں ایک ہولناک اور عجیب واقعہ سامنے آیا جب ریسکیو 1122 کنٹرول روم کو اطلاع ملی کہ علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال کی نئی بلڈنگ میں ایک بچے کا کٹا ہوا سر پڑا ہے۔ اطلاع پر فوری ردعمل دیتے ہوئے ریسکیو کی ایک ٹیم اور ایمبولینس جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور پولیس کو بھی اطلاع دے دی گئی۔ موقع پر موجود عملے کو بغیر دھڑ کے ایک کٹا ہوا سر ملا جو نہایت پراسرار حالات میں وہاں موجود تھا۔ اس کے باوجود حیرت انگیز طور پر ہسپتال کے سکیورٹی عملے نے پولیس کا انتظار کیے بغیر سر کو اپنے قبضے میں لے لیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جس سے معاملے پر مزید سوالات اٹھ گئے۔

    بچے کا باقی جسم یا دھڑ کہاں ہے؟ کیا اسے کسی اور جگہ چھپا دیا گیا یا پھر اس کے ساتھ کسی مجرمانہ فعل کا ارتکاب کیا گیا؟یہ کٹا ہوا سر کس کا ہے؟ کیا اس کی شناخت یا عمر کا کوئی پتہ چلا ہے؟اس سوال کا جواب تلاش کرنا بھی ضروری ہے کہ کٹا ہوا سر ہسپتال کی نئی بلڈنگ میں کیسے پہنچا؟کیا بچہ مردہ حالت میں تھا یا اسے زندہ حالت میں کسی نے نقصان پہنچایا؟ اگر یہ سر گائنی وارڈ سے منسلک ہے تو زچہ کون تھی اور اس کا کیا کردار ہو سکتا ہے؟کیا بچے کے جسم کو آوارہ جانوروں نے کھا لیا یا وہ کہیں اور منتقل کر دیا گیا؟کہیں بچے کی باڈی کو غیرقانونی طورپر میڈیکل کے مقاصد کیلئے استعمال تو نہیں کیا گیا۔ اس امر پر بھی شکوک و شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ کیا اس کٹے ہوئے سر کا پوسٹ مارٹم کیا گیا اور اگر کیا گیا تو اس کی رپورٹ کیا ہے؟ہسپتال انتظامیہ اور سکیورٹی عملے کے کردار پر سوالات ہیں کہ ہسپتال کے سکیورٹی عملے نے سر کو بغیر پولیس کے آنے کے کیوں اٹھایا؟ ہسپتال انتظامیہ اور خاص طور پر ایم ایس ڈاکٹر عبدالرحمن عامر قیصرانی کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

    اس واقعے کی سوشل میڈیا پر خبر پھیلتے ہی کمشنر اور ڈپٹی کمشنر نے رپورٹ طلب کر لی مگر تاحال کوئی پیش رفت یا رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ ہسپتال انتظامیہ پر اس معاملے کو دبانے کی کوشش کرنے کا الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے،اس معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات انتہائی ضروری ہیں۔

    یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ تھانہ سول لائن نے کیا قانونی کارروائی کی اور کرائم سین یونٹ کوہسپتال میں بلایا گیا؟ ،اگرکرائم سین یونٹ موقع پر پہنچا ہے توکیاانہوں نے تمام پہلوں کا جائزہ لیا؟بچے کے سر کا پوسٹ مارٹم کرایا اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ریکارڈ کو چیک کیا؟۔ شہریوں نے وزیراعلی پنجاب اور اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کا سدباب ہو سکے۔

  • کوٹ چھٹہ: سخی سرور میں المناک ٹریفک حادثہ، پرنسپل سمیت تین معلمات جاں بحق

    کوٹ چھٹہ: سخی سرور میں المناک ٹریفک حادثہ، پرنسپل سمیت تین معلمات جاں بحق

    کوٹ چھٹہ (باغی ٹی وی.تحصیل رپورٹرمریدحسین ٹالپور) ڈیرہ غازی خان کے علاقے سخی سرور کے قریب تومی موڑ پر المناک ٹریفک حادثہ پیش آیا، جس میں ہائی ایس وین اور سبزی سے لوڈ مزدہ گاڑی کے تصادم کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق ہو گئے۔ حادثہ سخی سرور بین الصوبائی شاہراہ پر کوئٹہ روڈ پر پیش آیا، جہاں بلوچستان سے پنجاب آنے والی تیز رفتار گاڑی چارٹر ہاؤس اسکول وین سے ٹکرا گئی۔

    حادثے میں اسکول کے پرنسپل، امجد امین، موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمیوں میں سے تین معلمات کرن بی بی، طاہرہ بی بی اور نوشین بی بی بھی جان کی بازی ہار گئیں۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ سخی سرور پولیس، پیٹرولنگ پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

    یہ حادثہ علاقے میں گہرے دکھ اور افسوس کا باعث بنا ہے، اور اہل خانہ سمیت تعلیمی حلقوں میں غم و اندوہ کی فضا قائم ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال کی انتظامی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش

    ڈیرہ غازی خان: ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال کی انتظامی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ) ایم ایس علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال نے انتظامی مسائل کو چھپانے کے لیے سوشل میڈیا پر ایک مختصر ویڈیو جاری کی جس میں مختلف اقدامات کا دعوی کیا گیا۔ ویڈیو میں بتایا گیا کہ ہسپتال میں ٹراما سینٹر کی لفٹ، ایکسرے پلانٹ، اور سی ٹی اسکین مشین ٹھیک کرائی گئی ہیں، نئی مشینیں نصب کی گئی ہیں اور ادویات کی فراہمی کو بہتر بنایا گیا ہے۔ لیکن اس ویڈیو کا مقصدہسپتال کی سنگین صورتحال پر پردہ ڈالنا تھا جس میں آپریشن کے بعد انفیکشنز اور علاج کی ناقص سہولیات جیسے مسائل نظر انداز کر دیے گئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازیخان میں علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال کے مسائل پر پردہ ڈالنے کے لیے ایم ایس ڈاکٹر عبدالرحمن عامر قیصرانی کی جانب سے سوشل میڈیا پرایک مختصر ویڈیو جاری کی گئی جس میں دعوی کیا گیا کہ ہسپتال میں مختلف سہولیات بہتر بنائی گئی ہیں۔ ویڈیو میں ٹراما سینٹر کی لفٹ، ایکسرے پلانٹ، سی ٹی اسکین مشین اور ایئرکنڈیشنڈ سسٹم کے بہتر کرنے کے دعوے کیے گئے ہیں جبکہ ہسپتال میں سیکیورٹی اور ادویات کی فراہمی کی صورتحال بہتربتائی گئی ہے۔ مگر اس ویڈیو میں ہسپتال کے اصل مسائل یعنی انفیکشن کی روک تھام اور علاج معالجے کی ناقص حالت کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔

    یہ خبر بھی پڑھیں
    ڈیرہ غازیخان:ٹیچنگ ہسپتال میں آپریشن کے بعد انفیکشنزمیں خطرناک اضافہ،مریض مرنے لگے

    جبکہ گذشتہ روز باغی ٹی وی کی خبر میں نشاندہی کی گئی تھی کہ ہسپتال کے ٹراما سینٹر، گائنی، یورولوجی، اور سرجیکل ڈیپارٹمنٹ میں ہونے والے آپریشنز کے بعد مریضوں کو شدید انفیکشن کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہسپتال میں سٹرلائزیشن کے ناقص انتظامات، غیر معیاری علاج اور لاپروائی کی وجہ سے آپریشن کے بعد مریضوں میں انفیکشن پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ استعمال شدہ آلات کو محض پانی سے دھوکر دوبارہ استعمال میں لانا اور اینٹی بائیوٹک ادویات کے غیر معیاری ہونے کی خبریں عام ہیں، جس سے مریضوں کی حالت بگڑ رہی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں متعدد ادویات کم قیمت کی خاطر ایکسپائرڈ کیمیکلز سے تیار کرائی جاتی ہیں، جس سے انفیکشن کنٹرول کے بجائے مزید بڑھتے ہیں۔ نرسنگ اور طبی عملہ بھی مناسب تربیت سے عاری ہے، جس کے نتیجے میں آپریشن کے بعد مریضوں کی ڈریسنگ بروقت اور جراثیم سے پاک نہیں کی جاتی، جس سے زخم خراب ہوکر پیچیدہ انفیکشن میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ہسپتال میں صفائی کا بھی فقدان ہے۔ آپریشن تھیٹرز اور وارڈز میں جراثیم سے پاک ماحول کی کمی کی وجہ سے مریضوں کے زخموں میں بیکٹیریا منتقل ہو کر خطرناک بیماریوں کا باعث بن رہے ہیں۔ بعض اوقات آپریشن کے آلات کو بغیر سٹرلائز کیے ایک مریض سے دوسرے مریض تک منتقل کیا جاتا ہے جو انفیکشن کی ایک بڑی وجہ ہے۔

    ایم ایس ڈاکٹر عبدالرحمن عامرقیصرانی نے اس اہم اور عوامی مسئلے کو پس پشت ڈالنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اعلی حکام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے ،شہریوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتال میں موجودایم ایس سمیت تمام کرپٹ افسران اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور انسٹرومنٹس کی موثر سٹرلائزیشن اور معیاری ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ مریضوں کی جانیں محفوظ بنائی جا سکیں

  • ڈیرہ غازیخان:ٹیچنگ ہسپتال میں آپریشن کے بعد انفیکشنزمیں خطرناک اضافہ،مریض مرنے لگے

    ڈیرہ غازیخان:ٹیچنگ ہسپتال میں آپریشن کے بعد انفیکشنزمیں خطرناک اضافہ،مریض مرنے لگے

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی رپورٹ)ٹیچنگ ہسپتال میں آپریشن کے بعد انفیکشنزمیں خطرناک اضافہ،مریض مرنے لگے

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال میں آپریشن کے بعد مریضوں کی بگڑتی ہوئی حالت اور بڑھتے ہوئے انفیکشنز نے مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ذرئع کے مطابق ہسپتال کے ٹراما سینٹر، گائنی، یورالوجی اور سرجیکل ڈیپارٹمنٹ میں کیے جانے والے آپریشنز کے بعد اکثر مریضوں کو صحتیاب ہونے کے بجائے شدید انفیکشن اور دیگر خطرناک بیماریوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔آپریشنز کے بعد انفیکشنز بڑھنے کی متعدد وجوہات ہیں سامنے آئی ہیں جن میں سب سے اہم ناقص سٹرلائزیشن، غیر معیاری علاج اور بے دھیانی شامل ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ہسپتال کے مختلف آپریشن تھیٹرز میں استعمال ہونے والے آلات(انسٹرومنٹس)کو بروقت اور موثر طریقے سے جراثیم سے پاک نہیں کیا جاتا۔ عموما آلات کو خالی پانی سے دھو کر دوبارہ استعمال میں لایا جاتا ہے، جس سے انفیکشن پھیلنے کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں۔اسی طرح ہسپتال میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی بیشتر ادویات خاص طور پر اینٹی بائیوٹک انجیکشنز ناقص اور غیر معیاری ہیں۔ ان ادویات کی تاثیر نہ ہونے کے برابر ہے اور ان کے استعمال سے انفیکشن کنٹرول ہونے کے بجائے مزید پھیل رہے ہیں ،مختلف ذرائع کی رپورٹوں کے مطابق ان ادویات کی لاگت میں کمی کی وجہ سے ایکسپائرڈ کیمیکلز استعمال کیے جا رہے ہیں۔

    دوسری طرف ہسپتال میں اکثر نرسز اور طبی عملہ مناسب تربیت اور تجربے سے عاری ہے۔ آپریشن کے بعد مریضوں کی بروقت اور جراثیم سے پاک ڈریسنگ نہ ہونے کی وجہ سے زخم خراب ہوجاتے ہیں اور انفیکشن میں تیزی آتی ہے۔ ان میں سے بعض زخموں کو مناسب توجہ نہ ملنے کی وجہ سے پیچیدہ انفیکشنز میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ساتھ ہی ہسپتال کے مختلف وارڈز اور آپریشن تھیٹرز میں صفائی کا فقدان ہے۔ آپریشن تھیٹرز میں موجود ساز و سامان کو باقاعدگی سے صاف نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے وہاں موجود بیکٹیریا اور دیگر جراثیم مریضوں کے زخموں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ہسپتال میں غفلت کی انتہا ہوگئی ہے کہ آپریشنز میں استعمال ہونے والے آلات کو بعض اوقات سٹرلائز کیے بغیر ایک سے دوسرے مریض پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ غیر پیشہ ورانہ عمل زخموں میں انفیکشن کی ایک بڑی وجہ بن چکا ہے، اس کے علاوہ انہتائی خطرناک بیماریاں جن میں ہیپاٹائٹس،ایڈز ودیگر موذی امراض شامل ہیں پھیل رہے ہیں،جن کے باعث مریض مزید سنگین مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔

    ایک رپورٹ کے مطابق انفیکشن اور مریضوں کی بگڑتی حالت کی بنیادی وجہ محکمہ صحت پنجاب میں کرپشن اور غیر ذمہ داری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹ افسران کے زیر اثر ناقص اور غیر معیاری ادویات کی سپلائی کو جاری رکھا گیا ہے۔ ان ادویات کی سپلائی میں افسران کی جانب سے کمیشن کی خاطر غیر معیاری اور سستے کیمیکلز استعمال کیے جا رہے ہیں جو مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں۔ ایکسپائرڈ اور ناقص ادویات کی لیبارٹری رپورٹس کو رشوت دے کر پاس کروا لیا جاتا ہے جس سے ہسپتالوں میں غیر معیاری علاج اور انفیکشن کا سلسلہ بڑھتا جارہاہے۔

    ڈیرہ غازیخان کے شہریوں نے حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے اس میگا کرپشن کے خاتمے اور محکمہ صحت پنجاب کے کرپٹ افسران کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ عوام کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں انسٹرومنٹس کی سٹرلائزیشن اور ادویات کی فراہمی کو موثر اور معیاری بنایا جائے تاکہ مریضوں کی زندگیاں محفوظ بنائی جاسکیں ۔

  • ڈیرہ غازی خان: نائب صوبیدار محمد قاسم کے اعزاز میں الوداعی تقریب کا انعقاد

    ڈیرہ غازی خان: نائب صوبیدار محمد قاسم کے اعزاز میں الوداعی تقریب کا انعقاد

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ) بلوچ لیوی لائنز میں ایک شاندار الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں ریٹائرڈ ہونے والے نائب صوبیدار محمد قاسم کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ یہ تقریب بلوچ لیوی کے اہلکاروں اور اعلیٰ افسران کی موجودگی میں منعقد ہوئی، جس میں ان کی خدمات اور پیشہ ورانہ زندگی کو سراہا گیا۔

    تقریب میں پولیٹیکل اسسٹنٹ اور کمانڈنٹ بلوچ لیوی اسد خان چانڈیہ نے خصوصی شرکت کی اور ریٹائرڈ نائب صوبیدار کو ہار پہناتے ہوئے تحائف بھی پیش کیے۔ انہوں نے کہا آپ نے اپنی محنت اور لگن کے ذریعے بلوچ لیوی میں جو خدمات انجام دیں ہیں، وہ قابل تحسین ہیں۔ آپ نے عزت و وقار کے ساتھ اپنی نوکری کی اور اب صحت مند حالت میں ریٹائرمنٹ حاصل کی۔ یہ ہم سب کے لیے ایک خوش قسمتی کی بات ہے کہ آپ ہماری فورس کا حصہ رہے۔”

    اس موقع پر صوبیدار میجر محمد سلیم اور ہیڈ کلرک مسرت عباس نے بھی ریٹائرڈ نائب صوبیدار کی تعریف کی اور کہا کہ نائب صوبیدار محمد قاسم نے اپنی پوری زندگی قوم کی خدمت میں گزاری اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔”

    تقریب کے دوران ریٹائرڈ نائب صوبیدار محمد قاسم نے بلوچ لیوی کی قیادت اور ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے انہیں ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جہاں انہوں نے خدمت کی۔

    اس الوداعی تقریب نے نہ صرف ریٹائرڈ نائب صوبیدار کی خدمات کو سراہنے کا موقع فراہم کیا بلکہ اس نے بلوچ لیوی کے نوجوان اہلکاروں کے لیے ایک مثال قائم کی کہ کس طرح محنت اور لگن کے ساتھ کام کیا جاتا ہے۔

    شرکاء نے ریٹائرڈ نائب صوبیدار محمد قاسم کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور دعا کی کہ وہ اپنے نئے سفر میں بھی کامیاب رہیں۔ یہ تقریب بلوچ لیوی کے اندر camaraderie اور احترام کی مثال پیش کرتی ہے اور اس بات کی علامت ہے کہ یہ فورس اپنے اہلکاروں کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کرتی۔

  • کوٹ چھٹہ:حلقہ این اے 186 اور پی پی 290/291 کی خستہ حال سڑکیں ،عوام کا فوری تعمیر کا مطالبہ

    کوٹ چھٹہ:حلقہ این اے 186 اور پی پی 290/291 کی خستہ حال سڑکیں ،عوام کا فوری تعمیر کا مطالبہ

    کوٹ چھٹہ (باغی ٹی وی، تحصیل رپورٹر)حلقہ این اے 186 اور پی پی 290/291 کی خستہ حال سڑکیں ،عوام کا فوری تعمیر کا مطالبہ

    تفصیل کے مطابق تحصیل کوٹ چھٹہ کے حلقہ این اے 186 اور پی پی 290/291 میں مرکزی سڑک کی خستہ حالی منتخب نمائندوں کی لاپرواہی کا منہ بولتا ثبوت بن چکی ہے۔ بستی تالپور تا جام پور روڈ جس میں پل 30 سے سیفن شوریہ تک کا علاقہ شامل ہے، مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے۔ اس سڑک کی خراب حالت کی وجہ سے آنے جانے والوں خصوصاً مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    یہ حلقہ لغاری سرداروں کا ہے جہاں سے ایم این اے اور ایم پی اے منتخب ہو چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ پانچ سے چھ کلومیٹر کا ٹکڑا ابھی تک تعمیر نہیں کیا جا سکا۔ حالیہ منصوبے میں چوٹی زیرین سے بستی تالپور تک کے پل 14 تک تعمیر ہونے والا روڈ دوبارہ اکھاڑ کر بنایا گیا جو سمجھ سے بالاتر ہے جبکہ ٹوٹے ہوئے روڈ کے نزدیک بھی جانے سے گریز کیا جا رہا ہے۔

    اہلِ علاقہ نے سردار اویس احمد خان لغاری، سردار احمد خان لغاری، سردار علی یوسف خان لغاری اور ضلعی صدر مسلم لیگ (ن) ڈیرہ غازی خان میر محمد مرزا خان تالپور سے اپیل کی ہے کہ وہ اس روڈ کی فوری تعمیر کروائیں تاکہ لوگوں کی آمدورفت آسان ہو سکے۔ یاد رہے کہ پل 14 بستی تالپور سے پل 30 تک پی ٹی آئی ایم این اے سردار محمد خان لغاری کے ذریعے کارپٹ روڈ بنانے کے لیے گرانٹ منظور کی گئی تھی مگر حکومت کی تبدیلی کے بعد دوسرا حصہ تاحال نامکمل ہے۔

    عوام کی طرف سے منتخب نمائندوں سے یہ اپیل ہے کہ وہ جلد از جلد اس روڈ کی تعمیر کروائیں تاکہ عوام ان کے احسان کو یاد رکھتے ہوئے جنرل الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو کامیاب کرا سکیں۔