Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • ڈیرہ غازی خان: ٹیچنگ ہسپتال میں ملنے والے کٹے سر کا معمہ حل نہ ہوسکا، سیکیورٹی اہلکار کہاں لے گئے؟

    ڈیرہ غازی خان: ٹیچنگ ہسپتال میں ملنے والے کٹے سر کا معمہ حل نہ ہوسکا، سیکیورٹی اہلکار کہاں لے گئے؟

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی رپورٹ) علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال میں کٹا ہوا سر ملنے کا انوکھا واقعہ، شکوک و شبہات میں اضافہ،3 نومبر 2024 کو ڈیرہ غازی خان میں ایک ہولناک اور عجیب واقعہ سامنے آیا جب ریسکیو 1122 کنٹرول روم کو اطلاع ملی کہ علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال کی نئی بلڈنگ میں ایک بچے کا کٹا ہوا سر پڑا ہے۔ اطلاع پر فوری ردعمل دیتے ہوئے ریسکیو کی ایک ٹیم اور ایمبولینس جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور پولیس کو بھی اطلاع دے دی گئی۔ موقع پر موجود عملے کو بغیر دھڑ کے ایک کٹا ہوا سر ملا جو نہایت پراسرار حالات میں وہاں موجود تھا۔ اس کے باوجود حیرت انگیز طور پر ہسپتال کے سکیورٹی عملے نے پولیس کا انتظار کیے بغیر سر کو اپنے قبضے میں لے لیا اور نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جس سے معاملے پر مزید سوالات اٹھ گئے۔

    بچے کا باقی جسم یا دھڑ کہاں ہے؟ کیا اسے کسی اور جگہ چھپا دیا گیا یا پھر اس کے ساتھ کسی مجرمانہ فعل کا ارتکاب کیا گیا؟یہ کٹا ہوا سر کس کا ہے؟ کیا اس کی شناخت یا عمر کا کوئی پتہ چلا ہے؟اس سوال کا جواب تلاش کرنا بھی ضروری ہے کہ کٹا ہوا سر ہسپتال کی نئی بلڈنگ میں کیسے پہنچا؟کیا بچہ مردہ حالت میں تھا یا اسے زندہ حالت میں کسی نے نقصان پہنچایا؟ اگر یہ سر گائنی وارڈ سے منسلک ہے تو زچہ کون تھی اور اس کا کیا کردار ہو سکتا ہے؟کیا بچے کے جسم کو آوارہ جانوروں نے کھا لیا یا وہ کہیں اور منتقل کر دیا گیا؟کہیں بچے کی باڈی کو غیرقانونی طورپر میڈیکل کے مقاصد کیلئے استعمال تو نہیں کیا گیا۔ اس امر پر بھی شکوک و شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ کیا اس کٹے ہوئے سر کا پوسٹ مارٹم کیا گیا اور اگر کیا گیا تو اس کی رپورٹ کیا ہے؟ہسپتال انتظامیہ اور سکیورٹی عملے کے کردار پر سوالات ہیں کہ ہسپتال کے سکیورٹی عملے نے سر کو بغیر پولیس کے آنے کے کیوں اٹھایا؟ ہسپتال انتظامیہ اور خاص طور پر ایم ایس ڈاکٹر عبدالرحمن عامر قیصرانی کے کردار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

    اس واقعے کی سوشل میڈیا پر خبر پھیلتے ہی کمشنر اور ڈپٹی کمشنر نے رپورٹ طلب کر لی مگر تاحال کوئی پیش رفت یا رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ ہسپتال انتظامیہ پر اس معاملے کو دبانے کی کوشش کرنے کا الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے،اس معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات انتہائی ضروری ہیں۔

    یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ تھانہ سول لائن نے کیا قانونی کارروائی کی اور کرائم سین یونٹ کوہسپتال میں بلایا گیا؟ ،اگرکرائم سین یونٹ موقع پر پہنچا ہے توکیاانہوں نے تمام پہلوں کا جائزہ لیا؟بچے کے سر کا پوسٹ مارٹم کرایا اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ریکارڈ کو چیک کیا؟۔ شہریوں نے وزیراعلی پنجاب اور اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس افسوسناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کا سدباب ہو سکے۔

  • کوٹ چھٹہ: سخی سرور میں المناک ٹریفک حادثہ، پرنسپل سمیت تین معلمات جاں بحق

    کوٹ چھٹہ: سخی سرور میں المناک ٹریفک حادثہ، پرنسپل سمیت تین معلمات جاں بحق

    کوٹ چھٹہ (باغی ٹی وی.تحصیل رپورٹرمریدحسین ٹالپور) ڈیرہ غازی خان کے علاقے سخی سرور کے قریب تومی موڑ پر المناک ٹریفک حادثہ پیش آیا، جس میں ہائی ایس وین اور سبزی سے لوڈ مزدہ گاڑی کے تصادم کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق ہو گئے۔ حادثہ سخی سرور بین الصوبائی شاہراہ پر کوئٹہ روڈ پر پیش آیا، جہاں بلوچستان سے پنجاب آنے والی تیز رفتار گاڑی چارٹر ہاؤس اسکول وین سے ٹکرا گئی۔

    حادثے میں اسکول کے پرنسپل، امجد امین، موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمیوں میں سے تین معلمات کرن بی بی، طاہرہ بی بی اور نوشین بی بی بھی جان کی بازی ہار گئیں۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ سخی سرور پولیس، پیٹرولنگ پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

    یہ حادثہ علاقے میں گہرے دکھ اور افسوس کا باعث بنا ہے، اور اہل خانہ سمیت تعلیمی حلقوں میں غم و اندوہ کی فضا قائم ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان: ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال کی انتظامی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش

    ڈیرہ غازی خان: ایم ایس ٹیچنگ ہسپتال کی انتظامی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ) ایم ایس علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال نے انتظامی مسائل کو چھپانے کے لیے سوشل میڈیا پر ایک مختصر ویڈیو جاری کی جس میں مختلف اقدامات کا دعوی کیا گیا۔ ویڈیو میں بتایا گیا کہ ہسپتال میں ٹراما سینٹر کی لفٹ، ایکسرے پلانٹ، اور سی ٹی اسکین مشین ٹھیک کرائی گئی ہیں، نئی مشینیں نصب کی گئی ہیں اور ادویات کی فراہمی کو بہتر بنایا گیا ہے۔ لیکن اس ویڈیو کا مقصدہسپتال کی سنگین صورتحال پر پردہ ڈالنا تھا جس میں آپریشن کے بعد انفیکشنز اور علاج کی ناقص سہولیات جیسے مسائل نظر انداز کر دیے گئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازیخان میں علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال کے مسائل پر پردہ ڈالنے کے لیے ایم ایس ڈاکٹر عبدالرحمن عامر قیصرانی کی جانب سے سوشل میڈیا پرایک مختصر ویڈیو جاری کی گئی جس میں دعوی کیا گیا کہ ہسپتال میں مختلف سہولیات بہتر بنائی گئی ہیں۔ ویڈیو میں ٹراما سینٹر کی لفٹ، ایکسرے پلانٹ، سی ٹی اسکین مشین اور ایئرکنڈیشنڈ سسٹم کے بہتر کرنے کے دعوے کیے گئے ہیں جبکہ ہسپتال میں سیکیورٹی اور ادویات کی فراہمی کی صورتحال بہتربتائی گئی ہے۔ مگر اس ویڈیو میں ہسپتال کے اصل مسائل یعنی انفیکشن کی روک تھام اور علاج معالجے کی ناقص حالت کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔

    یہ خبر بھی پڑھیں
    ڈیرہ غازیخان:ٹیچنگ ہسپتال میں آپریشن کے بعد انفیکشنزمیں خطرناک اضافہ،مریض مرنے لگے

    جبکہ گذشتہ روز باغی ٹی وی کی خبر میں نشاندہی کی گئی تھی کہ ہسپتال کے ٹراما سینٹر، گائنی، یورولوجی، اور سرجیکل ڈیپارٹمنٹ میں ہونے والے آپریشنز کے بعد مریضوں کو شدید انفیکشن کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہسپتال میں سٹرلائزیشن کے ناقص انتظامات، غیر معیاری علاج اور لاپروائی کی وجہ سے آپریشن کے بعد مریضوں میں انفیکشن پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ استعمال شدہ آلات کو محض پانی سے دھوکر دوبارہ استعمال میں لانا اور اینٹی بائیوٹک ادویات کے غیر معیاری ہونے کی خبریں عام ہیں، جس سے مریضوں کی حالت بگڑ رہی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں متعدد ادویات کم قیمت کی خاطر ایکسپائرڈ کیمیکلز سے تیار کرائی جاتی ہیں، جس سے انفیکشن کنٹرول کے بجائے مزید بڑھتے ہیں۔ نرسنگ اور طبی عملہ بھی مناسب تربیت سے عاری ہے، جس کے نتیجے میں آپریشن کے بعد مریضوں کی ڈریسنگ بروقت اور جراثیم سے پاک نہیں کی جاتی، جس سے زخم خراب ہوکر پیچیدہ انفیکشن میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ہسپتال میں صفائی کا بھی فقدان ہے۔ آپریشن تھیٹرز اور وارڈز میں جراثیم سے پاک ماحول کی کمی کی وجہ سے مریضوں کے زخموں میں بیکٹیریا منتقل ہو کر خطرناک بیماریوں کا باعث بن رہے ہیں۔ بعض اوقات آپریشن کے آلات کو بغیر سٹرلائز کیے ایک مریض سے دوسرے مریض تک منتقل کیا جاتا ہے جو انفیکشن کی ایک بڑی وجہ ہے۔

    ایم ایس ڈاکٹر عبدالرحمن عامرقیصرانی نے اس اہم اور عوامی مسئلے کو پس پشت ڈالنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اعلی حکام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے ،شہریوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتال میں موجودایم ایس سمیت تمام کرپٹ افسران اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور انسٹرومنٹس کی موثر سٹرلائزیشن اور معیاری ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ مریضوں کی جانیں محفوظ بنائی جا سکیں

  • ڈیرہ غازیخان:ٹیچنگ ہسپتال میں آپریشن کے بعد انفیکشنزمیں خطرناک اضافہ،مریض مرنے لگے

    ڈیرہ غازیخان:ٹیچنگ ہسپتال میں آپریشن کے بعد انفیکشنزمیں خطرناک اضافہ،مریض مرنے لگے

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی رپورٹ)ٹیچنگ ہسپتال میں آپریشن کے بعد انفیکشنزمیں خطرناک اضافہ،مریض مرنے لگے

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال میں آپریشن کے بعد مریضوں کی بگڑتی ہوئی حالت اور بڑھتے ہوئے انفیکشنز نے مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ذرئع کے مطابق ہسپتال کے ٹراما سینٹر، گائنی، یورالوجی اور سرجیکل ڈیپارٹمنٹ میں کیے جانے والے آپریشنز کے بعد اکثر مریضوں کو صحتیاب ہونے کے بجائے شدید انفیکشن اور دیگر خطرناک بیماریوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔آپریشنز کے بعد انفیکشنز بڑھنے کی متعدد وجوہات ہیں سامنے آئی ہیں جن میں سب سے اہم ناقص سٹرلائزیشن، غیر معیاری علاج اور بے دھیانی شامل ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ہسپتال کے مختلف آپریشن تھیٹرز میں استعمال ہونے والے آلات(انسٹرومنٹس)کو بروقت اور موثر طریقے سے جراثیم سے پاک نہیں کیا جاتا۔ عموما آلات کو خالی پانی سے دھو کر دوبارہ استعمال میں لایا جاتا ہے، جس سے انفیکشن پھیلنے کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں۔اسی طرح ہسپتال میں مریضوں کو فراہم کی جانے والی بیشتر ادویات خاص طور پر اینٹی بائیوٹک انجیکشنز ناقص اور غیر معیاری ہیں۔ ان ادویات کی تاثیر نہ ہونے کے برابر ہے اور ان کے استعمال سے انفیکشن کنٹرول ہونے کے بجائے مزید پھیل رہے ہیں ،مختلف ذرائع کی رپورٹوں کے مطابق ان ادویات کی لاگت میں کمی کی وجہ سے ایکسپائرڈ کیمیکلز استعمال کیے جا رہے ہیں۔

    دوسری طرف ہسپتال میں اکثر نرسز اور طبی عملہ مناسب تربیت اور تجربے سے عاری ہے۔ آپریشن کے بعد مریضوں کی بروقت اور جراثیم سے پاک ڈریسنگ نہ ہونے کی وجہ سے زخم خراب ہوجاتے ہیں اور انفیکشن میں تیزی آتی ہے۔ ان میں سے بعض زخموں کو مناسب توجہ نہ ملنے کی وجہ سے پیچیدہ انفیکشنز میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ساتھ ہی ہسپتال کے مختلف وارڈز اور آپریشن تھیٹرز میں صفائی کا فقدان ہے۔ آپریشن تھیٹرز میں موجود ساز و سامان کو باقاعدگی سے صاف نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے وہاں موجود بیکٹیریا اور دیگر جراثیم مریضوں کے زخموں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ہسپتال میں غفلت کی انتہا ہوگئی ہے کہ آپریشنز میں استعمال ہونے والے آلات کو بعض اوقات سٹرلائز کیے بغیر ایک سے دوسرے مریض پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ غیر پیشہ ورانہ عمل زخموں میں انفیکشن کی ایک بڑی وجہ بن چکا ہے، اس کے علاوہ انہتائی خطرناک بیماریاں جن میں ہیپاٹائٹس،ایڈز ودیگر موذی امراض شامل ہیں پھیل رہے ہیں،جن کے باعث مریض مزید سنگین مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔

    ایک رپورٹ کے مطابق انفیکشن اور مریضوں کی بگڑتی حالت کی بنیادی وجہ محکمہ صحت پنجاب میں کرپشن اور غیر ذمہ داری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹ افسران کے زیر اثر ناقص اور غیر معیاری ادویات کی سپلائی کو جاری رکھا گیا ہے۔ ان ادویات کی سپلائی میں افسران کی جانب سے کمیشن کی خاطر غیر معیاری اور سستے کیمیکلز استعمال کیے جا رہے ہیں جو مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں۔ ایکسپائرڈ اور ناقص ادویات کی لیبارٹری رپورٹس کو رشوت دے کر پاس کروا لیا جاتا ہے جس سے ہسپتالوں میں غیر معیاری علاج اور انفیکشن کا سلسلہ بڑھتا جارہاہے۔

    ڈیرہ غازیخان کے شہریوں نے حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے اس میگا کرپشن کے خاتمے اور محکمہ صحت پنجاب کے کرپٹ افسران کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ عوام کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں انسٹرومنٹس کی سٹرلائزیشن اور ادویات کی فراہمی کو موثر اور معیاری بنایا جائے تاکہ مریضوں کی زندگیاں محفوظ بنائی جاسکیں ۔

  • ڈیرہ غازی خان: نائب صوبیدار محمد قاسم کے اعزاز میں الوداعی تقریب کا انعقاد

    ڈیرہ غازی خان: نائب صوبیدار محمد قاسم کے اعزاز میں الوداعی تقریب کا انعقاد

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ) بلوچ لیوی لائنز میں ایک شاندار الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں ریٹائرڈ ہونے والے نائب صوبیدار محمد قاسم کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ یہ تقریب بلوچ لیوی کے اہلکاروں اور اعلیٰ افسران کی موجودگی میں منعقد ہوئی، جس میں ان کی خدمات اور پیشہ ورانہ زندگی کو سراہا گیا۔

    تقریب میں پولیٹیکل اسسٹنٹ اور کمانڈنٹ بلوچ لیوی اسد خان چانڈیہ نے خصوصی شرکت کی اور ریٹائرڈ نائب صوبیدار کو ہار پہناتے ہوئے تحائف بھی پیش کیے۔ انہوں نے کہا آپ نے اپنی محنت اور لگن کے ذریعے بلوچ لیوی میں جو خدمات انجام دیں ہیں، وہ قابل تحسین ہیں۔ آپ نے عزت و وقار کے ساتھ اپنی نوکری کی اور اب صحت مند حالت میں ریٹائرمنٹ حاصل کی۔ یہ ہم سب کے لیے ایک خوش قسمتی کی بات ہے کہ آپ ہماری فورس کا حصہ رہے۔”

    اس موقع پر صوبیدار میجر محمد سلیم اور ہیڈ کلرک مسرت عباس نے بھی ریٹائرڈ نائب صوبیدار کی تعریف کی اور کہا کہ نائب صوبیدار محمد قاسم نے اپنی پوری زندگی قوم کی خدمت میں گزاری اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔”

    تقریب کے دوران ریٹائرڈ نائب صوبیدار محمد قاسم نے بلوچ لیوی کی قیادت اور ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے انہیں ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جہاں انہوں نے خدمت کی۔

    اس الوداعی تقریب نے نہ صرف ریٹائرڈ نائب صوبیدار کی خدمات کو سراہنے کا موقع فراہم کیا بلکہ اس نے بلوچ لیوی کے نوجوان اہلکاروں کے لیے ایک مثال قائم کی کہ کس طرح محنت اور لگن کے ساتھ کام کیا جاتا ہے۔

    شرکاء نے ریٹائرڈ نائب صوبیدار محمد قاسم کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور دعا کی کہ وہ اپنے نئے سفر میں بھی کامیاب رہیں۔ یہ تقریب بلوچ لیوی کے اندر camaraderie اور احترام کی مثال پیش کرتی ہے اور اس بات کی علامت ہے کہ یہ فورس اپنے اہلکاروں کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کرتی۔

  • کوٹ چھٹہ:حلقہ این اے 186 اور پی پی 290/291 کی خستہ حال سڑکیں ،عوام کا فوری تعمیر کا مطالبہ

    کوٹ چھٹہ:حلقہ این اے 186 اور پی پی 290/291 کی خستہ حال سڑکیں ،عوام کا فوری تعمیر کا مطالبہ

    کوٹ چھٹہ (باغی ٹی وی، تحصیل رپورٹر)حلقہ این اے 186 اور پی پی 290/291 کی خستہ حال سڑکیں ،عوام کا فوری تعمیر کا مطالبہ

    تفصیل کے مطابق تحصیل کوٹ چھٹہ کے حلقہ این اے 186 اور پی پی 290/291 میں مرکزی سڑک کی خستہ حالی منتخب نمائندوں کی لاپرواہی کا منہ بولتا ثبوت بن چکی ہے۔ بستی تالپور تا جام پور روڈ جس میں پل 30 سے سیفن شوریہ تک کا علاقہ شامل ہے، مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے۔ اس سڑک کی خراب حالت کی وجہ سے آنے جانے والوں خصوصاً مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    یہ حلقہ لغاری سرداروں کا ہے جہاں سے ایم این اے اور ایم پی اے منتخب ہو چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ پانچ سے چھ کلومیٹر کا ٹکڑا ابھی تک تعمیر نہیں کیا جا سکا۔ حالیہ منصوبے میں چوٹی زیرین سے بستی تالپور تک کے پل 14 تک تعمیر ہونے والا روڈ دوبارہ اکھاڑ کر بنایا گیا جو سمجھ سے بالاتر ہے جبکہ ٹوٹے ہوئے روڈ کے نزدیک بھی جانے سے گریز کیا جا رہا ہے۔

    اہلِ علاقہ نے سردار اویس احمد خان لغاری، سردار احمد خان لغاری، سردار علی یوسف خان لغاری اور ضلعی صدر مسلم لیگ (ن) ڈیرہ غازی خان میر محمد مرزا خان تالپور سے اپیل کی ہے کہ وہ اس روڈ کی فوری تعمیر کروائیں تاکہ لوگوں کی آمدورفت آسان ہو سکے۔ یاد رہے کہ پل 14 بستی تالپور سے پل 30 تک پی ٹی آئی ایم این اے سردار محمد خان لغاری کے ذریعے کارپٹ روڈ بنانے کے لیے گرانٹ منظور کی گئی تھی مگر حکومت کی تبدیلی کے بعد دوسرا حصہ تاحال نامکمل ہے۔

    عوام کی طرف سے منتخب نمائندوں سے یہ اپیل ہے کہ وہ جلد از جلد اس روڈ کی تعمیر کروائیں تاکہ عوام ان کے احسان کو یاد رکھتے ہوئے جنرل الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو کامیاب کرا سکیں۔

  • ڈیرہ غازیخان:ڈیڑھ سال قبل قتل ہونے والے نوجوان کے قاتل آزاد،ورثاء دفتروں کے چکروں پر مجبور

    ڈیرہ غازیخان:ڈیڑھ سال قبل قتل ہونے والے نوجوان کے قاتل آزاد،ورثاء دفتروں کے چکروں پر مجبور

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی رپورٹ)ڈیڑھ سال قبل قتل ہونے والے نوجوان کے قاتل آزاد،ورثاء دفتروں کے چکروں پر مجبور

    تفصیل کے مطابق بارڈر ملٹری پولیس تھانہ لاکھا کی حدود میں ڈیڑھ سال قبل قتل ہونے والے نوجوان محبوب کے قاتل تاحال قانون کی گرفت میں نہیں آسکے۔ مقتول کے بھائی اصغر ہیبتانی کا کہنا ہے کہ وہ ڈیڑھ سال سے ملزمان کی گرفتاری کے لیے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں، مگر ملزمان آزاد گھوم رہے ہیں اور بی ایم پی تھانہ لاکھا کے اہلکار انہیں گرفتار کرنے میں ناکام ہیں۔

    اصغر ہیبتانی نے الزام عائد کیا کہ جب بھی بی ایم پی کے اعلیٰ افسران ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیتے ہیں، تو تھانہ لاکھا کے اہلکار ملزمان کو فون کرکے کارروائی سے آگاہ کر دیتے ہیں، جس سے ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اصغر نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے تاکہ انصاف فراہم کیا جا سکے۔

    ویڈیو دیکھنے کیلئے اس لنک پر کلک کریں


    دوسری جانب ایس ایچ او تھانہ لاکھا یونس کھوسہ کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد بار کوششیں کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک بار تو بی ایم پی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے رسالدار ملزمان کی گرفتاری کے لیے گئے، مگر گھروں میں صرف خواتین موجود تھیں۔ بلوچ روایات کی پاسداری کرتے ہوئے خواتین کو ہراساں کرنا ان کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ایس ایچ او نے مزید کہا کہ ملزمان اشتہاری قرار دیے جا چکے ہیں، اور پولیس پوری کوشش میں ہے کہ انہیں جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

  • ڈیرہ غازی خان: پولیو مہم میں مبینہ کرپشن، ویکسینیٹر مافیا کے خلاف کارروائی کب ہوگی؟

    ڈیرہ غازی خان: پولیو مہم میں مبینہ کرپشن، ویکسینیٹر مافیا کے خلاف کارروائی کب ہوگی؟

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ) پولیو مہم میں مبینہ کرپشن کے الزامات، ویکسینیٹر مافیا اور افسران پر سنگین بے ضابطگیوں کا الزام تحقیقات کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں پولیو جیسے خطرناک مرض کے خاتمے کے لیے قومی پولیو مہم کو شدید بدعنوانیوں اور مبینہ کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے۔ مقامی ویکسینیٹرز، محکمہ صحت کے ملازمین اور کچھ افسران پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ مالی فوائد کے لیے قومی پولیو مہم اور ای پی آئی ویکسنیشن کے نظام کو ناکام بنانے میں ملوث ہیں۔ شہریوں اور سماجی رہنماؤں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی فوری اور جامع تحقیقات کی جائیں تاکہ پولیو مہم کو کامیاب بنایا جا سکے۔

    پولیو مہم کی تباہی اور ویکسینیٹرز مافیا
    ذرائع کے مطابق عابد حسین نامی ایک ویکسینیٹر جو کہ یوسی اربن 7 میں تعینات ہے نے مبینہ طور پر ایک نیٹ ورک بنا کر اپنے مالی مفادات کے لیے کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ اطلاعات کے مطابق عابد حسین اپنے افسران کو بلیک میل کرکے اپنی خلاف ہونے والی انکوائریوں کو بند کروا لیتا ہے اور پولیو مہم میں دھڑا بندی اور سیاست کے ذریعے اپنے مالی مفادات حاصل کرتا ہے۔

    درخواستوں اور ثبوتوں کے باوجود کارروائی کا فقدان
    شہری محمد احسان نے ایک تحریری درخواست کے ذریعے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ صحت میں EPI ویکسنیشن اور پولیو مہم کے دوران فراڈ کی بارہا نشاندہی کی گئی، لیکن ان درخواستوں کو صرف فائلوں میں دبا دیا گیا اور ان پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ احسان نے مزید کہا کہ اس حوالے سے تمام ضروری دستاویزی ثبوت بھی فراہم کیے گئے ہیں، مگر انکوائری رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی گئی۔

    کرپشن کے اثرات اور افسران کی ملی بھگت
    ذرائع کے مطابق WHO اور یونیسف کے نمائندے، ضلعی افسران اور محکمہ صحت کے اعلیٰ افسران بھی اس کرپشن سے چشم پوشی کرتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیو مہم میں ہونے والی بے ضابطگیاں اور انتظامی نااہلی اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ پولیو جیسے موذی مرض کا خاتمہ ممکن نہیں ہو پا رہا۔ ویکسینیٹرز مافیا کی کرپشن اور افسران کی ملی بھگت کی وجہ سے نہ صرف کروڑوں روپے ضائع ہو رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے پولیو کے خاتمے کے اہداف بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

    سماجی و شہری حلقوں کا ردعمل اور اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ
    ڈیرہ غازی خان کے عوامی و سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے غلام فرید خان، سینئر ایڈوکیٹ ملک شاہد وسیم، خرم شہزاد، حاجی محمد حسین، سردار حبیب خان لغاری، سردار امیر محمد خان کلاچی اور دیگر نے اس معاملے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیر صحت، سیکرٹری ہیلتھ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، WHO اور یونیسف کے نمائندگان سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کی جانچ کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیشن تشکیل دیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ویکسینیٹر مافیا اور ان کا ساتھ دینے والے محکمہ صحت اور WHO کے ملازمین اور ضلعی افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

    حکام کی جانب سے عدم توجہی اور رابطے کا فقدان
    ڈیرہ غازی خان کے ڈی ایچ او پی ایس ڈاکٹر اطہر سکھانی سے اس معاملے پر ان کا موقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے فون کال کا جواب نہیں دیا۔ ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عابد حسین کے خلاف انکوائری مکمل ہو چکی ہے مگر تاحال کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی۔

    عوامی مطالبہ، کرپشن کے خلاف فوری اقدام
    ڈیرہ غازی خان کے عوام اور سماجی تنظیمیں اس کرپشن اور بے ضابطگیوں پر نہایت افسردہ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر اس مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو پولیو مہم کا مقصد مکمل طور پر ناکام ہو جائے گا۔ عوامی اور سماجی رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ کسی صورت میں پولیو مہم کو ناکام ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے اور امید کرتے ہیں کہ اعلیٰ حکام جلد اس معاملے میں سنجیدگی سے کارروائی کریں گے۔ شہریوں اور سماجی رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر اعلیٰ حکام سے اس معاملے کی اعلیٰ سطحی انکوائری اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ قومی پولیو مہم کو بچایا جا سکے۔

  • مسلم لیگ ن ڈیرہ غازی خان کا خصوصی اجلاس، بلدیاتی الیکشن کے لیے اہم فیصلے

    مسلم لیگ ن ڈیرہ غازی خان کا خصوصی اجلاس، بلدیاتی الیکشن کے لیے اہم فیصلے

    کوٹ چھٹہ (باغی ٹی وی، تحصیل رپورٹر) مسلم لیگ ن ضلع ڈیرہ غازی خان کا خصوصی اجلاس ضلعی صدر میر محمد مرزا خان تالپور کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں مسلم لیگ ن ڈیرہ غازی خان کی تمام ونگز کے عہدے داروں نے شرکت کی اور آئندہ متوقع بلدیاتی انتخابات اور ضلعی کمیٹیوں کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔

    اجلاس میں سابقہ 2024 کے جنرل الیکشن میں پارٹی پالیسی کی مخالفت کرنے والے عہدے داروں کے خلاف کارروائی کی سفارشات پیش کی گئیں، جن میں سابق سٹی صدر سید عبدالعلیم شاہ اور حلقہ پی پی 291 کے صدر ایوب خان کچیلا کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی شامل ہے۔ اس موقع پر بلدیاتی الیکشن اور ضلعی کمیٹیوں میں فعال اور سینئر مسلم لیگی رہنماؤں کے انتخاب کا فیصلہ کیا گیا اور حتمی فیصلے کا اختیار ڈویژنل صدر مسلم لیگ ن ڈیرہ غازی خان مہر اعجاز احمد اچلانا اور صوبہ پنجاب کے مسلم لیگ ن جنرل سیکرٹری سردار اویس احمد خان لغاری کو دیا گیا۔

    اجلاس میں سینئر نائب صدر مسلم لیگ ن ڈیرہ غازی خان ڈویژن میاں سلطان محمود ڈاہا، جنرل سیکرٹری ملک غلام مصطفیٰ کھنڈوعہ، نواب طارق علی کاکڑ، امجد سردار، اللہ نواز خان گوپانگ، سید احسان عباس گیلانی، امتیاز حسین جھجھ، ملک غلام یاسین، اسلم مہتر اور دیگر مسلم لیگی رہنما شریک ہوئے۔

  • صدرپاکستان آصف علی زرداری کی صحت یابی کے لیے مکہ اور مدینہ میں خصوصی دعا کرائی گئی

    صدرپاکستان آصف علی زرداری کی صحت یابی کے لیے مکہ اور مدینہ میں خصوصی دعا کرائی گئی

    کوٹ چھٹہ (باغی ٹی وی، تحصیل رپورٹر) صدر مملکت آصف علی زرداری کی صحت یابی اور عمر درازی کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں خصوصی دعا کی گئی۔ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر اور ڈویژنل عہدیدار تحصیل کوٹ چھٹہ پی پی 290 کے رہنما، الحاج غلام سرور دلشاد نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ سعودی عرب میں کام کے سلسلے میں موجود ہیں اور جیسے ہی صدر مملکت آصف علی زرداری کی ناساز طبیعت کی خبر ملی، انہوں نے مکہ اور مدینہ میں ان کی صحت یابی کے لیے دعا کا اہتمام کیا۔

    الحاج غلام سرور دلشاد نے صدر زرداری کو سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کے مشن کو جاری رکھنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک عوامی جماعت ہے، جو ہمیشہ مزدوروں، کسانوں اور ہاریوں کے حقوق کی حفاظت کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہر دور میں غریب اور نادار طبقے کی فلاح کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے اور اس بار بھی وہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ الحاج غلام سرور دلشاد نے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بطور کارکن پارٹی کی پالیسیوں کے مطابق غریب عوام کی خدمت میں پیش پیش رہیں گے۔