Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • ڈیرہ غازی خان:کوٹ چھٹہ میں  زمین کے تنازع پر فائرنگ، دو افراد جاں بحق

    ڈیرہ غازی خان:کوٹ چھٹہ میں زمین کے تنازع پر فائرنگ، دو افراد جاں بحق

    ڈیرہ غازی خان،کوٹ چھٹہ (باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹر،تحصیل رپورٹر) زمین کے تنازع پر فائرنگ، دو افراد جاں بحق

    ڈیرہ غازی خان کے علاقے مانہ احمدانی میں زمین کے تنازع اور مقدمہ بازی کی رنجش پر دو گروپوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور دو شدید زخمی ہوگئے۔

    ریسکیو 1122 کنٹرول روم ڈیرہ غازی خان کو ایمرجنسی کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ بودلہ فارم کے قریب دو گروپوں کے درمیان فائرنگ ہوئی ہے جس کے نتیجے میں زخمیوں میں سے ایک شخص کی موقع پر موت ہو چکی ہے۔ کنٹرول روم نے فوری طور پر ایک موٹر بائیک ایمبولینس اور دو ایمبولینسز جائے حادثہ کی جانب روانہ کر دیں۔

    جب ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں تو پولیس پہلے سے وہاں موجود تھی۔ ایک شخص کی گردن میں گولی لگنے سے موت واقع ہوچکی تھی جبکہ دو زخمیوں کو پولیس نے فوری طور پر کوٹ چھٹہ منتقل کرنا شروع کر دیا۔ ریسکیو اسٹاف نے زخمیوں کو ایمبولینس میں منتقل کرنے کی کوشش کی مگر حفاظتی وجوہات کی بنا پر پولیس نے زخمیوں کو اپنے ہی ساتھ لے جانا مناسب سمجھا۔

    پولیس کے ہمراہ ریسکیو ٹیم کوٹ چھٹہ پولیس اسٹیشن پہنچی جہاں مزید جانچ سے پتہ چلا کہ ایک زخمی شخص کو پیٹ میں گولیوں کی وجہ سے جانبر نہ ہوسکا اور وہ دم توڑ گیا، جبکہ دوسرے زخمی کو کمر میں چھرے لگے تھے جسے فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ حفاظتی خدشات کے پیش نظر زخمی کو تھانے کے اندر ہی رکھا گیا۔

    حادثے کے مقام پر موت کے شکار شخص کے لیے کرائم سین یونٹ ٹیم کا انتظار کیا گیا اور پولیس کارروائی مکمل کرنے کے بعد دونوں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ٹیچنگ اسپتال ڈیرہ غازی خان منتقل کر دیا گیا۔

  • پاکستانی انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس، 132 ممالک میں گاڑی چلانے کی اجازت

    پاکستانی انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس، 132 ممالک میں گاڑی چلانے کی اجازت

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی رپورٹ)پاکستانی شہریوں کے لیے بڑی سہولت: انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس (IDL) کے ذریعے 132 ممالک میں گاڑی چلانے کی اجازت

    پاکستانی شہریوں کے لیے ایک اہم پیشرفت کے تحت اب وہ اپنے انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس (IDL) کے ذریعے 132 ممالک میں قانونی طور پر گاڑی چلا سکتے ہیں۔ یہ اقدام پاکستانیوں کے لیے بیرون ملک سفر کو آسان بنانے کی کوشش ہے، جس کے تحت انہیں مختلف ممالک میں ڈرائیونگ کے لیے اضافی دستاویزات کی ضرورت نہیں ہوگی۔

    یہ فیصلہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے فائدہ مند ہے جو کاروباری یا تفریحی مقاصد کے لیے دوسرے ممالک کا سفر کرتے ہیں۔ IDL کی مدد سے پاکستانی شہریوں کو مختلف ممالک میں مقامی ڈرائیونگ قوانین کے مطابق بغیر کسی مشکل کے گاڑی چلانے کی سہولت ملے گی۔

    پاکستانی انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس کو درج ذیل ممالک میں تسلیم کیا گیا ہے:

    شمالی امریکہ:
    ریاستہائے متحدہ،کینیڈا،یورپ،برطانیہ،جرمنی،فرانس،اٹلی،سپین،نیدرلینڈز،سویڈن،ناروے،ڈنمارک،سوئٹزرلینڈ،بیلجیم،آسٹریا،آئرلینڈ،فن لینڈ،پرتگال،یونان،ترکی،
    مشرق وسطیٰ کے ممالک میں
    متحدہ عرب امارات،سعودی عرب،قطر،عمان،بحرین،کویت،اردن،لبنان،شام،فلسطین،مصر،تیونس،مراکش،الجزائر،لیبیا،سوڈان،عراق،یمن
    ایشیا کے ممالک میں
    جاپان،جنوبی کوریا،ہانگ کانگ،انڈونیشیا،فلپائن،ویتنام،بنگلہ دیش،نیپال،مالدیپ،سری لنکا،بھارت،بھوٹان،پاپوا نیو گنی
    آسٹریلیا اور اوشینیا ممالک میں
    آسٹریلیا،نیوزی لینڈ،فیجی،جزائر سلیمان،ساموا،ٹونگا
    جنوبی امریکی ممالک میں
    میکسیکو،برازیل،ارجنٹائن،چلی،کولمبیا،پیرو،ڈومینیکن ریپبلک،جمیکا،بارباڈوس،ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو
    افریقی ممالک میں
    جنوبی افریقہ،کینیا،نائیجیریا
    یورپین اور وسطی ایشیائی ممالک میں
    جمہوریہ چیک،ہنگری،سلوواکیہ،سلووینیا،کروشیا،ایسٹونیا،لٹویا،لتھوانیا،آئس لینڈ،مالٹا،قبرص،بلغاریہ،رومانیہ،سربیامونٹی نیگرو،بوسنیا اور ہرزیگووینا،شمالی مقدونیہ،البانیہ،مالڈووا،بیلاروس،یوکرین،جارجیا،آرمینیا،آذربائیجان،قازقستان،ازبکستان،کرغزستان،تاجکستان،روس،منگولیا شامل ہیں

    یہ معلومات پاکستانی شہریوں کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے جو بین الاقوامی سفر کی سہولت کے ساتھ ساتھ ان کی قانونی حیثیت کو بھی بہتر بناتی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے، پاکستانی شہری نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ڈرائیونگ کے تجربات کو بہتر بنا سکیں گے۔

  • کوٹ چھٹہ: 2موٹر سائیکلوں کے تصادم میں 3 سالہ بچی جاں بحق، 3 افراد زخمی

    کوٹ چھٹہ: 2موٹر سائیکلوں کے تصادم میں 3 سالہ بچی جاں بحق، 3 افراد زخمی

    کوٹ چھٹہ (باغی ٹی وی ،تحصیل رپورٹر مریدٹالپور) 2موٹر سائیکلوں کے تصادم میں 3 سالہ بچی جاں بحق، 3 افراد زخمی

    تفصیل کے مطابق کوٹ چھٹہ میں انڈس ہائی وے ٹوٹل پمپ کے قریب اڈہ نور والا پر دو موٹر سائیکلوں کے درمیان تصادم میں ایک 3 سالہ بچی موقع پر جاں بحق جبکہ 3 افراد زخمی ہو گئے۔

    ریسکیو 1122 کنٹرول روم کو حادثے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر ایک فائر وہیکل، ریسکیو وہیکل، اور دو ایمبولینسز جائے وقوعہ کی طرف روانہ کی گئیں۔ پولیس کنٹرول کو بھی اطلاع دے دی گئی تاکہ قانونی کارروائی کی جا سکے۔

    ریسکیو ٹیم جب موقع پر پہنچی تو تین افراد زخمی تھے جبکہ 3 سالہ بچی جاں بحق ہو چکی تھی۔ اہلکاروں نے زخمیوں کو فرسٹ ایڈ فراہم کرنے کے بعد تمام متاثرین کو تحصیل ہسپتال کوٹ چھٹہ منتقل کیا۔ جاں بحق ہونے والی بچی کی لاش بھی ہسپتال منتقل کی گئی۔

  • ڈیرہ غازی خان: ٹریفک پولیس کے چالان اب ٹھیلے والوں کے ذریعے جمع کرانے کا نیا نظام متعارف

    ڈیرہ غازی خان: ٹریفک پولیس کے چالان اب ٹھیلے والوں کے ذریعے جمع کرانے کا نیا نظام متعارف

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی،سٹی رپورٹر) ٹریفک پولیس کے چالان اب ٹھیلے والوں کے ذریعے جمع کرانے کا نیا نظام متعارف کرادیا گیا

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان میں ٹریفک پولیس کی کارکردگی نے عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حالیہ واقعات کے دوران ڈیرہ غازی پل ڈاٹ سنگم چوک پر پیش آنے والی ایک عجیب صورتحال نے شہریوں میں بے چینی پیدا کر دی۔ جب چند صحافی دوست چائے پینے کے لیے وہاں رکے تو انہوں نے ٹریفک پولیس کے اے ایس آئی شہزاد کو اپنی ڈیوٹی پر متحرک پایا۔

    اے ایس آئی شہزاد نے گاڑیوں کو روکتے ہوئے ڈرائیورز کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ جب کوئی ڈرائیور اپنی گاڑی سے اترتا تو انہیں بتایا جاتا کہ وہ اپنی چالان کی رقم ایک ٹھیلے والے جو ساتھ ہی کیلے فروخت کر رہا تھاکے پاس جمع کرائیں۔ اس غیر روایتی طریقہ کار پر صحافیوں نے حیرت کا اظہار کیا اور اے ایس آئی شہزاد سے وضاحت طلب کی۔

    شہزاد نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس چالان بھرنے کا موقع نہیں ہے، اس لیے ڈرائیور نے ٹھیلے والے کو رقم دے کر کہا ہے کہ وہ چالان جمع کرائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے کا تحریری نوٹ بھی موجود ہے جو اس عمل کی تصدیق کرتا ہے۔

    یہ صورتحال شہریوں کے لیے نئی اور حیران کن ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ٹریفک پولیس کے چالان اب ٹھیلے والوں کے ذریعے ادا کیے جائیں گے؟ اس کے علاوہ ہر چالان کرنے والے پولیس افسر کے ساتھ موجود نجی فرد کا کردار بھی سوالیہ نشان بن گیا ہے جو چالان کی رقم وصول کرتا ہے یا رسید فراہم کرتا ہے۔

    شہزاد کے بیان نے عوام میں مزید شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ آیا یہ کیلے والا دراصل گاڑی کے مالک کا قریبی رشتہ دار ہے جو چالان کی رقم جمع کرائے گا؟ ایسی صورت حال نے شہریوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا یہ ٹریفک پولیس کی کارکردگی میں کمی کا اشارہ ہے یا یہ عوام کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    ڈیرہ غازی خان میں ٹریفک پولیس کے اس غیر روایتی نظام نے شہریوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور اعلیٰ حکام اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں تاکہ ٹریفک پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے ۔

  • کوکنگ آئل اور گھی کی قیمتوں میں 80 روپے تک اضافہ، مرغی اور انڈے بھی مہنگے

    کوکنگ آئل اور گھی کی قیمتوں میں 80 روپے تک اضافہ، مرغی اور انڈے بھی مہنگے

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواداکبر) کوکنگ آئل اور گھی کی قیمتوں میں 80 روپے تک اضافہ، مرغی اور انڈے بھی مہنگے

    تفصیل کے مطابق ملک بھر میں عوام کو ایک اور مہنگائی کا جھٹکا لگا ہے، کوکنگ آئل اور گھی کی قیمتوں میں 20 سے 80 روپے فی کلو تک اضافہ ہوگیا ہے۔ نجی ٹی وی نے مارکیٹ ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ برانڈڈ گھی کی قیمت 370 روپے فی کلو سے بڑھ کر 450 روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ مختلف اقسام کے کوکنگ آئل کی قیمتوں میں بھی 50 روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اب کوکنگ آئل 440 روپے سے بڑھ کر 530 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔

    مارکیٹ میں صرف گھی اور آئل ہی نہیں بلکہ مرغی کے گوشت کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مرغی کا گوشت 533 روپے فی کلو مقرر کر دیا گیا ہے، جبکہ انڈوں کی قیمتیں بھی مزید بڑھ چکی ہیں، جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں پام آئل کی قیمتوں میں 300 ڈالرز فی ٹن کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد پام آئل کی فی ٹن قیمت 1200 ڈالرز تک جا پہنچی ہے۔ عالمی سطح پر قیمتوں کے اضافے کا براہِ راست اثر مقامی منڈیوں پر پڑا ہے، جس کی وجہ سے کوکنگ آئل اور گھی کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    مہنگائی کے اس نئے طوفان نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ گھی اور کوکنگ آئل جیسی بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے نہ صرف متوسط طبقے بلکہ کم آمدنی والے خاندانوں کا بجٹ بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔ عوام نے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے اور مہنگائی کے بوجھ سے کچھ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

  • ڈیرہ غازیخان: کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والا ویکسینیٹر برطرف، کیا یہ انصاف ہے؟

    ڈیرہ غازیخان: کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والا ویکسینیٹر برطرف، کیا یہ انصاف ہے؟

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواد اکبر) محکمہ صحت کے ویکسینیٹر چوہدری محمد نعیم کو ادویات کی خریداری اور کروڑوں روپے کی مالی کرپشن کی نشاندہی کرنے کے بعد نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔ اس اقدام کے خلاف ویکسینیٹرز نے سی ای او ہیلتھ آفس کا گھیراؤ کیا اور شدید نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    چوہدری محمد نعیم نے ادویات کی خریداری، فرضی بلوں، اور پٹرول کے بلوں میں مبینہ کرپشن کے خلاف ڈی جی انٹی کرپشن کو درخواست دی تھی، جس پر سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر محمد ادریس لغاری نے انہیں نوکری سے برخاست کر دیا۔ اس فیصلے کے خلاف ضلع بھر سے ویکسینیٹرز نے سی ای او آفس کے باہر دھرنا دیا اور مظاہرین نے اعلان کیا کہ چوہدری محمد نعیم کی بحالی اور انکوائری مکمل ہونے تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

    ای پی آئی فیڈریشن کے رہنماؤں محمد عابد اور عطااللہ ساجد نے کہا کہ اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ مظاہرین نے دفتر کے امور اور پولیو مہم کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کر دیا ہے، مطالبہ کیا کہ انصاف پر مبنی انکوائری کی جائے اور چوہدری نعیم کو فوری بحال کیا جائے۔

  • کوٹ چھٹہ :صحافی کو ناانصافی کا سامنا، پولیس چوری شدہ موبائل برآمد کرنے میں ناکام

    کوٹ چھٹہ :صحافی کو ناانصافی کا سامنا، پولیس چوری شدہ موبائل برآمد کرنے میں ناکام

    کوٹ چھٹہ(باغی ٹی وی ،تحصیل رپورٹرمریدحسین ٹالپور)چوٹی زیرین کے صحافی کا موبائل چوری کا مقدمہ، پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشانات لگ گئے

    چوٹی زیرین کے معروف صحافی شوکت عباس سانگھی کا موبائل فون چوری ہونے کا مقدمہ تھانہ چوٹی زیرین میں ایک سال دو ماہ سے زائد عرصے سےدرج ہے لیکن اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔صحافی کو پولیس کی نااہلی اور ناانصافی کا سامنا ہے کیونکہ پولیس عرصہ گزرنے کے باوجود ان کا چوری شدہ موبائل فون برآمد کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    شوکت عباس سانگھی کا کہنا ہے کہ جب سے ان کا موبائل چوری ہوا ہے وہ متعدد بار پولیس سے رابطہ کر چکے ہیں لیکن پولیس اہلکاروں کا رویہ بہت ہی غیر ذمہ دارانہ رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ایک پولیس کاتفتیشی اے ایس آئی نہ صرف موبائل فون برآمد کرنے میں ناکام رہا بلکہ انہیں دھمکیاں بھی دیتا رہا ہے۔

    اس سلسلے میں صحافی برادری نے آر پی او کپٹن ر سجاد اور ڈی پی او سید علی ڈیرہ غازی خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری طور پر نوٹس لیں اور شوکت عباس سانگھی کا موبائل فون جلد از جلد برآمد کرایا جائے۔

  • ڈیرہ غازی خان: الفلاح فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام فری میڈیکل کیمپ

    ڈیرہ غازی خان: الفلاح فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام فری میڈیکل کیمپ

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی ، سٹی رپورٹر جواد اکبر) الفلاح فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام سینئر ڈاکٹر پروفیسر نوید آصف یوسفی کی سربراہی میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا، جہاں مریضوں کے لیے مفت علاج اور ادویات فراہم کی گئیں۔ شہر اور مضافاتی علاقوں جیسے لوہار والا اور پائیگاہ سے بڑی تعداد میں مریضوں نے کیمپ میں شرکت کی۔

    میڈیکل کیمپ میں مختلف شعبوں کے ماہرین نے اپنی خدمات پیش کیں۔ آنکھوں کے امراض کے لیے آئی اسپیشلسٹ موجود تھے جبکہ جنرل فزیشن نے عمومی بیماریوں کے مریضوں کا معائنہ کیا۔ جلد کے مسائل سے متاثرہ مریضوں کے لیے جلد اسپیشلسٹ ڈاکٹرمیاں محموداحمد موجود رہے اور مریضوں کو چیک کیا

    تشخیصی سہولیات کے تحت 60 مریضوں کے لیب ٹیسٹ اور 40 مریضوں کے الٹراساؤنڈ کیے گئے۔ تمام مریضوں کو علاج کے ساتھ ساتھ مفت ادویات بھی فراہم کی گئیں۔

    ڈاکٹر نوید آصف یوسفی کے ہمراہ ان کے ساتھیوں نے روحانی کاؤنٹر بھی قائم کیا، جہاں روحانی مسائل کا حل پیش کیا گیا اور مریضوں میں آگاہی کے لیے پمفلٹ تقسیم کیے گئے۔

    کیمپ میں شرکت کرنے والے افراد نے مفت علاج اور ادویات کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ روحانی معاونت کو بھی سراہا۔ ایسے اقدامات کا مقصد صحت عامہ کے فروغ کے ساتھ ضرورت مندوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے جو کہ شہر اور گرد و نواح کے عوام کے لیے ایک اہم خدمت ثابت ہوئی۔

  • ڈیرہ غازی خان: کمانڈنٹ اسد چانڈیہ کا ایکشن، "کالی” قرار دی گئی خاتون بازیاب

    ڈیرہ غازی خان: کمانڈنٹ اسد چانڈیہ کا ایکشن، "کالی” قرار دی گئی خاتون بازیاب

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی رپورٹ) کمانڈنٹ اسد چانڈیہ کا ایکشن، "کالی” قرار دی گئی خاتون بازیابباغی ٹی وی کی خبر پر نوٹس،فوری طوری پر متاثرہ خاتون اور اہل خانہ کو تحفظ دے کر تھانہ کھر منتقل کیا گیا

    تفصیل کے مطابق بلوچستان کے علاقے رکنی چوڑ ندی کے قریب ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا، جہاں پنچایت نے ظالمانہ فیصلہ سناتے ہوئے ایک خاتون "ن” کو "کالی” قرار دے کر فروخت کرنے کا اعلان کیا۔ باغی ٹی وی اور میڈیا پر انسانیت سوزواقعہ رپورٹ ہونے پراس ظلم کے خلاف کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس اسد خان چانڈیہ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے متاثرہ خاتون اور اس کے اہل خانہ کو تحفظ فراہم کیا اور انہیں تھانہ کھر منتقل کیا، جہاں وہ اب پولیس کی تحویل میں محفوظ ہیں۔

    واقعے کے مطابق قبائلی رسم و رواج کی آڑ میں پنچایت نے نور دین ولد جانے کو "کالا” قرار دیا اور اسے 10 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ نور دین کو خبردار کیا گیا کہ اگر جرمانہ ادا نہ کیا تو اسے گولی مار کر قتل کر دیا جائے گا۔ اپنی جان بچانے کے لیے نور دین نے 10 لاکھ روپے ادا کر دیے، تاہم پنچایت کا ظلم یہیں ختم نہ ہوا۔ پنچایت نے اعلان کیا کہ "ن” خاتون، جس کا شوہر تاج محمد بیرون ملک محنت مزدوری کے لیے مقیم ہے، کو بلوچستان کے ایک دور دراز علاقے میں فروخت کیا جائے گا۔

    متاثرہ خاتون کی دادی بچی مائی نے میڈیا اور اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی پوتی بے گناہ ہے اور اس پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ پنچایت نے ان کی پوتی کو "کالی” قرار دے کر قبیلے کے چند افراد کے مفادات کے لیے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا جو ایک نہایت ظالمانہ اقدام ہے۔ بچی مائی نے مزید کہا کہ وہ اپنی بیٹی کا رشتہ اپنی مرضی سے کرنا چاہتی ہیں اور کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گی۔

    بچی مائی نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس اسد خان چانڈیہ اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ اس کی پوتی کو فوری انصاف فراہم کیا جائے اور پنچایت میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ اس ظلم کا سدباب ہو۔

    یہ خبر بھی پڑھیں
    ڈیرہ غازی خان: خاتون کو ‘کالی’ قرار دے کر فروخت کا حکم، دادی کی انصاف کی اپیل

    کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس اسد خان چانڈیہ نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ کھر حبیب خان لغاری کی مدد سے متاثرہ خاندان کو فوری تحفظ فراہم کیا اور انہیں تھانے منتقل کیا، جہاں وہ اب محفوظ ہیں۔ بچی مائی نےبارڈرملٹری پولیس حکام پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی جان بچانے میں پیش پیش ہیں۔

    بچی مائی نے صحافی برادری کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اس واقعے کو اجاگر کیا اور ان کی آواز بنے۔ انہوں نے خاص طور پر منظورخان لغاری،چوہدری شکیل احمد، قیصر عباس جعفری اور ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان بڈانی کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے دور دراز اور دشوار گزار پہاڑی علاقے میں آکر ان کا ساتھ دیا اور اس ظلم کے خلاف خبریں شائع کیں۔

    عوامی وسماجی حلقوں کاکہنا ہے کہ یہ واقعہ قبائلی علاقوں میں پنچایتوں کے ظالمانہ فیصلوں اور خواتین پر ہونے والے مظالم کی ایک اور افسوسناک مثال ہے، جو معاشرتی اور قانونی نظام کے لیے چیلنج ہے۔یہ افسوسناک واقعہ اس بات بھی کی نشاندہی کرتا ہے کہ پنچایتی نظام میں خواتین کو انصاف کے بجائے ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حکومت، سول سوسائٹی، اور میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ ایسے واقعات کو روکے اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔

    کمانڈنٹ اسدخان چانڈیہ نے رابطہ کرنے بتایا کہ متاثرہ خاتون کو عدالت میں پیش کیا گیا،عدالت نے اسے دارالامان جانے کا پوچھا لیکن خاتون نے والدین کے گھر جانے کی خواہش کا اظہار کیا ،اب عدالت کے حکم پر اس خاتون کو اس کے والدین کے گھر بھیج دیا گیا ہے .

  • ڈیرہ غازی خان: عبداللہ ٹاؤن میں ناجائز تجاوزات، رہائشیوں کی انتظامیہ سے کارروائی کی اپیل

    ڈیرہ غازی خان: عبداللہ ٹاؤن میں ناجائز تجاوزات، رہائشیوں کی انتظامیہ سے کارروائی کی اپیل

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،نیوزرپورٹر شاہد خان) یو سی 17 کی کالونی عبداللہ ٹاؤن میں ناجائز تجاوزات نے رہائشیوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق لوگوں نے اپنے گھروں کے باہر گلیوں میں بڑے بڑے گٹر اور دروازوں پر سیڑھیاں بنا کر راستے بلاک کر دیے ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف موٹرسائیکل بلکہ پیدل گزرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

    عبداللہ ٹاؤن کی گلی نمبر ایک میں 5 فٹ چوڑا گٹر پہلے ہی گلی کے اوپر موجود تھا لیکن اس کے ساتھ 4 فٹ کی اضافی سیڑھی تعمیر کر کے گلی مکمل طور پر بلاک کر دی گئی۔ ہمسایوں کے اعتراض کے باوجود مالک مکان نے زبردستی یہ تجاوزات اپنی نگرانی میں مکمل کروائیں اور احتجاج کرنے والے پڑوسیوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ جو کرنا ہے کر لیں۔

    مقامی رہائشیوں کے مطابق عبداللہ ٹاؤن میں یہ تجاوزات ایک معمول بن چکی ہیں، جہاں لوگ اپنی سہولت کے لیے گلیاں بند کر دیتے ہیں، بغیر اس کے کہ ان کے ہمسائے کس قدر پریشان ہوں۔ اس صورتحال پر بات کرتے ہوئے علاقے کے رہائشیوں، حیدر علی، محمد افضل، محمد کاشف اور محمد ارسلان نے باغی ٹی وی کے ذریعے ٹی ایم اے کے سی ای او جواد الحسن گوندل سے اپیل کی ہے کہ وہ عبداللہ ٹاؤن کا دورہ کریں۔

    رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ڈیرہ غازی خان شہر میں ناجائز تجاوزات کے خلاف انتظامیہ نے سخت ایکشن لیا ہے لیکن عبداللہ ٹاؤن میں اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری ایکشن لیتے ہوئے گلیوں میں تعمیر شدہ گٹر اور غیر قانونی سیڑھیوں کو ہٹایا جائے تاکہ علاقے کے رہائشیوں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔