Baaghi TV

Category: ڈیرہ غازی خان

  • نیوز ایڈیٹرز کی جگہ کمپیوٹر آپریٹرز، اخباری معیار تباہ، غلطیوں کی بھرمار،بہتری کون لائے گا؟

    نیوز ایڈیٹرز کی جگہ کمپیوٹر آپریٹرز، اخباری معیار تباہ، غلطیوں کی بھرمار،بہتری کون لائے گا؟

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی رپورٹ)نیوز ایڈیٹرز کی جگہ کمپیوٹر آپریٹرز، اخباری معیار تباہ، غلطیوں کی بھرمار،بہتری کون لائے گا؟

    تفصیلات کے مطابق اخبارات میں خبروں کی اشاعت کا معیار مسلسل تنقید کی زد میں ہے کیونکہ نیوز ایڈیٹرز کی جگہ کمپیوٹر آپریٹرز کی خدمات لینے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے خبریں غیر معیاری اور ناقص انداز میں پیش کی جا رہی ہیں۔ مختلف اخبارات میں غلط معلومات، ناقص جملے اور غیرموزوں سرخیاں شائع ہونے کے واقعات عام ہو گئے ہیں، جن سے نہ صرف خبروں کا حلیہ بگڑ رہا ہے بلکہ قارئین کو بھی الجھن کا سامنا ہے۔

    حال ہی میں ایک اخبار میں شائع ہونے والی خبر کی سرخی کچھ یوں دی گئی: "تحصیل ہسپتال منچن آباد میں صرف دو ڈاکو تعینات، 11 سیٹیں خالی”۔ اس سرخی میں اصل میں "ڈاکٹر” لکھا جانا تھا، لیکن کمپوزنگ کی غلطی کی وجہ سے "ڈاکو” شائع ہو گیا، جس نے خبر کو مضحکہ خیز بنا دیا اور قارئین میں غلط فہمی پھیلائی۔

    اسی طرح ایک اور اخبار نے پولیو مہم کی خبر کی سرخی میں سنگین غلطی کی اور سرخی یوں شائع ہوئی کہ"پولیس سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم 15 اگست سے شروع ہوگی”۔ یہ واضح طور پر کمپوزنگ یا پروف ریڈنگ کی غفلت کا نتیجہ تھا کیونکہ درحقیقت یہ خبر پولیو سے بچاؤ کے قطروں کے بارے میں تھی۔

    یہ مسائل اس وقت زیادہ پیدا ہوتے ہیں جب ماہرانہ نیوز ایڈیٹنگ کے بجائے کمپیوٹر آپریٹرز کو خبروں کی ترتیب اور اشاعت کی ذمہ داری دی جاتی ہے۔ ماضی میں نیوز ایڈیٹرز خبروں کی زبان، املاء اور ترتیب کا باریک بینی سے جائزہ لیتے تھے تاکہ مواد کی درستگی اور معیار برقرار رہے۔ تاہم اب وقت اور اخراجات بچانے کے لیے کمپیوٹر آپریٹرز پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے جو عموماً ایڈیٹنگ کی بنیادی مہارتوں سے محروم ہوتے ہیں۔

    یہ روش نہ صرف اخبار کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ عوام کو غلط اور گمراہ کن معلومات بھی فراہم کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خبروں کی درستگی اور معیار برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ پروف ریڈنگ اور ایڈیٹنگ کے فرائض دوبارہ ماہرانہ نیوز ایڈیٹرز کے سپرد کیے جائیں۔

    اخبارات کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اخراجات بچانے کی پالیسی پر نظرثانی کریں اور خبروں کی اشاعت کے معیار کو اولین ترجیح دیں تاکہ قارئین کو درست اور معتبر معلومات فراہم کی جا سکیں۔

  • ڈیرہ غازی خان: "ونڈا کراؤ، سکھ پاؤ” پروگرام کا افتتاح، اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن کا آغاز

    ڈیرہ غازی خان: "ونڈا کراؤ، سکھ پاؤ” پروگرام کا افتتاح، اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن کا آغاز

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواداکبر) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے "ونڈا کراؤ، سکھ پاؤ” پروگرام کا باضابطہ افتتاح ڈیرہ غازی خان کے نواحی علاقے حاجی غازی شرقی دراہمہ میں کر دیا گیا۔ اس منصوبے کا مقصد اراضی ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے زمینوں کی شفاف تقسیم کو یقینی بنانا ہے تاکہ وراثتی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ زمین کے تنازعات کو ختم کیا جا سکے۔

    تقریب کا افتتاح ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے کیا جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو نعمان فاروق تارڑ، اسسٹنٹ کمشنر تیمور عثمان، تحصیلدار ثاقب شہزاد اور اہل علاقہ نے شرکت کی۔ تقریب میں سوشو سیف گارڈ اسپیشلسٹ پلس ملک وسیم اعوان نے شرکاء کو "ونڈا کراؤ، سکھ پاؤ” پروگرام کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

    ڈپٹی کمشنر عثمان خالد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا یہ منصوبہ ایک انقلابی قدم ہے جو زمین کی غیر منصفانہ تقسیم اور تنازعات کو ختم کرنے کے لیے متعارف کروایا گیا ہے۔ اراضی کی ڈیجیٹائزیشن اور ای مینجمنٹ کے ذریعے تمام اضلاع میں زمینوں کا ریکارڈ شفاف بنایا جائے گا جس سے خواتین کے وراثتی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے گا۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو نعمان فاروق تارڑ نے کہا کہ اس جدید نظام کے ذریعے مشترکہ جائیدادوں میں باہمی رضامندی کو فروغ ملے گا اور کاغذات میں ٹمپرنگ کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔ سوشو سیف گارڈ اسپیشلسٹ ملک وسیم اعوان نے کہا کہ پنجاب کے 40 اضلاع میں بیک وقت اراضی ریکارڈ کو محفوظ بنانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے، تاکہ جنس، طبقہ، اور مذہب سے بالاتر ہو کر ہر شہری کے ملکیتی اور وراثتی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

    ڈپٹی کمشنر عثمان خالد نے مزید کہا کہ وراثت کی شفاف تقسیم ہماری خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے اور یہ پروگرام یقینی بنائے گا کہ ہر حقدار کو اس کا حق ملے۔ تقریب کے آخر میں ڈپٹی کمشنر نے موقع پر سائلین کا ڈیٹا درج کرکے پروگرام کا باضابطہ آغاز کیا۔

    یہ منصوبہ پنجاب اربن لینڈ سسٹمز انہانسمنٹ پراجیکٹ کا حصہ ہے جس کے تحت صوبے بھر کا پیمائشی اور جغرافیائی نقشہ ترتیب دیا جا رہا ہے تاکہ زمین کے معاملات میں شفافیت اور منظم ڈیٹا تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • ڈیرہ غازی خان: کمانڈنٹ اسد خان چانڈیہ نے بی ایم پی سرائے میں کرایہ نہ دینے والوں کی دکانیں سیل کر دیں

    ڈیرہ غازی خان: کمانڈنٹ اسد خان چانڈیہ نے بی ایم پی سرائے میں کرایہ نہ دینے والوں کی دکانیں سیل کر دیں

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرجواداکبر) کمانڈنٹ اسد خان چانڈیہ نے بی ایم پی سرائے میں کرایہ نہ دینے والوں کی دکانیں سیل کر دیں
    کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس کی بی ایم پی سرائے میں کارروائی،کارِ سرکار میں مداخلت کرنے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کاحکم

    تفصیل کے مطابق کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) اسد خان چانڈیہ نے بی ایم پی سرائے میں قائم دکانوں کے کرایہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم جاری کیا۔ ان دکانوں کے مالکان طویل عرصے سے واجب الادا کرایہ ادا نہیں کر رہے تھے، جس پر کمانڈنٹ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کا آغاز کیا اور متعدد دکانوں کو سیل کر دیا گیا۔

    کمانڈنٹ اسد خان چانڈیہ نے موقع پر موجود ٹیم کو ہدایت کی کہ کارِ سرکار میں مداخلت کرنے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی بدعنوانی اور بے ضابطگی برداشت نہیں کی جائے گی۔

    عوامی حلقوں نے کمانڈنٹ اسد خان چانڈیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ بروقت کارروائی نہ صرف قانون کی بالادستی قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ سرکاری املاک کے بہتر انتظام کو بھی یقینی بنائے گی۔

    یہ کارروائی بارڈر ملٹری پولیس کی جانب سے ادارے کی شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے عزم کی عکاس ہے۔

  • دراہمہ: ایک کروڑ 26 لاکھ روپے کا نان کسٹم سامان برآمد، موٹر سائیکل ڈکیتی کا ملزم گرفتار

    دراہمہ: ایک کروڑ 26 لاکھ روپے کا نان کسٹم سامان برآمد، موٹر سائیکل ڈکیتی کا ملزم گرفتار

    دراہمہ(باغی ٹی وی ،نامہ نگارمحمدعلی بروہی) ایک کروڑ 26 لاکھ روپے کا نان کسٹم سامان برآمد، موٹر سائیکل ڈکیتی کا ملزم گرفتار

    تفصیل کے مطابق دراہمہ پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے نان کسٹم پیڈ سامان اور موٹر سائیکل ڈکیتی میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ ڈی پی او ڈیرہ غازیخان سید علی کی زیرِ نگرانی داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا نظام سخت کر دیا گیا ہے، اور اسمگلروں کے خلاف تابڑ توڑ کارروائیاں جاری ہیں۔

    چیک پوسٹ غازی گھاٹ کے انچارج محمد ایوب خان نیازی کی قیادت میں ٹیم نے روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب سے انہوں نے چارج سنبھالا ہے اسمگلروں کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔

    آج ایک بڑی کارروائی میں پولیس نے کوئٹہ سے لاہور جانے والی بس "سپر سدابہار” (نمبر BSC-200) کو روکا۔ دورانِ تلاشی بس میں لوہے کی چادروں کے نیچے چھپایا گیا نان کسٹم سامان برآمد کیا گیا، جس میں موبائل فون اور سگریٹ شامل تھے۔

    ضبط شدہ سامان کی مالیت 1 کروڑ 26 لاکھ 70 ہزار روپے بتائی جا رہی ہے۔ سامان کو کاٹ کر برآمد کرنے کے بعد مزید کارروائی کے لیے کسٹم حکام کے حوالے کر دیا گیا۔

    پولیس نے ایک اور کارروائی میں 2023 ماڈل CG-125 موٹر سائیکل کے ساتھ ملزم محمد حمید رضا ولد حاجی محمد ملانہ سکنہ ملتان کو گرفتار کر لیا۔

    چیک پوسٹ انچارج محمد ایوب خان نیازی کا کہنا تھا کہ وہ ڈی پی او سید علی کے اعتماد پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا جب تک میں یہاں تعینات ہوں اسمگلروں کی ہر کوشش کو ناکام بناتا رہوں گا اور ڈی پی او کے اعتماد کبھی ٹھیس نہیں پہنچنے دوں گا۔”

    یہ کامیاب کارروائیاں علاقے میں غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف پولیس کے مؤثر اقدامات کی عکاسی کرتی ہیں۔

  • ڈیرہ غازی خان: کینسر کا بڑھتا عفریت، ہسپتال کے قیام کا مطالبہ

    ڈیرہ غازی خان: کینسر کا بڑھتا عفریت، ہسپتال کے قیام کا مطالبہ

    ڈیرہ غازیخان (ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی کی رپورٹ)ڈیرہ غازیخان میں کینسر کا بڑھتا عفریت،اس جان لیوا مرض کے علاج کیلئے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے کینسر ہسپتال بنانے کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) کا شمار ملک کے اہم اداروں میں ہوتا ہے جو نہ صرف ملکی دفاع اور سلامتی کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے بلکہ طبی شعبے میں بھی نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔ ڈیرہ غازی خان جہاں اس ادارے کا ایک بڑا نیٹ ورک موجود ہے سماجی اور معاشی لحاظ سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ تاہم اس علاقے میں کینسر کے بڑھتے ہوئے مریضوں کی تعداد نے صحت کی سہولیات کے فقدان کو واضح کر دیا ہے۔ عوام ایک عرصے سے جدید سہولیات سے لیس کینسر ہسپتال کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ ان کی بنیادی طبی ضروریات پوری ہو سکیں۔

    کینسر کے بڑھتے کیسز اور سہولیات کا فقدان
    ڈیرہ غازی خان میں تابکاری کے اثرات اور غربت کی وجہ سے کینسر کے مریضوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ یہاں کے لوگ نہ صرف معاشی مسائل کا شکار ہیں بلکہ انہیں صحت کی بنیادی سہولیات تک بھی رسائی حاصل نہیں۔ اس صورتحال میں کینسر جیسے موذی مرض کی بروقت تشخیص اور علاج ایک چیلنج بن چکا ہے۔ کینسر کے علاج کے لیے مریضوں کو ملتان، لاہور یا دیگر شہروں کا سفر کرنا پڑتا ہے، جو اکثر ان کی استطاعت سے باہر ہوتا ہے۔

    PAEC کے تحت ملک بھر میں جدید کینسر ہسپتال
    پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اس وقت ملک کے مختلف شہروں میں 19 جدید کینسر ہسپتال چلا رہا ہے، جن میں لاہور کا "انمول” (Institute of Nuclear Medicine and Oncology Lahore) اور "سینم” (Centre for Nuclear Medicine) جیسے مراکز شامل ہیں۔ اسی طرح ملتان میں "مینار” (Multan Institute of Nuclear Medicine and Radiotherapy) بھی کینسر کے مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ بلوچستان میں صرف کوئٹہ میں ایک کینسر ہسپتال موجود ہے جو صوبے بھر کے لیے ناکافی ہے۔ تاہم ڈیرہ غازی خان جہاں کینسر کے کیسز کی تعداد دیگر علاقوں سے زیادہ ہے اس سہولت سے تاحال محروم ہے۔

    کینسر ہسپتال کی فوری ضرورت
    ڈیرہ غازی خان کے عوام نے حکومت اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال میں ایک علیحدہ کینسر ونگ یا اسپیشلائزڈ ہسپتال قائم کیا جائے۔ یہ ہسپتال دیگر شہروں کے مراکز کی طرح جدید سہولیات سے آراستہ ہو اور PAEC کے انتظامی کنٹرول میں ہو۔ اگر ممکن ہو تو حال ہی میں سخی سرور روڈ پر بنائے گئے جنرل ہسپتال کے اندر بھی ایک کینسر ونگ قائم کیا جا سکتا ہے تاکہ عوام کو جلد از جلد علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

    بلوچستان کے عوام بھی مستفید ہوں گے
    ڈیرہ غازی خان میں کینسر ہسپتال کا قیام نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ بلوچستان کے عوام کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا کیونکہ بلوچستان میں اس وقت صرف کوئٹہ میں ایک کینسر ہسپتال موجود ہے۔ نیا ہسپتال خطے بھر کے مریضوں کو بروقت تشخیص اور علاج کی سہولت فراہم کرے گا اور انہیں دیگر شہروں کا سفر کرنے سے بچائے گا۔

    مرض کی ابتدائی تشخیص اور بہتر علاج کے امکانات
    علاقے کے عوام کا کہنا ہے کہ کینسر ہسپتال کے قیام سے مریضوں کو بروقت تشخیص اور ابتدائی مرحلے میں علاج کی سہولت میسر ہوگی جس سے ان کی زندگی بچنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ جدید ہسپتال کے بغیر زیادہ تر مریض بیماری کے پیچیدہ مراحل تک پہنچ جاتے ہیں جس سے علاج مزید مشکل اور مہنگا ہو جاتا ہے۔

    حکام سے فوری اقدامات کی اپیل
    ڈیرہ غازی خان کے عوام نے اعلیٰ حکام خاص طور پر PAEC سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں اور فوری طور پر کینسر ہسپتال کے قیام کو یقینی بنائیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ یہ ان کا بنیادی حق اور جائز مطالبہ ہے۔ ہسپتال کے قیام سے نہ صرف شہریوں کی زندگیوں کو بچایا جا سکے گا بلکہ انہیں معیاری اور باوقار زندگی گزارنے کا موقع بھی ملے گا۔

    ڈیرہ غازی خان کے لوگ اس امید کے ساتھ حکومتی توجہ کے منتظر ہیں کہ جلد از جلد اس اہم مسئلے پر عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

  • ڈیرہ غازی خان: ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کا  دورہ تونسہ ،سیکیورٹی اور ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا

    ڈیرہ غازی خان: ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کا دورہ تونسہ ،سیکیورٹی اور ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواد اکبر) ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد اور ڈی پی او سید علی نے شہر کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں کا معائنہ کیا۔ دونوں افسران نے بین الصوبائی چیک پوسٹ، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال، تعلیمی اداروں، اور کھیلوں کے مراکز کا جائزہ لیا۔ انہوں نے جاری ترقیاتی کاموں کو جلد مکمل کرنے اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی پر زور دیا۔

    ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او نے بین الصوبائی چیک پوسٹ ترمن کا دورہ کیا جہاں اسسٹنٹ کمشنر تونسہ تیمور عثمان، ایس پی آپریشنز بختیار احمد، اور دیگر افسران بھی ہمراہ تھے۔ نئی تعمیر ہونے والی جوائنٹ چیک پوسٹ کے لیے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا گیا اور تمام محکموں کو جلد کام مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔

    چیک پوسٹ کے اطراف درختوں کی کٹائی کے احکامات جاری کیے گئے، جبکہ قریب موجود فاریسٹ عمارت کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔ افسران نے چیک پوسٹ پر پولیو ٹیموں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا اور اس بات پر زور دیا کہ دوسرے صوبوں سے آنے والے بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے پلانے کو یقینی بنایا جائے۔ ڈپٹی کمشنر نے پولیو ٹیموں کی محنت کو سراہا اور کہا کہ انسداد پولیو مہم میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

    ڈپٹی کمشنر عثمان خالد نے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ کا معائنہ کیا اور ہسپتال کے باقی ماندہ تعمیراتی کاموں کو ایک ہفتے کے اندر مکمل کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے مریضوں اور ان کے لواحقین سے طبی سہولیات اور ادویات کی فراہمی کے حوالے سے معلومات حاصل کیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں موجود فلڈ ریلیف کیمپ کا بھی دورہ کیا اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو ہدایت دی کہ وہ الرٹ رہیں اور ہر ممکن سہولت فراہم کریں۔ انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ ہسپتال میں ادویات کی کمی آئندہ ماہ تک پوری کی جائے گی۔

    ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او نے تونسہ جاتے ہوئے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول کوٹ مبارک کا بھی دورہ کیا۔ انہوں نے سکول کی بوسیدہ عمارت کا جائزہ لیتے ہوئے فوری رپورٹ ڈپٹی کمشنر آفس کو بھیجنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی حفاظت کے پیش نظر تعلیمی سلسلے کو محدود کیا جائے اور تعلیمی اداروں کی تمام ضروریات کو پورا کیا جائے۔

    ڈپٹی کمشنر نے بی ایچ یو کوٹ مبارک اور آر ایچ سی شاہ صدر دین کا دورہ کرتے ہوئے ان مراکز میں جاری تزئین و آرائش کے کاموں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ تعمیراتی کاموں میں اعلیٰ معیار کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ عثمان خالد نے کہا کہ صحت کے مراکز میں کام مکمل ہونے کے بعد بہترین طبی ماحول فراہم کیا جائے گا۔

    ڈپٹی کمشنر نے تونسہ میں سپورٹس کمپلیکس کا بھی دورہ کیا اور وہاں کے کھیلوں کے میدانوں کا جائزہ لیا۔ ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر رابعہ بتول نے کرکٹ اور ہاکی اسٹیڈیم کے حوالے سے بریفنگ دی۔ عثمان خالد نے کرکٹ اسٹیڈیم کی مینٹی نینس بہتر کرنے اور بجلی کی فراہمی کو جلد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے مزید کہا کہ تونسہ کے شہریوں کو جلد ہاکی اسٹیڈیم کا تحفہ دیا جائے گا اور کھیلوں کے منصوبوں کے لیے فنڈز کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔

    ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او نے سنگھڑ پل کا بھی معائنہ کیا اور افسران سے پل کی تعمیر کے حوالے سے بریفنگ حاصل کی۔ حکام نے بتایا کہ پل کے اطراف 3.80 کلومیٹر کا تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے۔ عثمان خالد نے ہدایت دی کہ تعمیراتی کاموں میں ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کیا جائے اور فنڈز کی دستیابی کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کیے جائیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور سیکیورٹی کے اقدامات کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت کے منصوبوں میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام ادارے عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھرپور محنت کریں۔

  • ڈیرہ غازیخان: شہر کو سرسبز بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، ڈپٹی کمشنر

    ڈیرہ غازیخان: شہر کو سرسبز بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، ڈپٹی کمشنر

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی، نیوز رپورٹر شاہد خان) ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازیخان محمد عثمان خالد نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے احکامات کی روشنی میں ڈیرہ غازیخان کو سرسبز و شاداب بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں گے۔ پارکوں کی حالت کو بہتر بنا کر شہریوں کو پرسکون اور خوشگوار قدرتی ماحول فراہم کیا جائے گا۔

    یہ بات انہوں نے پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) کی بریفنگ کے دوران کہی، جس میں ڈائریکٹر ایڈمن پی ایچ اے چوہدری مسعود ارشد نے اتھارٹی کے امور، مستقبل کے منصوبوں اور شہر کی خوبصورتی میں بہتری کے حوالے سے بریفنگ دی۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ شہر کے اہم چوراہوں کی تزئین و آرائش کے ساتھ ساتھ وہاں کی لائٹس کو درست حالت میں رکھا جائے گا، اور خراب لائٹس کو تبدیل کیا جائے گا۔

    انہوں نے مزید ہدایت دی کہ شہر کے اہم مقامات پر رنگ و روغن کیا جائے اور نرسریوں میں موسم سرما کے مطابق پودوں کی پنیری تیار کی جائے۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تمام امور میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا اور پی ایچ اے کی ضروریات کا مکمل خیال رکھا جائے گا۔اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ ثناء محمد بھی موجود تھے۔

  • ڈیرہ غازیخان:ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس، ترقیاتی منصوبوں اور امن و امان کے امور پر غور

    ڈیرہ غازیخان:ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس، ترقیاتی منصوبوں اور امن و امان کے امور پر غور

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹر جواداکبر) ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی ڈیرہ غازی خان کا اجلاس کنوینئر و رکن قومی اسمبلی سردار عبدالقادر خان کھوسہ کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ارکان اسمبلی محمد حنیف خان پتافی، سردار احمد خان لغاری، سردار صلاح الدین کھوسہ، ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد، ڈی پی او سید علی، ممتاز خان قیصرانی، خواجہ نظام الدین محمود، پی اے محمد اسد چانڈیہ اور دیگر صوبائی و وفاقی محکموں کے افسران نے شرکت کی۔

    امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ
    اجلاس میں ضلع بھر میں امن و امان کی صورتحال، ترقیاتی سکیموں، میگا پراجیکٹس اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ ڈیرہ غازی خان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کو تیز کیا جائے گا، اور ٹریفک فلو کو بہتر بنانے کے لیے تجاوزات کے مکمل خاتمے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

    سرکاری افسران کو ہدایات
    سردار عبدالقادر خان کھوسہ نے افسران کو ہدایت دی کہ لاء اینڈ آرڈر کے مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں اور ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کا سبب بننے والے معاملات کو جلد نمٹایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کی ہدایت پر ضلع میں گڈ گورننس، عوامی خدمات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو اولین ترجیح دی جائے گی۔

    پبلک سروس ڈیلیوری اور دیگر مسائل
    سردار عبدالقادر خان کھوسہ نے اجلاس میں سرکاری افسران کو عوام کو چیکنگ کے دوران کسی قسم کی پریشانی سے بچانے کی ہدایت کی اور کہا کہ تحصیل سطح کے سکولوں میں پلے گراؤنڈز کے قیام اور مٹی بھرائی کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کارڈیالوجی ہسپتال کے اطراف میں تجاوزات کا خاتمہ اور ٹریفک کے مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دی جائے۔

    ترقیاتی سکیموں پر تیز رفتار کام کی ضرورت
    اجلاس میں محمد حنیف خان پتافی نے غازی گھاٹ پل پر ٹول پلازہ کی منتقلی اور رکشہ اسٹینڈز کے قیام کی ضرورت پر زور دیا جبکہ سردار احمد خان لغاری نے دراہمہ میں مشترکہ چیک پوسٹ کے قیام اور ہسپتالوں کی ری ویمپنگ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ سردار صلاح الدین کھوسہ نے سرکاری سکولوں اور عمارات کی تعمیر میں سائنسی اصولوں کو مدنظر رکھنے اور پہاڑی علاقوں میں مشینری کی دستیابی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

    پولیس اور دیگر محکموں کی کارکردگی
    ڈی پی او سید علی نے ضلع میں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس چیک پوسٹوں پر سیکیورٹی کو مزید سخت کیا جا رہا ہے اور چوری شدہ گاڑیوں کی منتقلی کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ خواجہ نظام الدین محمود نے تونسہ کمپلیکس میں سپورٹس سرگرمیوں کے فروغ اور جرائم کی روک تھام کے لیے پولیس فورس کی تعیناتی کے حوالے سے بات کی۔

    ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ
    ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ امیر مسلم نے ضلع بھر میں جاری ترقیاتی سکیموں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں مختلف منصوبوں کی بروقت تکمیل اور معیار کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا، جبکہ ضلع میں موجودہ مسائل کے حل کے لیے مزید اقدامات کرنے کا عزم کیا گیا۔

  • ڈیرہ غازیخان:بی ایم پی تھانہ سخی سرور کی شاندار کارروائی، چور گرفتار اور چوری شدہ موٹر سائیکل بازیاب

    ڈیرہ غازیخان:بی ایم پی تھانہ سخی سرور کی شاندار کارروائی، چور گرفتار اور چوری شدہ موٹر سائیکل بازیاب

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواد اکبر) بی ایم پی تھانہ سخی سرور کے ایس ایچ او در محمد لغاری نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ایک کامیاب کارروائی کرتے ہوئے چوری شدہ موٹر سائیکل چور کو پکڑ لیا۔

    پکٹ یاعلی موڑ پر معمول کی چیکنگ کے دوران پولیس ٹیم نے مشکوک شخص کو روکا جس کے قبضے سے چوری شدہ موٹر سائیکل برآمد کر لی گئی۔ ملزم کو فوری طور پر حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اس کے خلاف مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

    ایس ایچ او در محمد لغاری کا کہنا تھا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

  • غازی گھاٹ پل پر ٹریفک جام کا عفریت،مسافروں کی زندگی اجیرن، نئے پل کی تعمیر کا مطالبہ

    غازی گھاٹ پل پر ٹریفک جام کا عفریت،مسافروں کی زندگی اجیرن، نئے پل کی تعمیر کا مطالبہ

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرجواداکبر)ممبر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ڈیرہ غازی خان شیخ امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ دریائے سندھ غازی گھاٹ پل پر آئے روز ٹریفک کی بندش اور بد نظمی کو ختم کرنے کا واحد حل یہ ہے کہ پل پر قائم پولیس چوکی اور ٹول پلازہ کو فوری طور پر پل سے دو، تین کلو میٹر آگے یا پیچھے دو رویہ سڑک پر منتقل کیا جائے تاکہ ٹریفک کی روانی نظم وضبط کے ساتھ جاری رہے کیونکہ عین پل کے اوپر پولیس چیک پوسٹ اور ٹول ٹیکس کی وصولی کے لئے قائم ٹول پلازہ کی وجہ سے ٹریفک کی لمبی لمبی قطاروں کی صورت میں بے تحاشا اور بے ہنگم اضافہ ہو جاتا ہے جورکاوٹ کا باعث بنتا ہے۔

    واضح رہے کہ غازی گھاٹ پل دریائے سندھ پر واحد پل ہے جہاں سے پورے پاکستان کا ٹریفک گزرتا ہے یہ بلوچستان سندھ کے پی کے اور انڈس ہائی وے سے پنجاب کی طرف مین گیٹ وے ہے مگر المیہ یہ ہے کہ ابھی تک پل کے مشرقی اور مغربی طرف ”دو رویہ سڑک ” بننے کے باوجود دریا پر قائم ”سنگل پل” کو دو رویہ نہیں کیا گیا، موجودہ سنگل پل دونوں طرف کی ٹریفک کے لئے 1982 میں بنایا گیا تھا جو کہ پرانے ڈیزائن و ٹیکنالوجی پر مبنی اس وقت کی ضروریات کے مطابق تو کافی تھا،

    مگر اب چونکہ پورے پاکستان کو بلوچستان سے سبزی، فروٹ، کوئلہ وغیرہ، سخی سرور سے روڑہ، بجری، پتھر اور معدنیات کی ترسیل، ایشیا کے سب سے بڑے پلانٹ سے سیمنٹ کی ترسیل، پارکو سے آئل ٹینکرز کے ذریعے  آئل کی ترسیل، الغازی ٹریکٹر لمیٹڈ سے پورے ملک کو ٹریکٹرز کی ترسیل، خطے میں قائم شوگر ملوں کو گنے کی ترسیل،  علاوہ ازیں انڈس ہائی وے پشاور اور کراچی سے  پنجاب کی طرف ٹریفک کی مرکزی گزر گاہ ہے جو کہ ایک واحد اہم راہداری ہے مگر دو رویہ  پل نہ ہونے کی وجہ سے اکثر و بیشتر بالخصوص رات کے وقت ٹریفک تعطل کا شکار رہتی ہے جسکی وجہ سے عوام الناس/مسافروں کے روزمرہ کے معمولات شدید متاثر ہوتے ہیں علاوہ ازیں ایمبولینسز میں ایمرجنسی کی صورت میں نشتر ہسپتال اور ملتان کارڈیالوجی انسٹیوٹ کو ریفر ہونے والے مریضوں اور ان کے لواحقین بھی مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں بعض اوقات تاخیر موت کا سبب بن جاتی ہے،

    ڈی جی خان ملتان روڈ  دونوں طرف سے ڈبل روڈ انفراسٹرکچر کے ہوتے ہوئے درمیان میں موجودہ سنگل غازی گھاٹ پل خدانخواستہ کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت صوبہ سندھ کی حدود میں دریائے سندھ کے مقام پر لنکس روڈز پر بھی دو طرفہ ٹریفک کے لئے علیحدہ علیحدہ پل بنائے گئے ہیں جیساکہ صوبہ سندھ میں سکھر سے لیکر حیدرآباد تک حتی کہ  ”قاضی احمد” شہر میں ”کے ایل پی” روڈ کو ”انڈس ہائی وے” سے ملانے کیلئے دریائے سندھ کے مقام پر بھی دونوں طرف کی ٹریفک کے لئے دو علیحدہ علیحدہ پل بنائے گئے ہیں۔

    شیخ امجد حسین نے کہا ہے کہ حقائق یہ ہیں کہ اس وقت پل غازی گھاٹ پر قائم ٹول پلازہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی حکومت کو پورے پاکستان میں سب سے ذیادہ ٹول ٹیکس اکٹھا کر کے دے رہا ہے جو سالانہ کئی ارب روپے بنتا ہے۔ مذکورہ معقول آمدنی سے  مرکزی و صوبائی حکومت کی طرف سے موجودہ غازی گھاٹ پل کے جنوبی طرف نئے  جدید سہولیات سے لیس دوسرے غازی گھاٹ پل کی تعمیر کے منصوبے کا اعلان اور اس کی بروقت فوری تکمیل وقت کی اہم ضرورت اور تقاضا ہے،

    واضح رہے کہ ملتان ڈیرہ غازی خان ڈبل روڈ منصوبے کی تکمیل کا سہرا بھی 2018 میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے سر جاتا ہے، شیخ امجد حسین نے اس اہم منصوبہ کے باضابطہ اعلان اور تکمیل کے لئے ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے تمام پارلیمنٹیرینز سے بلا تفریق، اپنا سیاسی اور ذاتی اثر رسوخ استعمال کرنے کی استدعا کی ہے تاکہ حکومت فوری طورپر اس اہم منصوبہ کے شروعات کا اعلان کرے۔

    انہوں نے صوبائی و وفاقی حکومت سے درخواست کی ہے کہ خطے میں اس اہم منصوبہ کی شروعات اور تکمیل میں انہی ترجیحات پر عمل کرے جیسے کچھ ہفتے پہلے لاہور میں راوی پل پراجیکٹ کو سپیڈ اپ کیا گیا کیونکہ یہ جنوبی پنجاب کی بنیادی ضرورت اور حق ہے جو کہ ملکی ترقی اور معیشت کے لئے بہت سنگ میل ثابت ہو گا۔