Baaghi TV

Category: گلگت بلتستان

  • گلگت،ضلع غذر میں راستے بند،مرکزی مسلم لیگ نے فری بوٹ سروس شروع کر دی

    گلگت،ضلع غذر میں راستے بند،مرکزی مسلم لیگ نے فری بوٹ سروس شروع کر دی

    گلگت کے سیلاب متاثرہ علاقے غذر میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے فری بوٹ سروس شروع کر دی،کلاؤڈ برسٹ کے بعد ضلع غذر کے گاؤں دائین جانے والے راستے مکمل طور پر بند ہو گئے تھے، مرکزی مسلم لیگ نے چٹور کھنڈ تا دائین گاؤں فری بوٹ سروس کا آغاز کر دیا، اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم بھی موجود تھے.

    گلگت میں مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، سیلاب متاثرین میں خشک راشن کی تقسیم، پکی پکائی خوراک کی تقسیم اور میڈیکل کیمپوں میں مریضوں کے مفت علاج معالجہ کے بعد مرکزی مسلم لیگ نے فری بوٹ سروس شروع کر دی ہے،مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے گزشتہ روز دائین گاؤں میں کشتی کے ذریعے خشک راشن دائین گاؤں میں پہنچا کر تقسیم کیا تھا ،آج منگل کو مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے مقامی رہنماؤں کے ہمراہ مل کر چٹور کھنڈ سے دائین تک فری بوٹ سروس کا آغاز کیا، اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ گلگت زون کے صدر مقصود حسین سندھو،مرکزی مسلم لیگ گلگت کے ضلعی صدر جمعہ دین، چٹور کھنڈ کے تحصیلدار طارق عزیز لالک جان مرکزی مسلم لیگ غذر کے ضلعی صدر عباس علی، صدر امن کمیٹی ضلع غذر پروفیسر عامر بیگ، نمبر دار دائین علی مراد و دیگر بھی موجود تھے

    اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے مرکزی مسلم لیگ روز اول سے کام کر رہی ہے، غذر کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے پہنچے تو یہاں راستے بند تھے، شہری مشکلات کا شکار تھے اسی لئے مرکزی مسلم لیگ نے شہریوں کی آمدورفت کی آسانی کے لئے فری بوٹ سروس شروع کی ہے،متاثرہ علاقوں میں دیگر امدادی کاموں کا سلسلہ بھی جاری ہے،مقصود حسین سندھو کا کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ گلگت میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں متاثرین کی بحالی تک امدادی سرگرمیاں جاری رکھے گی .

  • سوات اور گلگت بلتستان میں سیلاب سے تباہی، امدادی کارروائیاں جاری

    سوات اور گلگت بلتستان میں سیلاب سے تباہی، امدادی کارروائیاں جاری

    سوات کے علاقے شانگلہ میں شدید سیلابی ریلے نے گاؤں شائی درہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ سیلابی ریلے نے نہ صرف مکانات اور مقامی مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا بلکہ گاؤں کا واحد لڑکیوں کا پرائمری اسکول بھی مکمل طور پر متاثر ہو گیا ہے۔ رابطہ سڑک تباہ ہونے کی وجہ سے امدادی سامان متاثرہ علاقے تک پہنچنے میں شدید رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں، جس سے مقامی باشندوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ زاہد آباد میں سیلاب کے 10 روز گزرنے کے باوجود کئی مکانات اور گلیاں ابھی تک صاف نہیں کی جا سکیں۔ مقامی حکومتی ادارے اور رضاکار مل کر صفائی کے کام میں مصروف ہیں لیکن صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔

    دوسری جانب ضلع غذر میں بھی سیلابی تباہی کی لپیٹ میں آ کر چٹورکھنڈ اور گاؤں دائن کو ملانے والا اہم پل گر گیا ہے، جس کے باعث مقامی آبادی کا گلگت اور گاہکوچ سے دو ہفتے سے رابطہ منقطع ہے۔ اس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور روزمرہ کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔غذر میں گلیشیئر پھٹنے کے باعث تالی داس، راوشن اور دیگر متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم گلگت شندور روڈ بند ہونے کی وجہ سے بالائی علاقوں کے لیے ٹریفک کی روانی معطل ہے۔

    اس حوالے سے گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ تالی داس گاؤں کے مکینوں کی آباد کاری کے لیے متبادل گاؤں کے قیام کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد کی بحالی اور نئے گاؤں کی تعمیر کے لیے وفاقی حکومت سے تعاون حاصل کیا جائے گا۔ مزید برآں، دائن اور چٹورکھنڈ کے درمیان آر سی سی پل کی تعمیر کے لیے بھی وفاقی تعاون درکار ہے تاکہ رابطہ دوبارہ بحال ہو سکے۔

  • گلگت: فیض آباد میں تیز بارش کے بعد سیلابی ریلے سے گھروں کو جزوی نقصان

    گلگت: فیض آباد میں تیز بارش کے بعد سیلابی ریلے سے گھروں کو جزوی نقصان

    گلگت کے علاقے فیض آباد میں گزشتہ شب شدید بارش کے باعث پہاڑ سے آنے والے سیلابی ریلے نے تباہی مچائی ہے۔ اس دوران متعدد گھروں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا جبکہ نلتر ایکسپریس وے کا ایک حصہ بھی متاثر ہوا ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنر گلگت کیپٹن ریٹائرڈ عادل علی نے بتایا کہ رات گئے ہونے والی تیز بارش کے بعد سیلابی پانی نے علاقے میں داخل ہو کر کچھ گھروں کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیلابی پانی کی وجہ سے سڑک پر بھی پانی جمع ہو گیا، جس کی وجہ سے نلتر ایکسپریس وے کے کچھ حصے متاثر ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے فوری طور پر تین گھروں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے تاکہ ان کی جان و مال کو کسی قسم کا خطرہ نہ ہو۔ اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ ریسکیو اور دیگر متعلقہ ٹیمیں فوری طور پر متاثرہ علاقے میں پہنچ چکی ہیں اور امدادی کام جاری ہیں۔

    عادل علی نے یقین دہانی کروائی کہ سیلاب کی صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور انتظامیہ ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے تاکہ مزید نقصانات سے بچا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ ادارے اور ریسکیو ٹیمیں پوری طرح چوکس ہیں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • گلگت،گلیشیئر پگھلنے سے لینڈ سلائیڈنگ کے نقصانات کی ابتدائی رپورٹ تیار

    گلگت،گلیشیئر پگھلنے سے لینڈ سلائیڈنگ کے نقصانات کی ابتدائی رپورٹ تیار

    ضلع غذر کی تحصیل گوپس یاسین میں گلیشیئر کے پگھلنے کے باعث شدید لینڈ سلائیڈنگ واقع ہوئی جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ حکام نے نقصانات کی ابتدائی رپورٹ مکمل کرکے اعلیٰ حکام کو ارسال کر دی ہے جبکہ متاثرہ علاقوں کے لوگوں نے حکومت سے فوری امداد اور ریلیف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گوپس یاسین، شیر افضل نے بتایا کہ گلیشیئر کے پھٹنے سے تالی داس، مڈوری، مولا آباد، ہاکس تھنگی، راؤشن اور گوتھ کے متعدد دیہات شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق تقریباً 330 گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ لینڈ سلائیڈنگ اور عارضی جھیل بننے کے باعث کئی دکانیں بھی تباہ ہو گئی ہیں۔شیر افضل نے مزید کہا کہ متاثرین کو خیمے، راشن، اور دیگر ضروری اشیاء کی فوری ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ راؤشن گاؤں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث دریا کا بہاؤ رک گیا تھا جس کی وجہ سے عارضی ڈیم بن گیا تھا، تاہم اب اسپیل وے بننے سے پانی کا اخراج جاری ہے اور اس بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بننے والی جھیل سے پانی کا اخراج ہو رہا ہے جس سے جھیل کی سطح میں کمی آ رہی ہے۔ اس کمی کی وجہ سے نچلے علاقوں میں ممکنہ کٹاؤ اور مزید تباہی کا خطرہ کم ہو گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ دریا کا بہاؤ رکنے کی وجہ سے ہزاروں گھروں کے ڈوبنے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا مگر اسپیل وے کے کھلنے سے یہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ تاہم متاثرہ گھروں میں پانی کا اترنا ابھی وقت طلب ہے۔

    دوسری جانب، متاثرہ علاقے کے ایک چرواہے وصیت خان کو واقعے کی بروقت اطلاع دینے اور سیکڑوں لوگوں کی جان بچانے کے لیے نقد انعام اور تعریفی سند دے کر حکام کی جانب سے حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ اس بہادر عمل نے بڑی تباہی سے کئی جانیں محفوظ کر لی ہیں۔حکام نے متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ متاثرین کو جلد از جلد سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

  • سوات : امدادی کارروائیوں کے دوران مدارس کے طلبا کی ایمانداری کی اعلیٰ مثال

    سوات : امدادی کارروائیوں کے دوران مدارس کے طلبا کی ایمانداری کی اعلیٰ مثال

    وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی اپیل پر مختلف مدارس کے ہزاروں طلبا خیبر پختونخوا میں آنے والے حالیہ سیلاب سے متاثر ہونے والے اضلاع میں دیگر اداروں کی طرح امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

    ریسکیو اداروں، فلاحی تنظیموں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں مدارس کے طلبا بھی خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں،وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی اپیل پر مختلف مدارس کے 3 ہزار طالبعلم امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

    مدارس کے طلبا کی امدادی کارروائیوں کے دوران کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سوات میں امدادی کارروائیوں کے دوران کچھ طلبا کو ایک گھر سے سونے کے زیورات ملے جو انہوں نے اپنے متعلقہ امیر کے سپرد کر دیےویڈیو میں ایک شخص کو پشتو زبان میں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ یہ زیوارت تصدیق کے بعد مالک کے سپرد کر دیے جائیں گے۔

    https://x.com/ziaurrehman76/status/1958538916178612405

    یاد رہے کہ کے پی میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، اس دوران سب سے زیادہ تباہی ضلع بونیر میں ہوئی جہاں مقامی افراد اپنے پیاروں کو کھونےکے بعد نفسیاتی مسائل سے بھی دوچار ہونے لگے ہیں ۔

  • گلگت،گلیشیئر پھٹنے پر پاک فوج کا ریسکیو آپریشن جاری

    گلگت،گلیشیئر پھٹنے پر پاک فوج کا ریسکیو آپریشن جاری

    گلگت بلتستان کی تحصیل گوپس میں گلیشیئر پھٹنے پر پاک فوج نےفوری ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا

    گلگت بلتستان کی تحصیل گوپس کے علاقے تلی داس کے گاؤں روشان میں گلیشیئر جھیل پھٹنے سے شدید سیلابی صورتحال ہے،شدید سیلاب نے مقامی آبادی کو خطرات سے دوچار کردیا ہے،گلیشئر پھٹنے سے دریائی پانی کا بہاؤ رک گیا جس سے قریبی آبادی محصور ہو چکی ہے ،زمینی کٹاؤ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے،زمینی راستے متاثر ہونے سے مقامی افراد تک رسائی محدود ہو چکی جبکہ متاثرین فوری ریسکیو کے منتظر ہیں،جی بی سکاؤٹس کوئیک ری ایکشن فورس(QRF) کو جائے وقوعہ کی جانب روانہ ک دی گئی،جی بی سکاؤٹس کو فوری روانہ کرنے کا مقصد متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ہے

    دوسری جانب سول انتظامیہ اور ریسکیو 1122 نے بھی فوری طور پر تمام وسائل کو متحرک کردیا ہے،فرنٹیئر کور ناردرن ایریاز (FCNA) کی جانب سے بھی ریسکیو مشن کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے،یہ مشن ہیلی کاپٹر کے ذریعے انجام دیا جائے گااس کا مقصد دشوار گزار علاقوں میں پھنسے افراد کو فوری نکالنا ہے،متاترین نے حکام سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر اقدامات کرکے قیمتی جانوں کو بچایا جائے

  • گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں گلیشیئر پھٹنے سے تباہ کن سیلاب

    گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں گلیشیئر پھٹنے سے تباہ کن سیلاب

    گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں گلیشیئر پھٹنے کے باعث شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جس نے ایک بار پھر علاقے میں تباہی مچا دی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق گلیشیئر پھٹنے سے تالی داس نالہ میں شدید لینڈسلائیڈنگ ہوئی ہے جس کی وجہ سے گلگت شندور روڈ مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔ اس لینڈسلائیڈنگ نے راؤشن گاؤں کی آبادی کو محصور کر دیا ہے اور وہاں کے رہائشیوں کی نقل و حمل مشکل ہو گئی ہے۔

    وزیر داخلہ گلگت بلتستان شمس لون نے تصدیق کی ہے کہ سیلاب نے ضلع غذر میں شدید تباہی مچائی ہے، تاہم خوش قسمتی سے اب تک کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ کچھ لوگ سیلاب کی لپیٹ میں آ کر پھنس گئے ہیں جن کے ریسکیو کے لیے فوری طور پر ہیلی کاپٹر طلب کر لیا گیا ہے۔ فورسز کمانڈر ایف سی این اے کی ہدایت پر ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو ہیلی کاپٹر روانہ کر دیا گیا ہے تاکہ پھنسے ہوئے افراد کو بچایا جا سکے۔

    گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے بتایا کہ گلیشیئر پھٹنے کا واقعہ گوپس علاقے کے تلی داس مقام پر پیش آیا۔ اس واقعے کے باعث نہ صرف سیلابی پانی نے متعدد دیہات کو زیر آب لے لیا بلکہ شدید مالی نقصان بھی ہوا ہے۔ خوش قسمتی سے فی الحال کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا، تاہم دریا کے بہاؤ میں کمی کے باعث مزید تباہی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔فیض اللہ فراق نے بتایا کہ پانی کی سطح میں اضافے کی وجہ سے ایک جھیل وجود میں آ گئی ہے جس کے باعث متصل دیہات بھی زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ ریسکیو آپریشن میں اب تک 50 سے زائد افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر لیا گیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر غذر نے وضاحت کی کہ تالی داس اور راؤشن میں لینڈسلائیڈنگ کی وجہ سے دریائے غذر کا بہاؤ رات 3 بجے سے مکمل طور پر بند ہو گیا ہے۔ دریائے غذر کے بند ہونے کی وجہ سے مزید آبادیاں سیلابی پانی کی زد میں آنے کا خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے بروقت لوگوں کو اطلاع دے دی ہے جس کی وجہ سے اب تک کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ متاثرہ افراد کی مدد اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

  • موجودہ موسمی حالات میں مل کر کام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے،وزیراعظم

    موجودہ موسمی حالات میں مل کر کام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاق آج پھر صوبوں کے ساتھ مل کر موسمیاتی آفت کا مقابلہ کررہا ہے، سیلاب زدہ علاقوں میں امداد اور بحالی کے کاموں میں کوئی تفریق نہیں کی جائے، موجودہ موسمی حالات میں مل کر کام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے-

    وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے پر بونیر میں خطاب کرتے ہوئےکہا کہ ناگہانی آفت میں جاں بحق افراد کےلواحقین سے افسوس کرنے آیا ہوں، اللہ تعالیٰ مرحومین کے درجات بلند کرے، شمالی علاقہ جات میں گزشتہ چند روز کے واقعات پر پوری قوم اشکبار ہے، انسانی جانوں کے ضیاع سے بڑھ کر دکھ کی کوئی اور بات نہیں ہوسکتی، بادل پھٹنے سےآبی ریلے نے طغیانی کی شکل اختیار کی جس سے نقصانات ہوئے ، 350 سے زائد افراد جاں بحق ، سیکڑوں زخمی اور لاپتا ہیں۔

    حکومتی فیصلے پر عمل نہیں ہوتا لیکن حکومت پر تنقید کی جاتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    انہوں نے کہا کہ 2022میں جب سیلاب آیا تو جہاں تک ممکن ہوسکا وہاں تک گیا تھا، 2022 کے سیلاب میں بھی دلخراش واقعات دیکھے تھے، وفاق نے2022کےسیلاب میں امدادی رقوم کےعلاوہ 100 ارب روپے دیے تھے، وفاق آج پھر صوبوں کے ساتھ مل کر موسمیاتی آفت کا مقابلہ کررہا ہے، سیلاب زدہ علاقوں میں امداد اور بحالی کے کاموں میں کوئی تفریق نہیں کی جائے، موجودہ موسمی حالات میں مل کر کام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

    آئی سی سی نے نئی ون ڈے رینکنگ جاری کر دی ،رضوان اور شاہین کی تنزلی

    وزیراعظم نےکہا کہ غیرقانونی ہوٹل بنانا اور اس کی اجازت دینا ناقابل معافی جرم ہے، تجاوزات کے خلاف سخت پالیسی اپنانا ہوگی، دنیا کے کسی قانون میں تجاوزات کی کوئی گنجائش نہیں ہے،متعلقہ اداروں کے مطابق بارشوں کے مزید2 اسپیل آنے ہیں، متوقع بارشوں کے پیش نظر ہمیں اپنی تیاری کرنا ہوگی، ہم انسانی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے تو اپنا ہی نقصان کریں گے۔

    ربیع الاول کا چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 24 اگست کو طلب

    وزیراعظم نے کہا کہ پاک افواج اور سول انتظامیہ کے ریسکیو آپریشنز کو سراہتے ہیں، فیلڈ مارشل کی سربراہی میں پاک فوج دن رات سیلاب زدگان کی مدد کررہی ہے پاکستان ایک گھر ہے اس کو ہم سب نے مل کر سنوارنا ہے،قرضوں سےنجات کیلئے ہمیں اپنا پیسہ ٹھیک جگہ پر استعمال کرنا ہے، تجاوزات پیسے کے ضیاع کے مترادف ہیں، تحریک چلائیں کہ ندی نالوں کے ساتھ تعمیرات نہ ہوں،وفاق کےتمام وسائل متاثرہ عوام کیلئے بروئےکار لائیں گے، پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے انتہائی متاثرہ 10ممالک میں شامل ہے۔

    پاک امریکا تعلقات : دنیا فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کامیاب ڈپلومیسی کی معترف ،واشنگٹن پوسٹ

  • پاک فضائیہ کا گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر ریلیف آپریشن شروع

    پاک فضائیہ کا گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر ریلیف آپریشن شروع

    پاک فضائیہ نے گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر سیلاب ریلیف آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سی 130 طیاروں نے پی اے ایف بیس نور خان سے 7 ٹن خشک راشن، روزمرہ استعمال کی اشیا اور جان بچانے والی ادویات گلگت پہنچائیں امدادی سامان نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے تعاون سے دور دراز متاثرہ علاقوں میں تقسیم ہوگا،زمینی راستے منقطع ہونے کے باوجود متاثرہ خاندانوں تک ضروری سامان بروقت پہنچایا گیا، پاک فضائیہ کی ٹیموں نے سیلاب میں پھنسے 75 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق یہ مربوط اور بروقت کارروائی ملک گیر ایمرجنسی ریلیف مہم کا حصہ ہے، جو قدرتی آفات کے دوران انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے پاک فوج کے عزم کی عکاس ہے امدادی کارروائیاں مربوط اور انتہائی سرعت کے ساتھ جاری رہیں گی،پاک فضائیہ کی بروقت کارروائی سیلاب متاثرہ خاندانوں کے لیے امید کی کرن ثابت ہوئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آنے والے دنوں میں بھی پاک فضائیہ کے طیارے اور زمینی ٹیمیں مسلسل امدادی کارروائیوں میں مصروف رہیں گی اور متاثرہ خاندانوں کو خوراک، ادویات، رہائش اور طبی امداد فراہم کی جائے گی،پاک فضائیہ کے بروقت اور جرات مندانہ ردعمل نے گلگت بلتستان کے متاثرہ خاندانوں کو نئی امید دلائی ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلح افواج ہر مشکل گھڑی میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔

  • گلگت،18 میگا واٹ کے پاور کمپلیکس کا عارضی ہیڈ ورکس بہہ گیا،بجلی معطل

    گلگت،18 میگا واٹ کے پاور کمپلیکس کا عارضی ہیڈ ورکس بہہ گیا،بجلی معطل

    گلگت کے علاقے نلتر میں ایک بار پھر سیلاب آنے سے 18 میگاواٹ کے پاور کمپلیکس کا عارضی ہیڈ ورکس بہہ گیا۔

    پاور ڈویژن کے مطابق نلتر نالے میں دوبارہ طغیانی آنے کے باعث پاور کمپلیکس کو شدید نقصان پہنچا ہے، سیلاب کی وجہ سے ایکسکیویٹر کی رسائی بند ہوگئی ہے اور امدادی کارروائیاں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں،حکام کے مطابق پاور کمپلیکس کا ہیڈ ورکس سیلاب میں بہہ جانے کے بعد گلگت شہر کو بجلی کی فراہمی مکمل طور پر منقطع ہوگئی ہے، شہر میں بجلی کا مکمل بلیک آؤٹ ہے اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے صورتحال کو معمول پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔

    پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ پاور ہاؤس کی بحالی کا کام سیلاب کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد دوبارہ شروع کیا جائے گا۔