Baaghi TV

Category: گلگت بلتستان

  • 
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے تمام تیاریاں مکمل

    
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے تمام تیاریاں مکمل

    گلگت بلتستان میں 7 جون کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سیکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن اور ضلعی انتظامیہ نے پولنگ کے روز شفاف، پرامن اور منظم انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے جامع منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔
    حکام کے مطابق ریٹرننگ افسران (آر او) کے دفاتر سے انتخابی سامان مختلف پولنگ اسٹیشنز کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے۔ بیلٹ پیپرز، بیلٹ بکس، انتخابی ریکارڈ اور دیگر ضروری مواد کی محفوظ ترسیل کے لیے جامع سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا تاخیر سے بچا جا سکے۔
    ‎انتخابی عملے کی تعیناتی اور انہیں متعلقہ پولنگ اسٹیشنز تک پہنچانے کے لیے بھی تمام انتظامات حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں عملے اور سامان کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
    ‎الیکشن حکام کا کہنا ہے کہ پولنگ کے روز ووٹرز کو سہولت فراہم کرنے اور انتخابی ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے متحرک ہیں۔ حساس اور انتہائی حساس قرار دیے گئے پولنگ اسٹیشنز پر اضافی سیکیورٹی اہلکار بھی تعینات کیے جائیں گے۔
    ‎گلگت بلتستان میں انتخابات کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور مختلف سیاسی جماعتیں آخری مراحل کی انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ امیدوار عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے جلسے، کارنر میٹنگز اور انتخابی رابطہ مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
    ‎حکام کے مطابق انتخابی سامان کی ترسیل مکمل ہونے کے بعد پولنگ اسٹیشنز پر حتمی انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ ووٹنگ کے دن تمام عمل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔

  • کیپٹن(ر) صفدر کی اتنی بڑی سیاسی حیثیت نہیں کہ ان کی بات پر تبصرہ کروں، شرجیل میمن

    کیپٹن(ر) صفدر کی اتنی بڑی سیاسی حیثیت نہیں کہ ان کی بات پر تبصرہ کروں، شرجیل میمن

    ‎سندھ کے سینئر وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کے بیانات کو اہمیت دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی اتنی بڑی سیاسی حیثیت نہیں کہ ان کی باتوں پر تبصرہ کیا جائے۔
    ‎میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر ماضی میں مزار قائد کے تقدس اور حرمت کا خیال رکھنے میں بھی ناکام رہے تھے، اس لیے ان کے بیانات پر ردعمل دینا ضروری نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود قومی یادگاروں اور تاریخی مقامات کا احترام ہر سیاسی رہنما کی ذمہ داری ہے۔
    ‎گلگت بلتستان انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام کی حمایت اور پارٹی کی کارکردگی کی بنیاد پر پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں کلین سوئپ کرے گی اور حکومت بنانے کی پوزیشن میں آئے گی۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دی ہے، اسی وجہ سے عوام کا اعتماد پارٹی پر برقرار ہے۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان کے عوام سیاسی شعور رکھتے ہیں اور وہ اپنے مستقبل کے لیے درست فیصلے کریں گے۔
    ‎کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ شہر پر آبادی اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے بہت زیادہ دباؤ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے کئی ممالک کی آبادی بھی کراچی کی آبادی سے کم ہے، جس کی وجہ سے شہری انفراسٹرکچر اور وسائل پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔
    ‎انہوں نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ، خصوصاً کراچی، کو ترقیاتی منصوبوں میں وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کا یہ حق دار ہے۔ شرجیل میمن کے مطابق صوبے میں موٹرویز اور مواصلاتی منصوبوں کے حوالے سے کئی مسائل موجود ہیں اور وفاقی سطح پر سندھ کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
    ‎سینئر وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ کراچی اور سندھ کی ترقی پاکستان کی مجموعی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت صوبے کے انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

  • محکمہ موسمیات کی بروقت پیشگوئی ، گلگت بلتستان میں سیکڑوں جانیں بچ گئیں

    محکمہ موسمیات کی بروقت پیشگوئی ، گلگت بلتستان میں سیکڑوں جانیں بچ گئیں

    گلگت بلتستان: محکمہ موسمیات کے بروقت پیشگی الرٹس اور ارلی وارننگ کے باعث سیکڑوں قیمتی جانیں بچا لی گئیں۔

    محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ نگر میں واقع ہِسپر ہوُپر گلیشیئر کے پھٹنے اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر قبل از وقت الرٹ جاری کیا گیا تھا الرٹ کے بعد مقامی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 5 جون کی رات 8 بج کر 52 منٹ پر ہِسپر گلیشیئر سے پانی کا اخراج شروع ہوا جو بعد ازاں خطرناک گلیشیائی سیلابی ریلے میں تبدیل ہوگیا،تاہم بروقت وارننگ اور مؤثر اقدامات کے باعث کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

  • 
پاکستان نے گلگت بلتستان انتخابات پر بھارتی بیان مسترد کر دیا

    
پاکستان نے گلگت بلتستان انتخابات پر بھارتی بیان مسترد کر دیا

    ‎پاکستان نے گلگت بلتستان کے انتخابات سے متعلق بھارت کے حالیہ بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے اس قسم کے دعوے زمینی حقائق کو مسخ کرنے اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش ہیں۔
    ‎اسلام آباد سے جاری بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت جھوٹے بیانیے اور پروپیگنڈے کے فروغ کے حوالے سے عالمی سطح پر شہرت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان سے متعلق بھارتی مؤقف نہ صرف تاریخی حقائق سے متصادم ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بھی خلاف ہے۔
    ‎ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور یہ مسئلہ کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار اور منصفانہ حل صرف اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
    ‎دفتر خارجہ کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق یعنی آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنی سیاسی تقدیر کا فیصلہ خود کر سکیں۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مسلسل حمایت جاری رکھے گا۔
    ‎بیان میں بھارتی زیر انتظام کشمیر کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی اطلاعات مسلسل سامنے آ رہی ہیں، جبکہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کو خصوصی قوانین کے تحت حاصل استثنیٰ عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کے لیے باعث تشویش ہے۔
    ‎دفتر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ بھارت 5 اگست 2019 کے اقدامات واپس لے اور مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی مبصرین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد میڈیا کو رسائی فراہم کرے تاکہ زمینی حقائق کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔
    ‎پاکستان نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

  • 
پیپلز پارٹی اور ق لیگ کا گلگت بلتستان انتخابات میں اتحاد

    
پیپلز پارٹی اور ق لیگ کا گلگت بلتستان انتخابات میں اتحاد

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ق) نے گلگت بلتستان کے عام انتخابات میں سیاسی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خطے میں سیاسی استحکام، ترقی اور عوامی فلاح کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
    ‎مسلم لیگ (ق) کے ترجمان کے مطابق پارٹی سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی ہدایت پر پیپلز پارٹی کے ساتھ سیاسی تعاون کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتیں گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں اور خطے میں سیاسی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک صفحے پر ہیں۔
    ‎ترجمان نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی کے درمیان تعاون کا مقصد عوامی مفادات کا تحفظ اور خطے کی ترقی کے لیے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔ ان کے مطابق انتخابات میں یہ اشتراک دونوں جماعتوں کے کارکنوں اور ووٹرز کے لیے بھی مثبت پیغام ہے۔
    ‎دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما ہمایوں خان نے مسلم لیگ (ق) کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سیاسی تعاون سے پیپلز پارٹی کی انتخابی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی سے انتخابی مہم کو تقویت ملے گی اور عوامی حمایت میں اضافہ ہوگا۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان انتخابات سے قبل مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد اور انتخابی تعاون کے فیصلے سیاسی منظرنامے پر اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مشترکہ حکمت عملی بعض حلقوں میں انتخابی نتائج پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
    ‎گلگت بلتستان میں عام انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور مختلف جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھرپور مہم چلا رہی ہیں۔ ایسے میں سیاسی اتحاد اور تعاون کے اعلانات انتخابی ماحول کو مزید دلچسپ بنا رہے ہیں۔

  • 
ن لیگ کا گلگت بلتستان کو این ایف سی ایوارڈ میں حصہ دینے کا وعدہ

    
ن لیگ کا گلگت بلتستان کو این ایف سی ایوارڈ میں حصہ دینے کا وعدہ

    ‎پاکستان مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان کے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ اقتدار میں آنے کی صورت میں خطے کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں حصہ دلانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ پارٹی کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے اسکردو میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا۔
    ‎خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ گلگت بلتستان قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے اور یہاں کے عوام کو ان وسائل کے ثمرات ملنے چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کے درمیان اس بات پر اتفاق ہونا چاہیے کہ قومی سرمایہ کاری کو کس طرح مؤثر بنایا جائے اور مختلف علاقوں کے وسائل کو عوامی فلاح کے لیے کیسے استعمال کیا جائے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے سابقہ ادوار میں گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے متعدد اقدامات کیے اور سڑکوں سمیت بنیادی ڈھانچے کے کئی منصوبے شروع کیے تھے۔ ان کے مطابق اگر پارٹی کو دوبارہ عوام کا اعتماد حاصل ہوا تو گلگت بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مزید جامع منصوبے متعارف کرائے جائیں گے۔
    ‎خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں ملک بھر میں سب سے زیادہ ترقیاتی کام ہوئے اور مستقبل میں بھی پارٹی عوامی خدمت کے اسی سفر کو جاری رکھے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ این ایف سی ایوارڈ میں گلگت بلتستان کا حصہ یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوشش کی جائے گی تاکہ خطے کو مالی وسائل کی منصفانہ فراہمی ممکن ہو سکے۔
    ‎انہوں نے علاقے میں توانائی کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں قدرتی وسائل کی کوئی کمی نہیں۔ یہاں چشمے، آبشاریں اور ندی نالے موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود کئی علاقوں میں بجلی کی قلت برقرار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پن بجلی کے منصوبوں، سولر سسٹمز اور متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دے کر اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
    ‎جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنے مستقبل کے فیصلے سوچ سمجھ کر کرنے ہوں گے تاکہ خطے کی ترقی، روزگار کے مواقع اور بنیادی سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان انتخابات کے قریب آتے ہی مختلف سیاسی جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے ترقیاتی وعدے اور سیاسی پروگرام پیش کر رہی ہیں، جن میں این ایف سی ایوارڈ اور علاقائی ترقی کے معاملات نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔

  • 
بلاول بھٹو نے جی بی عوام سے فارم 45 کے تحفظ کی اپیل کر دی

    
بلاول بھٹو نے جی بی عوام سے فارم 45 کے تحفظ کی اپیل کر دی

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ووٹ اور انتخابی نتائج کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور اس بار فارم 45 کے حصول اور حفاظت پر خصوصی توجہ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ موجودہ حالات میں ان کے حقوق اور مفادات کی مؤثر نمائندگی کون کر سکتا ہے۔
    ‎گلگت میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کرتی رہی ہے اور اس بار کسی کو بھی عوامی مینڈیٹ پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ انتخابات میں عوام کے ووٹ کا احترام نہیں کیا گیا تھا، اس لیے اس مرتبہ ووٹرز کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
    ‎پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ خطے کے موجودہ چیلنجز اور قومی حالات میں کون سی سیاسی قوت ان کی بہتر نمائندگی کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے ہمیشہ گلگت بلتستان کے عوام کی آواز بلند کی ہے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔
    ‎بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی خدمات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے جبکہ بے نظیر بھٹو نے ملکی دفاعی صلاحیتوں میں مزید بہتری لانے کے اقدامات کیے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کے دور میں پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی بنیاد رکھی گئی، جو توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
    ‎علاقائی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ خطہ اس وقت کشیدہ حالات سے گزر رہا ہے اور امن کی کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی اور سیاسی کوششیں کامیاب ہوں گی، جس سے عوام کو بھی ریلیف ملے گا اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

  • بلاول  کی ننھے یوٹیوبر شیراز اور مسکان سے ملاقات

    بلاول کی ننھے یوٹیوبر شیراز اور مسکان سے ملاقات

    گلگت بلتستان میں انتخابی سرگرمیوں کے سلسلے میں موجود پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے معروف ننھے یوٹیوبر شیراز اور ان کی بہن مسکان سے ملاقات کی، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔

    ملاقات کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے شیراز سے خوشگوار گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کراچی سے ان کے ویڈیوز دیکھتے اور انہیں فالو کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے شیراز کو اپنا بڑا مداح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے مل کر انہیں بے حد خوشی ہوئی ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے شیراز کی سماجی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ان کا سوشل میڈیا باقاعدگی سے دیکھتے ہیں اور یہ جان کر خوشی ہوتی ہے کہ کم عمری کے باوجود شیراز نہ صرف محنت سے شہرت حاصل کر رہے ہیں بلکہ اپنے علاقے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شیراز نے اپنے علاقے میں پانی کی فراہمی اور تعلیمی سہولیات کی بہتری کے لیے قابلِ تعریف اقدامات کیے ہیں، جو دوسروں کے لیے بھی ایک مثال ہیں۔

    اس موقع پر انہوں نے اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام سے خصوصی محبت رکھتے تھے اور انہوں نے علاقے کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے نمایاں خدمات انجام دی تھیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جس طرح ان کے بزرگوں نے گلگت بلتستان کے عوام کی خدمت کی، وہ بھی اسی روایت کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور اگر موقع ملا تو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مزید اقدامات کریں گے۔

  • 
بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان میں بھاری مینڈیٹ مانگ لیا

    
بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان میں بھاری مینڈیٹ مانگ لیا

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام سے بھرپور حمایت اور بھاری مینڈیٹ کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گلگت بلتستان کی آواز کو قومی سطح پر مؤثر انداز میں اٹھانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایسا مینڈیٹ درکار ہے تاکہ اسلام آباد جا کر گلگت بلتستان کے حقوق اور مطالبات کو بھرپور انداز میں پیش کر سکیں۔
    ‎غذر کے علاقے گاہکوچ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کے لیے بھاری اکثریت چاہتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کئی نشستیں چھین لی گئی تھیں، تاہم اس بار عوام پارٹی پر اعتماد کا اظہار کریں گے۔
    ‎پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے غذر کو ضلع کا درجہ دیا تھا جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کو سیاسی شناخت فراہم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور گلگت بلتستان کے عوام کا تعلق کئی نسلوں پر محیط ہے اور یہ رشتہ مستقبل میں بھی مضبوط رہے گا۔
    ‎بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں حق ملکیت کے مسئلے کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام کو زمینوں کے مکمل مالکانہ حقوق ملیں۔ ان کے مطابق اگر پیپلز پارٹی کو عوامی حمایت حاصل ہوئی تو قانون ساز اسمبلی کے ذریعے حق ملکیت سے متعلق قانون سازی کو یقینی بنایا جائے گا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ قابل کاشت زمین کو عوام میں تقسیم کرنے اور مقامی لوگوں کو زمین کا مالک بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کی صورت میں عوامی فلاح، روزگار اور بنیادی سہولیات کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔
    ‎بلاول بھٹو زرداری نے روزگار، صحت اور سیاحت کے شعبوں میں بھی متعدد وعدے کیے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر یقین رکھتی ہے جبکہ مفت علاج کی سہولیات کو بھی وسعت دی جائے گی۔ ان کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت گلگت بلتستان کو سیاحت کا ایک بڑا مرکز بنایا جا سکتا ہے۔
    ‎انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انتخابات میں اپنے مستقبل اور اپنے حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو خطے کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

  • 
گلگت بلتستان میں تعلیمی ادارے دو روز کے لیے بند

    
گلگت بلتستان میں تعلیمی ادارے دو روز کے لیے بند

    ‎گلگت بلتستان حکومت نے عام انتخابات کے انتظامات کے پیش نظر تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں دو روزہ تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت جمعہ اور ہفتہ کے روز صوبے بھر کے سرکاری اسکول، کالج اور دیگر تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔
    ‎چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کے مطابق یہ فیصلہ اتوار کو ہونے والے عام انتخابات کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صوبے کے بیشتر سرکاری تعلیمی اداروں کو پولنگ اسٹیشنز اور انتخابی عملے کے مراکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے باعث تدریسی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کی گئی ہیں۔
    ‎انتظامیہ کے مطابق تعطیلات کے دوران انتخابی سامان کی ترسیل، پولنگ اسٹیشنز کی تیاری اور سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ الیکشن ڈیوٹی پر مامور عملے کی تعیناتی اور دیگر انتظامی امور بھی اسی عرصے میں مکمل کیے جائیں گے۔
    ‎دوسری جانب گلگت بلتستان میں اتوار کو ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی جانب سے انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے، جبکہ ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے جلسے، کارنر میٹنگز اور عوامی رابطہ مہمات جاری ہیں۔
    ‎ادھر بعض سیاسی رہنماؤں نے انتخابات کے شفاف انعقاد پر زور دیا ہے۔ اس حوالے سے سیاسی رہنما حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات کو مکمل طور پر غیر جانبدار، آزادانہ اور منصفانہ بنایا جائے تاکہ عوام کا اعتماد انتخابی عمل پر برقرار رہے۔
    ‎انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ ووٹنگ کے عمل کو شفاف اور محفوظ بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حساس پولنگ اسٹیشنز پر اضافی سکیورٹی تعینات کی جائے گی جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی مکمل طور پر الرٹ رہیں گے۔
    ‎عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات خطے کی سیاسی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے، اس لیے ضروری ہے کہ انتخابی عمل پرامن، شفاف اور منظم انداز میں مکمل ہو۔