Baaghi TV

Category: گلگت بلتستان

  • "جب سے نتائج ملنا شروع ہوئے فارم 45 نہیں دیئے جا رہے،” پی پی رہنما قمر زمان کائرہ

    "جب سے نتائج ملنا شروع ہوئے فارم 45 نہیں دیئے جا رہے،” پی پی رہنما قمر زمان کائرہ

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ نے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے دوران سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
    ‎انتخابات پر ردعمل دیتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ بعض حلقوں میں پولنگ اسٹیشنوں کو دور دراز مقامات پر منتقل کیے جانے سے پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک متاثر ہوا۔ ان کے مطابق کئی پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی عملہ مقررہ وقت پر نہیں پہنچا، جس کے باعث ووٹنگ کے عمل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں اور ووٹرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو جان بوجھ کر سست روی کا شکار بنانا شفاف اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ الیکشن کمیشن کو تمام شکایات کا فوری نوٹس لے کر حقائق سامنے لانے چاہئیں تاکہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
    ‎قمر زمان کائرہ نے واضح کیا کہ جب تک تمام ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کر لیتے، انتخابی عملے کو پولنگ اسٹیشن چھوڑنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ تمام حلقوں میں انتخابی قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
    ‎دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے بھی انتخابی عمل پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارٹی امیدواروں اور نمائندوں کو فارم 45 فراہم نہیں کیے جا رہے۔ ان کے مطابق بعض مقامات پر پارٹی نمائندوں کو نتائج حاصل کرنے سے روکنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔
    ‎نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس معاملے پر چیف الیکشن کمشنر سے رابطہ کر کے صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر انتخابی عمل پرامن ماحول میں مکمل ہوا، تاہم اب نتائج کے مرحلے میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا تنازع سے گریز کیا جانا چاہیے۔
    ‎انہوں نے زور دیا کہ الیکشن کمیشن فوری اور مؤثر کردار ادا کرے تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور ہوں اور انتخابی نتائج کی شفافیت پر کوئی سوال نہ اٹھ سکے۔

  • 
گلگت بلتستان انتخابات کی پولنگ مکمل، ووٹوں کی گنتی شروع

    
گلگت بلتستان انتخابات کی پولنگ مکمل، ووٹوں کی گنتی شروع

    ‎گلگت بلتستان اسمبلی کے 24 حلقوں میں عام انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ ووٹرز نے دن بھر اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا، جس کے بعد تمام پولنگ اسٹیشنز مقررہ وقت پر بند کر دیے گئے۔
    ‎انتخابی عمل صبح 8 بجے شروع ہوا اور بغیر کسی وقفے کے جاری رہا۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں قائم پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی آمد کا سلسلہ دن بھر جاری رہا، جہاں مرد اور خواتین ووٹرز نے انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیا۔
    ‎پولنگ کے اختتام کے بعد انتخابی عملے نے بیلٹ بکس اور دیگر انتخابی مواد کو محفوظ کرتے ہوئے ووٹوں کی گنتی کا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ الیکشن حکام کے مطابق نتائج موصول ہونے کے ساتھ ہی مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔
    ‎گلگت بلتستان کے ان انتخابات کو سیاسی لحاظ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ انتخابی مہم کے دوران ترقیاتی منصوبے، آئینی حقوق، روزگار، سیاحت اور بنیادی سہولیات اہم موضوعات رہے۔
    ‎سیکیورٹی کے پیش نظر حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار پورے انتخابی عمل کے دوران تعینات رہے تاکہ ووٹنگ پرامن ماحول میں مکمل ہو سکے۔
    ‎الیکشن کمیشن کے مطابق نتائج مرتب کرنے کا عمل شفاف طریقے سے جاری ہے اور حتمی سرکاری نتائج تمام حلقوں سے موصول ہونے کے بعد جاری کیے جائیں گے۔ سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی نظریں اب ووٹوں کی گنتی اور ابتدائی نتائج پر مرکوز ہیں۔
    ‎گلگت بلتستان کے عوام نے ایک بار پھر جمہوری عمل میں شرکت کرتے ہوئے اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے ووٹ کا حق استعمال کیا، جبکہ انتخابی نتائج صوبے کی آئندہ سیاسی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔

  • گلگت بلتستان میں  24 حلقوں میں پولنگ جاری

    گلگت بلتستان میں 24 حلقوں میں پولنگ جاری

    گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کی 24 عام نشستوں پرپولنگ کا عمل جاری ہے،پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا،جبکہ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی ہدایت پر الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون اور تصاویر یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے والے کسی بھی آلے کو ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق 24 حلقوں میں مجموعی طور پر 404 امیدوار مدِمقابل ہیں، جن میں 396 مرد اور 8 خواتین شامل ہیں پیپلز پارٹی کے 23 جبکہ مسلم لیگ (ن) کے 22 امیدوار ، استحکامِ پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11 اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 9 امیدوار شامل ہیں مجلس وحدت المسلمین کے 7، جما عت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6، 6 امیدوار انتخابی دوڑ میں شریک ہیں، جبکہ سب سے زیادہ 266 آزاد امیدوار بھی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے لیے گلگت بلتستان بھر میں 1389 پولنگ اسٹیشنز اور 2450 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں ان میں خواتین کے لیے 1112، مردوں کے لیے 1268 جبکہ 68 مشترکہ پولنگ بوتھ مختص کیے گئے ہیں جن میں 551 کو انتہائی حساس اور 349 کو حساس قرار دیا گیا ہے، 9 لاکھ 58 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مقامی پولیس، گلگت بلتستان اسکاؤٹس اور پنجاب پولیس کے اہلکار سیکیورٹی فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ مختلف انتخابی حلقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فلیگ مارچ بھی کیا ہے۔

    حلقہ جی بی اے-1 گلگت میں 23 امیدوار میدان میں ہیں، اس حلقے میں 47 ہزار 373 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں 25 ہزار 412 مرد اور 21 ہزار 961 خواتین ووٹرز شامل ہیں، یہاں 80 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 49 انتہائی حساس اور 31 حساس ہیں۔ پولنگ کے شفاف انعقاد کے لیے 1300 پولنگ عملہ اور 550 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی اے-2 گلگت میں 40 امیدوار مدمقابل ہیں جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 55 ہزار 849 ہے، جن میں 29 ہزار 839 مرد اور 26 ہزار 10 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ اس حلقے میں 91 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور حساس مراکز پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی اے-3 گلگت میں امیدواروں کی تعداد سب سے زیادہ 122 ہے۔ یہاں 52 ہزار 161 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جن میں 27 ہزار 351 مرد اور 24 ہزار 810 خواتین شامل ہیں اس حلقے کے 82 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 16 انتہائی حساس اور 16 حساس قرار دیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی 4 میں بھی 22 امیدوار مدمقابل ہیں، جہاں ن لیگ کے امتیاز حسین، پیپلز پارٹی کے علی اختر، اسلامی تحریک کے محمد ایوب اور آزاد امیدوار ڈاکٹر علی محمد کے درمیان مقابلہ ہے اور یہاں 60 پولنگ اسٹیشنز پر 29 ہزار 973 ووٹرز موجود ہیں۔

    حلقہ جی بی 5 میں 23 امیدوار آمنے سامنے ہیں، جہاں ن لیگ کے جاوید علی، پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد، اسلامی تحریک کے پرنس قاسم، ایم ڈبلیو ایم کے ریاض اکبر اور آزاد امیدوار وزیر جہانگیر کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہے اور یہاں 32 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی 6 میں 27 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے پرنس سلیم خان، پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نیک نام کریم مدمقابل ہیں، جہاں 89 پولنگ اسٹیشنز پر 52 ہزار 41 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

    حلقہ جی بی 7 میں 13 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے اکبر خان اور پیپلز پارٹی کے توقیر مہدی کے ساتھ ساتھ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال مقپون اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجہ محمد زکریا بھی قسمت آزما رہے ہیں۔

    حلقہ جی بی 8 میں 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے امتیاز حیدر، پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ اور ایم ڈبلیو ایم کے میثم کاظم کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر مقابلہ ہو رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 9 میں 12 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے، جس میں ن لیگ کے اجمل حسین، پیپلز پارٹی کے فدا محمد نوشاد اور آزاد امیدوار وزیر سلیم مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 10 میں 13 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے وزیر حسین، پیپلز پارٹی کے ناصر علی خان، استحکام پاکستان پارٹی کے وزیر محمد خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ڈاکٹر محمد شریف کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 11 میں 11 امیدوار آمنے سامنے ہیں جن میں ن لیگ کے محسن رضوی، پیپلز پارٹی کے اقبال حسن، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محسن زیدی اور آزاد امیدوار ڈاکٹر شجاعت میثم شامل ہیں۔

    حلقہ جی بی 12 میں 10 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جہاں ن لیگ کے طاہر شگری، پیپلز پارٹی کے عمران ندیم، اسلامی تحریک کے راجا اعظم خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حسن شگری میدان میں ہیں۔

    حلقہ جی بی 13 میں 13 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے رانا فرمان علی، پیپلز پارٹی کے فہد حنیف اور پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ شاہدہ خورشید مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 14 میں 33 امیدوار میدان میں ہیں جہاں ن لیگ کے رانا محمد فاروق اور پیپلز پارٹی کے سید محمد عباس کے درمیان 49 پولنگ اسٹیشنز پر بڑا مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 15 میں 20 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالواجد، پیپلز پارٹی کے بشیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نوشاد عالم کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 16 میں 14 امیدوار مدمقابل ہیں جن میں ن لیگ کے انجینئر محمد انور، پیپلز پارٹی کے عطا اللہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سید عابد اقبال شامل ہیں۔

    حلقہ جی بی 17 میں بھی 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ڈاکٹر محمد زمان، پیپلز پارٹی کے محمد وسیم اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حاجی کمان خان مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 18 میں 10 امیدوار میدان میں ہیں لیکن یہاں ن لیگ کے ملک کفایت الرحمٰن، استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محمد ایوب قریشی کے درمیان اہم مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 19 میں 9 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ظفر محمد شادم خیل، پیپلز پارٹی کے جلال علی شاہ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ شیر اعظم خان اور آزاد امیدوار نواز خان ناجی مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 20 میں 17 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالجہان خان، پیپلز پارٹی کے نذیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ندیم رفیق کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 21 میں 20 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جس میں ن لیگ کے غلام محمد، پیپلز پارٹی کے محمد ایوب شاہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجا جہانزیب آمنے سامنے ہیں۔

    حلقہ جی بی 22 میں سب سے کم یعنی صرف 7 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے محمد ابراہیم اور پیپلز پارٹی کے عاشق حسین کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر براہِ راست مقابلہ دیکھا جا رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 23 میں 10 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے روایتی مقابلوں کے برعکس پیپلز پارٹی کی خاتون امیدوار آمنہ بی بی کا مقابلہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ عبدالرحیم اور دو آزاد امیدواروں حاجی انور اور حاجی عبدالحمید سے ہو رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 24 میں 6 امیدوار میدان میں ہیں اور یہاں پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ صداقت حسین اور آزاد امیدوار ڈاکٹر اسد شفیق کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔

    ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ووٹرز کو محفوظ ماحول فراہم کرنے اور شفاف، آزادانہ و پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ عوام بلا خوف و خطر اپنا جمہوری حق استعمال کر سکیں۔

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی ہدایت پر الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون اور تصاویر یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے والے کسی بھی آلے کو ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    جاری کردہ احکامات کے مطابق پولنگ اسٹیشنز کے اندر انتخابی عملہ، امیدوار، پولنگ ایجنٹس اور ووٹرز موبائل فون نہیں لے جا سکیں گے۔ یہ اقدام ووٹ کی رازداری کے تحفظ اور انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے منظور شدہ میڈیا نمائندگان اور مبصرین اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے چیف الیکشن کمشنر نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹر ننگ افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    گلگت میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے حامیوں میں ہاتھا پائی اور تلخ کلامیا

    گلگت کے ایک پولنگ اسٹیشن پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھ پائی ہوئی ہےگلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے سلسلے میں سکردو کے حلقہ GBA-9 میں پولنگ کا عمل جاری ہے، تاہم گلگت میں سر سید اسکول پولنگ اسٹیشن کے باہر مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے صورتحال پر قابو پا لیا۔

    دوسری جانب استور کے عیدگاہ فیمیل پولنگ اسٹیشن پر شدید بدنظمی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، ووٹرز نے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے الزاما ت عائد کر دیے، مبینہ طور پر اپنی مرضی کے ٹھپے لگائے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں متعلقہ انتخابی حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پولنگ کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور انتخابی عمل پرامن انداز میں جاری ہے-

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے کہا ہے کہ عوام پرامن طریقے سے انتخابات کوانجام تک پہنچائیں۔

    مختلف پولنگ اسٹیشنز کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ شہباز خان نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے بلا تعطل جاری ہے اور مختلف پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آ رہی ہے عوام انتخابی عمل میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں جبکہ لیڈیز پولنگ اسٹیشنز پر خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد بھی ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے پہنچ رہی ہےووٹرز کی سہولت اور سیکیورٹی کے پیش نظر بہترین انتظامات کیے گئے ہیں اور انتخابی عمل کو شفاف، آزادانہ اور پرامن ماحول میں یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن انداز میں انتخابی عمل کو کامیاب بنائیں اور جمہوری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں اور علاقے کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • 
پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی، اسد قیصر

    
پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی، اسد قیصر

    ‎پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے گلگت بلتستان انتخابات کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ہونے والے انتخابی عمل کو حقیقی معنوں میں آزاد اور منصفانہ انتخابات قرار نہیں دیا جا سکتا۔
    ‎اپنے بیان میں اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق پارٹی کے خلاف مختلف رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے۔
    ‎انہوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف سے انتخابی نشان واپس لیا گیا، مختلف پابندیاں عائد کی گئیں اور انتخابی عمل کو غیر مساوی ماحول میں آگے بڑھایا گیا۔ اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد پر سوالات اٹھنا فطری بات ہے۔
    ‎سابق اسپیکر نے مزید کہا کہ بعض عناصر اپنی پسند کے نتائج حاصل کرنے کے لیے انتخابی عمل کو مخصوص سمت میں لے جانا چاہتے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ انتخابات سے قبل ہی مختلف حلقوں میں نتائج کے حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، جو انتخابی شفافیت کے بارے میں خدشات کو بڑھاتی ہیں۔
    ‎اسد قیصر نے وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ناکامیوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق عوام کو معاشی مشکلات، بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روزگار کے محدود مواقع کا سامنا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ جمہوری عمل کو مضبوط بنایا جائے اور تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ ووٹر آزادانہ طور پر اپنے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔
    ‎واضح رہے کہ گلگت بلتستان میں عام انتخابات کے لیے کل پولنگ ہوگی۔ الیکشن کمیشن اور صوبائی انتظامیہ کی جانب سے انتخابی عمل کے لیے انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ سیکیورٹی کے خصوصی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتیں انتخابی میدان میں سرگرم ہیں اور نتائج کا بے چینی سے انتظار کیا جا رہا ہے۔

  • 
480 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس، دیامر میں دفعہ 144 نافذ

    
480 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس، دیامر میں دفعہ 144 نافذ

    ‎گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026 کے انعقاد کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جبکہ ضلع دیامر میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ صوبائی انتظامیہ اور الیکشن حکام نے انتخابی عمل کو شفاف، منصفانہ اور پرامن بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
    ‎الیکشن کمیشن کے مطابق 24 انتخابی حلقوں میں مجموعی طور پر 396 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 266 آزاد امیدوار شامل ہیں۔ انتخابات میں 7 خواتین امیدوار بھی حصہ لے رہی ہیں، جو مختلف حلقوں میں اپنی قسمت آزما رہی ہیں۔
    ‎صوبے بھر میں ووٹنگ کے لیے 1368 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 480 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس، 350 کو حساس جبکہ 457 کو نارمل قرار دیا گیا ہے۔ حساس علاقوں میں اضافی سیکیورٹی اور خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
    ‎اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 58 ہزار 780 ہے۔ ان میں 5 لاکھ 3 ہزار 772 مرد ووٹرز جبکہ 4 لاکھ 54 ہزار 708 خواتین ووٹرز شامل ہیں، جو اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔
    ‎صوبائی حکومت نے سیکیورٹی پلان بھی حتمی شکل دے دی ہے۔ انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 15 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے، جبکہ دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی معاونت فراہم کریں گے۔
    ‎انتخابی عمل کے انتظامی امور کے لیے ہزاروں افسران اور سرکاری ملازمین کو ڈیوٹی پر مامور کیا گیا ہے۔ انتخابی فرائض انجام دینے والے تقریباً ساڑھے سات ہزار افسران اور ملازمین کے لیے 27 کروڑ 60 لاکھ روپے اعزازیہ مقرر کیا گیا ہے۔ ریٹرننگ افسران، اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران، پریزائیڈنگ افسران، اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسران اور پولنگ افسران کے لیے بھی الگ الگ اعزازیے مختص کیے گئے ہیں۔
    ‎دوسری جانب ضلع دیامر میں 60 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق اسلحہ کی نمائش، ہوائی فائرنگ، پٹاخوں کے استعمال اور غیر مجاز ڈرون پروازوں پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ ڈرون استعمال کرنے کے لیے ضلعی مجسٹریٹ سے پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

  • 
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے تمام تیاریاں مکمل

    
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے تمام تیاریاں مکمل

    گلگت بلتستان میں 7 جون کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سیکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن اور ضلعی انتظامیہ نے پولنگ کے روز شفاف، پرامن اور منظم انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے جامع منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔
    حکام کے مطابق ریٹرننگ افسران (آر او) کے دفاتر سے انتخابی سامان مختلف پولنگ اسٹیشنز کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے۔ بیلٹ پیپرز، بیلٹ بکس، انتخابی ریکارڈ اور دیگر ضروری مواد کی محفوظ ترسیل کے لیے جامع سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا تاخیر سے بچا جا سکے۔
    ‎انتخابی عملے کی تعیناتی اور انہیں متعلقہ پولنگ اسٹیشنز تک پہنچانے کے لیے بھی تمام انتظامات حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں عملے اور سامان کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
    ‎الیکشن حکام کا کہنا ہے کہ پولنگ کے روز ووٹرز کو سہولت فراہم کرنے اور انتخابی ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے متحرک ہیں۔ حساس اور انتہائی حساس قرار دیے گئے پولنگ اسٹیشنز پر اضافی سیکیورٹی اہلکار بھی تعینات کیے جائیں گے۔
    ‎گلگت بلتستان میں انتخابات کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور مختلف سیاسی جماعتیں آخری مراحل کی انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ امیدوار عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے جلسے، کارنر میٹنگز اور انتخابی رابطہ مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
    ‎حکام کے مطابق انتخابی سامان کی ترسیل مکمل ہونے کے بعد پولنگ اسٹیشنز پر حتمی انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ ووٹنگ کے دن تمام عمل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔

  • کیپٹن(ر) صفدر کی اتنی بڑی سیاسی حیثیت نہیں کہ ان کی بات پر تبصرہ کروں، شرجیل میمن

    کیپٹن(ر) صفدر کی اتنی بڑی سیاسی حیثیت نہیں کہ ان کی بات پر تبصرہ کروں، شرجیل میمن

    ‎سندھ کے سینئر وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کے بیانات کو اہمیت دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی اتنی بڑی سیاسی حیثیت نہیں کہ ان کی باتوں پر تبصرہ کیا جائے۔
    ‎میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ کیپٹن (ر) صفدر ماضی میں مزار قائد کے تقدس اور حرمت کا خیال رکھنے میں بھی ناکام رہے تھے، اس لیے ان کے بیانات پر ردعمل دینا ضروری نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود قومی یادگاروں اور تاریخی مقامات کا احترام ہر سیاسی رہنما کی ذمہ داری ہے۔
    ‎گلگت بلتستان انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام کی حمایت اور پارٹی کی کارکردگی کی بنیاد پر پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں کلین سوئپ کرے گی اور حکومت بنانے کی پوزیشن میں آئے گی۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دی ہے، اسی وجہ سے عوام کا اعتماد پارٹی پر برقرار ہے۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان کے عوام سیاسی شعور رکھتے ہیں اور وہ اپنے مستقبل کے لیے درست فیصلے کریں گے۔
    ‎کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ شہر پر آبادی اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے بہت زیادہ دباؤ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے کئی ممالک کی آبادی بھی کراچی کی آبادی سے کم ہے، جس کی وجہ سے شہری انفراسٹرکچر اور وسائل پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔
    ‎انہوں نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ، خصوصاً کراچی، کو ترقیاتی منصوبوں میں وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کا یہ حق دار ہے۔ شرجیل میمن کے مطابق صوبے میں موٹرویز اور مواصلاتی منصوبوں کے حوالے سے کئی مسائل موجود ہیں اور وفاقی سطح پر سندھ کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
    ‎سینئر وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ کراچی اور سندھ کی ترقی پاکستان کی مجموعی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت صوبے کے انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

  • محکمہ موسمیات کی بروقت پیشگوئی ، گلگت بلتستان میں سیکڑوں جانیں بچ گئیں

    محکمہ موسمیات کی بروقت پیشگوئی ، گلگت بلتستان میں سیکڑوں جانیں بچ گئیں

    گلگت بلتستان: محکمہ موسمیات کے بروقت پیشگی الرٹس اور ارلی وارننگ کے باعث سیکڑوں قیمتی جانیں بچا لی گئیں۔

    محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ نگر میں واقع ہِسپر ہوُپر گلیشیئر کے پھٹنے اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر قبل از وقت الرٹ جاری کیا گیا تھا الرٹ کے بعد مقامی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 5 جون کی رات 8 بج کر 52 منٹ پر ہِسپر گلیشیئر سے پانی کا اخراج شروع ہوا جو بعد ازاں خطرناک گلیشیائی سیلابی ریلے میں تبدیل ہوگیا،تاہم بروقت وارننگ اور مؤثر اقدامات کے باعث کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

  • 
پاکستان نے گلگت بلتستان انتخابات پر بھارتی بیان مسترد کر دیا

    
پاکستان نے گلگت بلتستان انتخابات پر بھارتی بیان مسترد کر دیا

    ‎پاکستان نے گلگت بلتستان کے انتخابات سے متعلق بھارت کے حالیہ بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے اس قسم کے دعوے زمینی حقائق کو مسخ کرنے اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش ہیں۔
    ‎اسلام آباد سے جاری بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت جھوٹے بیانیے اور پروپیگنڈے کے فروغ کے حوالے سے عالمی سطح پر شہرت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان سے متعلق بھارتی مؤقف نہ صرف تاریخی حقائق سے متصادم ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بھی خلاف ہے۔
    ‎ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور یہ مسئلہ کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار اور منصفانہ حل صرف اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
    ‎دفتر خارجہ کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق یعنی آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنی سیاسی تقدیر کا فیصلہ خود کر سکیں۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مسلسل حمایت جاری رکھے گا۔
    ‎بیان میں بھارتی زیر انتظام کشمیر کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی اطلاعات مسلسل سامنے آ رہی ہیں، جبکہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کو خصوصی قوانین کے تحت حاصل استثنیٰ عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کے لیے باعث تشویش ہے۔
    ‎دفتر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ بھارت 5 اگست 2019 کے اقدامات واپس لے اور مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی مبصرین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد میڈیا کو رسائی فراہم کرے تاکہ زمینی حقائق کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔
    ‎پاکستان نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

  • 
پیپلز پارٹی اور ق لیگ کا گلگت بلتستان انتخابات میں اتحاد

    
پیپلز پارٹی اور ق لیگ کا گلگت بلتستان انتخابات میں اتحاد

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ق) نے گلگت بلتستان کے عام انتخابات میں سیاسی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خطے میں سیاسی استحکام، ترقی اور عوامی فلاح کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
    ‎مسلم لیگ (ق) کے ترجمان کے مطابق پارٹی سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی ہدایت پر پیپلز پارٹی کے ساتھ سیاسی تعاون کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتیں گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں اور خطے میں سیاسی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک صفحے پر ہیں۔
    ‎ترجمان نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی کے درمیان تعاون کا مقصد عوامی مفادات کا تحفظ اور خطے کی ترقی کے لیے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔ ان کے مطابق انتخابات میں یہ اشتراک دونوں جماعتوں کے کارکنوں اور ووٹرز کے لیے بھی مثبت پیغام ہے۔
    ‎دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما ہمایوں خان نے مسلم لیگ (ق) کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سیاسی تعاون سے پیپلز پارٹی کی انتخابی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی سے انتخابی مہم کو تقویت ملے گی اور عوامی حمایت میں اضافہ ہوگا۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان انتخابات سے قبل مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد اور انتخابی تعاون کے فیصلے سیاسی منظرنامے پر اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مشترکہ حکمت عملی بعض حلقوں میں انتخابی نتائج پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
    ‎گلگت بلتستان میں عام انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور مختلف جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھرپور مہم چلا رہی ہیں۔ ایسے میں سیاسی اتحاد اور تعاون کے اعلانات انتخابی ماحول کو مزید دلچسپ بنا رہے ہیں۔