Baaghi TV

Category: گلگت بلتستان

  • 
بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان میں بھاری مینڈیٹ مانگ لیا

    
بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان میں بھاری مینڈیٹ مانگ لیا

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام سے بھرپور حمایت اور بھاری مینڈیٹ کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گلگت بلتستان کی آواز کو قومی سطح پر مؤثر انداز میں اٹھانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایسا مینڈیٹ درکار ہے تاکہ اسلام آباد جا کر گلگت بلتستان کے حقوق اور مطالبات کو بھرپور انداز میں پیش کر سکیں۔
    ‎غذر کے علاقے گاہکوچ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کے لیے بھاری اکثریت چاہتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کئی نشستیں چھین لی گئی تھیں، تاہم اس بار عوام پارٹی پر اعتماد کا اظہار کریں گے۔
    ‎پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے غذر کو ضلع کا درجہ دیا تھا جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کو سیاسی شناخت فراہم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور گلگت بلتستان کے عوام کا تعلق کئی نسلوں پر محیط ہے اور یہ رشتہ مستقبل میں بھی مضبوط رہے گا۔
    ‎بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں حق ملکیت کے مسئلے کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام کو زمینوں کے مکمل مالکانہ حقوق ملیں۔ ان کے مطابق اگر پیپلز پارٹی کو عوامی حمایت حاصل ہوئی تو قانون ساز اسمبلی کے ذریعے حق ملکیت سے متعلق قانون سازی کو یقینی بنایا جائے گا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ قابل کاشت زمین کو عوام میں تقسیم کرنے اور مقامی لوگوں کو زمین کا مالک بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کی صورت میں عوامی فلاح، روزگار اور بنیادی سہولیات کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔
    ‎بلاول بھٹو زرداری نے روزگار، صحت اور سیاحت کے شعبوں میں بھی متعدد وعدے کیے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر یقین رکھتی ہے جبکہ مفت علاج کی سہولیات کو بھی وسعت دی جائے گی۔ ان کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت گلگت بلتستان کو سیاحت کا ایک بڑا مرکز بنایا جا سکتا ہے۔
    ‎انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انتخابات میں اپنے مستقبل اور اپنے حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو خطے کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

  • 
گلگت بلتستان میں تعلیمی ادارے دو روز کے لیے بند

    
گلگت بلتستان میں تعلیمی ادارے دو روز کے لیے بند

    ‎گلگت بلتستان حکومت نے عام انتخابات کے انتظامات کے پیش نظر تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں دو روزہ تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت جمعہ اور ہفتہ کے روز صوبے بھر کے سرکاری اسکول، کالج اور دیگر تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔
    ‎چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کے مطابق یہ فیصلہ اتوار کو ہونے والے عام انتخابات کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صوبے کے بیشتر سرکاری تعلیمی اداروں کو پولنگ اسٹیشنز اور انتخابی عملے کے مراکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے باعث تدریسی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کی گئی ہیں۔
    ‎انتظامیہ کے مطابق تعطیلات کے دوران انتخابی سامان کی ترسیل، پولنگ اسٹیشنز کی تیاری اور سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ الیکشن ڈیوٹی پر مامور عملے کی تعیناتی اور دیگر انتظامی امور بھی اسی عرصے میں مکمل کیے جائیں گے۔
    ‎دوسری جانب گلگت بلتستان میں اتوار کو ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی جانب سے انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے، جبکہ ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے جلسے، کارنر میٹنگز اور عوامی رابطہ مہمات جاری ہیں۔
    ‎ادھر بعض سیاسی رہنماؤں نے انتخابات کے شفاف انعقاد پر زور دیا ہے۔ اس حوالے سے سیاسی رہنما حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات کو مکمل طور پر غیر جانبدار، آزادانہ اور منصفانہ بنایا جائے تاکہ عوام کا اعتماد انتخابی عمل پر برقرار رہے۔
    ‎انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ ووٹنگ کے عمل کو شفاف اور محفوظ بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حساس پولنگ اسٹیشنز پر اضافی سکیورٹی تعینات کی جائے گی جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی مکمل طور پر الرٹ رہیں گے۔
    ‎عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات خطے کی سیاسی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے، اس لیے ضروری ہے کہ انتخابی عمل پرامن، شفاف اور منظم انداز میں مکمل ہو۔

  • گلگت بلتستان الیکشن کو پنجاب سے مینج کرنیکی کوشش کی جا رہی ہے۔حسن مرتضیٰ

    گلگت بلتستان الیکشن کو پنجاب سے مینج کرنیکی کوشش کی جا رہی ہے۔حسن مرتضیٰ

    پیپلز پارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان الیکشن کو پنجاب سے مینج کرنیکی کوشش کی جا رھی ہے۔

    حسن مرتضی کا کہنا تھا کہ مخالفین انتخابی نتائج تبدیل کرنے کی سوچ میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ پنجاب اور اسلام اباد سے اضافی پولیس نفری گلگت بلتستان پہنچائی جا رہی ہے، ہر حلقے میں مختلف جماعتیں مقابلے پر ہیں مگر مرکزی قوت پیپلز پارٹی ہے۔عوامی حمایت ثابت کر رہی ہے کہ پیپلز پارٹی جی بی میں مضبوط سیاسی قوت ہے،چیئرمین بلاول بھٹو اور آصفہ بی بی کے بھر پور جلسوں نے مخالفین کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ہمارے جلسوں میں عوام کے جم غفیر نے ثابت کر دیا ہے کہ آئندہ حکومت پی پی پی بنائیگی۔شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے پیپلز پارٹی کی جڑیں گلگت بلتستان میں مضبوط ہیں،پیپلز پارٹی نے جی بی کے عوام کو حقوق اور شناخت دی،پیپلز پارٹی 7جون کو عوام کے ووٹ کا ہر قیمت پر تحفظ کریگی ۔گلگت بلتستان الیکشن کمشن منصفانہ،غیر جانبدرانہ اور آزادنہ الیکشن یقینی بنائے ،

  • گلگت بلتستان میں صرف تیر چلے گا،  شازیہ مری

    گلگت بلتستان میں صرف تیر چلے گا، شازیہ مری

    مرکزی ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز شازیہ مری نے کہا ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انتخابی مہم میں واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہی گلگت بلتستان کے مسائل کا حقیقی حل رکھتی ہے،

    شازیہ مری کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی غریب دشمن سیاست نہیں بلکہ عوامی خدمت، معاشی انصاف اور ترقی کے منشور پر یقین رکھتی ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نوجوانوں کو بااختیار بنا کر گلگت بلتستان کی تقدیر بدلنے کے لیے پُرعزم ہیں،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر پہلا حق وہاں کے عوام کا ہے،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی تحفظ، حقِ ملکیت، حقِ حاکمیت اور حقِ روزگار کی ضمانت دی ہے،پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو ترقی، روزگار، صحت اور جدید انفراسٹرکچر کی نئی راہوں پر گامزن کرے گی،شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور صدر آصف علی زرداری نے عوامی حقوق کے لیے تاریخی جدوجہد کی، دیامیر بھاشا ڈیم قومی سلامتی اور آبی تحفظ کا اہم منصوبہ ہے، وفاق فوری طور پر اس پر تیز رفتار کام یقینی بنائے، پیپلز پارٹی نے سندھ میں لاکھوں خاندانوں کو گھر، صحت اور فلاحی سہولیات فراہم کیں، یہی ماڈل گلگت بلتستان میں بھی متعارف کرایا جائے گا، پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کے بعد گلگت بلتستان میں عالمی معیار کے صحت کے ادارے اور مفت علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں گی، گلگت بلتستان کے غیرت مند عوام خرید و فروخت کی سیاست کو مسترد اور تیر کے نشان کو کامیاب بنائیں گے،گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگا کر ترقی، روزگار اور عوامی حقوق کے سفر کو آگے بڑھائیں گے، جون کو عوامی طاقت، ترقی اور امید کی جیت ہوگی، گلگت بلتستان میں صرف تیر چلے گا،

  • اپنے حلقے سے ہارنے والے گلگت میں ووٹ مانگنے آ گئے،بیرسٹر گوہر

    اپنے حلقے سے ہارنے والے گلگت میں ووٹ مانگنے آ گئے،بیرسٹر گوہر

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ جو اپنے حلقے ہار گئے وہ جی بی کے لوگوں سے ووٹ مانگنے آئے ہیں۔

    گلگت بلتستان میں کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ جی بی کے خود دار لوگ ان کو اور ان کے نظریے کو ریجیکٹ کریں گے، تحریک انصاف کو الیکشن مہم نہ کرنے دینا پری پول دھاندلی ہے، بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ لیڈرز اور ایم این ایز کو روکنا، صوبہ بدر کرنا خلاف آئین ہے، یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہے، ان کی 4 سال کی کارکردگی یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ الیکشن جیت جائیں،عوام ان کے دھوکے میں نہیں آئیں گے، پی ٹی آئی کی آئیسولیشن ختم نہ کی گئی تو فیصلہ کریں گے کیوں نہ اسمبلیوں کا بائیکاٹ کریں، تحریک انصاف کی آئیسولیشن ختم نہ کی گئی تو فیصلہ کریں گے کہ سسٹم سے باہر ہو جائیں

  • 
گلگت بلتستان میں 22 سال بعد بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری

    
گلگت بلتستان میں 22 سال بعد بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری

    ‎گلگت بلتستان میں دو دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان شہباز خان نے بلدیاتی انتخابات کا باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا ہے، جس کے تحت انتخابات 2 اگست 2026 کو منعقد ہوں گے۔
    ‎جاری کردہ انتخابی شیڈول کے مطابق امیدوار 9 جون سے 15 جون تک اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا سکیں گے۔ انتخابی عمل کے مختلف مراحل طے شدہ شیڈول کے مطابق مکمل کیے جائیں گے تاکہ مقررہ تاریخ پر ووٹنگ کا انعقاد یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎چیف الیکشن کمشنر شہباز خان نے کہا ہے کہ انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام ضروری انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہا ہے تاکہ عوام کا اعتماد انتخابی عمل پر برقرار رہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں 22 سال بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک اہم جمہوری پیش رفت ہے، جس سے مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور نچلی سطح پر عوامی نمائندگی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ بلدیاتی ادارے عوامی مسائل کے حل اور مقامی ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے اعلان کے بعد خطے میں سیاسی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے انتخابی مہم کی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے جبکہ عوامی سطح پر بھی اس عمل کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
    ‎شیڈول کے اجرا کے بعد امیدواروں اور سیاسی کارکنوں نے رابطہ مہم تیز کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات مقامی مسائل کو مقامی سطح پر حل کرنے اور عوام کو فیصلہ سازی کے عمل میں شریک کرنے کے لیے نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔
    ‎گلگت بلتستان کے عوام امید کر رہے ہیں کہ بلدیاتی اداروں کی بحالی سے ترقیاتی کاموں میں تیزی آئے گی، بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر ہوگی اور مقامی آبادی کو اپنے نمائندوں کے ذریعے مسائل کے حل کا مؤثر موقع ملے گا۔

  • 
تانگیر مسلم لیگ ن کی انتخابی ریلی میں فائرنگ، نوجوان جاں بحق

    
تانگیر مسلم لیگ ن کی انتخابی ریلی میں فائرنگ، نوجوان جاں بحق

    گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے حلقہ جی بی اے 18 تانگیر میں مسلم لیگ ن کی انتخابی ریلی کے دوران فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں ایک نوجوان جاں بحق جبکہ تین افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا پھیل گئی اور انتظامیہ نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق انتخابی ریلی کے دوران ہوائی فائرنگ کی جا رہی تھی کہ اچانک گولیاں شرکاء کو لگ گئیں۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا۔
    ‎ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ مبینہ طور پر اس وقت پیش آیا جب ایک شخص کے ہاتھ سے بندوق پھسل گئی، جس کے باعث گولیاں بے قابو ہو کر مجمع میں موجود افراد کو لگیں۔ پولیس نے واقعے کی مکمل چھان بین شروع کر دی ہے تاکہ ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے۔
    ‎گلگت بلتستان کے ہوم سیکرٹری فیصل احسن پیرزادہ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی اور ایس پی کو فوری انکوائری کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
    ‎ہوم سیکرٹری نے مزید بتایا کہ انتخابی مہم کے دوران سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے سیاسی کارکنوں اور عوام سے اپیل کی کہ انتخابی سرگرمیوں کے دوران قانون کی پابندی کریں اور اسلحے کی نمائش یا ہوائی فائرنگ سے گریز کریں۔
    ‎سیاسی و سماجی حلقوں نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتخابی اجتماعات میں اسلحے کے استعمال پر مؤثر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوری سرگرمیوں کو پرامن ماحول میں منعقد ہونا چاہیے تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • 
سکردو نے پیپلز پارٹی کے حق میں فیصلہ سنا دیا، بلاول بھٹو

    
سکردو نے پیپلز پارٹی کے حق میں فیصلہ سنا دیا، بلاول بھٹو

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے کے عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے واضح پیغام دے دیا ہے کہ 7 جون کے انتخابات میں صرف "تیر” کا نشان کامیاب ہوگا۔ انہوں نے کارکنوں اور عوام کے جوش و جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ حمایت پیپلز پارٹی پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔
    ‎بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کے دوران وعدہ کیا کہ اگر پیپلز پارٹی انتخابات میں کامیاب ہوئی تو گلگت بلتستان میں عوامی فلاح و بہبود کے متعدد منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں سیلاب متاثرین کے لیے شروع کیے گئے سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ ایفیکٹیز پروگرام کی طرز پر گلگت بلتستان میں بھی جدید رہائشی منصوبہ متعارف کرایا جائے گا تاکہ عوام کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
    ‎چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت کا مقصد صرف انتخابات جیتنا یا اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کی خدمت کرنا اور ان کے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی کے منتخب نمائندے عوام کے مسائل، مطالبات اور شکایات براہِ راست قیادت تک پہنچائیں گے تاکہ دیرینہ مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
    ‎بلاول بھٹو نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام ترقی، روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کے بہتر مواقع کے مستحق ہیں۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی ہمیشہ محروم طبقات اور دور دراز علاقوں کے عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی یہ جدوجہد جاری رکھے گی۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ عوامی فلاح، سماجی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور نوجوانوں کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنا پیپلز پارٹی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی طاقت سے ہی خطے میں ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع کیا جا سکتا ہے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان میں انتخابی سرگرمیوں کے عروج کے دوران مختلف سیاسی جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھرپور مہم چلا رہی ہیں، جبکہ آنے والے انتخابات خطے کی سیاسی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔

  • گلگت میں بلاول کی مقبولیت نے سیاسی مخالفین کی نیندیں حرام کر دی ہیں، شازیہ مری

    گلگت میں بلاول کی مقبولیت نے سیاسی مخالفین کی نیندیں حرام کر دی ہیں، شازیہ مری

    مرکزی ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز شازیہ مری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں انتخابی میدان میں شکست کے خوف نے مخالفین کو پری پول رگنگ پر مجبور کر دیا ہے،

    شازیہ مری کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے سیاسی مخالفین کی نیندیں حرام کر دی ہیں.پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کا مطالبہ کرتی ہے، مختلف حلقوں سے انتخابی عمل میں مداخلت اور بے ضابطگیوں کی شکایات موصول ہو رہی ہیں، کہیں انتظامی افسران کے تبادلے کیے جا رہے ہیں اور کہیں ووٹر لسٹوں میں ردوبدل کی اطلاعات ہیں، انتخابی عمل کو متنازع بنانے کی کوششیں جمہوری اقدار کے خلاف ہیں، سرکاری مشینری کے ذریعے انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کی اطلاعات تشویشناک ہیں، گلگت بلتستان کے عوام کے مینڈیٹ کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے، وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں سرگرم شرکت انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے،چیف الیکشن کمشنر بتائیں انتخابی عمل کو غیر جانبدار بنانے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں،آئین کے آرٹیکل 218 کے تحت شفاف، منصفانہ اور ایماندارانہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے،انتخابات کے دوران گلگت بلتستان میں پنجاب پولیس کی موجودگی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے، سرکاری مشینری کے استعمال کی ہر شکایت کا فوری نوٹس لیا جانا چاہیے،عوام کی رائے پر اثرانداز ہونے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا، گلگت بلتستان کے عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے جمہوری قوتوں کا ساتھ دیں گے، الیکشن کمیشن تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے، عوامی مینڈیٹ پر کسی قسم کا ڈاکہ جمہوری اقدار کے خلاف ہوگا،

  • 
محمود خان اچکزئی کے خلاف چمن میں بغاوت کا مقدمہ درج

    
محمود خان اچکزئی کے خلاف چمن میں بغاوت کا مقدمہ درج

    اپوزیشن لیڈر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے خلاف بلوچستان کے شہر چمن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی، لاؤڈ اسپیکر کے مبینہ غلط استعمال اور ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق مقدمہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ولی خان غبیزئی کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ محمود خان اچکزئی نے ایک اجتماع کے دوران ایسے بیانات دیے جو متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
    ‎مقدمے کے اندراج کے بعد سیاسی حلقوں میں ردعمل سامنے آیا ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سیاسی رہنماؤں اور مخالف آوازوں کے خلاف مقدمات کا اندراج جمہوری روایات کے منافی ہے۔
    ‎تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مطابق اختلاف رائے جمہوری نظام کا بنیادی جزو ہے اور سیاسی معاملات کا حل مقدمات اور قانونی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات اور جمہوری عمل کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ ترجمان نے کہا کہ سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنا سکتی ہیں۔
    ‎دوسری جانب حکام کا مؤقف ہے کہ مقدمہ قانون کے مطابق درج کیا گیا ہے اور اس کا مقصد کسی سیاسی شخصیت کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ مبینہ خلاف ورزیوں کی قانونی جانچ کرنا ہے۔ متعلقہ ادارے مقدمے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں اور تحقیقات قانون کے مطابق آگے بڑھائی جائیں گی۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق بلوچستان اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کے تناظر میں یہ مقدمہ خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی اور قانونی پیش رفت متوقع ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں شفاف تحقیقات اور قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری ضروری ہوتی ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا سیاسی کشیدگی سے بچا جا سکے۔