Baaghi TV

Category: گلگت بلتستان

  • خیبر پختون خوا اور گلگت بلتستان میں پاک فوج کا فلڈ ریلیف آپریشن جاری

    خیبر پختون خوا اور گلگت بلتستان میں پاک فوج کا فلڈ ریلیف آپریشن جاری

    خیبر پختون خوا اور گلگت بلتستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کا فلڈ ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    پاک فوج نے مینگورہ کے متاثرین میں راشن تقسیم کیا جبکہ مانسہرہ، نیل بان اور بٹگرام میں بھی امدادی کارروائیاں کی گئیں۔ متاثرین میں دودھ اور دیگر خوراک تقسیم کی گئی اور میڈیکل کیمپ میں 100 سے زائد افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی۔امدادی کارروائیوں کے دوران بونیر سے اب تک 274 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ متاثرہ سڑکوں کو بھی کلیئر کر دیا گیا ہے جبکہ گلگت بلتستان میں پاک فوج اور سول انتظامیہ نے باغیچہ روڈ کو صرف 18 گھنٹوں میں بحال کر دیا۔

    گلگت بلتستان کے گاؤں ٹیرو میں پاک فوج نے فیلڈ اسپتال قائم کیا ہے جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم مقامی افراد کو 24 گھنٹے طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ راستوں کی بندش کے باعث عوام کو صحت کے مسائل کا سامنا تھا جس پر مریضوں کا معائنہ کرکے انہیں ادویات دی گئیں۔ہیلی کاپٹر کے ذریعے 4 شدید زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ پاک فوج نے متاثرین میں آٹا، چاول، دالیں، پینے کا پانی اور دیگر اشیائے خور و نوش پر مشتمل راشن بھی تقسیم کیا۔

    جشن آزادی پر حملے کا منصوبہ ناکام ،یونیورسٹی پروفیسر سمیت 3 دہشت گرد گرفتار

    حماس نے اسرائیلی منصوبے کو مسترد ، خیمہ بستیوں کو "نسلی کشی کی مہم” قرار دے دیا

    حماس نے اسرائیلی منصوبے کو مسترد ، خیمہ بستیوں کو "نسلی کشی کی مہم” قرار دے دیا

    بھارت بدمعاش ریاست، عالمی امن کے لیے مستقل خطرہ ہے،حنا ربانی کھر

  • گلگت بلتستان میں سیلاب کا خدشہ

    گلگت بلتستان میں سیلاب کا خدشہ

    محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان میں برف اور گلیشیئر پگھلنے کی وارننگ جاری کرتے ہوئے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق خطے میں درجہ حرارت معمول سے 7 سے 9 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہے، غیر معمولی گرمی برف پگھلنے کی شرح میں نمایاں ا ضافہ کر رہی ہے جس سے گلیشیل لیک آٹ برسٹ فلڈز کا خطرہ بڑھ رہا ہے،فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کے مطابق زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم درجہ حرارت مسلسل اوسط سے زیادہ ہیں جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر پگھلتی برف ہے جس سے آبی ذخائر میں پانی کی آمد میں اضافہ ہوتا ہے،
    اعداد و شمار کے مطابق اگست کے پہلے 10 دنوں تک موجودہ خریف سیزن کے دوران تربیلا کے ذخائر میں پانی کی آمد 41.8 ملین ایکڑ فٹ تک پہنچ گئی جو 36.16 ملین ایکڑ فٹ کی عام موسمی آمد سے 5.64 ملین ایکڑ فٹ زیادہ ہے،محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ برف کا تیزی سے پگھلنا برفانی جھیلوں کی تشکیل اور توسیع کا باعث بن سکتا ہے جس سے پہاڑوں کے نیچے یا میدانی سطح والے علاقوں میں سیلاب کا سنگین خطرہ ہے۔

    محکمہ موسمیات نے متعلقہ حکام اور مقامی افراد پر زور دیا کہ موجودہ صورت حال میں چوکنا رہیں اور خاص طور پر زیادہ متاثرہ وادیوں میں، ممکنہ آفات کے اثرات کو کم کرنے کیلئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کو یقینی بنایا جائے،

  • سرن ویلی میں طغیانی، 1300 سیاح محفوظ مقام پر منتقل، قراقرم ہائی وے بند

    سرن ویلی میں طغیانی، 1300 سیاح محفوظ مقام پر منتقل، قراقرم ہائی وے بند

    مانسہرہ کے سرن ویلی فیملی پارک کے قریب نالے میں طغیانی کے بعد پھنسے 1300 سیاحوں کو ریسکیو ٹیموں نے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسر کے مطابق پارک اور ملحقہ علاقوں میں موجود تمام سیاحوں کو نکال لیا گیا۔ریسکیو حکام نے بتایا کہ اپر کوہستان میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے پر قراقرم ہائی وے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں ہائی الرٹ پر رہتے ہوئے امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    ادھر گلگت میں دریائے گلگت کا بہاؤ تیز ہو گیا ہے۔ ترجمان جی بی حکومت کے مطابق نشیبی علاقوں کو خالی کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے، جبکہ چنار باغ کے اردگرد رہائشیوں کو محتاط رہنے کا کہا گیا ہے۔

    راولپنڈی میں چہلم شہدائے کربلا کے لیے سیکیورٹی پلان جاری

    ایمل ولی خان کی وزیراعظم سے ملاقات، آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت

    امریکا کی بھارت کو اضافی تجارتی پابندیوں کی وارننگ

    نالہ بئیں اور دریائے ستلج میں درمیانے درجے کا سیلاب

  • گلگت بلتستان: لگت کے دنیور نالہ میں لینڈ سلائیڈنگ، 8 رضاکار جاں بحق

    گلگت بلتستان: لگت کے دنیور نالہ میں لینڈ سلائیڈنگ، 8 رضاکار جاں بحق

    گلگت بلتستان کے علاقے لگت کے دنیور نالہ میں شدید لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 8 مقامی رضاکار ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئے ہیں۔

    پولیس اور مقامی حکام کے مطابق یہ رضاکار سیلاب سے متاثرہ واٹر چینل کی بحالی کے کام میں مصروف تھے کہ اچانک مٹی کا تودہ گر گیا، جس کے نتیجے میں یہ حادثہ پیش آیا۔اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں کے علاوہ کئی افراد ابھی بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جن کی بازیابی کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ اس حادثے میں زخمی ہونے والے 3 افراد کو قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ حادثے کے بعد تمام قریبی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

    صوبائی حکومت کے ترجمان نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلیاں اور گلیشیئر کے پگھلنے کا سلسلہ تیز ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شیشپر نالے میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کی وجہ سے سیلاب آیا ہے جس نے نہ صرف آبادیوں کی زمینوں کو نقصان پہنچایا بلکہ قریبی زرعی اراضی اور درخت بھی بہا لیے ہیں۔

    مزید برآں، سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے قراقرم ہائی وے شدید متاثر ہوئی ہے اور شاہراہ ہنزہ ایک بار پھر بند ہو گئی ہے۔ صوبائی حکومت نے ہنزہ کے لیے ٹریفک کو نگر کے روڈ سے گزارنے کی ہدایت کی ہے تاکہ مسافروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ موسمیاتی حالات اور حفاظتی ہدایات کا خیال رکھیں اور حکام کی جانب سے جاری کردہ انتباہات پر عمل کریں تاکہ مستقبل میں ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔

  • بابو سرٹاپ حادثہ، سرچ آپریشن ختم، لاپتہ افراد کی غائبانہ نماز جنازہ ادا

    بابو سرٹاپ حادثہ، سرچ آپریشن ختم، لاپتہ افراد کی غائبانہ نماز جنازہ ادا

    گلگت بلتستان میں بابو سرٹاپ کے مقام پر سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے 10 افراد کی تلاش 14 روز بعد ختم کر دی گئی، جبکہ غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔

    ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران تمام متاثرہ گاڑیاں ملبے سے نکال لی گئیں تاہم لاپتہ افراد کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔فیض اللہ فراق کا کہنا تھا کہ بچنے کی تمام امیدیں ختم ہوچکی ہیں، جس کے بعد سرچ آپریشن باضابطہ طور پر روک دیا گیا ہے اور غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی ہے۔

    یہ افسوسناک واقعہ بابو سرٹاپ کے مقام پر پیش آیا تھا، جہاں سیلابی ریلے نے کئی افراد اور گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ حکومتی اداروں اور ریسکیو ٹیموں نے مسلسل دو ہفتے تک سرچ آپریشن جاری رکھا۔

    کراچی ایئرپورٹ کے نئے رن وے پر کام شیڈول سے پہلے مکمل

    روسی تیل کی خریداری،ٹرمپ کی بھارت کو ٹیرف بڑھانے کی دھمکی

    یوم شہدائے پولیس، سندھ اسمبلی کا پولیس کو خراج عقیدت

    پنجاب میں گاڑی کا نمبر اب مالک کے نام پر جاری ہوگا

  • وزیرِ اعظم  شہباز شریف گلگت پہنچ گئے

    وزیرِ اعظم شہباز شریف گلگت پہنچ گئے

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت پہنچ گئے

    گلگت پہنچنے پر گلگت بلتستان کے گورنر سید مہدی شاہ اور وزیرِ اعلی گلبر خان نے وزیر اعظم کا استقبال کیا. وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیرِ امور برائے کشمیر و گلگت بلتستان انجینئیر امیر مقام، وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ اور وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر شبیر عثمانی بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہیں. وزیرِ اعظم گلگت میں بارشوں و سیلاب کے متاثرین سے ملاقات کریں گے اور امدادی رقوم تقسیم کریں گے.

    وزیر اعظم کو گلگت بلتستان میں حالیہ بارشوں کے نتیجے میں نقصانات کے حوالے سے بریفنگ دی جائے گی. وزیر اعظم گورنر و وزیرِ اعلی گلگت بلتستان سے بھی ملاقات کریں گے.

  • گلگت بلتستان، گلیشیئر پھٹنے سے باپ بیٹا گہری کھائی میں جا گرے

    گلگت بلتستان، گلیشیئر پھٹنے سے باپ بیٹا گہری کھائی میں جا گرے

    گلگت بلتستان کے خوبصورت مگر قدرتی آفات سے متاثرہ علاقے وادی بگروٹ میں شدید واقعہ پیش آیا ہے جہاں گلیشیئر پھٹنے کے باعث ایک باپ اور اس کا بیٹا گہری کھائی میں جا گرے۔ مقامی انتظامیہ نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر ریسکیو ٹیمیں روانہ کر دی ہیں تاکہ زخمیوں کو تلاش کر کے بچایا جا سکے۔

    ادھر ضلع دیامر کے علاقے کھنبری میں بھی مسلسل بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ شدید سیلاب کی وجہ سے فصلیں، زمینداروں کی زمینیں اور واٹر چینلز شدید نقصان سے دوچار ہوئے ہیں، جس سے مقامی کاشتکاروں کی معاشی حالت مزید متاثر ہوئی ہے۔مزید برآں، شاہراہ بابوسر پر لاپتا سیاحوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن مسلسل جاری ہے جو 11 ویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ خاص طور پر نجی ٹی وی کی خاتون اینکر اور ان کا خاندان اب تک لاپتا ہیں جس کی وجہ سے انہیں ڈھونڈنے کے لیے خصوصی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

    گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے بتایا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور سیلابی بحران سے نمٹنے اور متاثرین کی بحالی کے لیے وفاقی حکومت کی فوری توجہ اور امداد درکار ہے تاکہ صوبے کو اس آفت سے جلد از جلد نکالا جا سکے۔مقامی لوگ اور انتظامیہ مل کر ریسکیو اور امدادی کاموں میں مصروف ہیں تاکہ جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔ تاہم شدید بارشیں اور خراب موسمی حالات امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

  • گلگت بلتستان حکومت نے 37 دیہاتوں کو آفت زدہ قرار دے دیا

    گلگت بلتستان حکومت نے 37 دیہاتوں کو آفت زدہ قرار دے دیا

    گلگت بلتستان حکومت نے سیلابی تباہی سے دوچار 8 اضلاع کے 37 دیہاتوں کو آفت زدہ قرار دے دیا۔

    جعمرات کے روز محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق آفت زدہ قرار دیے جانے والے علاقوں میں گلگت کے 9 ،دیامر 12 ،غذر 5، اسکردو 4، گانچھے 2، شگر 3، نگر اور کھرمنگ ضلعے کے ایک ایک گاؤں کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے۔

    نوٹفیکیشن کے مطابق جن علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا ہے ان میں انسانی جانوں کے نقصانات کے ساتھ گھروں اور فصلوں کے ساتھ انفر ا اسٹرکچر کی تباہی ہوئی ہے، اس بنیاد پر 8 اضلاع کے 3 درجن مقامات کو حاصل اختیارات کے تحت حکومت نے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا ہے۔

    نواز شریف اور مریم نواز سے سعودی سفیر کی ملاقات

    گلگت بلتستان حکومت نے 20 جولائی سے قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 15 سے 20 ارب روپے بتایا ہے جبکہ اب تک 10 افراد جاں بحق ہوئے ہیں اور ایک درجن افراد لاپتہ ہیں، اور سیلاب میں سیاحوں سمیت مقامی لوگوں کی 20 سے زائد گاڑیاں بھی سیلاب میں بہہ گئی ہیں،گلگت بلتستان حکومت نے سیلاب سے ہونے والے مالی و جانی نقصانات کے تناظر میں ندی نالوں اور دریا کے کناروں کو ناجائز طور پر قبضہ کر کے مکانات اور عمارتیں بنانے والے افراد کو سیلاب نقصانات کے معاوضے نہ دینے اور مسقبل میں اسکی روک تھام کے لیے قانون سازی کا اعلان کر دیا ہے،گلگت بلتستان میں سیلاب نقصانات کے جائزے کے لیے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے رابطے پر وزیر اعظم چار اگست کا دودہ کریں گے

    وفاقی کابینہ نے افغانستان کے ساتھ تجارتی ٹیرف میں رعایتوں کی منظوری دےدی

  • گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ: جرمن کوہ پیما لورا ڈاہلمائر وفات پا گئیں

    گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ: جرمن کوہ پیما لورا ڈاہلمائر وفات پا گئیں

    گلگت بلتستان، گزشتہ چند روز قبل گلگت بلتستان کے علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آکر زخمی ہونے والی جرمن کوہ پیما لورا ڈاہلمائر کا آج انتقال ہوگیا ہے۔ یہ افسوسناک خبر گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان نے تصدیق کی ہے۔

    بتایا جاتا ہے کہ 28 جولائی کو دو جرمن خواتین کوہ پیما، جن میں لورا ڈاہلمائر اور کروس مرینہ ایوا شامل تھیں، لیلیٰ پیک کی چوٹی سر کرنے کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کا شکار ہوئیں۔ اس حادثے میں کروس مرینہ ایوا کو گزشتہ روز ریسکیو کر کے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا، تاہم 31 سالہ لورا ڈاہلمائر لاپتہ تھیں۔ کئی روز کی تلاش کے بعد ان کے انتقال کی تصدیق کی گئی ہے۔لورا ڈاہلمائر جرمنی کی انتہائی کامیاب اور نامور ایتھلیٹس میں شمار کی جاتی تھیں۔ انہوں نے 2018 کے پیونگ چانگ ونٹر اولمپکس میں دو طلائی تمغے جیتے تھے اور مجموعی طور پر 7 عالمی چیمپئن شپ ٹائٹل حاصل کیے تھے، جو ان کی کھیلوں میں مہارت اور کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کی زندگی اور خدمات کو عالمی کھیلوں کی دنیا میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    گلگت بلتستان کی حکومت اور مقامی انتظامیہ نے لورا ڈاہلمائر کے انتقال پر گہرا دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور ان کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات مزید مضبوط کریں گے تاکہ سیاحوں اور کوہ پیماوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • سیلاب میں لاپتہ خاتون اینکر کی گاڑی ملبے سے برآمد

    سیلاب میں لاپتہ خاتون اینکر کی گاڑی ملبے سے برآمد

    گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں تباہ کن سیلاب کے دوران لاپتہ ہونے والی نجی ٹی وی چینل کی اینکر پرسن شبانہ لیاقت کی گاڑی بابوسر کے مقام پر ملبے سے مل گئی، تاہم گاڑی میں کوئی فرد موجود نہیں تھا۔ متاثرہ فیملی سمیت دیگر لاپتہ افراد کی تلاش تاحال جاری ہے۔

    ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق کے مطابق، بابوسر ناران شاہراہ پر جاری سرچ آپریشن میں تیزی لائی گئی ہے۔ اب تک تقریباً 15 سیاح ریلے میں بہہ چکے ہیں، جن میں شبانہ لیاقت، ان کے شوہر لیاقت، اور چار بچے بھی شامل ہیں۔حکام کے مطابق، گاڑی کے ملبے سے ملنے کے بعد شبانہ لیاقت کا پرس بھی بابوسر تھک کے ایک مقامی رضاکار کو ملا ہے، جس میں ان کا شناختی کارڈ موجود تھا۔ یہ تفصیل لاپتہ فیملی کی شناخت کی تصدیق کرتی ہے۔

    ترجمان نے بتایا کہ شاہراہ بابوسر کو ایک ہفتے بعد جزوی طور پر بحال کر کے یکطرفہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، تاہم شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ریسکیو آپریشن میں پولیس، ضلعی انتظامیہ، گلگت بلتستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی، ریسکیو ادارے، سراغ رساں کتے اور ڈرونز حصہ لے رہے ہیں تاکہ لاپتہ افراد کا سراغ لگایا جا سکے۔

    یاد رہے کہ حالیہ طوفانی بارشوں کے نتیجے میں بابوسر تھک نالے میں سیلاب آنے سے 10 افراد جاں بحق اور کئی لاپتہ ہو گئے تھے، جس کے بعد سیاحتی مقام بابوسر میں ہر طرف تباہی کے مناظر دکھائی دے رہے ہیں۔

    9 مئی کیس: اعجاز چوہدری، احمد بھچر اور احمد چٹھہ نااہل، نشستیں خالی

    پنجاب اسمبلی ہنگامہ: ایوان سے احاطہ تک تصادم، دو اپوزیشن ارکان معطل

    پنجاب اسمبلی میں ہاتھا پائی: اپوزیشن رکن کا حکومتی رکن کو تھپڑ