Baaghi TV

Category: گلگت بلتستان

  • گلگت بلتستان:الیکشن کمیشن نے  5 انتخابی حلقوں کے نتائج روک دیے

    گلگت بلتستان:الیکشن کمیشن نے 5 انتخابی حلقوں کے نتائج روک دیے

    الیکشن کمیشن نے گلگت بلتستان کے 5 انتخابی حلقوں کے نتائج روک دیے۔

    الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے پانچ انتخابی حلقوں کے نتائج روکنے کا حکم جاری کرتے ہوئے متعلقہ ریٹرننگ افسران کو حتمی نتائج جاری کرنے سے منع کر دیا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق مخصوص پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کے انعقاد تک نتائج روک دیے گئے ہیں، فیصلے کے تحت ضلع دیامر کے حلقوں جی بی اے 15، جی بی اے 16 اور جی بی اے 17 کے نتائج روک دیے گئے ہیں اسی طرح سکردو کے حلقہ جی بی اے 8 اور استور کے حلقہ جی بی اے 13 کے نتائج بھی تاحکمِ ثانی جاری نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسران کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ پوسٹل بیلٹس کی اسکروٹنی اور گنتی کا عمل بھی نہ کریں، اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • جے یو آئی کا گلگت بلتستان انتخابی نتائج پر تحفظات کا اظہار

    جے یو آئی کا گلگت بلتستان انتخابی نتائج پر تحفظات کا اظہار

    جمعیت علماء اسلام (ف) نے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    پارٹی رہنما عبدالغفور حیدری کا کہنا ہے کہ فارم 45 سے متعلق سامنے آنے والے معاملات انتخابی شفافیت پر سوالیہ نشان ہیں اور عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔عبدالغفور حیدری نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ جے یو آئی (ف) کے امیدوار کی واضح کامیابی کو شکست میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی، جو نہ صرف جمہوری اصولوں کے منافی ہے بلکہ ووٹرز کے اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شفاف اور غیر جانبدار انتخابات ہی جمہوری نظام کی بنیاد ہیں، اور اگر انتخابی نتائج پر سوالات برقرار رہے تو عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد بحال کرنا مشکل ہو جائے گا۔

    جے یو آئی (ف) کے رہنما نے مطالبہ کیا کہ انتخابی نتائج سے متعلق تمام تحفظات کو دور کرنے کے لیے متعلقہ ادارے فوری اقدامات کریں اور فارم 45 سمیت تمام انتخابی ریکارڈ کی شفاف جانچ کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے ابہام کا خاتمہ ہو سکے۔

    دوسری جانب گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تک 24 میں سے 18 نشستوں کے مکمل غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آ چکے ہیں، جن کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 9 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ آزاد امیدواروں نے 5 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) 3 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کے حصے میں ایک نشست آئی ہے۔

  • 
گلگت بلتستان انتخاب: پہلا مکمل نتیجہ، اسکردو میں پیپلز پارٹی کامیاب

    
گلگت بلتستان انتخاب: پہلا مکمل نتیجہ، اسکردو میں پیپلز پارٹی کامیاب

    ‎گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کا پہلا مکمل غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجہ سامنے آ گیا ہے، جس کے مطابق حلقہ جی بی 7 اسکردو ون میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار توقیر مہدی شاہ کامیاب قرار پائے ہیں۔
    ‎تمام 31 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کے مطابق توقیر مہدی شاہ نے مجموعی طور پر 4337 ووٹ حاصل کیے اور اپنے مد مقابل استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار راجہ جلال حسین خان کو شکست دی۔ راجہ جلال 3891 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہے۔ اس طرح پیپلز پارٹی نے انتخابات میں پہلی مکمل نشست اپنے نام کر لی ہے۔
    ‎دوسری جانب صوبے بھر سے موصول ہونے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی مجموعی طور پر سب سے آگے دکھائی دے رہی ہے۔ ابتدائی رجحانات کے مطابق پیپلز پارٹی کے 10 امیدوار مختلف حلقوں میں برتری حاصل کیے ہوئے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے 6 امیدوار آگے ہیں۔
    ‎استحکام پاکستان پارٹی بھی کئی حلقوں میں مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اس کے 3 امیدوار برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 5 حلقوں میں آزاد امیدواروں کا پلڑا بھاری نظر آ رہا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت سازی کے مرحلے میں آزاد امیدوار اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
    ‎گلگت بلتستان کے 24 انتخابی حلقوں میں پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی تھی اور بغیر کسی تعطل کے شام 5 بجے تک جاری رہی۔ صوبے بھر میں 1391 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے جہاں ووٹرز نے بھرپور انداز میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
    ‎انتخابات میں 12 سے زائد سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں سمیت 396 امیدوار میدان میں تھے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس مرتبہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ کئی حلقوں میں آزاد امیدوار بھی غیر متوقع نتائج دے رہے ہیں۔
    ‎گلگت بلتستان اسمبلی 33 نشستوں پر مشتمل ہے جن میں 24 جنرل نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوئے ہیں، جبکہ 6 نشستیں خواتین اور 3 ٹیکنوکریٹس کے لیے مختص ہیں۔ حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو کم از کم 17 نشستوں کی حمایت درکار ہوگی۔

  • 
چیف الیکشن کمشنر کی تمام حلقوں میں فارم 45 جاری کرنے کی ہدایت

    
چیف الیکشن کمشنر کی تمام حلقوں میں فارم 45 جاری کرنے کی ہدایت

    ‎گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز نے اسمبلی انتخابات کے بعد تمام 24 حلقوں کے ریٹرننگ افسران کو مصدقہ فارم 45 فوری طور پر جاری کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ یہ فیصلہ انتخابی نتائج کے عمل میں شفافیت اور سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا کہ فارم 45 کے اجرا کا عمل الیکشن ایکٹ 2017 اور الیکشن رولز 2017 کی متعلقہ دفعات کے مطابق مکمل کیا جائے۔ انہوں نے تمام ریٹرننگ افسران کو ہدایت کی کہ انتخابی قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر نتائج کے اجرا میں غیر ضروری تاخیر نہ ہونے دی جائے۔
    ‎الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے مطابق جن پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہو چکا ہے وہاں فارم 45 جاری کیے جا رہے ہیں۔ کمیشن نے اس حوالے سے تمام انتخابی افسران کو دوبارہ واضح ہدایات بھی جاری کر دی ہیں تاکہ انتخابی عمل پر اعتماد برقرار رہے۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ بعض حلقوں میں فارم 45 کے اجرا سے متعلق افواہیں اور غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، اس لیے میڈیا ادارے تصدیق کے بغیر ایسی خبریں نشر کرنے سے گریز کریں۔ الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ نتائج کی تیاری اور دستاویزات کی فراہمی کا عمل قانونی تقاضوں کے مطابق جاری ہے۔
    ‎یہ ہدایات ایسے وقت میں جاری کی گئی ہیں جب مختلف سیاسی جماعتوں، خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف، کی جانب سے بعض حلقوں میں فارم 45 کی فراہمی سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ تمام امیدواروں اور ان کے نمائندوں کو انتخابی قوانین کے مطابق ضروری دستاویزات فراہم کی جائیں گی۔
    ‎گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مختلف حلقوں میں سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حتمی نتائج کا اعلان تمام قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

  • گلگت بلتستان انتخابات: ابتدائی نتائج میں پیپلز پارٹی آگے، ن لیگ کا بھی مضبوط مقابلہ

    گلگت بلتستان انتخابات: ابتدائی نتائج میں پیپلز پارٹی آگے، ن لیگ کا بھی مضبوط مقابلہ

    ‎گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور مختلف حلقوں سے موصول ہونے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج نے ایک دلچسپ سیاسی مقابلے کی تصویر پیش کی ہے۔ ابتدائی رجحانات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کئی اہم حلقوں میں برتری حاصل کیے ہوئے ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) بھی متعدد نشستوں پر مضبوط پوزیشن میں نظر آ رہی ہے۔ آزاد امیدواروں اور دیگر جماعتوں نے بھی کئی حلقوں میں غیر متوقع کارکردگی دکھائی ہے۔
    ‎اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق جی بی اے 1 گلگت 1، جی بی اے 3 گلگت 3، جی بی اے 4 نگر 1، جی بی اے 9 اسکردو 3، جی بی اے 10 اسکردو 4، جی بی اے 11 کھرمنگ، جی بی اے 12 شگر، جی بی اے 13 استور 1 اور جی بی اے 17 دیامر 3 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ابتدائی برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔
    ‎دوسری جانب مسلم لیگ (ن) جی بی اے 2 گلگت 2، جی بی اے 14 استور 2، جی بی اے 18 دیامر 4، جی بی اے 19 غذر 1 اور جی بی اے 22 گھانچے 1 میں آگے دکھائی دے رہی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان حلقہ جی بی اے 2 میں نمایاں برتری کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں۔
    ‎انتخابات میں آزاد امیدوار بھی بھرپور انداز میں سامنے آئے ہیں۔ جی بی اے 5 نگر 2، جی بی اے 6 ہنزہ، جی بی اے 20 غذر 2، جی بی اے 23 گھانچے 2 اور جی بی اے 24 گھانچے 3 میں آزاد امیدوار ابتدائی نتائج کے مطابق سبقت لیے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر گھانچے 3 میں آزاد امیدوار اسد شفیق کی نمایاں برتری سیاسی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
    ‎دیگر جماعتوں میں استحکام پاکستان پارٹی جی بی اے 7 اسکردو 1 اور جی بی اے 16 دیامر 2 میں مضبوط پوزیشن میں نظر آ رہی ہے، جبکہ مجلس وحدت مسلمین جی بی اے 8 اسکردو 2 میں ابتدائی برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) بھی جی بی اے 15 دیامر 1 میں سب سے آگے ہے۔
    ‎ابتدائی رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی ایک جماعت واضح اکثریت کی جانب بڑھتی ہوئی نظر نہیں آ رہی، جس کے باعث آزاد امیدوار اور چھوٹی جماعتیں حکومت سازی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تاہم یہ تمام نتائج غیر سرکاری اور غیر حتمی ہیں اور حتمی تصویر مکمل نتائج آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔
    ‎گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 جنرل نشستوں پر انتخابات ہوئے ہیں جبکہ حکومت بنانے کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو کم از کم 17 نشستوں کی حمایت درکار ہوگی۔

  • 
گلگت بلتستان انتخابات: ابتدائی نتائج میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ

    
گلگت بلتستان انتخابات: ابتدائی نتائج میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ

    ‎گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے پولنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور مختلف حلقوں سے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج موصول ہونے کا سلسلہ برقرار ہے۔ ابتدائی نتائج سے مختلف حلقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، آزاد امیدواروں اور دیگر جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
    ‎جی بی 4 نگر ون کے وٹرنری اسپتال چھلت پائین پولنگ اسٹیشن کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار محمد علی اختر 76 ووٹ حاصل کرکے پہلے نمبر پر رہے۔ اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب وزیری 70 ووٹوں کے ساتھ دوسرے جبکہ آزاد امیدوار ڈاکٹر علی محمد تیسرے نمبر پر رہے۔
    ‎اسی طرح جی بی 5 نگر ٹو کے بوائز ہائی اسکول ہوپر نگر پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی نتائج میں پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد 45 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے جاوید علی منوا 34 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔
    ‎تاہم اسی حلقے کے ایک خواتین پولنگ اسٹیشن کے نتائج میں آزاد امیدوار جہانگیر شاہ 88 ووٹ حاصل کرکے پہلے نمبر پر ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد 36 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے، جس سے حلقے میں سخت مقابلے کی صورتحال واضح ہوتی ہے۔
    ‎دوسری جانب جی بی 2 گلگت ٹو کے ابتدائی سات پولنگ اسٹیشنوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے حافظ حفیظ الرحمان 858 ووٹ حاصل کرکے نمایاں برتری لیے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 383 ووٹوں کے ساتھ دوسرے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے فتح اللہ خان 83 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر ہیں۔
    ‎واضح رہے کہ انتخابات کے لیے پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی اور بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہی۔ صوبے بھر میں 1391 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے جہاں ووٹرز نے بھرپور انداز میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
    ‎اس انتخابی معرکے میں 12 سے زائد سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں سمیت مجموعی طور پر 396 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے جبکہ آزاد امیدوار بھی کئی حلقوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
    ‎گلگت بلتستان اسمبلی 33 نشستوں پر مشتمل ہے، جن میں 24 نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوئے ہیں۔ حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 17 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہوگی۔

  • 
پی ٹی آئی کو گلگت بلتستان انتخابات میں برتری حاصل ہے، شفیع جان

    
پی ٹی آئی کو گلگت بلتستان انتخابات میں برتری حاصل ہے، شفیع جان

    ‎خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے دعویٰ کیا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں اب تک موصول ہونے والے متعدد فارم 45 کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کو نمایاں برتری حاصل ہے۔
    ‎اپنے بیان میں شفیع جان نے کہا کہ گلگت بلتستان میں انتخابی عمل کا سب سے اہم مرحلہ، یعنی نتائج کی تیاری اور ووٹوں کے تحفظ کا عمل، شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں اور ووٹرز پر زور دیا کہ وہ انتخابی نتائج کے عمل پر گہری نظر رکھیں تاکہ عوامی مینڈیٹ کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ زمینی حقائق اور مختلف حلقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کو دیگر سیاسی جماعتوں پر واضح سبقت حاصل ہے۔ ان کے مطابق عوام نے بڑی تعداد میں تحریک انصاف کے امیدواروں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جس کے اثرات ابتدائی نتائج میں بھی دکھائی دے رہے ہیں۔
    ‎شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ انتخابات کے دوران کئی مقامات پر دیگر سیاسی جماعتوں کے پولنگ کیمپ غیر فعال یا خالی نظر آئے، جبکہ تحریک انصاف کے کارکن اور حامی متحرک رہے۔ انہوں نے کہا کہ موصول ہونے والے متعدد فارم 45 سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی مختلف حلقوں میں مضبوط پوزیشن میں ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی نتائج کا حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن کے سرکاری اعداد و شمار کے بعد ہی ہوگا، تاہم ابتدائی معلومات پی ٹی آئی کے حق میں مثبت رجحان کی نشاندہی کر رہی ہیں۔
    ‎واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے 24 حلقوں میں انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے دعوے کر رہی ہیں۔ حتمی اور سرکاری نتائج الیکشن کمیشن کی جانب سے مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔

  • "جب سے نتائج ملنا شروع ہوئے فارم 45 نہیں دیئے جا رہے،” پی پی رہنما قمر زمان کائرہ

    "جب سے نتائج ملنا شروع ہوئے فارم 45 نہیں دیئے جا رہے،” پی پی رہنما قمر زمان کائرہ

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ نے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے دوران سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
    ‎انتخابات پر ردعمل دیتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ بعض حلقوں میں پولنگ اسٹیشنوں کو دور دراز مقامات پر منتقل کیے جانے سے پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک متاثر ہوا۔ ان کے مطابق کئی پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابی عملہ مقررہ وقت پر نہیں پہنچا، جس کے باعث ووٹنگ کے عمل میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں اور ووٹرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو جان بوجھ کر سست روی کا شکار بنانا شفاف اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ الیکشن کمیشن کو تمام شکایات کا فوری نوٹس لے کر حقائق سامنے لانے چاہئیں تاکہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
    ‎قمر زمان کائرہ نے واضح کیا کہ جب تک تمام ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کر لیتے، انتخابی عملے کو پولنگ اسٹیشن چھوڑنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ تمام حلقوں میں انتخابی قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
    ‎دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے بھی انتخابی عمل پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا کہ پارٹی امیدواروں اور نمائندوں کو فارم 45 فراہم نہیں کیے جا رہے۔ ان کے مطابق بعض مقامات پر پارٹی نمائندوں کو نتائج حاصل کرنے سے روکنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔
    ‎نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس معاملے پر چیف الیکشن کمشنر سے رابطہ کر کے صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر انتخابی عمل پرامن ماحول میں مکمل ہوا، تاہم اب نتائج کے مرحلے میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا تنازع سے گریز کیا جانا چاہیے۔
    ‎انہوں نے زور دیا کہ الیکشن کمیشن فوری اور مؤثر کردار ادا کرے تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور ہوں اور انتخابی نتائج کی شفافیت پر کوئی سوال نہ اٹھ سکے۔

  • 
گلگت بلتستان انتخابات کی پولنگ مکمل، ووٹوں کی گنتی شروع

    
گلگت بلتستان انتخابات کی پولنگ مکمل، ووٹوں کی گنتی شروع

    ‎گلگت بلتستان اسمبلی کے 24 حلقوں میں عام انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ ووٹرز نے دن بھر اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا، جس کے بعد تمام پولنگ اسٹیشنز مقررہ وقت پر بند کر دیے گئے۔
    ‎انتخابی عمل صبح 8 بجے شروع ہوا اور بغیر کسی وقفے کے جاری رہا۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں قائم پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی آمد کا سلسلہ دن بھر جاری رہا، جہاں مرد اور خواتین ووٹرز نے انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیا۔
    ‎پولنگ کے اختتام کے بعد انتخابی عملے نے بیلٹ بکس اور دیگر انتخابی مواد کو محفوظ کرتے ہوئے ووٹوں کی گنتی کا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ الیکشن حکام کے مطابق نتائج موصول ہونے کے ساتھ ہی مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔
    ‎گلگت بلتستان کے ان انتخابات کو سیاسی لحاظ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ انتخابی مہم کے دوران ترقیاتی منصوبے، آئینی حقوق، روزگار، سیاحت اور بنیادی سہولیات اہم موضوعات رہے۔
    ‎سیکیورٹی کے پیش نظر حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار پورے انتخابی عمل کے دوران تعینات رہے تاکہ ووٹنگ پرامن ماحول میں مکمل ہو سکے۔
    ‎الیکشن کمیشن کے مطابق نتائج مرتب کرنے کا عمل شفاف طریقے سے جاری ہے اور حتمی سرکاری نتائج تمام حلقوں سے موصول ہونے کے بعد جاری کیے جائیں گے۔ سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی نظریں اب ووٹوں کی گنتی اور ابتدائی نتائج پر مرکوز ہیں۔
    ‎گلگت بلتستان کے عوام نے ایک بار پھر جمہوری عمل میں شرکت کرتے ہوئے اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے ووٹ کا حق استعمال کیا، جبکہ انتخابی نتائج صوبے کی آئندہ سیاسی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔

  • گلگت بلتستان میں  24 حلقوں میں پولنگ جاری

    گلگت بلتستان میں 24 حلقوں میں پولنگ جاری

    گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کی 24 عام نشستوں پرپولنگ کا عمل جاری ہے،پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا،جبکہ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی ہدایت پر الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون اور تصاویر یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے والے کسی بھی آلے کو ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق 24 حلقوں میں مجموعی طور پر 404 امیدوار مدِمقابل ہیں، جن میں 396 مرد اور 8 خواتین شامل ہیں پیپلز پارٹی کے 23 جبکہ مسلم لیگ (ن) کے 22 امیدوار ، استحکامِ پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11 اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 9 امیدوار شامل ہیں مجلس وحدت المسلمین کے 7، جما عت اسلامی اور ایم کیو ایم کے 6، 6 امیدوار انتخابی دوڑ میں شریک ہیں، جبکہ سب سے زیادہ 266 آزاد امیدوار بھی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے لیے گلگت بلتستان بھر میں 1389 پولنگ اسٹیشنز اور 2450 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں ان میں خواتین کے لیے 1112، مردوں کے لیے 1268 جبکہ 68 مشترکہ پولنگ بوتھ مختص کیے گئے ہیں جن میں 551 کو انتہائی حساس اور 349 کو حساس قرار دیا گیا ہے، 9 لاکھ 58 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مقامی پولیس، گلگت بلتستان اسکاؤٹس اور پنجاب پولیس کے اہلکار سیکیورٹی فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ مختلف انتخابی حلقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فلیگ مارچ بھی کیا ہے۔

    حلقہ جی بی اے-1 گلگت میں 23 امیدوار میدان میں ہیں، اس حلقے میں 47 ہزار 373 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں 25 ہزار 412 مرد اور 21 ہزار 961 خواتین ووٹرز شامل ہیں، یہاں 80 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں 49 انتہائی حساس اور 31 حساس ہیں۔ پولنگ کے شفاف انعقاد کے لیے 1300 پولنگ عملہ اور 550 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی اے-2 گلگت میں 40 امیدوار مدمقابل ہیں جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 55 ہزار 849 ہے، جن میں 29 ہزار 839 مرد اور 26 ہزار 10 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ اس حلقے میں 91 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں اور حساس مراکز پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی اے-3 گلگت میں امیدواروں کی تعداد سب سے زیادہ 122 ہے۔ یہاں 52 ہزار 161 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جن میں 27 ہزار 351 مرد اور 24 ہزار 810 خواتین شامل ہیں اس حلقے کے 82 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 16 انتہائی حساس اور 16 حساس قرار دیے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی 4 میں بھی 22 امیدوار مدمقابل ہیں، جہاں ن لیگ کے امتیاز حسین، پیپلز پارٹی کے علی اختر، اسلامی تحریک کے محمد ایوب اور آزاد امیدوار ڈاکٹر علی محمد کے درمیان مقابلہ ہے اور یہاں 60 پولنگ اسٹیشنز پر 29 ہزار 973 ووٹرز موجود ہیں۔

    حلقہ جی بی 5 میں 23 امیدوار آمنے سامنے ہیں، جہاں ن لیگ کے جاوید علی، پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد، اسلامی تحریک کے پرنس قاسم، ایم ڈبلیو ایم کے ریاض اکبر اور آزاد امیدوار وزیر جہانگیر کے درمیان دلچسپ مقابلہ ہے اور یہاں 32 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں۔

    حلقہ جی بی 6 میں 27 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے پرنس سلیم خان، پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نیک نام کریم مدمقابل ہیں، جہاں 89 پولنگ اسٹیشنز پر 52 ہزار 41 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

    حلقہ جی بی 7 میں 13 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے اکبر خان اور پیپلز پارٹی کے توقیر مہدی کے ساتھ ساتھ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال مقپون اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجہ محمد زکریا بھی قسمت آزما رہے ہیں۔

    حلقہ جی بی 8 میں 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے امتیاز حیدر، پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ اور ایم ڈبلیو ایم کے میثم کاظم کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر مقابلہ ہو رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 9 میں 12 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے، جس میں ن لیگ کے اجمل حسین، پیپلز پارٹی کے فدا محمد نوشاد اور آزاد امیدوار وزیر سلیم مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 10 میں 13 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے وزیر حسین، پیپلز پارٹی کے ناصر علی خان، استحکام پاکستان پارٹی کے وزیر محمد خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ڈاکٹر محمد شریف کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 11 میں 11 امیدوار آمنے سامنے ہیں جن میں ن لیگ کے محسن رضوی، پیپلز پارٹی کے اقبال حسن، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محسن زیدی اور آزاد امیدوار ڈاکٹر شجاعت میثم شامل ہیں۔

    حلقہ جی بی 12 میں 10 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جہاں ن لیگ کے طاہر شگری، پیپلز پارٹی کے عمران ندیم، اسلامی تحریک کے راجا اعظم خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حسن شگری میدان میں ہیں۔

    حلقہ جی بی 13 میں 13 امیدواروں کے درمیان جنگ ہے جس میں ن لیگ کے رانا فرمان علی، پیپلز پارٹی کے فہد حنیف اور پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ شاہدہ خورشید مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 14 میں 33 امیدوار میدان میں ہیں جہاں ن لیگ کے رانا محمد فاروق اور پیپلز پارٹی کے سید محمد عباس کے درمیان 49 پولنگ اسٹیشنز پر بڑا مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 15 میں 20 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالواجد، پیپلز پارٹی کے بشیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نوشاد عالم کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 16 میں 14 امیدوار مدمقابل ہیں جن میں ن لیگ کے انجینئر محمد انور، پیپلز پارٹی کے عطا اللہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سید عابد اقبال شامل ہیں۔

    حلقہ جی بی 17 میں بھی 14 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ڈاکٹر محمد زمان، پیپلز پارٹی کے محمد وسیم اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ حاجی کمان خان مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 18 میں 10 امیدوار میدان میں ہیں لیکن یہاں ن لیگ کے ملک کفایت الرحمٰن، استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ محمد ایوب قریشی کے درمیان اہم مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 19 میں 9 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے ظفر محمد شادم خیل، پیپلز پارٹی کے جلال علی شاہ، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ شیر اعظم خان اور آزاد امیدوار نواز خان ناجی مدمقابل ہیں۔

    حلقہ جی بی 20 میں 17 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ کے عبدالجہان خان، پیپلز پارٹی کے نذیر احمد اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ندیم رفیق کے درمیان مقابلہ ہے۔

    حلقہ جی بی 21 میں 20 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جس میں ن لیگ کے غلام محمد، پیپلز پارٹی کے محمد ایوب شاہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجا جہانزیب آمنے سامنے ہیں۔

    حلقہ جی بی 22 میں سب سے کم یعنی صرف 7 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں ن لیگ کے محمد ابراہیم اور پیپلز پارٹی کے عاشق حسین کے درمیان 57 پولنگ اسٹیشنز پر براہِ راست مقابلہ دیکھا جا رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 23 میں 10 امیدوار ہیں جہاں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے روایتی مقابلوں کے برعکس پیپلز پارٹی کی خاتون امیدوار آمنہ بی بی کا مقابلہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ عبدالرحیم اور دو آزاد امیدواروں حاجی انور اور حاجی عبدالحمید سے ہو رہا ہے۔

    حلقہ جی بی 24 میں 6 امیدوار میدان میں ہیں اور یہاں پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ صداقت حسین اور آزاد امیدوار ڈاکٹر اسد شفیق کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔

    ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ووٹرز کو محفوظ ماحول فراہم کرنے اور شفاف، آزادانہ و پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ عوام بلا خوف و خطر اپنا جمہوری حق استعمال کر سکیں۔

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی ہدایت پر الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون اور تصاویر یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے والے کسی بھی آلے کو ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    جاری کردہ احکامات کے مطابق پولنگ اسٹیشنز کے اندر انتخابی عملہ، امیدوار، پولنگ ایجنٹس اور ووٹرز موبائل فون نہیں لے جا سکیں گے۔ یہ اقدام ووٹ کی رازداری کے تحفظ اور انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے منظور شدہ میڈیا نمائندگان اور مبصرین اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے چیف الیکشن کمشنر نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹر ننگ افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    گلگت میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے حامیوں میں ہاتھا پائی اور تلخ کلامیا

    گلگت کے ایک پولنگ اسٹیشن پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھ پائی ہوئی ہےگلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے سلسلے میں سکردو کے حلقہ GBA-9 میں پولنگ کا عمل جاری ہے، تاہم گلگت میں سر سید اسکول پولنگ اسٹیشن کے باہر مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حامیوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے صورتحال پر قابو پا لیا۔

    دوسری جانب استور کے عیدگاہ فیمیل پولنگ اسٹیشن پر شدید بدنظمی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، ووٹرز نے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے الزاما ت عائد کر دیے، مبینہ طور پر اپنی مرضی کے ٹھپے لگائے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں متعلقہ انتخابی حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پولنگ کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور انتخابی عمل پرامن انداز میں جاری ہے-

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے کہا ہے کہ عوام پرامن طریقے سے انتخابات کوانجام تک پہنچائیں۔

    مختلف پولنگ اسٹیشنز کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ شہباز خان نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے بلا تعطل جاری ہے اور مختلف پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آ رہی ہے عوام انتخابی عمل میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں جبکہ لیڈیز پولنگ اسٹیشنز پر خواتین ووٹرز کی بڑی تعداد بھی ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے پہنچ رہی ہےووٹرز کی سہولت اور سیکیورٹی کے پیش نظر بہترین انتظامات کیے گئے ہیں اور انتخابی عمل کو شفاف، آزادانہ اور پرامن ماحول میں یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    چیف الیکشن کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن انداز میں انتخابی عمل کو کامیاب بنائیں اور جمہوری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں اور علاقے کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔