Baaghi TV

Category: گلگت بلتستان

  • 
ن لیگ کا گلگت بلتستان کو این ایف سی ایوارڈ میں حصہ دینے کا وعدہ

    
ن لیگ کا گلگت بلتستان کو این ایف سی ایوارڈ میں حصہ دینے کا وعدہ

    ‎پاکستان مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان کے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ اقتدار میں آنے کی صورت میں خطے کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں حصہ دلانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ پارٹی کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے اسکردو میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا۔
    ‎خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ گلگت بلتستان قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے اور یہاں کے عوام کو ان وسائل کے ثمرات ملنے چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کے درمیان اس بات پر اتفاق ہونا چاہیے کہ قومی سرمایہ کاری کو کس طرح مؤثر بنایا جائے اور مختلف علاقوں کے وسائل کو عوامی فلاح کے لیے کیسے استعمال کیا جائے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے سابقہ ادوار میں گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے متعدد اقدامات کیے اور سڑکوں سمیت بنیادی ڈھانچے کے کئی منصوبے شروع کیے تھے۔ ان کے مطابق اگر پارٹی کو دوبارہ عوام کا اعتماد حاصل ہوا تو گلگت بلتستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مزید جامع منصوبے متعارف کرائے جائیں گے۔
    ‎خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں ملک بھر میں سب سے زیادہ ترقیاتی کام ہوئے اور مستقبل میں بھی پارٹی عوامی خدمت کے اسی سفر کو جاری رکھے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ این ایف سی ایوارڈ میں گلگت بلتستان کا حصہ یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوشش کی جائے گی تاکہ خطے کو مالی وسائل کی منصفانہ فراہمی ممکن ہو سکے۔
    ‎انہوں نے علاقے میں توانائی کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں قدرتی وسائل کی کوئی کمی نہیں۔ یہاں چشمے، آبشاریں اور ندی نالے موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود کئی علاقوں میں بجلی کی قلت برقرار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پن بجلی کے منصوبوں، سولر سسٹمز اور متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دے کر اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
    ‎جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنے مستقبل کے فیصلے سوچ سمجھ کر کرنے ہوں گے تاکہ خطے کی ترقی، روزگار کے مواقع اور بنیادی سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان انتخابات کے قریب آتے ہی مختلف سیاسی جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے ترقیاتی وعدے اور سیاسی پروگرام پیش کر رہی ہیں، جن میں این ایف سی ایوارڈ اور علاقائی ترقی کے معاملات نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔

  • 
بلاول بھٹو نے جی بی عوام سے فارم 45 کے تحفظ کی اپیل کر دی

    
بلاول بھٹو نے جی بی عوام سے فارم 45 کے تحفظ کی اپیل کر دی

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ووٹ اور انتخابی نتائج کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور اس بار فارم 45 کے حصول اور حفاظت پر خصوصی توجہ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ موجودہ حالات میں ان کے حقوق اور مفادات کی مؤثر نمائندگی کون کر سکتا ہے۔
    ‎گلگت میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کے لیے مسلسل جدوجہد کرتی رہی ہے اور اس بار کسی کو بھی عوامی مینڈیٹ پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ انتخابات میں عوام کے ووٹ کا احترام نہیں کیا گیا تھا، اس لیے اس مرتبہ ووٹرز کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
    ‎پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ خطے کے موجودہ چیلنجز اور قومی حالات میں کون سی سیاسی قوت ان کی بہتر نمائندگی کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی نے ہمیشہ گلگت بلتستان کے عوام کی آواز بلند کی ہے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔
    ‎بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی خدمات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے جبکہ بے نظیر بھٹو نے ملکی دفاعی صلاحیتوں میں مزید بہتری لانے کے اقدامات کیے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کے دور میں پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی بنیاد رکھی گئی، جو توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
    ‎علاقائی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ خطہ اس وقت کشیدہ حالات سے گزر رہا ہے اور امن کی کوششوں کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری سفارتی اور سیاسی کوششیں کامیاب ہوں گی، جس سے عوام کو بھی ریلیف ملے گا اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

  • بلاول  کی ننھے یوٹیوبر شیراز اور مسکان سے ملاقات

    بلاول کی ننھے یوٹیوبر شیراز اور مسکان سے ملاقات

    گلگت بلتستان میں انتخابی سرگرمیوں کے سلسلے میں موجود پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے معروف ننھے یوٹیوبر شیراز اور ان کی بہن مسکان سے ملاقات کی، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔

    ملاقات کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے شیراز سے خوشگوار گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کراچی سے ان کے ویڈیوز دیکھتے اور انہیں فالو کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے شیراز کو اپنا بڑا مداح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے مل کر انہیں بے حد خوشی ہوئی ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے شیراز کی سماجی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ان کا سوشل میڈیا باقاعدگی سے دیکھتے ہیں اور یہ جان کر خوشی ہوتی ہے کہ کم عمری کے باوجود شیراز نہ صرف محنت سے شہرت حاصل کر رہے ہیں بلکہ اپنے علاقے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شیراز نے اپنے علاقے میں پانی کی فراہمی اور تعلیمی سہولیات کی بہتری کے لیے قابلِ تعریف اقدامات کیے ہیں، جو دوسروں کے لیے بھی ایک مثال ہیں۔

    اس موقع پر انہوں نے اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام سے خصوصی محبت رکھتے تھے اور انہوں نے علاقے کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے نمایاں خدمات انجام دی تھیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جس طرح ان کے بزرگوں نے گلگت بلتستان کے عوام کی خدمت کی، وہ بھی اسی روایت کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور اگر موقع ملا تو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مزید اقدامات کریں گے۔

  • 
بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان میں بھاری مینڈیٹ مانگ لیا

    
بلاول بھٹو نے گلگت بلتستان میں بھاری مینڈیٹ مانگ لیا

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام سے بھرپور حمایت اور بھاری مینڈیٹ کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گلگت بلتستان کی آواز کو قومی سطح پر مؤثر انداز میں اٹھانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایسا مینڈیٹ درکار ہے تاکہ اسلام آباد جا کر گلگت بلتستان کے حقوق اور مطالبات کو بھرپور انداز میں پیش کر سکیں۔
    ‎غذر کے علاقے گاہکوچ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کے لیے بھاری اکثریت چاہتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کئی نشستیں چھین لی گئی تھیں، تاہم اس بار عوام پارٹی پر اعتماد کا اظہار کریں گے۔
    ‎پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے غذر کو ضلع کا درجہ دیا تھا جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کو سیاسی شناخت فراہم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور گلگت بلتستان کے عوام کا تعلق کئی نسلوں پر محیط ہے اور یہ رشتہ مستقبل میں بھی مضبوط رہے گا۔
    ‎بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں حق ملکیت کے مسئلے کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام کو زمینوں کے مکمل مالکانہ حقوق ملیں۔ ان کے مطابق اگر پیپلز پارٹی کو عوامی حمایت حاصل ہوئی تو قانون ساز اسمبلی کے ذریعے حق ملکیت سے متعلق قانون سازی کو یقینی بنایا جائے گا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ قابل کاشت زمین کو عوام میں تقسیم کرنے اور مقامی لوگوں کو زمین کا مالک بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کی صورت میں عوامی فلاح، روزگار اور بنیادی سہولیات کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔
    ‎بلاول بھٹو زرداری نے روزگار، صحت اور سیاحت کے شعبوں میں بھی متعدد وعدے کیے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر یقین رکھتی ہے جبکہ مفت علاج کی سہولیات کو بھی وسعت دی جائے گی۔ ان کے مطابق پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت گلگت بلتستان کو سیاحت کا ایک بڑا مرکز بنایا جا سکتا ہے۔
    ‎انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انتخابات میں اپنے مستقبل اور اپنے حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو خطے کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

  • 
گلگت بلتستان میں تعلیمی ادارے دو روز کے لیے بند

    
گلگت بلتستان میں تعلیمی ادارے دو روز کے لیے بند

    ‎گلگت بلتستان حکومت نے عام انتخابات کے انتظامات کے پیش نظر تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں دو روزہ تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت جمعہ اور ہفتہ کے روز صوبے بھر کے سرکاری اسکول، کالج اور دیگر تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔
    ‎چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کے مطابق یہ فیصلہ اتوار کو ہونے والے عام انتخابات کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صوبے کے بیشتر سرکاری تعلیمی اداروں کو پولنگ اسٹیشنز اور انتخابی عملے کے مراکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے باعث تدریسی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کی گئی ہیں۔
    ‎انتظامیہ کے مطابق تعطیلات کے دوران انتخابی سامان کی ترسیل، پولنگ اسٹیشنز کی تیاری اور سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دی جائے گی۔ الیکشن ڈیوٹی پر مامور عملے کی تعیناتی اور دیگر انتظامی امور بھی اسی عرصے میں مکمل کیے جائیں گے۔
    ‎دوسری جانب گلگت بلتستان میں اتوار کو ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کی جانب سے انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے، جبکہ ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے جلسے، کارنر میٹنگز اور عوامی رابطہ مہمات جاری ہیں۔
    ‎ادھر بعض سیاسی رہنماؤں نے انتخابات کے شفاف انعقاد پر زور دیا ہے۔ اس حوالے سے سیاسی رہنما حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات کو مکمل طور پر غیر جانبدار، آزادانہ اور منصفانہ بنایا جائے تاکہ عوام کا اعتماد انتخابی عمل پر برقرار رہے۔
    ‎انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ ووٹنگ کے عمل کو شفاف اور محفوظ بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حساس پولنگ اسٹیشنز پر اضافی سکیورٹی تعینات کی جائے گی جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی مکمل طور پر الرٹ رہیں گے۔
    ‎عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات خطے کی سیاسی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے، اس لیے ضروری ہے کہ انتخابی عمل پرامن، شفاف اور منظم انداز میں مکمل ہو۔

  • گلگت بلتستان الیکشن کو پنجاب سے مینج کرنیکی کوشش کی جا رہی ہے۔حسن مرتضیٰ

    گلگت بلتستان الیکشن کو پنجاب سے مینج کرنیکی کوشش کی جا رہی ہے۔حسن مرتضیٰ

    پیپلز پارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان الیکشن کو پنجاب سے مینج کرنیکی کوشش کی جا رھی ہے۔

    حسن مرتضی کا کہنا تھا کہ مخالفین انتخابی نتائج تبدیل کرنے کی سوچ میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ پنجاب اور اسلام اباد سے اضافی پولیس نفری گلگت بلتستان پہنچائی جا رہی ہے، ہر حلقے میں مختلف جماعتیں مقابلے پر ہیں مگر مرکزی قوت پیپلز پارٹی ہے۔عوامی حمایت ثابت کر رہی ہے کہ پیپلز پارٹی جی بی میں مضبوط سیاسی قوت ہے،چیئرمین بلاول بھٹو اور آصفہ بی بی کے بھر پور جلسوں نے مخالفین کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ہمارے جلسوں میں عوام کے جم غفیر نے ثابت کر دیا ہے کہ آئندہ حکومت پی پی پی بنائیگی۔شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے پیپلز پارٹی کی جڑیں گلگت بلتستان میں مضبوط ہیں،پیپلز پارٹی نے جی بی کے عوام کو حقوق اور شناخت دی،پیپلز پارٹی 7جون کو عوام کے ووٹ کا ہر قیمت پر تحفظ کریگی ۔گلگت بلتستان الیکشن کمشن منصفانہ،غیر جانبدرانہ اور آزادنہ الیکشن یقینی بنائے ،

  • گلگت بلتستان میں صرف تیر چلے گا،  شازیہ مری

    گلگت بلتستان میں صرف تیر چلے گا، شازیہ مری

    مرکزی ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز شازیہ مری نے کہا ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انتخابی مہم میں واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہی گلگت بلتستان کے مسائل کا حقیقی حل رکھتی ہے،

    شازیہ مری کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی غریب دشمن سیاست نہیں بلکہ عوامی خدمت، معاشی انصاف اور ترقی کے منشور پر یقین رکھتی ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نوجوانوں کو بااختیار بنا کر گلگت بلتستان کی تقدیر بدلنے کے لیے پُرعزم ہیں،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر پہلا حق وہاں کے عوام کا ہے،چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی تحفظ، حقِ ملکیت، حقِ حاکمیت اور حقِ روزگار کی ضمانت دی ہے،پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو ترقی، روزگار، صحت اور جدید انفراسٹرکچر کی نئی راہوں پر گامزن کرے گی،شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور صدر آصف علی زرداری نے عوامی حقوق کے لیے تاریخی جدوجہد کی، دیامیر بھاشا ڈیم قومی سلامتی اور آبی تحفظ کا اہم منصوبہ ہے، وفاق فوری طور پر اس پر تیز رفتار کام یقینی بنائے، پیپلز پارٹی نے سندھ میں لاکھوں خاندانوں کو گھر، صحت اور فلاحی سہولیات فراہم کیں، یہی ماڈل گلگت بلتستان میں بھی متعارف کرایا جائے گا، پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کے بعد گلگت بلتستان میں عالمی معیار کے صحت کے ادارے اور مفت علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں گی، گلگت بلتستان کے غیرت مند عوام خرید و فروخت کی سیاست کو مسترد اور تیر کے نشان کو کامیاب بنائیں گے،گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگا کر ترقی، روزگار اور عوامی حقوق کے سفر کو آگے بڑھائیں گے، جون کو عوامی طاقت، ترقی اور امید کی جیت ہوگی، گلگت بلتستان میں صرف تیر چلے گا،

  • اپنے حلقے سے ہارنے والے گلگت میں ووٹ مانگنے آ گئے،بیرسٹر گوہر

    اپنے حلقے سے ہارنے والے گلگت میں ووٹ مانگنے آ گئے،بیرسٹر گوہر

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ جو اپنے حلقے ہار گئے وہ جی بی کے لوگوں سے ووٹ مانگنے آئے ہیں۔

    گلگت بلتستان میں کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ جی بی کے خود دار لوگ ان کو اور ان کے نظریے کو ریجیکٹ کریں گے، تحریک انصاف کو الیکشن مہم نہ کرنے دینا پری پول دھاندلی ہے، بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ لیڈرز اور ایم این ایز کو روکنا، صوبہ بدر کرنا خلاف آئین ہے، یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہے، ان کی 4 سال کی کارکردگی یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ الیکشن جیت جائیں،عوام ان کے دھوکے میں نہیں آئیں گے، پی ٹی آئی کی آئیسولیشن ختم نہ کی گئی تو فیصلہ کریں گے کیوں نہ اسمبلیوں کا بائیکاٹ کریں، تحریک انصاف کی آئیسولیشن ختم نہ کی گئی تو فیصلہ کریں گے کہ سسٹم سے باہر ہو جائیں

  • 
گلگت بلتستان میں 22 سال بعد بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری

    
گلگت بلتستان میں 22 سال بعد بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری

    ‎گلگت بلتستان میں دو دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان شہباز خان نے بلدیاتی انتخابات کا باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا ہے، جس کے تحت انتخابات 2 اگست 2026 کو منعقد ہوں گے۔
    ‎جاری کردہ انتخابی شیڈول کے مطابق امیدوار 9 جون سے 15 جون تک اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا سکیں گے۔ انتخابی عمل کے مختلف مراحل طے شدہ شیڈول کے مطابق مکمل کیے جائیں گے تاکہ مقررہ تاریخ پر ووٹنگ کا انعقاد یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎چیف الیکشن کمشنر شہباز خان نے کہا ہے کہ انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام ضروری انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہا ہے تاکہ عوام کا اعتماد انتخابی عمل پر برقرار رہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں 22 سال بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک اہم جمہوری پیش رفت ہے، جس سے مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور نچلی سطح پر عوامی نمائندگی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ بلدیاتی ادارے عوامی مسائل کے حل اور مقامی ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے اعلان کے بعد خطے میں سیاسی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے انتخابی مہم کی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے جبکہ عوامی سطح پر بھی اس عمل کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
    ‎شیڈول کے اجرا کے بعد امیدواروں اور سیاسی کارکنوں نے رابطہ مہم تیز کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات مقامی مسائل کو مقامی سطح پر حل کرنے اور عوام کو فیصلہ سازی کے عمل میں شریک کرنے کے لیے نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔
    ‎گلگت بلتستان کے عوام امید کر رہے ہیں کہ بلدیاتی اداروں کی بحالی سے ترقیاتی کاموں میں تیزی آئے گی، بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر ہوگی اور مقامی آبادی کو اپنے نمائندوں کے ذریعے مسائل کے حل کا مؤثر موقع ملے گا۔

  • 
تانگیر مسلم لیگ ن کی انتخابی ریلی میں فائرنگ، نوجوان جاں بحق

    
تانگیر مسلم لیگ ن کی انتخابی ریلی میں فائرنگ، نوجوان جاں بحق

    گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے حلقہ جی بی اے 18 تانگیر میں مسلم لیگ ن کی انتخابی ریلی کے دوران فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں ایک نوجوان جاں بحق جبکہ تین افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا پھیل گئی اور انتظامیہ نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
    ‎پولیس حکام کے مطابق انتخابی ریلی کے دوران ہوائی فائرنگ کی جا رہی تھی کہ اچانک گولیاں شرکاء کو لگ گئیں۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا۔
    ‎ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ مبینہ طور پر اس وقت پیش آیا جب ایک شخص کے ہاتھ سے بندوق پھسل گئی، جس کے باعث گولیاں بے قابو ہو کر مجمع میں موجود افراد کو لگیں۔ پولیس نے واقعے کی مکمل چھان بین شروع کر دی ہے تاکہ ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے۔
    ‎گلگت بلتستان کے ہوم سیکرٹری فیصل احسن پیرزادہ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی اور ایس پی کو فوری انکوائری کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
    ‎ہوم سیکرٹری نے مزید بتایا کہ انتخابی مہم کے دوران سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے سیاسی کارکنوں اور عوام سے اپیل کی کہ انتخابی سرگرمیوں کے دوران قانون کی پابندی کریں اور اسلحے کی نمائش یا ہوائی فائرنگ سے گریز کریں۔
    ‎سیاسی و سماجی حلقوں نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتخابی اجتماعات میں اسلحے کے استعمال پر مؤثر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوری سرگرمیوں کو پرامن ماحول میں منعقد ہونا چاہیے تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔