Baaghi TV

Category: گلگت بلتستان

  • گلگت بلتستان: لگت کے دنیور نالہ میں لینڈ سلائیڈنگ، 8 رضاکار جاں بحق

    گلگت بلتستان: لگت کے دنیور نالہ میں لینڈ سلائیڈنگ، 8 رضاکار جاں بحق

    گلگت بلتستان کے علاقے لگت کے دنیور نالہ میں شدید لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 8 مقامی رضاکار ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئے ہیں۔

    پولیس اور مقامی حکام کے مطابق یہ رضاکار سیلاب سے متاثرہ واٹر چینل کی بحالی کے کام میں مصروف تھے کہ اچانک مٹی کا تودہ گر گیا، جس کے نتیجے میں یہ حادثہ پیش آیا۔اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں کے علاوہ کئی افراد ابھی بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جن کی بازیابی کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ اس حادثے میں زخمی ہونے والے 3 افراد کو قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ حادثے کے بعد تمام قریبی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

    صوبائی حکومت کے ترجمان نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلیاں اور گلیشیئر کے پگھلنے کا سلسلہ تیز ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شیشپر نالے میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کی وجہ سے سیلاب آیا ہے جس نے نہ صرف آبادیوں کی زمینوں کو نقصان پہنچایا بلکہ قریبی زرعی اراضی اور درخت بھی بہا لیے ہیں۔

    مزید برآں، سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے قراقرم ہائی وے شدید متاثر ہوئی ہے اور شاہراہ ہنزہ ایک بار پھر بند ہو گئی ہے۔ صوبائی حکومت نے ہنزہ کے لیے ٹریفک کو نگر کے روڈ سے گزارنے کی ہدایت کی ہے تاکہ مسافروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ موسمیاتی حالات اور حفاظتی ہدایات کا خیال رکھیں اور حکام کی جانب سے جاری کردہ انتباہات پر عمل کریں تاکہ مستقبل میں ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔

  • بابو سرٹاپ حادثہ، سرچ آپریشن ختم، لاپتہ افراد کی غائبانہ نماز جنازہ ادا

    بابو سرٹاپ حادثہ، سرچ آپریشن ختم، لاپتہ افراد کی غائبانہ نماز جنازہ ادا

    گلگت بلتستان میں بابو سرٹاپ کے مقام پر سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے 10 افراد کی تلاش 14 روز بعد ختم کر دی گئی، جبکہ غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔

    ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران تمام متاثرہ گاڑیاں ملبے سے نکال لی گئیں تاہم لاپتہ افراد کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔فیض اللہ فراق کا کہنا تھا کہ بچنے کی تمام امیدیں ختم ہوچکی ہیں، جس کے بعد سرچ آپریشن باضابطہ طور پر روک دیا گیا ہے اور غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی ہے۔

    یہ افسوسناک واقعہ بابو سرٹاپ کے مقام پر پیش آیا تھا، جہاں سیلابی ریلے نے کئی افراد اور گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ حکومتی اداروں اور ریسکیو ٹیموں نے مسلسل دو ہفتے تک سرچ آپریشن جاری رکھا۔

    کراچی ایئرپورٹ کے نئے رن وے پر کام شیڈول سے پہلے مکمل

    روسی تیل کی خریداری،ٹرمپ کی بھارت کو ٹیرف بڑھانے کی دھمکی

    یوم شہدائے پولیس، سندھ اسمبلی کا پولیس کو خراج عقیدت

    پنجاب میں گاڑی کا نمبر اب مالک کے نام پر جاری ہوگا

  • وزیرِ اعظم  شہباز شریف گلگت پہنچ گئے

    وزیرِ اعظم شہباز شریف گلگت پہنچ گئے

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت پہنچ گئے

    گلگت پہنچنے پر گلگت بلتستان کے گورنر سید مہدی شاہ اور وزیرِ اعلی گلبر خان نے وزیر اعظم کا استقبال کیا. وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیرِ امور برائے کشمیر و گلگت بلتستان انجینئیر امیر مقام، وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ اور وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر شبیر عثمانی بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہیں. وزیرِ اعظم گلگت میں بارشوں و سیلاب کے متاثرین سے ملاقات کریں گے اور امدادی رقوم تقسیم کریں گے.

    وزیر اعظم کو گلگت بلتستان میں حالیہ بارشوں کے نتیجے میں نقصانات کے حوالے سے بریفنگ دی جائے گی. وزیر اعظم گورنر و وزیرِ اعلی گلگت بلتستان سے بھی ملاقات کریں گے.

  • گلگت بلتستان، گلیشیئر پھٹنے سے باپ بیٹا گہری کھائی میں جا گرے

    گلگت بلتستان، گلیشیئر پھٹنے سے باپ بیٹا گہری کھائی میں جا گرے

    گلگت بلتستان کے خوبصورت مگر قدرتی آفات سے متاثرہ علاقے وادی بگروٹ میں شدید واقعہ پیش آیا ہے جہاں گلیشیئر پھٹنے کے باعث ایک باپ اور اس کا بیٹا گہری کھائی میں جا گرے۔ مقامی انتظامیہ نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر ریسکیو ٹیمیں روانہ کر دی ہیں تاکہ زخمیوں کو تلاش کر کے بچایا جا سکے۔

    ادھر ضلع دیامر کے علاقے کھنبری میں بھی مسلسل بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ شدید سیلاب کی وجہ سے فصلیں، زمینداروں کی زمینیں اور واٹر چینلز شدید نقصان سے دوچار ہوئے ہیں، جس سے مقامی کاشتکاروں کی معاشی حالت مزید متاثر ہوئی ہے۔مزید برآں، شاہراہ بابوسر پر لاپتا سیاحوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن مسلسل جاری ہے جو 11 ویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ خاص طور پر نجی ٹی وی کی خاتون اینکر اور ان کا خاندان اب تک لاپتا ہیں جس کی وجہ سے انہیں ڈھونڈنے کے لیے خصوصی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

    گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے بتایا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور سیلابی بحران سے نمٹنے اور متاثرین کی بحالی کے لیے وفاقی حکومت کی فوری توجہ اور امداد درکار ہے تاکہ صوبے کو اس آفت سے جلد از جلد نکالا جا سکے۔مقامی لوگ اور انتظامیہ مل کر ریسکیو اور امدادی کاموں میں مصروف ہیں تاکہ جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔ تاہم شدید بارشیں اور خراب موسمی حالات امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

  • گلگت بلتستان حکومت نے 37 دیہاتوں کو آفت زدہ قرار دے دیا

    گلگت بلتستان حکومت نے 37 دیہاتوں کو آفت زدہ قرار دے دیا

    گلگت بلتستان حکومت نے سیلابی تباہی سے دوچار 8 اضلاع کے 37 دیہاتوں کو آفت زدہ قرار دے دیا۔

    جعمرات کے روز محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق آفت زدہ قرار دیے جانے والے علاقوں میں گلگت کے 9 ،دیامر 12 ،غذر 5، اسکردو 4، گانچھے 2، شگر 3، نگر اور کھرمنگ ضلعے کے ایک ایک گاؤں کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے۔

    نوٹفیکیشن کے مطابق جن علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا ہے ان میں انسانی جانوں کے نقصانات کے ساتھ گھروں اور فصلوں کے ساتھ انفر ا اسٹرکچر کی تباہی ہوئی ہے، اس بنیاد پر 8 اضلاع کے 3 درجن مقامات کو حاصل اختیارات کے تحت حکومت نے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا ہے۔

    نواز شریف اور مریم نواز سے سعودی سفیر کی ملاقات

    گلگت بلتستان حکومت نے 20 جولائی سے قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 15 سے 20 ارب روپے بتایا ہے جبکہ اب تک 10 افراد جاں بحق ہوئے ہیں اور ایک درجن افراد لاپتہ ہیں، اور سیلاب میں سیاحوں سمیت مقامی لوگوں کی 20 سے زائد گاڑیاں بھی سیلاب میں بہہ گئی ہیں،گلگت بلتستان حکومت نے سیلاب سے ہونے والے مالی و جانی نقصانات کے تناظر میں ندی نالوں اور دریا کے کناروں کو ناجائز طور پر قبضہ کر کے مکانات اور عمارتیں بنانے والے افراد کو سیلاب نقصانات کے معاوضے نہ دینے اور مسقبل میں اسکی روک تھام کے لیے قانون سازی کا اعلان کر دیا ہے،گلگت بلتستان میں سیلاب نقصانات کے جائزے کے لیے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے رابطے پر وزیر اعظم چار اگست کا دودہ کریں گے

    وفاقی کابینہ نے افغانستان کے ساتھ تجارتی ٹیرف میں رعایتوں کی منظوری دےدی

  • گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ: جرمن کوہ پیما لورا ڈاہلمائر وفات پا گئیں

    گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ: جرمن کوہ پیما لورا ڈاہلمائر وفات پا گئیں

    گلگت بلتستان، گزشتہ چند روز قبل گلگت بلتستان کے علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آکر زخمی ہونے والی جرمن کوہ پیما لورا ڈاہلمائر کا آج انتقال ہوگیا ہے۔ یہ افسوسناک خبر گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان نے تصدیق کی ہے۔

    بتایا جاتا ہے کہ 28 جولائی کو دو جرمن خواتین کوہ پیما، جن میں لورا ڈاہلمائر اور کروس مرینہ ایوا شامل تھیں، لیلیٰ پیک کی چوٹی سر کرنے کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کا شکار ہوئیں۔ اس حادثے میں کروس مرینہ ایوا کو گزشتہ روز ریسکیو کر کے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا، تاہم 31 سالہ لورا ڈاہلمائر لاپتہ تھیں۔ کئی روز کی تلاش کے بعد ان کے انتقال کی تصدیق کی گئی ہے۔لورا ڈاہلمائر جرمنی کی انتہائی کامیاب اور نامور ایتھلیٹس میں شمار کی جاتی تھیں۔ انہوں نے 2018 کے پیونگ چانگ ونٹر اولمپکس میں دو طلائی تمغے جیتے تھے اور مجموعی طور پر 7 عالمی چیمپئن شپ ٹائٹل حاصل کیے تھے، جو ان کی کھیلوں میں مہارت اور کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کی زندگی اور خدمات کو عالمی کھیلوں کی دنیا میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    گلگت بلتستان کی حکومت اور مقامی انتظامیہ نے لورا ڈاہلمائر کے انتقال پر گہرا دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور ان کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات مزید مضبوط کریں گے تاکہ سیاحوں اور کوہ پیماوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • سیلاب میں لاپتہ خاتون اینکر کی گاڑی ملبے سے برآمد

    سیلاب میں لاپتہ خاتون اینکر کی گاڑی ملبے سے برآمد

    گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں تباہ کن سیلاب کے دوران لاپتہ ہونے والی نجی ٹی وی چینل کی اینکر پرسن شبانہ لیاقت کی گاڑی بابوسر کے مقام پر ملبے سے مل گئی، تاہم گاڑی میں کوئی فرد موجود نہیں تھا۔ متاثرہ فیملی سمیت دیگر لاپتہ افراد کی تلاش تاحال جاری ہے۔

    ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق کے مطابق، بابوسر ناران شاہراہ پر جاری سرچ آپریشن میں تیزی لائی گئی ہے۔ اب تک تقریباً 15 سیاح ریلے میں بہہ چکے ہیں، جن میں شبانہ لیاقت، ان کے شوہر لیاقت، اور چار بچے بھی شامل ہیں۔حکام کے مطابق، گاڑی کے ملبے سے ملنے کے بعد شبانہ لیاقت کا پرس بھی بابوسر تھک کے ایک مقامی رضاکار کو ملا ہے، جس میں ان کا شناختی کارڈ موجود تھا۔ یہ تفصیل لاپتہ فیملی کی شناخت کی تصدیق کرتی ہے۔

    ترجمان نے بتایا کہ شاہراہ بابوسر کو ایک ہفتے بعد جزوی طور پر بحال کر کے یکطرفہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، تاہم شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ریسکیو آپریشن میں پولیس، ضلعی انتظامیہ، گلگت بلتستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی، ریسکیو ادارے، سراغ رساں کتے اور ڈرونز حصہ لے رہے ہیں تاکہ لاپتہ افراد کا سراغ لگایا جا سکے۔

    یاد رہے کہ حالیہ طوفانی بارشوں کے نتیجے میں بابوسر تھک نالے میں سیلاب آنے سے 10 افراد جاں بحق اور کئی لاپتہ ہو گئے تھے، جس کے بعد سیاحتی مقام بابوسر میں ہر طرف تباہی کے مناظر دکھائی دے رہے ہیں۔

    9 مئی کیس: اعجاز چوہدری، احمد بھچر اور احمد چٹھہ نااہل، نشستیں خالی

    پنجاب اسمبلی ہنگامہ: ایوان سے احاطہ تک تصادم، دو اپوزیشن ارکان معطل

    پنجاب اسمبلی میں ہاتھا پائی: اپوزیشن رکن کا حکومتی رکن کو تھپڑ

  • بابوسر ٹاپ میں خیبر نیوز کی اینکر شبانہ اپنے شوہر اور چار بچوں سمیت لاپتہ

    بابوسر ٹاپ میں خیبر نیوز کی اینکر شبانہ اپنے شوہر اور چار بچوں سمیت لاپتہ

    بابوسر ٹاپ کے سیاحتی مقام پر خیبر نیوز کی معروف اینکر پرسن شبانہ اپنے شوہر لیاقت علی اور چار بچوں سمیت پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئی ہیں۔ یہ خاندان 21 جولائی کو سیاحت کے لیے بابوسر ٹاپ گیا تھا، جس کے بعد سے ان کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ لاپتہ افراد میں شبانہ، ان کے شوہر لیاقت علی، دو بیٹیاں ایمل اور ایمان، اور دو دیگر بچے شامل ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اہل خانہ کی گمشدگی کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد ریسکیو اداروں نے علاقے میں تلاش کا کام شروع کر دیا ہے۔ مشکل جغرافیائی حالات اور موسم کی خرابی کے باوجود سرچ آپریشن مسلسل جاری ہے۔ ریسکیو ٹیموں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی، ڈرونز، سراغ رساں کتوں اور مقامی گائیڈز کی مدد سے سرچ آپریشن کو تیز کیا جا رہا ہے۔

    ترجمان گلگت بلتستان حکومت، فیض اللہ فراق نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ دنوں میں دیامر کے علاقے میں آنے والے اچانک سیلابی ریلے کی وجہ سے ایک اور فیملی کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ترجمان کے مطابق ابتدائی معلومات کے مطابق لاپتہ ہونے والے چھ افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے اور انہیں آخری بار بابوسر ٹاپ کے قریب دیکھا گیا تھا۔”پولیس، ضلعی انتظامیہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، پاک فوج، جی بی اسکاؤٹس اور ریسکیو ٹیمیں مشترکہ طور پر سرچ آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ سیلابی پانی اور سخت موسم کی وجہ سے کارروائی میں دشواری کا سامنا ہے، تاہم ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔”

    مقامی عینی شاہدین کے مطابق، 10 سے 15 سیاح حالیہ دنوں میں شاہراہ بابوسر پر آنے والے اچانک سیلابی ریلوں میں بہہ گئے تھے۔ ان میں سے کچھ لاشیں برآمد ہو چکی ہیں جبکہ کئی افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ واضح رہے کہ چند روز قبل بھی اسی علاقے میں لودھراں سے پکنک منانے کے لیے آنے والی ایک فیملی حادثے کا شکار ہو گئی تھی۔ سیلابی ریلے میں بہہ کر 3 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جن میں ڈاکٹر مشعال فاطمہ، ان کا تین سالہ بیٹا عبد الہادی اور دیور فہد اسلام شامل تھے۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ تلاش کا عمل آئندہ چند روز تک جاری رکھا جائے گا اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ لاپتہ افراد کو جلد از جلد تلاش کیا جا سکے۔

  • چترال:48 گھنٹوں کے دوران 4 افراد کی خود کشی

    چترال:48 گھنٹوں کے دوران 4 افراد کی خود کشی

    چترال میں گزشتہ 2 دنوں کے دوران 3 خواتین سمیت 4 افراد نے مبینہ طور پر خودکشی کرلی، تمام افراد نے دریا میں چھلانگ لگا کر خودکشی کی۔

    پولیس،کاکہناہےکہ،ایک نو عمر لڑکی نے چیو بازار کے علاقے میں دریا میں چھلانگ لگا دی، بعد ازاں اس کی لاش دریا سے نکالی گئی اور پوسٹ مارٹم کے بعد والدین کے حوالے کر دی گئی،سب ڈویژنل پولیس افسر (سٹی سرکل) سجاد حسین نے بتایا کہ متوفیہ کے والدین اپر چترال کی تحصیل موڑکھو سے ہجرت کر کے چترال ٹاؤن کے سنگور گاؤں منتقل ہوئے تھے لڑکی کی خودکشی کی فوری وجہ معلوم نہیں ہو سکی، تاہم پولیس نے واقعے کی حقیقت جاننے کے لیے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 174 کے تحت تفتیش شروع کر دی ہے۔

    دوسرے واقعے میں، اپر چترال کے لاسپور وادی کے گاؤں رمن سے تعلق رکھنے والے ایک نو بیاہتا نوجوان، زار نبی نے دریا میں چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیاسب ڈویژنل پولیس افسر مستوج شیر راجہ، نے اس واقعے کی تصدیق کی اور بتایا کہ متوفی کی شادی تین روز قبل ہوئی تھی، انہوں نے کہا کہ لاش کی تلاش جاری ہے۔

    ملک کا حال برا ہو تو میرا حال بھی برا ہو جاتا ہے، انور مقصود

    انہوں نے بتایا کہ مستوج میں ایک اور واقعے میں، نِسور گول کی ایک شادی شدہ خاتون نے دریا میں کود کر اپنی جان لے لی، اس کی لاش بعد میں بازیاب کر لی گئی پولیس نے دونوں واقعات میں وجوہات جاننے کے لیے تفتیش شروع کر دی ہے۔

    ایک اور واقعے میں، اپر چترال کے موڑکھو علاقے کے گاؤں کوشت کی جماعت نہم کی ایک طالبہ نے بھی اسی انداز میں خودکشی کی، اس کی لاش ابھی تک برآمد نہیں ہو سکی،متوفیہ اسلام آباد کے ایک اسکول میں زیر تعلیم تھی اور گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے والدین کے ساتھ گاؤں آئی ہوئی تھی۔

    معروف ماڈل نے فلم پریمیئر پر پروڈیوسر کو چپل دے ماری

  • سانحہ سوات کی انکوائری رپورٹ میں پولیس کی سنگین غفلتوں اور لاپروائی کا انکشاف

    سانحہ سوات کی انکوائری رپورٹ میں پولیس کی سنگین غفلتوں اور لاپروائی کا انکشاف

    سانحہ سوات سے متعلق انکوائری رپورٹ میں محکمہ پولیس کی سنگین غفلتوں اور لاپروائی کا انکشاف ہوا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 27 جون کو واقعہ کے روز ہوٹل کے قریب پولیس کی گاڑی موجود تھی، لیکن دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود پولیس نے سیاحوں کو دریا میں جانے سے نہ روکا دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر مجموعی طور پر 106 ایف آئی آرز درج ہوئیں، جن میں سے صرف 14 مقدمات پولیس نے درج کیے، جبکہ باقی کارروائی اسسٹنٹ کمشنرز کی جانب سے کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیاحوں کی بڑی تعداد کے مقابلے میں پولیس کی ایف آئی آرز انتہائی کم تھیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پولیس ہوٹلوں کو کسی قسم کی حفاظتی ہدایات جاری کرنے کا ثبوت پیش نہ کر سکی حیران کن طور پر سات ہزار سے زائد اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود واقعے کو روکنے کیلئے پولیس کی طرف سے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا، سوات پولیس کی غفلت اور دفعہ 144 پر عمل درآمد نہ ہونے کی باقاعدہ انکوائری کی جائے اور متعلقہ افسروں کے خلاف 60 روز میں کارروائی مکمل کی جائے ساتھ ہی 30 دن کے اندر قانون و ضوابط میں موجود خامیاں دور کر کے نیا حفاظتی نظام وضع کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

    ملک کا حال برا ہو تو میرا حال بھی برا ہو جاتا ہے، انور مقصود

    انکوائری رپورٹ میں دریا کنارے تعمیرات اور سیاحتی مقامات کے لیے ایک نیا ریگولیٹری فریم ورک نافذ کرنے، پولیس کو دفعہ 144 پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت دینےاور حساس علاقوں میں پولیس کی نمایاں موجودگی یقینی بنانےکی تجاویز شامل ہیں، پولیس گاڑیوں کےذریعے اعلانات، وارننگ سائن بورڈز کی تنصیب، ٹوارزم اور ڈسٹرکٹ پولیس کے مابین مؤثر رابطہ، مون سون کے دوران دریائی علاقوں کی نگرانی، اور شہریوں میں آگاہی مہم کے لیے سول انتظامیہ سے اشتراک کی بھی سفارش کی گئی ہےرپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنے کے لیے تمام موجودہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

    پاکستان کا بھارت میں منعقدہ کسی بھی اسپورٹس مقابلے میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ