Baaghi TV

Category: گلگت بلتستان

  • چلاس میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑک بند، پھنسے سیاحوں کو ریسکیو کرنے کا عمل جاری

    چلاس میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑک بند، پھنسے سیاحوں کو ریسکیو کرنے کا عمل جاری

    چلاس میں لینڈ سلائیڈنگ کے شدید واقعے کے بعد سیاحتی مقام فیری میڈوز کی سڑک مکمل طور پر بند ہو گئی ہے، جس کے باعث وہاں پھنسے ہوئے سیاحوں کو ریسکیو کرنے کے عمل میں تیزی سے کام جاری ہے۔

    ذرائع کے مطابق گزشتہ روز سیاحوں کو ہیلکاپٹر کے ذریعے نکالا گیا تھا تاہم موسمی حالات کی خرابی کی وجہ سے ہیلکاپٹر سروس معطل کر دی گئی ہے جس کے باعث زمینی راستوں سے ریسکیو آپریشن پر زور دیا جا رہا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ چلاس روڈ بھی لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے متعدد مقامات پر بند ہے جبکہ تھورمنیار کے علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہ قراقرم عارضی طور پر بند ہو گئی ہے۔ اس صورتحال کے باعث سیاحوں کی محفوظ واپسی کے لیے ریسکیو ٹیمیں سڑک کے کھلنے کا انتظار کر رہی ہیں۔پولیس حکام نے مزید بتایا کہ اب بھی کافی تعداد میں سیاح فیری میڈوز میں پھنسے ہوئے ہیں جن کو ریسکیو کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

    چلاس کے ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکی ہیں اور لاپتا افراد کی تلاش کے لیے پاک فوج کے علاوہ دیگر متعلقہ ادارے بھی آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں تاکہ ہر ممکنہ مدد فراہم کی جا سکے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ موسمی حالات بہتر ہوتے ہی ریسکیو آپریشن مزید تیز کیا جائے گا تاکہ ہر ممکن جلدی سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ متبادل راستوں یا محفوظ علاقوں میں رہیں اور حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔

  • چلاس  میں آلودہ پانی سے پیٹ کے امراض میں اضافہ

    چلاس میں آلودہ پانی سے پیٹ کے امراض میں اضافہ

    گلگت بلتستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقے تھک نالہ میں آلودہ پانی کے استعمال کے باعث پیٹ کے امراض میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جب کہ علاقے میں موجود واحد میڈیکل کیمپ میں ادویات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

    میڈیکل کیمپ کے انچارج اعجاز خان کے مطابق، تھک نالہ میں عوام کے لیے قائم کیا گیا بیسک ہیلتھ یونٹ سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث مکمل طور پر ناکارہ ہو گیا ہے، جس کے بعد ایک عارضی ٹینٹ میں میڈیکل کیمپ قائم کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ سیلاب کے بعد علاقے میں صاف پانی کی عدم دستیابی کے باعث پیٹ کے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں، جب کہ موجودہ ادویات کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔ صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ سے فوری طور پر مزید ادویات کی فراہمی کی درخواست کی گئی ہے۔

    علاقہ مکینوں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ میڈیکل سہولیات فوری بحال کی جائیں اور علاقے میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ بیماریوں پر قابو پایا جا سکے۔

    لیاری عمارت حادثہ: سعید غنی نے ذمہ داری قبول کر لی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی جی سی یونیورسٹی لاہور کے طلبہ سے ملاقات

    اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کا کرتارپور گردوارے کا دورہ

    ورلڈ یونیورسٹی گیمز 2025: جرمنی میں پاکستانی دستے کے 2 ایتھلیٹس لاپتا

  • پاک فضائیہ کا گلگت بلتستان میں ریسکیو مشن کامیابی سے مکمل

    پاک فضائیہ کا گلگت بلتستان میں ریسکیو مشن کامیابی سے مکمل

    پاک فضائیہ نےسخت حالات کے دوران گلگت بلتستان میں ریسکیو مشن کامیابی سے مکمل کر لیا۔

    پاک فضائیہ کے C-130 طیارے نے 25 جولائی کو گلگت بلتستان میں پھنسے سیاحوں اور مقامی افراد کو خصوصی پرواز سے ریسکیو کیا طیارہ صبح 7 بج کر 55 منٹ پر نور خان ایئر بیس سے قادری پہنچا اور 125 مسافروں کو منتقل کیا گیاریسکیو کیے گئے افراد میں 82 شہری، 25 پاک فوج کے اہلکار اور 18 پاک فضائیہ کے اہلکار شامل ہیں۔

    پاک فضائیہ کا طیارہ قادری بیس سے صبح 8 بج کر 52 منٹ پر روانہ ہوا اور کامیاب آپریشن کے بعد نور خان بیس پہنچا ریسکیو آپریشن کے دوران 125 افراد کو قادری سے نور خان بیس بحفاظت منتقل کیا گیاافواج پاکستان اور مقامی انتظامیہ ہر مشکل گھڑی میں عوام کی خدمت اور فلاح کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔

    سیاح موسم بہتر ہونےتک سیلاب متاثرہ علاقوں کاسفر نہ کریں،چیف سیکرٹری گلگت

    دوسری جانب گلگت بلتستان حکومت نے سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کی تفصیلات جاری کر دیں ترجمان گلگت بلتستان فیض اللہ فراق نے کہا ہے کہ سیلاب کے باعث 9 افراد جاں بحق ہوئے ہیں،دس سے بارہ افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

    سیلاب کی وجہ سے 200 سے زائد گھر مکمل تباہ ہوئے جبکہ سیلابی ریلے سے 500 سے زائد گھر جزوی متاثر ہوئے ہیں، سیلاب کی وجہ سے متعدد سڑکیں تباہ ہوئیں،گلگت بلتستا ن میں سیلاب کی وجہ سے 27 پل اور 22 گاڑیاں تباہ ہوئیں، انہوں نے کہا کہ ضلع دیامر کے علاقے شاہراہ بابو سر میں سیلاب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے شراٹ ویلی سیلاب سے مکمل طور پر تباہ ہوئی ہے، شراٹ ویلی میں 2 مساجد اور 150 سے زائد گھر متاثر ہوئے،ترجمان نے کہا کہ اسکاؤٹس گلگت بلتستا ن اور افواج پاکستان امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

    ترجمان گلگت بلتستا ن فیض اللہ فراق نے کہا کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہو چکا ہے،مقامی سڑکوں کی بحالی وتعمیر کا کام جاری ہے، انہوں نے کہا کہ شاہراہ بابو سر کے 3 سے 4 مقامات سے رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں، بابوسر کے علاقے میں مواصلاتی نظام بھی بحال کر دیا گیا ہے۔

    غزہ کیلئے امداد لیجانے والے بحری جہاز کا رابطہ منقطع

  • بابوسر ٹاپ :سیلابی ریلے میں بہنے والے  3 سالہ  عبد الہادی کی لاش مل گئی

    بابوسر ٹاپ :سیلابی ریلے میں بہنے والے 3 سالہ عبد الہادی کی لاش مل گئی

    چلاس: بابوسر ٹاپ پر سیلاب میں جاں بحق ہونے والی خاتون ڈاکٹر مشعال فاطمہ کے سیلاب میں لاپتا ہونے والے 3 سالہ بیٹے کی لاش 3 روز بعد مل گئی۔

    سیلابی ریلے میں بہہ کر جاں بحق ہونے والی ڈاکٹر مشعال فاطمہ کے بیٹے عبد الہادی کی لاش کو کل شام 7 بجے مقامی افراد نے بابوسر کے قریب ڈاسر کے مقام پر دیکھا اور حکام کو اس حوالے سے آگاہ کیا،گلگت بلتستان اسکاؤٹس نے اطلاع ملنے پر 3 سال کے عبد الہادی کی لاش کو نالےسے نکال چلاس میں اسپتال پہنچایا۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل لودھراں سے پکنک منانے کیلئے جانے والی فیملی اسکردو سے واپس آتے ہوئے بابوسرٹاپ کے مقام پر سیلابی ریلے میں بہہ گئی تھیسیلابی ریلے میں بہہ کر ڈاکٹر مشعال فاطمہ اور ان کا دیور فہد اسلام جاں بحق ہوئے تھے جب کہ ریلے میں ڈاکٹر مشعال فاطمہ کا 3 سالہ بیٹا عبدالہادی بھی بہہ گیا تھا۔

    سوات مدرسہ طالبعلم قتل:مقتول طالبعلم فرحان کے نانا کے دل سوز انکشافات

    دوسری جانب ڈائریکٹر ایڈمن شاہدہ اسلام میڈیکل کالج کا بتانا ہے کہ چلاس میں جاں بحق ڈاکٹر مشعال اور فہد اسلام کی میتیں 2 بجے تک لودھراں پہنچادی جائیں گی مرحومین کی نماز جنازہ شام ساڑھے 5 بجے ادا کی جائے گی جب کہ مرحومین کو آدم واہن قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار

  • والد نے چچی اور انکے بیٹے کو بچانے کیلئے سیلابی ریلے میں چھلانگ لگائی تھی،جاں بحق فہد کے بیٹے کا بیان

    والد نے چچی اور انکے بیٹے کو بچانے کیلئے سیلابی ریلے میں چھلانگ لگائی تھی،جاں بحق فہد کے بیٹے کا بیان

    بابو سر ٹاپ پر سیلابی ریلے میں بہہ کر جاں بحق ہونے والے فہد اسلام کے بیٹے عاصم فہد کا بیان سامنے آیا ہے-

    چند روز قبل لودھراں سے پکنک منانے کیلئے جانے والی فیملی اسکردو سے واپس آتے ہوئے بابوسرٹاپ کے مقام پر سیلابی ریلے میں بہہ گئی تھی، ریلے میں بہہ کر ڈاکٹر مشعال فاطمہ اور ان کا دیور فہد اسلام جاں بحق ہوئے تھے جبکہ ریلے میں ڈاکٹر مشعال فاطمہ کا 3 سالہ بیٹا عبدالہادی بھی بہہ گیا تھا جو تاحال لاپتا ہے۔

    اس حوالے سے حادثے میں جاں بحق ہونے والے فہد اسلام کے بیٹےعاصم فہد نے بتایا کہ سیلابی ریلا آیا تو ہم نے پہاڑکے نیچے چھپنے کی کوشش کی، لیکن جب چچی مشعال اورعبدالہادی ریلے میں بہے تو والد نے دونوں کو بچانے کے لیے پانی میں چھلانگ لگا دی تھی۔

    میڈیا سے گفتگو کے دوران فیملی ممبر ڈاکٹر حفیظ اللہ کا کہنا تھا کہ اسپتال میں2 روز سے بجلی نہیں ہے جس کے باعث برف کے بلاک رکھ کرلاشوں کو محفوظ رکھا جا رہا ہے، حکومت لاشوں کو لودھراں پہنچانے کے لیے انتظامات کرے تاکہ تدفین کے انتظامات کیے جا سکیں۔

    ٹک ٹاک نے پہلی سہ ماہی 2025کی کمیونٹی گائیڈ لائنز پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کر دی

    دوسری جانب شاہراہ بابوسر پر شدید بارشوں کے بعد پھنس جانے والے تمام سیاحوں اور مسافروں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے تصدیق کی ہے کہ ریسکیو آپریشن کامیابی سے مکمل ہوا اور تقریباً 250 سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق کچھ افراد تاحال لاپتا ہیں جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے عینی شاہدین کے مطابق 10 سے 15 افراد تاحال لاپتا ہیں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی ہدایت پر ریسکیو، ضلعی انتظامیہ، پولیس، مقامی رضاکاروں اور پاک فوج کی مدد سے مشترکہ سرچ آپریشن لاپتا افراد کے ملنے تک جاری رہے گا۔

    سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہ بابو سر سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے، آٹھ کلومیٹر کا علاقہ برباد ہوگیا ہے، غذر، استور، تھور ویلی میں سیلاب سے مکانات اور فصلیں تباہ ہوگئیں۔ ترجمان کے مطابق شاہراہ ناران اور بابو سر تیرہ سے چودہ مقامات پر بند ہے، شاہراہ قراقرم بھی بحالی کے بعد مختلف مقامات پر پھر بلاک ہوگئی ہے۔ شاہراہ ریشم پر سیکڑوں مسافر پھنسے ہوئے ہیں، جہاں بحالی کا کام جاری ہے چلاس میں سیاحوں کے لیے مفت رہائش کا بندوبست کر دیا گیا ہے، جبکہ مقامی آبادی کے نقصانات کا بھی تخمینہ لگایا جا رہا ہےرات کی تاریکی میں سرچ آپریشن میں دشواریوں کا سامنا ہوتا ہے، اس لیے کارروائی کو دن کی روشنی میں دوبارہ شروع کیا جاتا ہے۔

    عمران خان کے بیٹوں کی امریکی نمائندہ خصوصی رچرڈ گرینل سے ملاقات

  • سوات:چھٹیاں کرنے پر مدرسے کے اساتذہ کا مبینہ تشدد ، کم عمر طالب علم جاں بحق

    سوات:چھٹیاں کرنے پر مدرسے کے اساتذہ کا مبینہ تشدد ، کم عمر طالب علم جاں بحق

    مدرسے کا کم عمر طالب علم فاران، مبینہ طور پر اپنے اساتذہ کے ہاتھوں شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بننے کے بعد جان کی بازی ہار گیا۔

    دلسوز واقعہ سوات کی تحصیل خوازہ خیلہ کے گاؤں چلیار میں افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس نے پوری وادی کو ہلا کر رکھ دیا ،پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق 3 اساتذہ محمد عمر، ان کے بیٹے احسان اللہ، اور ایک اور شخص عبداللہ نے مبینہ طور پر اسے دوسرے طلبہ کے سامنے مارنا شروع کیا، یہ مارپیٹ غیر حاضری کی سزا کے طور پر شروع ہوئی، اور جلد ہی بے رحمانہ تشدد میں تبدیل ہوگئی۔

    https://x.com/malak_suhail/status/1947376216958242989

    ایک ہم جماعت نے بتایا کہ فاران چند دن غیر حاضر رہا تھا اور ابھی واپس آیا تھا، اساتذہ نے اسے بہت زور سے مارنا شروع کر دیا، بعد میں اسے ایک کمرے میں لے جا کر مار پیٹ جاری رکھی، مجھے پانی لانے کے لیے بلایا گیا، اُس نے تھوڑا سا پانی پیا، پھر اپنا سر میری گود میں رکھ دیا، اور خاموش ہو گیا،طلبہ اور اساتذہ نے فاران کو قریبی ہسپتال پہنچایا، مگر ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

    https://x.com/JN_Araain/status/1947502105087877630

    کوہستان کرپشن اسکینڈل : گرفتار ٹھیکیدار 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

    ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) سوات کے ترجمان معین فیاض نے تصدیق کی ہے کہ تینوں ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے، ان میں سے ایک ملزم عبداللہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے، باقی 2 کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں، یہ نہایت افسوس ناک اور تشویش ناک کیس ہے، مکمل تفتیش جاری ہے، ہم بچے اور اس کے خاندان کو انصاف دلانے کے لیے پُرعزم ہیں۔

    انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی عوام نے نہ صرف مجرموں کو سزا دینے بلکہ آئندہ ایسے سانحات کو روکنے کے لیے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    سکردو میں پاک آرمی کا ریسکیو آپریشن ، سیاحوں کا خراج تحسین

    فاران کے چچا نے بتایا کہ جب وہ گھر پر تھا تو مدرسے جانے سے ڈرتا تھا اور واپس نہیں جانا چاہتا تھا، میں خود اسے مدرسے لے گیا، اساتذہ کے حوالے کیا، اور واپس آ گیا، اسی شام ایک استاد کا فون آیا اور بتایا کہ میرا بھتیجا بیت الخلا میں گر کر فوت ہو گیا ہے۔

  • سکردو میں پاک آرمی کا ریسکیو آپریشن ،  سیاحوں کا خراج تحسین

    سکردو میں پاک آرمی کا ریسکیو آپریشن ، سیاحوں کا خراج تحسین

    سکردو میں شدید بارش اور لینڈسلائیڈنگ میں پھنسے سیاحوں کو پاک آرمی نے ریسکیو کرلیا

    پاک آرمی کے فوری ریسکیو آپریشن کو سیاحوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے،خاتون سیاح کا کہنا تھا کہ ہم کراچی سے سکردو آئے تھے، دیوسائی کے مقام پر سیلاب کے باعث ہماری گاڑیاں ڈوب گئیں،الحمد اللہ پاک آرمی نے فوری طور پر ہمیں ریسکیو کیا، میری اور میرے ساتھ آئی خاتون کی طبعیت کافی خراب ہو گئی تھی، پاک آرمی کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہمیں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا، پاک آرمی نے اس ایمرجنسی میں جس طرح کی خدمات سرانجام دیں وہ الفاظ میں بیان نہیں کی جاسکتیں، پاک فوج ریسکیو کئے گئے سیاحوں کو طبی امداد اور کھانا بھی فراہم کر رہی ہے، ہمیں مکمل بھروسہ ہے کہ کسی طرح کی بھی ناگہانی آفت میں ہماری آرمی ہمیں ریسکیو کرلے گی،

  • گلگت بلتستان: ٹیکسوں کے خلاف احتجاج، پاک چین بارڈر پر دھرنا

    گلگت بلتستان: ٹیکسوں کے خلاف احتجاج، پاک چین بارڈر پر دھرنا

    تاجروں کی تنظیم پاک چین ٹریڈز ایکشن کمیٹی کی کال پر ٹیکسوں کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں قراقرم ہائی وے پر دھرنا اور سست ڈرائی پورٹ کی بندش کے اعلان پر حکومت نے متعدد تاجروں کو حراست میں لے لیا۔

    ڈپٹی کمشنر ہنزہ حذیفہ انور کے مطابق تاجروں نے ہنزہ میں دو مختلف مقامات پر دھرنا دیا، جس کے باعث قراقرم ہائی وے بند ہو گئی، تاہم مرتضیٰ آباد کا دھرنا ختم کرا دیا گیا ہے۔ڈی سی ہنزہ نے بتایا کہ سست کے مقام پر دھرنا تاحال جاری ہے، جہاں مذاکرات کا عمل جاری ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دھرنا آئندہ دو سے تین گھنٹوں میں ختم ہو جائے گا۔

    ان کے مطابق سست ڈرائی پورٹ پر دھرنے کے بعد تین تاجروں کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا، جن میں سے ایک کو رہا کر دیا گیا جبکہ دو تاجر اب بھی زیر حراست ہیں۔ ڈی سی کا کہنا تھا کہ تاجروں کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور یہ اقدام صرف امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑی ترجیح قراقرم ہائی وے کی بحالی ہے کیونکہ علاقے میں بڑی تعداد میں سیاح موجود ہیں جو سفر میں مشکلات کا شکار ہیں۔

    واضح رہے کہ پاک-چین ٹریڈز ایکشن کمیٹی نے ٹیکسوں کے خلاف احتجاجی تحریک کے تحت آج سلک روٹ ڈرائی پورٹ بند کرنے اور سڑک بلاک کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد رات گئے پولیس نے فعال تاجروں کے گھروں پر چھاپے مار کر علی نظر، عباس میر اور فرماں تاجک کو گرفتار کر لیا۔

    سعودی نیول چیف کو نشانِ پاکستان (ملٹری) عطا

    لاس اینجلس ایئرپورٹ پر طیارے کے انجن میں آگ، ایمرجنسی لینڈنگ

    راجیہ سبھا اجلاس،کانگریس کے جنگ بندی پرسوالات،مودی سامنا نہ کر سکے

    اقوام متحدہ میں اسحاق ڈار کا دوٹوک مؤقف، بھارت و اسرائیل کو آڑے ہاتھوں لیا

  • گلگت بلتستان میں وائلڈ پولیو وائرس کی تصدیق

    گلگت بلتستان میں وائلڈ پولیو وائرس کی تصدیق

    گلگت بلتستان میں وائلڈ پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

    نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے ریجنل ریفرنس لیبارٹری برائے پولیو کے مطابق دیامر سے حاصل کردہ سیوریج نمونے میں وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ 1 کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے،ایک سرکاری اہلکار نے بتایا ہے کہ دیامر اور خیبر پختونخوا کے ملحقہ اضلاع میں خصوصی انسداد پولیو مہم چلائی گئی ہے، جس میں ایک لاکھ 59 ہزار 525 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے پولیو پروگرام بچوں کو مفلوج کر دینے والے پولیو وائرس سے محفوظ رکھنے اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت ویکسی نیشن شیڈول پر عمل کر رہا ہے21 سے 25 جولائی تک خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی سرحدی یونین کونسلوں میں خصوصی انسداد پولیو مہم چلائی جائے گی تاکہ اسے افغا نستان کی ذیلی قومی پولیو مہم کے ساتھ ہم آہنگ کیا جاسکے۔

    نیتن یاہو بیمار گئے، چند دن گھر سے کام کریں گے

    شاہ رخ خان کے زخمی ہونے کی خبر یں افواہ نکلی

    ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور حبس رہنے کا امکان

  • کے ٹو ، برفانی تودے کی زد میں آ کر پاکستانی کوہ پیما جاں بحق

    کے ٹو ، برفانی تودے کی زد میں آ کر پاکستانی کوہ پیما جاں بحق

    دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو پر جاری مہم جوئی کے دوران ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے۔ برفانی تودے کی زد میں آ کر پاکستانی کوہ پیما محمد افتخار حسین جان کی بازی ہار گئے۔

    شگر کے ڈپٹی کمشنر عارف حسین نے اس حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کے ٹو پر مہم کے دوران کل چار کوہ پیماؤں کو شدید خطرہ لاحق ہوا۔ ان میں سے تین غیر ملکی کوہ پیما برفانی تودے سے بچ نکلے اور انہیں بحفاظت نیچے اتار لیا گیا ہے۔ تینوں زخمی کوہ پیماؤں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔بدقسمتی سے مہم کے دوران ایک پاکستانی کوہ پیما محمد افتخار حسین برفانی تودے کی زد میں آ کر جاں بحق ہو گئے۔ محمد افتخار حسین سدپارہ گاؤں سے تعلق رکھتے تھے اور مقامی کمیونٹی میں انہیں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

    ڈپٹی کمشنر عارف حسین کے مطابق جاں بحق کوہ پیما کی میت آج اسکردو منتقل کی جائے گی اور ان کی تدفین ان کے آبائی گاؤں سدپارہ میں کی جائے گی۔ امدادی ٹیمیں اور مقامی انتظامیہ متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہیں۔

    کے ٹو کی مہم جوئی میں یہ واقعہ ایک یاد دہانی ہے کہ قدرتی آفات اور موسمی حالات کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر بلند ترین پہاڑوں پر۔ پاکستانی کوہ پیماؤں کے جذبے کو سراہتے ہوئے دعا ہے کہ آئندہ مہمات میں ایسی حادثاتی صورتحال سے بچا جا سکے۔