Baaghi TV

Category: گلگت بلتستان

  • سکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایئرپورٹ ایمرجنسی مشق

    سکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایئرپورٹ ایمرجنسی مشق

    سکردو: سکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایمرجنسی مشق (FSAEE) 2025 کامیابی سے منعقد ہوئی، جس کی نگرانی ایئرپورٹ منیجر نے کی۔ یہ مشق ایمرجنسی کی صورت میں متعلقہ اداروں کی استعداد کار اور باہمی رابطے کو بہتر بنانے کے مقصد سے منعقد کی گئی تھی۔

    مشق کے آغاز سے قبل چیف فائر اینڈ ریسکیو آفیسر نے تمام شرکاء کو بریفنگ دی جس میں ہنگامی حالات میں بر وقت اور مؤثر ردعمل کی حکمت عملی پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کس طرح فوری کارروائی اور مربوط تعاون انسانی جانوں کے تحفظ اور نقصان کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔اس مشق کا معائنہ ایڈیشنل ڈائریکٹر فائر اینڈ ریسکیو نے سرکاری مبصر کے طور پر کیا، جنہوں نے شرکاء کی کارکردگی کو انتہائی مثبت قرار دیا اور اس موقع پر کہا کہ ایسے مشقیں نہ صرف ایمرجنسی سے نمٹنے کی صلاحیت کو بڑھاتی ہیں بلکہ مختلف اداروں کے درمیان رابطے کو بھی مضبوط کرتی ہیں۔

    مشق میں ایئرپورٹ اسٹاف کے علاوہ مسلح افواج، سول ادارے، اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء نے فرضی ایمرجنسی کے تحت تیز رفتاری اور مکمل تعاون کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں سر انجام دیں، جس سے یہ واضح ہوا کہ اگر حقیقی ایمرجنسی پیش آئے تو ادارے مؤثر انداز میں حالات پر قابو پاسکیں گے۔مسلح افواج، مقامی انتظامیہ اور دیگر اعلیٰ اداروں کے معزز افسران نے مشق کو بطور مبصر بڑی دلچسپی اور سنجیدگی سے دیکھا اور اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مشقیں ایئرپورٹ کی سیکیورٹی اور حفاظتی انتظامات کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

    یہ مشق علاقے میں ہوائی سفر کے دوران مسافروں کی حفاظت اور ایئرپورٹ کی استعداد کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے، جو کہ سکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ایک محفوظ اور قابل اعتماد ہوائی سفر کا مرکز بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

  • کوہ پیمائی کے دوران حادثہ، پولش کوہ پیما والڈیمار کووالوسکی کو  ریسکیو کرلیا گیا

    کوہ پیمائی کے دوران حادثہ، پولش کوہ پیما والڈیمار کووالوسکی کو ریسکیو کرلیا گیا

    دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک (بلندی: 8,051 میٹر) پر کوہ پیمائی کے دوران ایک سنسنی خیز واقعہ پیش آیا جب پولش کوہ پیما والڈیمار کووالوسکی برفانی ڈھلوان پر چڑھائی کرتے ہوئے پھسل گئے۔ اس حادثے کے نتیجے میں ان کا پاؤں شدید زخمی ہو گیا اور ٹوٹ گیا۔

    واقعہ اس وقت پیش آیا جب والڈیمار کووالوسکی چوٹی کی سخت برفانی صورت حال میں چڑھائی کر رہے تھے۔ پھسلنے کی وجہ سے ان کی چوٹ سنگین نوعیت کی تھی جس کے باعث انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت تھی۔ کوہ پیمائی کی مشکل اور خطرناک جگہ ہونے کے باعث امدادی کاروائی ایک بڑا چیلنج تھی۔ریسکیو ٹیم نے فوری طور پر اپنی کارروائی شروع کی اور خطرناک برفانی اور پتھریلے راستوں سے گزر کر زخمی کوہ پیما تک پہنچ گئی۔ انہیں تقریباً 6,500 میٹر کی بلندی سے بحفاظت کیمپ ون تک منتقل کیا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ ریسکیو ٹیم کی بروقت اور پیشہ ورانہ کاوشوں کی بدولت والڈیمار کووالوسکی کی جان بچانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔

    اب زخمی کوہ پیما کو موسم کی بہتری کے بعد سکردو منتقل کیا جائے گا جہاں انہیں مزید طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ علاقائی حکام اور ریسکیو ٹیم نے اس کامیاب مشن پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی کوہ پیماؤں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔

    براڈ پیک، جو اپنے شدید موسم اور مشکل چڑھائی کی وجہ سے دنیا کی مشکل چوٹیوں میں شمار ہوتی ہے، پر اس حادثے نے ایک بار پھر کوہ پیمائی کی جان لیوا نوعیت کو اجاگر کیا ہے۔

  • نانگا پربت مہم کے دوران چیک ری پبلک کی کوہ پیما خاتون ہلاک

    نانگا پربت مہم کے دوران چیک ری پبلک کی کوہ پیما خاتون ہلاک

    نانگا پربت کو سر کرنے کی مہم کے دوران چیک ری پبلک سے تعلق رکھنے والی 46 سالہ کوہ پیما کولاوشاوا کلارا جاں بحق ہو گئیں۔ حادثہ کیمپ ون اور کیمپ ٹو کے درمیان ٹریکنگ کے دوران پیش آیا۔

    الپائن کلب آف پاکستان نے کلارا کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثہ صبح 4 بجے کے قریب پیش آیا۔ نائب صدر کرار حیدری کے مطابق کلارا ایک مایہ ناز کوہ پیما تھیں، جو اس سے قبل کے ٹو اور ایوریسٹ بھی سر کر چکی تھیں۔دیامر پولیس نے ابتدائی طور پر حادثے کی وجہ آکسیجن سلنڈر پھٹنا قرار دی، تاہم ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر دیامر کے مطابق کلارا اونچائی سے گر کر ہلاک ہوئیں۔ ان کے ساتھیوں نے بیس کیمپ پر ہلاکت کی اطلاع دی۔

    ریسکیو ٹیمیں کلارا کی لاش کی تلاش کے لیے روانہ ہو چکی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔کلارا اور ان کی ٹیم نے 15 جون کو شنگریلا ہوٹل میں قیام کیا اور 16 جون کو بونر بیس کیمپ کی طرف روانہ ہوئی۔ 17 جون کو ٹیم بیس کیمپ پہنچی، اور اسی دوران افسوسناک واقعہ پیش آیا۔انتظامیہ کے مطابق، متاثرہ ٹیم کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

    لاہور پولیس کی بڑی کامیابی، 6 ماہ میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی
    غزہ پر اسرائیلی بمباری میں شدت، 24 گھنٹوں میں 118 فلسطینی شہید

    آیت اللہ خامنہ ای 22 دن سے منظر عام سے غائب

    2025 میں 8,500 کاروباری صارفین سائبر حملوں کا شکار ہوئے
    کراچی میں 8 تا 10 محرم بی آر ٹی گرین لائن سروس معطل

  • چلاس میں لاپتا پشاور کے سیاحوں کا ڈراپ سین، پوری انتظامیہ کو دو دن دوڑاتے رہے

    چلاس میں لاپتا پشاور کے سیاحوں کا ڈراپ سین، پوری انتظامیہ کو دو دن دوڑاتے رہے

    گلگت بلتستان کے خوبصورت مگر دشوار گزار علاقے چلاس میں لاپتا ہونے والے پشاور کے سیاحوں کا ڈراپ سین خوشگوار انجام کے ساتھ ہوگیا۔ دو روز سے لاپتا سیاح خاندان کے افراد میں والدین، بیٹا اور بہو شامل تھے، جن کی تلاش کے لیے انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو ٹیمیں دن رات سرگرم رہیں۔

    سیاحوں کی گمشدگی کی خبر پر مقامی انتظامیہ حرکت میں آئی، پولیس نے وائرلیس کے ذریعے پیغامات نشر کیے، جبکہ میڈیا نے خبر کو اجاگر کر کے معاملے کی سنگینی کو نمایاں کیا۔ نتیجتاً ریسکیو ٹیموں نے دریاؤں، پہاڑوں اور دشوار گزار راستوں کی چھان بین شروع کر دی۔ تاہم، تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ سیاحوں کی گاڑی راستے میں خراب ہو گئی تھی اور علاقے میں موبائل سگنلز نہ ہونے کے باعث وہ بیرونی دنیا سے رابطہ نہ کر سکے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ سیاحوں نے خود بھی کسی چیک پوسٹ یا قریبی پولیس اہلکار کو اطلاع دینا ضروری نہ سمجھا، جس سے ان کے اہلِ خانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہو گئے اور انتظامیہ کو بھی غیر معمولی متحرک ہونا پڑا۔

    گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان کے مطابق یہ خاندان بابوسر ٹاپ کے قریب گاڑی خراب ہونے کے باعث رک گیا تھا۔ ان سے دو دن سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا تھا، جس کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج اور مقامی اطلاعات کی مدد سے ان تک رسائی ممکن ہوئی۔ بالآخر، ریسکیو ٹیموں نے انہیں بابوسر ٹاپ کے قریب تلاش کیا اور ان کی خیریت کی تصدیق کی۔واقعے کے بعد جب پشاور کے سیاح عثمان سے گلگت بلتستان پولیس نے استفسار کیا تو وہ مسکرا کر بولے: "سگنل نہیں تھے، اس لیے کسی سے رابطہ نہیں ہو سکا۔” انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پولیس قریب ہی موجود تھی، مگر انہوں نے اطلاع دینا مناسب نہیں سمجھا۔

    ترجمان گلگت بلتستان حکومت نے سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان علاقوں کا سفر کرتے ہوئے اپنی گاڑیوں کو چیک پوسٹوں پر لازمی رجسٹر کرائیں اور اپنے اہل خانہ سے مسلسل رابطے میں رہیں تاکہ کسی ہنگامی صورتِ حال میں بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔

  • گلگت بلتستان: گلیشیئر پگھلنے سے خطرناک صورتحال، کئی علاقے زیرِ آب

    گلگت بلتستان: گلیشیئر پگھلنے سے خطرناک صورتحال، کئی علاقے زیرِ آب

    گلگت بلتستان کے بالائی علاقوں میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث خطرناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

    دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے اور کئی نشیبی علاقے زیرِ آب آ چکے ہیں، جس سے سیاح اور مقامی افراد شدید متاثر ہو رہے ہیں۔تحصیل یاسین (ضلع غذر) میں پانی کے شدید کٹاؤ سے پل اور سڑکیں تباہ ہو گئی ہیں۔زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے، جس سے امدادی کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

    سیاحت متاثر

    ملکی و غیر ملکی سیاح کئی مقامات پر محصور ہو چکے ہیں۔ہوٹلز تک رسائی ناممکن، مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا ہے۔محکمہ موسمیات نے انتباہ کرتے ہئے بتای ہے کہ جولائی اور اگست میں گلیشیئر پگھلنے کی شدت میں مزید اضافہ متوقع ہے اور فلیش فلڈ (اچانک سیلاب) کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

    ایشیا کپ 2025، 10 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان

    کراچی: سمندرپر دفعہ 144 کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد پہنچ گئی

    شمالی وزیرستان: کل صبح سے شام تک کرفیو نافذ، دفعہ 144 بھی لاگو

    واربرٹن: آندھی سے چھت سے گری سولر پلیٹ، 17 ماہ کا بچہ جاں بحق

  • پاک فوج کا ریسکیو آپریشن،سوشل ایکٹیوسٹ یاور عباس کی میت دشوار گزار پہاڑی سے آبائی گاؤں منتقل

    پاک فوج کا ریسکیو آپریشن،سوشل ایکٹیوسٹ یاور عباس کی میت دشوار گزار پہاڑی سے آبائی گاؤں منتقل

    پاکستان آرمی نے ضلع نگر، گلگت بلتستان کے سنگلاخ پہاڑی علاقوں، بالخصوص راکاپوشی کے قریب، ایک انتہائی پرخطر اور پیچیدہ ریسکیو آپریشن کامیابی سے مکمل کر کے پیشہ ورانہ مہارت اور فرض سے بڑھ کر خدمت کی اعلیٰ مثال قائم کی۔

    24 جون 2025 کو معروف سماجی کارکن یاور عباس اور ان کے ساتھی ایک المناک حادثے کا شکار ہو گئے۔ یہ حادثہ ایک ایسے دور دراز اور دشوار گزار علاقے میں پیش آیا جہاں سول ریسکیو ٹیموں کی رسائی ممکن نہ تھی۔ متاثرہ خاندان کی درخواست پر پاکستان آرمی نے فوری طور پر جائے حادثہ کی جانب ہیلی کاپٹرز روانہ کیے۔ پاک فوج کے بہادر پائلٹس نے شدید موسمی اور پرواز کی سخت شرائط کے باوجود کئی بار پرواز کی کوششیں کیں۔ اس ریسکیو آپریشن کے نتیجے میں یاور عباس کا جسدِ خاکی باعزت طور پر بازیاب کر لیا گیا جبکہ ان کے زخمی ساتھی کو بروقت طبی امداد دے کر زندگی بچا لی گئی۔

    یاد رہے کہ یاور عباس، جو فورتھ شیڈول میں شامل اور پاکستان آرمی و ریاستی اداروں کے مسلسل ناقد رہے ہیں، ان کے جسدِ خاکی کی بازیابی کے لیے بھی پاکستان آرمی نے کسی قسم کی جانبداری یا تحفظات کا مظاہرہ کیے بغیر فوری اقدام کیا۔ سوگوار خاندان اور مقامی برادری نے پاک فوج کی اس انسانی جذبے سے بھرپور کارروائی پر دلی شکریہ ادا کیا۔

    یہ مشن ایک مرتبہ پھر اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان آرمی نہ صرف ریاست کے تحفظ کی ضامن ہے بلکہ ہر شہری کی بلا تفریق مذہب، نسل، طبقہ یا نظریاتی رجحانات مدد کے لیے ہر وقت تیار رہتی ہے

  • سات دن سے لاپتہ گجرات کے  4سیاحوں کی گاڑی کھائی میں گرنے سے موت کی تصدیق

    سات دن سے لاپتہ گجرات کے 4سیاحوں کی گاڑی کھائی میں گرنے سے موت کی تصدیق

    گلگت بلتستان حکومت نے ہفتے کو سات دن سے لاپتہ گجرات سے تعلق رکھنے والے چار سیاحوں کی گاڑی کھائی میں گرنے سے موت کی تصدیق کردی ہے۔

    گلگت بلتستان کی سیر کو جانے والے یہ نوجوان 16 مئی کے بعد سے لاپتہ تھے، ریسکیو 1122 سکردو کے مطابق نوجوانوں کی گاڑی آج (24 مئی) کو تباہ حال صورت میں سکردو روڈ کے قریب استک نالے کے قریب کھائی میں گری ہوئی ملی،ترجمان گلگت بلتستان حکومت ایمان شاہ کے مطابق حادثے میں ’چاروں نوجوان زندگی کی بازی ہار گئے۔‘

    نوجوانوں میں سے دو کے رشتہ دار عثمان وڑائچ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سلمان نصراللہ اٹلی سے چھٹیاں گزارنے پاکستان آئے ہوئے تھے اور انہوں نے تین دوستوں کے ساتھ شمالی علاقہ جات کی سیر کا پروگرام بنایا عمر، سلمان اور واصف شہزاد آپس میں رشتہ دار ہیں اور عثمان ڈار ان کے دوست ہیں،عمر اور عثمان ڈار تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جب کہ واصف کی شادی ہو چکی ہے اور وہ دو بچوں کے والد ہیں، انہوں نے گھر والوں سے آخری رابطہ 16 مئی کو کیا تھا اور سکردو جانے کا بتایا اس کے بعد سے ان کے موبائل فونز بند تھے۔

    گلگت پولیس کے مطابق چاروں سیاحوں نے 15 مئی کو گلگت کے علاقے دنیور کے ایک مقامی ہوٹل میں رات گزاری تھی۔

    گلگت پولیس کے ایک بیان کے مطابق 16 مئی کے بعد سے چاروں سیاحوں کے موبائل نمبر بند تھے جبکہ دنیور اور سکردو میں دمبود ا س علاقوں کے درمیان رہنے والے مقامی افراد سے سیاحوں کو تلاش کرنے میں مدد کی اپیل بھی کی گئی دنیور میں رات گزارنے کے بعد سیاح اگلے روز سکردو کے لیے نکل گئے تھے لیکن دمبوداس چیک پوسٹ سے معلومات حاصل کرنے کے بعد پتہ چلا کہ سیاحوں کی گاڑی نے اس چیک پوسٹ کو کراس نہیں کیا۔‘

    جگلوٹ سکردو روڈ پر گانجی پڑی کا علاقہ ہے، جو گلگت اور ضلع سکردو کا جنکشن ہے، جہاں سے سکردو کی طرف سڑک مڑ جاتی ہے سیاحوں کے رشتہ دار گلگت میں موجود اور پولیس سے رابطے میں رہے رشتہ داروں کی جانب سے سیاحوں کی آخری موبائل لوکیشن جگلوٹ ٹاور بتائی گئی، تاہم جگلوٹ ٹاور سے سکردو کی جانب سڑک نکلتی ہے اور وہاں بھی اسی ٹاور کے سگنلز کچھ علاقے تک کام کرتے ہیں،’گلگت سکردو روڈ پر آگے جا کر ہراموش کے علاقے میں سگنلز ڈراپ ہوجاتے ہیں اور وہاں پر ’ایس کام‘ کام کرتا ہے، جب کہ باقی نیٹ ورکس کے سگنلز ڈراپ ہوجاتے ہیں۔

    سیاحوں کو تلاش کرنے کے لیے مختلف علاقوں میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کو بھی چیک کیا گیا اور ایک سی سی ٹی وی کیمرے میں گاڑی جگلوٹ سکردو روڈ پر 16 مئی کی صبح 10 بج کر 37 منٹ پر سسی کے علاقے میں دیکھی گئی سسی سے آگے دمبوداس کی بڑی چیک پوسٹ پر لاپتہ سیاحوں کی گاڑی گزرنے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں اور اسی وجہ سے جگلوٹ اور دمبوداس کے درمیان کے علاقے میں سرچ آپریشن کا آغاز کیا گیا۔

    ریسکیو رضاکارسید عمر فاروق نے کہا کہ ہم نے سرچ آپریشن پر فوکس کیا، کیونکہ پہلے دو تین دنوں میں پولیس اس وجہ سے ایکٹیو نہیں ہو رہی تھی کیونکہ اس علاقے میں سنگلز کے مسئلے موجود ہیں اور سیاح دو تین دن بعد اکثر فیملی سے رابطے میں آجاتے ہیں’پولیس ایکٹیو ہو گئی دوسرا ان نوجوانوں کو ٹریکنگ کا کوئی تجربہ نہیں ہے کہ بندہ کہے کہ وہ کسی پہاڑ پرٹریکنگ کے لیے جا کر لاپتہ ہو گئے ہوں گے۔‘

    عمر فاروق نے بتایا کہ ان کے پاس گاڑی بھی اس روڈ کے مطابق نہیں تھی تو یہ خدشہ تو کم ہے لیکن سکردو روڈ خطرناک ہے اور یہاں اوورسپیڈنگ سے مسئلے آسکتے ہیں، اسی وجہ سے ہم نے اسی روڈ پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیاآج سرچ آپریشن کے دوران سکردو جگلوٹ روڈ پر سفید رنگ کی گاڑی گہری کھائی میں گری ہوئی نظر آئی، جس کے حوالے سے بعد میں تصدیق ہوئی کہ یہ انہی سیاحوں کی گاڑی ہے۔‘

  • گلگت بلتستان اسمبلی اجلاس،چپلیں چل گئیں،ہنگامہ آرائی

    گلگت بلتستان اسمبلی اجلاس،چپلیں چل گئیں،ہنگامہ آرائی

    لگت بلتستان اسمبلی کا اجلاس بدنظمی کا شکار، حکومتی رکن کی جانب سے اپوزیشن رہنما پر چپل پھینکنے کی کوشش

    گلگت بلتستان اسمبلی کا اجلاس اس وقت شدید ہنگامہ آرائی اور بدنظمی کا شکار ہوگیا جب لینڈ ریفارمز بل پر بحث کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان گرما گرم تکرار جھگڑے کی شکل اختیار کر گئی۔ اجلاس کے دوران حکومتی اتحادی رکن امجد حسین کی تقریر کے دوران اپوزیشن رہنما نواز خان کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا، جس کے بعد ایوان کا ماحول کشیدہ ہوگیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق، بات چیت کے دوران تلخی اس حد تک بڑھی کہ حکومتی رکن فضل رحیم نے غصے میں آ کر اپوزیشن رہنما نواز خان پر چپل پھینکنے کی کوشش کی۔ خوش قسمتی سے چپل نواز خان کو نہیں لگی اور وہ محفوظ رہے۔ اس ناخوشگوار واقعے نے ایوان میں موجود دیگر ارکان کو ہکا بکا کر دیا، تاہم کچھ سینئر اراکین نے فوری مداخلت کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں کے درمیان بیچ بچاؤ کروایا اور معاملے کو مزید بڑھنے سے روک دیا۔اسمبلی اجلاس کے دوران پیش آئے اس واقعے نے اسمبلی کے وقار پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، اور سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے پر عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ شہریوں نے اس قسم کے رویے کو غیر جمہوری اور عوامی نمائندوں کے شایانِ شان نہ ہونے کے مترادف قرار دیا ہے۔

    اپوزیشن رہنما نواز خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ایوان میں اظہارِ رائے پر اس طرح کا ردعمل انتہائی قابلِ مذمت ہے، اگر اسمبلی میں سوال پوچھنے پر چپلیں چلیں گی تو یہ جمہوریت کے لیے خطرناک علامت ہے۔”دوسری جانب حکومتی رکن فضل رحیم نے تاحال اس واقعے پر باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم حکومتی حلقوں کی جانب سے ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملے کو ایوان کی سطح پر افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسمبلی سپیکر نے کہا ہے کہ "ایوان کا تقدس برقرار رکھنے کے لیے ایسے رویوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔”

  • گلگت بلتستان میں 25 مستحق جوڑوں کی اجتماعی شادی کی پروقار تقریب

    گلگت بلتستان میں 25 مستحق جوڑوں کی اجتماعی شادی کی پروقار تقریب

    سکردو: گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 25 مستحق جوڑے سکردو میں منعقدہ ایک شاندار اجتماعی شادی کی تقریب میں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ یہ خوبصورت تقریب ایک نجی فلاحی ادارے کی جانب سے منعقد کی گئی، جس کا مقصد معاشی طور پر کمزور خاندانوں کو باعزت زندگی کی ابتدائی بنیاد فراہم کرنا تھا۔

    پروگرام میں شریک افراد نے اس فلاحی اقدام کو معاشرتی ہم آہنگی اور فلاح و بہبود کا ایک بہترین نمونہ قرار دیا۔ تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جن میں مقامی افراد، سماجی کارکنان، اور دیگر مہمان شامل تھے۔ انہوں نے اس اقدام کو سراہا اور معاشرتی ذمہ داری کی اہمیت پر زور دیا۔ایک نو بیاہتا جوڑے کی دلہن، انیلا نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ دن ہماری زندگی کا سب سے یادگار اور خوبصورت لمحہ ہے، اور ہم ان تمام لوگوں کے بے حد شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمارے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔” انیلا کا کہنا تھا کہ وہ اس موقع پر بے حد خوش ہیں کہ ان کا ازدواجی سفر اس خوبصورت تقریب کے ذریعے شروع ہو رہا ہے۔

    تقریب کے دوران ایک دوسرے جوڑے کے دلہا نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات معاشی مشکلات میں مبتلا خاندانوں کے لیے ایک نیا آغاز فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح کی مدد نہ صرف مالی فائدہ پہنچاتی ہے، بلکہ یہ لوگوں کو احساس دلاتی ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں اور معاشرتی یکجہتی کی اہمیت بھی بڑھتی ہے۔تقریب کے منتظمین نے اس موقع پر بتایا کہ ان کا ادارہ مستقبل میں بھی اسی طرح کی اجتماعی شادیوں کا اہتمام کر کے معاشرتی فلاح و بہبود کے عمل کو مزید تقویت دینے کے لیے پرعزم ہے۔ ادارہ ان شادیوں کے ذریعے کمزور طبقات کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ان افراد کو ایک نئی زندگی شروع کرنے کا موقع مل سکے۔اس فلاحی پروگرام کا مقصد نہ صرف نیک نیتی سے معاشرتی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے بلکہ اس سے معاشرتی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کے جذبے کو بھی فروغ دینا ہے۔ اس پروگرام کی کامیابی ایک واضح پیغام ہے کہ ہم سب کو ایک دوسرے کی مدد کے لیے آگے آنا چاہیے تاکہ معاشرہ زیادہ مستحکم اور ہم آہنگ ہو سکے۔

    پروگرام کے منتظمین کا کہنا تھا کہ یہ محض آغاز ہے، اور وہ آنے والے وقت میں بھی ایسے مزید اقدامات کر کے معاشرتی بہتری کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے

    سوات کے علاقے مینگورہ سمیت گردونواح میں پیر کی صبح زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے-

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.2 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کا مرکز کوہ ہندوکش ریجن، افغانستان میں تھازلزلے کی گہرائی 156 کلومیٹر زیر زمین ریکارڈ کی گئی، زلزلے کے جھٹکے چند سیکنڈز تک جاری رہے،جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، لوگ گھروں اور عمارتوں سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر نکل آئے، تاہم کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    نومئی مقدمہ، 20 ملزمان کو عدالت نے سنائی سزا

    وزیراعلی پنجاب کی انڈیا سے واپس آنے والے مریضوں کے مفت علاج کی ہدایت

    پاکستان کا فتح میزائل کا کامیاب تجربہ