پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا اور انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ حکومت 16 فروری کا انتظار نہ کرے بلکہ بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر الشفا اسپتال منتقل کیا جائے اور انہیں اپنے ذاتی معالج تک مکمل رسائی فراہم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا علاج پاکستان میں ہی ممکن ہے، اس لیے انہیں ملک کے اندر ہی مناسب طبی سہولیات دی جائیں۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ اپوزیشن کا دھرنا شروع ہو چکا ہے اور پارلیمنٹ لاجز کو سیل کرنے اور راستے بند کرنے کے اقدام کی مذمت کرتے ہیں۔
Category: اسلام آباد
-

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، فوری اسپتال منتقل کیا جائے: بیرسٹر گوہر
-

عمران خان کو جیل میں صحت کی تمام سہولیات فراہم کی جائیں،مولانا فضل الرحمان
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ انسانی ہمدردی اور ہماری مشرقی روایات کا تقاضا ہے کہ ایک بڑی سیاسی جماعت کے قائد عمران خان کو جیل میں صحت کی تمام سہولیات فراہم کی جائیں اور انہیں اپنی مرضی کے ڈاکٹر سے معائنہ کرانے کی اجازت دی جائے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کو دشمنی کی حد تک لے جانا معاشرتی نقصان کا باعث بنتا ہے، اس لیے فطری اختلاف کو تصادم میں بدلنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کی اجتماعی بقا اسی میں ہے کہ سیاسی کشیدگی عوامی زندگیوں میں مشکلات اور سماجی نظم و ضبط کی خرابی کا سبب نہ بنے۔ ان کے بقول سیاست خود مقصد نہیں بلکہ انسانی فلاح کے حصول کا ذریعہ ہونی چاہیے۔سربراہ جے یو آئی نے سرحدی صوبوں میں بڑھتی بدامنی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خصوصاً خیبر پختون خوا اور ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس پر دہشتگرد حملوں نے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے، پنیالہ پولیس پر حالیہ مہلک حملہ چند ہفتوں میں دوسرا بڑا واقعہ ہے جس میں ایس ایچ او فہیم ممتاز سمیت چار اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔
مولانا فضل الرحمن نے آئی جی پی خیبر پختون خوا سے مطالبہ کیا کہ سانحہ پنیالہ کی مکمل اور شفاف انکوائری کرائی جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دہشتگردوں نے شہید افسر کی سرکاری ایس ایم جی کیسے چھینی جبکہ اس وقت سی ٹی ڈی کی بھاری نفری ان کے ساتھ موجود تھی۔ مزید یہ کہ پیچیدہ اور پہاڑی علاقوں میں آپریشن کے دوران بکتر بند گاڑی فراہم نہ کیے جانے کی وجوہات بھی سامنے لائی جائیں۔
-

پی ٹی آئی احتجاج،ریڈزون مکمل بند،پولیس کی بھاری نفری تعینات
تحریک انصاف اور تحریک اور اپوزیشن اتحاد کی جانب سے احتجاج کا اعلان کے پیش نظر اسلام آباد کے ریڈ زون کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
اپوزیشن اتحاد کے احتجاج کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی گیٹ بند کر دیے گئے ہیں اور پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اور اندر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے قیدی وین اور بکتر بند گاڑی بھی پہنچا دی گئی ہیں،ریڈیو پاکستان چوک سے شاہراہ دستور کو مکمل بند کر دیا گیا ہے اور پولیس کی بھارتی نفری ریڈیو پاکستان چوک پر جمع ہو گئی ہے۔ پولیس کسی بھی شہری اور ممبر اسمبلی کو پارلیمنٹ کی طرف جانے نہیں دے رہی۔
پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی اقبال آفریدی اور عمیر نیازی کو بھی ریڈیو پاکستان چوک پرروک دیا گیا،پارلیمنٹ جانے سے روکنے پر پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی فتح اللہ خان کی پولیس سے تکرار بھی ہوئی،پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی فتح اللہ خان نے الزام عائد کیا کہ پولیس ٹیم نے میرے گارڈ کو تھپڑ مارے۔
-

جے یو آئی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفورحیدری کو دل کا دورہ،ہسپتال داخل
اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری دل کے عارضے میں مبتلا ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ شب مولانا عبدالغفور حیدری کو اچانک دل کا دورہ پڑا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق ان کا علاج جاری ہے اور ڈاکٹروں کی ٹیم ان کی حالت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔مولانا عبدالغفور حیدری کی صحت یابی کے لیے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، صوبائی امیر بلوچستان مولانا عبدالواسع، سینیٹر کامران مرتضیٰ اور دیگر پارٹی رہنماؤں نے ہسپتال پہنچ کر ان کی عیادت کی اور ان کے جلد صحت یاب ہونے کی دعا کی۔
پارٹی ذرائع کے مطابق مولانا عبدالغفور حیدری کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے تاہم ڈاکٹروں نے ان کے لیے مکمل آرام اور مسلسل نگرانی کی ہدایت دی ہے۔ اس موقع پر پارٹی رہنماؤں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ مولانا عبدالغفور حیدری کے لیے دعائیں کریں تاکہ وہ جلد اپنی صحتیابی کے بعد عوامی اور سیاسی سرگرمیوں میں دوبارہ حصہ لے سکیں۔
-

اسلام آباد ہائیکورٹ،کمرہ عدالت میں سائل بیہوش،ہسپتال منتقل
اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ کے کمرہ عدالت میں ایک درخواست گزار اچانک بیہوش ہو کر زمین پر گر گیا، جس کے باعث عدالتی کارروائی کچھ دیر کے لیے متاثر ہوئی۔
تفصیلات کے مطابق 36 سالہ دلنواز نامی سائل اپنی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کی سماعت کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہوا تھا۔ کیس کی سماعت جسٹس محمد آصف کر رہے تھے۔ دورانِ سماعت فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد معزز جج نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسی دوران سائل دلنواز کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی اور وہ کمرہ عدالت میں ہی بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ عینی شاہدین کے مطابق دلنواز کو چکر آئے اور وہ سنبھل نہ سکا۔ عدالتی عملے اور وکلاء نے فوری طور پر اسے سہارا دیا جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائی شروع کی۔
دلنواز کو فوری طور پر ہائی کورٹ کی ڈسپنسری منتقل کیا گیا جہاں اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ ڈسپنسری میں طبی معائنہ کے بعد ڈاکٹروں نے مزید علاج کی ضرورت کے پیش نظر اسے قریبی ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی، جس پر ایمبولینس کے ذریعے اسے ہسپتال روانہ کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق دلنواز کی حالت اس وقت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے تاہم حتمی طبی رپورٹ آنے کے بعد ہی اس کی بیہوشی کی وجوہات سامنے آسکیں گی۔ عدالتی کارروائی کچھ دیر تعطل کے بعد دوبارہ شروع کردی گئی۔
-

بنگلہ دیش انتخابات میں کامیابی پر صدر مملکت،وزیراعظم شہباز کی طارق رحمان کو مبارکباد
صدرِ مملکت آصف زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمٰن کو بنگلادیش کے عام انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے بنگلادیش کے عوام کو 299 نشستوں پر انتخابات کے کامیاب انعقاد پر بھی مبارکباد دی ہے،اُنہوں نے کہا ہے کہ نئی بنگلادیشی حکومت کے ساتھ تجارت، دفاع، ثقافت اور علاقائی فورمز میں تعاون کےخواہاں ہے، بنگلادیش میں انتخابات جنوبی ایشیاء کے لیے ماضی کے مراحل سے آگے بڑھنے کا ایک موقع ہے، ڈھاکا کا نیا سیاسی ماحول خطے میں متوازن، آزاد اور باہمی احترام پر مبنی روابط کو فروغ دے گا،
اُنہوں نے بنگلادیش کے مسلسل استحکام، ترقی اور خوش حالی کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے انتخابات میں کامیابی پر طارق رحمٰن کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلادیش کی نئی قیادت کے ساتھ مل کر تاریخی، برادرانہ اور کثیرالجہتی دو طرفہ تعلقات کے خواہاں ہیں،اُنہوں نے کہا کہ پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان بہتر تعلقات کے ثمرات عوام کو حاصل ہوں گے،دونوں ممالک باہمی تعاون کے ذریعے جنوبی ایشیاء میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف پر کام کریں گے۔
-

فوجی فرٹیلائزر کمپنی پی آئی اے میں بڑی سٹیک ہولڈر بن گئی
فوجی فرٹیلائزر کمپنی (ایف ایف سی) نے عارف حبیب گروپ کی قیادت میں قائم کنسورشیم میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جس کے بعد اس نے ایک تاریخی 135 ارب روپے کے نجکاری معاہدے کے تحت P (پی آئی اے) کے 75 فیصد حصص کامیابی سے حاصل کر لیے ہیں۔
یہ بڑی مالیاتی ڈیل پاکستان میں نجکاری کے عمل میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ ایف ایف سی کی مضبوط مالی بنیاد اور صنعتی مہارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کنسورشیم نے پی آئی اے کی تنظیمِ نو، آپریشنز میں بہتری، انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن اور ادارے کی مسابقتی حیثیت بحال کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔
حکومت اس معاہدے کو قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے اور نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق پی آئی اے کی طویل مدتی بحالی اور استحکام کے لیے مؤثر عمل درآمد کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
-

اپوزیشن اتحاد کا عمران خان سے ملاقات ، علاج تک پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنے کا اعلان
اپوزیشن اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کے مکمل علاج تک پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دیا جائے گا۔
اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مکمل علاج تک پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دیا جائے گا، پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی دروازے پر تحریک انصاف کی مرکزی قیادت دھرنا دے گی، اس سلسلے میں تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کو پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنےکی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔اجلاس کے بعد پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےعلامہ راجہ ناصر عباس کاکہنا تھا کہ ہماری میٹنگ ہوئی ہے،ہم نے فیصلہ کیا کہ کل نماز جمعہ کے بعد پارلیمنٹ کے باہر پرامن دھرنا دیں گے، سینیٹر، اراکین قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی شریک ہوں گے، ابھی تک عمران خان کے علاج کے لئے حکومت نے کوئی رابطہ نہیں کیا، آج تین دن ہو گئے،ہمارا مطالبہ ہے کہ ملاقات کروائی جائے، ڈاکٹروں کو دکھایا جائے،
یہ فیصلہ اس رپورٹ کے منظرِ عام پر آنے کے بعد کیا گیا جس میں اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی 15 فیصد تک محدود رہ گئی ہے۔
سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کا معائنہ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف سے کرایا جائے یا کسی مستند ماہر امراض چشم سے مکمل طبی جانچ کروائی جائے۔ انہوں نے قید تنہائی اور ٹی وی تک رسائی نہ ہونے کی صورت میں کتابیں فراہم کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2025 تک ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی 6×6 یعنی نارمل تھی، تاہم بعد میں مسلسل دھندلاہٹ اور نظر کم ہونے کی شکایات شروع ہوئیں۔ عمران خان کے مطابق انہوں نے متعدد بار اُس وقت کے سپرنٹنڈنٹ جیل کو آگاہ کیا مگر کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں دائیں آنکھ کی بینائی اچانک متاثر ہوئی، جس پر پمز اسپتال کے ماہر امراض چشم ڈاکٹر محمد عارف کو معائنے کے لیے بلایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق آنکھ میں خون کا لوتھڑا بننے سے شدید نقصان ہوا اور علاج، بشمول انجیکشن، کے باوجود بینائی صرف 15 فیصد تک بحال ہو سکی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے سابق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ -

بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے باہر بھیجنا پڑا تو ضرور بھیجیں گے۔ ڈاکٹر طارق فضل چودھری
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے باہر بھیجنا پڑا تو ضرور بھیجیں گے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چودھری کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی بیماری کے حوالے سے یہ دوسری رپورٹ ہے اور پمز کی رپورٹ کے مطابق بانی کے علاج کے بعد آنکھ ٹھیک ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سلمان صفدر وکیل ہیں ان کی رپورٹ میڈیکل کی نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ اکتوبر کے بعد بانی پی ٹی آئی کو آنکھوں میں مسلسل دھندلاہٹ کی شکایت ہونے لگی تھی اور بعد میں ان کی دائیں آنکھ کی بینائی اچانک اور مکمل ختم ہوگئی۔ان کا کہنا تھا کہ تفصیلی معائنے کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ ان کی بینائی کا نقصان کا ازالہ ہوسکتا ہے یا نہیں۔آنکھوں کے ماہرین دیکھ کر بتا سکتے ہیں کہ عمران خان کی اس وقت کیا صورتحال ہے اس کے بعد فیصلہ کیا جا سگتا ہے کہ آگے کیا کرنا ہے ،ماہرین کی رائے سے ہی اندازہ ہو سگتا ہے کہ آنکھ کا مسئلہ قابل علاج ہے یا نہیں ،عمران خان کی رپورٹس ایک نہیں دو ہیں ، ایک رپورٹ پمز کے آنکھوں کے ماہرین نے بنائی تھی ، ان کی رپورٹ مختلف ہے ،سلمان صفدر ایک وکیل ہیں ان کی رپورٹ عمران خان کی شکایت ہے میڈیکل رپورٹ نہیں ہے ،عمران خان کا باقاعدہ چیک اپ ہوتا ہے ان کا بلڈ پریشر چیک ہوتا ہے ،ان کی شکایت پر ہی انہیں پمز لایا گیا اور ان کا علاج کروایا گیا
-

این سی سی آئی اے میں 77 کنٹریکٹ افسران فارغ
نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے 77 کنٹریکٹ افسران کو فارغ کر دیا ہے، جن میں ٹیکنیکل، فرانزک اور انویسٹیگیشن ونگ کے گریڈ 16 سے 18 کے افسران شامل ہیں۔ ایف پی ایس سی کی جانب سے دی گئی تین ماہ کی آخری توسیع بھی ختم کر دی گئی۔
فارغ کیے جانے والے افسران میں چار ڈپٹی ڈائریکٹرز، 47 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، ایک آفس سپریٹنڈنٹ، سات ٹیکنیکل افسران اور 18 انسپکٹرز شامل ہیں۔ کیسز اور عدالتوں میں زیر سماعت درخواستوں کے معاملات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
این سی سی آئی اے کے ڈی جی نے 258 نئی بھرتیوں کے لیے پی سی ون بھیجوا دیا ہے، جس کے مطابق نئی بھرتیوں سے سائبر کرائم تحقیقات اور پراسیکیوشن مضبوط ہوں گی۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر انوسٹگیشن اسد فخرالدین کے خلاف انکوائری مکمل ہونے تک کنٹریکٹ میں توسیع دے دی گئی ہے۔