Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • اپنے پانی کے حقوق پر کسی سمجھوتے کو قبول نہیں کریں گے،پاکستان

    اپنے پانی کے حقوق پر کسی سمجھوتے کو قبول نہیں کریں گے،پاکستان

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے پانی کے حقوق پر کسی سمجھوتے کو قبول نہیں کرے گا۔

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان بین الاقوامی ثالثی عدالت میں بھارت کے خلاف قانونی کارروائی کر رہا ہے، لیکن بھارت نے حاضری نہیں دی،سندھ طاس معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک مسلمہ بین الاقوامی معاہدہ ہے اور پاکستان اپنے پانی کے حقوق پر کسی سمجھوتے کو قبول نہیں کرے گا۔

    ترجمان نے کہا کہ بھارت میں ریاستی سرپرستی میں ہجوم کے ہاتھوں قتل اور مسلمانوں و مسیحیوں پر مظالم تشویشناک ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں افغانستان اور دہشتگرد گروہوں کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی تصدیق ہوئی ہے۔ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف اقدامات کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے کئی رافیل طیارے گرائے اور مستقبل میں بھارتی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا اسلام آباد میں داعش کے حملے کے معاملے کو عالمی سطح پر اٹھایا جا رہا ہے اور داعش کا ماسٹر مائنڈ افغانستان میں موجود ہے، کھیل کو سیاست کا ہتھیار بنانے کی کوشش غلط ہے، اور پاکستان نے بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ساتھ میچ کھیلنے کا فیصلہ کھیل کے اصولوں کے مطابق کیا۔

    غزہ پیس بورڈ اجلاس کے حوالے سے بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اجلاس میں شرکت کریں گے اور 8 مسلم ممالک کی آواز اس اجلاس میں سنی جائے گی۔ پاکستان آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے جس کی سرحدیں 1967 سے پہلے کی ہوں گی ،انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی حمایت کی اور کہا کہ پاکستان مذاکرات کے ذریعے مسائل کے پرامن حل کی کوششیں جاری رکھے گا۔

  • مستقبل کی جانب کام کریں جہاں ہر بچہ محفوظ ، ہر عورت وقار و تحفظ کے ساتھ رہے، آصفہ بھٹو

    مستقبل کی جانب کام کریں جہاں ہر بچہ محفوظ ، ہر عورت وقار و تحفظ کے ساتھ رہے، آصفہ بھٹو

    خاتونِ اول، رکنِ قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ رہائش بنیادی حق ہے اور پیپلز پارٹی کے وعدے روٹی، کپڑا اور مکان میں شامل ہے۔

    ایشیا پیسیفک شیلٹر اینڈ سیٹلمنٹس فورم 2026ء سے خطاب کے دوران آصفہ بھٹو کا کہنا تھا کہ محفوظ رہائش کا اثر خواتین اور بچوں کے لیے خاص طور پر گہرا ہے، محفوظ گھر اور مالی شمولیت سے خواتین کے فوائد گھر سے باہر تک پھیلتے ہیں، خطے میں لاکھوں خاندان موسمیاتی تبدیلی اور سماجی چیلنجز سے متاثر ہیں، محفوظ رہائش کی کمی صرف مادی مسئلہ نہیں بلکہ وقار اور مواقع کا نقصان ہے، رہائش محض چھت نہیں بلکہ صحت، تعلیم اور استحکام کی بنیاد ہے،مستقل رہائش وہ جگہ ہے جہاں خاندان سنبھلتے، بچے خواب دیکھتے اور کمیونٹیز آگے بڑھتی ہیں، خواتین خاندان، سماجی ہم آہنگی اور طویل مدتی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، خواتین کو منصوبوں کے مرکز میں رکھنے سے پوری معاشرے کی پائیداری ہوتی ہے، ایشیا پیسیفک خطہ دنیا کے سب سے زیادہ موسمیاتی طور پر حساس علاقوں میں سے ہے۔ سیلاب، طوفان، زلزلے اور شدید گرمی کمیونٹیز کو بے گھر اور بستوں پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔

    آصفہ بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ ماحولیاتی پائیداری ہر پہلو میں شامل ہونی چاہیے، ڈیزائن سے کمیونٹی گورننس تک، اسی پس منظر میں سندھ ایک طاقتور اور متعلقہ مثال پیش کرتا ہے، 2022ء کے سیلاب کے بعد سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز پروگرام شروع کیا گیا، قدرتی آفت کے بعد 2 کروڑ 10 لاکھ ماحولیاتی مضبوط مکانات کا یہ دنیا کا بڑا منصوبہ ہے، یہ منصوبہ 15 ملین سے زیادہ لوگوں کو براہِ راست فائدہ پہنچا رہا ہے، مکانات اور زمین خواتین کے نام کر کے ان کے وقار، تحفظ و مالی شمولیت کو مضبوط کر رہے ہیں، یہ بحالی صرف ڈھانچہ نہیں بلکہ زندگی و مستقبل کو بحال کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے، پائیدار بستوں کے لیے سماجی ہم آہنگی بھی اتنی ہی اہم ہے، مضبوط کمیونٹیز اعتماد، شرکت اور ملکیت کے احساس سے بنتی ہیں، فیصلہ سازی و مستقبل میں سرمایہ کاری سے بحالی تیز گہری و ترقی دیرپا ہوتی ہے، یہ فورم حکومت، شراکت داروں، سول سوسائٹی، نجی شعبے اور کمیونٹیز میں تعاون مضبوط کرنے کا موقع ہے، ہماری ذمے داری ہے سستے، مقامی، ماحولیاتی مضبوط اور کمزور افراد شامل حل اپنائیں، ہماری مشترکہ ذمے داری یہ ہے محض مکالمے سے آگے بڑھیں اور عمل کی طرف جائیں، ایسے حل اپنائیں جو سستے، مقامی، ماحولیاتی مضبوط اور پسماندہ افراد شامل ہوں، ایسے فورمز کی کامیابی بیانات میں نہیں بلکہ زمین پر بہتر زندگیوں میں ناپی جاتی ہے، مستقبل کی جانب کام کریں جہاں ہر بچہ محفوظ اور ہر عورت وقار و تحفظ کے ساتھ رہے،

  • ملالہ یوسفزئی کا پاکستانی طالبات کیلئے آکسفورڈ میں اسکالرشپ پروگرام

    ملالہ یوسفزئی کا پاکستانی طالبات کیلئے آکسفورڈ میں اسکالرشپ پروگرام

    نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے پاکستانی طالبات کے لیے اسکالرشپ پروگرام کا اعلان کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد ان کی خواہش تھی کہ وہ ان لڑکیوں کے لیے کچھ کریں جو تعلیم کے حق کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں اس اسکالرشپ کے تحت پاکستانی خواتین کو آکسفورڈ یونیورسٹی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا، خاص طور پر ان طالبات کو ترجیح دی جائے گی جو تعلیم کے ذریعے پاکستان میں مثبت تبدیلی لانا چاہتی ہیں۔

    ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ جو پاکستانی خواتین آکسفورڈ میں ماسٹرز کرنے کا خواب رکھتی ہیں اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن واپس آ کر معاشرے کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہتی ہیں، یہ پروگرام ان کے لیے بہترین موقع ہے،اسکالرشپ کے لیے درخواستیں آکسفورڈ پاکستان پروگرام کی ویب سائٹ oxpakprogramme.org کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہیں، ملالہ نے کہا کہ وہ نئی طالبات کو آکسفورڈ میں خوش آمدید کہنے کی منتظر ہیں۔

  • نوجوان نسل کو   انتہاپسندانہ نظریات سے محفوظ بنانا ہوگا،وزیراعظم

    نوجوان نسل کو انتہاپسندانہ نظریات سے محفوظ بنانا ہوگا،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نےا تشدد پر مبنی انتہاپسندی کی روک تھام کے عالمی دن پر کہا ہے کہ آج تشدد پر مبنی انتہاپسندی کی روک تھام کے عالمی دن پر پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ ہم ہر قسم کی انتہاپسندی، دہشت گردی، نفرت و عفریت اور تشدد آمیز نظریات کے خلاف اپنی قومی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انتہاپسندی اور تشدد کے نظریات نہ صرف معاشروں کے امن و استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ یہ انسانیت، برداشت، رواداری اور باہمی احترام جیسی بنیادی انسانی اقدار کو بھی کمزور کرتے ہیں۔پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں میں دہشت گردی اور پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہمارے بہادر سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی قربانیاں ہمارے قومی عزم کی روشن مثال اور باعث فخر ہیں۔اسلام ایک امن پسند دین ہے جو اعتدال، رواداری، مکالمے اور انسانی جان کے احترام کا درس دیتا ہے۔ ہمیں نوجوان نسل کو تعلیم، مواقع اور مثبت سوچ فراہم کر کے انہیں انتہاپسندانہ نظریات سے محفوظ بنانا ہوگا۔ سماجی انصاف، معاشی شمولیت اور بین المذاہب ہم آہنگی ہی پائیدار امن کی بنیاد ہیں۔
    اس تناظر میں پاکستان اس امر پر بھی زور دیتا ہےکہ دنیا میں جاری ناانصافیاں، طویل تنازعات اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں انتہاپسندی اور تشدد کو جنم دیتی ہیں۔عالمی منظر نامہ پر طویل حل طلب تنازعات بشمول مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں معصوم شہریوں کے خلاف ریاستی ظلم و جبر اور بنیادی حقوق کی پامالی بھی انتہا پسندانہ رویہ کی عکاس ہے۔ پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ ان دیرینہ تنازعات کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے موثر اقدامات کرے۔پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی، تعاون اور شراکت داری کے ذریعے پرتشدد انتہاپسندی کے خاتمے اور ایک منصفانہ و پرامن عالمی نظام کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔آئیے آج کے دن ہم سب مل کر ایک پرامن، محفوظ اور ہم آہنگ معاشرے کی تعمیر کا عہد کریں۔

  • آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ  پروگرام، طلبا کا آزاد جموں و کشمیرمیں لائن آف کنٹرول کا دورہ

    آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام، طلبا کا آزاد جموں و کشمیرمیں لائن آف کنٹرول کا دورہ

    نوجوان نسل کی قومی تربیت کیلئے آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام ملک بھر میں جاری ہیں۔

    تفصیلات کےمطابق آئی ایس پی آر ونٹر انٹرن شپ پروگرام کے دوران طلباء کیلئے آزاد جموں و کشمیر کے مطالعاتی و تفریحی دورہ کا انعقاد کیا گیا آئی ایس پی آر انٹرن شپ پروگرام کے تحت آزاد کشمیر کے طلباء نے لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا۔

    دورے کا مقصد شرکاء کو زمینی حقائق، سیکیورٹی چیلنجز اور پاک فوج کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا تھا اس موقع پر طلبا نے اظہارِ خیال کر تے ہوئے کہا کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے براہ راست سیشنز کےساتھ مطالعاتی دوروں کا انعقاد نہایت مثبت اقدام ہے۔

    طلباء کے مطابق ایسے پروگرام کتابی علم کو عملی تجربے سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں،طلباء نے مستقبل میں بھی اس نوعیت کے معلوماتی اور تربیتی پروگراموں کے تسلسل کی امید کا اظہار کیا۔

  • سپریم کورٹ کا عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی ، بچوں سے رابطوں کی سہولت دینے کا حکم

    سپریم کورٹ کا عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی ، بچوں سے رابطوں کی سہولت دینے کا حکم

    سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران کو ذاتی معالجین اور ماہر امراضِ چشم تک رسائی دینے اور ان کے بیٹوں سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت عظمیٰ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ،چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی اور بیرسٹر سلمان صفدر سپریم کورٹ پہنچے،دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو روسٹرم پر بلا لیا اور کہا کہ فرینڈ آف دی کورٹ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس ایک جیسی ہیں، رپورٹ کا پیراگراف نمبر 21 پڑھیں۔

    عدالت میں پڑھی گئی رپورٹ کے متن کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے جیل میں حفاظتی سہولیات اور سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا جب کہ د ستیا ب کھانوں کی سہولیات پر بھی اطمینان ظاہر کیا، تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے طبی سہولیات کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور ماہر آنکھوں کے ڈاکٹرو ں تک رسائی کی درخواست کی۔

    تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے،صدرِ مملکت

    چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت اسٹیٹ کسٹڈی میں ہیں اور بانی پی ٹی آئی سمیت تمام قیدیوں کو یکساں طبی سہولیات ملنی چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ بالکل بھی نہیں کہیں گے کہ بانی پی ٹی آئی کو دیگر قیدیوں کے مقابلے میں نمایاں سہولیات دی جائیں، سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ ہم ماہر آنکھوں کے ڈاکٹروں تک رسائی دینے کے لیے تیار ہیں، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ حکو مت اچھے موڈ میں ہے بانی پی ٹی آئی کو ان کے بچوں کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کی سہولت بھی ملنی چاہیے، بانی پی ٹی آئی کو کتابیں پڑھنے کے لیے فراہم کرنے کی رائے اس لیے نہیں دے رہے کیونکہ ان کی آنکھوں کا مسئلہ ہے۔

    انہوں نے ہدایت کی کہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے بانی پی ٹی آئی کو ماہرین تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطوں کی سہولیات دی جائیں، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ دو سے تین دن تک ہو جائے گا ،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے یقین دہانی کرائی کہ 16 فروری تک آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطوں کی سہولیات فراہم کر دی جائیں گی، جسے عدالتی حکم نامے کا حصہ بنایا گیا۔

    ڈی پی اور قصور کی اہم کانفرنس میں اہم احکامات ،افسران کے تبادلے

    دوران سماعت فرینڈ آف دی کورٹ سلمان صفدر نے استدعا کی کہ کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں ماہر آنکھوں کے ڈاکٹروں تک بانی پی ٹی آئی کو رسائی دی جائے جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم ایسا کوئی حکم نہیں دے سکتے عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو ذاتی معالجین تک رسائی کا حکم دے دیا تاہم کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں تک رسائی دینے کی استدعا مسترد کر دی۔

    سلمان صفدر نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو مزید کتابیں فراہم کی جائیں جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اگر ڈاکٹرز اجازت دیں تو کتابیں فراہم کی جائیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے اس معاملے پر مداخلت کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں حکومت کا موقف جاننا چاہتے ہیں۔ صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

    بنگلہ دیش انتخاب،جین زی اور خواتین ووٹرز فیصلہ کن قوت

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اگر قیدی مطمئن نہیں تو ریاست اقدامات کرے گی، چیف جسٹس نے کہا کہ بچوں سے ٹیلی فون کالز کا ایشو بھی اہم ہے ہم حکومت پر اعتماد کررہے ہیں، آج حکومت اچھے موڈ میں ہے، معائنہ کے لیے ڈاکٹرز کی ٹیم تشکیل دی جائے گی ، اس موقع پر عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بچوں سے بات کروانے کی بھی ہدایت کردی ،عدالت نے کہا کہ دونوں اقدامات 16 فروری سے پہلے کرلیے جائیں-

  • تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے،صدرِ مملکت

    تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے،صدرِ مملکت

    اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی پالیسی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہے،پاکستان امن، برداشت اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

    تشدد پر مبنی انتہا پسندی کی روک تھام کے عالمی دن (بوقتِ سازگاری برائے دہشت گردی) کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس کے بنیادی اسباب سے نمٹنا ناگزیر ہےانہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے انسدادِ تشدد کنونشن پر کاربند ہے اور قومی انسدادِ انتہا پسندی پالیسی 2024 فعال روک تھام کی حکمتِ عملی فراہم کرتی ہے۔

    آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی پالیسی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہے اسلام اور انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ برداشت، مساوات اور احترامِ انسانیت کا درس دیتے ہیں،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قربانیاں دی ہیں اور پا ئیدار امن تعلیم، مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کے ذریعے ہی ممکن ہے قانونی تحفظات اور ادارہ جاتی اصلاحات کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ انتہاپسندی کا موثر سدباب کیا جا سکے۔

    اپنے پیغام میں صدر زرداری نے کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مشترکہ ذمہ داری کے تحت تعاون کو فروغ دے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسدادِ انتہاپسندی کی کوششیں کسی مذہب یا ثقافت کو بدنام نہ کریں، جبکہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا شدت پسندی کے سدباب کے لیے ناگزیر ہے۔

    صدر مملکت نے نفرت انگیز تقاریر اور گمراہ کن معلومات کے مؤثر سدباب کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ خاندان اور برادریاں انتہاپسند بیانیے کے خلاف پہلی دفاعی دیوار ہیں، ہمیں ایسی دنیا کی تعمیر کے لیےمل کر کام کرنا ہوگاجہاں نفرت پر امید غالب ہو اور تشدد پر امن اور تقسیم پر مکالمےکو ترجیح دی جا ئے۔

  • نئے عزم کے ساتھ دنیا کے سامنے مسئلہ کشمیر پیش کرنا چاہیے، سردار مسعود خان

    نئے عزم کے ساتھ دنیا کے سامنے مسئلہ کشمیر پیش کرنا چاہیے، سردار مسعود خان

    اکادمی ادبیات پاکستان، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، اسلام آباد کے زیر اہتمام یومِ یکجہتی کشمیر کے حوالے سےفیض احمد فیض آڈیٹوریم، سیکٹر H-8/1، اسلام آباد میں ایک خصوصی فکری و ادبی تقریب بعنوان “کشمیر کا مقدمہ: نسلِ نو کی زبانی” منعقد ہوئی۔

    تقریب کی صدارت سردار مسعود خان، سابق سفیر اور سابق صدر آزاد جموں و کشمیر نے کی، تقریب کے مہمانانِ خصوصی اورنگزیب خان کچھی، وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، رانا محمد قاسم نون، وفاقی وزیر و چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر، ڈاکٹر سمیع اللہ ملک، کشمیری رہنما و دانشور، اور مہمانِ اعزاز اسدرحمان گیلانی ، وفاقی سیکریٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن شامل تھے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر کاشف عرفان نے انجام دیے۔تقریب کا آغاز قومی ترانے سے ہوا، جس کے بعد حسن احمد، طالب علم پنجاب گروپ آف کالجز نے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کی، جبکہ جبران حیدر نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔

    اکادمی ادبیات پاکستان کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ تقریب کا مقصد نوجوان نسل کو مسئلہ کشمیر پر اظہارِ خیال کا موقع فراہم کرنا ہے، کیونکہ کشمیر کا مستقبل انھی کے ہاتھوں میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان کا وجود نامکمل ہے۔ یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر اس تقریب کا انعقاد اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو محض سیاسی بیانیے تک محدود رکھنے کے بجائے فکری، ادبی اور تہذیبی سطح پر زندہ رکھا جائے۔ ادب قومی شعور کی تشکیل، تاریخ کے تحفظ اور عالمی مکالمے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ انھوں نے پنجاب گروپ آف کالجز کی انتظامیہ پروفیسر چودھری محمد اکرم اور اساتذہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ نے نہ صرف سامعین کی حیثیت سے بلکہ بھرپور مکالمے اور فعال شرکت کے ذریعے اپنی فکری وابستگی کا ثبوت دیا۔ڈاکٹر نجیبہ عارف نے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج، H-9 کی انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا، جہاں کے طلبہ نے “کشمیر کا مقدمہ” کے موضوع پر ڈرامہ پیش کیا، جس میں کشمیری عوام کے دکھ، کرب اور جدوجہد کو فنکارانہ انداز میں نہایت مؤثر طور پر اجاگر کیا گیا۔

    وفاقی وزیر اورنگزیب خان کچھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوان نسل کے جذبات اور وابستگی کو دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، یہ ایک سنجیدہ انسانی اور عالمی مسئلہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کی تقریب اکادمی ادبیات پاکستان کی مسئلہ کشمیر پر ادبی سطح پر مؤثر کاوشوں کی عکاس ہے اور بطور علمی و ادبی ادارہ مسئلہ کشمیر پر فکری اور علمی معاونت فراہم کر رہی ہے اورحکومت اس مسئلے کو بھرپور انداز میں عالمی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ میں اجاگر کر رہا ہے۔

    وفاقی سیکریٹری اسدرحمان گیلانی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ہماری تہذیبی ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔ ہمیں اس بیانیے کو زندہ رکھنے کے لیے فکری اور ثقافتی سطح پر مسلسل کاوشیں کرنا ہوں گی۔ڈاکٹر سمیع اللہ ملک نےاپنی خطاب میں مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظر، اس کی بین الاقوامی حیثیت اور کشمیری عوام کی قربانیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انھوں نے نوجوانوں کو غور و فکر، شعور اور فکری بیداری کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مقدمہ عالمی ضمیر کے سامنے پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    وفاقی وزیر و چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر رانا محمد قاسم نون نے کہا کہ کشمیر ہمارے وجود کا حصہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کے مسائل میں مماثلت ہے، جہاں عوام طویل عرصے سے قربانیاں دے رہے ہیں۔ پاکستان اس وقت تک اپنی تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کشمیر اس کا حصہ نہیں بنتا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو نصابِ تعلیم کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں کشمیری عوام کی جدوجہد سے آگاہ رہیں۔

    سردار مسعود خان نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ کشمیری عوام کی طویل جدوجہد تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ظلم، جبر اور غیر انسانی ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیر پر قبضہ جما رکھا ہے اور جینوسائیڈ کے ذریعے وہاں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ معرکۂ حق میں کامیابی کے بعد پاکستان کو یہ موقع میسر آیا ہے کہ وہ نئے عزم اور مضبوط مؤقف کے ساتھ دنیا کے سامنے مسئلہ کشمیر پیش کرے۔آخر میں تقریب میں شریک طلبہ و طالبات میں اکادمی ادبیات پاکستان کی مطبوعات بطور تحائف تقسیم کی گئیں۔

  • ریٹائرڈ ملازمین کی طبی سہولیات کا معاملہ، پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو قانونی نوٹس ارسال

    ریٹائرڈ ملازمین کی طبی سہولیات کا معاملہ، پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو قانونی نوٹس ارسال

    سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے وکیل بدر عالم ایڈووکیٹ نے پی آئی اے کے ریٹائرڈ افسران کی نمائندہ تنظیم سوسائٹی آف فارمر پی آئی اے آفیسرز (SOFPO) کی جانب سے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (PIA-HCL) کو طبی سہولیات کے معاملے پر باقاعدہ قانونی نوٹس ارسال کر دیا ہے۔

    قانونی نوٹس 10 فروری 2026 کو جاری کیا گیا جس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر اور چیف ہیومن ریسورس آفیسر پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی مکمل نقل فوری طور پر فراہم کی جائے۔نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن (PIAC) کو 2016 کے ایکٹ کے تحت پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کیا گیا تھا، جس کے پیرا 6 کی شق (iv) میں واضح طور پر درج ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور دیگر مراعات کو ان کے نقصان میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔وکیل کے مطابق طبی سہولیات بھی بعد از ریٹائرمنٹ مراعات کا حصہ ہیں، لہٰذا انہیں کم یا ختم کرنا قانوناً ممکن نہیں۔

    نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ بعد ازاں پی آئی اے کو دو اداروں، یعنی PIACL اور PIA-HCL میں تقسیم کیا گیا۔ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) نے 3 مئی 2024 کو اسکیم آف ارینجمنٹ (SOA) کی منظوری دی، جس کے تحت ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور طبی سہولیات سمیت تمام واجبات پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کر دیے گئے۔ایس ای سی پی کے حکم نامے کے پیرا 9 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کمیشن نے توقع ظاہر کی تھی کہ کمپنی ریٹائرڈ ملازمین کے خدشات کو قانون کے مطابق دور کرے گی اور ان کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔نوٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یکم اکتوبر 2025 کو پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے بورڈ کی ذیلی کمیٹی برائے طبی سہولیات کے اجلاس میں اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن نے مجوزہ میڈیکل انشورنس پلان پر بریفنگ دی تھی۔ اس موقع پر ریٹائرڈ افسران کی تنظیم نے کئی تحفظات کا اظہار کیا اور معاہدے کا مسودہ فراہم کرنے کی درخواست کی، جس پر کمیٹی نے رضامندی ظاہر کی تھی۔تاہم تنظیم کے مطابق تین تحریری یاد دہانیوں کے باوجود معاہدے کا مسودہ فراہم نہیں کیا گیا۔

    نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ 28 جنوری 2026 کو جاری کردہ سرکلر کے ذریعے یہ تصدیق کی گئی کہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی نے اسٹیٹ لائف کے ساتھ طبی سہولیات کی فراہمی کا معاہدہ کر لیا ہے۔ سرکلر کے مطابق 30 ستمبر 2023 تک ریٹائر ہونے والے تمام اہل پنشنرز اور ان کے اہل خانہ کو طبی سہولیات اس معاہدے کے تحت فراہم کی جائیں گی۔تنظیم کا مؤقف ہے کہ معاہدے کی شرائط، دائرہ کار، استثنیٰ اور ممکنہ اثرات سے ریٹائرڈ ملازمین کو آگاہ نہیں کیا گیا، جو شفافیت کے تقاضوں کے منافی ہے۔قانونی نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی اور اسٹیٹ لائف کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی مکمل اور مصدقہ نقل فوری طور پر فراہم کی جائے تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ کہیں ریٹائرڈ ملازمین کی طبی سہولیات میں کوئی کمی یا تبدیلی تو نہیں کی گئی۔

    نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مطلوبہ دستاویز فراہم نہ کی گئی تو ریٹائرڈ ملازمین کے قانونی و معاہداتی حقوق کے تحفظ کے لیے متعلقہ عدالتوں سے رجوع کیا جائے گا، جس کے تمام اخراجات اور نتائج کی ذمہ داری کمپنی پر عائد ہوگی۔اس قانونی نوٹس کی نقول چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی، چیئرمین اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کی ترلائی میں امام بارگاہ آمد، شہداء کے اہل خانہ سے اظہار افسوس

    وزیراعظم شہباز شریف کی ترلائی میں امام بارگاہ آمد، شہداء کے اہل خانہ سے اظہار افسوس

    وزیراعظم شہباز شریف نے ترلائی میں امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ کا دورہ کیا۔
    ‎انہوں نے شہید ہونے والوں کے اہل خانہ سے گہرے افسوس کا اظہار کیا اور ان کے لیے دعائے خیر کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی سے بڑی بربریت کوئی نہیں ہو سکتی اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اس واقعے پر پوری قوم سوگوار تھی، تاہم مثبت بات یہ تھی کہ تمام مکاتب فکر کے علما نے اس کی شدید مذمت کی۔ وزیراعظم نے عون عباس کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ تاریخ ان کی قربانی کو سنہرے الفاظ میں یاد رکھے گی۔
    ‎وزیراعظم نے مزید کہا کہ اس واقعے نے پوری قوم کو متحد کر دیا اور آئندہ بھی قوم یکجہت رہے گی۔